Republic review with zamad khan
Clarity. Perspective.🌏
Republic Review with Zamad Khan
Unveiling the truth behind politics, exploring the essence of journalism, celebrating the beauty of travel, and discovering the wonders of nature.✨
Insight.
موجودہ عالمی سیاست کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ جنگ کو صرف عسکری تصادم تک محدود نہ رکھا جائے۔ اکیسویں صدی میں طاقت کا استعمال بیانیے، اقتصادی پابندیوں اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ ایران کے تناظر میں کشمکش کو بھی اسی ہائبرڈ وار کے فریم ورک میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں Islamic Revolutionary Guard Corps کو کمزور کرنا دراصل خطے میں اثرورسوخ کے توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش سمجھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں United States کی پالیسیاں براہِ راست جنگ سے زیادہ دباؤ اور تنہائی کی حکمت عملی پر مبنی دکھائی دیتی ہیں۔
اسی تسلسل میں بعض حلقے Reza Pahlavi کو ایک ممکنہ سیاسی متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں، تاہم کسی بھی نظام کی تبدیلی کا انحصار داخلی عوامی قبولیت اور ادارہ جاتی استحکام پر ہوتا ہے، نہ کہ صرف بیرونی حمایت پر۔ توانائی کی سیاست بھی اسی طاقت کے کھیل کا حصہ ہے؛ Venezuela پر اقتصادی دباؤ اس بات کی علامت ہے کہ وسائل عالمی طاقت کے توازن میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں Pakistan اور Afghanistan کی مثال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی مفادات اور علاقائی کمزوریاں جب آپس میں جڑ جائیں تو عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ تاہم تمام تر ذمہ داری بیرونی قوتوں پر ڈال دینا سیاسی حقیقت پسندی کے منافی ہے؛ داخلی کمزوریاں بھی اتنی ہی فیصلہ کن ہوتی ہیں۔
اسی طرح Jeffrey Epstein جیسے اسکینڈلز عالمی اشرافیہ کے کردار پر سوال ضرور اٹھاتے ہیں، مگر بین الاقوامی نظام کو مکمل اور یکطرفہ کنٹرول کے نظریے تک محدود کرنا سادہ تجزیہ ہوگا۔ نظریاتی طور پر یہ سارا منظرنامہ Realism اور Neo-Imperialism کے امتزاج کی صورت دکھائی دیتا ہے، جہاں ریاستیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے براہِ راست قبضے کی بجائے معاشی اور معلوماتی غلبہ قائم کرتی ہیں۔
نتیجتاً، موجودہ کشمکش کو ایک “ذہنی اور اسٹریٹجک جنگ” کے طور پر سمجھنا زیادہ موزوں ہے، جہاں طاقت کا توازن مسلسل تبدیل ہو رہا ہے اور داخلی استحکام ہی کسی بھی ریاست کا اصل دفاع بنتا ہے۔
اب اگر ان سارے نقطوں پر غور کیا جاۓ تو یہ امریکہ کی گھٹیا ترین پالیسی کا حصہ ہے جس سے وہ ساری دنیا کو کنڑول کر کے امت مسلمہ کی ساخت کو توڑ رہی ہے ،دنیا کو آپسی کلیش میں لگا کر،چاۓ لیڈرز کو اپسٹین فاٸلز سے بلیک میلنگ ہو ،یا ملک کر قبضہ کر کے وساٸل مظبوط کرنا تانکہ اگر کوٸ ملک۔پابندی لگاۓ جیسے ایران تو انہیں مشکل درپیش نہ آۓ ۔خود اپنی من مرضی کیے جا رہی ہے تانکہ کوٸ اور اواز نہ اٹھا سکے ،ہمیں سیاسی طور پر یہ سمجھنا ہو گا اور وقت کا ساتھ دیتے ہوۓ ایران کے ساتھ کھڑأ ہونا ہو گا ،افغانستان سے امن معاہدہ کرنا کو گا ،یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔
ضماد خان
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Karachi
Karachi
75100