HMD

HMD

Share

فنون لطیفہ ، فلسفہ حیات ،کھلتی زندگی روشن چہرے

29/05/2025
Photos from HMD's post 23/04/2023

مسلسل اور پیہم مطالعہ قوموں کی ذہنی نشونما کے لیئے بے حد ضروری ہوتا ہے۔لیکن اگر بد قسمتی سے تسلسل کا یہ سلسلہ کسی امر خارجی کی وجہ سے ٹوٹ جائے تو اس قوم کی صحت افزا معاشرتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہو جاتی ہیں ۔
نوجوانوں کے خالی ذہن بھٹکنے لگتے ہیں ۔جس کے پہلا نتیجہ تو یہ نکلتا ہے کہ گمراہ کرنے والا ہر فتنہ نوجوانوں کو اپنا نجات دہندہ نظر آتا ہے۔
مملکت خداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ہر نبض شناس یہاں اس مرض کی تشخیص کرتا ہے آئیے آج آپ کو اس ناسور کا دیدار بھی کروا دیں ۔ذیل میں دی گئی تصاویر پاکستان کی ایک تاریخی عمارت خالق دینہ ہال میں قائم لائبریری کی ہیں ۔
لہذا اس کے نتائج بھی آپ کو اس قوم کے ہر گوشے زندگی میں نظر آرہے ہیں

14/04/2023

اقبال نے کہا تھا
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
زن کے رنگ کو آج کی جدیدیت کا زنگ کھا گیا ہے
ورنہ عورت مکمل انسان ہے ایک پراڈکٹ یا ملکیت نہیں

Photos from HMD's post 27/11/2022

Awesome

Photos from HMD's post 27/11/2022

ذوق شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے

Photos from HMD's post 24/11/2022

تخلیق

Photos from HMD's post 23/11/2022

Create ideas learn new

21/11/2022

تنگ کانگ۔۔۔۔
( ستونت کور )

2007 میں نیدرلینڈز کے "روٹرڈیم چڑیا گھر" میں Bokito نامی ایک گوریلے نے کچھ یوں کیا کہ دور سے بھاگ کر پوری قوت سے چھلانگ لگائی اور پنجرے کی دیوار سے متصل پانی کی کھائی کو عبور کر کے دیوار پے چڑھا اور وہاں موجود ایک خاتون کو اٹھا کے زمین پر پٹخا پھر اسے پکڑ کر گھسیٹا ہوا کئی میٹر دور تک لے کر گیا اور پھر اسے اپنے دانتوں سے بری طرح سے بھنبھوڑنے لگا ۔۔۔ جس کے باعث اس خاتون کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور جسم پر دانتوں کے سو سے زیادہ زخم آئے ۔
پھر بوکیٹو ایک ریسٹورنٹ میں گھس گیا اور وہاں اس نے 3 بندوں کا کُٹاپا کیا ۔
آخر کار اسے ٹرینکولائزر گن کی مدد سے بیہوش کرکے واپس پنجرے میں پہنچایا گیا اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔
انکوائری پر معلوم ہوا کہ جس خاتون پر بوکیٹو نے حملہ کیا تھا وہ کئی ماہ سے یہ رویہ اپنائے ہوئے تھی کہ ہفتے میں دو تین مرتبہ چڑیا گھر جاتی اور بوکیٹو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے گھورتی تھی ، اور اس پر مسکراتی تھی۔۔۔ چڑیا گھر ملازمین نے اس خاتون کو منع بھی کیا کہ ایسے مت کرو کیونکہ گوریلا برادری میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گھورنا کسی کو للکارنے کے مترادف ہے یعنی گوریلے ایک دوسرے سے لڑنے سے قبل ایک دوسرے کو آنکھوں میں جھانک کر چیلنج کرتے ہیں ۔
لیکن اس خاتون نے ملازمین کی ایک نہ سنی اور بوکیٹو کو بار بار تنگ کرتی رہی ۔۔۔ یہاں تک کہ وہ اتنا تنگ ہوا کہ "تنگ کانگ" بننے پر مجبور ہوگیا ۔
بوکیٹو اب بھی زندہ ہے اور اس کی عمر 26 سال ہے !!

#ستی

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Lahore