YDA PIMS Islamabad
to help out the doctors community and patients of PIMS hospital
09/05/2026
پریس ریلیز وائی ڈی اے پمز ہسپتال۔
پمز وائی ڈی اے ایگزیکٹو کیبینٹ کی جانب سے آج ایک بھر پور احتجاج پمز کے احاطے میں انعقاد کیا گیا جس کا واضح موقف تھا کے پی جی آر کی 7سال سے مہنگائ میں اضافے کے ساتھ ساتھ تنخواہ نہ بڑھنا تھا اور یہ کہ 5 سالوں میں پی ایم آفس کی جانب سے یہ تیسری درخواست ٹوکری کے نظر ہونے جا رہی ہے۔ دوسرا آئے روز مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کے باوجود ڈاکٹروں کی کمی کو پورا نہ کرنا۔ اسی اثناء میں آج کے احتجاج کے ساتھ ساتھ کچھ گھنٹوں کی او پی ڈی کا بائیکاٹ کیا گیا اور پیر والے دن سے مکمل او پی ڈی سے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ایمرجنسی سروسز جاری رہیں گی اور یہ احتجاج تنخواہ کے نا بڑھنے تک جاری رہے گا۔ اسی لیے وائی ڈی اے بھر پور مطالبہ کرتی ہے فیلڈ مارشل سید جنرل عاصم منیر سے اور پی ایم شہباز شریف سے کہ ڈاکٹروں کے سال ہا سال سے جاری استحصال کو ختم کیا جائے اور ہماری داد رسی کی جائے تاکہ ڈاکٹروں کی خوشحالی مریضوں کی خوشحالی کا سبب بنے اور اپنا کام مزید لگن سے سر انجام دے سکیں
22/02/2026
اقتباس:
"Doctors are not murder"
اچھے ڈاکٹر کیوں کم اور ناپید ہوتے جا رہے ہیں
ہم ڈاکٹر پیسے کی وجہ سے نہیں کھو رہے۔
ہم انہیں جذباتی تھکن کی وجہ سے کھو رہے ہیں۔
چند سال پہلے میرے یونٹ کا ایک فیلو میڈیسن چھوڑ گیا۔
ٹاپ رینکر۔ گولڈ میڈلسٹ۔ غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک۔
وہ ناکام نہیں ہوا تھا۔
وہ خود چل کر چلا گیا۔
اس نے ایم بی اے میں داخلہ لے لیا۔
جب میں نے پوچھا کیوں؟
اس نے ایک جملہ کہا جو آج تک ذہن میں گونجتا ہے:
“سر، لمبی ڈیوٹیاں میں برداشت کر سکتا ہوں۔
لیکن کسی مریض کو کھو دینے کے بعد اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا برداشت نہیں کر سکتا۔”
ایک اور کہانی۔
ایک جونیئر ڈاکٹر نے میڈیسن نہیں چھوڑی۔
وہ دنیا چھوڑ گیا۔
خودکشی کر لی۔
مہینوں کی مسلسل آئی سی یو ڈیوٹی، مریض کے لواحقین کی قانونی دھمکیاں، اور سوشل میڈیا پر تذلیل۔
کوئی بڑی خبر نہیں بنی۔
کوئی پرائم ٹائم بحث نہیں ہوئی۔
بس خاموش جنازہ۔
اور اگلی صبح شعبہ معمول کے مطابق چل پڑا۔
تیسری کہانی۔
چالیس سالہ سرجن۔ کامیاب۔ مستحکم۔
ایک پیچیدگی (complication)۔
نہ غفلت۔ نہ لاپرواہی۔ صرف ایک طبی پیچیدگی۔
مگر معاملہ قانونی نوٹسز، آن لائن کردار کشی اور سیاسی دباؤ تک جا پہنچا۔
آج وہ پہاڑوں میں ایک ویلنیس ریٹریٹ چلا رہا ہے۔
کہتا ہے:
“نیند سکون سے آتی ہے۔ دل ہلکا رہتا ہے۔ آپریشن تھیٹر یاد نہیں آتا۔”
یہ جملہ ہمیں خوفزدہ کر دینا چاہیے۔
ہم خود کو تسلی دیتے رہتے ہیں کہ نظام ٹھیک ہے۔
مگر نظام ٹھیک نہیں ہے۔
بھارت میں، برطانیہ میں، امریکہ میں — اور ہمارے اپنے ملک میں بھی۔
ڈاکٹر کلینیکل میڈیسن چھوڑ رہے ہیں۔
کوئی ایڈمنسٹریشن میں جا رہا ہے۔
کوئی اسٹارٹ اپ بنا رہا ہے۔
کوئی فارما میں۔
کوئی ٹیک میں۔
کوئی مکمل خاموشی میں۔
اور کچھ قبروں میں۔
ہم اس پر بات کم کرتے ہیں۔
میڈیسن قابلیت مانگتی ہے۔
مگر یہ زندہ جذباتی مضبوطی پر رہتی ہے۔
اور وہ مضبوطی ٹوٹ رہی ہے۔
صرف کام کے بوجھ سے نہیں۔
بداعتمادی سے۔
ہر وقت شک کی نگاہ سے دیکھے جانے سے۔
اس سوچ سے کہ اگر نتیجہ خراب ہے تو کوئی مجرم ضرور ہے۔
اس توقع سے کہ ڈاکٹر کامل ہوں، جبکہ انسانی جسم کامل نہیں۔
ہمیں موت سے لڑنا سکھایا جاتا ہے۔
ہمیں ہر ناکام نتیجے پر عوامی غصے سے لڑنا نہیں سکھایا جاتا۔
سب سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے:
جب بہترین ڈاکٹر جاتے ہیں، شور نہیں ہوتا۔
خاموشی ہوتی ہے۔
ریزیڈنسی سیٹیں خالی رہتی ہیں۔
محکمے محض لین دین کا نظام بن جاتے ہیں۔
نوجوان ڈاکٹر ہائی رسک کیس لینے سے گھبراتے ہیں۔
ڈیفینسیو میڈیسن بڑھتی ہے۔
ہمدردی کم ہوتی ہے۔
اور آہستہ آہستہ نظام اوسط درجے کا ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر کم قابل نہیں ہوئے۔
وہ کم آمادہ ہو گئے ہیں۔
میں نے ذہین ترین ریزیڈنٹس کو کہتے سنا ہے:
“میں کمپنی بنا لوں گا۔”
“میں کنسلٹنگ کر لوں گا۔”
“میں باہر چلا جاؤں گا۔”
“میں کچھ بھی کر لوں گا، مگر یہ نہیں۔”
یہ سست لوگ نہیں ہیں۔
یہ تھکے ہوئے لوگ ہیں۔
نتائج کا بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں، جو مکمل طور پر ان کے اختیار میں کبھی تھے ہی نہیں۔
وبا میں ہیرو۔
عام دنوں میں ولن۔
فیس لینے پر لالچی۔
مگر جذباتی قیمت کا کوئی حساب نہیں۔
اور جب کوئی ڈاکٹر خودکشی کرتا ہے، بحث اڑتالیس گھنٹے چلتی ہے۔
پھر سب معمول پر آ جاتا ہے۔
جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
مگر بہت کچھ غلط ہو رہا ہے۔
جب شفا دینے والے خود ٹوٹنے لگیں،
تو یہ فرد کی کمزوری نہیں،
نظام کی دراڑ ہوتی ہے۔
اگر آپ ڈاکٹر ہیں اور یہ پڑھ رہے ہیں،
تو آپ جانتے ہیں۔
خراب کیس کے بعد ذہن میں چلنے والی خاموش فلم۔
نیند کا اڑ جانا۔
مریضوں کے سامنے مصنوعی مسکراہٹ۔
ایک غلطی سے کیریئر ختم ہونے کا خوف۔
ہر رات دل میں ہونے والا حساب:
رہنا ہے یا جانا ہے؟
لڑنا ہے یا ہار مان لینی ہے؟
دل لگا کر کام کرنا ہے یا خود کو بے حس کر لینا ہے؟
ہم ڈاکٹر اس لیے نہیں کھو رہے کہ وہ میڈیسن برداشت نہیں کر سکتے۔
ہم انہیں اس لیے کھو رہے ہیں کیونکہ میڈیسن جذباتی طور پر غیر محفوظ ہو چکی ہے۔
اور جب ایسا ہوتا ہے، نقصان صرف ڈاکٹروں کا نہیں ہوتا۔
نقصان معاشرے کا ہوتا ہے۔
کیونکہ اگلی نسل دیکھ رہی ہے۔
اور وہ ایک سوال پوچھ رہی ہے:
“کیا یہ سب اس قابل ہے؟”
اگر جواب “نہیں” بن گیا…
تو کمی صرف تعداد کی نہیں ہوگی،
اخلاقی ہوگی۔
ڈاکٹر قاتل نہیں ہوتے۔
وہ انسان ہوتے ہیں۔
جو خاموشی سے جل رہے ہیں۔
اور جب تک ہم اس سچ کو تسلیم نہیں کریں گے،
نظام اپنے بہترین لوگوں کو کھوتا رہے گا۔
05/02/2026
22/01/2026
Finally the FIR has been lodged by the PIMS AUTHORITY against the miscreants, and the guilty people are behind the bar.
NOTE:
چونکہ سرکاری ہسپتالوں پر زیادہ بوجھ ہے اور وہ اپنی گنجائش سے زیادہ مریضوں کو جگہ دے رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں آنے والے افراد پرسکون رہیں اور کسی بھی مشکل کی صورت میں ہسپتال کے مجاز اتھارٹی سے رجوع کریں۔ جو کوئی بھی ہنگامہ آرائی کرے گا اور اسپتال کے ملازمین سے لڑے گا اور قانون کو ہاتھ میں لے گا جس سے نہ صرف ان کے مریض کے علاج میں خلل پیدا ہو گا بلکہ وہ باقی مریضوں کیلئے بھی تکلیف کا باعث بنیں گے اسے ایف آئی آر میں درج قواعد کے مطابق نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
احتجاج احتجاج احتجاج
پریس ریلیز وائ ڈی اے پمز
کل رات پمز کے ایم سی ایچ ہسپتال میں ایک انتہائی دل سوز واقع پییش آیا جس میں ایک مریضہ کے لواحقین نے پمز کے عملے کو ذدوقوب کیا اور سیکیورٹی گارڈاور ایک پی جی آر ڈاکٹر کے ساتھ مار ڈھاڑ کی اور ایمرجنسی کے مریضوں کی دیکھ بھال میں مسلسل رکاوٹ کا باعس بنتے رہے۔لیکن ڈاکڑرز نے اپنے وقار اور پیشا ورانہ رویے کا پاس رکھتے ہوئے نا صرف اس مریضہ کی دیکھ بھال جاری رکھی بلکہ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر اور قانونی کاروائی کروانے کی یقین دیہانی پر اپنی ایمرجنسی سروسزز اور اوپی ڈی جاری رکھی۔ وائے ڈی اے مطالبہ کرتی ہے کہ ان کار سرکار میں مداخلت کرنے والوں کو فل فور گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچائیں تاکہ متاثرہ ہیلتھ کیئر ورکر اور ڈاکٹر اپنے کام خوش اصلوبی سے انجام دیتے رہیں اور ان میں بے چینی اور خوف و حراص کی لہر ختم ہو سکے
27/03/2025
Congratulations to the VICE PRESIDENT YDA PIMS Dr. Hashir Iqbal Joyia on nailing his IMM GENERAL SURGERY in 1st GO.
19/12/2024
20/11/2024
MD/MS/MDS PART 1 result
Pims
پریس ریلیز وائی ڈی اے مپز اسلام آباد۔
ہر بار کی طرح اس بار بھی ڈاکٹروں کا نا حق اور غیر جمہوری چند لوگوں پر مشتمل ٹولہ نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر مجموعی طور پر ینگ ڈاکٹروں کے مطالبات سٹینڈنگ کمیٹی برائے ہیلتھ میں جو کہ ڈاکٹروں کا ایک بہت اہم فارم ہے پس پشت رکھے جن میں تنخواہوں میں اضافہ سر فہرست ہے۔ اس کے علاوہ ہاسٹل میں جگہ کی کمی اور آپریشن تھیٹر اور ادویات کے اسدات کو بڑھانے کی بات کرنے کی بجائے وہی اپنے اوپر چلنے والی انکوائریوں کا جواب دینے کی بجائے انتہائی قابل ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز، جنہوں نے گزشتہ چند ماہ میں سینکڑوں ڈاکٹروں کو ترقی دلوائی، پر ذاتی حملے کرنے شروع کر دیئے جس کی ہم بھرپور مذمت اور مخالفت کرتے ہیں۔ ہم ان ینگ ڈاکٹروں سے گزارش کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ مل کر پوری کمیونٹی کے مسائل کو اجاگر کریں اور جن پر انکوائریاں ہیں وہ
ان کا جواب دے کر ازالہ کریں۔
متحد رہیں، مضبوط رہیں۔ وائ ڈی اے پمز اسلام آباد
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Sector G-8
Islamabad