Pansari Jari boti
Ask for herbs and oil roghn, tila anywhere in Pakistan and abroad on just one call or WhatsApp
We have all the herbs and powder available.
پودوں اور جڑی بوٹیوں نے انسانی بیماریوں کے لئے ہمیشہ کے لئے فطری علاج مہیا کیا ہے۔ جیسے جیسے علم میں ترقی ہوئی ، انسان نے مختلف بیماریوں اور بیماریوں کے علاج کے لئے مختلف جڑی بوٹیاں منتخب کیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے اندازہ لگایا ہے کہ دنیا کی 80٪ آبادی اپنی بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے لئے روایتی ادویات پر انحصار کرتی ہے۔ زیادہ تر پودوں ، جو مختلف بیماریوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ، کی تحقیقات ٹھیک طرح سے نہیں ہوسکی ہیں۔ دنیا بھر میں پودوں سے تقریبا 30٪ دوا تیار کی جاتی ہیں
انتہائی مفید جڑی بوٹی #دھماسہ دھماسہ ویران علاقوں میں پایا جانے والا ایک پودہ ہے۔ اسے اردو میں دھماسہ یا سچی بوٹی،
عربی میں “شوکت البیضأ”
، پشتو میں سپیلغزئ ،
پنجابی میں دھماں،
گجراتی: دھماسو
ہندی: دمہار ، دھمسہ ، دھنویس ، ہنگن
پوٹھوہاری میں دھمیاں ، سندھی میں ڈراماؤ، اور انگریزی نام فیگونیا
دھماسہ واحد جڑی بوٹیوں ہے جو عام صحت کے امور پر معجزاتی طور پر علاج کرتی ہے جس میں سنگین بیماریوں جیسے کینسر ، ہیپاٹائٹس ، دل کے عوارض وغیرہ شامل ہیں ، بغیر کسی سنگین ضمنی اثرات کے۔ کچھ لوگ فگونیا کو اونٹ کٹارا کی طرح غلط سمجھتے ہیں ، لیکن در حقیقت اونٹ کٹارا کا کانٹا ایک الگ پودا ہے۔ اس کے پتے بہت پتلے ہوتے ہیں اور دو کانٹوں کے درمیان بڑھتے ہیں۔ کانٹے سہ رخی یا چوکور میں ہوتے ہیں۔ پودے کی شاخیں بہت پتلی ہیں لہذا یہ سیدھے نہیں ہوسکتی ہیں لیکن یہ ایک چھوٹی جھاڑی کی شکل میں زمین پر رکھی گئی ہیں۔ پودوں کی حد 9-10 انچ ہوتی ہے۔ پھولوں کا رنگ ارغوانی ہے۔ کانٹوں کے قریب پودے میں بڑی تعداد میں چھوٹے پھل ہوتے ہیں۔اس کے پھولوں کا رنگ ہلکاجامنی ہے۔ پھول جھڑنے کے بعد اس کے کانٹوں کے قریب 00 شکل کے چھوٹے بیج بڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔
یہ پلانٹ اٹلی ، جرمنی ، مشرق وسطی کے ممالک ، پاکستان اور ہندوستان میں پایا جاتا ہے۔دھماسہ کے پودے میں نشوونما کے مختلف مراحل اور حصوں کے مطابق میٹھا ، تلخ ، تیز اور کھٹا ذائقہ ہوتا ہے
دھماسہ کے فوائد ۔۔۔
کینسر خصوصا خون اور جگر کے کینسر اور بچہ دانی کے کینسر کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے -سب سے اچھا مصفّا خون ہے اور خون کے لوتھڑوں کو پگھلاکر خون کو پتلا کرتا ہے جس کی وجہ سے برین ہیمبرج، ہارٹ اٹیک، اور فالج وغیرہ سے حفاظت ہوتی ہے۔ ۔۔۔
اس کے پھول اور پتیوں سے کینسر اور تھیلاسیمیا کی ہر قسم کا علاج ممکن ہے۔ ۔۔۔
جسم کی کی گرمی کو زائل کرنے اور ٹھنڈک کے اثرات کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ۔۔۔
اس کے ذریعے ہیپاٹائٹس کی تمام اقسام کا علاج ممکن ہے۔ ۔۔۔
جگر کو طاقت دے کر جگر کے کینسر کا بھی علاج کیا جا سکتا ہے۔ ۔۔۔
دل اور دماغ کی صلاحیتوں میں بہتری لانے میں معاون ہے۔ ۔۔۔
جسمانی دردوں کے علاج میں مددگار ہے۔ ۔۔۔
مختلف قسم کی الرجی کا علاج ہے۔ ۔۔۔ کیل، مہاسے، چھائیاں اور دیگر جلدکے امراض سے نجات دلاتا ہے۔ ۔۔۔
معدہ کو تقویت دے کر بھوک بڑھاتا ہے۔ ۔۔۔
اس سے قے، پیاس اور جلن، وغیرہ جیسی علامات ختم ہو جاتی ہیں۔ ۔۔۔
کمزور جسم کو طاقت دے کر فربہ بناتاہے، اور موٹے افراد کے لئے وزن کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہے۔ ۔۔۔
منہ اور مسوڑھوں کے امراض علاج ہے۔ ۔۔۔
بلڈ پریشر کو معمول پر لاتا ہے۔ ۔۔۔
دمہ اور عمومی سانس لینے میں دشواری کا علاج کرتا ہے۔ ۔۔۔
تمباکو نوشی کےضمنی اثرات سے بحالی میں مدد ملتی ہے۔ ۔۔۔
دھماسہ کا قہوہ چیچک روکنے کے لئے دیا جاتا ہے۔ ۔۔۔
پیشاب کو بڑھاکر گردوں اور پیشاب کے نظام کو بہتر بناتا ہے۔ ۔۔۔
یہ گردن کے پٹھوں کے کھچاؤ میں بھی دیا جاتا ہے۔ ۔۔۔
مردانہ سپرم کی تعدادمیں بہتری اور عورت کے تولیدی نظام کو معمول پر لانے میں معاون ہے۔ ۔۔۔ لیکوریا سمیت عورتوں کےعوارض کو کنٹرول کرتا ہے۔ ۔۔۔ اٹھرا کا شافی علاج کرتا ہے، جب کہ ایلوپیتھی میں یہ لاعلاج مرض ہے۔یہ خواتین کی ایسی بیماری ہے کہ جس میں جسم پر نیلے یا سیاہ دھبےطاہر ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہی اسقاط حمل ہو جاتا ہے، مردہ بچے پیدا ہوتے ہیں یا پیدا ہونے کہ بعد نیلے کالے ہو کر مر جاتے ہیں۔ کچھ خواتین میں صرف لڑکیاں تو بچ جاتی ہیں لیکن لڑکے زندہ نہیں رہتے۔ اس کے علاوہ کچھ خواتین میں اٹھرا کی وجہ سے معدہ اور جگر کی خرابی کی وجہ سے وہ کمزور ہو جاتی ہیں۔ ایسی خواتین حمل کی تکالیف برداشت نہیں کر سکتیں جس کی وجہ سے اسقاط حمل ہو جاتا ہے۔ ۔سپرموجینک ہونے کے باعث منی کی مقدار میں بہتری آتی ہے اور مرد اور عورت کی تولیدی نظاموں کو معمول پر لانے میں مدد ملتی ہے۔خواتین میں (لیکوریا) کے امراض کو مکمل طور پر کنٹرول کرتا ہے۔
ایک اچھا اینٹی آکسیڈینٹ ہونے کی وجہ سے ذہنی دباؤکو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر آپ اب بھی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہیں تو اس کا مطلب آپ ابھی تک دھماسہ کے فوائد سے بے خبر ہیں
کینسر کے لئے: کینسر کا علاج: کسی بھی قسم کے بلڈکینسر کیلئے دھماسہ بوٹی اکیلی ہی کافی ہے۔ دھماسہ کے پھول، پتے، بیج یا مکمل سبز شاخ نیم گرم نمکین پانی میں اچھی طرح دھو کر پانی میں گھوٹا لگا کر صبح دوپہر شام بعد غذا پی لیں یا صبح و شام اس کا قہوہ بنا کر خالی پیٹ نیم گرم پی لیں یا ہوا دار سائے میں خشک کرکے پاؤڈر بنا کر کپڑچھان کر کے ہزارملی گرام کیپسول بھر کے ہر کھانے کے بعد ایک یا دو کیپسول پانی کے ساتھ لیں، یا اسی پوڈر میں شہد ملا کر موٹے چنے کے برابر گولیاں بنا کرہر کھانے کے بعد ۲ یا ۳ گولیاں پانی سے نگل لیں۔ اگر کوئی ٹیومر کینسر ہو تو پھر دھماسہ کے ساتھ ساتھ سُمبلُو بوٹی اور ہلدی ہموزن پیس کر۱۰۰ملی گرام سائز کے کیپسولز میں بھر لیں۔ ایک کیپسول صبح و شام ، بعد غذا، ہمراہ دودھ نوش فرمائیں یا دھماسہ کی چند سبز شاخیں یا ایک چمچی پاؤڈر اور سمبلو بوٹی کا ایک ٹکڑا یا چوتھائی چمچی پاؤڈر، دونوں کا قہوہ بنا کر صبح و شام نیم گرم خالی پیٹ پی لیں۔ اس کے ساتھ لیموں کا جوس کیموتھراپی سے دس ہزار گُنا زیادہ طاقتور اور مفید ہے۔ موسم گرما میں، دن میں دو بار پانی کے ایک بڑے گلاس میں شہد کی ایک چمچ کے ساتھ بیکنگ سوڈا ¼ چائے کا چمچ اور لیموں کا تازہ جوس 2 چمچ ڈال کر پی لیں۔ سردیوں میں ایک کپ لیموں کے جوس میں ایک چھوٹا چمچ ہلدی ایک چھوٹا چمچ بیکنگ سوڈا اور آدھا کپ شہد ملا کر شیشے کے جار میں رکھیں۔چھوٹا چمچ دن میں تین بار نوش کریں۔ نیاز بویعنی تُلسی کے ۵ سے ۱۰ پتّے لیکر چٹنی بنا کر ہر کھانے کے ساتھ کھالیں۔ یہ ۱۶ قسم کے کینسر اور ۹ طرح کے ٹیومر کا علاج ہے۔اگر برین ٹیومرہو تو ساتھ لوکاٹ کی دو یا تین تازہ کونپلیں لے کر اس کا قہوہ بنا کر صبح و شام خالی پیٹ پی لیں۔ برین ٹیومر سمیت تمام قسم کے ٹیومر کینسر کے لئے بھی مفید ہے۔
#تھیلاسیمیا کا علاج
دھماسہ کے پھول، پتے، اور بیج نیم گرم نمکین پانی میں اچھی طرح دھو کر پانی میں گھوٹا لگا کر صبح دوپہر شام بعد غذا پلائںی۔ یا ہوا دار سائے میں خشک کرکے پاؤڈر بنا کر کپڑچھان کر کے ایک چھوٹا چمچ صبح، دوپہر، شام، سریلیک یا بچوں کی کسی بھی غذا میں ملا کر کھلائیں۔ ان۔شاءاللہ، ایک سے دو ماہ میں ہی ہر قسم کا تھیلاسیمیا ختم ہو جائے گا۔چھ ماہ تک یہی دوا ضرور استعمال کرائیں۔ اگر حاملہ کو یہی دوا حمل کے دوران روزانہ ایک یا دو وقت صرف ایک بڑا کیپسول یعنی ایک گرام کھلائی جائے تو زچہ و بچہ دونوں تھیلاسیمیا اور انیمیا جیسی بیماریوں سے محفوظ رہیں گے۔
#ہیپاٹائٹس کا علاج:
کسی بھی قسم کے ہیپاٹائٹس کیلئے دھماسہ بوٹی اکیلی ہی کافی ہے۔ دھماسہ کے پھول، پتے، بیج یا مکمل سبز شاخ نیم گرم نمکین پانی میں اچھی طرح دھو کر پانی میں گھوٹا لگا کر صبح دوپہر شام بعد غذا پلائیں۔ ان۔شاءاللہ دو سے تین ماہ میں آخری سٹیج کا مریض بھی صحتمند ہو جائے گا۔ لیکن پورا سال استعمال کرائیں۔
30/10/2020
ریوندخطائی’’ریوندچینی ‘‘
(Rhubarb Root)
خاندان۔
Polygonaceae
دیگرنام۔
عربی راوند،فارسی میں بیخ ریباس کاغانی میں چٹیال بنگلہ میں ریون چینی ہندی میں رئے وت چینی اور انگریزی میں رہوبارب روٹ کہتے ہیں ۔
ماہیت۔
یہ ریباس کی جڑ ہے۔اس کی مکمل ماہیت ریباس میں دیکھیں ۔ریوند کی کئی اقسام ہیں سب سے بہتر ریوند خطائی ہے ۔اس کاسفوف زرد اور چمک دار ہوتاہے۔یہ چین سے آتی ہے۔اور اعلیٰ قسم کی ہوتی ہے۔ہمارے ہاں جو ریوند چینی ملتی ہے۔اس کا سفوف خاکستری زرد رنگ کا بنتاہے۔
مقام پیدائش۔
پاکستان ہندوستان اور چین چھ ہزار فٹ سے لے کر دس ہزار فٹ کی بلندی تک پائی جاتی ہے۔
مزاج۔
مرکب القوی اطباء کے نزدیک گرم خشک درجہ دوم ۔
افعال و خواص و استعمال۔
جالی،محلل مسکن لازع(خراش پیداکرنے والی )
افعال اندرونی ۔
منفث بلغم ،مقوی معدہ و امعاء ،کاسرریاح ،مدربول و حیض ،محرک و مقوی جگر مقوی بدن ،مفتح سدد ،مسہل مگر بعد میں قابض ۔
یوَند چینی کو سکندر اعظم کے زمانے میں جڑی بوٹی کے طور پر کاشت کیا گیا اور اس کا استعمال بطورِ دوا شروع کیا گیا۔ یہ فارسی اسمِ مؤنث ہے جو درحقیقت ایک دست آور دوا ہے جسے عربی زبان میں "راوند" کہتے ہیں۔یہ اپنے مزاج کے اعتبار سے گرم و خشک ہوتی ہے اور اس کی سُرخی مائل جڑوں میں سے وہ دانے نکلتے ہیں جو رِیوَند چینی یا رِیوَند گرم مسالا کہلاتے ہیں (بحوالہ : فرہنگِ آصفیہ صفحہ 396 ) رِیوَند چینی کو غذا میں ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کیوں کہ دار چینی یا میتھی دانوں کی طرح یہ بھی کھانوں کا ذائقہ بڑھادیتی ہے۔اسی بناء پر اسے چینی کھانوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، خاص کر چائینیز سُوپ کی تیاری میں اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ رِیوَند چینی کے پتّے چوڑے اور سبز ہوتے ہیں اور ان کا ڈنٹھل لمبا اور گودے دار ہوتا ہے نیز اس کے پتّے کسی قدر تَلخ بھی ہوتے ہیں ۔ اس پودے کے مختلف حصے طبی مقاصد اور کھانا پکانے میں استعمال کیے جاتے ہیں تاہم کھانا پکانے میں اس کے ڈنٹھل کا استعمال تازہ اور کچّی حالت میں کیا جاتا ہے۔ اس حالت میں یہ اجوائنِ خراسانی کی طرح خستہ ہوتا ہے اور اس کا ذائقہ انتہائی تُرش ہوتا ہے۔زیادہ تر کھانا پکانے میں اس پودے کی ڈنٹھل استعمال کی جاتی ہے اور اس کی ڈنٹھل چائنیز اور دیگر کھانوں میں تُرشی کے لئے استعمال کی جاتی ہے
استعمال بیرونی۔
اس کا سفوف بناکر سرکہ میں ملاکر لیپ کرنا بدن کے داغ دھبوں مثلاًجھائیں نمش چھیپ وغیرہ کو دور کرتاہے۔اندرونی اور بیرونی طور پر ورموں کیلئے لیپ کرنا مفید ہے ۔پرانے زخموں پر ریوند چینی گھس کر ذراًچینی گھس کر ذراسا دیسی صابن ملاکر پھایا لگاتے ہیں ۔
اس سے مواد صاف ہوکر زخم مندمل ہوجاتاہے۔
استعمال (اندرونی )۔
کھانسی دمہ میں بلغم کو نکال کر درست کرتاہے۔اور معمولی مقدار میں کھانا معدہ کو تقویت دیتاہے۔اور اپھارے کو دور کرتی ہے۔دستوں کو بند کرنے کیلئے بھی معمولی مقدار میں کھلائیں ۔اس کا سفوف یا جوشاندہ دیگر ادویہ کے ہمراہ احتباس بول کے لئے مفید ہے۔گردے اور مثانہ کے درد بھی استعمال کرتے ہیں ۔مقوی و محرک جگرہے۔بخاربوجہ خرابی جگر میں شورہ قلمی نوشادر اور ریوند چینی وغیرہ کے ہمراہ کھلاتے ہیں جو پیشاب اور حیض کو بھی جاری کرتی ہے۔سدہ کھولتی آنتوں کو فضلات ردی سے پاک کرتی ہے ۔ریاح کو تحلیل کرتی ہے۔یہ جگر کے ساتھ خصوصیت رکھتی ہے اور پرانے بخاروں کو نفع دیتی ہے۔
یرقان استسقاء اور ورم جگر میں مختلف طریقوں سے استعمال کرتے ہیں اگر اس کو زیادہ مقدارمیں کھلایا جائے تو پتلے دست لاتی ہے۔جگر
تلی اور آنتوں کے سدہ کھولتی ہے۔حیض جودرد سے آتا ہو اور خون بھی کم آتا ہو تو ریوند اور مصبری ہموزن باریک پیس کر حیض آنے سے تین دن پہلے چھ گرام پانی کیساتھ کھلائیں ۔
کابلی ہریڑ اور غاریقون اور ایلوا ۔۔ایک ایک گرام اور ریوندخطائی تین گرام ملاکر گولیاں چار چار رتی بناکر دیں ۔یہ گولیاں دماغ کا تنقیہ کرتی ہیں ۔اور ہر قسم کے دردسرشقیقہ فالج دوارکزاز جنوں دماغ نزلات پریشانی اور کان آوازیں آنے کیلئے مفید ہے۔جب بدہضمی کی وجہ سے دست آرہے ہوں تو زیادہ مقدار میں استعمال کراتے ہیں۔جس سے اولاًکھل کر دست آجاتے ہیں اور پھر قبض ہوتی ہے۔ریوند خطائی ایک سے ڈھائی رتی تک رطوبت معدیہ کی تراوش بڑھاتی ہے۔اور معدہ کی حرکت دودیہ کو تیز کرتی ہے۔
دس رتی سے پندرہ رتی رطوبت امعاء کو زیادہ کرکے تھوڑی مسہل ہوتی ہے اور اس کی حرکت دودیہ کو تیز کرتی ہے۔یہ کرائی سوفینک ایسڈ اور ایموڈین کی وجہ سے ہوتی ہے ۔اور دوا دینے کے چھ سات گھنٹے بعد اکثر مروڑ ہوکر زردرنگ کے پتلے دست آنے لگتے ہیں ۔دستوں کے بعدری اوٹینک ایسڈ کی وجہ سے آنتوں کی تراوش کم ہوکر قابض تاثر کرتی ہے۔
ریوند کے رنگین اجزاءگردے کے ذریعے خارج ہوکر پیشاب کی رنگت کو زرد کر دیتے ہیں اور مقدار بڑھا دیتے ہیں ۔سفوف ریوند ہمراہ شربت بزوری پیشاب جاری کرتاہے۔
ریوند خطائی دودھ اور پیشاب کے ذریعے خارج کرتی ہے۔کرائی سوبین کی وجہ سے دودھ کا ذائقہ تلخ ہوجاتاہے۔اور اس میں مسہل تاثیر پیدا ہوتی ہے۔
نفع خاص۔
مسہل اخلاط الزجہ۔
بدل ۔
گلا سرخ امراض معدہ وجگرکیلئے ۔
مضر۔
کمزور لوگوں کو بطور مسہل نہ دیں ۔
مصلح۔
گوند بول کتیرا لعاب بہی دانہ وغیرہ۔
مقدارخوراک۔
ایک سے تین رتی قبض کیلئے ۔
سواماشہ سے دو ماشہ تک دستوں کے لئے ۔
مشہور مرکب۔
سفوف اکسیر جگر ،شربت دینار،حب شفا۔
23/05/2020
عیدالفطر کی سنتیں...
1. عید کا چاند دیکھ کر تکبیرات کہنا شروع کرنا۔ [قرطبی: 479/3]
2. تکبیرات: الله اکبر الله اکبر لا اله الا الله والله اکبر الله اکبر ولله الحمد۔ [ابن ابی شیبہ: 5652]
3. نماز عیدالفطر سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا۔ [مسلم: 984]
4. غسل کرنا۔ [بیہقی: 278/3]
5. اچھا لباس پہننا۔ [بیہقی: 281/3]
6. خوشبو لگانا اور مسواک کرنا۔ [ابن ماجہ: 1098]
7. نماز عیدالفطر سے پہلے طاق کھجوریں کھانا۔ [بخاری: 953]
8. نماز عیدالفطر کے لئے عید گاہ جانا۔ [بخاری: 956]
9. عید گاہ پیدل جانا۔ [ترمذی: 530]
10. اپنے دوست و احباب کے ساتھ عید گاہ جانا۔ [ابن خزیمہ: 1431]
11. گھر سے عید گاہ جانے تک تکبیرات کہنا۔ [بیہقی: 669/3]
12. تکبیرات: الله اکبر الله اکبر لا اله الا الله والله اکبر الله اکبر ولله الحمد۔ [ابن ابی شیبہ: 5652]
13. نماز عیدالفطر کے لئے ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا۔ [بخاری: 986]
14. عیدالفطر کی مبارکباد ان الفاظ میں دینا: تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ - ا اور تمہاری طرف سے قبول فرمائے۔ [فتح الباری: 517/2]
[اس پوسٹ میں رسول الله ﷺ اور ان کے صحابہ رضی الله عنہم کی سنتیں بیان کی گئی ہے۔]
عیدالفطر آنے سے پہلے تمام لوگوں تک شیئر کریں-
جزاکم الله خیرا
22/05/2020
دعا بہت پیاری ہے اِسے سکون سے پڑھیں اور دل میں آمین کہیں اور اسے دوسروں تک پہنچائیں. ھو سکتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی آمین سے اپنی دعا قبول ھو جائے(آمین)😰😭
⚡اے اللہ رب العزت
💧اے ساری کائنات کے شہنشاہ
💧اے ساری مخلوق کے پالنے والے
💧اے زندگی موت کا فیصلہ کرنےوالے
💧اے آسمانوں اور زمینوں کے مالک
💧اے پہاڑوں اور سمندروں کے مالک
💧اے انسانوں اور جناتوں کے معبود
💧اے عرشِ اعظم کے مالک
💧اے فرشتوں کے معبود
💧اے عزت اور ذلت کے مالک
💧اے بیماروں کو شِفا دینے والے
💧اے بادشاہوں کے بادشاہ
💧اے اللہ ہم تیرے گناہگار بندے ہیں
💧تیرے خطاکار بندے ہیں
💦ہمارے گناہوں کو معاف فرما🙏🙏
💦ہماری خطاؤں کو معاف فرما🙏
💦اے اللہ ہم اپنے اگلےپچھلے،صغیرہ کبیرہ سبھی گناہوں،خطاؤں اور نافرمانیوں کی معافی مانگتے ہیں🙏🙏
💦اے اللہ رب العزت ہم اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں ہماری توبہ قبول فرما
💦اے اللہ ہم گناہگار ہیں،سیاہ کار ہیں،بدکار ہیں تیرے احکام کے نافرمان ہیں،ناشُکرے ہیں لیکن میرے معبود تیرے نام لیوا بندے ہیں، تیری توحید کی گواہی دیتے ہیں.
💦تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے
💦تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے
💦تیرے سوا کوئی تعریف کے لائق نہیں ہے
💦ہمارے معبود ہمارے گناہ تیری رحمت سے بڑے نہیں ہیں
💦تو اپنی رحمت سے ہمارے گناہ معاف کر دے🙏🙏🙏
💦اے اللہ پاک ہمیں گمراہی کے راستے سے ہٹا کر صراط المستقیم کے راستے پہ چلنے والا بنا دے
💦اے اللہ ایسی نماز پڑھنے کی توفیق عطا کر جس نماز سے تو راضی ہو جائے
💦زندگی میں ایسے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا کر جن اعمالوں سے تو راضی ہو جائے
💦ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کر جس زندگی سے تو راضی ہو جائے
💦ایمان پہ زندہ رکھ اور ایمان پہ ہی موت عطا کر
💦اے اللہ ہمیں تیرے احکام کی فرمابرداری کرنے والا بنا
💦اور تیرے پیارے حبیب جنابِ محمد رسول اللہ(صلی للہ ھو علیہ وآلہ وسلم) کے نیک اور پاکیزہ آداب کو اپنانے والا بنا دے
💦اے اللہ ہماری پریشانیوں کو دور کر دے
💦اے اللہ جو بیمار ہیں اُنہیں شفاءکاملہ عطا فرما
💦اے اللہ جو قرض کے بوجھ تلے دبے ھوئے ہیں اُنکا قرض جلد سے جلد ادا کروا دے
💦اے رب العزت شیطان سے ہماری حفاظت فرما
💦اے اللہ اسلام کے دشمنوں کو ہدایت عطا فرما
💦اے اللہ حلال رزق کمانے کی توفیق عطا فرما
💦اے پروردگارِ عالم ہمیں تُجھ سے مانگنا نہیں آتا لیکن تجھے دینا آتا ہے تو ھر چیز پہ قادر ہے
💦اے اللہ جو مانگا وہ بھی عطا فرما اور جو مانگنے سے رِہ گیا وہ ب ھی عنائت فرما
🍂 *اللہ آپ نے نمرود کے لیے مچھر بھیجا تھا۔ نمرود نے آپ کا انکار کیا تھا، لیکن یا اللہ، ہم تو آپ کےاقراری ہیں۔ آپ نے ہمارے لیے مچھر سے بھی سو گنا کم جراثیم بھیجا ہے۔ ۔*یا کریم ، بیماریاں پہلے بھی تھیں* لیکن آپ تو بیماری اس لیے بھیجتے ہیں کہ مومنین کے گناہ معاف ہو جائیں، *لیکن اے اللہ، یہ کیسی بیماری ہے جس نے ہمیں آپ کے گھر میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ۔*
🍂 *اللہ کیا ہم اس قابل نہیں کہ آپ کےگھر آسکیں؟ ضرور ہم سے غلطیاں ہوئیں۔ ۔ ہم آپ سے دعا کرتے ہیں کہ آپ ہمیں معاف فرما دیں ۔* 🍂اللہ اتنی بڑی سزا ہمیں نہ دیجیے ہم گناہوں کے پہاڑ اور سمندر لیے اپ کے گھر آتے تھے، آپ معاف کردیتے تھے ۔ ۔ اللہ آپ نے گھر کا راستہ ہی بند کر دیا۔ ۔ *یا ربی، پھر ہم کس در پر جائیں ؟ ہمیں یوں نہ دھتکاریے۔۔*
🍂 *اللہ اس امت کو معاف کر دیجیے* ۔ ۔ *کیا اس امت میں ایک بھی ایسا نہیں جس کی وجہ سے آپ دعا قبول کر لیں؟* ۔ ۔ *اللہ جی* آپ اپنے گھر کےدروازے کھول دیں، ہم آپ کے در پر آنا چاہتے ہیں، ہم سے بیماری کا خوف ہٹا دیجیے ۔ ۔
🍂 *اللہ ہم نے سود شروع کر کے آپ کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے ،اس معاملے میں ہم بے بس ہیں!!* *ہمارے حکمران اس کے ذمہ دار ہیں، لیکن یا باری تعالی، وہ تو حکومت کے نشے میں لاپرواہ ہیں آپ سے ، آپ ان کی سزا ہمیں نہ دیجیے ۔ ۔*
🍂 اللہ ہمیں اپنی طرف لوٹا دیجیے
🍂 اللہ ہماری توبہ قبول کر لیجیے
🍂 اللہ ہمارا حشر ان مشرکین جیسا نہ کیجیے جن پر کعبہ کے دروازے بند ہیں ۔ ۔
🍂 اللہ آپ انفرادی گناہوں کو معاف کر دیتے ہیں ۔ ۔
*آج ہمارے اجتماعی گناہوں کو بھی معاف کر دیجیے ، ،*
اللہ معاف کر دیجیے
اللہ معاف کر دیجیے
اللہ معاف کر دیجیے
أستغفر الله
أستغفر الله
أستغفر الله
🍂 *رب کریم، رحم کیجیے۔* ہم میں امت کو اکٹھا کرنے والا کوئی نہیں،
کوئی امت کو استغفار کے راستے پر لانے والا نہیں۔ ۔
🍂 *یااللہ ، ہم اس فورم کے ذریعے اجتماعی معافی کی درخواست کرتے ہیں ، آپ اس کو قبول کر لیجیے ۔ ۔ ہم سب اس دعا کو پڑھنے والے قومی مجرم کے طور پر، امت کے مجرم کے طور پر معافی مانگتے ہیں۔ 🍃 یااللہ، معاف کر دیجیے*
🍃 *یا کریم، معاف کر دیجیے*
🍃 *یا رحیم، معاف کر دیجیے*
*آمین آمین آمین*
*یا رب العزت،* یہ دکھاوے کی دعا نہیں یہ امت کو متوجہ کرنے کے لیے دعا ہے۔ آپ اس امت کو توبہ کی توفیق دے
💦ہماری دعا اپنے رحم سے اپنے کرم سے قبول فرما اور جس نے یہ دعا بھیجی ہے اور اِسے آگے بڑھا رہا ہے اُسکی ساری پریشانیوں،تکلیفوں اور بیماریوں کو دور فرما
امین
ماجوپھل ’’مازو‘‘مازوئے سبز
انگریزی میں
Gallnut Or Oak Galls
دیگرنام۔
عربی میں عفص فارسی میں مازو سندھی میں ماوا گجراتی میں مازیاں مرہٹی میں مائے پھل بنگالی میں ماجو ہندی میں ماجو پھل کہتے ہیں ۔
ماہیت۔
اس کا درخت عموماًسرو کے درخت اور بعض کے نزدیک بلوط کے درخت کی طرح ہوتاہے۔مازو اس درخت کا پھل ہے مازو پھل گول چپٹا برابر بیر کے ہوتاہے۔درخت مازوکی شاخوں میں ایک خاص قسم کے کیڑے سوراخ کرکے وہاں اپنے انڈے رکھ دیتے ہیں جن سے ان مقامات پر گانٹھیں پیداہوجاتی ہیں ۔یہی مازو کہلاتی ہے۔ان میں کیڑے مرکز سے سطح تک سوراخ کرکے اڑ جاتے ہیں ۔بے سوراخ مازو جن کو کاٹ کا کیڑا باہر نہ نکلاہو بہتر سمجھتے جاتے ہیں اچھا مازووزنی اور اوپر سے نیلگوں ہوتاہے۔
مقام پیدائش۔
شام ایران ترکی ایشیانے کوچک۔
مزاج۔
سرد ایک خشک درجہ دوم۔
افعال۔
قابض مجفف ،حابس الدم ،دافع ،تعفن ،موئے سیاہ کنندہ ،حابس سیلان الرحم ۔
استعمال بیرونی ۔
مازوکو قابض و مجفف ہونے کی وجہ سے سفوف کرکے پسینہ کی کثرت کو روکنے اور اس کی بد بو کو زائل کرنے کے لئے بدن پر ملتے ہیں بہتے ہوئے کان میں اس کے سفوف کو آب خرفہ میں ملاکر کان میں ڈالتے ہیں قابض اور مجفف ہونے کی وجہ سے دانتوں اور مسوڑھوں کو مضبوط کرنے اور ان کے جریان خون کو بندکرکے اور منہ سے سیلان رطوبت کو روکنے کیلئے سنونات میں شامل کرتے ہیں تنہا بھی استعمال کرتے ہیں اس کو جوش دے کر غرغرے بھی کراتے ہیں استرخائے لہات سوزش حلق قلاع اورورم لثہ میں ذروراًوغرغراًمستعمل ہے مازو دافع تعفن ہے اس لیے منہ کی بدبو کو دور کرتاہے۔دافع تعفن ہونے کی وجہ سے قروح ساعیہ نملہ آکلہ وغیرہ میں ذروراًاستعمال کیاجاتاہے ۔سرکہ کے ہمراہ طلاء کرنے سے داد داء الثعلب جھائیں وغیرہ کے لئے مفید ہے آنکھ کے امراض خصوصاًدمعہ سلاق اور جرب چشم میں اکتحالاًمفیدہے۔حابس الدم ہونے کی وجہ سے تازہ زخموں پر اس کا ذرورکیاجاتاہے۔نکسیر بندکرنے کیلئے اس کی نسوار دی جاتی ہے۔کیونکہ نسوار لینے سے نکسیر بند ہوجاتی ہے۔خروج مقعد اور قروح مقعد میں اس کا ذرور کیاجاتاہے نیزاس کے مطبوخ سے آبدست کراتے ہیں چونکہ مازو بالوں کو سیاہ کرتاہے۔لہذا خضابوں میں بکثرت مستعمل ہے۔
استعمال اندرونی ۔
اندرونی طور پرمازو کو قرحہ آمعاء اسہال کہنہ اور سیلان الرحم میں استعمال کرتے ہیں اس طرح کثرت حیض بول الدم اور اسہال دموی میں بذریعہ شافہ یا حمول مازو کا جوشاندہ بذریعہ حقنہ اور سفوف بناکرکھلایاجاتاہے۔
نفع خاص۔
قابض ،حابس۔
مضر۔
سینہ اور حلق کے لئے ۔
مصلح۔
کتیرا ،صمغ عربی اور انڈا نیم بریاں ۔
بدل ۔
مائین خورد۔
پوست انار۔
مقدارخوراک۔
ایک سے دو گرام یا ماشے ۔
کونچ پھل ۔
Mucunapruriens
دیگرنام۔
بنگال بین ، بفیلوبیان ، کابیکا ڈی فریڈ ، کیفے بین ، کیفے انکاسا ، کیفے لسٹو ، کارپوگون کیپیٹیٹس ، کارپوگون نیویئس ، کارپوپوگن ایٹورپوریم ، کارپپوگون کیپیٹیم ، کارپوپوگون نیوئم ، چیپورو ، کوہیچوریچو ، فیوچوریچو ، ڈیوچو ، کھجلی بین ، کھجلی بین ، کھجلی پوڈ ، کرمے ، میکرانتس کوچینچینینس ، مارکینتھس کوچینچیننس ، ماریشس بین ، موکونا آٹیریما ، موکونا اتروکارپا ، موکونا ایکیلاریس ، موکونا برنیریانا ، موکونا کیپیٹاٹا ، موکونا کوچینچینچینسیین ، Nescafe لوبیا ، Picapica ، پو ڈی
کونچ پھل ہندی میں یاکماچہ سنسکرت میں شوک شمبی گجراتی میں کنواج پنجابی میں جلونی بوٹی کہتے ہیں ۔
ماہیت۔
کونچ ایک بیل دار بوٹی ہے جو ارد گرد کے درختوں پر چڑھ جاتی ہے اس کا تنا سخت ہوتاہے پتے تین چار انچ لمبے ڈیڈھ دو انچ چوڑے سیاہی مائل گہرے سبز سیم کے پتوں کی طرح تین تین جن پر رواں ہوتاہے۔پھول کی ڈنڈی آٹھ نو انچ لمبی جن پر پھول گچھوں میں لگتے ہیں ان کا رنگ نیلا بیگنی ہوتاہے پھلی تین چار انچ لمبی اور آدھ انچ چوڑی بھورے رنگ کی ہوتی ہے ان پر رواں ہوتاہے اگریہ جسم پر لگ جائے تو شدید خارش پیداکرتاہے اس پھلی کے اندر تخم بھرے ہوتے ہیں اسکے اندر تخم لوبیا کے مشابہ لیکن اس سے کچھ بڑے چکنے سیاہی مائل تخم نکلتے ہیں ۔جن کے اوپر پتلامگر سخت چھلکا ہوتاہے اور اندر سے سفید رنگ کی چکنے سیاہی مائل تخم نکلتے ہیں جن کے اوپر پتلامگر سخت چھلکا ہوتاہے اور اندرسے سفید رنگ کی گری نکلتی ہے ۔اسی کو مغزکونچ کہاجاتاہے جوکہ بطوردواءمستعمل ہے ۔تازہ پھلی مخملی جیسی شوخ رنگ والی دھاری دار نہایت خوبصورت معلوم ہوتی ہے۔مغز کارنگ سیاہ اور اندر سے سفید جبکہ ذائقہ تلخ و تیز ہوتاہے۔اس کی دو اقسام ہیں ۔
خودرو ا
باغوں اور کھیتوں میں لگائی جاتی ہے۔
مقام پیدائش۔
وسط ہند بمبئی کالکا پٹھان کوٹ اور بنگال میں خودرو ہوتی ہے۔
مزاج۔
معتدل مائل بہ سرد
یہ مختصر بالوں والی غیر اسٹنگ فارم ہے جو اصل میں ہونڈوراس کی ہے ، لیکن اب پوری دنیا میں عام ہے
جنگلی شکل موکونا پروریئنس کو اکثر "پاگل بین" کہا جاتا ہے ۔ یہ کافی خوفناک بالوں یا ٹرائوم میں سیرٹونن اور میوکینین کی بڑی مقدار ہوتی ہے اور یہ ایک دفاعی طریقہ کار ہے جو پودے کے ذریعہ ان کو کھائے جانے سے بچاتا ہے
بظاہر ہندوستان اور چین میں کچھ ناراض کسانوں نے دشمنوں کے کھانے پر ان گندھے بالوں کو آزادانہ طور پر چھڑکنا شروع کیا ہے ، جس سے منہ اور گلے میں ای عمل ، زبردست رک رکنے والی جلن اور سوزش ، انتہائی سوجن اور بالآخر موت واقع ہوئی
موکونا پروریئن ایک رینگتی ہوئی بیل ہے جو ہندوستان ، کیریبین اور افریقہ کے اشنکٹبندیی علاقوں میں بڑھتی ہوئی دیکھی جاسکتی ہے۔ اس اشنکٹبندیی پلانٹ کو اکثر بھیڑ کی مخمل کی طرح کی کوٹنگ کی وجہ سے "مخمل بین" بھی کہا جاتا ہے جو اس کے سروں کو ڈھانپتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ اس پلانٹ سے لوگ خارشی پاؤڈر بنانے میں کامیاب تھے؟ اس کی وجہ یہ ہے پھلی کے بالوں میں زیریلہ مواد ہوتا ہے جو جلد پر بیرونی استعمال سے آپ کی جلد کی شدید کھجلی اور جلن کرتا ہے بیجوں کی پھلیوں یا نوجوان پودوں کو چھونے میں یہھی اثر ہوتا ہے اسی وجہ سے اس کو جلونی بوٹی کہتے پنجابی میں جلون کا مطلب خارش ہے
موکونا پروریئنس پلانٹ کے بیجوں میں قدرتی طور پر لییوڈوپا پر مشتمل ہوتا ہے ، جسے ایل ڈوپا بھی کہا جاتا ہے ، جس کی اعلی تعداد چار سے سات فیصد ہے۔ اس میں ہالوسنجینک ٹرپٹامائنز ، فینولز اور ٹیننز بھی ہوتے ہیں۔ اس کا کافی L-dopa مواد پارکنسنز کی بیماری کے علاج میں فایدہ مند ثابت ہوا ہے
1 . پارکنسن کا مرض
مکونا پروریئن کیسے کام کرتے ہیں اور یہ پارکنسن بیماری کے قدرتی علاج کے طور پر کس طرح مددگار ثابت ہوسکتا ہے؟ موکونا پروریئنس میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ایل ڈوپا کی اعلی سطح ہوتی ہے جو ڈوپامائن کا پیش خیمہ ہے۔ ڈوپامائن دماغ کا ایک اہم نیورو ٹرانسمیٹر ہے جو نہ صرف جسمانی حرکت کو ہم آہنگ کرنے کے لئے ضروری ہے ، بلکہ سیکھنے ، حوصلہ افزائی کرنے اور موڈ کو منظم کرنے جیسی چیزوں کو بھی ضروری ہے۔
جب کسی کو پارکنسن کا مرض ہوتا ہے تو ، دماغ میں ڈوپامین پیدا کرنے والے عصبی خلیے آہستہ آہستہ ٹوٹ جاتے ہیں یا مر جاتے ہیں۔ لہذا اس مرض میں مبتلا افراد میں ڈوپامائن کی سطح کم ہوتی ہے ، جو دماغ کی غیر معمولی سرگرمی کا سبب بنتا ہے جو پارکنسن کی علامات کا باعث بنتا ہے۔
ا Mucuna pruriens ٹیسٹوسٹیرون کو فروغ دینے اور مرد بانجھ پن کے لئے مددگار ہے؟ اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ صحت مند مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کو فروغ دے گا ، لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ بانجھ پن سے لڑنے والے مردوں کی جراثیم کی سطح کو بڑھاتا ہے۔ سی ایس ایم میں تحقیق کی گئی۔ ہندوستان میں میڈیکل یونیورسٹی نے 75 صحتمند مردوں کے کنٹرول گروپ کے مقابلے میں بانجھ پن کی جانچ پڑتال سے گزرنے والے 75 مردوں پر مکونا پروریئن کے اثرات کی تحقیقات کی۔
مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مخمل سیم کے ساتھ علاج میں بانجھ مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون ، لیوٹینائزنگ ہارمون ، ڈوپامائن ، ایڈرینالین اور نورڈرینالائن کی سطح میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اس کے علاوہ ، بانجھ مردوں میں علاج کے بعد نطفہ کی گنتی اور نطفہ کی حرکت پذیری "نمایاں طور پر بوہت زیادہ ہوئی ہے
ذیابیطس کا شکار مردوں کے لئے اکثر جنسی بے عملی اور کم البیڈو مسئلہ ہوسکتا ہے۔ 2012 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں طویل المیعاد ہائپرگلیسیمک نر چوہوں میں مردانہ جنسی اور منی پیرامیٹرز پر ایم پروریئن کے اثرات پر غور کیا گیا۔ محققین نے پایا کہ ذیابیطس والے جانوروں میں جن کو ایم پروریئن بیج کا نچوڑ دیا گیا تھا “جب جنسی ذیابیطس ، جذبہ اور طاقت ، منی پیرامیٹرز ، ڈی ایس پی ، اور ہارمون کی سطح میں نمایاں بہتری دکھائی گئی ہے” جب ذیابیطس سے متاثرہ مضامین کے مقابلے میں کسی کو بھی نہیں دیا جاتا ہے۔
ڈپامین کی کمی کا شکار ہونا افسردگی کے کچھ معاملات میں ملوث رہا ہے۔
موکونا پریشان ہو کر افسردگی کو دور کرتا ہے؟ AYU میں 2014 میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مطالعہ (آیوروید میں ایک بین الاقوامی سہ ماہی جرنل آف ریسرچ) نے جانوروں کے مضامین کا استعمال کرتے ہوئے افسردگی کے مختلف تجرباتی ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے مخمل بین کے بیجوں کے antidepressant اثرات پر ایک نظر ڈالی۔ مجموعی طور پر ، اس تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ بیجوں کے ہائیڈرو الکولک نچوڑ (100 ملیگرام / کلوگرام اور 200 ملی گرام / کلوگرام کی مقدار میں) اینٹی ڈپریسنٹ اثرات ظاہر کرتے ہیں ، جو محققین کا خیال ہے کہ ڈوپامائن کی سطح کو بڑھانے کے لئے مخملی بین کی وجہ سے ممکن ہے
اورینٹل فارمیسی اور تجرباتی میڈیسن نامی جریدے میں 2013 میں شائع ہونے والی ایک اور تحقیقی تحقیق میں بھی موکونا پروریئن بیجوں کے انسداد ادبی عمل کا اندازہ کیا گیا اور پتہ چلا ہے کہ موکونا پروریئن صرف ڈوپامائن کو متاثر نہیں کرتی ہے۔ جانوروں کے مضامین میں دو ہفتوں تک موکونا پروریئن بیج کے عرق کا استعمال کرایا گیا جس میں دو مزید کلیدی نیورو ٹرانسمیٹر بھی بڑھ گئے جو موڈ کو متاثر کرتے ہیں: سیرٹونن اور نوریپائنفرین۔
یہ ایک اہم تحقیق ہے جس کی وجہ کلینیکل شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ افسردگی کے شکار افراد کو عام طور پر مرکزی اعصابی نظام میں سیرٹونن ، نورپائنفرین اور ڈوپامائن (DA) نیورو ٹرانسمیشن میں خلل پڑتا ہے۔
⬅😷 آج کل ہر کوئی کرونا وائرس کرونا وائرس بولنے لگا ہوا ہے لیکن اکثر لوگوں سے پوچھ لو کہ یہ ہوتا کیا ہے تو کسی کو پتا ہی نہیں ہو گا وائرس کس چیز کا نام ہے یہ کس کو بھی معلوم نہیں ہے۔۔۔ وائرس ایک بے جان ڈی این اے ہے جب اسکو کسی جاندار میں شامل کیا جائے تو بیکٹیریا کی مدد سے وہ منٹوں میں لاکھوں کی تعداد میں بچے پیدا کرتا ہے اور جب کوئی جاندار اسکو چھوتا ہے وائرس اس بندے میں منتقل ہو جاتا ہے یہ تو تھا وائرس کا تعارف اور پھیلنے کا طریقہ۔۔ اب ہم اپنی بات کرلیں ہماری قوم کو جب سے پتا چلا ہے کہ وائرس پاکستان میں داخل ہوگیا ہے ماسک غائب کر دئے ہیں۔۔۔ لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ وائرس کے لئے N-95 ایک خاص قسم کا ماسک استعمال ہوتا ہے اور جو ہماری قوم نے لالچ میں آکر ماسک ذخیرہ کرلئے ہیں وہ صرف مٹی سے بچنے کے لئے استعمال ہونے والا ماسک ہے۔۔ ہماری عوام کو بس ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دو یہ آسانی سے لگ جاتی ہے۔۔۔ سب سے ضروری بات وائرس ہوا کے ذریعے نہیں پھیلتا بلکہ چھونے سے پھیلتا ہے اور ماسک صرف متاثرہ شخص کے لئے ہے ہماری عوام کے دل میں میڈیا نے اتنا زیادہ ڈر پیدا کر دیا ہے کہ لوگ گھروں سے نکلنے سے ڈر رہے ہیں۔۔۔
اب بات کرتے ہیں وائرس آیا کہاں سے اسکا علاج کیا ہے میں جو آپ کو بتانے جارہا ہوں وہ شاید آپ کو حیرت میں ڈال دے۔۔ یہ بات مشہور کی جارہی ہے کہ وائرس چمگادڑ کھانے سے پیدا ہوا اور پھیل رہا ہے اور یہ وائرس کچھ ماہ پہلے پیدا ہوا ہے۔۔۔
ایسا ہرگز نہیں ہے نہ تو یہ وائرس چمگادڑ کھانے سے پیدا ہوا اور نہ پھیل رہا ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو کسی مسلمان کو یہ وائرس کبھی نہ لگتا۔۔
یہ وائرس خاص طور پر لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے اور یہ آج کل میں نہیں بلکہ پچاس سال پہلے سے تیار کیا جا چکا تھا لیکن اسکو سکے سہی وقت اور سہی جگہ پر لوگوں میں پھیلانے کا انتظار کیا جارہا تھا
میں آپ کو یہ بات دلیل سے پیش کرتا ہوں کہ وائرس ایک دو ماہ پہلے نہیں بنا بلکہ پچاس سال پہلے خود تیار کیا گیا ہے۔۔۔
سب سے پہلے 1981 میں ایک ناول
The eye of darkness
میں بتا دیا گیا تھا کہ 2020 میں چائنہ کے شہر وہان سے اسکا آغاز ہوگا۔۔
پھر 2000 میں چلنے والے مشہور کارٹون میں
The Simpsons
میں اسکا ذکر کیا گیا
اور اسکے بعد 2011 کی انگلش فلم جسکا نام
Contagion
ہے اسمیں کرونا وائرس کا بتایا گیا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر وائرس دو ماہ پہلے پھیلا ہے تو چالیس پچاس سال پہلے اسکا کیسے پتا چل گیا تھا۔۔ اسکا جواب یہ ہے کہ ہم جنگ میں ہے اور یہ جنگ تلواروں اور بندوقوں سے نہیں لڑی جارہی بلکہ اسکو FiFTH Generation War
کا نام دیا گیا ہے جس میں آپ سامنے آئے بغیر اپنے دشمن کو شکست دے دیں گے۔۔۔
ہمارا دشمن ہماری سوچ سے کتنا آگے نکل چکا ہے ہمیں اس بات کا اندازہ تک نہیں ہم کئی سو سال پیچھے چل رہے ہیں اگر ہم نے خود کو جدید طرز کے مطابق نہ ڈھالا تو ہمارا نام و نشان مٹ جائے گا۔۔
اب رہی بات اس وائرس کے علاج کی تو آپ خود دیکھیں گے کچھ دنوں تک امریکہ اور اسرائیل اعلان کریں گے کہ ان کے سائنسدانوں نے کرونا وائرس کا علاج ڈھونڈ لیا ہے
لیکن سوچنے کی بات یہ ہوگی کہ پوری دنیا میں کرونا وائرس سے ایک بھی یہودی نہیں مرے گا اور پھر بھی علاج وہی تلاش کرکے اپنی مرضی سے قیمت لگا کر بیچیں گے۔۔۔
Eng: raisin
Urdu: خشک انگور، منقیٰ، کشمش کِشمِش ۔ میٹھی قِسم کا انگُور ۔ مُنقیٰ کشمش . منفی داخ
، کھانے پکانے اور مشروبات کشید کرنے میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔ چھوٹے کنکر کی جسامت والی کشمش کی جِلد پر جھریاں ہوتی ہیں۔ اس کا ذائقہ نہایت میٹھا ہوتا ہے اور اس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ یہ عموماً گہرے بُھورے رنگ کی ہوتی ہیں اوربعض اوقات اودے رنگ میں بھی پائی جاتی ہیں۔
کِشمِش کا درخت پت جھڑا ہوتا ہے اور یہ 70 فِٹ یا اس سے زائد کی بلندی تک بڑھ سکتا ہے۔ مگر زراعتی طور پر کاشت کردہ کِشمِش کے درخت کی اونچائی اپنے ایک گول تنے کے ساتھ 30 فِٹ تک ہوتی ہے۔ کِشمِش کا درخت چین کے پہاڑوں اور نمی والے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ خوش ذائقہ کِشمِش کا شمار پھلوں میں نہیں ہوتا ۔ اس کے پھول اکڑے ہوئے، پُھولے ہوئے اور شاخ دار ہوتے ہیں جو بیج کی پھلی کے سہارے لگے ہوتے ہیں اور یہ ناخوشگوار ہوتے ہیں نیز کھانے کے قابل نہیں ہوتے۔ جب یہ پھلی بالغ ہوجاتی ہے تو اس میں سے شاخ دار شاخیں نکلتی ہیں جو پھولے ہوئے خوشوں سے منسلک ہوتی ہیں۔ یہ خوشے لٹّو کی طرح گھومے ہوئے اور شفاف سرخی مائل بھورے ہوتے ہیں۔ اس میں ناشپاتی کی طرح کا ذائقہ ہوتا ہے جس میں مٹھاس زیادہ ہوتی ہے۔ یہ شاخ دار خوشے اس وقت کھانے کے قابل ہوتے ہیں جب یہ زمین پر گِر جاتے ہیں۔ اس کی فصل بہت ہوتی ہے۔ اس کی پھلی بھوری ہوتی ہے جو اصل میں اس کا پھل ہے مگر استعمال نہیں ہوتی۔
خون کی کم
جسم میں خون کی کمی انسان کو بہت ساری بیماریوں میں مبتلا کردیتی ہے۔ خون کی کمی سے چہرےکی خوبصورتی بھی متاژرہوتی ہے۔ خواتین میں یہ مسئلہ عام ہے خصوصا حمل کےدوران خون کی کمی اور بھی برھ جاتی ہے خون کی کمی کی وجہ سے صحت بھی خراب ہوجاتی ہے آج آپ کے ساتھ ایک ایسا نسخہ شیئرکررہے ہیں جس کےزیعے آپ کے جسم میں خون کی کمی بلکل دورہو جائے گی یہ نایاب نسخہ نا صرف آپ کےجسم میں ریڈ سیلزکو بڑھائےگا بلکہ آپ کی صحت کو بھی اچھا بنائےگا خون کی کمی کو دور کرنے کا یہ سب سے زیادہ آسان نسخہ ہے صرف دس دن تک آپ یہ نسخہ استعمال کریں پھر اپنے گالوں کی لالی اور سرخی چیک کیجئے گا۔
کشمش جسے انگور خشک کرکے بنایا جاتا ہے، اس کی رنگت گولڈن، سبز یا سیاہ ہوسکتی ہے۔ یہ مزیدار میوہ روز مرہ زندگی کے دوران عام استعمال کیا جاتا ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں ہے کہ اگر کشمش کا روزانہ استعمال کیا جائے تو آپ کیا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں؟
اگر نہیں تو آج ہم آپ کو بتاتے ہیں۔
▪امراض سے پاک زندگی کی کنجی قبض سے نجات فائبرسے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ کشمش میں ٹارٹارک ایسڈ بھی پایا جاتا ہے جو ہلکے جلاب جیسا اثر دکھاتا ہے۔
▪ایک تحقیق کے مطابق آدھا اونس کشمش روزانہ استعمال کرنے والے افراد کا ہاضمہ دگنا تیزی سے کام کرتا ہے۔ خون کی کمی دور کرتاہے۔
▪کشمش آئرن سے بھرپور میوہ ہے، جو خون کی کمی دور کرنے کے لیے اہم ترین جز ہے، کشمش کو آسانی سے دلیہ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے بلکہ ویسے کھانا بھی منہ کا ذائقہ ہی بہتر کرتا ہے۔ تاہم ذیابیطس کے شکار افراد کو یہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔
▪کشمش بخار سے بھی تحفظ دیتا ہے کشمش میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس وائرل اور بیکٹریا سے ہونے والے انفیکشن کے نتیجے میں بخار کے عارضے کا علاج بھی فراہم کرتے ہیں۔
▪معدے کی تیزابیت ختم کرتا ہے۔ کشمش میں پوٹاشیم اور میگنیشم ہوتا ہے جو کہ معدے کی تیزابیت میں کمی لاتے ہیں،
▪معدے میں تیزابیت کی شدت بڑھنے سے جلدی امراض، جوڑوں کے امراض، بالوں کا گرنا، امراض قلب اور کینسر تک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
▪آنکھوں کی صحت بہتر کرے۔ کشمش میں موجود اجزاءآنکھوں کو مضر فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے تحفظ دیتے ہیں جبکہ عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری، موتیا اور بینائی کی کمزوری سے بھی تحفظ ملتا ہے۔ اس میوے میں موجود بیٹا کیروٹین، وٹامن اے اورکیروٹین بھی بینائی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
▪جسمانی توانائی بڑھائے کاربوہائیڈریٹساور قدرتی چینی کی بدولت یہ میوہ جسمانی توانائی کے لیے بھی اچھا ذریعہ ہے، کشمش کا استعمال وٹامنز،پروٹین اور دیگر غذائی اجزاءکو جسم میں موثر طریقے سے جذب ہونے میں بھی مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باڈی بلڈرز اور ایتھلیٹس کشمش کا استعمال عام کرتے ہیں۔
▪کشمش کا استعمال بے خوابی سے بھی نجات دلاتا ہے اس میوے میں موجودآئرن بے خوابی یا نیند نہ آنے کے عارضے سے نجات دلانے میں مدد دیتا ہے جبکہ نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔
▪بلڈ پریشر آئرن، پوٹاشیم، بی وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر پوٹاشیم خون کی شریانوں کے تناؤ کو کم کرتا ہےاور بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر کم کرتا ہے اسی طرح قدرتی فائبر شریانوں کی اکڑن کو کم کرتا ہے جس سے بھی بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آتی ہے۔
▪اس میں موجود کیلشیئم ہڈیوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔گردوں کی صحت کے لیے بہتر پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کی وجہ سے ان کا استعمال معمول بنانا گردوں میں پتھری کا خطرہ کم کرتا ہے۔
یقیناً اتنی خوبیاں جاننے کے بعد آپ آج سے ہی کشمش کا باقاعدگی سے استعمال شروع کر دینگے۔۔۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
GT Road
Lahore
45000