Enjoyment

Enjoyment

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Enjoyment, Beauty, cosmetic & personal care, Lahore.

23/10/2025

for by Professional Massage Boy Therapist

08/02/2025

کشمیری ڈاکٹرنی

وہ میری بیوی کی سہیلی تھی اور بیرون ملک میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شادی کرکے دو بچوں کی ماں بن گئی تھی۔ مگر شوہر، جو خود بھی ڈاکٹر تھا، کے ساتھ اسکا نباہ نہیں ہورہا تھا۔ وہ خود تو بیرون ملک چلا گیا تھا اور اس کو دو بچوں کے ساتھ اپنی جوائنٹ فیملی میں، جس میں اس کے والدین اور کئی بھائی اور ان کی بیویاں, بہنیں شامل تھے، چھوڑدیا تھا۔ گو کہ وہ لیڈی ڈاکٹر تھی، مگر سسرال والے اس کو نوکری یا پریکٹس کرنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ انہی حالات میں وہ دو بچوں کو لیکر ہمارے پاس ممبئی رہنے آئی۔ کچھ عرصے کے بعد اس نے ایک نرسنگ ہوم میں کام کرنا شروع کیا، پاس کی ایک لوکیلیٹی میں دوکمروں کا ایک سیٹ کرائے پر لیا اور بچوں کےلئے ایک آیا کو بھی ملازم رکھ لیا۔ نام بتایا تو بھول ہی گیا۔ اس کا نام عمارہ تھا۔ وہ بہت زیادہ خوبصورت تو نہیں تھی، مگر جسم بھرا بھرا گھٹا سا، مگر بلکل گورا چٹا تھا۔ اتنا گورا کہ جیسے کوئی یوریپین خاتون ہو اور ہاتھ لگاتے ہی میلا نہ ہوجائے۔ چہرہ لمبوترہ تھا، مگراس کے دونوں پٹ کشمیری سیب کی طرح لال اور چمکیلے تھے۔

جتنے دنوں وہ ہمارے گھر پر مقیم تھی، مجھے کبھی اس میں کوئی سیکس اپیل نظر نہیں آئی، یا تو میں خود اتنا مصروف تھا کہ اس کے جسم کو پوری طرح تول نہیں پایا۔ اس دوران ایک دن لنگوٹیا یار وسیم اپنی بیوی کے ساتھ کشمیر سے وارد ہوا۔ عمارہ تو ہر روز ہی ہمارے گھر آتی جاتی تھی۔ وسیم نے توجہ دلائی کہ اس ڈاکٹرنی کی گانڈ تو کافی موٹی ہے، ڈوگی پوزیشن میں تو اس کے خاوند کے مزے آتے ہونگے۔ میں نے رات کو یہ بات بیوی کو بتائی، تو اس نے کہا کہ ہاں اسکول و کالج میں بھی اس کی گانڈ کے چرچے ہوتے تھے۔ وسیم اور اس کی فیملی تو چلی گئی تھی، مگر کچھ عرصے بعد میں نے محسوس کیا کہ عمارہ جب مجھے گھر پر دیکھتی تھی، تو اپنا فراک یا قمیض غیر ارادی طو پر بار بار نیچے کرکے شاید گانڈ چھپانے کی کوشش کرتی تھی۔ میں نے جب اس کا ذکر اپنی بیوی سے کیا، تو اس نے کہا کہ اس نے عمارہ کو بتایا تھا کہ وسیم نے اس کے بارے میں کیا کمنٹ کیا تھا۔ خیر ایک دن میں ہمت کرکے اس کو ایس ایم ایس (واٹ ازاپ ابھی شاید نہیں آیا تھا) کرکے ہیلو کیا۔ اس نے دیر رات جواب دیا۔ میں نے پوچھا کہ آج کل آپ کم ہی ہماری طرف آتی ہیں۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اگلے دن اس کا مسیج دیکھا کہ ’’مردوں کی نظریں جب بھٹنکنے لگ جائیں، تو دور رہناہی بہتر ہوتا ہے۔‘‘ خیر نام و پیام کا سلسلہ کئی ماہ تک چلتا رہا۔ اسی دوران کئی بار اس سے ملاقات بھی ہوئی۔ وہ اکثر اپنے بچوں اور ملازمہ کو ہمارے ہاں چھوڑتی تھی، جب اسکو اسپتال جانا ہوتا تھا۔ ایک بار اس نے ہماری دعوت بھی کی تھی۔ اس کا فلیٹ بس ایک لور مڈل کلاس لوکلٹی میں تھا۔ ممبئی میں جگہ کی تنگی کا جن کو اندازہ ہوگا، ان کوپتہ ہوگا کہ اچھی لوکلٹی میں مکان ملنا کس قدر مشکل اورمہنگا ہوتا ہے۔ اس کے صرف بیڈ روم میں ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی،جہاں سے دن میں روشنی اندر آتی تھی۔ باقی لیونگ کم ڈرائینگ روم اور کچن میں دن میں بھی اندھیرا ہوتا تھا۔ لائٹ آن ہی رکھنی پڑتی تھی۔ ایک روز اتوار کو کیا موڈ آگیا، میں انے اس کو مسیج کیا، کہ کہاں اور کیسی ہو؟ اس نے جواب دیا کہ وہ گھر پر ہی ہے۔ میں کہا کہ ملنے کا جی کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ میں شام کو آپ کے گھر آرہی ہوں۔ میں نے پوچھا کہ ایسے تو ملاقاتیں ہوتی ہی رہتی ہیں، ایک ملاقات کیا اکیلے میں نہیں ہوسکتی ہے؟۔ بس میں اور تم۔۔۔ ایک بھر پور نظر۔۔اور کچھ نہیں۔۔پہلے اس نے کہا کہ کسی شاپنگ مال میں ملتےہیں۔ مگر میں نے جب کہا کہ وہاں کوئی ملنے والا ہمیں دیکھ کر بات کا بتنگڑ بنا سکتا ہے، تو وہ گھر پر ملنے کےلئے راضی ہوگئی۔

چند منٹ کے بعد اس کا مسیج آگیا۔۔"اچھا ایک گھنٹہ کے بعد میں، آیا اور بچوں کو آپ کے گھر بھیج رہی ہوں۔ ان کو بتاوں گی اسپتال میں ایمرجنسی آگئی ہے۔ " یہ ایک گھنٹہ کیسے گذر گیا، لگ رہا تھا کہ صدیاں بیت رہی ہیں۔ میں نے گھر پر بتایا کہ کسی دوست سے ملنے جارہا ہوں ۔ ویسے مجھے یقین نہیں تھا کہ سیکس ہو پائے گا، مگر پھر بھی نہ جانے کیوں میں نے باتھ روم جاکر لنڈ کی خوب صفائی کی، اسکو کلون اور سینٹ سے خوب سجایا۔ ایک گھنٹہ کچھ زیادہ ہی ہوگیا تھا، جب میں نے بالکونی سے اسکی آیا اور بچوں کو آتے ہوئے دیکھا۔ میں جلدی تیار ہوکر باہر آگیا، وہ سیڑھیوں سے اوپر آرہے تھے۔ اس کی آیا نے مجھے دیکھتے ہی کیا کہ میم صاحب کو اسپتال سے کال آگئی اور ہم کو بتایا ہے کہ اس کے آنے تک یہیں رہیں۔ میں نےعمارہ کی عقل کی داد دی۔ راستے میں ایس ایم ایس کی ٹون پھر آگئی۔ میں نے دیکھا مسیج تھا کہ ’’باہر کا دروازہ کھلا ہے، اس لئےگھنٹی یا دروازہ وغیرہ نہ بجاوں۔ سیدھے دورازہ کھول کر اندر آجاوٗں۔‘‘ بیل پڑوسیوں وغیرہ کو الرٹ کرتی ہے۔ میں نے یہ نصیحت گانٹھ میں بھر لی اور بلڈنگ میں داخل ہوگیا۔ اس کا دوکمروں کا سیٹ گراونڈ فلور پر ہی تھا۔ میں دروازہ کو ہاتھ لگایا، وہ کھلتا گیا۔ میں نے اس کی جب چٹکی لگائی، تو دیکھا کہ گھپ اندھیرا تھا۔ لائٹ چلی گئی تھی۔ چونکہ میں باہر دھوپ سےسیدھے اندر آگیا تھا، مجھے تو کچھ بھی نظر نہی آرہا تھا۔ بس اس کے بیڈ روم کے پردے کی درز سے ہلکی سی روشنی آرہی تھی۔

دروازہ لاک کرنے کے بعد، جب چند قدم چلا، تو ٹن کی ایک زبردست آواز آئی۔ میری ٹھوکر سے سٹیل کا جگ اور گلاس نیچے گر گیا تھا۔۔میں نے کہا، یہاں کچھ بھی نظر نہیں آرہا ہے۔ بس ایک اندھے کی طرح ہاتھوں کو ہلا ہلا کر محسوس ہوا کہ بیڈ روم سے کوئی ہیولا سا میری طرف آگیا ہے۔ وہ عمارہ تھی، اور کہہ رہی تھی کہ پندرہ منٹ قبل ہی لائٹ چلی گئی ہے۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے روشنی کی طرف لے جانے کی کوشش کی، کہ میں نے اسکو بازوں میں جکڑ کر اس کے ماتھے پر بوسہ ثبت کیا۔ وہ نا نا کرتی گئی، میں بوسوں کو رفتار بڑھاتا گیا۔ ماتھے کے بعد میں نے اس کے گالوں کو چوما۔ دونوں طرف کے کانوں کی لوں کو چوسا۔ اس کی ناک کو ہاتھ سے ہلایا اور اسکو منہ میں لیا۔ اس کی مزاحمت اب ختم ہو چکی تھی۔ میں نے انگلی اس کے ہونٹوں پر پھیری۔ اب آنکھیں اندھیرے میں تھوڑا تھوڑا دیکھنے کی عادی ہو چکی تھی۔ اس نے اپنے ہونٹوں کو کھول کر انگلی اندر جانے دی۔ میں نے اس کے لال اور پتلے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ ثبت کرکےان کو چوسا اور پھر زبان سے ان کو کھول کر اس کو اندر داخل کرکے اس کی زبان سے کھیلنے لگا۔ وہ اپنی زبان بالرضا و رغبت دے رہی تھی۔ اس نے میری زبان کو بھی چوسا اور اپنی زبان بھی میرے منہ میں داخل کی، جس کو میں خوب چوسا۔

میں نے اسکو گود میں اٹھانے کی کوشش کی، کہ اس کا فراک یا قمیض اوپر سرک گیا اور نیچے اس کے سفید پاجامے کا نارا نظر آرہا تھا۔ میں نے اسکو جھٹکے سے جونہی کھنچا۔ کہ پاجامہ اس کے پیروں کے پاس گر گیا۔ اس سے قبل وہ اس کو دوبارہ کھنچ لیتی میں نے اپنا پیر پھنسا کر اسکو باہر نکال کر اس کی برف جیسی سفید ٹانگوں کو ہاتھوں میں اٹھا کر اور دوسرا ہاتھ اس کی کمر کے گرد ہالہ کرکے اسکو بیڈ روم میں پہنچادیا۔ وہاں کافی روشنی تھی۔ ایک دیوار کے ساتھ بیڈ کے بجائے دو گدے ایک دوسرے کے اوپر رکھے ہوئے تھے۔ وہ بیڈ اور صوفے کا کام کرتے تھے۔ میں نے اسکو ایک طرح سے اس گدے پر پھینک کر اس کے اوپر چڑھ کر اس کے فراک کے اندر ہاتھ لیجاکر اس کو اتارلیا۔ اس نے اندر سے لال برا پہنی ہوئی تھی۔ جس کا ہک اسنے خود ہی اتارا اور اسکو نکالنے کےلئے میں نے اسکی مدد کی۔ اس دوران میں نے اپنے آپ کو بھی کپڑوں کی قید سے آزاد کردیا۔ میرا بالوں سے بھرا سینہ اس کے بوبس سے ٹکرا رہا تھا۔ اس کے بوبس بلکل ماڈلوں جیسے تھے۔ گھریلو عورتوں کی طرح بوبس لٹکے ہوئے نہیں تھے۔ بوبس اوپر کی طرف اٹھے تھے اور نپلز بھی اوپر کی طرف تھیں، جس سے ان کو منہ میں لینا آسان ہورہا تھا۔ لگتا تھا کہ اس نے چھوٹی عمر سے ہی برا پہننا شروع کی ہوئی تھی، جس سے وہ پھر پور شیپ میں تھیں۔ ورنہ عام طور پر گھریلو لڑکیاں دیر گئے برا پہننا شروع کردیتی ہیں، تب تک انکے بوبس لٹک گئے ہوتے ہیں۔

میں نے انگلی چوت کی طرف لیجاکر محسوس کیا کہ اس نے بھی خوب صفائی کی ہوئی تھی۔ بالوں سے پاک صاف و شفاف چوت کے آس پاس پانی ہی پانی تھا۔ میں نے اپنی ٹانگوں کو اس کی ٹانگوں کے درمیان پھنسا کر ان کو ایک دوسرے سے دور کردیا اور اپنےپیاسے اور استادہ لنڈ کو پوائنٹ پر لے جاکر ایک ہی جھٹکے میں اندر داخل کردیا۔ لنڈ اس کی چوت کی تہوں کی اتھاہ گہرایوں میں پہنچ گیا۔ اس نے آنکھیں بند کر کے رکھی ہوئی تھی۔ میں نے اس کے سفید بوبس کو پریس کیا اور پھر اس کے پنک نپلز کو منہ میں چوسنا شروع کیا۔ میری زبان کبھی اس کے منہ میں اس کی زبان کے مزے لے رہی تھی، تو کھبی اس کے بوبس اور نپلز کو دریافت کر رہی تھی۔ اس دوران میں نے پہلے آہستہ اور پھر تیز جھٹکئے دینے شروع کئے۔ اس مے منہ سے جلد ہی اوو، اا، اا کی آوازیں نکلنا شروع ہوگئیں۔ زور زور سے مارو، زور سے میرے یار۔۔۔میرے یار۔۔وہ کہہ رہی تھی۔ کہاں تھے اب تک میرے یار۔۔بہت مزا آرہا ہے۔۔۔ میرے دھکوں سے چپ چپ کی آوزیں بلند ہو رہی تھی۔ اس کا کافی پانی بہہ رہا تھا۔ اسی دوران پانی کا ایک بڑا سا ریلہ آگیا اور چند سیکنڈوں میں اس نے پہلے تو اپنی ٹانگوں کو زور زور سے حرکت دینی،پھر ہاتھوں سے گدے کے شیٹ کو مسلنا شروع کر دیا۔ اس کا جسم اکڑ رہا تھا۔ اسی کے ساتھ اس نے مجھے بھینچ کر اوو اوو آٓٓآ آ ٓ اوو ای ای ای اووو کی آوازیں نکالیں اور اس کی ساتھ اس کا جسم نرم پڑ گیا۔ وہ جیسے ایک لاش کی طرح بازو دونوں طرف کرکے بیڈ پر خاموش ہوگئی۔ تھوڑی دیر کے بعد ہوش میں آکر پوچھا کہ میں نکل گیا ہوں کیا؟ میں نے کہا، مجھے نکلنے میں ٹائم لگتا ہے اور ابھی میں نے اصل سیکس کیا ہی نہیں، یہ تو ٹرائی بال تھی۔

اس نے کہا اسی لئے تو میں سیکس کرنے کےکئے تیار ہوگئی۔ تمہاری بیوی سے ٹائمنگ کے بارے میں بہت سنا ہے۔ میرے شوہرامجد کا انزال تو بس چند سیکنڈ میں ہوتا ہے۔ یعنی موڈ بس بنتا ہی ہے کہ وہ نکل جاتا ہے اور پھر ہاتھ لگانے سے وہ چڑ جاتا ہے۔ بعد میں اس نے بتایا کہ اس کی سیل کالج کے ہی ایک ہم جماعت نے توڑی تھی، مگر وہ بھی چند سیکنڈ کے بعد ہی فارغ ہوگیا تھا۔ دوسری بار اس سے سیکس کرنے کی نوبت نہی آئی۔ امجد سے جب شادی ہوئی اور دیکھا کہ وہ بھی ایک یا دو جھٹکوں کے بعد فارغ ہوتا تھا، تو سوچا کہ شاید سیکس کا نام ہی عورت کی تشنگی ہے۔ ‘‘ جب تمہاری بیوئ نے کئی بار بتایا کہ تم اس کے ساتھ رات بھر سیکس کرتے ہو، اسی لئے جب تم نے ٹھرکی پن دکھایا، تو میں نے بھی سوچا کہ چلو کچھ تجربہ ہوجائے۔" میں تو اس کے اوپر ہی لیٹا تھا اور بیچ بیچ میں اسکو کس بھی کررہا تھا۔ اس نے کہا وہ تھک چکی ہے اور پانی وغیرہ پینا چاہتی ہے۔ میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس نے کپڑوں کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ میں نے ان کو دور پھینک کر کہا، نو نو کوئی کپڑے نہیں۔ مگر اس نے کہا اس کو شرم آتی ہے، کم از کم ڈوپٹے سے جسم تو ڈھکنے دو۔ ڈوپٹہ لپیٹ کر وہ پہلے باتھ روم پھر کچن کی طرف روانہ ہوگئی۔ لائٹ آچکی تھی۔ کچن میں اس نے گیس پر چائے بنانے کےلئے پانی رکھا۔ میرا لنڈ تو نیم استادہ تھا اور میں اس کے پیچھے کچن میں پہنچا اور ڈوپٹہ اٹھا کر اس کو اس کی گانڈ میں فٹ کرنے لگا۔ میں نے کہا کہ اب تو اصل مزا مجھے لینا ہے۔ تمہاری گانڈ تو اتنی مشہور ہے۔ اس نے کہا ، ہاں مجھے معلوم ہوا تمہارا دوست میری گانڈ پر کمنٹ کررہا تھا۔

چائے ہم نے ایک ہی کپ میں پی لی۔ کبھی وہ ایک سپ لیتی تھی، پھر میں اسی جگہ پر ہونٹ پھنسا کر سپ لیتا تھا۔ کبھی وہ منہ میں چائے کا گھونٹ ڈالتی تھی تو میں اپنے ہونٹ اس کے ہونتْوں کے ساتھ لگا کر وہ چائے اپنے منہ میں منتقل کرتا تھا۔ اسی طرح چند منٹ یہ کھیل چلتا گیا۔ اس دوران میں دوبارہ استادہ ہوگیا تھا اور وہ بھی دوبارہ موڈ میں آچکی تھی۔

اس نے مجھے پہلے باتھ روم جاکر لنڈ کو صاف کرنے کےلئے کہا۔ واپسی پر اس نے لنڈ ہاتھ میں کر زبان کی نوک سے ٹٹوں کا مزا لیا ور پھر اس کو اوپر کی طرف لیجاتے ہوئے لنڈ کے سر پر اسکو پھیر ہونٹوں کے بیچ لنڈ کو پھنسا کر منہ میں لیا۔ وہ زبان لنڈ کے نیچے اوپر پھیر رہی تھی اور ہونٹوں سے اس کو چوس رہی تھی۔ چھ انچ کے لنڈ کا بیشتر حصہ اس کے منہ میں تھا ور اس کے ہاتھ ٹٹوں کو سہلا رہے تھے۔ لنڈ اس کی تھوک سے تر ہو چکا تھا۔ اب میں نے اسکو ڈوگی پوزیشن میں گدوں کے سرے پرگھٹنوں کے بل بیٹھنے کو کہا۔ واقعی اس کی گانڈ کا کوئی جواب نہیں تھا، وسیم کی نظروں کی داد دینی پڑی۔ سفید، برف جیسی ابھری ہوئی گانڈ۔ مقعد کا سوراخ بہت ہی چھوٹا ، پن کے سر کی طرح کا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ اس سوراخ کو ابھی تک استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے چوت کے سوراخ سے پانی بہہ رہا تھا۔ اس کا کلی ٹورس نہایت واضح تھا۔ میں نے زبان کی نوک اس پر لگائی، تو وہ تڑپ اٹھی۔ میں نے زبان اوپر کرکے اس کو چوت کے اندر گھسا دیا۔ اس کی نوک سے مقعد کو کھولنا چاہا، مگر اس نے اس طرف کچھ کرنے سے منع کردیا۔ میں نے واپس زبان اس کی چوت کے اطراف میں ہی پھیرنا شروع کردی۔ بیچ بیچ میں جب میں کلی ٹورس کو منہ میں لیتا تھا تو وہ تڑپ کر ہوو ہوو کی آوازیں نکالتی تھی۔

اب میں کھڑا ہوگیا اور استادہ لنڈ کی قسمت پر رشک کرکے اسکو ہاتھ میں لیکر اس کےچوت کے سوراخ کے اوپر فٹ کردیا۔ دنوں ہاتھوں سے اس کے چوتڑ کے پاٹوں پر ہاتھ مار کر، لنڈ کو زور سے اندر گھسا دیا، وہ چوت کی گیلی دیوارں سے رگڑ کھاتا ہوا اندر چلا گیا۔ کیا نظارہ تھا۔ اوپر کو اٹھے ہوئے چوتڑ کے پاٹ۔ ان کا رنگ بلکل ایسا تھا جیسے دودھ میں شہد گلا ہوا ہو۔ دھکے مارتے ہوئے لنڈ کو اندر باہر کرتے ہوئے دیکھنا اور پھر اس کے چوتڑوں کو دیکھنا ایک بے مثال نظارہ تھا۔ میں کبھی بے قابو ہو کر لنْڈ باہر نکال کر اس کے چوتڑوں پر بوسوں کی بوچھار کرکے ان پر زبان پھیرتا تھا۔ مگر اس کو بس دھکوں میں دلچسپی تھی۔ میرے دھکوں کے جواب میں وہ گدے کا شیٹ مسلتی تھی۔ اوو اووو آ ٓٓآ آ آ ای ای ای عو عو کی آوازیں نکال رہی تھیں۔ اس دوران وہ دوبار فارغ ہوگئی۔ میں بھی اب اپنے کلامکس پر پہنچ رہا تھا۔ ایک دو زور دار دھکے مار کر میں نے لنڈ باہر نکالا اور اس کی گانڈ پر منی بکھیرنے لگا۔ وہ کہہ رہی تھی اس کے سیف دن ہیں اور اندر چوت میں ہی منی نکال دوں، مگر اس وقت کوئی بات سننے کا کس کو ہوش تھا۔ ویسے بھی میں تو اس کی گانڈ اور چوتڑوں کا دیوانہ تھا۔ میں نے پورا مال اس کی گانڈ اور چوتڑوں پر بکھیر دیا۔ کئی منٹ تک میں نکلتا رہا۔ سانسیں درست کرنے کےلئے میں پاس کے صوفہ نما کرسی پر ڈؑھیر ہوگیا۔

جب ہوش آیا، تو دیکھا کہ وہ باتھ روم میں نہا رہی تھی۔اس نے کہا تم نے میری پوری باڈی گندی کردی۔ باہر نکل کر اس نے کپڑے پہنے۔ چند منٹ بعد میں بھی باتھ روم میں گیا اور کپڑے پہن لئے۔ اس دوران اس نے دوبارہ چائے تیار کی تھی۔ چائے کا ایک اور کپ پی کر میں روانہ ہوگیا۔ وہ گدے کے اوپر شیٹ تبدیل کرنے لگی۔ گدے کی ایسی حالت تھی، جیسے اس پر ہاتھیوں کی جنگ ہوئی ہو۔ اس نے کہا کہ گھر پہنچ کر اس کی مسیج کروں ، تاکہ وہ آیا کو اطلاع دے کہ وہ گھر آچکی ہے اور بچوں کے ساتھ واپس آجائے۔ اگلے کئی اتوار کی دوپہر اسی طرح میں نے اس کی چدائی کی۔ وہ بچوں اور آیا کو ہمارے گھر بھیجتی تھی اور میں اس کے گھر پہنچ جاتا تھا۔ ایک روز میں دیر رات تک آفس میں تھا، ممبئی میں بارش کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ درہم برہم تھا، اس کا فون آگیا کہ کیا میں اس کے نرسنگ ہوم کی طرف سے آکر اس کو بھی گھر تک لفٹ دوں۔ سیکس کے اندھے کو کیا چاہئے، بس میں نے حامی بھر لی، مگر کہا کہ اس کی فیس دینی پڑے گی۔ اس نے ہنستے ہوئے فون بند کردیا۔ شاید رات دس بجے کا وقت ہوگا کہ میں نے گاڑی اس کے نرسنگ ہوم کی طرف موڑ دی، وہ میرے گھر کے راستے میں ہی آتا تھا۔ پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرکے میں اندر گیا۔ وہاں سناٹا تھا۔ بارش کی وجہ سے چونکہ معمولات زندگی شہر میں درہم برہم تھے، وہاں کوئی مریض نہیں تھا۔ وہ اپنے کیبن میں ہی تھی۔ اس نے کہا کہ اس کا دوپہر کا شفٹ تھا۔ مگر بارش کی وجہ سے ٹیکسی و میٹرو کی عدم موجودگی کہ وجہ سے نکل ہی نہیں سکی اور پھر رات والے ڈاکٹر کا فون آگیا، کہ وہ بھی نہیں آپائے گا۔ چونکہ کوئی مریض بھی نہیں تھا، اس لئے کل صبح تک کی چھٹی کی گئی۔

جب وہ مجھے دیکھ کر کھڑی ہوگئی، تو میں نے اس کو گلے لگا کر اسکے کیبن میں ہی کسنگ کرنی شروع کر دی تھی۔ اس کے ساتھ باتیں بھی کر تے جار رہے تھے۔ جب میں نے اس کو بیڈ پر لٹانے کی کوشش کی۔ اس نے بتایا کہ ’’اس سے اچھی جگہ یہاں موجود ہے اور تمہارے موافق بھی ہے۔‘‘ اس نے لیبر روم کا دووازہ کھولا، جہاں حاملہ عورتوں کو معائنہ اور انکو فارغ کیا جاتا ہے۔ لیبر کا بیڈ تولگتا ہےکہ واقعی فکنگ کےلئے ہی بنایا گیا ہے۔ پتہ نہیں اس کا ڈئزاین بیڈ رومز کی زینت ابھی تک کیوں نہیں بن پایا ہے۔ ایک تو اس کا بیک لیور سے ایڈجسٹ ہوتا ہے۔ یعنی عورت لیٹ کر یا نیم لیٹ کرآرام سے بیٹھ سکتی ہے۔ پھر اس کے دو سائڈ میں پیروں کے ریسٹ کےلئے اسی طرح جگہ ہوتی ہے کہ گھٹنے اوپر کی طرف اور ٹانگیں ایک دوسرے کے ساتھ کافی دور ہو جاتی ہیں۔ چوت کا سوراخ تو بلکل واضح نظر آتا ہے۔ اس کے بلکل اوپر ایک فلیش لائٹ ہوتی ہے، جس کو آن کرنے سے چوت اور اس کے اطراف کی تمام تہیں نظر آتی ہیں۔ کیا نظارہ ہوتا ہوگا، ڈاکٹروں کےلئے۔ چونکہ ٹانگیں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں، پیروں کو بھی ریسٹ ہوتا ہے۔ بیڈ کا کنارہ چوت کے پاس ہی ختم ہو جاتا ہے تاکہ ڈاکٹر کو بچے کو باہر نکالنے کےلئے اچھی اسپیس مل سکے۔ مجھے بچہ باہر تو نکالنا نہیں تھا، بلکہ اپنے تڑپتے ہوئے لنڈ کو اندر گھسانا تھا۔ میں نے پینٹ اتار کر پھینک دیا اور فلیش لائٹ آن کرکے لنڈ کو اس کی چوت کے اوپر پھیرنے لگا۔ پھر اس کے کلی ٹورس کو منہ میں لیکر اس کو چوس کر زبان چوت کے سوراخ کے اندر داخل کردی۔

لنڈ کو دوبارہ ہاتھ میں لیکر اس کے کلائی ٹورس پر پھیرکر اس کو اوپر نیچے کرنے لگا۔ اس کی چوت سے ٹپ ٹپ پانی رسنا شروع ہو گیا تھا۔ پوری جگہ کافی گیلی ہو چکی تھی۔ میرے لنڈ سے بھی مزی کے قطرے نمودار ہوکر میرے لنڈ کو تر کر رہے تھے۔ میں اس کی ٹانگوں کے بیچ میں کھڑا تھا۔ اور میرا لنڈ اس کی چوت اور اس کے آس پاس ٹھوکے مار رہا تھا۔ میں نے اس کے مقعد کے پن ہول جیسے سوراخ کی طرف لنڈ کو لے جانے کی کوشش کی، مگر اس نے اس کو ہاتھ میں پکڑ کر دوبارہ چوت کے سوراخ کے پاس پہنچا دیا۔ اور نیچے سے ایک زور دار دھکے کے ساتھ اسکو چوت کی تہوں کے اندر گھسا دیا۔ میں نے بھی دھکا مار کر اس کو مزید اندر پہنچا دیا۔

چار یا پانچ زور دار دھکوں کے بعد ہی اس نے آاااا اووو اووو ای ای ای ای ای کی آوازیں نکالنا شروع کردیں اور ہاا ہاا ہاا ہاا کرکے اپنے آرگزم کا اعلان کردیا۔ چند سیکنڈ بعد ہوش میں آکر بولی کہ تم بھی جلدی نکلو۔ بہت دیر ہو گئی ہے۔ میں نے اس کو ڈوگی پوزیشن میں بیٹھنے کےلئے کہا۔ یہ لیبر بیڈ تو ویسے فیس ٹو فیس کےلئے موزوں ہے، وہ بھی مرد کھڑا ہوکر اگر فکنگ کرے۔ مگر تجربہ کرنے میں کیا قباحت تھی۔ ڈوگی پوزیشن میں اوپر سے لائٹ جب اسکے شہد اور دودھ جیسے چوتڑوں سے ریفلیکٹ ہورہی تھی، تو اس کا نظارہ ہی کچھ اورتھا۔ لائٹ اس کے مقعد کے گلابی سوراخ کو چمکا رہی تھی۔ میں نے اس کے کلائی ٹورس کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کیا۔ زبان اس کے چوت کے اندر تک لے کر گیا، جہاں تک جا سکتی تھی۔ زبان کی نوک سے اس کے مقعد کے سوراخ کے آس پاس کھوجنا شروع کیا۔ اس بار اس نے مزاحمت نہیں کی۔ تھوڑی ہمت کرکے زبان سے اس کے مقعد کے سوراخ کو کرید کر اس کو اندر لے گیا۔ اس کے مسلز نہایت ہی سخت تھے اور وہ زبان کو اندر داخل نہیں ہونے دے رہے تھے۔ خیر میں نے سوچا کہ آج اتنا کافی ہے، اس سوراخ سے لنڈ کو کسی اور وقت بہرور کروادوں گا۔

میں نے اس نےچوتڑوں پر اپنے ہونٹ گھسیٹ کر منہ اپنا صاف کرکے کھڑا ہوگیا۔ بیڈ کے اوپر کی فلیش لائٹ سے اسکا چوت بھی جگمگا رہا تھا۔ اس کے اوپر پانی کے ذرات نظر آرہے تھے، جو ڈراپ کی شکل میں نیچے گر رہے تھے۔ میں نے لنڈ سوراخ کے پاس پہنچاکر ایک زور دار دھکا دیکر اسکو اندر کر دیا۔ میرے ٹٹے اس کے کلی ٹورس سے ٹکرا رہے تھے۔ میری رانیں اس کی برف جیسی سفید رانوں سے ٹکرا کر آوازیں پیدا کر رہی تھی۔ چوت اور لنڈ کا ملن چت چت کی آوازیں پیدا کر رہی تھیں۔لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی پورن فلم چل رہی ہے اور میں خود اس کا کردار ہوں۔ چوت، مقعد، گانڈ، سب کچھ اس طرح واضح نظر آرہا ہے۔ اور پھر ان کے اند لنڈ کی حرکات، اس نظارے کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اسی حالت میں اس نے بیڈ کی چادر کو ہاتھوں سے مسلنا شروع کر دیا، یعنی اس کا آرگزم آرہا تھا۔ میں نے بھی منی کی پچکاری اس کے چوت کے اندر ہی بہا دی۔ خاصی دیر تک ہم دونوں اسی حالت میں رہے۔

کئی ایک منٹ کے بعد میں نے نیم استادہ لنڈ کو باہر نکالا اور باتھ روم کی طرف چلا گیا۔ وہ بھی اس دوران کھڑی ہوگئی اور کپڑے پہننے لگی۔ یہ ایک ایسی فکنگ تھی، جو کو میں کبھی بھول نہیں سکتا ہوں۔ ہماری ریلیشن شپ کا ڈراپ سین جلدی آگیا۔ اس یادگار فکنگ کے بعد میں نے ایک بار اس کے ساتھ دوبارہ سیکس کیا۔ پھر ایک دن میں آفس میں تھا کہ اس کا مسیج آگیا کہ وہ بات کرنا چاہتی ہے۔ میں نے فون لگایا وہ انتہائی غصے میں تھی۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ اس نے کہا کہ "عورت کا استعمال کرتے ہو، تو اس کی عزت کرنا بھی سیکھو۔" کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ خیر بڑی مشکل سے یہ معلوم ہوا کہ میرے دوست وسیم نے اس کو مسیج کیا ہے۔ یاد آیا کہ چند روز قبل وسیم کا فون آیا تھا اورباتوں باتوں میں عمارہ اور اس کی گانڈ پر بات نکل پڑی۔ جیسا میں نے اسٹوری کے شروع میں ہی بتایا کہ اسی نے مجھے عمارہ کی گانڈ کی طرف توجہ دلائی تھی۔

شیخی میں ، میں نے اسکو بتایا کہ میں گانڈ کا مزا لے چکا ہوں۔ پہلے تو اس کو یقین نہیں آیا، جب میں تھوڑی تفصیلات بتائی، تو وہ پیچھے پڑا کہ اس کی بھی سفارش کراوں۔ مجھے معلوم تھا کہ عمارہ کو وسیم کے کمنٹس کے بارے میں معلوم ہے۔ مگر کسی گھریلو عورت کو یہ کہنا کہ اس کے دوست کے ساتھ بھی سیکس کرے، یہ تو ناممکن بات ہے۔ میں نے یونہی وسیم کو ٹالنے کےلئے ہاں تو بھر لی، مگر معلوم تھا کہ بیل منڈھے چڑھ نہیں سکتی ہے۔ وسیم کے مسیج سے اس کو شک ہوگیا تھا کہ میں نے اس کے ساتھ شیرکیا ہے ۔ بس وہ آگ بگولہ تھی۔ اس نے کہا کہ "تم نے مجھے رنڈی سمجھ رکھا ہے، کہ مجھے اپنے دوستوں کے سامنے پھینک دو۔ آئیندہ کبھی مجھے مسیج یا فون نہیں کرنا۔ ورنہ میں تمہاری بیوی کو ہی نہیں، بلکہ پورے خاندان کو تہمارے ٹھرکی پن کے بارے میں بتا کر بدنام کردوں گی۔‘‘ میں نے اس کو ٹھنڈا کرنے کی بہت کوشش کی، مگر کافی گال گلوچ اور غصہ کے بعد اس کے فون رکھ دیا۔ اگلے دن میں نے سوچا کہ اس کا غصہ تھوڑا کم ہو گیا ہوگا، فون کرنے کی کوشش کی، وہ بند آرہا تھا۔ دو دن بعد رات گئے گھر آکر دیکھا کہ گدے، جس پر میں نے اس کی چدائی کی تھی، ہمارے لیونگ روم ، کچھ دیگر سامان کے ساتھ پڑے ہوئے ہیں۔ میری بیوی نے بتایا کہ عمارہ واپس سرینگر جار رہی ہے، اس کو وہاں کے کسی اسپتال میں نوکری مل گئی ہے اور سسرال والوں نے اس کو پریکٹس کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس کا پیچ اپ ہو گیا ہے۔ اس نے اپنا فون نمبر بھی بدل دیا۔ اس کےبعد کبھی بھی ڈاکٹر عمارہ کے ساتھ رابط نہں ہوا۔ سرینگر جاکر ایک بار میں اس کے والد کے گھر گیا، جہاں وہ مقیم تھی۔ اس کے والد کو چونکہ معلوم تھا کہ ممبئی میں ہم نے اس کو خوب مدد کی تھی، اس نے میری خوب آو بھگت کی۔ عمارہ ہی چائے و دیگر لوازمات لے کر آگئی، مگر کوئی بات نہیں کی۔

یہ میری زندگی کے لیے ایک بڑا سبق تھا۔ دیگر احباب کےلئے بھی ایک سبق ہے، جب ایک عورت اپنا سب کچھ آپ کےحوالے کرتی ہے، تو آپ کا بھی فرض بنتا ہے کہ اس کی پرائیوسی کا خیال کرکے شیخی میں اپنے دوستوں کے سامنے اس کو ننگا نہ کریں۔ اس کا بھی مان رکھیں۔ اس کہانی میں نام وغیرہ تبدیل کئے گئے ہیں، باقی یہ ایک سچا سبق آموز واقعہ ہے۔ یہ واقعہ اس لئے بھی یاد آگیا کہ چند ہفتے قبل جب میں گھر لوٹا تو دیکھا کہ ایک اٹھارہ انیس سال کی ایک لڑکی گھر پر ہے۔ بیوی نے تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ عمارہ کی بیٹی ہے اور جب تین چار سال کی ہوتی تھی، تو یہاں اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ بارہویں کرنے کے بعد اس کا ممبئی کے کسی کالج میں ایڈمیشن ہو گیا ہے اور چند دن ہمارے ساتھ رہ کر ہوسٹل شفٹ ہو جائیگی
Jo Female Massage our Private Enjoyment karna chahti hai o inbox mein rabta kare……

29/07/2024

Come to inbox please…

25/05/2023

آنٹی کے ساتھ مزے

میرا نام شاہد ہے 25 سال کا جوان
یہ تب کی بات ہے جب میں نیا ینا جوان ہوا تھا اور میٹرک کا امتہان دے کر فارغ ہوا تھا میں فریش تو
تھا پر تب تک بہت ساری چوتوں کا مزہ لے
چکا تھا اور مُٹھ تو روزانہ کا کام تھا ھی- امتہان کے فوراً بعد میرے کزن کی شادی آ گیء تھی اور ھم مہ فیملی گاوءں چلے گۓ – اور وہاں شادی پر خوب ھلہ گلا کیا – گاؤں میں میرے انکل زمان بھی اپنی فیملی کے ساتھ لا ہور سے گاؤں آۓ ھوۓ تھے – اور اُن کا لڑکا آصف میرا ہم عمر تھا اور وہ بھی میری طرح فری تھا-چنانچہ شادی کے ھلے گلے میں اُ س نے پوری طرح میرا ساتھ دیا – جس کا رزلٹ یہ نکلا کہ شادی کے اختتام تک ھم بڑے اچھے دوست بن چکے تھے چنانچہ شادی کے بعد اس نے اور اُس کے ساتھ ساتھ زمان انکل اور اُن کی بیگم ندا آنٹی نے بھی مجھے اپنے ساتھ لاہور چلنے کی آفر کی اور بولے تم آج کل فری ہو چلو تم کو لاہور کی سیر کرواتے ھیں کچھ ہچکچاہٹ کے
بعد میں اس شرط پر راضی ہوا کہ گھر والوں سے اجازت آپ لیں گے اور یہ کام اُنہوں نے بڑی آسانی کر لیا – اور اس طرع میں شادی کے فوراً بعد ان کے
ساتھ لاہور چلا گیا
اسی دن صبع کو ہم گاوں سے چلے تو رات کو ہم لاہور پہنچ گۓ ان کا گھر کافی اچھا خوب صورت اور دو منزلہ تھا جہاں انکل اور آنٹی گھر کے گراءونڈ فلور پر رہتے تھے جبکہ آصف اوراس کی بڑی بہن آسیہ گھر کے فرسٹ فلور پر رہتے تھے – میں نے وھاں خوب انجواۓ کیا اور انہوں نے تھوڑے ھی
دنوں میں مجھے لاہور کی کافی سیر بھی کروا دی۔
ایک دن با توں باتوں میں آصف بولا یار پتہ نہیں کیوں آج صبع سے ہی مجھے دادا دادی بڑے یاد آ ر رہے ھیں اس پر آسیہ بولی یار آصف تم نے تو میرے منہ کی بات چھین لی ہے قسم سے میرا بھی بڑا جی کر رہا تھا ان سے
ملنے کو اور پھر بیٹھے بیٹھے ان دونوں کا وہاں جانے کا پروگرام بن گیا- اسی دوران ان کو میرا بھی خیال آ گیا اور انہوں نے مجھے بھی ساتھ
چلنے کو کہا لیکن پتہ نہیں کیوں میرا وھاں جانے کا مُوڈ نہ بنا سو میں نے ان کے ساتھ وہاں جانے سے صاف انکار کر دیا – تب آصف نے مجھ سے پوچھا کے ھمارے
جانے کے بحد تم اُوپر اکیلے سو جاوء گے ؟ تو میں نے جواب دیا کہ میں
اکیلا نہیں سو سکتا کہ اکیلے میں مجھے ڈر لگتا ھے اس پر ںدا آنٹی
بولی کوئ بات نہیں اگر تم کو ڈر لگتا ھے تو تم ھمارے ساتھ والے رُوم میں
سو جانا
سو اس طرح اُس رات میں آنٹی کے ساتھ والے روم میں سویا ۔
اس کمرے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کمرے اور آنٹی کے کمرے کا باتھ روم مشترکہ تھا- اب میں آپ کو ندا آنٹی کا تھوڑا سا تعارف کروا تا ہوں ۔ ندا آنٹی گورے رنگ کی ایک بھرے بھرے جسم کی مالک خاتون تھئ قد اچھا تھا اور گانڈ اور ممے بہت بڑے تھے- غرض یہ کہ آنٹی ایک چلتی پھرتی قیامت تھی لیکن اس سے قبل نا انہوں نے نا میں نے کھبی ایک دوسرے کو ایسی نطروں سے دیکھا تھا پر وہ دیکھنے میں مجھے ہمیشہ ہی بڑی اچھی لگتی تھی خاص کر ان کی موٹی گانڈ پر میں دل و جان سے فدا تھا ۔۔وہ بھی دل ہی دل میں ورنہ ان کے سامنے ایسی کوئ بات نہ تھی – ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ آدھی رات کا وقت تھا کہ مجھے بڑے زور سے پیشاب کی حاجت محسوس ہوئ اور میری آنکھ کھل گئ اور
میں اس پریشر کو ریلز کرنے کے لیۓ فوری طور پر واش روم چلا گیا اور
جیسے ھی میں واش روم میں داخل ھوا مجھے آنٹی کے روم سے پلنگ کی
چرچراہٹ اور سسکیوں کی مخصوص آوازیں سنائ دیں ان آوازوں سے میری
بڑی اچھی شناسائ تھی اور میں سمجھ گیا کہ اندر آنٹی انکل کا چودائ سین چل رہا ہے چنانچہ جیسے ہی میرے کانوں نے یہ آوازیں سنی
میں پیشاب کرنا بھول گیا اور اگلے ہی لمحے میں ان کی چودائ کا منظر دیکھنے کے
لیۓ ان کے روم کی طرف بڑھا اور جیسے ھی میں نے آنٹی کے روم کے
دروازہ پر ھاتھ رکھا تو خوش قسمتی سے وہ تھوڑا سا کھلا ھوا تھا ۔
اندر کا منظر دیکھ کر میرا جی خوش ھو گیا کہ منطر ھی بڑا دلکش تھا ندا
آنٹی فل ننگی پلنگ پر لیٹی تھی اور اس کےاوپر انکل زمان چڑھے ھوۓ تھے اور وہ آنٹی
کے موٹے موٹے ممے چوس رہے تھے اور ساتھ ساتھ ان کی ایک انگلی آنٹی کی چوت میں بھی
گھوم رہی تھی کچھ دیر بعد انہوں نے آنٹی کا نپل اپنے منہ سے باہر
نکلا اور انھوں نے آنٹی کے موٹے ممے اپنے دونوں ھاتھوں میں
پکڑ لیۓ اور انکو زور زور سے پریس کرنے لگے – اس کے ساتھ ھی آنٹی نے اور اونچی آوازوں
میں کراہنا شروع کر دیا آہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔زور سے
دباؤ نا میری جان ۔۔۔۔۔۔۔۔مزہ آ۔۔۔رہا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورآنٹی کی یہ مست آوازہں سن کر انکل مزید
زور سے آنٹی کے ممے دبانے لگے ۔۔۔
کچھ دیر تک انکل ایسے ھی کرتے رہے پھر وہ اٹھے اور پلنگ پر لیٹ کر بولے
” “ندا اب تم میرا لن چوسو” جون ہی انکل پلنگ پر لیٹے تو میری نطر ان کے لن پر پڑی ۔۔۔سوری اسے لن کہنا لن سے مزاق تھا انکل کی تو چھوٹی سی للی تھی ۔۔پتلی اور باریک سی جسے وہ آنٹی کو منہ میں لینے کو کہ رہے تھے “ پر انٹی نے ان کا لن چوسنے سے انکار کر
دیا اور بولی ” نہیں جانو اس طرح آپ جلدی چھوٹ جاؤ گے” اس پر انکل بڑی لجا جت سے بولے پلیز
ڈارلینگ میرا بڑا دل کر رھا ھے کہ تم میرا لن اپنے منہ میں ڈالو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور آخر کار
انکل کے بے حد اصرار پر آنٹئ ان کے پاس جا کر بیٹھ گئ اور انہوں نے انکل کا لن اپنے ھاتھ میں پکڑا اور برا سا منہ بنا کر مُٹھ مارنے لگی یہ دیکھ کر
انکل بولے ۔۔۔۔ندا۔۔۔۔۔۔مُٹھ نہیں پلیز ۔۔۔۔ منہ میں ڈالو نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب چار و ناچار ندا آنٹی اپنا منہ انکل کے لن پر لے گیء اور زبان نکال کر ٹوپے پر پھیرنے لگی ۔۔۔۔جب آنٹی نیچے جھکی تو میری نطر ان کی گانڈ پر پڑی۔۔۔۔واہ۔۔۔کیا مست گانڈ تھی اسے دیکھتے ھی میرا لن بری طرح سے کھڑا ہو گیا-پھر انٹی نے انکل کا پورا لن منہ میں ڈال لیا اور اسے اچھی طرح چوسنے لگی جیسے ھی آنٹی نے انکل کا ننھا سا لن پورا منہ میں لیا میرے بڑے سے لن نے مجھ سے فریاد کی اور بولا ۔۔ میرا بھی کچھ کر سا لے ۔۔۔۔پر میں اس کا کیا کر سکتا تھا۔۔؟؟؟ سواۓ ھاتھ میں پکڑ کر مسلنے کے۔۔۔۔سو وہ میں نے کیا اور لن کو ھاتھ میں پکڑ کر دبانے لگا ۔ اُدھر انکل اپنے لن پر آنٹی کے نرم ہونٹ محسوس کر کے مستی سے کراہ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔ ندا تم بہت اچھا لن چوستی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔اُف ف ف۔ف۔ف۔ف۔ف۔۔۔۔۔میری جان مزہ آ گیا- بلا شبہ آنٹی کا لن چوسنے کا انداز بڑا ھی زبردست تھا جسے دیکھ کر میں اور بھی گرم ہو گیا ۔۔۔اور۔۔۔لن۔۔۔مت پوچھو دوستو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لن تو اتنا ۔۔بس ۔۔اتنا مست ہو گیا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔ اور اتنا اکڑ گیا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنے لن میں درد ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔او ر میں سوچ رہا تھا کہ آنٹی کتنا زبردست لن چوستی ھے اُ ن کو لن چوستے دیکھ کر میرا یہ حال ہو رہا ھے تو انکل کی حالت کیا ہو گی؟؟؟
۔۔۔۔۔ آنٹی ایسے ھی 2،3 منٹ تک انکل کا لن چوستی ر ہی ۔”۔۔۔۔اور پھر اچانک انہوں نے اپنا منہ لن سے ھٹایا اور بولی” بس” اس سے زیادہ میں نہیں چوسوں گی تو انکل بولے تھوڑا سا اور چوسو کہ بڑا مزہ آ رہا تھا ۔۔۔۔لیکن آنٹی نہ مانی۔۔۔ اور پلنگ پر لیٹ گئ اور بولی بڑی ادا سے بولی ۔۔۔۔۔۔ . مجھے ۔چودو نا۔۔۔ جان۔۔۔۔۔۔۔
یہ سُن کر انکل بیڈ سے اٹھے اور آنٹی کی ٹانگوں کے درمیان آ گے اور آنٹی سے بولے ایک دفح اور چوس لیتی تو کیا بات تھی ۔۔پر آنٹی نے ان کی یس بات کا کوئ جواب نہ دیا بس ٹانگوں کو تھوڑا اٹھا دیا یہ یو با ت کا سگنل تھا کہ اندر ڈال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب انکل نے اپنے لن پر تھوڑا سا تُھوک لگایا اور آنٹی کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ کر ھلکا سا دھکا لگایا اور آئ تھنک لن انٹی کی چوت میں اتر گیا تھا ۔۔۔۔۔کیونکہ میں نے آنٹی کی ہلکی سی کراہ سنی تھی وہ کہ رہی تھی ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔آہ میری جان زور سے دھکا مار نا۔۔۔۔۔۔ یہ سن کر انکل نے اپنے دھکوں کی رفتار تیز کر دی اور زور زور سے لن کو آنٹی کی چوت میں اندر باہر کرنے لگے۔۔۔۔ اور پھر 7،8 دھکوں کے بحد ہی انکل ایک دم چیخے۔۔۔۔۔۔۔۔آو۔۔آو۔۔و۔۔و۔و۔وو۔و۔و۔۔و۔۔۔ ان کی یہ اواز سنتے ھی آنٹی ان کے نیچے سے چلائ ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔پلیز۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔۔ ابھی نھیں ۔۔۔۔۔ زمان مجھے اور لن چایۓ ۔۔۔۔ میں نے ابھی اور چدوانا ھے ابھی تو میری پھدی گرم ہوئ ھے ۔۔۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔ جان۔۔۔۔ پر انکل نے آنٹی کی بات سنی ان سنی کر دی اور تیز تیز دھکے مارتے رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اگلے ھی لمحے ان کی کافی اونچی اواز سنائ دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ندا۔۔ا۔ا۔ا۔ا۔ا۔ا۔اا۔۔ا۔۔ا۔۔ا۔ا۔۔ ا۔۔۔۔ میں جا۔۔۔رہا ہوں اور یہ کہتے ہوۓ وہ آنٹی کے اوپر ہی لیٹ گۓ اور جھٹکے لینے لگے اور انہوں نے اپنی ساری منی آنٹی کی چوت میں ھی چھوڑ دی۔۔۔۔۔
اُس ٹائم میں نے آنٹی کو دیکھا تو وہ بڑی اپ سیٹ نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔ پھر میں نے ان کی غصوے سے بھری آواز سنی ۔۔۔ وہ کہ رہی تھی یہ تم نے کیا کیا زمان ؟؟؟ ۔۔۔۔۔ مجھے تمھارا لن مزید لینا تھا ۔ دیکھ لو تم نے پھر وہی حرکت کی ہے نا۔۔۔۔۔ منح بھی کیا تھا کہ لن نا چوسواؤ۔۔۔۔ پر تم کسی کی سنتے کب ہو۔۔۔۔ آنٹی کی ڈانٹ سن کر انکل نے ایک کھسیانی سی ھنسی ھنس ک بولے ۔۔ کوئ با ت نہیں ڈارلنگ میں کل زیادہ ٹائم لگا دوں گا۔۔۔۔ یہ سن کر آنٹی آگ بگولہ ھو گئ اور بولی ٹائم کے بچے مجھے ابھی لن چاہۓ اور تم کل کی بات کر رہے ہو۔۔۔ آنٹی کی بات سن کر انکل دوبارہ کھسیانی ھنسی ھنس کر بولے “ انگلی مار دوں”
یہ سن کر آنٹی کو مزید غصہ آ گیا اور تقریباً چلا کر بولی ۔۔۔۔بہن چود ۔۔۔ حرامی ۔۔۔۔۔ سالے۔۔۔۔ تم ہمیشہ ایسے ہی بہانے بناتے ہو۔۔۔۔ اور پلنگ سے اُٹھ کر کپڑے پہننے لگی –
یہ دیکھ کر میں وہاں سے بھاگا اور جا کر بیڈ پر لیٹ گیا لیکن نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی میں بہت زیادہ گرم ہو چکا تھا اور میرا لن میرے پاجامے میں کھڑا تھا اور بیٹھنے کا نام ھی نہیں لے رہا تھا گرمی سے میرے ہونٹ خشک ہو رہے تھے اور میں ھلکا ہلکا کانپ بھی رھا تھا میرا حلق بھی خشک ہو رہا تھا اور میں لن کو ہاتھ میں پکڑے اسے مسلسل دبا رھا تھا میں نے سوچا چلو مُٹھ مارتا شاید کھچھ سکُون مل جاۓ ۔۔ پر مُٹھ سے پہلے مجھے سخت پیاس لگ رہی تھی چنانچہ میں ٹھنڈا پانی پینے کے لیۓ کچن کی طرف چلا گیا اور پھر ٹھنڈے پانی کی بوتل کے لیۓ جیسے ھی میں نے ف*ج کا دروازہ کھولا مجھے ندا آنٹی بھی کچن کی طرف آتی دکھائ دی اُنہوں نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا سو جیسے ھی وہ میرے پاس آئ اور بڑے خوشگوار لہجے میں بولی ھیلو شاہ جی کیا ہو رہا ھے ؟ میں نے ندا آنٹی کے سوال کا کوئ جواب نا دیا اور چپ رہا کہ اس وقت میری حالت کافی خراب تھی میری آنکھیں اور چہرہ بہت سُرخ ہو رہے تھے اور میں جزبات کی وجہ سے ہولے ہولے کانپ بھی رہا تھا میری ساری باڈی ہیٹ کی وجہ سے بہت تپ رہی تھی ۔۔ آنٹی نے جو میری حالت دیکھی تو وہ یہ سمجھی کہ میں بخار کی وجہ سے تپ رہا ہوں – وہ آکے بڑھی اور اپنا ایک ہاتھ میرے ماتھے پر رکھ کر بولی۔۔۔۔۔۔او۔۔۔۔۔ شاہد تم کو تو بڑا سخت بخار ھے اور تمہارا جسم بخار کی وجہ سے تپ رھا ھے اور یہ کہ کر انہوں نے میرا ھاتھ پکڑا اور مجھے بیڈ روم میں لے گئ اور مجھے بستر پر لٹا کر بولی تم لیٹو میں تمھارے لیۓ دوائ وغیرہ لے کر آتی ہوں یہ کہا اور دوائ لینے کے لیۓ چلی گئ کچھ دیر بعد جب وہ واپس آی تو ان کے ہاتھ میں کچھ گولیاں اور پانی کا گلاس تھا وہ میرے پاس آی اور بولی اُٹھو بیٹا یہ دوائ کھا لو اور مجھے ہاتھ سے پکڑ کر اٹھا لیا ۔ اور میرے ساتھ پلنگ پر ہی بیٹھ گئ میں نے ان کے ہاتھ سے گولیاں لیں اور وہ تھوڑا میری طرف جھک گئ اور پانی کا گلاس میرے منہ سے لگا دی
گرمیوں کے دن تھے اور آنٹی نے باریک سا لباس پہنا ہوا تھا اُس پر قیامت یہ کی ان کی قمیص کا گلا کچھ زیادہ ھی کھلا تھا میں جو پہلے ھی سیکس کی آگ میں جل رہا تھا اور اب اُن کے یوں نزدیک بلکل میرے پاس بیٹھنے سے میرا حال مزید بے حال ہوتا جا رہا تھا چنانہ جب انہوں نے جھک کر پانی کا گلاس میرے منہ سے لگایا تو میری نطر ان کے شفاف بدن پر تھی ان کے اس طرح جھکنے سے مجھے ان کے موٹے ممے اس قدر صاف اور واضح نظر آۓ کہ مجھے خود پر قابو رکھنا مشکل ہو گیا چنانچہ میں نے اپنا لن اُن کی کمر کے ساتھ ٹچ کر دیا لکین وہ میری صحت کے بارے میں اتنی فکر مند تھیں کہ ان کو محسوس ہی نہ ہوا کہ میرا لن ان کی کمر کو ٹچ کر رہا ہے چنانہ انہوں نے اس ٹچ کا کوئ نوٹس نہ لیا لیکن جب میں نے اپنا لن اُن کے ساتھ دوسری ۔۔۔۔۔ پھر تیسری دفحہ ٹچ کیا تو وہ تھوڑا سا چونکی اور پھر جوں ہی اُنہوں نے گردن موڑ کر پیچھے کی طرف دیکھا تو ۔۔۔۔۔۔ وہاں ایک موٹا اور بڑا سا لن مست ہاتھی کی طرح پاجامے میں لہرا رہا تھا میرے لن کا سائز ۔۔ لمبائ ۔۔ موٹائ یہ سب دیکھ کر وہ ہکا بکا رہ گئ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بے اختیار ہو کر بولی ۔۔۔۔ اوہ۔۔۔اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ۔۔ میں نے دیکھا کہ حیرت کی وجہ سے ان کی آنکھیں ڈھیلو ں سے باہر نکلی ہویئں تھیں اور وہ متاثر کُن نطروں سے لہراتے ہوۓ لن کو مسلسل دیکھے جا رہی تھیں ( بحد میں انہوں نے مجھ سے اس بات کا اعتراف بھی کیا تھا کہ وہ ایک چھوٹے سے لڑکے سے اتنے بڑے لن کی توقع نہیں کر رہی تھی) وہ کبھی مجھے اور کبھی میرے لن کو دیکھتی اور اپنے خشک ہونٹوں کو تر کرنے کے لیۓ ان پر زبان پھیرتی جا رہی تھی ۔۔۔ اُ ن کا چہرہ جزبات کی وجہ سے سُرخ ھو رہا تھا اور اُن کو کچھ سمجھ نھیں آ رہا تھا کہ وہ میری اس حرکت پر کیا ری ایکٹ کرے۔۔۔۔۔ کیونکہ تھوڑی دیر قبل وہ خود بھی اس آگ میں جل چکی تھی ۔۔۔۔ اور میرا لن دیکھ کر اُن کے جزبات میں اُتھل پتھل ہو چکی تھی جس کا ثبوت اُن کا سُرخ چہرہ اور خشک ہونٹ تھے۔ جب وہ لن کی طرف دیکھتی تو ان کا دل کرتا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ کر لیں پر جب میری طرف دیکھتی تو وہ سوچ میں پڑ جاتی کہیں ایسا نا ہو جاۓ کہیں ویسا نہ ہو جاۓ
غرص کی وہ ایک دوراہے کر کھڑی نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔
اُن کے یہ تائثرات دیکھ کر میں نے ہی کچھ کرنے کی ٹھانی ویسے بھی عورت ہونے کی وجہ سے وہ پہل نہ کر سکتی تھی اور میرا یہ حال تھا کی منی میرے سر پر چٹرھی ہوئ تھی ۔۔۔ چنانچہ میں نے فوراً ہی پاجامے کا نالا کھولا اور لن کو پاجامے سے باہر کر دیا میرے موٹے ٹوپے کو دیکھ کر وہ اور متاثر ہوئ کہ نھیں یہ میں نہیں جانتا پر میں نے یہ ضرور جج کر لیا کہ اُن کی نظریں اب بھی میرے لن پر ھی تھیں میں نے دوسری حرکت یہ کی کہ میں نے اُن کا گورا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔ کہ جو ہو سو ہو ۔۔۔
جیسے ھی میں نے اُن کا ہاتھ اپنے لن پر رکھا اُنہوں نے فوراً ہی اپنا ہاتھ وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔پر میں نے زبردستی ان کا ہاتھ اپنے لن پر ٹکا دیا-
انُہوں نے لن پر ہاتھ رکھے رکھے میری طرف دیکھا اور سرگوشی میں بولی ۔۔۔۔۔۔ ایسا نہ کرو شاہد ۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز مجھے جانے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر میں نے زبردستی ان کا ہاتھ اپنے لن پر رکھے رکھا ۔۔۔۔۔۔ ۔ اور بولا آنٹی پلیز بس تھوڑی دیر میرا لن پکڑے رکھیں اور ان کا ہاتھ لن پر دبا دیا ۔۔۔۔ اس پر وہ بولیں ۔۔۔۔۔ دیکھو تم میرے آصف کے دوست ھو اور مجھے آصف ہی کی طرح لگتے ہو ۔۔۔۔ اور میں تمہاری آنٹی ہوں ۔۔۔۔۔۔ یہ کہا اور ایک گہری سانس لی اور س جھکا لیا ۔۔۔۔ تب میں نے ان سے کہا آنٹی جی !!۔۔۔۔ بےشک آپ میری انٹی ہو اور بے شک آپ میرے دوست کی ماں ہو پر آپ ایک عورت بھی ہو ۔۔۔ اور مجھے پتہ ھے کہ اس وقت اس عورت کو اس کی شدید ضرورت ھے اس لیۓ کہ میں نے تھوڑی دیر پہلے آپ کا انکل کے ساتھ سارا سیکس سین دیکھ لیا تھا ۔۔۔۔
میری بات سن کر وہ ایک دم اپنی جگہ سے اُچھلی ۔۔ ایسا لگا کہ کسی نے ان کے پاؤں میں بم پھوڑ دیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے بڑی بے یقینی سے میری طرف دیکھا اور بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تت۔۔۔ تت ۔۔۔ تم نے کب دیکھا۔۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ان کی انکھوں میں ہزاروں سوال تھے۔۔ تو میں نے جواب دیا کہ اب سے کھچھ دیر پہلے ۔۔۔۔۔۔اور میں نے جلدی جلدی ساری سٹوری سنا دی۔۔۔۔ اس دوران وہ پھٹی پھٹی نطروں سے میری طرف دیکھے جا ری تھی ۔۔۔۔ جب میں نے بات ختم کی وہ کافی حد تک نارمل ہو چکی تھی کہنے لگی ۔۔۔۔۔ اچھا تو تم یہ سب کھچہ دیکھتے رہے ۔۔۔ بڑے بے شرم ہو تم ۔۔۔ ان کا موڈ دیکھ کر مجھے کچھ اور حوصلہ ہوا اور میں نے کچھ اور آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔۔ اور بولا ۔۔ یس س۔س۔س آنٹی جی اس کے ساتھ ساتھ میں نا اپ کے جسم کا ایک ایک انچ بھی دیکھا ہے اور آنٹی بڑا زبردست جسم ھے آپ کا ۔۔۔۔۔ اور آنٹی جی مجھے بخار نہیں آپ کے جسم کی گرمی ھے جو میرے پورے بدن میں پھیلی ہوئ ھے
میں نے یہ کہا اور ساتھ ھی اپنا منہ ان کے پاس لے گیا اور آنٹی کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیۓ ۔۔۔ پہلے ت انہوں نے اپنا منہ ادھر اُدھر کرنے کی کوشش کی پھر میری مسلسل کوشش کو دیکھ کر اپنا منہ ایک جگہ کھڑا کر دیا اُن کی مزاحمت دم توڑ چکی تھی اب میں نے اپنی زبان نکا ل کر ان کے ہونٹ چاٹنا شروع کر دیۓ پہلے تو انہوں نے اپنا منہ سختی سے بند رکھا پھر دھیرے دھیرے ان کے ہونٹوں کی سختی نرمی میں بدلتی گئ اور پھر انھوں نے اپنا منہ میری زبان کے لیۓ پوری طرح کھول دیا اوراب میں نے اپنی زبان ان کے منہ میں داخل کر دی اُف ف ف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کا منہ بڑا ہی گرم اور اس میں سے بڑی ہی مست مہک آ رہی تھی میں نے بڑی ب صبری سے ان کی زبان کو اپنے منہ میں لیا اور اس کو چوسنے لگا ۔۔۔۔۔ اور کافی دیر تک ان کی ٹیسٹی زبان کا رس اپنے منہ میں منتقل کرتا رہا اس دوران پہلی دفہ مجھے ان کا ھاتھ اپنے لن پر سخت ہوتا ہوا محسوس ہوا- وہ با ر بار میرے لن کو اپنی مُٹھی میں پکڑ کر دباۓ جا ری تھیں-
کچھ دیر تک ھم کسنکگ کرتے رہے پھر جب ان کا ہاتھ کی گرفت میرے لن پر کافی ٹائٹ محسوس تو میں نے کسنگ چھوڑ دی اور اپنا منہ ان کے منہ سا الگ کر لیا ۔ جیسے ھی ان کا منہ میرے منہ سے الگ ہوا ان کی ساری توجو میرے لن کی طرف منتقل ہو گئ اور انہوں نے میرا لن ہاتھ میں پکڑا تو پہلے سے ہوا تھا اب انہوں نے میری مُٹھ مارنی شروع کر دی اور بولی ۔۔ شاہ تمھارا لن بڑا ہی کمال کا ہے اس نے تو مجھے پاگل کر دیا ھے ۔۔۔ تو میں نے ان سے پوچھا کہ آنٹی میرا لن اچھا ھے نا۔۔۔۔ تو وہ بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا نہیں بہت اچھا ہے ۔۔۔۔۔ یہ سن کر میں نے ان کا سر پکڑ کر لن کی طرف دبا دیا اور بولا آنٹی جی میرا بھی لن چوسو نا پلیز۔۔۔۔۔۔۔اور کہا جیسے آپ انکل کا چوس رہی تھی ویسے ھی میرا بھی چوسیں
انہوں نے لن پکڑے پکڑے ایک نظر میری طرف دیکھا اور بولی ۔۔۔۔ فکر نہیں کرو میں انکل کی طرح نہیں بلکہ اس سے بھی اچھا تمہارا لن چوسوں گی یہ کہا اور اپنا سر میرے لن پر جھکا دیا-
اب انہوں نے اپنی زبان منہ سے باہر نکالی اور میرے ٹوپے کو چاٹنا شروع کر دیا پھر اس کے بعد انہوں نے میرا لن اپنے منہ میں لینا شروع کر دیا انہوں نے میرے سخت لن کو اپنے نرم ہونٹوں میں بڑی سختی سے دبا لیا اور آہستہ آہستہ اپنا منہ لن کے نیچے کی طرف لے جانا شروع کر دیا اور اس کے ساتھ ساتھ وہ لن کو اپنی زبان کا ٹچ بھی دیت جاتی تھی اس طرح انہوں نے اپنا منہ جہاں تک ہو سکا میرے لن کے اینڈ تک لے گیئں جب لن کا منہ آگے جانا ممکن نہ رہا تو انہوں نے اندر ہی اندر لن پر زبان پھیری اور لن کہ اپنے منہ سے باہر نکال لیا اور پھر ۔۔۔۔ انہوں نے اپنی زبان سے سارا لن چاٹنا شروع کر دیا اور نیچے سے لے کراوپر تک میرے لن کو خوب چاٹا پھر جب لن کو چاٹتے چاٹتے اوپر تک آئ تو پھر سے لن کو اپنے من میں لے کر پھر سے چوسنا شروع کر دیا –
اُف ۔ف۔ف۔فف۔ف۔فف۔ ایک تو آنٹی کے لن چوسنے کا دلکش انداز دوسرا ان کے منہ کی گرمی ۔۔۔۔ ان سب چیزوں نے مل کر مجھے پا گل سا کر دیا اور میرے سارے بدن میں ایک آگ سی بھر گئ چنانچہ اگلی دفعہ جیسے ہی آنٹی نے میرا سارا لن اپنے منہ میں ڈالا ۔۔۔ تو ۔۔۔۔ مجھے ایسا لگا کہ میرے سارے جسم کا خون میرے لن کی طرف دوڑ رھا ھے اور میں نے آنٹی کا سر بڑی مضبو طی سے پکڑ لیا اور اس کو اپنے لن کی طرف دبانے لگا میرا خیال ہے وہ سمجھ گئ تھی کہ میں چھٹنے والا ہوں سو انہوں نے بڑی ٹرائ کی کہ وہ اپنے منہ سے میرا لن باہر نکال سکیں لیکن میں نے ان کا سر اتنی مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کہ وہ چاہ کر بھی ایسا نہ کر سکیں – اس کھیچھا تانی میں وہ بس اتنا ہی کر سکیں کہ میرا ٹوپا ہی ان کے منہ میں رہ گیا اور۔۔۔۔۔
پھر اچانک ہی میرے لن نے ایک پچکاری ماری اور ساری منی ان کے منہ میں گرنا شروع ہو گئ ۔۔۔۔
جیسے ہی میری منی ان کے منہ میں گرنا شروع ہوئ وہ بھی جوش میں آ گٰئ اور انہوں نے باہر بچے ہوۓ لن کی مُٹھ مارنا شروع کر دی اور جب انہوں نے محسوس کر لیا کہ منی کا آخری قطرہ بھی ان کے منہ میں گر چکا ہے تو انہوں نے لن کو اپنے منہ سے باہر نکالا اور ساری منی قالین پر تھوک کر بڑی ہی مست آواز میں بولی “ گندا بچہ ” پھر مسکرائ اور پاس پڑے دوپٹے سے اپنا منہ صاف کیا اور بولی “ مسٹر شاہد تم تھوڑے سے فریش ہو جاؤ” میں تمھارے انکل کو دیکھ کر ابھی آتی ہوں یہ کہ کر وہ چلی گئ –
تقریباً 10،15 منٹ کے بعد وہ واپس آئ تو میں نے ان سا پوچھا کہ آنٹی انکل کی کیا پوزیشن ھے ؟ تو وہ برا سا منہ بنا کر بولی بے خبر سو رہا ھے سالا اور پھر میرے لیۓ اپنی باہیں پھیلا دیں میں بھاگ کر گیا اور ان کے گلے سے لگ گیا انُہوں نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ اپنا سینہ میرے سینے کے ساتھ دبایا اور میری گردن پر بوسہ دیا پھر اُنہوں نے میرے دائیں کان کی لو کو اپنے منہ میں لیا اور اسے چوسنے لگی جس سے میرے سارے بدن میں سنسنی سی دوڑ گئ اور میں نے اپنے ہونٹ ان کے ہونٹوں پر رکھ دیۓ اور ان کا نیچے والا ہونٹ چوسنا شروع کر دیا ۔۔پھر آنٹئ نے اپنی زبان میرے منہ میں ڈالی اور ان کی زبان میری زبان کو تلاش کرنے لگی یہ دیکھ کر میں نے فوراً ہی اپنی زبان کو ان کی زبان کے حوالے کر دیا اور اب ہماری زبانوں نے آپس میں ٹکرانا شروع کر دیا تو مجھے ان کی زبان تھوڑی سی نمکین محسوس ہوئ ۔۔۔ اور میں تھوڑا ہچکچایا تو وہ سمجھ گئ اور اپنا منہ ہٹا کر بولی ڈرو نہیں یہ تمہاری ہی منی کا ٹیسٹ ھے تو میں نے کہا کہ وہ تو آپ نے تھوک دی تھی تو وہ کہنے لگی نہیں تھوڑی سی رکھ بھی لی تھی تو میں نے کہا وہ کیوں تو وہ کہنے لگی “ بس ویسے ہی ” اور کہنے لگی اپنی زبان دو میں چوسوں گی اور دوبارہ زبان میرے منہ میں ڈال دی اور میری زبان کو چوسنے لگی – زبان چوسا ئ کے ساتھ ساتھ ان کا تھُوک بھی میرے منہ میں آ گیا تھا میں نے ان کا تھُوک اپنے منہ میں جمع کیے اور پھر اس میں کچھ اپنی طرف سے اضافہ کیا اور ان کے منہ میں واپس ڈال دیا اور اس طرح ہم کافی دیر تک کسنگ کرتے رہے اس دوران میرا لن پھر سے کھڑا ہو چکا تھا سو انہوں نے اپنے ایک ہاتھ سے میرے لن کو پکڑا اور اسے دبانے لگی
پھر انہوں نے اپنا منہ میرے منہ سے ہٹایا اور مست اؒواز مین بولی بولی “ دودھ پیو گے بےبی ” یہ کہا اور اپنی قمیض اتار دی اور پھر جلدی سے برا کا ہُک بھی کھول دیا اور مما ننگا کر کے اسے اپنے ہاتھ میں پکڑا اور نپل میرے منہ کے ساتھ لگا کر بولی دودھ پی لے منا اور میں نے ان کا نپل اپنے منہ میں لیا اور اسے چوسنے لگا جبکہ دوسرے ھاتھ سے ان کا دوسرے ممے کا نپل مسلنے لگا ۔۔۔۔ اور آنٹی نے مستی میں کراہنا شروع کر دیا ۔۔۔آہ۔ہ۔ہ۔ہ ۔۔۔۔۔۔۔ اُف ۔۔۔۔ چوستے رہو میرا مم ۔۔۔۔۔۔۔ ایسے ھی پیتے رہو میرا دودھ ۔۔۔۔آہ ۔ہ۔ہ۔۔۔ہمم مم۔ اور میں اگلے 10 منٹ تک ایسے ہی آنٹی کے باری باری نپلز چوستا اور مسلتا رہا-
پھر انٹی نے میرے منہ سے اپنے نپلز چھڑاۓ اور بولی آؤ اب کچھ اور کرے ھیں اور جلدی سے مجھے کپڑے اتارنے کو کہا اور خود وہ اوپری ننگی تھی ہی سو اب اُنہوں نے فٹوفٹ اپنی شلوار بھی اتار دی اور فل ننگی ہو کر بیڈ پر لیٹ گئ پھر جیسے ھی میں ننگا ھو کر ان کے پاس بیڈ پر پہنچا تو وہ چھلانگ لگا کر بیڈ سے اٹھی اور میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ کر بولی اُف۔۔۔۔۔کیا لن ھے اور پھر اپنا منہ لن کے قریب لے گئ اور ایک چوما دے کر بولی تمہیں پتہ ھے جب فرسٹ ٹائم میں نے اسے دیکھا تھا تو میں اسی وقت لیک ہو گئ تھی یہ کہا اور لن کہ منہ میں لے کر پُر جوش طریقے سے چوسنے لگی ۔۔۔۔۔
آنٹی کافی دیر تک مجھے اپنے زبردست چوپے کا مزہ دیتی رہی پھر اُنہوں نے اپنے منہ سے میرے لن نکلا اور بیڈ پر سیدھی ہو کر لیٹ گئ اور انہوں نے ٹانگیں کھول دیں اور اپنی پھدی کی طرف اشارہ کر کے بولی شاہ میری پھدی کا مزہ نہیں لو گۓ ؟؟ یہ سُن کر میں ان کی ٹانگوں کے بیچ جا کر بیٹھ گیا اور آنٹی کی چوت دیکھنے لگا- آنٹی کی پھدی بالوں سے پاک تھی اور پھدی کے لپس کافی سُرخ تھے پھد کے سُوراخ کے عین اوپر براؤن رنگ کا موٹا سا دانہ تھا جو اُس وقت تک کافی سُوجا ہوا تھا میں نے یہ سب ایک نطر میں دیکھا اور اپنے ہونٹ آنٹی کی چوت پر رکھ دیۓ ۔ ۔۔۔۔ ان کی چوت سے بڑی ہی مست مہک آ رہی تھی اور میں بے کود ہو کر وہ بُو سونگھنے لگا ۔۔۔۔ میں کافی دیر تک آنٹی کی پھدی سے آنے والی مہک سونگھتا رہا پھر میں نے میں اپنی زبان منہ سے باہر نکالی اور ان کی چوت پر رکھ دی-
آنٹی کی چوت بڑی تپی ہوئ اور گرم تھی اور پھر جیسے ہی میں نے اپنی زبان اُن کی پھدی میں ڈالی تو ۔۔۔۔ وہ بہت زیادہ گیلی تھی اور اُن کی چوت کے گرم پانی کا زائقہ مجھے اپنی زبان پر بڑا اچھا لگ رہا تھا اب میں نے اپنی زبان ان کی چوت کے تھوڑا اور اندر لے گیا اور اچھی طرح سے چوت چاٹنے لگا ادھر آنٹی مزے کے مارے شور مچا رہی تھی آہ۔ ہ۔ ہ۔ ہ۔ ہ۔ہ ۔۔۔ شاہد ۔۔۔ تم نے اتنی اچھی طرح چوت چاٹنا کہاں سے سیکھا ۔۔۔۔ تمہاری زبان تو میری جان نکا ل دے گی ۔۔۔ اور دوران آنٹی 2،3 دفعہ ڈسچارج بھی ہوئ ۔۔۔۔ پر میں ان کی چوت چاٹنے میں لگا رہا ۔۔۔آخر کر آنٹی مجھ سے خود ہی بولی ۔۔۔۔ بس میری جان بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب لن میری اندر ڈالو کہ تمھارے چاٹے نے تو میری چوت کی پیاس اور بھی بڑھا دی ہے۔۔
یہ سن نے اپنا منہ ان کی چوت سے ہٹا دیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر لن کو ان کی چوت پر سیٹ کیا اور ہلکا سا دھکا لگا کر اندر ڈالنے لگا تو اس دوران آنٹی بولی ۔۔۔ لن اندر ڈال کر تھوڑی دیر ہلنا نہیں تو میں نے کہا ہلنا کیوں نہیں آنٹی جی ؟؟؟؟؟؟؟؟ تو وہ کہنے لگی میں کھچہ دیر تمہارا لن اپنی چوت میں محسوس کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔ تو میں نے کہا کہ ٹھیک ھے آنٹی جیسا کہا ھے ویسا ہی ہو گا اور ٹوپا ان کی چوت کے اینڈ پر رکھا اور ہلکا سا دبا دیا اور لن پھسلتا ہوا آنٹی کی چوت میں داخل ہو گیا – جیسے ہی لن آنٹی کی چوت میں گھسا آنٹی نے مستی میں ایک چیخ ماری آُف۔۔ ۔۔۔ ف ۔۔۔ ف آہ۔۔۔۔ ہ ۔۔ شاہد تیرا لن بہت بڑا اور ۔۔۔ آہ ہ ہ۔۔ پورا ڈال۔۔۔۔۔ لن پورا ڈالنا ۔۔۔۔ پھر بولی سُنا تم نے لن پورا ڈالنا۔۔۔۔۔۔ تو میں نے جواب دیا کہ ۔۔۔۔ آنٹی میں لن پورا ہی ڈالوں گا ۔۔۔میں نے یہ کہا اور ایک زور دار گھسا مارا ۔۔۔۔۔ وہ پھر مستی میں چلائ ۔۔ مار دیا شاہ تیرے لن نے مار دیا میں تمھارے لن کی نشے میں ڈوب رہی ہوں اور بولی ۔۔۔۔ اب ہلنا نہیں بس ایسے ہی لن پڑا رہنے دو اور خود آنکھیں بند کر لی اور بولی شاہ ہ ہ ۔۔۔۔ میں تمہارے لن کا مزہ لے رہی ہوں میری چوت تمہارے لن سے بھر گئ ہے۔۔۔۔۔ کچھ دیر تک لن اُن کی چوت میں پڑا رہا-
پھر اچا نک آنٹی نے اپنے چوتڑ نیچے سے اُٹھا کر گھسا مارا اور بولی مار میری پھدی کو مار ۔۔۔۔۔ بہن چود مار نا۔۔۔۔ اور میں سمجھ گیا کہ آنٹی اب چھوٹنے والی ہیں ۔۔ چناچہ میں نے زور زور گھسے مارنا شروع کر دیۓ میرے ہر گھسے کا وہ مزہ لیتی اور پھر سے کہتی ۔۔۔۔۔۔ میری چوت پھاڑ دے ۔۔۔۔۔۔ اور پھر ان کا سانس دھوکنی کی طرح چلنا شروع ہو گیا اور اب ان کے منہ سے بس آ آ آ۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔ کی آوازیں نکلتی رہیں اور پھر مجھے بھی ایسا لگا کہ میری ٹانگوں کا سارا خون میرے لن کی طرف بھاگ رہا ھے ۔۔۔۔ تب میں نے اپنے گھسوں کی رفتار مزید بڑھا دی ۔۔۔ یہ دیکھ کر آنٹی چونک گئ اور بولی شاہدتم ۔۔۔بھی۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں نے اُکھڑے اُکھڑے سانسوں میں جواب دیا ۔۔۔۔۔ ہاں میں بھی چھوٹنے والا ہوں یہ سن کر انہوں نے میری کمر پر ہاتھ پھیرنا شوروع کر دیا اور بولیں ۔۔۔۔ چھوٹ میری ۔۔۔۔ جان میری میں اپنا سارا پانی چھوڑنا ایک قطرہ بھی پھدی سے باہر نہیں جانا چاہیۓ ۔۔۔ شاباش چھوٹ۔۔۔۔ چھوٹ نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر میں 2،3 اچھے خاصے گھسوں کے بعد ان کی پانی سے بھری چوت میں چُھوٹتا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔چُھو ٹتا۔۔۔ا۔ا۔ا۔ا۔ا۔۔ا چُھو ٹتا گیا
Only Private me keliye page ke Inbox me message kare.....

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Culinary Team

Attire

Website

Address


Lahore