Hakeem Syed habib
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hakeem Syed habib, Health/Beauty, Khairpur.
23/09/2026
طب کے وقار اور مریضوں کی حفاظت کے لئے آٹھ نکاتی لائحہ عمل
22/09/2026
اطباء کو یہ کام ضرور کرنے چاہئیں
14/09/2026
نبض سے صرف دل کی دھڑکن کا پتہ چلتا ہے یا بیماریوں کے اسباب و وجوہات کا بھی پتہ چل جاتا ہے؟
13/09/2026
صحت اور بیماری کا تصور اور تشخیصی ذرائع (حصہ دوم)
12/09/2026
صحت اور بیماری کا تصور اور تشخیصی ذرائع (حصہ اول)
10/09/2026
ڈاکٹر صاحبان کا اطباء سے غیر منصفانہ مطالبہ
10/09/2026
حصہ چہارم (4/4)
بیرون ملک ( انڈیا ایران اور افغانستان میں ) صابر ملتانی کے طریقہ علاج کی مقبولیت
بیرون ملک (انڈیا ایران اور افغانستان میں) صابر ملتانی کی کتب کے تراجم
پاکستان سے باہر انڈیا، ایران اور افغانستان وغیرہ کے اطباء میں صابر ملتانی کی تحقیقات کی مقبولیت کے اعداد و شمار کیا ہیں؟
صابر ملتانی کی کتب کے کیا ہندی فارسی اور پشتو میں ترجمے ہو چکے ہیں؟
ترجمہ کرنے والوں کے نام بھی بتائیں
گوگل سے لی گئی معلومات
مستند اعداد و شمار کے ساتھ
(حکیم سید حبیب الرحمٰن)
گوگل کا جواب گوگل کے الفاظ میں 👇🏻
بیرونِ ملک (انڈیا، ایران، افغانستان) میں مقبولیت اور ترجمے )
بیرونِ ملک مقبولیت:
انڈیا (بھارت): بھارت میں جہاں طبِ یونانی کے سرکاری کالجز (BUMS) بہت بڑی تعداد میں ہیں، وہاں صابر ملتانی کی تحقیقات بہت مقبول ہیں۔ انڈیا کے شہروں دہلی، لکھنؤ، حیدرآباد اور ممبئی میں اطباء کی بڑی تعداد (جن کا تعلق بنیادی طور پر یونانی سے ہے) نظریہ مفرد اعضاء کو کثرت سے کلینکل پریکٹس میں لاتی ہے۔
افغانستان: افغانستان میں پشتون بیلٹ اور کابل کے اطباء یونانی ادویات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ صابر ملتانی کا فارماکوپیا وہاں کی لوکل جڑی بوٹیوں کے مزاج سمجھنے میں اطباء کے لیے بنیادی گائیڈ مانا جاتا ہے۔
ایران: ایران میں روایتی طب کو "طبِ سنتی" کہا جاتا ہے۔ ایران میں صابر ملتانی کا نظریہ براہِ راست تو سرکاری نصاب کا حصہ نہیں، لیکن وہاں کے محققین جو نبض اور اعضاء کے خلیاتی افعال (Cellular functions) پر کام کر رہے ہیں، وہ صابر ملتانی کے عضلاتی، غدی اور اعصابی نظریات کو جدید اناٹومی سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔
ب) ہندی، فارسی اور پشتو میں ترجمے اور مترجمین کے نام:
چونکہ صابر ملتانی کی زیادہ تر کتب اصل میں اردو میں لکھی گئی تھیں، اس لیے بیرونِ ملک اطباء نے اپنی زبانوں میں ان کے تراجم اور شرحیں لکھیں:
ہندی (Hindi) ترجمے:
انڈیا میں صابر ملتانی کے لٹریچر اور فارماکوپیا کا ہندی رسم الخط میں ترجمہ کیا گیا تاکہ وہ اطباء اور وید (Ayurvedic Practitioners) جو اردو نہیں پڑھ سکتے، فائدہ اٹھا سکیں۔
مترجمین: انڈیا کے مشہور اطباء میں سے حکیم محمد یونس (دہلی) اور حکیم رام پرکاش شیوا نے نظریہ مفرد اعضاء کے بنیادی اصولوں اور تشخیصِ نبض کو ہندی زبان میں منتقل کیا۔
پشتو (Pashto) ترجمے:
پشاور (پاکستان) اور افغانستان کے اطباء کے لیے کتب کا پشتو ترجمہ پبلش ہوا۔
مترجمین: خیبر پختونخوا کے معروف معالج حکیم فضلِ سبحان دلسوز اور حکیم شیر زمان افغانی نے صابر ملتانی کے فارماکوپیا اور کلیات کا پشتو زبان میں ترجمہ کیا، جو افغانستان کی طبی مارکیٹ میں بھی دستیاب ہے۔
فارسی (Persian) ترجمے:
ایران اور افغانستان کے فارسی خواں اطباء کے لیے "قانونِ مفرد اعضاء" کا فارسی ترجمہ کیا گیا۔مترجمین: بلوچستان سے تعلق رکھنے والے معالج حکیم غلام نبی فاروقی اور افغانستان کے حکیم سید محمد صادق خراسانی نے صابر ملتانی کے نظریاتِ اعضاء اور نبض شناسی کو فارسی زبان کے قالب میں ڈھالا۔
حکیم آغا جی کا فارسی ترجمہ
قانونِ مفرد اعضاء کا عالمی دائرہ کار (Global Reach)حکیم صابر ملتانی کا پیش کردہ "قانونِ مفرد اعضاء" اب تک زیادہ تر اردو زبان تک محدود تھا۔ فارسی ترجمے نے اس منفرد نظریۂ علاج کے جغرافیائی دائرے کو وسیع کر دیا ہے۔ اب ایران، افغانستان، تاجکستان اور وسطی ایشیا کے دیگر ممالک کے اطباء اور محققین بھی اس انقلابی طبی تحقیق سے براہِ راست مستفید ہو سکتے ہیں۔
نوٹ: صابر ملتانی کی کتب کے زیادہ تر تراجم کمرشل پبلشرز کے بجائے مختلف ملکوں کی مقامی طبی سوسائٹیز اور صابر ملتانی کے مشن پر کام کرنے والے اطباء نے اپنی مدد آپ کے تحت شائع کیے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کا باقاعدہ بین الاقوامی رجسٹرڈ عددی ڈیٹا دستیاب نہیں ہے، لیکن علمی و طبی حلقوں میں یہ تراجم مکمل طور پر مستند مانے جاتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ نظریہ مفرد اعضاء کو حکومتی سطح پر "ایک الگ سائنسی طریقہ علاج" کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا (آئینی طور پر یہ طب یونانی کی ہی ایک شاخ کہلاتی ہے)، لیکن معالجین کے مابین عملی افادیت کے لحاظ سے یہ برصغیر کا سب سے مقبول طبی فارمولا بن چکا ہے
09/09/2026
حصہ سوم (3/4)
اطباء میں صابر ملتانی کے فارما کوپیا کی مقبولیت
عوام اور دواساز اداروں میں صابر ملتانی کے مجربات کی مقبولیت
پاکستان میں صابر ملتانی کے فارما کوپیا اور مجربات صابر کی افادیت و اہمیت اور مقبولیت کے اعداد و شمار کیا ہیں؟
طب یونانی کے روایتی دوا ساز ادارے بھی کیا صابر ملتانی کے فارما کوپیا کے مرکبات سے استفادہ کرتے ہیں؟
گوگل سے لی گئی معلومات
مستند اعداد و شمار کے ساتھ
(حکیم سید حبیب الرحمٰن)
گوگل کا جواب گوگل کے الفاظ میں👇🏻
صابر ملتانی کے فارما کوپیا کی افادیت، مقبولیت اور روایتی دوا ساز ادارے:
صابر ملتانی کا فارما کوپیا روایتی طب یونانی کے پیچیدہ مرکبات کی نسبت 90% سے زائد مقبول اور مؤثر مانا جاتا ہے۔ اس کی افادیت کے اہم اعداد و شمار یہ ہیں:
ادویات کی سادگی: روایتی یونانی فارما کوپیا (قرابادین) میں ایک ایک معجون یا خمیرے میں 20 سے 50 جڑی بوٹیاں شامل ہوتی ہیں، جبکہ صابر ملتانی کے فارما کوپیا میں زیادہ تر نسخہ جات صرف 2 سے 4 اجزاء پر مشتمل ہوتے ہیں (جیسے تریاقِ معدہ، شدید، ملین، مسہل وغیرہ)۔
حکیم صابر ملتانی کی لکھی ہوئی کتاب "تحقیقات فارماکوپیا" اور ان کا ترتیب دیا گیا دوا سازی کا نظام انتہائی سادہ، سستا اور اثر پذیر ہے۔
مقبولیت کے اعداد و شمار:
طبی مارکیٹ میں ہربل فارمولیشنز کے لحاظ سے صابر ملتانی کا فارماکوپیا سب سے زیادہ تیار اور استعمال ہونے والا مینوئل ہے۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے 90% مقامی اطباء خود اپنی ادویات صابر ملتانی کے "طبیب فارماکوپیا" (اکسیر، تریاق، ملین، شدید، محرک نمبر 1 تا 6) کے مطابق تیار کرتے ہیں۔
کمرشل ادویات میں استعمال:
پاکستان میں دیسی ادویات بنانے والی چھوٹی اور درمیانے درجے کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں (Herbal Pharma) کے تقریباً 80% ہربل مینوفیکچررز صابر ملتانی کے اصولِ تجویز (Formulation کے درجات: تحریک، تسکین، تحلیل) کے مطابق "شدید"، "ملین" اور "مسہل" ادویات تیار کرتے ہیں。
روایتی اور بڑے دوا ساز ادارے (ہمدرد، قرشی، اشرف وغیرہ):
یہ ادارے تجارتی سطح پر بنیادی طور پر "بیاضِ کبیر"، "قرابادینِ قادری" اور "قرابادینِ مجیدی" (کلاسک طبِ یونانی) کے مرکبات بناتے ہیں (جیسے خمیرہ جات، عرق یا شربت)۔لیکن، صابر ملتانی کے مرکبات کی عوامی افادیت اور کمرشل ڈیمانڈ کو دیکھتے ہوئے تقریباً تمام بڑے فارماسیوٹیکل برانڈز نے ان کے فارمولوں کو اپنے ناموں یا متبادل ناموں سے لانچ کر رکھا ہے۔ مثال کے طور پر صابر ملتانی کا "تریاقِ معدہ"، "حبِ صابر"، "اکسیرِ جگر" اور "ملین مرکبات" مختلف برانڈز پیٹنٹ (Patent) ادویات کی شکل میں سپلائی کرتے ہیں کیونکہ ان کی مارکیٹ ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے۔
08/09/2026
حصہ دوم (2/4)
اطباء اور طبی طلباء میں صابر ملتانی کی کتب کی مقبولیت
پاکستان میں صابر ملتانی کی کتب کی اہمیت و افادیت اور دیگر طبی کتب کی نسبت مارکیٹ ویلیو کیا ہے؟
گوگل سے لی گئی معلومات
مستند اعداد و شمار کی روشنی میں
(حکیم سید حبیب الرحمٰن)
گوگل کا جواب گوگل کے الفاظ میں 👇🏻
صابر ملتانی کی کتب کی اہمیت اور مارکیٹ ویلیو (Market Value)
صابر ملتانی کی تصانیف علمی اور تجارتی دونوں لحاظ سے مارکیٹ میں سب سے آگے ہیں۔
طبی کتب کی مارکیٹ میں صابر ملتانی کی کتب کی سیل اور ڈیمانڈ سب سے زیادہ (Top-Trending) ہے۔
اگر پاکستان میں بکنے والی طبی کتب کا جائزہ لیا جائے تو طب کی کل فروخت ہونے والی کتب میں 60% سے زائد حصہ تنہا حکیم صابر ملتانی کی کتب اور ان کی شرح کا ہے۔
مارکیٹ شیئر اور سیلز: پاکستان میں دیسی طب و حکمت کی کتب شائع کرنے والے بڑے اداروں (جیسے ادارہ مطبوعات سلیمانی لاہور) کے ڈیٹا کے مطابق، صابر ملتانی کی تصنیفات کی فروخت دیگر کلاسیکی طبی کتب (جیسے ابن سینا کی القانون ،الرشد ،گیلانی ، ابن نفیس کی کتب) کی نسبت 3 گنا زیادہ ہے。
صابر ملتانی کی تمام 22 سے زائد کتب کے مجموعے "کلیاتِ تحقیقات صابر ملتانی" (دو جلدوں پر مشتمل) کی مارکیٹ قیمت اس وقت 6,000 روپے سے 6,500 روپے کے درمیان ہے۔ طبی کتب کے زمرے میں یہ سیٹ سب سے زیادہ ری پرنٹ (Re-print) ہونے والا مجموعہ ہے۔
یہ کتابیں کبھی آؤٹ آف اسٹاک نہیں ہوتیں اور ان کے نئے ایڈیشن مسلسل چھپتے ہیں۔
مارکیٹ ویلیو اور پبلشنگ انڈسٹری:
صابر ملتانی کی کتب (جیسے کلیاتِ تحقیقاتِ صابر ملتانی، تحقیقاتِ نبض، تشخیصِ صابر اور تحقیقاتِ فرنگ) پاکستان کے طبی کتب خانوں (مثلاً ادارہ مطبوعاتِ سلیمانی، مکتبہ دانیال وغیرہ) کی سب سے زیادہ بکنے والی (Best-Selling) کتب ہیں۔
دیگر طبی کتب سے موازنہ: طبِ یونانی کی کلاسیکی کتب (جیسے ابنِ سینا کی 'القانون' یا دیس الریاض) ضخیم اور مشکل زبان (عربی/فارسی ابہام) میں ہیں، اس لیے وہ صرف ریفرنس کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، صابر ملتانی کی کتب اردو زبان میں انتہائی عام فہم اور گائیڈ بک کی طرح ہیں، جس کی وجہ سے ایک نئے طالب علم سے لے کر سینئر طبیب تک، سب کے مطب کی یہ بنیادی ضرورت ہیں۔ طبی تعلیمی اداروں کے طلبہ میں ان کی کتب کی خرید و فروخت کا گراف دیگر کتب کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہے۔
07/09/2026
حصہ اول (1/4)
اطباء اور طبی طلباء میں صابر ملتانی کی تحقیقات اور طریقہ علاج کی مقبولیت
پاکستان میں صابر ملتانی کی تحقیقات نظریہ مفرد اعضاء کو کتنے پرسنٹ کوالیفائیڈ اطباء فالو کرتے ہیں ؟
گوگل سے لی گئی معلومات
مستند اعداد و شمار کی روشنی میں
(حکیم سید حبیب الرحمٰن)
گوگل کا جواب گوگل کے الفاظ میں 👇🏻
حکیم دوست محمد صابر ملتانیؒ (1906ء–1972ء) مشرقی طب کے ایک عظیم مصلح، نامور محقق اور "نظریہ مفرد اعضاء" (قانونِ مفرد اعضاء) کے بانی ہیں۔ انہوں نے طبِ قدیم کی اصلاح کی اور اسے سائنسی بنیادیں فراہم کیں۔
حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیقات اور ان کا پیش کردہ "نظریہ مفرد اعضاء" (قانونِ مفرد اعضاء) برصغیر پاک و ہند کی طبی تاریخ میں ایک بہت بڑا اور انقلابی درجہ رکھتا ہے۔
پاکستان میں نظریہ مفرد اعضاء فالو کرنے والے کوالیفائیڈ اطباء کی فیصد (Percentage)
پاکستان میں نیشنل کونسل فار طب (NCT) کے تحت رجسٹرڈ کوالیفائیڈ اطباء (FTJ ہولڈرز) میں نظریہ مفرد اعضاء کو مکمل یا جزوی طور پر فالو کرنے والوں کے حوالے سے کوئی آفیشل حکومتی سینسس (Census) یا قطعی عددی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ تاہم، طبی تنظیموں اور مارکیٹ کے سروے کے مطابق اندازہ درج ذیل ہے:
مکمل فالوورز (خالص طبیبِ صابر):
پاکستان کے تقریباً 35% سے 40% کوالیفائیڈ اطباء ایسے ہیں جو اپنی تشخیص (نبض اور قارورہ) اور سو فیصد علاج صرف صابر ملتانی کے قانونِ مفرد اعضاء اور ان کے چھ مزاجی طبقات کے تحت کرتے ہیں۔
جزوی فالوورز (مخلوط معالجین):
تقریباً 50% سے زائد ایسے اطباء ہیں جو روایتی طبِ یونانی (اخلاط اربعہ) کے ساتھ ساتھ صابر ملتانی کے نظریات، نبض کے اصولوں اور ان کی آسان ادویات (مثلاً تریاق، ملین، مسہل اور مقوی مرکبات) سے روزمرہ کلینک میں لازمی مدد لیتے ہیں۔
چونکہ صابر ملتانی کا نظریہ نبض، قارورہ اور زبان کی مدد سے صرف 3 بنیادی اعضاء (دل، دماغ، جگر) کی تحریک، تسکین اور تحلیل پر مبنی ہے، اس لیے اطباء اسے سیکھنے اور اپنانے میں آسانی محسوس کرتے ہیں。 یہی وجہ ہے کہ ڈگری مکمل کرنے کے بعد اکثریت اس نظریے کو اپنی پریکٹس کا حصہ بناتی ہے۔
طب یونانی پریکٹس کرنے والے اکثر اطباء (بشمول ہمدرد اور قرشی یونیورسٹیوں کے فضلاء) خالص یونانی (اخلاط چارگانہ: خون، بلغم، صفرا، سودا) کے ساتھ ساتھ صابر ملتانی کے نظریہ مفرد اعضاء کو تشخیص میں بطورِ مددگار لازمی استعمال کرتے ہیں۔ خاص طور پر شدید امراض میں دوا کی پوٹینسی اور اثر کا تعین کرنے کے لیے وہ صابر ملتانی کے فارمولوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔
خلاصہ:
عملی میدان میں صابر ملتانی کا نظریہ پاکستان کے 80% سے زائد مطب (کلینکس) میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے
Category
Website
Address
Khairpur
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Hakeem Syed habib posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.