Hafiza Syeda Zaidi
HaFiza SyEDa ZaiDi
shaira e Ahlabait as
Haq ast Ali as Ast
muntazir e Imam e Zamana as
🌹 10 جمادی الثانی
🌹 تمام موالیان حیدر کرارﷻ کو
🌹 فتح جنگ جمل بہت ہہت مبارک ہو
انا یتیم سیدہ صلواۃ
تمام محبانِ اہل بیتؑ کو مجھ حقیرکا سلام تحفہ یا علی ع مدد
(نبشِ قبرسیدہؑ کا ارادہ اور ذوالفقار)
مولاۓ کائنات امیرالمومنین علی ابن ابی طالبؑ نے دفن سیدؑہ کے بعد آپکی قبر کو چھپانے کے لئے چالیس قبریں بقیع میں بنا دیں۔ مسلمانوں کو جب آپؑ کی رحلت کا پتا چلا انہوں نے چالیس نئی قبریں بنی ہوئی ریکھیں تو ان میں سیدہؑ کی قبر کا تعین نہ کر سکےتو بہت پریشان ہوۓاور ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ جناب رسول خداﷺ ایک ہی تو بیٹیؑ چھوڑ گئے تھے وہ بیچاری انتقال کر گئی اور دفن بھی ہو گئی مگر تم لوگ نہ انکؑی وفات کے وقت پہنچے اور نہ اسؑکی نماز جنازہ پڑھی اب تمہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ انؑ کی قبر کس جگہ اور کون سی ہے۔
جب صا حبان اقتدار کو معلوم ہوا تو انہوں نے حکم دیا کہ تمام قبریں کھود کراصل قبر کی شناخت کی جاۓ، تاکہ انکی نمازجنازہ پڑھی جاۓ۔
اس بات کی خبر حضرت علی ع کو پہنچی کہ ان لوگوں کے یہ عزائم ہیں تو مولاۓ کائنات گھر سے اس عا لم میں برآمد ہوۓ کہ غصے سے آنکھیں سرخ ہو رہی تھی،گلے کی رگیں پھولی ہوئی تھی اور آپؑ اپنی مشہور زرد قبا پہنے ہوئے تھے(جوآپ شدیدمصائب کے وقت پہناکرتےتھے) اور ذوالفقار کو ٹیکتے ہوۓ جنت البقیع میں پہنچے۔
کسی نے یہ خبر ان لوگوں تک پہنچا دی کہ علی ابن ابی طالب ع غصے میں بھرے ہوئے آ رہے ہیں انہوں نے قسم کھائی ہے کہ اگر ان قبروں میں سے کسی ایک قبر کی اینٹ بھی ہٹائی تو خون کی ندی بہا دوں گا
اتنے میں مولاۓ کائنات کی ملاقات عمر ابنِ خطاب سے ہو گئی۔انہوں نے کہا اے ابوالحسؑن تم ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہو ؟خدا کی قسم فاطمہؑ کی قبر کھود کر اس پر نماز پڑھیں گے ۔
علی المرتضٰی ع آگے بڑھے اور ان کا گر یبان پکڑ لیا اور انہیں اٹھا کر زمین پر دے مارا اور فرمایا :
*یا ابن السودا ء اما حقی فقد ترکتہ محافۃ ان یرتدالناس عن دینھم و اما قبر فاطمہ فوالذی نفس علی بیدہ لئن رمیت او اصحابک شیئا من ذالک لا سقینا الارض من دمائکم فان شئت فاعرض یا فلان *
" اے حبشن کی اولاد! میں نے اپنا حق اسلۓ چھوڑدیاکہ لوگ دین اسلام سے مرتد نہ ہوجائے۔لیکن فاطمؑہ کی قبر کی طرف تم نے یا تمہارے ساتھیوں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو میں تم لوگوں کے خون سے زمین سینچ دوں گا۔ اب اگر یہ چاہو تو آگے قدم بڑھا کر دیکھو"
اتنے میں ابوبکر درمیان میں آ گئے اور کہا ،اے ابوالحسؑن!تمہیں خدا اوراسکے رسولؐ کا واسطہ انہیں چھوڑ دو ۔ہمارا وعدہ ہے کہ اب ہم کوئی ایسی بات نہ کریں گے جو تمہاؑرے غصے کا سبب بنے۔
یہ سن کر مولاعلی ع نے عمر ابن خطاب کو چھوڑ دیا اور سب لوگ واپس چلے گئے۔
حوالہ:۔
*دلائل الاامامت طبری
*بحارالاانوار جلد در حالات جناب ِ سیدہؑ
پرسہ با نظر مادرِ مولا علــــــٔی اکبــر علیہ السّلام
10 ربیع الثانی
ظہورِ مولا حسن عسکری العظیم عجﷻ بادشاہ مبارک ہو
ہماری خوشی میں جیسے موت اۓ
اسے خودکشی مبارک ہو 😍💕
نسب کسی کا اگر جاننا ضروری ہو
نگاہ چہرے پہ رکھکر علی ص کی بات کرو 🥰🫀
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Karachi