Erma Beauty and consultant
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Erma Beauty and consultant, Health/Beauty, Karachi.
I am a mumpreneur,�
business advisor �,
Beauty Consultant ��,
working on my own way,�
financial freedom is my passion ���,
I love travelling��,
eating���
and enjoy my life ��
بیوی کے انتقال کے دن حامد
صاحب کی عمر صرف پینتالیس برس تھی۔
تعزیت کے لیے آنے والے ہر شخص نے ایک ہی مشورہ دیا۔
"حامد، ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے؟ دوسری شادی کر لو۔"
وہ ہر بار مسکرا دیتے، پھر اپنے
بارہ سالہ بیٹے عمار کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے، "
اللہ نے مجھے اس کی صورت میں میری بیوی کی آخری امانت دے دی ہے۔ اب میری باقی زندگی اسی امانت کی حفاظت ہے۔"
اس کے بعد انہوں نے واقعی اپنی زندگی بیٹے کے نام کر دی۔ کاروبار بڑھتا گیا، مگر ان کی دنیا سمٹ کر صرف ایک لڑکے کی مسکراہٹ رہ گئی۔ اپنی خواہشیں، اپنی تنہائیاں، اپنی راتیں... سب انہوں نے خاموشی سے دفن کر دیں۔
وقت نے پلٹا کھایا۔
عمار جوان ہوا، اعلیٰ تعلیم حاصل کی، اور ایک دن باپ نے سارا کاروبار اس کے حوالے کر دیا۔
"اب تم سنبھالو۔ میں تھک گیا ہوں۔"
لیکن تھکن جسم کی نہیں تھی... رشتے کی تھی، جسے وہ خود اپنے ہاتھوں آہستہ آہستہ پیچھے ہٹا رہے تھے۔
پھر عمار کی شادی ہو گئی۔
گھر میں نئی ہنسی آئی، نئے پردے لگے، فرنیچر بدلا، برتن بدلے، حتیٰ کہ باورچی خانے کی ترتیب بھی بدل گئی۔
اور حامد صاحب؟
وہ بھی بدل گئے۔
اب وہ کبھی دفتر میں بیٹھے رہتے، کبھی کسی پرانے دوست کی دکان پر چائے پیتے، اور شام ڈھلے صرف سونے کے لیے گھر لوٹتے۔ اپنے ہی گھر میں وہ ایسے چلتے جیسے کسی اور کے مکان میں مہمان ہوں۔
ایک دوپہر سب ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے تھے۔
حامد صاحب نے روٹی کا آخری نوالہ توڑتے ہوئے نرمی سے کہا،
"بیٹا... اگر ذرا سا دہی ہو تو دے دو۔"
باورچی خانے سے بہو کی آواز آئی،
"آج گھر میں دہی نہیں ہے، ابا جی۔"
"اچھا..." انہوں نے پانی کا گھونٹ لیا اور خاموشی سے اٹھ گئے۔
کسی نے ان کے چہرے پر نظر نہیں ڈالی۔
وہ حسبِ معمول واک کے لیے نکل گئے۔
ان کے جاتے ہی بہو نے فریج کھولا، ٹھنڈی دہی کی پیالی نکالی اور عمار کے سامنے رکھ دی۔
"گرمی بہت ہے، دہی کے بغیر تمہارا کھانا مکمل نہیں ہوتا۔"
عمار نے پیالی کی طرف دیکھا۔
پھر دروازے کی طرف، جہاں سے ابھی ابھی اس کے باپ کی آہستہ آہستہ دور ہوتی چپلوں کی آواز گم ہوئی تھی۔
اس نے ایک لمحے کو بیوی کی آنکھوں میں دیکھا۔
پھر خاموشی سے دہی کھا لی۔
اس نے کوئی جھگڑا نہیں کیا۔
کوئی نصیحت نہیں کی۔
صرف اس دن کے بعد اس کے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔
چند روز گزرے۔
ایک صبح اس نے والد سے کہا،
"ابا، آج دس بجے تیار رہیے گا۔ ہمیں کچہری جانا ہے۔"
"کیوں؟"
"آپ کی شادی ہے۔"
حامد صاحب کے ہاتھ سے اخبار پھسل گیا۔
"پاگل ہو گئے ہو؟ اس عمر میں؟ مجھے کسی شادی کی ضرورت نہیں۔ میں نے تو ساری زندگی تمہارے لیے گزاری ہے۔"
عمار نے پہلی بار باپ کی آنکھوں میں ویسے دیکھا جیسے ایک مرد دوسرے مرد کی قربانی کو پہچانتا ہے۔
"ابا... میں آپ کے لیے ماں نہیں لا رہا، نہ اپنی بیوی کے لیے ساس۔"
وہ رکا، پھر دھیرے سے بولا،
"میں صرف آپ کے لیے ایک پیالی دہی کا بندوبست کر رہا ہوں۔"
کمرے میں ایسی خاموشی اتری کہ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک بھی شرمندہ محسوس ہونے لگی۔
عمار نے جیب سے گھر کی چابی نکالی اور میز پر رکھ دی۔
"آج شام میں اور میری بیوی کرائے کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں منتقل ہو جائیں گے۔ کل سے میں آپ کے دفتر میں صرف ایک ملازم کی حیثیت سے آؤں گا، تنخواہ لوں گا... تاکہ جس گھر کی ہر چیز آپ نے ہمیں دے دی، وہاں رہنے والوں کو ایک پیالی دہی کی قیمت سمجھ آ جائے۔"
باورچی خانے میں کھڑی بہو کے ہاتھ سے شیشے کا گلاس چھوٹ کر فرش پر بکھر گیا۔
ٹوٹنے کی آواز معمولی تھی، مگر اس کے اندر برسوں سے جمی ہوئی خود غرضی میں ایک دراڑ پڑ چکی تھی۔
وہ لرزتے قدموں سے باہر آئی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ فریج سے دہی کی وہی پیالی نکالی، جسے چند لمحے پہلے اس نے صرف اپنے شوہر کے لیے محفوظ رکھا تھا، اور خاموشی سے حامد صاحب کے سامنے رکھ دی۔
پھر ان کے قدموں میں بیٹھ گئی۔
"ابا جی... مجھے معاف کر دیجیے۔ آج سمجھ آئی ہے کہ میں نے آپ سے دہی نہیں، آپ کا حق چھینا تھا۔"
حامد صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، مگر ان کی آنکھوں میں ایسی نمی تھی جو صرف بڑھاپے کی تنہائی جانتی ہے۔
انہوں نے دھیرے سے کہا،
"بیٹی... بھوک روٹی نہ ملنے سے نہیں لگتی... بھوک اس دن لگتی ہے جب اپنے ہی گھر میں انسان کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اضافی ہے۔"
عمار نے آگے بڑھ کر باپ کے ہاتھ تھام لیے۔
اس روز نہ کوئی عدالت گئی، نہ کوئی نکاح ہوا، نہ کوئی گھر بکھرا۔
صرف ایک دسترخوان پر بیٹھے تین لوگوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھنا سیکھ لیا۔
اور اس دن کے بعد اس گھر میں دہی کبھی ختم نہیں ہوئی...
کیونکہ بہو نے فریج میں دہی رکھنے سے پہلے اپنے دل میں احترام رکھنا سیکھ لیا تھا۔
رشتے روٹی سے نہیں نبھتے، عزت سے نبھتے ہیں؛ اور جس گھر میں بزرگ کی عزت کم ہو جائے، وہاں نعمتیں چاہے جتنی بھی ہوں، برکت خاموشی سے دروازہ چھوڑ جاتی ہے۔
*طلاق کیوں ہوئی؟ ایک سبق آموز حقیقت*
پچھلے سال کی بات ہے۔ ایک دوست کے گول بازار میں شاپنگ کر رہا تھا کہ اچانک اُس کی بیٹی کا فون آیا۔
بیٹی روते ہوئے بولی:
“ابو! آپ کے داماد نے مجھے فارغ کر دیا ہے، مجھے چھوڑ دیا ہے۔ فوراً آئیں اور مجھے لے جائیں۔”
یہ سنتے ہی وہ پریشانی کے عالم میں موٹر سائیکل پر گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ ذہن میں بے شمار سوالات اور دل میں طوفان تھا۔ راستے ہی میں چلتی بائیک پر اسے ہارٹ اٹیک ہوا، بائیک بے قابو ہو کر بجلی کے کھمبے سے ٹکرائی، اور وہ وہیں سڑک پر جان کی بازی ہار گیا۔
بظاہر لوگ کہیں گے کہ وقت پورا ہو گیا تھا، موت آنی تھی، آ گئی…
لیکن کیا بات صرف اتنی ہی تھی؟
کچھ نہ کچھ تو ضرور تھا جس نے ایک صحت مند انسان کو اچانک موت کے دہانے تک پہنچا دیا۔ کہیں نہ کہیں انسانی غلطیوں کا بھی حصہ تھا۔
چند دن بعد میں اُس لڑکی سے ملا اور پوچھا:
“بیٹی، تین بچوں کے ہوتے ہوئے، وہ بھی اپنے کزن شوہر کے ساتھ، بات یہاں تک کیسے پہنچی؟”
اس نے شکایات کی ایک لمبی فہرست سنائی، مگر ایک سوال کا جواب نہ دے سکی:
“تم نے خود گھر بچانے کے لیے کیا کیا؟”
ایک بات خاص طور پر میری نظر میں آئی…
اس کے ہاتھ میں ڈیڑھ لاکھ کا Apple iPhone تھا۔
کچھ دن بعد میں اُس کے سابق شوہر سے ملا، جو ایک پڑھے لکھے، باوقار اور محنتی سکول ٹیچر تھے۔
میں نے پوچھا:
“تم اتنی انتہا تک کیسے پہنچ گئے؟ بچوں تک سے جدا ہو گئے… آخر کیوں؟”
وہ خاموش رہا، پھر آنکھیں نم ہو گئیں۔
بولا:
“سر، میری دو سالیاں بہت امیر گھروں میں بیاہی گئی ہیں۔ بڑی کوٹھیاں، گاڑیاں، نوکر چاکر… جب بھی میری بیوی اُن سے مل کر آتی، گھر میں جھگڑا شروع ہو جاتا۔ ہر بات پر میری غربت کا مذاق اڑایا جاتا۔”
“میں چالیس ہزار ماہانہ تنخواہ لیتا ہوں۔ جتنا کر سکتا تھا، کیا۔ میرے پاس تین ہزار والا موبائل تھا مگر بیوی کو Apple iPhone لے کر دیا۔ پھر گاڑی کا مطالبہ ہوا، بینک لون سے گاڑی لے دی۔ پرانا فریج بیچ کر قسطوں پر نیا فریج لیا۔ پھر اے سی… وہ بھی لے دیا۔”
“لیکن اس سب کے باوجود… طعنے ہی طعنے۔”
“میں اپنی ہی نظروں میں چھوٹا ہو چکا تھا۔”
پھر اُس نے آخری ضرب کا ذکر کیا۔
“طلاق والے مہینے بجلی کا بل تیس ہزار آ گیا۔ چالیس ہزار تنخواہ میں کیا کرتا؟ دس ہزار دودھ کا بل الگ۔ اوپر سے روز کی بے جا فرمائشیں…”
“اس دن جھگڑا ہوا… اور بات طلاق تک پہنچ گئی۔”
یہ کہتے کہتے وہ رو پڑا۔
میں خاموشی سے واپس لوٹ آیا… اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ میں نے اپنی اولاد کو کم وسائل میں خوش رہنا سکھایا۔
آج وہ بیٹی اپنے بھائی کے تین مرلے کے گھر کے اوپر ایک کمرے میں رہ رہی ہے۔
نہ اوپر واش روم، نہ کچن۔ گرمی میں کمرہ تندور بن جاتا ہے۔ بچے نیچے جائیں تو بھابھی ڈانٹ کر واپس بھیج دیتی ہے۔
صرف ایک سال میں ایک جوان، خوبصورت، ہنستی مسکراتی لڑکی پچاس سال کی تھکی ہوئی عورت لگنے لگی۔
سنا ہے اب کسی پرائیویٹ سکول میں معمولی تنخواہ پر ملازمت بھی کر رہی ہے۔
🌸 سبق:
دوسروں کی چمک دمک دیکھ کر اپنے گھر کا سکون برباد مت کریں۔
ہر گھر کے حالات الگ ہوتے ہیں۔
خواہشات اگر ضرورت سے بڑھ جائیں تو محبت، عزت اور رشتے سب جلنے لگتے ہیں۔
اپنے گھر کو جنت بنائیں، مقابلے کا میدان نہیں۔
کسی کے بہکاوے میں آ کر اپنی زندگی تباہ نہ کریں۔
14/07/2026
14/02/2025
Free work shop
Booked ur seats only for ladies
04/09/2022
Asslamo Alaikum.
📣📣📣📣Bussines orientation session 📣📣📣📣
👉👉👉 For Females only 🧕🧕🧕
📣📣 First attend free session for All Details then start your own businesses from home👏👏👏👏👏
Wo khwateen jo ghar bethy apny liay Home Bussines opportunity Ka wait kar rahi hen ye opportunity un khwateen ky liay hy.
Complete guidance di jy ge All Training sessions are free.
No education
No age limits
Hard work is firsr priority.
📣📣📣📣📣📣Hmara free session attend krny ky liay abhi hm se contact kren apko session link send kr dia jy ga...
Com inbox for link
18/06/2022
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Address
Karachi
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |
| Saturday | 09:00 - 17:00 |