Yaseen Abbas
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Yaseen Abbas, Health/Beauty, karachi, Karachi.
19/08/2025
"السلام علیکم!
آج میں ایک نہایت اہم نکتہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ جب ہم اپنے سائنسی نصاب کو دیکھتے ہیں تو ایک عجیب حقیقت سامنے آتی ہے۔ ہماری کتابوں میں چند مسلمان سائنسدانوں کا ذکر ضرور ہے، لیکن وہ بھی تقریباً 1100 سال پرانے سائنسدان ہیں، جیسے جابر بن حیان، ابنِ سینا، الجاحظ اور الاصمعی۔
لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟
کیا پچھلے 1100 سال میں دنیا میں کوئی نیا مسلمان سائنسدان سامنے نہیں آیا؟
کیا کسی نے کوئی نئی ایجاد یا نظریہ پیش نہیں کیا؟
یہ سوال ہمارے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔
میں اس بات پر بالکل افسوس نہیں کرتا کہ ہماری کتابوں میں غیر مسلم سائنسدانوں کا ذکر موجود ہے۔ بالکل ہونا بھی چاہیے! کیونکہ علم کسی ایک قوم یا مذہب کی میراث نہیں۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ ہماری اپنی قوم میں، امتِ مسلمہ میں، ہم کوئی نئی علمی اور سائنسی شخصیت پیدا نہ کر سکے جو آج کی کتابوں میں جگہ پا سکے۔
اگر ہم صرف اسکول لیول کی بات کریں تو یہ کمی صاف نظر آتی ہے، اور اگر کالج اور یونیورسٹی لیول پر جائیں تو وہاں تو مزید سنگین مسئلہ ہے۔ بچوں کو ایسی تھیوریز پڑھائی جاتی ہیں جو براہِ راست ہمارے عقائد سے ٹکراتی ہیں۔ مثال کے طور پر دسویں کلاس کی بایولوجی کی کتاب میں موجود Theory of Evolution دیکھ لیں۔ اس تھیوری میں بچوں کو ایسا تصور دیا جاتا ہے جو اسلام کے بنیادی نظریۂ تخلیق سے بالکل مختلف ہے۔
اب میرا سوال یہ ہے:
کیا ہم اس طرح اپنی نئی نسل کو صحیح تعلیم دے رہے ہیں؟
کیا یہ نصاب ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ کر سکتا ہے؟
یا پھر ہم صرف اُنہیں مغربی نظریات اور غیر مسلم سائنسدانوں کی فکر میں الجھا رہے ہیں؟
ہمیں سوچنا ہوگا کہ اصل تعلیم کیا ہے۔ ہمیں اپنی آنے والی نسل کو صرف سائنس ہی نہیں بلکہ ایک ایسا نصاب دینا ہوگا جو اُنہیں جدید علوم کے ساتھ ساتھ اپنے دین، اپنی اقدار اور اپنی پہچان سے بھی جوڑے۔ ورنہ ہم صرف دوسروں کی سوچ کے پیروکار بن جائیں گے اور اپنی اصل کھو بیٹھیں گے۔
✍️ Muhammad Yaseen laiq
18/08/2025
میرا نام محمد یٰسین لائق ہے اور میں پچھلے چار سالوں سے تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوں۔ یہ چار سال صرف پڑھانے کے نہیں تھے بلکہ سیکھنے، سوچنے اور حقیقتوں کو پرکھنے کے سال تھے۔ انہی تجربات نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ آخر ہمارا تعلیمی نظام ہمیں کہاں لے جا رہا ہے؟
میری ایک بڑی فکری تشویش یہ ہے کہ پاکستان کا موجودہ نصاب ہمارے بچوں کو وہ نہیں سکھاتا جو زندگی میں اصل معنوں میں ان کے کام آ سکے۔ خاص طور پر اردو جیسے مضمون کو دیکھ لیجیے۔ اردو ہماری زبان ہے، ہماری پہچان ہے، لیکن افسوس کہ اس میں وہ اسباق شامل ہیں جن کا حقیقی زندگی سے کوئی رشتہ نہیں۔
ہم اپنے طلبہ کو وہ کہانیاں اور وہ مضامین پڑھاتے ہیں جو نہ ان کے کردار کو سنوارتے ہیں، نہ ان کی سوچ کو وسعت دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل الجھنوں میں ہے، ان کے دل پڑھائی سے اُچاٹ ہو رہے ہیں، وہ معاشرے اور اپنے مستقبل سے بدظن ہوتے جا رہے ہیں۔
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو کیا دے رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں وہ شعور دے رہے ہیں جو زندگی کے نشیب و فراز میں ان کے ساتھ کھڑا ہو؟ کیا ہم انہیں وہ ہمت سکھا رہے ہیں جو مشکلات میں سہارا بنے؟ کیا ہم انہیں یہ بتا رہے ہیں کہ زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟
بدقسمتی سے، نہیں۔ اور یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔
اسی کمی کے باعث آج ہمارے نوجوان ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، مایوسی میں ڈوب رہے ہیں اور معاشرتی تعلقات سے کٹتے جا رہے ہیں۔ اور یاد رکھیے! یہی نوجوان کل کو اس ملک کے معمار ہیں۔ اگر یہ ٹوٹ گئے تو مستقبل بھی ٹوٹ جائے گا۔
اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ نصاب کو مکمل طور پر بدلا جائے۔ ہمیں اپنی کتابوں میں زندگی کی حقیقتوں کو شامل کرنا ہوگا، ایسے اسباق لکھنے ہوں گے جو ہمارے بچوں کے دل و دماغ کو جگا سکیں، انہیں یہ سکھا سکیں کہ زندہ رہنے کا اصل مقصد صرف ڈگری لینا نہیں بلکہ ایک باوقار اور باشعور زندگی گزارنا ہے۔
یہ فیصلہ ہمیں آج کرنا ہوگا کہ ہم اپنے مستقبل کو سنوار رہے ہیں یا پھر اپنے ہی ہاتھوں سے برباد کر رہے ہیں۔
میں محمد یٰسین لائق، ایک استاد ہونے کے ناتے یہ آواز بلند کرتا ہوں کہ ہمیں تعلیم کو بدلنا ہوگا، ورنہ یہ تعلیم ہماری نسلوں کو بدل ڈالے گی اور شاید اس طرح کہ ہم کبھی سنبھل نہ سکیں۔
✍️ Muhammad yaseen laiq
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Karachi
Karachi
YASEEN