Suleman children complex, Abdul Hakeem road pull bagar
we are providing all the facilities related to children such as nursery, HDU, wards, lab, pharmacy, under kind supervision of...
Prof Col Waseem Lehrasab sb.
MBSS, FCPS, proffesorr of paediatric
20/03/2026
تقبل اللہ منا ومنکم ۔۔۔
01/03/2026
ہپنوپیڈیا — نیند کے دوران بچوں کی تربیت کا فن
Hypnopaedia ایک ایسا تربیتی طریقہ ہے جس میں بچے کو گہری نیند (Deep Sleep) کے دوران مثبت جملے، مشورے یا خواہشات آہستہ سے اس کے کانوں میں کہی جاتی ہیں۔
یہ خیال سادہ سا لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے انسانی دماغ، لاشعور اور یادداشت کے بارے میں خاصی تحقیق موجود ہے۔
جب بچہ گہری نیند میں ہوتا ہے —
یعنی وہ مرحلہ جو عام طور پر سونے کے تقریباً دو گھنٹے بعد شروع ہوتا ہے —
اس وقت دماغ لا شعوری طور پر وہ آوازیں زیادہ شدت سے محفوظ کر لیتا ہے جن میں:
• نرمی،
• محبت،
• تسلسل،
• اور آہستگی
موجود ہو۔
یہ بات اس اصول پر مبنی ہے کہ نیند کے بعض مراحل میں Conscious Mind خاموش ہوتا ہے اور Subconscious Mind پوری طرح فعال رہتا ہے۔
اسی لیے اس دوران کی جانے والی سرگوشی دماغ میں سو گنا نہیں بلکہ ہزار گنا زیادہ گہرائی سے محفوظ ہو جاتی ہے۔ اسے ایسے کرنا ہے:-
1. وقت: بچہ گہری نیند میں ہو۔
2. لہجہ: نہایت نرم، محبت بھرا، اور آہستہ۔
3. جملے: مختصر، مثبت اور سیدھے۔
4. آغاز اور اختتام:
• شروع میں کہیں:
“بچے، میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں”
• اختتام بھی انہی الفاظ پر کریں:
“I love you my child”
مثال کے طور پر
اگر بچہ اگریسیو ہے، تو آہستہ کہیں:
• “بیٹا، کل سکول میں تم اپنے دوستوں سے پیار سے پیش آؤ گے۔”
• “تم دوسروں کو عزت دو گے اور وہ تمہیں عزت دیں گے۔”
• “تم بہت اچھے اور نرم دل ہو۔”
• “میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں۔”
یہ عمل اکیس روز تک مسلسل کریں۔
دماغ میں عادت بننے کا وقت عام طور پر 21 دن ہی ہوتا ہے
تحقیق اور تجربات سے بہت سے والدین اور ماہرین نے نوٹ کیا:
• بچے میں جذباتی توازن بہتر ہوتا ہے
• غصہ کم ہوتا ہے
• خود اعتمادی بڑھتی ہے
• رویّہ نرم ہوتا ہے
• روحانی و اخلاقی سکون میں اضافہ ہوتا ہے
• ماں باپ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے
یہ سب اس لیے کہ آہستہ آہستہ وہ الفاظ بچے کے لا شعور کا حصہ بننے لگتے ہیں۔
لیکن یاد رکھنے کی اہم بات
پیرنٹنگ کا مطلب صرف بچے کو سکھانا نہیں،
خود کو بہتر بنانا بھی ہے۔
کیونکہ بچہ:
• ماں باپ کی آواز سے،
• ان کے روئیے سے،
• ان کے اخلاق سے،
• ان کی باڈی لینگویج سے
ہزار گنا زیادہ سیکھتا ہے،
بنسبت ان الفاظ کے جو اس کے کان میں کہے گئے ہوں۔
لہٰذا ہپنوپیڈیا کے ساتھ ضروری ہے کہ:
• والدین کا لہجہ نرم ہو
• گھر کا ماحول محبت بھرا ہو
• بچے کے سامنے غصہ کم کیا جائے
• برداشت، شکرگزاری اور مثبتیت کو اپنایا جائے
ہپنوپیڈیا بذاتِ خود ایک نہایت موثر تربیتی فن ہے—
مگر یہ معجزہ تب بنتا ہے جب:
مثبت سرگوشیاں + والدین کا مثبت کردار + گھر کا محبت بھرا ماحول
یہ تینوں اکٹھے ہوں۔
منقول ۔۔۔
ہمارے بچے ۔۔۔ ہمارا مستقبل
ڈاکٹر محمد عمر فاروق کمبوہ ۔
سلیمان چلڈرن کمپلیکس عبد الحکیم روڈ پل باگڑ
28/02/2026
بچوں کو زیادہ دودھ دینے کا نقصان ۔۔۔
اکثر والدین سمجھتے ہیں کہ جتنا زیادہ دودھ دیا جائے بچہ اتنا ہی صحت مند ہو گا، لیکن حقیقت اس کے بر عکس بھی ہو سکتی ہے
*غذائی قلت۔۔۔
زیادہ دودھ پینے سے بچہ دوسرے کھانے نہیں کھاتا کیونکہ پیٹ بھر جاتا ہے، اس سے غذائی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔۔۔۔
*دانتوں میں کیویٹی۔۔
بہت زیادہ دودھ دانتوں کے لئے نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے دانتوں میں کیویٹی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔۔۔
*قبض کی شکایت۔۔۔
زیادہ دودھ پینے کی وجہ سے قبض کی شکایت بھی ہو سکتی ہے کیونکہ فائبر والی خوراک کم کھائی جاتی ہے۔۔۔۔
*خون کی کمی ۔۔۔۔
زیادہ دودھ آئرن جذب کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے ، جس سے بچے میں خون کی کمی (انیمیا) ہو سکتا ہے ۔۔۔
ماہرین کے مطابق 2 سال سے بڑے بچوں کو دن میں 2 کپ دودھ کافی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ دودھ کے ساتھ ساتھ متوازن غذا ضروری ہے تاکہ بچہ ہر طرح کی غذائی کمی سے محفوظ رہ سکے۔۔۔
ہمارے بچے۔۔۔۔ ہمارا مستقبل
ڈاکٹر محمد عمر فاروق کمبوہ
سلیمان چلڈرن کمپلیکس عبد الحکیم روڈ پل باگڑ ۔۔۔۔
نوزائیدہ بچے کی ناک دبانا۔۔۔
*ناک دبانے سے شکل نہیں بنتی۔۔۔
*ناک دبانے سے نقصان ہو سکتا ہے ،فائدہ نہیں۔۔۔۔
*نرم ہڈی اور سانس کی نالی کو متاثر کر سکتا ہے ۔۔۔
*ناک کی اصل شکل وقت کے ساتھ خود بنتی ہے ۔۔۔
* نوزائیدہ کی ناک پر دباؤ سے گریز کریں ، قدرتی نشوونما محفوظ ہے۔۔۔۔
* اللّہ پاک سب بچوں کو صحت اور سکون عطا فرمائیں ۔۔ آمین ثم آمین
ہمارے بچے۔۔۔ ہمارا مستقبل
ڈاکٹر محمد عمر فاروق کمبوہ
سلیمان چلڈرن کمپلیکس عبد الحکیم روڈ پل باگڑ
0307-0145977
گروئنگ پینز (Growing Pains) زیادہ تر تین سے چار سال کی عمر کے بچوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ مسئلہ آٹھ سے بارہ سال کی عمر تک بھی برقرار رہ سکتا ہے۔ یہ درد عام طور پر شام یا رات کے وقت شروع ہوتا ہے اور بعض اوقات بچے کو نیند سے جگا دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بچہ صبح اٹھتا ہے تو وہ بالکل ٹھیک ہوتا ہے اور کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں کرتا۔
یہ درد زیادہ تر دونوں ٹانگوں، پنڈلیوں، گھٹنوں کے پیچھے یا پاؤں میں محسوس ہوتا ہے۔ جن دنوں بچے زیادہ کھیل کود یا بھاگ دوڑ کرتے ہیں، ان دنوں یہ درد بڑھ جاتا ہے۔ اس دوران اگر بچے کی ٹانگوں یا پاؤں کا معائنہ کیا جائے تو ان پر کسی چوٹ یا سوجن کا نشان نظر نہیں آتا۔
زیادہ تر بچوں میں یہ درد ہفتے میں ایک یا دو بار ہوتا ہے۔ لیکن جن بچوں میں کیلشیم یا وٹامن ڈی کی کمی ہو، ان میں یہ درد زیادہ شدت اور زیادہ بار بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی اصل وجہ ابھی تک مکمل طور پر سامنے نہیں آسکی، لیکن عام مشاہدہ ہے کہ جن بچوں میں یہ علامات زیادہ پائی جاتی ہیں وہ درد برداشت کرنے کی صلاحیت میں دوسروں کے مقابلے میں کچھ کمزور ہوتے ہیں۔
اس بیماری کی تشخیص کے لیے کسی خاص ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ماہرِ اطفال صرف طبی معائنہ کرکے اس کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ گروئنگ پینز عام طور پر ایک سے دو سال میں خود ہی ختم ہو جاتے ہیں، تاہم بعض بچوں میں یہ مسئلہ اس سے زیادہ عرصے تک بھی رہ سکتا ہے۔
والدین گھر پر ہی بچے کی تکلیف کم کرنے کے لیے چند آسان طریقے اپنا سکتے ہیں۔ مثلاً ٹانگوں کی نرم مالش کرنا، اسٹریچنگ ایکسرسائز کروانا، ٹانگوں پر احتیاط کے ساتھ ہیٹنگ پیڈ رکھنا اور اگر درد بہت زیادہ ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے دوا استعمال کرنا۔
البتہ اگر بچے کو کسی جگہ چوٹ لگ جائے، بخار ہو، وزن یا بھوک کم ہو جائے، بچہ چلنے میں دشواری محسوس کرے، ایک ہی ٹانگ میں درد ہو، جوڑ میں سوجن آجائے یا غیر معمولی کمزوری اور تھکاوٹ ہو تو ایسی صورت میں فوری طور پر قریبی ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ سب بچوں کو صحت اور سکون عطا فرمائے۔ آمین۔
ہمارے بچے۔۔۔ ہمارا مستقبل
ڈاکٹر محمد عمر فاروق کمبوہ
سلیمان چلڈرن کمپلیکس عبد الحکیم روڈ پل باگڑ ۔۔۔۔
24/02/2026
پاکستان میں ماوں کی کچھ غلط فہمیاں
کچھ خرافات/غلطیاں جن کا خاتمہ ضروری ہے۔ نئی ماؤں اور بچوں کو اس مخمصے سے باہر نکلنے دیں ”'کے ہم نہمے بھی تو بچے ایسے ہی پالے ہیں'“
1- ہر رونے میں پیناڈول دینا کے کوٸ تو تکلیف ہو گی .
2- بمشکل 3 ماہ کے بچے کو سیریلیک، گلوکو بسکٹ، کسٹرڈ وغیرہ دینا۔
3- دانتوں میں بائیو 21 دینا۔ یہ بہت راحت بخش ہے۔ لیکن ایف ڈی اے نے منظوری نہیں دی۔ یہ دانتوں کی اینکیلوسس کا سبب بن سکتا ہے۔ (آپ اس اصطلاح کو گوگل کر سکتے ہیں)
4- شیر خوار بچوں کے جسم کے بالوں کو ختم کرنے کے لیے آٹے کا گولا قسم کی چیز رگڑنا۔
5- بچے کا سر بنانے کے عمل کے لیے پلیٹ کو سر کے نیچے رکھنا۔ فلیٹ ہیڈ سنڈروم کا سبب بن سکتا ہے۔
6- 1 سال کی عمر سے پہلے شہد دینا بچے میں گوگل بوٹولزم کروا سکتا ہے۔ گوگل پر سرچ کریں آپ کو پوائنٹ مل جائے گا۔
7- ایک سے پہلے گائے کا دودھ دینا۔ گائے کے دودھ کی ساخت اور اس کا بچے کے گردے پر اثر ہے۔ اور اس کی وجہ سے آئرن کی کمی کے بارے میں پڑھنا نہ بھولیں کیونکہ اس دودھ میں آئرن نہیں ہوتا
8- ضرورت سے زیادہ چینی اور نمک ایک سال سے پہلے ۔
9- چھ ماہ سے پہلے پانی دینا۔ جیسا کہ مدر فیڈ کے معاملے میں اس کی ضرورت نہیں ہے۔
10- کاجل/سورما لگانا۔ آنکھوں میں انفیکشن، آنسو کی نالی میں رکاوٹ اور آنکھوں کے دیگر مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
11- فینرگن یا دیگر سکون آور ادویات دینا۔
13- ماں کا یہ تصور کبھی بھی بچے کی خوراک کافی نہیں ہے۔ 'پیٹ نہیں بھرتا'
14- دو سال کی عمر کے بعد ضرورت سے زیادہ دودھ دینا ۔
15- بچے کو ہونٹوں/گال پر بوسہ دینا
16- بچے کی نشوونما کا دوسرے بچوں سے موازنہ کرنا۔
17- واکر کا استعمال۔ آپ اس کے نتائج پر تحقیق کر سکتے ہیں۔
18- اوور لیئرنگ جو بچے کو زیادہ گرم کرنے اور پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
19- وٹامن ڈی سپلیمنٹ کو خاطرناک سمجھنا۔ خصوصی دودھ پلانے والے بچے میں اس کی اہمیت کے بارے میں تحقیق کریں۔
ڈاکٹر محمد عمر فاروق کمبوہ ۔
سلیمان چلڈرن کمپلیکس عبد الحکیم روڈ پل باگڑ ۔۔۔
0307-0145977
23/02/2026
وہ لوگ جو اپنے گھرانوں کے بچوں کے کردار کی بہترین تربیت کے خواہشمند ہیں، انکی خدمت میں کچھ گزارشات ہیں جن سے
انشاءاللہ تعالیٰ آپ کے بچوں میں پاکیزگی پیدا ہوگی.
❶ - *بچوں کو زیادہ وقت تنہا مت رہنے دیں*
*آج کل بچوں کو ہم الگ کمرہ، کمپیوٹر اور موبائل جیسی سہولیات دے کر ان سے غافل ہو جاتے ہیں…. یہ قطعاً غلط ہے* بچوں پر غیر محسوس طور پر نظر رکھیں
اور خاص طور پر انہیں اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے بیٹھنے مت دیں. کیونکہ تنہائی شیطانی خیالات کو جنم دیتی ہے. جس سے بچوں میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں اور وہ غلط سرگرمیوں کا شکار ہونے لگتے ہیں۔
❷- *بچوں کے دوستوں اور بچیوں کی سہیلیوں پہ خاص نظر رکھیں. تاکہ آپ کے علم میں ہو کہ آپکا بچہ یا بچی کا میل جول کس قسم کے لوگوں سے ہے.*
❸ - *بچوں بچیوں کے دوستوں اور سہیلیوں کو بھی ان کے ساتھ کمرہ بند کرکے نہ بیٹھنے دیں*.
اگر آپ کا بچہ اپنے کمرے میں ہی بیٹھنے پر اصرار کرے تو کسی نہ کسی بہانے سے گاہے بہ گاہے چیک کرتے رہیں.
❹ *بچوں کو فارغ نہ رکھیں فارغ ذہن شیطان کی دکان ہوتا ہے* اور بچوں کا ذہن سلیٹ کی مانند صاف ہوتا ہے. بچپن ہی سے وہ عمر کے اس دور میں ہوتے ہیں جب انکا ذہن اچھی یا بری ہر قسم کی چیز کا فوراً اثر قبول کرتا ہے. اس لئے انکی دلچسپی دیکھتے ہوئے انہیں کسی صحت مند مشغلہ میں مصروف رکھیں.
*ٹی وی وقت گزاری کا بہترین مشغلہ نہیں بلکہ سفلی خیالات جنم دینے کی مشین ہے اور ویڈیو گیمز بچوں کو بے حس اور متشدد بناتی ہیں.*
❺ - *ایسے کھیل جن میں جسمانی مشقت زیادہ ہو وہ بچوں کے لئے بہترین ہوتے ہیں* تاکہ بچہ کھیل کود میں خوب تھکے اور اچھی گہری نیند سوئے.
❻ - *بچوں کے دوستوں اور مصروفیات پر گہری نظر رکھیں*
*یاد رکھیں والدین بننا فل ٹائم جاب ہے. اللّہ تعالی نے آپکو اولاد کی نعمت سے نواز کر ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد کی ہے.*
❼ - *بچوں کو رزق کی کمی کے خوف سے پیدائش سے پہلے ہی ختم کردینا ہی قتل کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ اولاد کی ناقص تربیت کرکے انکو جہنم کا ایندھن بننے کے لئے بے لگام چھوڑ دینا بھی انکے قتل کے برابر ہے.*
❽ -*اپنے بچوں کو نماز کی تاکید کریں اور ہر وقت پاکیزہ اور صاف ستھرا رہنے کی عادت ڈالیں.
کیونکہ جسم اور لباس کی پاکیزگی ذہن اور روح پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے.
❾- *بچیوں کو سیدھا اور لڑکوں کو الٹا لیٹنے سے منع کریں.*
*_حضرت عمر رضی اللّہ تعالیٰ اپنے گھر کی بچیوں اور بچوں پر اس بات میں سختی کرتے تھے.
*ان دو حالتوں میں لیٹنے سے سفلی خیالات زیادہ آتے ہیں. بچوں کو دائیں کروٹ سے لیٹنے کا عادی بنائیں.*
🔟 *بلوغت کے نزدیک بچے جب واش روم میں معمول سے زیادہ دیر لگائیں تو کھٹک جائیں اور انہیں نرمی سے سمجھائیں.* اگر ان سے اس معاملے میں بار بار شکایت ہو تو تنبیہ کریں. لڑکوں کو انکے والد جبکہ لڑکیوں کو ان کی والدہ سمجھائیں.
❶❶ - *بچوں کو بچپن ہی سے اپنے مخصوص اعضاء کو مت چھیڑنے دیں.* یہ عادت آگے چل کر بلوغت کے نزدیک یا بعد میں بچوں میں اخلاقی گراوٹ اور زنا کا باعث بن سکتی ہے
❷❶- *بچوں کو اجنبیوں سے گھلنے ملنے سے منع کریں اور اگر وہ کسی رشتہ دار سے بدکتا ہے یا ضرورت سے زیادہ قریب ہے تو غیر محسوس طور پر پیار سے وجہ معلوم کریں*
❹❶- *بچوں کا 5 یا 6 سال کی عمر سے بستر اور ممکن ہو تو کمرہ بھی الگ کر دیں تاکہ انکی معصومیت تا دیر قائم رہ سکے.*
❺❶- *بچوں کے کمرے اور چیزوں کو غیر محسوس طور پر چیک کرتے رہیں.*
آپ کے علم میں ہونا چاہئے کہ آپ کے بچوں کی الماری کس قسم کی چیزوں سے بھری ہے. مسئلہ یہ ہے کہ آج کے دور میں پرائیویسی نام کا عفریت میڈیا کی مدد سے ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے
*اس سے خود کو اور اپنے بچوں کو بچائیں. کیونکہ نوعمر بچوں کی نگرانی بھی والدین کی ذمہ داری ہے*۔
*یاد رکھیں آپ بچوں کے ماں باپ ہیں، آج کے دور میں میڈیا والدین کا مقام بچوں کی نظروں میں کم کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہاہے. ہمیں اپنے بچوں کو اپنے مشفقانہ عمل سے اپنی خیرخواہی کا احساس دلانا چاہئے اور نوبلوغت کے عرصے میں ان میں رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کے متعلق رہنمائی کرتے رہنا چاہیے تاکہ وہ گھر کے باہر سے حاصل ہونے والی غلط قسم کی معلومات پہ عمل کرکے اپنی زندگی خراب نہ کر لیں.*
❻❶- *بچوں کو بستر پر تب جانے دیں جب خوب نیند آ رہی ہو اور جب وہ اٹھ جائیں تو بستر پر مزید لیٹے مت رہنے دیں۔
❼❶- *والدین بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے جسمانی بے تکلفی سے پرہیز کریں.*
*ورنہ بچے وقت سے پہلے ان باتوں کے متعلق با شعور ہو جائیں گے جن سے ایک مناسب عمر میں جا کر ہی آگاہی حاصل ہونی چاہئے* .
نیز والدین بچوں کو ان کی غلطیوں پہ سرزنش کرتے ہوئے بھی باحیا اور مہذب الفاظ کا استعمال کریں. ورنہ بچوں میں وقت سے پہلے بےباکی آ جاتی ہے جس کا خمیازہ والدین کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔
❽❶-*تیرہ چودہ سال کے ہوں تو لڑکوں کو انکے والد اور بچیوں کو انکی والدہ سورۃ یوسف اور سورۃ النور کی تفسیر سمجھائیں یا کسی عالم، عالمہ سے پڑھوائیں کہ کس طرح *حضرت یوسف علیہ السلام* نے بے حد خوبصورت اور نوجوان ہوتے ہوئے ایک بے مثال حسن کی مالک عورت کی ترغیب پر بھٹکے نہیں. بدلے میں *اللّہ تعالی*ٰ کے مقرب بندوں میں شمار ہوئے. اس طرح بچے بچیاں *ان شاءاللّہ تعالیٰ* اپنی پاکدامنی کو معمولی چیز نہیں سمجھیں گے اور اپنی عفت و پاکدامنی کی خوب حفاظت کریں گے۔
*_آخر میں گذارش یہ ہے کہ ان کے ذہنوں میں بٹھا دیں کہ اس دنیا میں حرام سے پرہیز کا روزہ رکھیں گے تو *
انشاءاللہ تعالیٰ* آخرت میں * اللّہ سبحان وتعالیٰ* کے عرش کے سائے تلے حلال سے افطاری کریں گے._
*اللّہ تعالیٰ* امت مسلمہ کے تمام بچوں کی عصمت کی حفاظت فرمائے اور ان کو شیطان اور اس کے چیلوں سے اپنی حفظ و امان میں رکھے___!!! آمین___!!!!
ڈاکٹر محمد عمر فاروق کمبوہ
سلیمان چلڈرن کمپلیکس عبد الحکیم روڈ پل باگڑ ۔۔۔۔
21/02/2026
پرورش میں خرابی یہاں سے شروع ہوتی ہے ⛔️
جب ماں بچے سے کہتی ہے: "نہیں"
اور پھر باپ، دادا یا دادی آ کر کہتے ہیں:
"رہنے دو، کوئی بات نہیں، جانے دو"
🔁 یہاں سے بچے کے ذہن میں اُلجھن شروع ہو جاتی ہے!
اس کی نظر میں ماں “سخت” بن جاتی ہے
جبکہ باقی سب “نرم دل” اور “محبت کرنے والے” جو اسے وہ سب کچھ دیتے ہیں جو وہ چاہتا ہے۔
🚫 نتیجہ:
ماں کی عزت اور رعب بچے کے دل سے کم ہو جاتا ہے۔
بچے کے لیے صحیح اور غلط میں فرق دھندلا جاتا ہے۔
وہ ایک کمزور اور غیر متوازن شخصیت کے ساتھ بڑا ہوتا ہے جو نہ حدود جانتی ہے نہ قوانین کی عزت۔
👶 تربیت کے لیے ضروری ہے کہ بڑوں کے درمیان ہم آہنگی اور اتفاق ہو تاکہ بچہ متوازن اور پُراعتماد بنے۔
ماں کا کردار تربیت میں بنیادی ہے، اس لیے اگر آپ مدد کرنا چاہتے ہیں تو اس کے اصولوں کا ساتھ دیں، ان میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔
اگر آپ کو لگے کہ ماں غلط ہے تو اسے تنہائی میں نرمی اور عزت کے ساتھ سمجھائیں، بچے کے سامنے نہیں۔
💡 اہم نکات برائے نظم و ضبط:
بطور خاندان تربیت کے اصول اور قوانین پہلے سے طے کریں۔
بچے کے سامنے ایک دوسرے کی بات کی مخالفت نہ کریں تاکہ وہ آپ کے فیصلوں پر اعتماد نہ کھوئے۔
فوری جذبات کے بجائے بچے کی طویل مدتی تربیت کو ترجیح دیں۔
یاد رکھیں، تربیت ہر وقت لاڈ پیار نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک ذمہ دار انسان تیار کرنے کا عمل ہے۔
اسی طرح بچہ ایک مضبوط اور منظم ماحول میں پروان چڑھے گا جہاں قوانین کی عزت اور خاندان کے ہر فرد کا کردار تسلیم کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر محمد عمر فاروق کمبوہ
سلیمان چلڈرن کمپلیکس عبد الحکیم روڈ پل باگڑ ۔۔
20/02/2026
🧠 بچے کو اس کی عمر کے مطابق صحیح طریقے سے کیسے سمجھائیں یا سزا دیں؟
"نہ مارنا ہے، نہ چیخنا ہے!" 🙅♀️💔
سزا کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ ڈر جائے یا اداس ہو…
اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اسے سکھائیں اور سنواریں ✨
👶 عمر: ایک سے تین سال
اس عمر میں بچہ سزا کا مطلب نہیں سمجھتا 😅
🧸 حل؟ غلط رویے کو نظرانداز کریں، اور اس کی توجہ کسی اور طرف موڑ دیں
🎨 کھلونے بدل دیں، جگہ بدل دیں، یا اچانک کوئی گانا گائیں
❌ مارنا یا اونچی آواز میں ڈانٹنا صرف اسے ڈراتا ہے، سکھاتا کچھ نہیں
👧 عمر: تین سے پانچ سال
اب بچہ نتائج سمجھنے لگتا ہے
🪑 "ٹائم آؤٹ" یا "سزا والی کرسی" کا طریقہ اپنائیں — جتنی عمر، اتنی ہی منٹ (تین سال = تین منٹ)
✋ سزا ہمیشہ سکون سے اور بغیر بے عزتی کے دیں
🗣️ مثال: "میں تم سے ناراض نہیں… مجھے تمہارے اس عمل سے افسوس ہوا ہے" ✅
👦 عمر: چھ سے نو سال
یہ عمر انصاف کا احساس پیدا ہونے کی ہوتی ہے 👨⚖️
🧩 منطقی سزا دیں:
کھلونا توڑا؟ → نیا نہیں ملے گا
کام مکمل نہیں کیا؟ → کارٹون نہیں دیکھے گا
🧠 سزا ہمیشہ اس غلطی سے جڑی ہونی چاہیے جو کی گئی ہے
👩🎓 عمر: نو سال سے زیادہ
یہاں بچہ یا بچی تقریباً بڑے ہو چکے ہوتے ہیں
🤝 سزا طے کرنے میں انہیں شریک کریں:
"اگر تم نے کمرہ صاف نہ کیا تو تمہارے خیال میں کیا مناسب ہوگا؟"
🗨️ بات چیت اور سمجھانا سزا سے زیادہ مؤثر ہے
❌ اس عمر میں بے عزتی یا مذاق سخت نقصان پہنچاتا ہے
✅ یاد رکھیں
ہماری منزل صرف سزا دینا نہیں…
ہمیں ایک ایسا بچہ تربیت کرنا ہے جو ذمہ دار، سمجھدار اور باشعور ہو ❤️
تربیت ایک لمبا سفر ہے… آج کا ہر عمل ان کی آنے والی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔
ڈاکٹر محمد عمر فاروق کمبوہ
سلیمان چلڈرن کمپلیکس عبد الحکیم روڈ پل باگڑ ۔
19/02/2026
بچوں میں انگوٹھا/انگلی چوسنے کی عادت:...........
یہ عادت بہت عام ہے اور اکثر والدین اسکی وجہ سے پریشان رہتے ہیں کہ اس سے کیسے نجات حاصل کریں. پہلی بات تو یہ ہے کہ یاد رکھیں کہ یہ بچوں کا جذباتی تناؤ سے نبٹنے کا ایک "کوپنگ میکنزم" ہوتا ہے. لہٰذا پہلے 3 سال تک تو اسے نہ چھیڑیں اور نہ بچے کو منع کریں. بڑی اکثریت تو اس عمر کے بعد خود سے چھوڑ دیتی ہے. لیکن اگر یہ عادت برقرار رہے تو جبڑے اور دانتوں کی شیپ خراب ہو سکتی ہے. اس صورت میں آپ اپنی سہولت اور بچے کے مزاج کے مطابق درج ذیل طریقوں میں سے کوئی ایک یا زائد طریقے استعمال کر سکتے ہیں:
1. بار بار سمجھائیں... مثلاً جراثیم کے بارے میں، یا یہ کہیں کہ اس سے دانتوں کی شیپ خراب ہو گی اور تم "فنی" لگو گے، یا سکول میں بچے مذاق اڑائیں گے کہ یہ تو ابھی تک "بے بی" ہے، یا بولنے میں مشکل ہو گی
2. نہ کرنے پر تعریف کریں اور بار بار کریں
3. ایک چارٹ بنائیں اور ہر بار ایک گھنٹہ اگر انگوٹھا چوسے بغیر گزارے تو ایک سٹار دیں. پورا دن نہ چوسے تو سپیشل انعام دیں.
4. جن اوقات میں عادت کی شدت زیادہ ہوتی ہے، وہ نوٹ کریں. زیادہ تر بچے ٹی وی دیکھتے وقت یا رات سوتے وقت ضرور ایسا کرتے ہیں. تو ٹی وی دیکھنے کے دوران جب بچہ منہ میں انگلی لے جائے تو 5 سے 10 منٹ کیلئے ٹی وی بند کر دیں. سوتے وقت ایسا کرے تو ہاتھ پر موزا چڑھا دیں.
5. کھانے والی جیولری دیں. آنلائن مل جائے گی(chewlery)
6. پلاسٹک کی ڈیوائس استعمال کریں جو انگوٹھے پر لاک ہو جاتی ہے. آنلائن دستیاب ہے
7. گندے ذائقے والی، نظر نہ آنے والی، نگلی جا سکنے والی نیل پالش استعمال کریں. مثلاً thum
8. ایک حل کہنی پر Ace bandage بھی ہے. اس سے کہنے مڑ نہیں پائے گی اور بچہ ہاتھ منہ تک نہیں لے جا سکے گا
امید ہے کہ ان طریقوں سے ضرور فائدہ ہو گا
اگر منہ کی شیپ خراب ہو جائے تو فوراً ڈینٹسٹ سے رجوع کر کے تالو پر خصوصی ڈیوائس لگوائیں.
ڈاکٹر محمد عمر فاروق کمبوہ
سلیمان چلڈرن کمپلیکس عبد الحکیم روڈ پل باگڑ
18/02/2026
رمضان مبارک۔۔۔۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Abdul Hakeem Road Pull Bagar
Kabirwala