Muhammad Saddique NiQash

Muhammad Saddique NiQash

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Muhammad Saddique NiQash, Health/Beauty, Azad Jammu& Kashmir, Lahore.

02/12/2024

یقین کریں "باپ" دنیا کا وہ واحد شخص ہے جو خود سے بھی زیادہ "اولاد" کو پرسکون، صحت مند اور کامیاب دیکھنا چاہتا ہے💕

02/10/2022

۔ بیتے زمانے اور ھم ۔۔! 😐😐

( یادِ ماضی عزاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا)

بچپن میں ہم ماں جی یا دادی تائی چچی وغیرہ سے منظوری لیکر کھیت سے تازہ چھلیاں تؤر لایا کرتے تھے کوئلے پھونک پھونک کر چھلی گھوما گھوما کر دھوئیں میں آنسو بھا بھاکر ہاتھ جلا جلا کر چولہے پر کھانا پکانے میں مصروف رکن سے جھڑکیاں کھا کھا کر کے جلنے دو آگ سکون سے کھانا پکانے دو متعدد بار کھانا پکانے والی ہستی تنگ آکر غصے میں چھلی نکال پھینکا کرتی اور ہم پھر دور سے اٹھا کر دھیرے دھیرے بڑھتے بڑھتے چھلی چولہے میں پہنچا دیا کرتے
یہاں تک کے لاکھ جان جوکھوں کے بعد چھلی پک کر تیار ہو جاتی
اور ہم بہن بھائی اسی طرح اسکے ٹکڑے کر کے آپس میں تقسیم کیا کرتے تھے
ان ٹکڑوں کے نام ہم کھوٹا کھوٹی بڑا کھوٹا چھوٹا کھوٹایا کھوٹی کے نام سے لیا کرتے تھے
اگر ایک ساتھ سب کی چھلیاں پک جائیں تو ہم اپنی اپنی مٹھی میں دانے چھپا کر ایک دوسرے کے ساتھ جفت تاک کھیلا کرتے تھے
اپنی اپنی چھلی کا ذائقہ ایک دوسرے کو چیک کرانا
آہا کیا دور تھا کیا زمانہ تھا کیا وقت تھا!!!❤️

27/09/2022

کشمیری عوام کا مختصر تعارف ۔۔😍

شہر میرپور سے جہاں وفاؤں اور زبانوں کی مٹھاس سے بھرپور اس مٹی کی خاصیت کو دیکھنے والے حیران پریشان ہو کر رہ جاتے ،❤️

اس دھرتی سے آگے چلو تو شہر بھمبر کی فضا میں سانس لیں تو آزادی کی دھیمی دھیمی خوشبو محسوس ہونے لگتی جہاں محبتوں کے پھول کھلائے جاتے۔۔🤎

شہر خوشبو سے نکلو تو کوٹلی کی سرزمین میں پہنچو تو اصل کشمیریت کی ہوا سے ہر ہر ادا نکھرنے لگتی اور ایسا لگتا جیسے جنت کے راستے پے گامزن ہو رہے ہوں ۔۔❤️

سفر ابھی آدھا بھی نہیں ہوا کشمیریت کی فضا سے آگے بڑھو تو سدھنوتی کی سر زمین جہاں ہر قدم پے اک مجاہد اک سالار اور آزادی کے متوالوں کی مہک محسوس ہو گی ۔۔❤️

ان متوالوں سے آگے بڑھو تو سرزمین راولاکوٹ جسکی اینٹ اینٹ میں آزادی کے شہدا کا لہو شامل ہے اور یہاں پر اسرار یہی صدا سنائی دیتی میرے وطن تیری جنت میں آہیں گے اک دن ستم شہاروں سے تجھ کو چھوڑاہیں گے اک دن ۔۔❤️

آزادی کے متوالوں کی حدوں سے نکلو تو مرشدوں کے شہر باغ کی فضا میں قدم رکھتے ہی اس بات کا اندازہ ہو جاتا کہ یہاں ایسی قوم بستی ہے جنکے دلوں میں محبت و بھائی چارے کے سوا کچھ نہیں اور ان کو دیکھ کر دل اک دم یہی بول پڑھتا کے۔۔۔
ہائے مرشد یہ کیا ہو گیا یک دم سارے کا سارا جہاں یہاں ہو گیا۔۔❤️

مرشدوں کے شہر کے پہلو میں نوابوں کے شہر کہوٹہ کی سرزمین جہاں آزادی کے دیوانوں کو دیکھ کر دل سے دعا نکلتی کے یااللہ میری جنت آزاد ہو جائے ۔۔🤎

نوابوں کے شہر سے نکل کر مرشدوں کے شہر سے ہو کر اب سفر ہے خلوص و محبت کے دریاؤں کی سرزمین ہٹیاں جسے دیکھتے ہی روح میں پراسرار یہی جوش نظر آتا کے اک نہ اک دن آزادی آنکے قدموں میں ہو گی ۔۔❤️

شہر خلوص ومحبت کے دریاؤں کا کنارا پکڑ کے آگے چلو تو رونقوں کا شہر سلطنت مظفرآباد قدمے تلے ہو گا جہاں عزت وقار کی چادریں پہنائی جاتی ہیں ۔۔❤️

اس عزت وقار کی فضا کو سمیٹ کر آگے نکلیں تو جنت کے حسین ٹکڑے وادی نیلم کو پاؤ گے جہاں آزادی کی رونق قریب آتے محسوس ہوتی اور جنت کی خوشبوہیں روح کو مہکاتی ۔۔۔🤎

لاکھ میٹھے ھوں تیرے شہر کے چشمے لیکن ❤️
ھم تیرے شہر کو نیلم تو نہیں کہہ سکتے ۔۔۔!!!

ان تمام خدوخال سے نکل کر باڈر پار میرے کشمیر کی فضا کو دیکھو جہاں کفر کا راج تو ہے لیکن میرے اس جنت کے ٹکڑے میں ایمان ذندہ ہے اسلام ذندہ جہاد عروج پے ہے
اور میری اس جنت کے بچے بچے کی زبان سے صرف اک الفاظ نکلتا وہ ہے آزادی ۔۔❤️

ان تمام جنت کے خدوخالوں کو ملا کر بنتی ہے ریاست کشمیر ❤️

24/09/2022

اسلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔۔!!!

خدا ڈھونڈنے سے واقعی مل جاتا ہے
مگر اس وقت جب آپکی تلاش پکی اور سچی ہو۔۔۔جس تلاش کی کشکول میں کھوٹے سکے ہوں پھر ان کو اللہ نہیں ملتا۔۔۔!!!
وہ جو وجود کا حاضر نہیں تو لاوجود بھی نہیں، وہ جو ہمارا رب ہے ہمارا مددگار۔۔۔ وہ صرف چنے ہوئے لوگوں سے تعلق نہیں رکھتا۔۔
"ایسا کریں کہ اپنے رب کی خاطر صبر کرنا شروع کردیں، کیونکہ جو اپنے رب کے لئے صبر کرتا ہے اللّٰہ اسکے دل میں غم کی جگہ سکون بھر دیتا ہے"
وہ تو سب کا ہے، اسکو ہماری غفلتوں سے فرق نہیں پڑتا، کیونکہ غفلتوں کے فرق تو ذاتی ہوتے ہیں۔۔
وہ اپنی مخلوق کو تنہا نہیں چھوڑتا، اس کے برعکس۔۔۔لوگ، جذبے، موسم اور وقت بڑی بے وفا چیزیں ہیں۔۔۔یہ تو آوارہ ہوا کی مثل ہیں۔۔۔آج مشرق تو کل مغرب۔۔۔
اور وہ جو ہمارا ﷲ ہے ناں۔۔۔وہ کبھی لہجے نہیں بدلتا۔۔۔اکیلا نہیں چھوڑتا۔۔وہ تو بس جاوداں ہے ہو سو۔
سجدہ، ذکر، صبر، شکر، یقینِ کامل۔۔۔ ﷲ سے ملاقات کے راستے ہیں۔۔۔
آپ ایک قدم بڑھا کے دیکھیں وہ سارے فاصلے ختم کردے گا۔
یقین رکھو ہمیشہ۔۔۔
"ڈھونڈنے سے واقعی ﷲ مل جاتا ہے"
"الـلـه" رب کائنـات آپـکو اتـنا عــطـا فــرمـاۓ
جتنی اسـں کی شـان هـے.
"اتنی خطائیں مـعاف فرماۓ جـتـنا 'وہ' رحمان هـے,
اور آزمـائـشـوں سـے اتـنا مــحفــوظ رکهـے
جـتنـا 'وه' مـہـربـان هـے
آمیـــن یا ربــــ الــعـالـمــین فار آل 😌

21/09/2022

اپنے آبائی سکول کا قابل افسوس کلاس نہم کا رزلٹ 😢

ہر طرف اساتذہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا جو کہ بنتا بھی ہے کیونکہ نتائج دیکھنے کے قابل نہیں ہیں ۔۔۔۔۔

اگر طلباء 50 فیصد پاس ھوتے اور باقی 50 فیصد فیل تو میرا ماننا تھا کہ ذیادہ قصوروار طلباء ہیں باقیوں نے محنت کی وہ پاس ھوئے جو محنت نہیں کر سکے انکو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لیکن نہیں نہیں اررررے بھائی یہاں تو سارا قبیلہ اڑ بیٹھا۔۔۔

اب کچھ کہیں تو شکوے اور شکایتوں کے انبار 😡😡

لیکن قابل غور بات کہ یہ صرف #دواریاں کے اساتذہ کا کارنامہ نہیں بلکہ یہ تو پورے نیلم کے اساتذہ اس جہاد میں پیش پیش رہے ایک دوسرے سے آگے رہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی 😐😐

خیر ناکامی کے بعد کامیابی ملتی ہے میری طلباء کے والدین سے گزارش ہیکہ بچوں کو بلاوجہ
( مار دھاڑ ،بیعزتی جیسی حوصلہ افزائی) ہر گز نہ کریں یہ بچے اتنے قصور وار نہیں ان کو حوصلہ دیں یہ ہی دوبارہ کامیابیوں کی بلندیوں کو چھوتے ھوئے گزریں گے اگر معلم اور والدین محنت کریں گے تو ۔۔۔۔
۔اب تو والدین یہ بھی بچوں کو نہیں کہہ سکیں گے کہ
نزیر دا پتر پاس ھو گیا تے بشیر دا کیوں نی 🤣🧐
کیونکہ یہاں تو بندوق ہی خراب تھی کارتوس کا کوئی قصور نہیں ۔۔۔۔۔

باقی بچوں نے بھی ماشاءاللہ اپنی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی اس کی زمہ اگر حکومت کو ٹھہرا دیں تو اچھا ھو گا کیونکہ
جب سے میٹرک کی شرط بلدیاتی انتخابات کیلئے ختم کرنے کی کوشش ھو رہی ہے اس کے بعد کا رزلٹ بھی پھر ایسا ہی آنا ہے
میٹرک کر کے کیا کرنا جبکہ آٹھویں پاس والا سکہ بھی چلتا ھو 🤣

✍️ Saddique NiQash

19/09/2022

*ٹرانس جینڈر کے نام سے دھوکہ نہ کھائیں*

وہ چار شہر تھے.
آبادی تقریباً دس لاکھ کے قریب تھی.
صبح کا وقت تھا... وہ سب اپنے کام کاج میں مصروف تھے....

اچانک بلکی سی گڑگڑاہٹ کی آواز پیدا ہونے لگی اور زمین ہلنے لگی.. ایسے لگا جیسے زلزلہ آ گیا ہو.. لوگ اس پراسرار آواز اور پھر زمین ہلنے کی وجہ سے گھبرا کر گھروں سے باہر نکل آئے تاکہ زلزلے کے نتیجے میں مکانات اگر زمین بوس ہوئے تو وہ اپنی جان بچا سکیں. پھر گڑگڑاہٹ کی آواز اور زمین ہلنا رک گئی..

چند لمحے سکون رہا اور پھر زمین اتنی شدت سے ہلنے لگی کہ مکانات گرنے لگے لیکن لوگ چونکہ پہلے جھٹکے کے بعد گھروں سے نکل آئے تھے اس لیے مکانات کے گرنے کے باوجود بھی سب لوگ، زخمی یا ہلاک بونے سے بچ گئے.. زمین کی حرکت میں شدت آتی جا رہی تھی لیکن لوگوں نے ایک بات نوٹ کی کہ یہ زلزلہ صرف اتنے حصے میں آ رہا تھا جتنے حصے میں شہری آبادی تھی. شہر سے باہر کی سڑکیں اور راستے بالکل ٹھیک اور نارمل حالت میں تھے.. جتنی جگہ پر شہر کے مکانات تھے اتنے علاقے کی زمین اردگرد سے کئی فٹ اونچی ابھر آئی تھی. یوں لگ رہا تھا جیسے صرف شہر کے علاقے کے نیچے کی زمین میں بیلچہ گھسا کر اتنے علاقے کی مٹی کو نیچے والی زمین سے الگ کر دیا گیا ہو. شہر کے لوگ انتہائی خوفزدہ اور پریشان ہو چکے تھے. وہ شہر کے علاقے سے باہر بھی نہیں نکل سکتے تھے کیونکہ شہر کی زمین کافی اونچی اٹھ چکی تھی اور دونوں زمینوں کے درمیان گہری کھائی سی بن چکی تھی.. ایک بار پھر گڑگڑاہٹ اور زمین کی حرکت رک گئی تھی اور پھر یوں لگا جیسے پورے شہر کی زمین کو کسی نے ہاتھ میں اٹھا لیا ہو اور زمین کے اس ٹکڑے نے جہاں شہر واقع تھا، آسمان کی جانب پرواز شروع کر دی..

پھر کئی کلومیٹر اوپر بلندی پر پہنچ کر زمین کے اس ٹکڑے کو الٹا کر کے زمین کی طرف پوری قوت سے پھینک دیا گیا. سارے شہر کے انسان سر کے بل تیزی سے زمین کی طرف بڑھ رہے تھے. ان کے درمیان اور نیچے زمین کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہو رہا تھا اور پھر ایک زوردار دھماکے کے ساتھ پورے کا پورا شہر اپنی آبادی سمیت زمین کے ساتھ الٹا ٹکرا گیا اور سب کچھ ملیامیٹ ہو گیا..

یہ بہت تیزی اور شدت سے ہوا تھا..

شہر کی ساری آبادی ایک سیکنڈ میں پس کر پاؤڈر جیسی بن گئی.. کچھ افراد زندہ بچ گئے تھے لیکن وہ شدید زخمی ہو گئے تھے. انہوں نے شدید زخمی بونے کے باوجود اپنی جان بچانے کے لیے اس علاقے سے نکلنے کے لیے دوڑ لگا دی.. ارد گرد ہر طرف مٹی دھول کے بادل رہ گئے تھے. مکانات مکمل طور پر مٹی کے ساتھ مٹی ہو چکے تھے.. پھر اچانک آسمان سے پتھروں کی برسات شروع ہو گئی اور وہ پتھر ان انسانوں کو لگنے لگے جو زخمی تھے اور جان بچا کر بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے..

ایک بات بہت عجیب تھی..

ہر ایک پتھر پر ان کے الگ الگ نام لکھے ہوئے تھے.. پتھر پر جس جس کا نام ہوتا تھا وہ پتھر صرف اسی کے جسم پر گر کر اس کو کچل رہا تھا..

پھر وہ سب بھاگنے والے بھی مر گئے..

ہر طرف خاموشی چھا گئی. صرف پانچ منٹ پہلے جہاں ہنستا بستا شہر تھا وہاں صرف دھوئیں کے بادل رہ گئے تھے اور مکمل طور پر خاموشی کا راج قائم ہو چکا تھا..

اس پورے شہر کو اس کی زمین اور آبادی سمیت جبرئیل فرشتے نے اپنے پر کے ذریعے سے اٹھایا تھا اور پھر بلندی پر لے جا کر الٹا پٹخ دیا تھا.. اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے باقی شہروں کو ان کی آبادیوں سمیت اٹھا کر بلندی سے الٹا پٹخ کر تباہ کر دیا تھا..

ان لوگوں کے ساتھ یہ کیا ہوا تھا؟ کیوں بوا تھا اور یہ لوگ کون تھے؟

یہ سب لوگ بدترین عذابِ الہی کا شکار ہوئے تھے..

یہ سب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم سے تعلق رکھتے تھے.. یہ سب ایک ایسے گناہ کے عادی تھے جو انتہائی بدترین تھا..
.......................

کچھ دن پہلے....

پاکستان کی /کا پہلی /پہلا ٹرانس جینڈر ڈاکٹر بن گئی / بن گیا... اسے خوب خوب پروموٹ کیا جا رہا ہے.. سر آنکھوں پر بٹھایا جا رہا ہے. سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا پر یوں لگتا ہے جیسے ایک طوفان آ گیا ہو.. صرف ایک یہی خبر ہر طرف تیزی سے پھیلائی جا رہی ہے.. ایک ایسا بہت بڑا گروہ جو پاکستان میں زیرِ زمین اور دنیا بھر میں سرعام موجود ہے ٹرانس جینڈر نامی لعنت کو عزت دار اور فطرت کے عین مطابق ثابت کرنے میں مصروف ہے..

یہ ٹرانس جینڈر کون ہے؟
یہ ایک مکمل مرد بے.. جسمانی طور پر اس کے اندر کوئی نقص نہیں تھا. شادی کرنے اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے مالا مال تھا لیکن اس کے اندر نفسیاتی طور پر ایسی خرابی پیدا ہو گئی تھی کہ یہ لڑکیوں کی طرح ناز و ادا دکھانے لگا. یہ لڑکی تو نہیں تھا لیکن اس نے خود کو لڑکی تصور کر لیا.. اس کے اندر ہم جنس پرستی کی علت پیدا ہو گئی..

پاکستان میں سن دو ہزار اٹھارہ میں ایک قانون پاس ہوا جس کے تحت ایسے لوگ جو مرد ہونے کے باوجود خود کو عورت سمجھتے ہیں یا عورت خود کو مرد سمجھتی بے وہ خود کو اپنی من پسند جنس کے طور پر پیش کر سکتے ہیں..

چنانچہ اس نے بھی خود کو ٹرانس جینڈر عورت کے طور پر نادرا کے آفس میں رجسٹر کروا لیا.. اب یہ جسمانی طور پر مرد خود کو ذہنی طور پر عورت ثابت کرکے ٹرانس جینڈر بن چکا بے کیونکہ اسے یہ کرنے کی آزادی اس ملک نے دی ہے. اگرچہ وہ مرد ہے لیکن اگر صرف ذہنی طور پر خود کو عورت سمجھتا بے تو اسے خود کو عورت کے طور پر شو کرنے کے سب ہی حقوق ملنے چاہئیں.. یہ جسمانی طور پر نارمل مرد بے تو ہوتا رہے، اسے کاغذات میں ٹرانس جینڈر عورت کے طور پر سمجھا جائے..

بعض لوگ ہیجڑوں کو ٹرانس جینڈر سمجھ لیتے ہیں. یہ شدید غلط فہمی بے.. ان بیچاروں کو تو کوئی پوچھتا بھی نہیں.

انہیں ہیجڑا کہلانے کے لیے کسی قانون کی ضرورت نہیں. وہ تو جسمانی طور پر ہی ادھورے ہیں.. نامکمل ہیں.. انہیں تو سپریم کورٹ الگ شناخت دے چکی بے..

یہ قانون ہیجڑوں کے لیے نہیں بلکہ جسمانی طور پر نارمل مرد عورتوں کے لیے بنایا گیا ہے..

یہ قانون جسمانی طور پر نارمل لیکن ذہنی طور پر نفسیاتی مریضوں کے لیے بنایا گیا ہے. پاکستان کے سب ہی ی ڈاکٹر چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اس قسم کے نفسیاتی افراد کا مکمل علاج موجود ہے. وہ دوبارہ ذہنی طور پر نارمل ہو سکتے ہیں تو پھر انہیں ہم جنس پرستی کی طرف راغب کیوں کیا جا رہا ہے؟

یہ نئے بننے والے قانون کی مہربانی بے کہ جسمانی طور پر مکمل مرد خود کو عورت قرار دے کر کسی دوسرے مرد کے ساتھ شادی کر کے دونوں پھر ہم جنس پرستی کی زندگی گزار سکتے ہیں.

ایسا قانون حضرت لوط علیہ السلام کی اس قوم کے اندر بھی نہیں بن سکا تھا جسے اس گناہ کی پاداش میں بدترین عذاب کا نشانہ بنا کر روئے زمین سے اس کا وجود ہی مٹا دیا گیا تھا..

یہ عذابِ الہی کو دعوت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے.. یاد رکھیے اس قانون کے ذریعے ہم جنس پرستی جیسے عظیم گناہ کو پاکستان جیسی مسلمان ریاست میں جائز قرار دے دیا گیا ہے.. اور سب ہی پاکستانی یا تو لاعلمی کی وجہ سے خاموش ہیں یا پھر جبراً خاموش کروا دیے گئے ہیں.. ان ہم جنس پرستوں کے لیے آسانی پیدا کر دی گئی ہے کہ جس طرح چاہیں یہ اپنے من پسند گناہ کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں..

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم میں کچھ لوگ ایسے تھے جو اس گناہ سے شدید نفرت کیا کرتے تھے. وہ لوگ آواز بھی اٹھاتے تھے. شور بھی مچاتے ہوں گے. احتجاج بھی کرتے ہوں گے. کمزور اور کم ہونے کے باوجود اپنے حصے کا کام کرتے ہوں گے. اللہ تعالیٰ نے انہیں اس عذاب سے بچا لیا.. وہ دنیا اور آخرت میں بھی اللہ کی پکڑ سے بچ گئے اور جنت میں اپنا گھر بنا چکے تھے.. فتنوں کے لحاظ سے یہ بہت مشکل ترین وقت بے.. اب حق کی آواز بلند کرنا ناممکن بنا دیا گیا ہے.. اس گناہ کا سب میڈیا والوں کو علم بے لیکن انہیں روزی روٹی کے شکنجے میں اس طرح جکڑ دیا گیا ہے کہ ان کی روحیں بھی قید ہو گئی ہیں.. ضمیر مر گئے ہیں،، آواز نہیں اٹھا سکتے..

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ گناہ کے خلاف زبانی کلامی آواز اٹھانے والوں کا ایمان دل میں برا کہنے والوں سے ایک درجہ اوپر کا ہوتا بے..

میں کوشش کرتا رہوں گا کہ اپنے آپ کو ایمان کے اس درجے پر لازمی قائم رکھوں.. جس میں صرف دل میں برائی کو برا نہ کہا جاتا ہو بلکہ برائی کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہو..

یاد رکھیے اور کسی غلط فہمی میں مت رہیے کہ عذاب صرف پرانی قوموں پر ہی آیا کرتا تھا. پتھر صرف انہی پر برستے تھے. چہرے صرف انہیں کے مسخ ہوتے تھے. نہیں ایسا نہیں ہے. یہ شدید غلط فہمی بے.. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک حدیث میں یہ بھی فرمایا ہے کہ جب گناہوں کا یہ عالم ہوگا تو انتظار کرو تیز آندھیوں کا، آسمان سے پتھروں کے برسنے کا، چہرے مسخ ہونے کا...اور زمین میں دھنسائے جانے کا...

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حصے کا کام کرنے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائے، آمین
Copy

17/09/2022

میرے بس میں ہوتا تو میں اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دوبارہ سے ترتیب دیتا۔۔۔
زندگی والی لکیر چاہے چھوٹی رکھتا لیکن نصیب والی لکیر میں بہت کچھ شامل کرتا۔
نصیب میں دولت چاہے کم ہی لکھتا لیکن نفرت بالکل نکال دیتا۔ وہ امیدیں جو کبھی پوری نا ہوتیں ان کا پیدا ہونا ہی موقوف کر دیتا لیکن ایسی حسرتیں ضرور شامل کرتا جن کے لئے صبح سے شام تک چاہے محنت لگ بھی جاتی لیکن وہ مکمل ضرور ہوتیں۔
گھر چاہے چھوٹا لکھتا لیکن اس میں اپنوں کا ساتھ ہمیشہ کے لئے لکھتا۔
سفر چاہے عمر بھر کا لکھ دیتا لیکن ایک خوبصورت منزل ضرور شامل کرتا۔
پیاس چاہے تپتے صحرا جیسی لکھ دیتا لیکن ایک میٹھے پانی کا چشمہ بھی ضرور شامل کرتا۔
لیکن۔۔۔
نصیب بھی بھلا کبھی کسی کے تابع ہوا ہے؟ کوئی اسے دعاؤں سے بدلنے میں لگا ہے، کوئی مزاروں پہ منتیں مان کر، کوئی تعویذ دھاگے کر کے اور کوئی قربانیاں دے دے کر، لیکن ہوتا وہی ہے جو اللہ کی رضا۔۔۔
جو اللہ کی رضا میں خوش وہ اپنے نصیب کا بادشاہ اور جس نے ناشکری کی وہ ساری دنیا کی دولت پا کر بھی غریب رہا۔

11/09/2022

آج شام کو انڈیا اور افغانستان والے فائنل ایسے دیکھیں گے،جیسے ناکام عاشق اپنی محبوبہ کی شادی دیکھتے ہیں

🤣🤣

06/09/2022

and win against them by 100+ margin then they can reach Mumbai airport 1 hour earlier 😂

یہ کھیل نہیں ہے بچوں کا 😛

06/09/2022

Finally India Qualify for The Mumbai Airport
✈️🛫✈️
6 ستمبر شاید انڈیا کیلئے اچھا دن نہیں ۔۔۔
اب تو سری لنکا والے بھی اس دن کو منائیں گے
😂🙆

Dear India, we are sorry that you will not be able to play the final, but you also got out of fear of us 👍👍😛😛🤣

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Azad Jammu& Kashmir
Lahore