Aroosh khan
Massage therapist from home sarvice provide
30/07/2025
سلطان بیبرس : ایک غُلام جس سے منگول بھی ڈرتے تھے
سلطان الظاہر رکن الدین بیبرس کا نام اسلامی تاریخ کی اُن درخشاں شخصیات میں آتا ہے جنہوں نے نہ صرف اپنے زمانے کے عظیم ترین فتنوں کو شکست دی بلکہ اسلام کی عظمت کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے روشن کر دیا۔ بیبرس کی کہانی کسی داستان سے کم نہیں۔ ایک غلام کی حیثیت سے زندگی کی ابتدا کرنے والا یہ عظیم انسان اپنے عزم، غیرت، تدبر، اور عسکری مہارت کے بل بوتے پر سلطنتوں کا مالک اور امت مسلمہ کا فخر بن گیا۔ اس کی زندگی میں ایسے بے شمار موڑ آئے جن میں عام انسان شاید ہمت ہار دیتا، مگر بیبرس نے ہر آزمائش کو قدموں تلے روند ڈالا۔
بیبرس 1223ء میں وسطی ایشیا کے قپچاق ترک قبیلے میں پیدا ہوا۔ اس کی ابتدائی زندگی کا بیشتر حصہ افراتفری اور ظلم و ستم کے سائے میں گزرا۔ منگولوں کے حملوں نے اس کے قبیلے کو تباہ کر دیا اور بیبرس کو ایک کمسن بچے کی حیثیت سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔ اسے ایک سوداگر نے خرید کر حلب کے بازار میں فروخت کے لیے پیش کیا۔ اس وقت شاید کسی کو بھی اندازہ نہ تھا کہ یہ غلام ایک دن اسلام کے عظیم ترین محافظوں میں شمار ہوگا۔
اسے پہلے ایک امیر نے خریدا مگر جلد ہی واپس کر دیا کیونکہ اس کی آنکھ میں ایک ہلکی سی بیماری تھی۔ پھر اسے ایک اور مملوک امیر، امیر علاء الدین نے خریدا اور یوں بیبرس کی قسمت کا پہیہ گھومنے لگا۔
بیبرس نے عسکری تربیت حاصل کی اور مملوکوں کی خصوصی فوج "البحرية" کا حصہ بن گیا۔ اس نے جلد ہی اپنی بہادری، فہم، سرعت اور قیادت کی صلاحیتوں سے سب کو متاثر کیا۔ میدان جنگ میں اس کی برق رفتار حملے، حکمت عملی میں چالاکی، اور دشمن کو دھوکہ دینے کی صلاحیت نے اسے اپنے ساتھیوں میں ممتاز کر دیا۔ اس زمانے میں مملوک طبقہ غلاموں پر مشتمل تھا جو فوج میں تربیت حاصل کر کے اعلیٰ مراتب تک پہنچتے تھے، اور بیبرس نے اس نظام کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔
1250ء میں ایوبی سلطنت کے خاتمے کے بعد مملوکوں نے مصر میں اقتدار سنبھالا۔ اسی زمانے میں صلیبی جنگیں اپنے عروج پر تھیں اور بیبرس نے قاہرہ اور دمشق کے درمیان ہونے والی معرکہ المنصورہ میں شاندار بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرانسیسی بادشاہ لوئی نہم کو قید کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب فرانسیسی فوج دجلہ کے کنارے آئی، بیبرس نے ایسی چالاکی سے حملہ کیا کہ دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے۔ فرانسیسیوں کو نہ صرف شکست ہوئی بلکہ ان کا بادشاہ گرفتار کر کے قاہرہ لے جایا گیا، اور بیبرس کا نام پورے عالم اسلام میں گونجنے لگا۔
مگر تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج تب آیا جب منگولوں نے بغداد پر حملہ کر کے عباسی خلافت کو تہس نہس کر دیا۔ 1258ء میں ہلاکو خان کی قیادت میں منگول افواج نے علم، تہذیب اور روحانیت کے مرکز بغداد کو خاکستر کر دیا۔ لاکھوں مسلمان قتل کیے گئے، دریائے دجلہ کا پانی سیاہ ہو گیا کیونکہ اتنی کتابیں دریا میں پھینکی گئیں کہ سیاہی نے پانی کو سیاہ کر دیا۔ اس سانحے نے پورے عالم اسلام کو لرزا دیا اور اب منگولوں کا اگلا نشانہ مصر اور شام تھے۔
ایسے کٹھن وقت میں مصر کے سلطان قطز نے بیبرس کو فوج کا سپہ سالار بنایا۔ 1260ء میں فلسطین کے مقام پر مشہور معرکہ عین جالوت برپا ہوا۔ بیبرس نے اپنی عسکری مہارت سے دشمن کو دھوکہ دیا، جھوٹا پسپا ہونے کا ناٹک کیا اور پھر اچانک حملہ کر کے منگولوں کو بری طرح شکست دی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اگر عین جالوت میں مسلمان شکست کھا جاتے تو اسلام کا وجود مشرق وسطیٰ میں ختم ہو جاتا۔
کتبغا، منگولوں کا عظیم سالار، اسی جنگ میں مارا گیا۔ مسلمانوں کی یہ فتح صرف ایک جنگ کی جیت نہیں تھی بلکہ ایک تہذیب کی بقا تھی۔
معرکہ عین جالوت کے بعد بیبرس نے قطز کے قتل میں مبینہ طور پر حصہ لیا یا کم از کم اس کا فائدہ اٹھایا اور خود تخت پر قابض ہو گیا۔ 1260ء میں سلطان الظاہر بیبرس کے لقب سے مصر اور شام کا حکمران بن گیا۔ بیبرس نے جس مضبوطی اور مہارت سے حکومت سنبھالی وہ اس کی غیر معمولی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ اس نے اندرونی خلفشار کو ختم کیا، مملوکوں کے مختلف گروہوں کو متحد کیا، اور عدل و انصاف کی بنیاد پر حکومت قائم کی۔
بیبرس نے اپنے دور حکومت میں عباسی خلافت کو علامتی طور پر دوبارہ زندہ کیا۔ بغداد کے ایک زندہ بچ جانے والے عباسی شہزادے کو قاہرہ لا کر خلیفہ مقرر کیا گیا اور بیعت لی گئی۔ اس سے بیبرس کو دینی اور اخلاقی جواز ملا، اور مملوک سلطنت اسلامی دنیا میں خلافت کا نیا مرکز بن گئی۔
سلطان بیبرس نے صلیبیوں کے خلاف مسلسل جہاد جاری رکھا۔ اس نے ایک ایک کر کے شام میں صلیبی قلعوں کو فتح کیا۔ قیساریہ، حیفا، ارسوف، یافا، صفد اور سب سے بڑھ کر انطاکیہ جیسے مضبوط قلعے بیبرس کے ہاتھوں میں آ گئے۔ انطاکیہ، جو کہ صلیبیوں کا ایک اہم مرکز تھا اور جس پر 170 سال سے صلیبیوں کا قبضہ تھا، بیبرس نے 1268ء میں فتح کیا۔ یہ ایک عظیم کامیابی تھی اور صلیبی دنیا میں کہرام مچ گیا۔
انطاکیہ کی فتح کے بعد بیبرس نے شہر کے قلعے تباہ کیے، صلیبی حکام کو قتل یا قید کر دیا، اور شہر کو مسلمانوں کے لیے کھول دیا۔ اس کی پالیسی یہ تھی کہ دشمن کی عسکری طاقت کو مکمل طور پر نیست و نابود کیا جائے تاکہ دوبارہ سر اٹھانے کی جرات نہ ہو۔
بیبرس صرف میدانِ جنگ کا ہیرو نہ تھا بلکہ ایک مدبر حکمران بھی تھا۔ اس نے مصر میں زراعت کی ترقی کے لیے نہریں کھدوائیں، تجارتی راستوں کو محفوظ بنایا، مدارس اور مساجد کی تعمیر کی، علماء کی سرپرستی کی اور فقہی علوم کو فروغ دیا۔
قاہرہ میں اس نے جامعہ الظاہریہ قائم کی جہاں ہزاروں طلبہ تعلیم حاصل کرتے۔ عدل و انصاف کا یہ عالم تھا کہ عوام سلطان کی عدالت میں بلاخوف اپنے مسائل پیش کرتے۔
بیبرس نے عوام کے لیے ایک دن مخصوص کر رکھا تھا جب وہ خود مظلوموں کی شکایات سنتا تھا۔ مؤرخ ابن ایاس لکھتے ہیں کہ بیبرس رات کو بھیس بدل کر بازاروں میں نکلتا اور عوام کے حالات کا خود مشاہدہ کرتا۔
بیبرس کی سفارت کاری بھی کمال کی تھی۔ اس نے بازنطینی سلطنت کے ساتھ صلح کی تاکہ مغربی محاذ محفوظ رہے۔ آرمینیوں کو منگولوں سے الگ کرنے کے لیے حکمت عملی سے کام لیا۔ یہاں تک کہ منگولوں کے اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھا کر شام کو مکمل طور پر آزاد کرا لیا۔
بیبرس کی شخصیت میں جنگجو سپہ سالار، مدبر سیاستدان، منصف حکمران اور پرہیزگار مسلمان کی خوبیاں یکجا تھیں۔ وہ خود سادہ لباس پہنتا، عام کھانے کھاتا، اور نماز کا سختی سے پابند تھا۔ اس کی ذاتی زندگی میں بھی تواضع اور انکساری نمایاں تھی۔
1277ء میں دمشق میں اچانک بیمار ہو کر وفات پا گئے۔ کچھ مؤرخین کے مطابق انہیں زہر دے کر قتل کیا گیا، مگر اکثر مؤرخین بیماری کو وجہ قرار دیتے ہیں۔ بیبرس کی وفات پر پورے عالم اسلام میں کہرام مچ گیا۔ وہ ایک ایسا محافظ تھا جس نے اسلام کو منگولوں کے طوفان سے بچایا، صلیبیوں کو نیست و نابود کیا اور امت کو سربلندی کا راستہ دکھایا۔
سلطان بیبرس کا مقبرہ دمشق میں واقع ہے اور آج بھی لاکھوں مسلمان اس عظیم فاتح کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اس کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر حوصلہ، غیرت اور ایمان ہو تو غلامی کی زنجیریں بھی عظمت کی زینہ بن سکتی ہیں۔
بیبرس نے جس سلطنت کی بنیاد رکھی تھی، اس کی مضبوطی کا راز صرف عسکری فتوحات میں نہیں تھا بلکہ انتظامی اصلاحات میں بھی پنہاں تھا۔ اس نے مملوک سلطنت کے ڈھانچے کو از سر نو منظم کیا۔ تمام فوجیوں کا باقاعدہ اندراج کرایا گیا، ہر فوجی کو ایک خاص زمین الاٹ کی گئی جس کی پیداوار اس کی تنخواہ کا ذریعہ بنتی۔ اس نظام کو "اقطاع" کہا جاتا تھا۔ اس سے نہ صرف فوج کی مالی حالت مضبوط ہوئی بلکہ ہر سپاہی اپنے علاقے میں نظم و نسق کا ذمہ دار بھی بن گیا، اور سلطنت کی جڑیں نچلی سطح تک مضبوط ہو گئیں۔
بیبرس نے خفیہ اطلاعات کے نظام کو بھی بڑی مہارت سے ترتیب دیا۔ جاسوسوں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا جو سلطنت کے ہر کونے سے حالات کی رپورٹیں فراہم کرتا تھا۔ یہ نیٹ ورک نہ صرف داخلی امن و امان کے لیے مؤثر تھا بلکہ صلیبی ریاستوں اور منگول افواج کی سرگرمیوں پر بھی گہری نظر رکھتا تھا۔
بیبرس کو علم تھا کہ دشمن کی تیاریوں اور سازشوں کا قبل از وقت علم ہونا ہی فتح کی ضمانت ہے۔
مؤرخین بیان کرتے ہیں کہ بیبرس کو معمولی معمولی بغاوتوں کی بھی بروقت خبر مل جاتی تھی اور وہ فوری کارروائی کر کے خطرات کا قلع قمع کر دیتا تھا۔
دینی لحاظ سے بیبرس ایک گہرے شعور رکھنے والا سلطان تھا۔ اس نے نہ صرف قاہرہ میں عباسی خلافت کو دوبارہ زندہ کیا بلکہ پورے عالم اسلام میں خلافت کی علامتی حیثیت کو محفوظ رکھنے کے لیے کام کیا۔ وہ علمائے کرام کی دل کھول کر سرپرستی کرتا تھا۔ فقہ، حدیث اور تفسیر کے مدارس اس کے دور میں پھلے پھولے۔
جامعہ الظاہریہ اور دوسری کئی بڑی تعلیمی ادارے اس کی دین دوستی کا واضح ثبوت ہیں۔
بیبرس نے قاہرہ میں ایک عظیم کتب خانہ بھی قائم کیا جس میں ہزاروں نادر کتب جمع کی گئیں، اور طلبہ و علماء کو تحقیق و تعلیم کے لیے آزاد ماحول فراہم کیا گیا۔
میدان جنگ میں بیبرس نہایت سخت دل اور بے رحم تھا، مگر عام عوام کے ساتھ اس کا برتاؤ مشفقانہ تھا۔ وہ روزانہ عدالت لگاتا اور ذاتی طور پر عوام کے مقدمات سنتا۔ مؤرخین بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی معمولی آدمی بھی سلطان سے انصاف مانگتا تو بیبرس فوراً اس کی فریاد پر کان دھرتا۔ ایک مرتبہ ایک بیوہ عورت نے کسی امیر کی شکایت کی تو بیبرس نے خود تحقیقات کروا کر امیر کو سزا دی اور عورت کو انصاف دلایا۔
یہ انصاف پسندی اس کے عہد میں اتنی مشہور ہو گئی کہ لوگ دور دور سے اپنے معاملات کے تصفیے کے لیے قاہرہ آتے تھے۔
بیبرس کی خارجہ پالیسی بھی کمال کی تھی۔ اس نے نہ صرف صلیبیوں اور منگولوں کا مقابلہ کیا بلکہ بازنطینی سلطنت، آرمینیا، اور دیگر ہمسایہ ریاستوں سے بھی معاہدے اور سفارتی تعلقات استوار کیے۔ اس نے اپنی سفارت کاری کے ذریعے کئی جنگوں کو ٹال دیا اور دشمنوں کو ایک دوسرے سے لڑوا کر مسلمانوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا۔
وہ جانتا تھا کہ صرف تلوار سے نہیں، بلکہ حکمت عملی سے بھی دشمن کو شکست دی جا سکتی ہے۔
سلطان بیبرس کی ایک اور نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ خود کو عوام سے الگ نہیں رکھتا تھا۔ وہ قاہرہ کی گلیوں میں عام کپڑے پہن کر نکلتا، بازاروں کا دورہ کرتا، تاجروں سے قیمتوں کے بارے میں پوچھتا، اور ظالم اہلکاروں کے خلاف فوری ایکشن لیتا۔
مؤرخین بیان کرتے ہیں کہ کئی بار اس نے بددیانت حکام کو بازار میں سرعام کوڑے مارنے کا حکم دیا تاکہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔
بیبرس کے دور میں تجارت خوب پھلی پھولی۔ مصر، شام اور حجاز کے درمیان قافلوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا۔ قاہرہ اس زمانے میں دنیا کی بڑی تجارتی منڈیوں میں شامل ہو گیا۔
بیبرس نے مسجد اقصیٰ اور حرمین شریفین کی خدمت بھی کی۔ اس نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے لیے سڑکوں کی تعمیر کروائی، حاجیوں کے لیے قیام گاہیں بنوائیں، اور راستے میں ڈاکہ زنی کے خلاف خصوصی فوجیں تعینات کیں۔
اس کا دل اسلام کی عظمت اور مسلمانوں کی بھلائی کے لیے ہر وقت دھڑکتا تھا۔
بیبرس کے دور میں فنون لطیفہ، فن تعمیر اور سائنسی علوم کو بھی فروغ ملا۔ اس نے قاہرہ، دمشق اور حلب میں کئی شاندار عمارتیں تعمیر کروائیں جن میں مساجد، مدرسے، قلعے اور کارواں سرائے شامل تھے۔ دمشق کا قلعہ الظاہریہ اور قاہرہ کا قلعہ آج بھی اس کی عظمت کی نشانیاں ہیں۔
بیبرس کا عسکری نظام بے نظیر تھا۔ اس نے فوج کو مستقل تربیت اور مشق کی بنیاد پر تیار رکھا۔ نئی جنگی تکنیکیں متعارف کروائیں، اور ہر سپاہی کو گھڑ سواری، تیر اندازی، شمشیر زنی اور دست بدست قتال میں مہارت دلائی۔
میدان جنگ میں بیبرس ہمیشہ اگلی صفوں میں رہتا، اپنی جان کی پروا کیے بغیر دشمن پر جھپٹتا۔
اسی جذبے نے اس کے سپاہیوں میں بے پناہ جوش اور وفاداری پیدا کر دی تھی۔
1277ء میں سلطان الظاہر بیبرس کی زندگی کا سورج غروب ہوا۔ بعض روایات کے مطابق وہ دمشق میں شکار کے دوران بیمار پڑا اور چند دنوں میں انتقال کر گیا۔ کچھ مورخین کہتے ہیں کہ دشمنوں نے سازش کر کے اسے زہر دیا تھا، مگر قطعی شواہد نہیں ملتے۔
اس کی وفات پر دمشق، قاہرہ، اور پورے عالم اسلام میں صف ماتم بچھ گئی۔ علماء، شعراء، اور مؤرخین نے اس کی بہادری، تدبر اور انصاف پسندی پر مرثیے اور قصیدے لکھے۔
ابن خلدون جیسے عظیم مفکرین نے بھی بیبرس کے دور کو ایک سنہری دور قرار دیا ہے۔
بیبرس کے بعد اس کے بیٹے سلطان السعید برسر اقتدار آیا، مگر باپ جیسی صلاحیتوں سے محروم تھا۔ رفتہ رفتہ مملوک سلطنت میں زوال شروع ہو گیا، مگر بیبرس کے قائم کردہ ادارے اور نظام اتنے مضبوط تھے کہ کئی دہائیوں تک سلطنت کو سہارا دیتے رہے۔
آج جب ہم سلطان بیبرس کی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اس نے نہ صرف اپنے زمانے کی سب سے بڑی عالمی طاقتوں کو شکست دی، بلکہ اسلامی تہذیب کو بچایا، عدل و انصاف کا بول بالا کیا، علم و فن کو فروغ دیا، اور اپنی جان، مال اور وقت کو اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے وقف کر دیا۔
بیبرس کی داستان غلامی سے عظمت کی معراج تک کی وہ داستان ہے جس میں ہر مسلمان کے لیے ہمت، غیرت، صبر اور عزم کا بے مثال سبق پوشیدہ ہے۔
اگر آج بھی امت مسلمہ بیبرس جیسے سرفروشوں کی سیرت سے سبق حاصل کرے تو دنیا کی کوئی طاقت اسلام کو زیر نہیں کر سکتی۔
28/05/2025
*نور خان فارمولہ*
ائیرمارشل نور خان ایک طلسماتی شخصیت تھے‘ وہ 1923ء میں پیدا ہوئے‘ 1941ء میں انڈین ائیرفورس جوائن کی‘ 1947ء میں پاکستان ائیر فورس کا حصہ بنے اور پھر ہیرو کی زندگی گزاری‘ وہ ”مین آف سٹیل“ کہلاتے تھے‘ وہ 1965ء کی جنگ میں ائیر چیف تھے لیکن خود جہاز اڑا کر حساس ترین مقامات پر چلے جاتے تھے‘ ان کی خدمات کا دائرہ صرف ائیرفورس تک محدود نہیں تھا‘ وہ 1959ء سے 1965ء تک پی آئی اے کے ایم ڈی رہے اور اسے دنیا کی پانچ بہترین ائیر لائینز میں شامل کرا دیا۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بنے اور پاکستان کو ہاکی کا ورلڈ چیمپیئن بنوا دیا‘ وہ کرکٹ بورڈ کے سربراہ بنے اور ہم کرکٹ کی دنیا میں ”مین پلیئر“ بن گئے‘ نور خان نے اپنی زندگی میں جس ادارے میں قدم رکھا وہ ادارہ انٹرنیشنل بن گیا اور دوسرے ملکوں نے وہ ماڈل بعد ازاں نقل کیا تاہم یہ تمام کامیابیاں ائیر مارشل نور خان کی پروفیشنل زندگی تھی‘ آپ کو زندگی میں ایسے بلکہ ان سے بھی بہتر لوگ مل جائیں گے لیکن *ان کا اصل کمال ان کی ذاتی زندگی تھی‘ وہ 1969ء میں ریٹائر ہوئے اور ریٹائرمنٹ کے 42 سال بعد 2011ء میں 88 سال کی عمر میں فوت ہوئے مگر وہ مرنے تک سپر فٹ تھے‘* وہ اسلام آباد میں روز مارگلہ ہلز کی ٹریل تھری پر ٹریکنگ کرتے تھے اور 40 منٹ میں بغیر رکے آخری پوائنٹ تک پہنچ جاتے تھے‘ میں اکثر انہیں ٹریل تھری پر دیکھتا تھا‘ وہ دائیں بائیں دیکھے بغیر بیس بیس سال کے نوجوانوں کو کراس کر جاتے تھے‘ ہم لوگ ان کے مقابلے میں جوان بھی تھے اور ”سپر فٹ‘ بھی لیکن ہم جوان لوگ انہیں کبھی کراس نہ کر سکے‘ ہم جب آخری پوائنٹ پر پہنچتے تھے تو وہ نیچے پہنچ چکے ہوتے تھے‘ *وہ88 سال کی عمر میں بھی چالیس سال کے لگتے تھے‘* ہم میں سے اکثر لوگوں کے گھٹنوں میں درد ہوتا تھا‘ ہم مسلسل چار دن ٹریک نہیں کر سکتے تھے لیکن وہ آندھی ہو یا طوفان وہ وقت مقررہ پر مارگلہ کی پارکنگ میں ہوتے تھے اور ہاتھ پیچھے باندھ کر اوپر چڑھنا شروع کر دیتے تھے۔
میں نے ایک دن ان سے پوچھا ”سر آپ کے گھٹنوں میں درد نہیں ہوتا‘ وہ ہنس کر بولے ”مجھے اکثر لوگ کہتے ہیں پہاڑ پرچڑھنے اور اترنے سے گھٹنے جواب دے جاتے ہیں لیکن مجھے آج تک کسی جوڑ میں درد نہیں ہوا“ میں نے عرض کیا ”یہ شاید آپ کے طاقتور جینز کا کمال ہے“ وہ ہنس کر بولے ”نہیں ہرگز نہیں‘ میرے خاندان کے زیادہ تر لوگ جلدفوت ہو گئے تھے“ میں نے ان سے وجہ پوچھی‘ ائیر مارشل صاحب نے گھڑی کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولے ”ینگ مین وِل ٹیل یو نیکسٹ ٹائم“اور تیز تیز قدموں سے پہاڑ چڑھنے لگے۔
مجھے محسوس ہوا وہ ایکسرسائز کے ساتھ ساتھ وقت کے بھی ٹھیک ٹھاک پابند ہیں‘ میں اس کے بعد ان سے کئی مرتبہ ملا‘ سلام کیا ”نیکسٹ ٹائم“ کا حوالہ بھی دیا لیکن وہ مسکرا کر آگے نکل گئے لیکن پھر ایک دن معجزہ ہو گیا‘ وہ میرے قریب سے گزرے اور بولے ”آپ اگر آج فارغ ہیں تو بات ہو سکتی ہے“ میں نے عرض کیا ”سر وقت ہی وقت‘ آپ فرمائیے“ وہ بولے”میں 40 منٹ میں نیچے آ جاؤں گا‘ ہم آدھ گھنٹہ گپ لگا لیں گے“ میں نے سلام کیا اور اوپر جانے کی بجائے نیچے کی طرف چل پڑا کیونکہ میں جانتا تھا میں 40 منٹ میں واپس نیچے نہیں پہنچ سکوں گا۔
میں بمشکل نیچے پارکنگ میں پہنچا‘ آپ یقین کیجئے وہ 88 سال کی عمر میں 39 منٹ میں اوپر آخری پوائنٹ کو ہاتھ لگا کر نیچے آ گئے تھے۔ٹریل تھری کی پارکنگ کے سامنے کسی صاحب ذوق نے گھر میں کلب ٹائپ ریستوران بنا رکھا تھا‘ ہم وہاں چلے گئے‘میرے پاس وقت کم تھا اور سوال زیادہ چنانچہ *میں نے ان سے فٹنس کا راز پوچھنا شروع کر دیا‘* وہ بولے *”صحت اٹھارہ اصولوں کا مکمل پیکج ہے*‘ ایکسرسائز اس پیکج کا صرف ایک اصول ہے‘ ہم جب تک باقی 17 اصولوں کو ایکسرسائز جتنی اہمیت نہیں دیتے ہم اس وقت تک سپر فٹ نہیں ہو سکتے“۔
میرے لئے یہ نئی بات تھی‘ میں خاموشی سے سننے لگا‘ وہ بولے *”وقت کی پابندی صحت کا پہلا اصول ہے*‘ آپ جب تک وقت کو کنٹرول نہیں کرتے‘ آپ اس وقت تک صحت مند نہیں ہو سکتے‘ میں نے اپنی زندگی میں وقت کی پابندی نہ کرنے والے کسی شخص کو 60 سال سے اوپر جاتے نہیں دیکھا‘ میں نے 18 سال کی عمر میں گوروں کے ساتھ کام شروع کیا تھا‘ میں نے وقت کی پابندی ان سے سیکھی‘ ٹائم اور ٹائمنگ فلائنگ کے بنیادی اصول ہیں‘ فلائنگ نے میری یہ عادت پختہ کر دی چنانچہ کچھ بھی ہو جائے میں وقت کی پابندی کرتا ہوں۔
مجھے صدر ایوب خان نے بلایا تھا‘ وہ چار منٹ لیٹ تھے‘ میں ماتحت ہونے کے باوجود ملاقات کئے بغیر واپس آ گیا تھا‘ وہ دوسرے دن خود میرے دفتر آئے۔ *دوسرا‘ میں سگریٹ اور شراب نہیں پیتا‘* چائے اور کافی بھی زیادہ نہیں لیتا‘ میری نوکری کے زمانے میں سگریٹ اور شراب فوجی کلچر کا حصہ تھی‘ ہمیں کوٹہ ملتا تھا‘ میں اپنا کوٹہ اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیتا تھا‘ میرے کوٹے کو انجوائے کرنے والے تمام لوگ چالیس سال پہلے فوت ہو گئے جبکہ میں آج بھی روزانہ پہاڑ پر چڑھتا ہوں۔
تیسرا‘ *میں زندہ رہنے کیلئے کھانا کھاتا ہوں‘ کھانا کھانے کیلئے زندہ نہیں رہتا‘* میں نے کیریئر کے شروع میں انگریز افسروں کو فاقے کرتے دیکھا تھا‘ ہمارے بیس میں ایک بودھ بھکشو آیا کرتا تھا‘ *وہ افسروں کو فاقہ کراتا تھا‘ افسر فاقے کے بعد چاق و چوبند ہو جاتے تھے*‘ میں نے ان کی دیکھا دیکھی روزے رکھنا شروع کر دیئے‘ میری جسمانی اور ذہنی صحت روزوں کی وجہ سے زیادہ اچھی ہو گئی‘ میں نے اس تجربے سے سیکھا روزہ بھی اچھی صحت کا ایک اصول ہے۔
میں یہ اصول بھی کیری کرتا ہوں‘ رمضان کے سارے روزے بھی رکھتا ہوں اور عام دنوں میں بھی ہر مہینے دو چار روزے رکھ لیتا ہوں‘ میرا جسمانی نظام ٹھیک رہتا ہے“ وہ رکے اور بولے ”*میں نمک چینی مصالحے اور گھی کم استعمال کرتا ہوں تلی ہوئی اشیاء نہیں کھاتا گوشت کی جگہ مچھلی کھاتا ہوں اور وہ بھی گرلڈ *ہمیں اچھی صحت کیلئے ہفتے میں کم از کم تین مرتبہ مچھلی کھانی چاہیے* یہ ہمیں فٹ رکھتی ہے“ وہ رکے اور بولے *پریشانی دکھ اور غم انسان کو جلد بوڑھا کر دیتے ہیں*
*میں پریشان ہونے کی بجائے ہمیشہ اپنی پریشانی کا حل تلاش کرتا ہوں*‘ حل نکل آئے. تو ٹھیک ورنہ *اللہ کی رضا سمجھ کر صبر کر لیتا ہوں“ وہ رکے اور مسکرا کر بولے *میں روز اپنا وزن کرتا ہوں* میں نے باتھ روم میں وزن کی مشین رکھی ہوئی ہے‘ میں صبح اٹھ کر وزن دیکھتا ہوں جس دن میرا وزن زیادہ ہو میں اگلے دن روزہ بھی رکھ لیتا ہوں اور ٹریکنگ کا دورانیہ بھی بڑھا دیتا ہوں‘ وزن کا صحت سے گہرا تعلق ہے‘ آپ کا وزن جتنا بڑھتا جاتا ہے‘ آپ اتنا اپنی قبر کے قریب ہوتے جاتے ہیں چنانچہ *آپ کسی قیمت پر اپنا وزن نہ بڑھنے دیں‘ آپ فٹ رہیں گے*
وہ رکے اور بولے ”میں دوستوں کے معاملے میں بھی بہت سخت ہوں‘ *میں صرف ہم مزاج لوگوں کو دوست بناتا ہوں*‘ چڑچڑے‘ بدتہذیب‘ نمائشی اور نالائق لوگوں سے پرہیز کرتا ہوں لیکن جو لوگ میرے دوست بن جاتے ہیں میں روز ان سے ضرور ملتا ہوں‘ انسان کو اچھے اور ہم مزاج لوگوں کی کمپنی ہمیشہ انرجی دیتی ہے‘ میں یہ انرجی بھی لیتا ہوں‘ میں نے دوستوں سے محروم تنہائی پسند لوگوں کو بھی جلد مرتے دیکھا“ وہ رکے اور بولے *آپ اگر اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرتے رہیں تو بھی آپ صحت مند رہتے ہیں*
امید انرجی ہوتی ہے اور یہ شکر سے جنم لیتی ہے‘ آپ اللہ کا شکر کرتے جائیں‘ آپ کی امید بڑھتی جائے گی‘ *میں نے مایوس اور ناشکرے لوگوں کو ہمیشہ بیمار بھی دیکھا اور جلدی قبرستان پہنچتے بھی* چنانچہ کچھ بھی ہو جائے امید اور شکر کو ہاتھ سے نہ جانے دو تم لمبی اور صحت مند زندگی پاؤ گے“۔ وہ رکے‘ لمبا سانس لیا اور فرمایا *فیملی بھی آپ کو انرجی دیتی ہے‘ آپ اگر دن کا ایک حصہ بچوں اور ان کے بچوں میں گزارتے ہیں تو بھی آپ جوان اور صحت مند رہتے ہیں*‘ میں پوری زندگی فیملی مین رہا ہوں‘ میں نے فیملی کو دور جانے دیا اور نہ خود ان سے دور گیا چنانچہ میں آج بھی چاق وچوبند ہوں‘ میں نے ان لوگوں کو بھی بیمار اور لاچار پایا جو صاحب اولاد نہیں تھے یا جو بچوں سے دور رہتے تھے جبکہ بچوں والوں کو خوش بھی دیکھا اور فٹ بھی“۔
میں ان کی گفتگو غور سے سن رہا تھا‘ وہ بولے”صحت کے چند اور اصول بھی ہیں مثلاً آپ *اگر دوسروں کے کام آتے ہیں چیریٹی ورک کرتے ہیں تو بھی آپ صحت مند ہوں گے* مثلاً آپ کم سے کم ریڈیو سنیں اور کم سے کم ٹی وی دیکھیں آپ صحت مند رہیں گے‘ *مثلاً آپ جلدی سوئیں اور جلدی جاگیں‘ کم از کم نو دس گھنٹے نیند لیں*‘ آپ کی جسمانی بیٹریاں چارج رہیں گی‘ مثلاً آپ فطرت کے قریب رہیں‘ میری طرح روزانہ پہاڑ پر آئیں‘ جنگلوں میں نکل جائیں‘ جھیلوں اور دریاؤں کے ساتھ واک کریں اور برف میں چلیں۔
مثلاً آپ روز چند منٹوں کیلئے خاموش بیٹھ جائیں‘ کسی سے بات کریں اور نہ کسی کی سنیں‘ یہ مراقبہ بھی آپ کو صحت مند بنا دے گا‘ مثلاً *خوراک میں سبزیاں اور فروٹ بڑھا دیں*‘ ڈرائی فروٹ بھی کھائیں‘ مثلاً آپ کی زندگی کا کوئی نہ کوئی گول‘ کوئی نہ کوئی مقصد ہونا چاہیے‘ *بے مقصد لوگ زمین پر بوجھ ہوتے ہیں‘ زمین انہیں جلد اتار دیتی ہے* اور مثلاً آخر میں روزانہ ایکسرسائز بلاناغہ‘ ریس لگائیں‘ نہ لگا سکیں تو جاگنگ کریں‘ یہ بھی نہ کر سکیں تو واک ضرور کریں‘ آپ لمبی زندگی گزاریں گے“۔
وہ رکے‘ گرین ٹی کا آخری گھونٹ بھرا اور بولے ”آخری ٹپ‘ تجربہ کار لوگوں سے تجربے کی باتیں سیکھتے رہا کریں‘ علم بھی انسان کو رواں اور صحت مند رکھتا ہے“ وہ اٹھے‘ ہاتھ ملایا اور رخصت ہو گئے‘
وہ چند دن بعد بیمار ہوئے‘ ہسپتال داخل ہوئے اور دو دن بعد انتقال فرما گئے‘ وہ ہسپتال جانے سے پہلے بھی ٹریل تھری پر آئے تھے اور اپنی آخری واک مکمل کی تھی۔
"زیروپوائنٹ"
16/05/2025
مردانہ بیوی موت کا دوسرا نام ہے لہذا شادی سوچ سمجھ کے اور دیکھ کر کریں میں نے بہت دوستوں کو روز جھیلتے دیکھا ہے
13/05/2025
ہندو ماں اور بیٹے کی گفتگو
بیٹا: امی، تاج محل کتنا خوبصورت ہے۔ یہ تو ہم نے بنایا تھا نا؟ 🙄
ماں: نہیں بیٹا، اسے بادشاہ شاہجہان نے بنوایا تھا۔ وہ ایک مسلمان تھا۔ 😥
بیٹا: اچھا۔ تو پھر یقیناً قطب مینار ہم نے بنایا ہوگا، ہے نا؟ 🙄
ماں: نہیں بیٹا، وہ بھی ایک مسلمان نے بنایا تھا۔ اس کا نام قطب الدین ایبک تھا۔ 😥
بیٹا: پھر لال قلعہ تو ہم نے بنایا ہوگا؟ 🙄
ماں: نہیں، وہ بھی مسلمان حکمرانوں نے بنایا تھا۔ 🤧
بیٹا: تو پرانا قلعہ (پُرانا قلعہ) ہم نے بنایا ہوگا؟ 🙄
ماں: نہیں بیٹا، پرانا قلعہ بھی مسلمانوں نے ہی بنایا تھا۔ 😔
بیٹا: اچھا... لیکن چار مینار تو ہم نے بنایا ہوگا، ہے نا؟ 😕
ماں: نہیں، وہ بھی مسلمانوں نے بنایا تھا۔ 😟
بیٹا: امی، میں نے سنا ہے کہ ہندوستان نے پہلا میزائل بنایا تھا۔ یہ تو ہندو حکمرانوں نے بنایا ہوگا، ہے نا؟ 😀
ماں: نہیں بیٹا، ہندوستان کا پہلا میزائل ٹیپو سلطان نے بنایا تھا۔ وہ بھی ایک مسلمان تھا۔ 😪
بیٹا: امی، میں نے سنا ہے کہ گرینڈ ٹرنک روڈ جو تقریباً 3000 کلومیٹر لمبی ہے، وہ ہم نے بنائی تھی، ہے نا؟ 😌
ماں: نہیں بیٹا، وہ بھی ایک مسلمان حکمران شیر شاہ سوری نے بنوائی تھی۔ 🙁
بیٹا: تو کم از کم منگولوں کے خلاف ہم نے جنگ لڑی ہوگی؟ 🤗
ماں: نہیں، علاءالدین خلجی نے منگولوں کے خلاف جنگ لڑی تھی۔ اگر وہ ہار جاتے تو ہندوستان تباہ ہوجاتا۔ 😟
بیٹا: اچھا، تو مغل سلطنت ہماری تھی، ہے نا؟ 😯
ماں: نہیں، مغل سلطنت بھی مسلمانوں کی تھی۔ 😒
بیٹا: "جئے ہند" تو ہم نے سب سے پہلے کہا تھا، ہے نا؟ 🤤
ماں: نہیں، یہ بھی سب سے پہلے ایک مسلمان نے کہا تھا۔ 😢
بیٹا: "سارے جہاں سے اچھا، ہندوستاں ہمارا" ہم نے لکھا تھا؟ 🙂
ماں: نہیں، یہ مسلمان شاعر علامہ اقبال نے لکھا تھا۔ 😢
بیٹا: کم از کم ہندوستانی جھنڈا تو ہم نے بنایا ہوگا، ہے نا؟ 😯
ماں: اصل میں... اسے پنگلی وینکیا نے ڈیزائن تو کیا تھا، لیکن جو حتمی ورژن تسلیم کیا گیا، وہ ایک مسلمان لڑکی سوریا طیّب جی (حیدرآباد) نے بنایا تھا۔ 😞
بیٹا: تو پہلا سیٹلائٹ ہم نے بھیجا ہوگا، ہے نا امی؟ 😀
ماں: نہیں، ہندوستان کئی بار ناکام ہوا۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام، ، نے کامیابی سے لانچ کیا۔ 😤😖
اگر وہ نہ ہوتے تو ہم خلاء میں نہ پہنچ پاتے۔ 😭
بیٹا: تو کم از کم ایٹمی ہتھیار تو ہم نے بنائے ہوں گے؟؟؟ 😡
ماں: نہیں، وہ ، ڈاکٹر عبدالکلام نے ہی بنائے تھے۔ 😭
اگر وہ نہ ہوتے تو چین اور پاکستان ہمیں کبھی سنجیدہ نہ لیتے۔ 😱
بیٹا: تو ہم نے آزادی کی جدوجہد تو سب سے پہلے شروع کی تھی نا؟؟؟ 😨
ماں: نہیں بیٹا، سب سے پہلی بغاوت ٹیپو سلطان نے کی تھی۔ 😭
بیٹا: تو پھر مسلمانوں کے خلاف اتنی نفرت کیوں؟ ان سے سوالات کیوں؟ کیوں؟؟؟ 😤
محب وطن ہونا آخر ہے کیا؟ 😭
ماں: بس بیٹا... اب بہت ہوگیا۔
شرم کرو
Daba dya
10/05/2025
Online shopping cheatar hai
06/05/2025
"آپ کا موبائل آپ کی جان بھی بچا سکتا ہے — اگر آپ نے یہ 2 سیٹنگز آن کی ہوں!"
سوچئے!
اگر آپ اکیلے سفر پر ہوں، یا راستے میں کوئی حادثہ ہو جائے — آپ بیہوش ہوں، بولنے کے قابل نہ ہوں، اور فون لاک ہو۔
اب مدد کرنے والا آپ کے گھر والوں کو کیسے اطلاع دے گا؟
آپ کا بلڈ گروپ، الرجی، بیماری، یا خون دینے والا کہاں سے ڈھونڈے گا؟
اگر یہ معلومات آپ کے فون میں محفوظ نہیں تو…؟
آئیے! جانیں 2 زبردست، مفت اور انتہائی اہم موبائل سیٹنگز جو ہر شخص کو فوری آن کرنی چاہییں:
ا1️⃣ Emergency Information — ایمرجنسی میں شناخت اور طبی معلومات
[ID Card | Blood Drop | Phone Emoji]
یہ وہ معلومات ہیں جو کوئی بھی شخص آپ کے فون کو انلاک کیے بغیر دیکھ سکتا ہے، جیسے:
آپ کا مکمل نام
بلڈ گروپ
عمر
کسی قسم کی الرجی یا بیماری (شوگر، ہارٹ، دمہ وغیرہ)
کون سے افراد کو فوری اطلاع دینی ہے (Emergency Contacts)
Android صارفین کے لیے طریقہ:
Settings میں جائیں
Safety & Emergency یا About Phone > Emergency Information پر جائیں
"Add Information" پر کلک کریں
نام، بلڈ گروپ، الرجیز، بیماری، ایمرجنسی کانٹیکٹس درج کریں
"Show on Lock Screen" کو ضرور آن کریں
iPhone صارفین کے لیے:
Health App کھولیں
Medical ID پر کلک کریں
"Edit" پر جا کر معلومات بھریں
"Show When Locked" آن کریں
ایمرجنسی کانٹیکٹس شامل کریں
فائدے:
حادثے کی صورت میں کوئی بھی آپ کے گھر والوں سے رابطہ کر سکتا ہے
اسپتال والے فوری بلڈ گروپ جان کر علاج شروع کر سکتے ہیں
آپ کی الرجی یا دوائیوں کی معلومات جان بچا سکتی ہے
ق2️⃣ Emergency SOS — ایک بٹن، تین جان بچانے والے ایکشنز
[Alarm | Location | Phone | Camera Icons]
فرض کریں:
کسی نے آپ کو روک لیا ہو، آپ کو خطرہ ہو، یا کوئی حادثہ ہو گیا ہو —
آپ بول نہیں سکتے، لیکن آپ کا موبائل بولے گا!
کیا کرنا ہے؟
صرف موبائل کا پاور بٹن لگاتار 5 بار دبائیں!
اور کیا ہوگا؟
1. [Location Icon] آپ کی لائیو لوکیشن فوری طور پر تین منتخب کردہ افراد کو چلی جائے گی
2. [Phone Icon] ان افراد کو فوری کال لگ جائے گی (خودکار)
3. [Video Camera Icon] ویڈیو خودبخود ریکارڈ ہونا شروع ہو جائے گی (کچھ موبائلز میں)
Android میں یہ سیٹنگ کیسے آن کریں؟
Settings > Safety & Emergency > Emergency SOS
"Use Emergency SOS" آن کریں
3 سے 5 کانٹیکٹس سیلیکٹ کریں
"Start Emergency Actions with 5 Presses" آن کریں
لوکیشن شیئرنگ کو On کریں
اگر دستیاب ہو تو "Record Video" بھی آن کریں
iPhone میں کیسے کریں؟
Settings > Emergency SOS
"Call with 5 Presses" آن کریں
Medical ID میں Emergency Contacts ڈالیں
Location Services میں "Share During Emergency" کو آن کریں
فائدے:
آپ کی لوکیشن عزیزوں کو ملے گی — وہ فوراً پہنچ سکتے ہیں
کال خود ہو گی، آپ کچھ بول نہ سکیں تو بھی
ویڈیو ریکارڈنگ ثبوت بن سکتی ہے (قانونی یا سیکیورٹی مقصد کے لیے)
3️⃣ اضافی تحفظی اقدامات — صرف 2 منٹ کا کام، زندگی بھر کا تحفظ!
[Shield | Lightbulb Icons]
لاک اسکرین میسج میں لکھیں: “In case of emergency, call [نمبر]”
ICE (In Case of Emergency) کے طور پر کانٹیکٹ محفوظ کریں
وال پیپر پر بھی بلڈ گروپ اور کانٹیکٹ نمبر لکھا جا سکتا ہے
ہر 6 مہینے بعد معلومات اپڈیٹ کریں (نمبر یا طبی معلومات بدل سکتی ہیں)
4️⃣ یہ سیٹنگز کن لوگوں کے لیے لازمی ہیں؟
طلبہ جو ہاسٹل یا اکیلے رہتے ہیں
خواتین جو دفاتر یا بازاروں میں جاتی ہیں
رائیڈرز، ڈرائیورز، ڈیلیوری اسٹاف
بزرگ شہری
سفر کرنے والے یا اکیلے کام کرنے والے افراد
ہر وہ شخص جو کسی ناگہانی حادثے کا شکار ہو سکتا ہے
گزارش: ابھی عمل کریں — اور سب کو شیئر کریں!
یہ نہ صرف آپ کے لیے، بلکہ کسی اور کی جان بچانے کا ذریعہ بن سکتی ہے!
یہ کوئی ایپ نہیں — یہ آپ کے موبائل میں موجود فیچرز ہیں، بس آن کرنے کی دیر ہے۔
Inbox main to sab a rahy hai
Follow karny sy kya jata hai
Koi to khayal kro
Zalim ho sary
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Lahore
54950