be positive

be positive

Share

faheem

Log into Facebook 26/12/2023

https://www.facebook.com/mobile_center/

Log into Facebook Log into Facebook to start sharing and connecting with your friends, family, and people you know.

Cart - Wsooq 26/12/2023

Cart - Wsooq Cart

09/07/2023

‏وجیہہ عروج 2001ء پنجاب یونیورسٹی ایم اے انگلش کی طالبہ جسے فائنل رزلٹ میں یونیورسٹی نے فیل قرار دیا کہ وہ ایک پیپر میں غیر حاضر تھی۔

یہ بات وجیہہ عروج کے لئیے باعث حیرت ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی پریشان کُن بھی تھی کیونکہ وہ تمام پیپرز میں حاضر رہی تھی اور تمام پیپرز اچھے طریقے سے حل کئیے تھے۔ اسے لگا شائد یونیورسٹی سے غلطی ہو گئی ہے وہ اپنے والد کے ساتھ شعبہ امتحان پہنچی اور اپنا کیس متعلقہ افسر کے سامنے رکھا تو بجائے تحقیق کرنے یا ریلیف دینے کے اس نے وجیہہ کے والد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کیا پتہ آپ کی بیٹی امتحان کے بہانے کہاں جاتی تھی 😥

یہ جملہ وجیہہ اور اس کے والد کے سر پر بم بن کر گرا اور وہ جیسے سُن ہو کر رہ گئے۔ یونیورسٹی نے غلطی ماننے اور ڈگری جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ بات آفس میں سب کے سامنے ہوئی تھی آناً فاناً یونیورسٹی میں پھیل گئی اور ہر آنکھ وجیہہ کو خطاکار اور یونیورسٹی کو حق بجانب سمجھنے لگی۔
وجیہہ کی زندگی جیسے کسی چور کی زندگی جیسی ہو گئی۔ کچھ نہ کرتے ہوئے وہ اپنے ہی گھر والوں اور معاشرے کی نظر میں مشکوک اور گنہگار ٹھہری۔
اس نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا اور یونیورسٹی کے خلاف کیس کردیا۔

دو سے تین پیشیوں کا کیس تھا کہ عدالت اس پیپر میں حاضر اسٹوڈنٹس کی حاضری شیٹ اور تقسیم کئے گئے اور واپس جمع کرائے گئے پیپرز کا ریکارڈ منگوا کر فیصلہ کر دیتی۔
لیکن کیس شیطان کی آنت کی طرح لمبا ہوتا گیا۔۔پیشیوں پر پیشیاں پڑتی رہیں۔
وجہیہ کی شادی ہو گئی اور وہ کینیڈا شفٹ ہو گئی دو بچے ہو گئے کیس چلتا رہا ۔
بالآخر 17 سال بعد 2017 ء میں لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب یونیورسٹی کو قصور وار قرار دیتے ہوئے اسے وجیہہ عروج کو ڈگری جاری کرنے اور آٹھ لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم صادر کر دیا۔
بی بی سی کو انٹرویو میں وجیہہ نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
آج وہ ڈگری میرے کسی کام کی نہیں۔ سترہ سال پہلے وہ ماسٹرز کے بعد پی ایچ ڈی کرنا چاھتی تھی۔ اپنی زندگی اپنے حساب سے جینا چاھتی تھی اس کے سارے پلان اور خواب چکنا چور ہو گئے۔
آٹھ لاکھ سے کئی گنا وہ ان سترہ سالوں میں اس کیس پر خرچ کر چکی کہ یونیورسٹی نے اس پر جو تہمت لگائی تھی اسےغلط ثابت کر کے سرخرو ہو سکے۔ وہ سترہ سالوں تک روز اس ایک جملے کے ہاتھوں قتل یوتی رہی ہے۔
اسے انصاف نہیں کہا جا سکتا......

ہم اپنے آنے والی نسلوں کو خود اپنے ہی ہاتھوں تباہ کر رہے ہیں ۔۔۔
اور انہیں سکھا رہے ہیں کہ جھوٹ، کرپشن، ڈاکہ، چوری، قتل، غنڈہ گردی اور ہر گناہ پاکستان کی عدالتوں میں سب معاف ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔
لیکن انصاف اور سچ کبھی نہیں جیت سکتا۔۔۔۔
پھر کیوں نا ہمارے اُوپر عذاب الٰہی آئے۔۔۔۔
یہ زلزلے، خوفناک بارشیں اور خاص طور سے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بُرائیاں اور جرائم۔۔۔۔
ہم نے تو جیسے تیسے وقت گزار لیا۔۔۔۔ مگر ہمارے معصوم بچے۔۔۔۔ کبھی سوچا ہے کہ وہ کس بھیڑ کا حصّہ بن جائیں گے۔۔۔۔۔
اللّہ تعالیٰ ہمارے حال پہ رحم فرمائے۔۔
آمین ثم آمین
🇵🇰⚖️

12/04/2023

ایک بار جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہوں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں
ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا
اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے
اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے
چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے
تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے
دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ
یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا
جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا
جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا
اے اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گے
جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں
گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس آے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا نھی چاھیئے
بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی
" ابا جان اسلام وعلیکم"
بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائینات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا
ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہے
نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے
گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر
کہ اتنے میں حکم آگیا "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى
اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے..
آپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے
لکھتے ہوے آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ہمارا نبی اتنا شفیق اور غم محسوس کرنے والا ہے اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا..؟؟
آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں . آج اپنے نبی کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیئر کریں. آئیں ایک ایک شیئر کرکہ اپنا حصہ ڈالیں . کیا پتہ کون گنہگار پڑه کہ راہ راست پہ آجائے

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


North Nazimabad
Karachi

Opening Hours

00:00 - 21:00