Digital Health Science
Digital Health science - A Group for healthcare-related technology and innovation.
29/05/2024
14/02/2024
24/12/2023
اینٹی بائیوٹکس ایسی دوائیں ہیں جو ہمارے جسم میں موجو بیماریاں پیدا کرنے والے بیکٹیریا کو مارنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ صحت مند افراد کے جسم میں بھی بیکٹیریا ہوتے ہیں؟ جی ہاں !ہم سب کے جسم میں بیکٹیریا ہوتے ہیں اور وہ صرف چند نہیں بلکہ کھربوں کی تعداد میں ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاتھ، ناک، منہ اور آنتیں اگر خوردبین سے دیکھیں تو بیکٹیریا سے بھری ہوئی ہیں جنہیں نارمل فلورا کہا جاتا ہے۔ یہ دوستانہ بیکٹیریا ہیں جو انسانوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور بدلے میں ہمارے جسم سے غذائیت لیتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا کی افزائش کو بھی کم کرتے ہیں۔ جب ہم بیماری کے دوران اینٹی بائیوٹکس استعمال کرتے ہیں تو دوا نہ صرف بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا بلکہ صحت مند بیکٹیریا کو بھی مار دیتی ہے۔ ہمارے آنتوں میں ان صحت مند بیکٹیریا کی تعداد میں کمی بہت سے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔آپ میں سے اکثر لوگوں نے نوٹ کیا ہوگا کہ اینٹی بائیوٹکس کے علاج کے دوران لوگوں کو اسہال یا منہ میں سفید فنگل انفیکشن ہو جا تا ہے۔ اس کی وجہ اینٹی بائیوٹکس کا جسم کے صحت مند بیکٹیریا کو مارنا ہے۔
اب یہ صحت مند بیکٹیریا پروبائیوٹکس نامی ادویات میں دستیاب ہیں اور تحقیق جاری ہے کہ کیا ان پروبائیوٹکس کو ہمیشہ اینٹی بائیوٹکس کے ساتھ دیا جانا چاہیے تاکہ ہمارے جسم کے صحت مند بیکٹیریا کی مقدار معمول کے مطابق رہے۔ پروباٸیوٹیکس میں Enflor، biflor، enterogermia، hiflor وغیرہ شامل ہیں۔ اب تو کمرشل انفینٹ فارمولہ یا ڈبے والے دودھ بنانے والی کمپنیاں بھی ان پروبائیوٹکس کو اپنے دودھ میں شامل کر رہی ہیں۔
ہم خوراک کے ذریعے ان صحت مند بیکٹیریا کی تعداد کو اپنے جسم میں بڑھا سکتے ہیں۔
وہ کونسی اھم خوراک ہیں جن میں یہ صحت مند بیکٹیریا ہوتے ہیں جو مہنگی پروبائیوٹکس ادویات کا متبادل ہو سکتے ہیں؟؟
جواب۔۔۔
دہی
اچار
اس کے علاوہ بہت سی غذائیں پری بائیوٹک ہوتی ہیں، جو ان صحت مند بیکٹیریا کی افزائش میں مدد کرتی ہیں۔ ان میں
سیب
بنانا
سبز پتوں والی سبزیاں
پیاز
لہسن
شامل ہیں
اس لیے اینٹی بائیوٹک لیتے وقت اپنی خوراک میں ان چیزیوں کا استعمال بڑھائیں تاکہ اینٹی بائیوٹک کے مضر اثرات سے بچا جا سکے۔
08/11/2023
پاکستان میں ادویات کے مضر اثرات کے کیسز میں اضافہ
ہر سال ہزاروں مریض موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں،
پاکستان میں فارماسوٹیکل کمپنیوں اور مبینہ طور پر ڈاکٹرز کا سازباز
ایسی ادویات سے مریضوں کی براہ راست موت واقع ہوتی ہے،
گیبہ پینٹین سالٹ اور پری گیبلن سالٹ دوا کی وجہ سے ہزاروں مریضوں کی اموات،
دوا گیبا پینٹین مرگی کے مریضوں کے لیے بنائی گئی تھی لیکن اس کا غلط استعمال ہوا،
یہ دوا دردوں کے لیے اور دوسرے بہت سارے آف لیبل یوزز کے طور پہ استعمال ہوئی،
امریکہ میں بھی اس گیباپینٹین سالٹ کا غلط استعمال کیا گیا،
ممتاز عالم دین مولانا طارق جمیل کے صاحبزادے کو بھی گبر پینٹین ادویات استعمال کرائی گئی،
یہ دوا براہ راست خودکشی کی طرف مائل کرتی ہے،
یہ دوا اگر پانچ، چھ ماہ مستقل دی جائے تو یہ مریض کو خودکشی پر مجبور کر دیتی ہے،
پاکستان میں ایسی ادویات کے غلط استعمال پر مکمل پابندی ہونی چاہیے،
امریکہ اور دیگر ممالک میں اس پر بلیک باکس وارننگ دی گئی ہیں،
پاکستان میں فارماسیوٹیکل اور ڈاکٹرز کے مبینہ گٹھ جوڑ سے یہ دوا مسلسل استعمال کرائی جاتی ہے، نور مہر
11/09/2023
کیا آپ اپنے بچے کو کسی دوسرے کا محتاج دیکھ سکتے ہیں؟
یقیناً نہیں❗ تو ایسا تب ہی ممکن ہوگا جب آپ اپنے 5️⃣ سال سے کم عمر بچوں کو ہر انسدادِ پولیو مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں۔
اکثر لوگوں کو نہیں پتہ کہ ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ذیابیطس یعنی شوگر میں کیا فرق ہے۔ آج مختصر تعارف ہو جائے:
ٹائپ۔ 1. کیا ہے ؟
اس میں لبلبہ بلکل کام نہیں کرتا جس کی وجہ سے شوگر بڑھتی ہے، یہ اکثر بچوں کو ہوتی ہے اور کبھی تو نومولود بچوں کو بھی ہوتی ہے۔
ٹائپ 2. کیا ہے؟
اس میں لبلبہ تو کام کرتا ہے اور انسولین بھی پوری بناتا ہے لیکن جسم اس انسولین کو جزوی یا مکمل طور قبول نہیں کرتا جس سے شوگر بڑھتی ہے اور کھانے کے بعد شوگر بہت تیزی سے بڑھتی ہے یعنی شوٹ کرتی ہے۔ اس میں انسولین رسیزٹینس بڑھ جاتی ہے یعنی آپکا جسم انسولین کے آڑے آتا ہے۔ اگر انسولین رسیزٹینس کو ٹھیک کرلیا جائے تو شوگر کے مرض سے نجات مل سکتی ہے۔
علاج ٹائپ 1:
ٹائپ 1 کا تاحال کوئی مناسب طریقہ نہیں کنٹرول کرنے کا سوائے انسولین کے مستقل استعمال کے۔
علاج ٹائپ 2:
ٹائپ 2 کو دواؤں کے ساتھ خوراک سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور بعض اوقات یہ مکمل طور پر ٹھیک ہو جاتی ہے۔
اللہ ہم پر اور تمام امت مسلماں پر رحم کرے اور ان موزی امراض سے محفوظ رکھے۔ آمین.
06/09/2023
#ڈیجیٹل ہیلتھ سائنس
• ہارٹ اٹیک کیا ہے؟
ہارٹ اٹیک دل کی ایک بیماری ہے جس میں دل کے کسی ایک حصے کی خون کی فراہمی رک جاتی ہے جس کے باعث سینے میں شدید درد ہوتا ہے اور جکڑن کا احساس ہوتا ہے۔
• ہارٹ اٹیک کیسے ہوتا ہے؟
ہمارے دل کو خون فراہم کرنے والی شریانیں، کورونری آرٹریز (Coronary Arteries) میں مختلف وجوہات کی وجہ سے چکنائی (cholestrol) جم جاتی ہے. جس جگہ یہ چکنائی جم جائے وہاں سے خون بہت کم گزر پاتا ہے اور وقت کے ساتھ وہاں سے خون گزرنے کی بجائے جمنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ خون کا لوتھڑا متعلقہ شریان کو مکمل طور پر بند کر دیتا ہے اور دل کے اس حصے کو توانائ اور آکسیجن کی فراہمی رک جاتی ہے۔ دل کا کام ایک پمپ کی طرح مسلسل سکڑنا اور پھیلنا ہے، اس کام کے ذریعے دل اپنے چار خانوں میں موجود خون اپنے ساتھ لگی نالیوں/شریانوں میں پمپ کرتا ہے! دل سے نکلنے والی بہت سی نالیوں میں سے چند نالیاں ایسی ہوتی ہیں جو خود واپس دل میں داخل ہو جاتی ہیں اور دل کو خون فراہم کرتی ہیں! سو اگر ان نالیوں یا شریانوں میں خون جمنا شروع ہو جائے گا تو دل کو خون نہیں پہنچے گا اور دل کا کام اثر انداز ہو گا!اور جب دل ایک ایسے مرحلے سے گزرتا ہے کہ جب اس کو ملنے والے خون کی مقدار بہت ہی کم ہو جاتی ہے تو دل ایک سخت درد کی کیفیت سے گزرتا ہے، جسے ہارٹ اٹیک کہتے ہیں!
• ہارٹ اٹیک کی علامات کیا ہیں؟
» ہارٹ اٹیک کی سب سے اہم اور عام علامت سینے میں جکڑن کے ساتھ شدید درد ہے جو اوپر گردن اور جبڑے کی جانب اور بائیں بازو کی طرف جاتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اور یہ درد بعض مریضوں میں کمر کی جانب بھی جاتا محسوس ہوتا ہے اس کا دورانیہ 30 منٹ سے زیادہ ہوتا ہے۔
» ٹھنڈے پسینے آنا
» سانس کا پھولنا
» دل کی دھڑکن تیز ہونا
» دل کی دھڑکن خود کو محسوس ہونا
» بدہضمی، قے اور متلی کا احساس ہونا
» چکر آنا اور بے ہوش ہو جانا
• کن افراد کو ہارٹ اٹیک ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟
» ہائ بلڈ پریشر کے مریض
» 45 سال سے زیادہ عمر کے افراد
» موٹاپے کے مریض
» شوگر کے مریض
» مرد حضرات
» سگریٹ نوشی کرنے والے افراد
» جن افراد کے خون میں کولیسٹرول/چکنائی کی مقدار زیادہ رہتی ہو
» جن افراد کے خاندان میں دل کا مرض عام ہو
» وہ افراد جو ورزش نہ کرتے ہوں
• ہارٹ اٹیک کی علامات ظاہر ہوں تو کیا کرنا چاہیے؟
سب سے پہلے وقت ضائع کیے بغیر مریض کو بالکل سیدھا لٹا دیں
اور پھر اس کی زبان کے نیچے Angised کی ایک گولی رکھ دیں
مریض کو فوراً قریبی ہسپتال یا کلینک پہنچایا جائے اور مریض سے کہیں کہ وہ چلنے سے گریز کرے۔ مریض کا ای سی جی (ECG) ٹیسٹ کروائیں اور ڈاکٹر کو دکھائیں۔
• ہارٹ اٹیک کا علاج کیا ہے؟
ہارٹ اٹیک میں دل کے پٹھوں کو ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کا علاج اس پر منحصر ہے کہ دل کو کتنا نقصان ہوا ہے۔ اگر مریض کو بروقت ہسپتال پہنچا دیا جائے تو صرف ادویات ہی علاج کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ تاہم اگر مرض زیادہ شدید ہو تو آلات کے ذریعے سے دل کی شریانوں کو کھولا جاتا ہے (Angioplasty) یا پھر متعلقہ شریان میں ایک سپرنگ نما آلہ (Stent) لگایا جاتا ہے تاکہ شریان دوبارہ بند نہ ہو۔ اگر یہ علاج ناکافی ہو تو آپریشن کے ذریعے رکاوٹ کی جگہ سے ہٹ کر خون کی سپلائی کے لیے متبادل راستہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مریض کو ادویات بھی مستقل طور پر لینا ہوتی ہیں۔
• ہارٹ اٹیک اور عام دل کے درد میں کیا فرق ہے؟
عام دل کا درد یعنی انجائنا (Angina) عام طور پر 30 منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا اور آرام کرنے پر کم ہو جاتا ہے جب کہ ہارٹ اٹیک کا درد آرام کرنے سے کم نہیں ہوتا اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔
انجائنا کا درد زیرِ زبان Angised کی گولی رکھنے سے کم ہو جاتا ہے جب کہ ہارٹ اٹیک کا درد کم نہیں ہوتا۔ اس کا دورانیہ 30 سے زیادہ ہوتا ہے۔
« علامات ظاہر نہ ہوں لیکن ہارٹ اٹیک ہو جائے »
ایسا عام طور پر بوڑھے افراد میں یا شوگر کے مریضوں میں ہوتا ہے کہ علامات مکمل طور غائب ہوں یا جزوی طور پر ظاہر ہوں لیکن ہارٹ اٹیک کے باعث مریض دم توڑ جائے۔ تاہم یہ کسی بھی عمر کے افراد میں ہو سکتا ہے۔ اسے خاموش ہارٹ اٹیک (Silent Heart Attack) کہا جاتا ہے۔
« علامات واضح ہوں لیکن ہارٹ اٹیک نہ ہو »
بعض اوقات شدید پریشانی اور بے چینی کے باعث اچانک سینے میں شدید درد ہوتا ہے اور ٹھنڈے پسینے آنے لگتے ہیں۔ یہ نفسیاتی مسئلہ ہے جسے پینک اٹیک (Panic Attack) کہتے ہیں۔ پینک اٹیک میں مریض کی ECG/دل کی کارکردگی دکھانے والی رپورٹ نارمل ہوتی ہے جب کہ ہارٹ اٹیک میں ECG خراب واضح ہوتی ہے۔
« ہارٹ اٹیک اور دل کی دیگر بیماریوں سے بچنے کے اصول »
» بلڈ پریشر کو ادویات کی مدد سے قابو میں رکھیں
» چکنائ اور تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کریں۔
» کھانے میں نمک کا استعمال کم کریں
» سگریٹ نوشی اور شراب نوشی نہ کریں
» روزانہ ورزش کریں اس طرح کبھی خدانخواستہ آپ کے دل کو خون پہنچانے والی کوئی نالی کسی جگہ بند ہو بھی جائے تو اور بہت سی ساتھ پڑی نالیاں جو دل تک جاتی ہیں وہ ورزش کرنے کی وجہ سے کھل چکی ہوتی ہیں، لہذا کبھی مسئلہ ہو بھی تو ہمارا جسم، ہمارا دل متبادل راستہ اختیار کر لیتا ہے، بشرطیکہ ہم ورزش کریں!
» سال میں کم از کم تین بار کولیسٹرول چیک کروائیں اور روٹین چیک اپ کروائیں
» وقت پر سوئیں اور مکمل نیند کریں
» خود کو پریشانیوں سے آزاد رکھیں۔
29/08/2023
کراچی میں آشوب چشم کی وبا میں تیزی سے اضافہ، مریضوں کیلئے ہدایات جاریPink Eye (Conjunctivitis) [ Urdu ] #ڈیجیٹل ہیلتھ سائنس
کراچی کے مختلف اضلاع میں آشوب چشم کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے.
پروفیسر مظہر الحق کے مطابق کراچی کے مختلف اضلاع میں ہر عمر کے افراد آنکھوں کی بیماری کا شکار ہو رہے ہیں، آنکھوں کا یہ مرض ایک سے دوسرے فرد میں پھیلتا یے۔
انہوں نے بیماری کی علامات بتاتے ہوئے کہا کہ اس بیماری کی عام علامات میں آنکھوں سے پانی آنا، سرخ ہونا اور خارش ہونا شامل ہیں جب کہ چشمہ لگانے سے مرض کے پھیلاؤ میں فرق نہیں پڑتا۔
سربراہ امراض چشم سول اسپتال نے حفاظتی تدابیر بتاتے ہوئے کہا کہ آنکھوں سے نکلنے والی رطوبت اچھی طرح صاف کرنا لازمی ہے، متاثرہ فرد ٹشو یا صاف و نرم کپڑے سے آنکھیں صاف کرے۔
انہوں نے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ متاثرہ فرد اپنا تولیہ، صابن اور تکیہ الگ رکھے۔
آشوب چشم کیا ہے ؟
آشوب چشم باریک جھلی (آنکھ کی جھلی) میں سوزش کا نام ہے جو آنکھ کے سفید حصے (سفیدہ چشم) کو ڈھانپتی ہے۔ اس جھلی کی سفید رنگت گلابی یا سرخ رنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
آشوب چشم زیادہ تر ایک وائرس کے باعث ہوتی ہے۔ یہ بیکٹیریا کے کسی انفیکشن یا الرجی کے رد عمل کے باعث بھی ہو سکتی ہے۔
آشوب چشم کو آنکھ کی جھلی کی سوزش بھی کہتے ہیں۔
آشوب چشم کے نشانیاں اور علامات
آپکے بچے میں مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں :
آنکھ اور آنکھ کے پپوٹے کے اندرونی جانب سرخی
پیوٹوں پر ہلکی سوجن
آنکھوں میں خارش
آنکھ سے صاف یا پیلے سبز مواد کا اخراج
وائرس کے باعث ہونے والا آشوب چشم دونوں آنکھوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ دیگر زکام کی علامات کے ساتھ بھی منسلک ہو سکتا ہے۔جب بچہ نیند سے اُٹھتا ہے تو اُسکی آنکھیں چپکی ہوئی ہو سکتی ہیں، اور آنکھوں سے خارج ہونے والا مواد عام طور پر رنگت میں صاف شفاف ہوتا ہے۔
بیکٹیریا کے باعث ہونے والا آشوب چشم اکثر پہلے صرف ایک آنکھ کو متاثر کرتا ہے۔ آنکھ عموماً کافی سُرخ ہو جاتی ہے اور اس میں زیادہ زرد یا سبز مواد دیکھا جا سکتا ہے، جس سے اکثر آنکھ کے پیوٹوں پر پرت جم جاتی ہے۔
الرجی کے باعث ہونے والا آشوب چشم عموماً ماحول میں عام الرجی عناصر کے باعث ہوتا ہے جیسے پودوں کی پولن، گھاس، درختوں کی پولن، یا جانور۔ یہ دونوں آنکھوں کو متاثر کرتا ہے اور اس میں کم یا پھر بالکل ہی کوئی مواد خارج نہیں ہوتا۔
نوعمر بچے جو کانٹیکٹ لینز پہنتے ہیں اُنہیں یہ لینزز اتار دینے چاہیئے اور کسی ڈاکٹر یا آنکھوں کے سپیشلسٹ سے رابطہ کرنا چاہیئے تاکہ یہ پتا چلایا جا سکے کہ آیا یہ سُرخی کانٹیکٹ لینز پہننےکی وجہ سے تو نہیں۔
اپنے بچے کے آشوب چشم کا علاج کیسے کیا جائے
وائرل آشوب چشم 1 سے 2 ہفتے تک رہ سکتا ہے اور اس کے لئے کسی طبی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ خود بہ خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔
بیکٹیریا کے باعث ہونے والے آشوب چشم کو آنکھوں کے لئے جراثیم کش یا آنکھ میں ڈالے جانے والے قطروں یا آنکھ میں ڈالنے والی کسی چکنی دوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پر جب اس کا علاج شروع ہو جائے تو 24 سے 48 گھنٹوں میں اس کی علامات میں بہتری آتی ہے ۔ بیکٹیریئل آشوب چشم کے علاج کا عرصہ عام طور پر5 سے7 دن ہے۔
الرجک آشوب چشم منہ سے کھائی جانے والی ادویات جیسے اینٹی ہسٹامینز یا آنکھ میں ڈالے جانے والے قطرے جو کہ بالخصوص الرجی کی علامات کے لئے ہوتے ہیں اسی سے کافی بہتر ہو جاتا ہے۔ تاہم اس کے علاج کے حوالے سے پہلے اپنے بچے کے ڈاکٹر سے بات کر لینی چاہیئے۔
گھر پر اپنے بچے کی دیکھ بھال کرنا
آلودگی سے بچائیں
آشوب چشم وائرل ہو یا بیکٹیریئل دونوں ہی وبائی ہیں۔ یہ باآسانی مندرجہ ذیل طریقوں سے پھیل سکتے ہیں:
آنکھ کے ساتھ رابطے کے ذریعے اور پھر اپنی ھی آنکھ کے ساتھ رابطہ
ایسے ہاتھوں کے ذریعے جن سے آنکھوں کو چھویا گیا ہو
تکیے،تولیے، چہرے کے کپڑوں، میک اپ، یا دیگر چہرے کی مصنوعات کو شیئر کرنے کے ذریعے
اگر کسی کو وائرل یا بیکٹریل آشوب چشم ہو، تو اُسکی اُن چیزوں کو شئیر کرنے سے پرہیز کریں جو چہرے یا آنکھوں کو چھوتی ہیں۔ ہاتھوں کو صابن اور پانی کے ساتھ اچھی طرح دھوئیں اور ا نفیکشن کی منتقلی کو روکنے کے لئے الکوحل کے بنے ہوئے ہاتھ صاف کرنے والے محلول کا استعمال کریں۔ ہاتھ صاف کرنے والے محلول کو آنکھوں میں جانے سے بچائیں، کیونکہ وہ آنکھوں میں سوزش کا باعث بنے گا۔
آنکھوں کو صاف کرنا
کچھ بچے بہتر محسوس کرتے ہیں اگر آنکھوں کی چپکاہٹ یا آنکھوں سے نکلنے والے مواد کو کسی گرم کپڑے سے صاف کر دیا جائے۔ متاثرہ آنکھ پر صاف، گرم، گیلا تولیہ یا کوئی چہرہ صاف کرنے والا کپڑا استعمال کریں اور بڑی نرمی سے آنکھ سے نکلے یا جمے ہوئےکسی بھی مواد کو صاف کریں۔ ہر دفعہ صاف کرنے کے لئے صاف کپڑا استعمال کریں۔ استعمال کے بعد کپڑے کو فوری طور پر پھینک دیں یا لانڈری میں ڈال دیں۔ اس کے بعد اپنے ھاتھوں کو صاف کر لیں۔
سیلین (نمکین پانی) یا کوئی دوسرے سکون پہنچانے والے آنکھ کے قطرے آنکھ کو صاف کرنے اور خارش سے نجات پانے کیلئے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ مشورے کے لئے اپنے فارماسسٹ سے رجوع کریں۔
آشوب چشم آنکھوں کے لئے سوزش کا باعث ہو سکتا ہے، لیکن یہ تکلیف دہ نہیں ہوتا۔ بچوں کو عموماً تکلیف سے نجات پانے والی ادویات کی ضرورت نہیں پڑتی۔
انفیکشن کے پھیلاؤ کو کم کریں
آشوب چشم میں مبتلا بچے اس بیماری کے جراثیم اُسی طرح دیگر صحت مند بچوں میں منتقل کر سکتے ہیں جیسے زکام کا شکار بچے کرتے ہیں۔ وائرل آشوب چشم اگر 2 ہفتوں تک رہتا ہے یہ وائررس کھانسنے اور چھیکنے سے پھیلتا ھے ، لیکن بچے کو اتنا عرصہ اسکول یا ڈے کیئر جانے سے روکنے کی ضرورت نھیں ھوتی۔
بیکٹیریئل آشوب چشم میں مبتلا بچے آنکھ میں ڈالے والے قطرے یا چکنی دوا کے استعمال کے 24 گھنٹوں کے بعد اسکول جانا شروع کر دیتے ہیں۔ بچے کو دوسروں سے الگ تھلگ رکھنے کے عرصے کےحوالے سے اپنے ڈاکٹر کا مشورہ ضرور لے لیں اور اوپر دی گئی ہدایات کے مطابق آشوب چشم کے پھیلاؤ کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کرنے میں صفائی کا خاص خیال رکھیں
الرجک آشوب چشم میں مبتلا بچوں کا مرض متعدی نہیں ہوتا ۔اس لئے سکول یا ڈے کیئر جانے میں کوئی حرج نہیں ۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
21/08/2023
سانس کا پھولنا اور دل کی دھڑکن کا تیز ہونا کس حالت کی علامت ہے؟
سانس کا پھولنا کی وجوہات کیا ہیں؟
سانس کی قلت کے زیادہ تر معاملات دل یا پھیپھڑوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ آپ کا دل اور پھیپھڑے آپ کے ٹشوز میں آکسیجن پہنچانے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ہٹانے میں ملوث ہوتے ہیں، اور ان میں سے کسی ایک عمل کے ساتھ مسائل آپ کی سانس کو متاثر کرتے ہیں۔ مگر ایسے دوسرے مسائل بھی ہیں جو سانس کی خرابی کا باعث بنتے ہیں۔
سانس کا پھولنا کی سب سے عام وجوہات درج ذیل ہیں۔
۔ 1 کسی الرجک کا رد عمل ہونا۔
۔ 2 دمہ کی بیماری ہونا۔
۔ 3 خون کی کمی کا ہونا۔
۔ 4 گھبراہٹ کے حملے ہونا۔
۔ 5 عضلات کا شکل سے باہر ہونا (عضلات کا ڈی کنڈیشننگ)
۔ 6 اونچائی پر ہونا۔
۔ 7 دم گھٹ رہا ہے۔
۔ 8 سانس کی شدید رکاوٹ پلمونری بیماری۔
۔ 9 پھیپھڑے کا خراب ہونا۔
۔ 10 بلڈ پریشر کا کم ہونا۔
۔ 11 پھیپھڑوں کا کینسر، ہونا۔
۔ 12 بہت زیادہ موٹاپا ہونا۔
۔ 13 سانس کی نالی کے انفیکشن جیسے نمونیا یا برونکائٹس کا ہونا۔
۔ 14 سخت ورزش کرنا۔
۔ 15 کارڈیو مایوپیتھی، ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیلیئرکا ہونا۔
طبی وجوہات میں شامل ہیں۔
۔ 1 تھائیرائیڈ کا مسئلہ۔
۔ 2 بخار، خون کی کمی۔
۔ 3 ہائپر وینٹیلیشن۔
۔ 4 خون میں آکسیجن کی کم سطح ہونا۔
۔ 5 کچھ ادویات۔
۔ 6 اریتھمیا دل کی بیماری۔
۔ 5 سانس کا پھولنا ، علامات کیا ہیں؟
علامات کی پیمائش ڈاکٹر کے ذریعہ نہیں کی جاسکتی ہے، لیکن یہ علامات آپ کو بہت حقیقی محسوس ہوں گی۔ عام طور پر دل کی بے قاعدہ دھڑکن سے منسلک یہ علامات ہوتی ہیں۔
۔ 1 تھکاوٹ
ہر شخص کام کرنے کے تھوڑی دیر میں تھکاوٹ کا تجربہ کرتے ہیں۔ تاہم، اگر آپ مستقل طور پر تھکاوٹ محسوس کر رہے ہیں، تو یہ آپ کے سانس کا پھولنا کا سبب اور دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی میں مبتلا ہونے کی علامت ہو سکتی ہے۔
۔ 2 چکر آنا
سانس کا پھولنا اور چکر آنا آپ کو ہلکا پھلکا، غیر متوازن اور پریشان کن محسوس کراے گا۔ چکر آنے کے زیادہ سنگین معاملات میں، کمرہ ایسا محسوس کر سکتا ہے جیسے یہ گھوم رہا ہے یا ہل رہا ہے۔
۔ 3 بے چینی
بے چینی سانس کا پھولنا کی اکثر وجوہات میں سے ایک ہوتی ہے۔ جیسا کہ زیادہ تر نفسیاتی مرض میں، بے چینی سے نمٹنا آسان نہیں ہے، لیکن مناسب علاج، جیسے کاؤنسلنگ اور عام محرکات، جیسے تناؤ کی روک تھام، دھڑکن کی تیزی کو کم کر سکتی ہے اور آپ کو صحت مند زندگی سے لطف اندوز ہونے کے قابل بنا سکتی ہے۔
۔ 4 سینے کا درد
سینے میں درد عام طور پر آپ کے کندھوں سے نیچے آپ کی پسلیوں تک محسوس ہوتا ہے۔ سینے میں درد کئی کیفیات کی علامت ہو سکتا ہے، جن میں سے ایک سانس کا پھولنا ہے۔ اگر آپ سینے میں درد محسوس کرتے ہیں تو آپ کو دل کے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور لینا چاہئے۔ اگر آپ اپنی علامات کے بارے میں فکر مند ہیں، تو آپ کو کسی طبی پریکٹیشنر سے بات کرنی چاہیے۔
دل کی بے ترتیب دھڑکن کو منظم کرنے کے مختلف طریقوں سے متعلق مزید معلومات کے لیے آپ ڈاکٹر سے مشورہ کرسکتے ہیں کیونکہ علاج کے ساتھ ساتھ احتياط بھی بہت ضروری ہے۔
۔ 6 احتیاطی تدابیر۔
جتنی جلدی ممکن ہو ڈاکٹر کو کال کریں اگر آپ کو سانس کا پھولنا، تھکاوٹ اور چکر آتے ہیں۔ اگر آپ کی سانس کی قلت اچانک، بگڑتی یا شدید ہو، یا اگر آپ کو کوئی شدید علامات کا سامنا ہو تو دیر نہ کریں۔جیسے کہ۔۔۔
۔ 1 سینے، گردن، جبڑے یا بائیں بازو میں درد کا ہونا۔
۔ 2 سرد چپچپا جلد یا بخار کا ہونا۔
۔ 3 کھانسی میں خونی یا جھاگ دار بلغم کا ہونا۔
۔ 4 دوڑنا یا تیز نبض کا چلنا۔
۔ 5 بیہوش ہونا۔
سانس کا پھولنا کی بہت سی وجوہات ہیں، جن کی وجہ سے تشخیص تلاش کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ یہ ایک سنگین طبی پیچیدگی ہے جو عام طور پر پھیپھڑوں اور دل کے مسائل، ادویات، اعصابی اور میٹابولک بیماری کی وجہ سے ہوتی ہے۔ان سے بروقت بچاؤکے لیے آپ ڈاکٹر سے فوری رجوع کریں تاکہ بہت سی دیگر بیماریوں سے بچا جاسکے۔
****Dania Irfan is one of the top notch Urdu writers from Lahore, working in Health industry for over a year. Her work has been featured in national publications such as Marham.pk. Before becoming a full time writer, Dania has worked as a professional teacher and has an extensive knowledge in teaching.***
16/08/2023
اکثر پوچھا جانے والا سوال:
شوگر کے مریض کیا خوراک کھائیں کہ شوگر نارمل رہے، اور کیا Artificial Sweetener استعمال کرنی چاہیئے ؟
جواب: کیا نہیں کھانا پینا چاہیئے یہ زیادہ اہم سوال ہے۔
کاربوہائیڈریٹس کو پہلی سٹیج میں 50% کم کریں، اگلے 15 دن میں اس کا بھی 50% کم کردیں، یعنی جتنی کاربوہائیڈریٹس آپ آج لیتے ہیں اس کا اب 25% باقی رہے۔ بالآخر بیکری آئٹمز، چینی، گڑ، شہد، میدے سے بنی اشیاء وغیرہ بند کر دیں۔ کاربوہائیڈریٹس کن چیزوں میں ہوتا ہے اس کو خود سرچ کر لیں۔ 45 منٹ روزانہ واک کافی ہے اور اسی طرح بتدریج تبدیلی لاتے رہیں۔ اچانک کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اپنی معلومات میں اضافہ کریں، یو ٹیوب کے فراڈئیوں سے بچیں جو جھوٹا جادوئی علاج بتا کر اپنے 10 ڈالر کیلئے آپکو بے وقوف بناتے ہیں۔ وہ خوراک کھائیں جس کا Glycemic Index ہمیشہ 50 سے کم ہو۔ باقی انٹرنیٹ پر خود سرچ کریں۔ ہر اس مریض جس نے یہ ہدایت فالو کی وہ ناکام نہیں ہوا۔
میٹھے کا شوق ہو تو Stevia Powder استعمال کریں، اسکا کوئی نقصان نہیں، لوگوں کی باتوں میں نہ آئیں جو مصنوعی شکر یعنی Artificial Sweetener پر انتہائی گمراہ کن معلومات رکھتے ہیں۔ ریسرچ میں صرف Aspartame نامی میٹھے پر کچھ سائنسدانوں کا خیال تھا کہ "شاید یہ کینسر کرتی ہے مگر تازہ ریسرچ نے یہ بات بھی غلط ثابت کر دی" مگر آپ جہالت کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتے۔ (امریکی کینسر سوسائٹی کی ریسرچ کا لنک پہلے کامنٹ میں دیا ہوا ہے، پڑھ کر سمجھ لیں)۔
لیکن Aspartame کی بھی ضرورت نہیں جب آپکے پاس Stevia powder دستیاب ہے جو ایک پودے کے پتوں کا سفوف ہے اور 100% قدرتی ہے اور ذائقے میں بھی بہترین ہے۔ اس کو خوب استعمال کیا جا سکتا ہے، لوگوں کی باتوں میں نہ آئیں اور اپنے فیصلے علم اور ریسرچ کی بنیاد پر کیا کریں کیونکہ ہر طرف جھوٹ کا طوفان ہے اور عام شخص کیلئے صحیح و غلط کی تمیز کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ باقی آپ سمھجدار ہیں۔
(ڈاکٹر اذکار بیگ)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Karachi