Kharian overseas

Kharian overseas

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Kharian overseas, Ahmed band sakrand city shaheed benazirabad Lahore, Lahore.

05/11/2022

ہم اس بیان کے مطابق چلیں گے۔۔
مارنا ہے مار دو جو کرنا کردو۔۔۔

05/11/2022

ابھی حال ہی میں پاکستان کے حاضر سروس وزیر خارجہ نے لاہور میں کھڑے ہوکر ادارے اور اسکے تمام افراد کو "ڈینجرس ڈفرز" بولا۔
کچھ عرصہ قبل سابق سپیکر قومی اسمبلی اور موجودہ وزیر صنعت و تجارت جناب ایاز صادق نے ادارے کے سب سے بڑے، اعلی اور پروفیشنل افسر کے بارے میں کہا ٹانگیں کانپ رہی تھی، ماتھے پر پسینہ تھا اور زبان خشک ہو رہی تھی۔۔۔۔

دو سال قبل میاں نواز شریف جو کہ تین دفعہ پاکستان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور ابھی حال ہی میں پاکستان کے سب سے بڑے، مقدس اور سپریم ادارے کے سب سے سپر افسر کی تعیناتی کا حکم دیں گے۔۔
انہون نے ویڈیو تقریر میں اس ادارے کے سب سے اعلی اور سپر افسر کو رکیک الزامات کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انکو سزا دینے، نااہل کرانے اور قید کرنے کے پیچھے نعوز باللہ یہ سپر افسر ملوث ہے۔۔۔

کچھ دن پہلے اس موجودہ امپورٹڈ حکومت کے چیف فنانشل آفیسر جناب آصف علی زرداری عرف کھپے سرکار نے پریس کانفرنس میں دیدہ دلیری کے ساتھ ادارے کے نمبر دو سپر افسر یعنی تین ستاروں والے جرنیل کا نام لیکر ٹھٹھہ اڑا کر کہا کہ وہ تو ہم نے کھڈے لائن لگا لیا ہے۔۔۔

اسکے علاوہ پڈم میں شامل ہر ایک جماعت نے اس ادارے کی جو جو توہین کی جتنا برا بھلا کہا اس پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے لیکن افسوس کہ ادارہ سویا رہا۔۔۔۔
خاموش رہا۔۔۔۔
اسکو پریس ریلیز جاری کرنے کی فرصت نہ ملی۔۔۔۔

ادارے کو اپنی عزت، وقار اور شرف کا خیال آیا بھی تو کس کے خلاف؟ اس بندے کے خلاف جس نے ادارے کے مفاد کا ہمیشہ خیال رکھا؟
جو آج بھی بہت سے سچ اس لئے نہیں بول رہا کہ اس سے ادارہ بدنام ہوگا اور کمزور ہوگا۔۔۔؟

اس شخص کو جب آج ادارہ مفاد پرست عناصر بول رہا تھا تو کیا ادارہ یہ بھول گیا تھا کہ وہ مفاد پرست عنصر ٹانگ میں چار گولیاں لئے آپریشن تھیٹر میں بیٹھا ہے؟؟

اس شخص کے ایک جونیئر افسر کا نام لینے اور تحقیقات کا بولنے پر ادارے کو جو کچیچیاں کاٹنے لگی ہیں کیا یہ کچیچیاں ادارے کے اعلی ترین اور سپر ترین افسران کو براہ راست دھمکانے اور گالیاں دینے پر بھی کاٹیں گی؟

آخر کیا وجہ ہے کہ ادارہ بلاول بھٹو کی ایک پریس کانفرنس کے فوری بعد کراچی کے اعلی ترین افسر کو تو معطل کر دیتا ہے لیکن پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور مقبول ترین رہنما کے ادارے کے ایک افسرکے بارے تحفظات کو جوتے کی نوک پر رکھ کر اسے ویسٹڈ انٹرسٹس پکارتا ہے؟
آخر کیوں؟
اسکی کیا وجہ ہے؟
کیا ادارہ ہمیں یہ وضاحت دینا ضروری سمجھے گا ؟

04/11/2022

‏پلانٹڈ وڈیو ریلیز کرنے کا منصوبہ یہی تھاکہ تحریک لبیک پر الزام لگا کر اسے عوامی سطح پر پی ٹی آئی سے لڑوا کر حکومت خوشی کے شادیانے بجائے لیکن سعد رضوی کی بر وقت پریس کانفرنس نے نون لیگ اور ساتھیوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا..
اوریا مقبول جان🤔🤔

Photos from Kharian overseas's post 03/07/2021
25/05/2021

پاکستان کا وہ جانباز سپاہی جس کا تاریخ میں کہیں ذکر نہیں-

28 جولائی 1999ء کو بھارتی فوج کے فیلڈمارشل مانک شا کو ایک ٹی وی انٹرویو کے لیے بلایا گیا۔ مانک شا پارسی تھے اورتب ان کی عمر 85 برس تھی۔ وہ اس انٹرویو کے نو برس بعد 94 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔

1971ء کی جنگ میں جب بھارتی افواج نے بنگلہ دیش میں پاکستان کو شکست دی تو مانک شا اس وقت چیف آف آرمی سٹاف تھے۔ وہ اس جنگ کے دو برس بعد 1973ء میں سبک دوش ہوئے۔

کرن تھاپر نے ایک ایسا سوال مانک شا سے کردیا جس کے جواب نے ان کروڑوں لوگوں کو ششدر کردیا. جو اس وقت ٹی وی پر ان کا انٹرویو دیکھ رہے تھے۔

کرن تھاپر نے پوچھا کہ فیلڈمارشل صاحب آپ کو یہ جنگ جیتنے کا کتنا کریڈٹ جاتا ہے؟؟؟ کیونکہ پاکستانی فوج نے وہ بہادری نہیں دکھائی جس کی ان سے توقع کی جارہی تھی۔

فیلڈمارشل مانک شا ایک لمحے میں ایسے پیشہ ور فوجی بن گئے جو اپنے دشمن کی تعریف کرنے میں بغض سے کام نہیں لیتے۔ مانک شا نے کہا،

"یہ بات غلط تھی۔ پاکستانی فوج بڑی بہادری سے ڈھاکا میں لڑی تھی لیکن ان کے جیتنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ وہ اپنے مرکز سے ہزاروں میل دور جنگ لڑ رہے تھے جبکہ میں نے اپنی ساری جنگی تیاریاں آٹھ سے نو میل کے علاقے میں کرنا تھیں۔ ایک پاکستانی فوجی کے مقابلے میں میرے پاس پندرہ بھارتی فوجی تھے لہٰذا اپنی تمام تر بہادری کے باوجود پاکستانی فوج یہ جنگ نہیں جیت سکتی تھی۔"

کرن تھاپر کو کوئی خیال آیا اور اس نے پوچھا کہ فیلڈمارشل ہم نے کوئی کہانی سنی ہے کہ پاکستانی فوج کا ایک کیپٹن احسان ملک تھا جس نے کومان پل کے محاذ پر بھارتی فوجیوں کے خلاف اتنی ناقابلِ یقین بہادری دکھائی کہ آپ نے جنگ کے بعد بھارتی فوج کا چیف آف آرمی سٹاف ہوتے ہوئے اسے ایک خط لکھا جس میں اس کی بہادری اور اپنے ملک کے لیے اتنے ناقابل یقین انداز میں لڑنے پر اسے خراجِ تحسین پیش کیا گیا تھا۔

مانک شا نے کہا کہ یہ بات بالکل سچ ہے۔ بھارتی افواج ڈھاکا کی طرف پیش قدمی کررہی تھیں اور یہ پاکستانی کیپٹن ہماری فوج کے آگے دیوار بن کر کھڑا ہوگیا۔ اس اکیلے نے محاذ پر موجود بھارتی فوج کومشکلات میں مبتلا کرنا شروع کیا۔ ایک زوردار حملہ کیا گیا جو اس نے اپنی حکمت عملی کی بدولت پسپا کیا۔ بھارتی فوج نے دوسری دفعہ باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے اس محاذ پر پہلے سے بھی بڑا حملہ کیا لیکن کیپٹن احسان ملک نے انھیں ایک انچ بھی آگے نہیں آنے دیا۔ بھارتی فوج نے آخر اس محاذ پر تیسرا حملہ کیا تو تب کہیں جاکر انھیں کامیابی ہوئی۔

مانک شا بڑا حیران تھا کہ آخر اتنی بڑی بھارتی فوج کے حملے کے سامنے کون تھا جو شکست ماننے کو تیار نہیں تھا۔ انھیں بتایا گیا کہ یہ ایک کیپٹن احسان ملک تھا جس نے ان کی تمام کوششوں اور حکمتِ عملی کو ناکام بنا دیا تھا۔ معلوم نہیں وہ زندہ بچا یا لڑتا ہوا مارا گیا۔جنگ ختم ہوگئی۔ جنرل نیازی مانک شا کے آگے ہتھیار ڈال چکے تھے لیکن مانک شا کا ذہن اس پاکستانی کیپٹن کی بہادری کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ مانک شا ہتھیار ڈالنے کی تقریب سے ایک فاتح جنرل کی طرح بھارت واپس آیا۔

اپنے دفتر جاکر جو اس نے پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ کاغذ قلم اٹھا کر کیپٹن احسان ملک کے نام ایک ذاتی خط لکھا اور اسے اپنے ملک کے لیے اتنی بہادری اور بے جگری سے لڑنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ خصوصًا ان حالات میں کہ جب پاکستانی فوج کے پاس بھارت کے سامنے لڑنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ یہ خط اس نے پاکستان کی فوج کو بھیجا کہ یہ اس بہادر کیپٹن کو دیا جائے۔

مانک شا نے اسی انٹرویو کے دوران انکشاف کیا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے انھیں بلا کر کہا تھا کہ آپ پاک فوج میں شامل ہو جائیں لیکن انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ اب وہ بھارتی فوج کا حصہ تھے اور اپنے آپ کو بھارتی سمجھتے تھے ۔ سب سے بڑھ کر انھوں نے اب ایک بھارتی لڑکی سے شادی کرلی تھی۔

1971ء کی جنگ کو آج 50 برس گزر گئے ہیں۔ آپ، میں اور ہماری نسلیں کیپٹن احسان ملک کے نام سے واقف تک نہیں۔ ایک ایسا کیپٹن جس کی بہادری نے فیلڈمارشل مانک شا کو اتنا متاثر کیا تھا کہ جنگ کے تیس برس بعد بھی 1999ء میں کرن تھاپر کو دئیے انٹرویو میں اس کا نام تک یاد تھا۔
جب کہ اس بہادر کیپٹن کا نام ہم نے اپنی کسی تاریخ کی کتاب میں نہیں پڑھا اور نہ ہی ہمارے بچے پڑھیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان لوگوں کو ہیرو کا درجہ دے رکھا ہے جو اپنی ساری زندگی اس وطن کی دولت باہر کے ملکوں میں منتقل کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ جو جیتے ہیں تو دولت کی خاطر اور مرتے ہیں تو دولت کی خاطر۔
جو امیر سے امیر تر ہوتے جاتے ہیں اور عوام غریب سے غریب تر۔ اور جب وہ اقتدار کی ہوس میں لڑتے ہوئے ”شہید“ ہو جاتے ہیں تو ان کا نام تاریخ کی کتابوں میں سنہرے حروف میں لکھا جاتا ہے۔

جبکہ کیپٹن احسان جیسے سپاہیوں کی حب الوطنی اور بہادری کے قصے ہم دشمنوں کی زبان سے سنتے ہیں۔

کیپٹن احسان صدیق ملک جن کا تعلق 31 بلوچ رجمنٹ سے تھا بعد میں کرنل کے رینک سے ریٹائرڈ ہوئے

MANNAN REAL ESTATE GRAND CITY KHARIAN

16/05/2021
10/05/2021

‏دو مراثيوں کو پھانسی ہوئی۔ آخری خواہش پوچھی گئی تو پہلے مراثی نے سارنگی سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ مراثی سے پوچھا گیا کہ کتنا وقت درکار ہو گا۔
مراثی بولا: اگر کسی تجربہ کار استاد سے سیکھیں تو بیس سے پچیس سال لگتے ہیں۔ پوچھا گیا کہ عمر کتنی ہے۔ جواب ملا، 40 ‏سال۔
اچھا تو 65 سال کی عمر میں پھانسی چڑھو گے۔ مراثی نے ہاتھ جوڑ کر کہا، 'جو رب کو منظور'۔
اب دوسرے مراثی کی باری آئی. کہا گیا،
تم نے بھی ظاہر ہے سارنگی سیکھنی ہوگی، "پھانسی ٹالنے کیلئے"۔
دوسرے مراثی نے کہا، ہاں! سرکار لیکن۔
‏اور پھر پہلے مراثی کی طرف دیکھ کر بات جاری رکھتے ہوۓ بولا، 'میں نے اس سے سیکھنی ہے'۔

"ہمیں چوتھی بار حکومت ملے تو پھر ملک کی تقدیر بدل دیں گے"

09/05/2021

کوٹ مٹھن شریف میں ایک مجذوب تھا جو ہر آتے جاتے سے ایک ہی سوال پوچھتا رہتا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

" عید کداں " ( عید کب ہو گی )
کچھ لوگ اس مجذوب کی بات اَن سُنی کر دیتے اور کچھ سُن کر مذاق اُڑاتے گُزر جاتے۔۔۔۔ ایک دن حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ اس جگہ سے گزرنے تو اُس مجذوب نے اپنا وہی سوال دہرایا ۔۔۔۔۔۔۔ عید کداں ( عید کب ھو گی )

آپ صاحبِ حال بزرگ تھے اُس کا سوال سُن کر مسکرائے اور کہا ۔۔۔۔۔
یار ملے جداں ( جب محبوب ملے وھی دن عید کا دن ھو گا )
یہ الفاظ سُنتے ھی مجذوب کی آنکھُوں سے مُوتیُوں کی طرح آنسُوں جاری ھو گے , وہ مزید ترستی آنکھوں سے گُویا ھوا سرکار ۔۔۔۔۔
" یار ملے کداں "( محبوب کس طرح ملے گا )
خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔۔۔۔۔
"میں مرِے جداں " ( جب" میں " مرے گئ)
بس یہ فرمانا تھا کہ مجذوب نے کپکپاتے اور تھرتھراتے ھوۓ عرض کیا حضور ۔۔۔۔۔۔
" میں مرےِ کداں " ( میں کب مرے گئ )
سرکار رحمتہ اللہ علیہ مسکراۓ اُسے پیار سے تھپکی دیتے یہ کہتے چل دیے ۔۔۔۔۔۔۔
"یار تکے جداں " ( جب محبوب دیکھے گا)

"عاشق کی عید محبوب کا دیدار ہے اور یہ دیدار اُسے دُنیا میں دو مرتبہ نصیب ہوتی ھے۔۔۔ پہلی بار جب اُس کی "میں" مرتی ہے اور دوسری بار جب وہ "خود" مرتا ہے۔۔۔!!

Photos from Kharian overseas's post 07/05/2021

Gawadar k Qareebi Village Pasand K Rihayishi Nojwanuon nay 3D pictures Bana dien.

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Culinary Team

Attire

Telephone

Website

Address


Ahmed Band Sakrand City Shaheed Benazirabad Lahore
Lahore