Matab Alkashaf
This page is about Herbal Medicine
By the grace of Allah
Proper & best resu
12/07/2025
زیتون کا تیل اور انجیر – قرآن کی دو مبارک نعمتیں
اللہ تعالیٰ نے سورہ التین میں دو خاص نعمتوں کا ذکر فرمایا:
وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ
قسم ہے انجیر اور زیتون کی۔
یہی نہیں، بلکہ جدید سائنسی تحقیق بھی ان دونوں اشیاء کو صحت کے لیے بے حد مفید قرار دیتی ہے۔
آج ہم آپ کے ساتھ عرب ممالک میں صدیوں سے آزمودہ ایک نسخہ شیئر کر رہے ہیں، جو نہ صرف آسان ہے بلکہ جسمانی طاقت، جوڑوں، ہڈیوں اور نظامِ ہضم کے لیے بے حد مفید ہے۔
✨ زیتون کا تیل اور انجیر کا نسخہ – طریقہ استعمال
📌 طریقہ اول: روزانہ تازہ انجیر والا نسخہ
ایک گلاس لیں اور اس میں 75٪ زیتون کا تیل ڈالیں۔
عصر کے وقت اس میں تین عدد خشک انجیر ڈال دیں۔
اسے ڈھک کر رات بھر چھوڑ دیں۔
فجر کے بعد نہار منہ یہ تینوں انجیر کھا لیں۔
پھر دوبارہ عصر کو تین نئی انجیر ڈال دیں، اور اگلے دن فجر کے بعد وہ کھا لیں۔
اس عمل کو کم از کم 1 مہینہ جاری رکھیں۔
📌 طریقہ دوم: انجیر بھگو کر محفوظ کرنے والا نسخہ
ایک صاف شیشے کی بوتل یا جار لیں۔
اس میں آدھا کلو خشک انجیر ڈالیں۔
اوپر سے ایک لیٹر زیتون کا تیل بھر دیں۔
ڈھکن مضبوطی سے بند کریں اور 15 دن کے لیے کسی خشک، روشنی والی مگر دھوپ سے محفوظ جگہ پر رکھ دیں۔
15 دن بعد روزانہ صبح نہار منہ 1 سے 3 انجیر کھائیں، اور کچھ دیر بعد ناشتہ کر لیں۔
🌟 اس نسخے کے حیرت انگیز فوائد:
✅ وٹامن D کی قدرتی فراہمی
✅ جوڑوں، گھٹنوں، پٹھوں اور ہڈیوں کا درد ختم
✅ اٹھتے وقت جوڑوں کا کڑکنا کم ہو جائے گا
✅ آنتوں کی صفائی اور نظامِ ہضم کی بہتری
✅ اندرونی زخموں کو بھرنے میں مددگار
✅ شوگر، کولیسٹرول اور دمہ کے مریض بھی استعمال کر سکتے ہیں
✅ طاقت، توانائی، جلد اور بالوں کے لیے بھی مفید
🔖 اہم بات:
یہ نسخہ سنت کے مطابق اور سائنسی اعتبار سے بھی موثر ہے۔ اللہ پاک نے ان دونوں نعمتوں کا قرآن میں ذکر کر کے ان کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ اس لیے ان کا استعمال صرف جسمانی نہیں، بلکہ روحانی طور پر بھی برکت کا باعث ہے۔
🛑 نوٹ:
ہر چیز میں اعتدال ضروری ہے۔ روزانہ زیادہ مقدار نہ کھائیں۔ اگر آپ کسی خاص بیماری یا دوا پر ہیں تو طبی مشورہ ضرور لیں۔
✅ یاد رکھیں:
جب دوا اور دعا ایک ساتھ ہوں، تو شفا قریب آ جاتی ہے۔
08/07/2025
Signs that your heart is... see more
پیدل چلنا اور حرکت میں رہنا دل کی صحت کے لئے کتنا مفید ہے یہ تحریر پڑھیں۔👇
میڈیکل سائنس میں پنڈلیوں کے عضلات، خاص طور پر کیلف مسلز (Calf Muscles) کو اکثر "Peripheral Heart" یا "Second Heart" کہا جاتا ہے، کیونکہ؛
یہ پٹھے خون کو نیچے سے اوپر، یعنی دل کی طرف واپس دھکیلنے میں مدد دیتے ہیں۔
جب ہم چلتے ہیں یا حرکت کرتے ہیں تو یہ پٹھے سکڑتے اور پھیلتے ہیں، جو رگوں پر دباؤ ڈال کر venous return کو بہتر بناتے ہیں
اس طرح خون کی گردش کو فروغ دیتی ہے۔رگوں میں خون کے جم جانے (venous stasis) کو روکتی ہے، جو خطرناک clots (جیسے DVT – Deep Vein Thrombosis) سے بچاؤ میں مددگار ہے۔
خاص طور پر لمبے وقت تک بیٹھنے والے افراد کو حرکت میں رہنے کا مشورہ اسی لیے دیا جاتا ہے۔
روزمرہ کی معتدل جسمانی سرگرمی جیسے واکنگ، سیڑھیاں چڑھنا، ہلکی ورزش دل کی صحت بہتر بناتی ہے۔بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھتی ہے۔
دل کے دورے اور اسٹروک کے خطرے کو کم کرتی ہے۔
مزید نئی تازی آپ ڈیٹ کیلئے لائک کمنٹس اور فالو ضرور کریں بہت شکریہ
31/03/2025
Really Heart Touching
ایک بچّہ دس روپے لے کر پُلاؤ والے کے پاس آیا،جیسے ہی وہ ریڑھی کے قریب پہنچا، ایک دبلا پتلا لڑکا، جو شاید مالک کا نوکر تھا، سخت لہجے میں بولا:
"کیا چاہیے؟"
بچّے نے ہمت مجتمع کرکے آہستگی سے کہا:
"دس روپے کا پلاؤ دے دو۔"
لڑکے نے حیرت سے اُس کے ہاتھ میں پڑے دس روپے دیکھے اور اُسے سر سے پیر تک گھور کر ہنسا۔
"دس روپے میں اب کچھ نہیں ملتا، جاؤ یہاں سے۔"
بچّہ تھوڑا سا پیچھے ہٹ گیا۔ اس کی آنکھوں میں یوں لگا جیسے آنسو جھلملانے کو ہیں، مگر اُس نے گھبرا کر آس پاس دیکھا کہ کہیں کوئی مذاق نہ اُڑائے۔ اُسی لمحے میں، میں بھی پُلاؤ خریدنے کے ارادے سے پہنچا تھا۔ میرا جی چاہا کہ اُس بچے کی مدد کروں۔ چاہا تو یہی کہ میں خود آگے بڑھ کر اپنا بٹوا کھولوں اور اسے کہیں زیادہ چاول دلا دوں، لیکن عجیب سے حجاب کے باعث میری زبان لڑکے کو روکنے کے لیے پکارنے سے قاصر تھی۔ میں بس ہمت کر کے اتنا کہہ پایا کہ
"اِسے دے دو، پیسے میں دے دیتا ہوں۔"
مگر اچانک پیچھے سے ایک نرم اور بارُعب آواز ابھری:
"ہم بچے سے پیسے لے کر اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہیں۔"
یہ آواز پُلاؤ والے مالک کی تھی۔ درمیانی قدوقامت، ہاتھ میں ایک ڈوئی اور آنکھوں میں حوصلہ افزا مسکراہٹ۔ وہ اُجلا کُرتا پہنے تھا جس کے سامنے سینے پر ہلکی سی سالن کی چھینٹیں پڑی ہوئی تھیں۔ وہ آگے بڑھا اور اس نے خود اپنے ہاتھوں سے اُس بچّے کے ہاتھ سے دس روپے کا پرانا سا نوٹ لیا۔ پھر نہایت پیار اور دلجمعی سے شاپر میں چاول ڈالتا چلا گیا۔ اُسی دیگ میں سے دو تین چھوٹی سی بوٹیاں بھی نکال کر اس میں رکھ دیں اور شاپر کو مضبوطی سے بند کیا۔
"اچھا سنو،" مالک نے اُسے پیار سے بُلایا، "یہ لو سلاد بھی لے جاؤ۔"
بچّہ حیرانی اور تشکر سے تک رہا تھا۔ اُس کے ہونٹ خاموش تھے لیکن آنکھیں بول رہی تھیں۔ وہ شاپر کو دونوں ہاتھوں سے سینے سے لگا کر یوں تھامے کھڑا تھا جیسے اس میں گویا دنیا کی تمام خوشیاں قید ہوں۔ مالِک نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اس کی آنکھوں میں پھنسے آنسو چھلکنے کو آئے، لیکن وہ بچہ شاید اپنی آنسوؤں کو قوت بنا کر مضبوط بننا چاہ رہا تھا۔ وہ دُکھتا ہوا دل، جس میں جینے کے ہزار اندیشے تھے، اُس لمحے جیسے سکون سے بھر گیا۔
میں نے بھی حیرانی سے پوچھ ہی لیا:
"مہنگائی کے اس دور میں دس روپے کے چاول کیسے دے دیتے ہو؟"
پُلاؤ والے نے ہلکا سا قہقہہ لگایا، مگر اس قہقہے میں کوئی تکبر یا نمود نہ تھی، بس ایک عجیب سی گہری اُداسی اور مہر و محبت کی جھلک تھی۔ کہنے لگا:
"بچّے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں صاحب! میرے پاس پانچ روپے لے کر بھی آتے ہیں۔ انہیں تو انکار کرتے ہوئے زبان کانپنے لگتی ہے۔ اب دیکھیں، پانچ روپے تو بعض اوقات شاپر کی قیمت بھی پوری نہیں کرتے، سلاد تو دور کی بات ہے۔ لیکن ہر جگہ منافع نہیں دیکھنا چاہیے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ میں جس دن ان غریب بچوں کو پکا سا کھانا کھلا دیتا ہوں، مجھے لگتا ہے رب کے ہاں میری نمازیں قبول ہو رہی ہیں۔"
اس نے بات کے دوران اپنی بڑی دیگ کی طرف اشارہ کیا جس میں سے لذیذ خوشبو اُٹھ رہی تھی۔ دیگ کے اندر ہلکی ہلکی سی چھوٹی بوٹیاں بھی نظر آرہی تھیں، جو بچوں کی آس تھی۔ کہنے لگا:
"یہ چھوٹی چھوٹی بوٹیاں بچّوں کے لیے ہی رکھتا ہوں۔ اگر میں ہر چیز کو نفع اور نقصان کے ترازو پر تولوں گا تو دل کا سکون کھو دوں گا۔"
ایک لمحہ کو مجھے لگا جیسے وقت تھم سا گیا ہے۔ اطراف کی شور شرابے سے بھری دنیا، مہنگائی کا رونا روتے دکاندار، بڑوں کی طنزیہ باتیں، سب کچھ پس منظر میں چلا گیا۔ سامنے بس ایک ہنستا مسکراتا بچہ نظر آیا جسے امیدِ زندگی کی ایک کرن مل گئی تھی۔
مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ بچہ آہستہ آہستہ اپنے شاپر کو سنبھالتا ہوا وہاں سے چل پڑا۔ میں نے ارادہ کیا کہ دیکھوں تو سہی کہ وہ کہاں جاتا ہے۔ میں چپکے سے اُس کا پیچھا کرنے لگا۔ تھوڑی دُور جا کر وہ گھِسے ہوئے جوتوں کے ساتھ ایک تنگ و تاریک گلی میں داخل ہو گیا۔ وہاں چاروں طرف پرانی اور شکستہ دیواریں تھیں۔ قدم قدم پر گندگی کے ڈھیر اور بکھرا ہوا کچرا۔ مگر اُس بچے کی رفتار میں تیزی تھی، جیسے اُسے جلدی ہو کہ کہیں کوئی انتظار کر رہا ہو۔
کچھ فاصلے پر جا کر اُس نے ایک بوسیدہ لکڑی کا دروازہ دھکیلا جو چرچراتے ہوئے کھلا۔ اندر جھانک کر دیکھا تو وہاں ایک چھوٹا سا صحن تھا، جس کے کنارے پر ایک نہایت ضعیف خاتون زمین پر آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی، اور ایک نحیف و نزار سی لڑکی تھی جو شاید بچّے کی چھوٹی بہن تھی۔ اُن کی نظریں دروازے پر تھیں کہ جیسے کسی معجزے کے انتظار میں ہوں۔
بچہ اندر داخل ہوا تو ضعیف خاتون نے پوچھا:
"تم لے آئے؟"
وہ بچہ خوشی سے شاپر لہرایا اور مسکراتے ہوئے گویا ہوا:
"ہاں دادی، لے آیا! دیکھو، دو بوٹیاں بھی ہیں اس میں!"
دادی نے مغموم مگر پُرسکون نگاہوں سے اُسے دیکھا۔ یوں لگا جیسے انھیں یقین نہ آیا ہو کہ دس روپے میں یہ سب کچھ ممکن ہے۔ بچّی نے اونچی آواز میں سبحان اللہ کہہ کر شاپر کو ایک دم تھام لیا۔ پھر دادی نے لرزتے ہاتھوں سے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور کہا:
"بڑا کروبار کرے وہ پلاؤ والا! جب تک جیے گا، خوشیاں ہی دے گا۔"
اچانک گلی میں اُس پلاؤ والے کی ریڑھی کی گھنٹی کی آواز مجھے دور سے سنائی دی۔ مجھے خیال آیا کہ شام ڈھل رہی ہے اور شاید وہ ریڑھی والا کسی دوسرے علاقے میں جا رہا ہوگا۔ میں نے دل میں ایک خوشی کی لہر محسوس کی کہ چلیں کم از کم ایک ایسی جگہ تو ہے جہاں مہنگائی کی آندھی انسانیت کی شمع کو بجھا نہ سکی۔
یہاں کہانی کو مزید تجسس نے اُس وقت گھیرا جب میں نے دوسری طرف سے کسی پُراسرار سایے کی جھلک محسوس کی۔ گلی کے ویران گوشے میں ایک آدمی تاریکی میں رُکا ہوا تھا۔ اس نے مجھے محسوس کرلیا کہ میں اس گھر کے اندر جھانک رہا ہوں۔ اُس کی نگاہیں مجھ پر جمی تھیں۔ مجھے ڈر سا محسوس ہوا کہ شاید وہ کوئی نوسرباز یا کوئی ایسا شخص ہو جو معصوم بچوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ دل میں خوف نے گھر کیا اور میں نے ہچکچاہٹ سے قدم پیچھے ہٹائے۔
پھر اس کے قدم بھی ہلے۔ وہ سایہ دار شخص دھیرے دھیرے میری طرف بڑھنے لگا۔ میں ہمت مجتمع کر کے کھڑا رہا، مبادا کسی برا کام کرنے والے کو موقع نہ دوں۔ جب وہ میرے قریب آیا تو ایک باریش بوڑھا نکلا، جس کی آنکھوں میں نمی اور آواز میں تھرتھراہٹ تھی:
"بیٹا جی، ڈرئیے مت، میں ان بچوں کو جانتا ہوں۔ اُن کے ماں باپ کو بہت پہلے کھو چکے ہیں۔ میں بوسیدہ مکانوں میں پھیری لگا کر چھوٹی موٹی چیزیں بیچتا ہوں اور کبھی کبھار اِن کی چادر، کپڑے کے لئے مدد کر دیتا ہوں۔ بس لوگ دیکھ کر بھی دیکھتے نہیں، نظر انداز کر دیتے ہیں۔"
میں نے سکون کی سانس لی۔ اس نے مجھے بتایا کہ پلاؤ والے کی ریڑھی کسی نعمت سے کم نہیں۔ وہ اکثر شام کے وقت اِن گلیوں سے ہو کر جاتا ہے، اور جن لوگوں کے پاس چند سکے بھی نہیں ہوتے، انہیں وہ کبھی کبھی مفت بھی کھانا دے جاتا ہے۔ وہ بوڑھا آدمی نمناک لہجے میں کہنے لگا:
"یہ بچہ روز کسی نہ کسی طرح چند روپے جمع کر کے آتا ہے، تاکہ اپنی دادی اور بہن کے ساتھ کھانا بانٹ سکے۔"
اُس بوڑھے نے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنی ٹوپی ٹھیک کی اور آہستہ آہستہ واپس اندھیرے میں لوٹ گیا۔ میں وہیں کھڑا بے یقینی سے سب سوچتا رہا۔ دنیا میں کتنے ہی لوگ ہیں جو معمولی عمل کو عظیم صدقہ بنا سکتے ہیں، مگر اکثر ہم صرف منافع کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں۔
شام مزید ڈھل چکی تھی۔ مجھے یوں لگا جیسے آسمان پر جھومتے بادلوں کے درمیان ایک چھوٹی سی چاندنی پھوٹ رہی ہے جس نے گلی کے اوپر مدھم سی روشنی بکھیر دی ہے۔ میں نے ایک بار پھر اُس پُلاؤ والے کی طرف دیکھنے کی کوشش کی تو وہ جا چکا تھا۔ لیکن اس کی آواز، اُس کے دیگ کے کھولتے چاولوں کی خوشبو، اُس کی مسکراہٹ اور بچوں کے معصوم چہروں کی وہ لمحاتی خوشی جیسے میری روح میں بس گئی۔
یہ سارے مناظر زہن کے پردے پر رک گئے تھے۔ مجھے سمجھ آ گئی کہ زندگی کی اصل قیمت کسی بڑے سرمائے، کسی نفع نقصان سے نہیں جُڑی، بلکہ یہ اِس بات سے جُڑی ہے کہ ہم اپنے حصے کا پیار اور سکون دوسروں تک کس طرح بانٹ سکتے ہیں۔ شاید ہمارے اردگرد کتنے ہی بچے ہوں گے جو دس روپے تو کیا، اکثر نوالے سے بھی محروم ہیں۔ یہ پُلاؤ والا اس گھٹن زدہ دور میں ایک ایسی شمع کی طرح تھا جو خدا کی محبت کا پیغام پھیلا رہا ہے۔
میں نے ایک گہری سانس لی اور آہستہ آہستہ وہاں سے نکل گیا۔ میری نگاہوں کے سامنے بار بار اس بچّے کا چہرہ آتا، جو دس روپے ہاتھ میں دبائے ہوئے ڈرا ڈرا سا آیا، اور ایک محبت بھرا شاپر لے کر پورے اعتماد کے ساتھ لوٹا۔ اس لمحے مجھے یقین ہوگیا کہ سچ میں، بعض لوگوں کے دل ’چاول بیچنے‘ کی مشین نہیں، بلکہ دوسروں کو سہارا دینے والے جذبوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ وہ جذبے جو ہمیں اندھیرے میں روشنی دکھاتے ہیں اور کسی پلاؤ کی خوشبو سے بھی بڑھ کر ہمارے وجود کو خوشیوں سے مہکا دیتے ہیں۔
اس طویل دن کے بعد جب رات آئی تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کہیں دور سے کسی بچے کی ہنسی گونج رہی ہو، اور اس کے پیچھے ایک کرم کرنے والی ہستی کی آواز:
"بچّوں کے لیے کیسی مہنگائی؟ بچّے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔"
یہی آواز اُس پُلاؤ والے کا حقیقی پیغام تھی، جو شاید ہمارے سماج میں امیدِ نو کی علامت ہے۔
22/01/2024
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Lahore