Health tips with Dr shaz
( "A successful society is one that prioritizes the welfare of all its individuals.
Serving others, supporting the weak, and adopting a just attitude are marks of a successful and strong nation.
خواتین کی صحت، Gynecology اور Obstetrics میں انسانیت کی ضرورت — کیا ہم نے علاج سے احساس تو نہیں کھو دیا؟
عورت کے جسم کا علاج کرنے کے لیے Anatomy پڑھنا کافی ہے، مگر اُس کے درد کو سمجھنے کے لیے انسانیت پڑھنی پڑتی ہے؛ کیونکہ ہر درد رپورٹ میں نہیں لکھا ہوتا، کچھ درد صرف دل محسوس کرتا ہے۔
پاکستان میں خواتین کی صحت، Gynecology اور Obstetrics کے شعبے نے یقیناً بہت ترقی کی ہے۔ جدید تشخیص، الٹراساؤنڈ، لیبارٹری ٹیسٹ، سرجری، ادویات اور جدید Obstetric care نے بے شمار ماؤں اور خواتین کی زندگیاں محفوظ کی ہیں۔ لیکن اس تمام ترقی کے درمیان ایک سوال ہمیں خود سے ضرور پوچھنا چاہیے: کیا علاج جدید ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی بھی رہا ہے؟
ہمارے معاشرے میں ایک وقت تھا جب ایک دائی صرف بچے کی پیدائش میں مدد کرنے والی عورت نہیں سمجھی جاتی تھی؛ وہ گھر کی خواتین کے دکھ، خوف، کمزوری اور گھریلو حالات سے واقف ہوتی تھی۔ وہ مریضہ کو صرف ایک کیس نہیں سمجھتی تھی، بلکہ ایک انسان سمجھتی تھی۔ اُس کے پاس شاید جدید مشینیں نہیں تھیں، مگر اُس کے پاس وقت تھا، توجہ تھی، تجربہ تھا اور سب سے بڑھ کر ایک احساس تھا کہ سامنے بیٹھی عورت صرف جسم نہیں، جذبات اور خوف رکھنے والی ایک مکمل انسان ہے۔
آج ہمارے پاس بہترین ٹیکنالوجی موجود ہے، مگر بعض اوقات مریضہ اور معالج کے درمیان Communication Gap بڑھتا جا رہا ہے۔ عورت اپنے جسم، اپنی بیماری، اپنی Pregnancy، اپنے Period Problems، PCOS، Infertility یا کسی دوسرے Gynecological مسئلے کے بارے میں سوال کرنا چاہتی ہے، لیکن شرم، خوف، جلد بازی یا ڈاکٹر اور مریضہ کے درمیان مناسب رابطے کی کمی اسے خاموش کر دیتی ہے۔
اور بعض اوقات مسئلہ صرف بیماری کا نہیں ہوتا؛ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ مریضہ کو یہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ کسی نے اُس کی بات پوری طرح سنی ہے۔
ایک عورت جب Gynecologist کے پاس جاتی ہے تو وہ صرف ایک Prescription لینے نہیں جاتی۔ وہ اپنا جسم، اپنا خوف، اپنی عزت، اپنی امید اور بعض اوقات اپنی پوری زندگی کا ایک حساس پہلو ڈاکٹر کے سامنے رکھتی ہے۔ اس لیے Women’s Health میں علم کے ساتھ اعتماد، علاج کے ساتھ ہمدردی اور Diagnosis کے ساتھ Communication بھی ضروری ہے۔
محض یہ جان لینا کہ مریضہ کو کیا بیماری ہے، کافی نہیں۔ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ وہ اُس بیماری کے ساتھ کس ذہنی کیفیت سے گزر رہی ہے۔
کسی غریب عورت کے لیے علاج کا راستہ اُس کی مالی استطاعت کے مطابق قابلِ رسائی بنانا بھی Medical Ethics کا حصہ ہونا چاہیے۔ ہر مریضہ کو ایک ہی معیار کی عزت، توجہ اور بنیادی انسانی ہمدردی ملنی چاہیے، خواہ اُس کے پاس مہنگا علاج کروانے کی استطاعت ہو یا نہ ہو۔
Healthcare کا مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مریضہ کتنی فیس ادا کر سکتی ہے؛ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہم اُس کی ضرورت کے مطابق بہترین، محفوظ اور مناسب علاج کیسے فراہم کر سکتے ہیں۔
یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جدید طب اور پرانے زمانے کی دائی کے مثبت انسانی رویے ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ ہمیں پرانے دور کی غیر سائنسی practices واپس نہیں لانی، بلکہ اُس دور کے ایک خوبصورت وصف—مریضہ کے ساتھ وقت، توجہ، اپنائیت اور انسانی تعلق—کو جدید Evidence-Based Medicine کے ساتھ دوبارہ زندہ کرنا چاہیے۔
ایک جدید Gynecologist کے پاس Ultrasound، Laboratory، Surgery اور جدید Medical Knowledge ضرور ہونا چاہیے، لیکن اُس کے ساتھ وہ دل بھی ہونا چاہیے جو مریضہ کی خاموشی میں چھپی ہوئی پریشانی کو محسوس کر سکے۔
Obstetrics میں یہ احساس اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ ایک حاملہ عورت صرف ایک Pregnancy نہیں ہوتی؛ وہ ایک ماں ہوتی ہے، جس کے اندر ایک نئی زندگی نشوونما پا رہی ہوتی ہے۔ اُس کے خوف کو کم کرنا، اُسے سمجھانا، اُس کے سوالات کا جواب دینا اور اُسے عزت کے ساتھ سننا بھی Maternal Care کا حصہ ہے۔
ہمیں ایسی Women’s Health Care کی ضرورت ہے جہاں جدید سائنس اور انسانیت ایک دوسرے کے مقابل نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں۔
کیونکہ کبھی کبھی مریضہ کو صرف دوا نہیں چاہیے ہوتی؛ اسے یہ یقین چاہیے ہوتا ہے کہ کوئی اُس کی بات سن رہا ہے۔
اور شاید طب کی سب سے خوبصورت تعریف یہی ہے:
"عورت کے جسم کا علاج کرنے کے لیے Anatomy پڑھنا کافی ہے، مگر اُس کے درد کو سمجھنے کے لیے انسانیت پڑھنی پڑتی ہے؛ کیونکہ ہر درد رپورٹ میں نہیں لکھا ہوتا، کچھ درد صرف دل محسوس کرتا ہے۔"
16/08/2026
دائی سے ڈاکٹر تک۔۔۔ وقت بدل گیا، مگر کیا خدمت بھی بدل گئی؟
ہمارے برصغیر کے پرانے معاشرے میں دائی صرف بچے کی پیدائش کروانے والی عورت نہیں ہوتی تھی، بلکہ وہ ایک خاندان کے لیے اعتماد، خدمت، تجربے اور اپنائیت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ ایک بڑے گاؤں یا کئی دیہات کے درمیان اگر کوئی دائی اپنی مہارت، تجربے اور کامیاب ولادتوں کی وجہ سے مشہور ہو جاتی تو مشکل وقت میں لوگ اسی کو بلاتے تھے۔ اس کی پہچان کسی بڑے بورڈ، مہنگے کلینک یا بھاری فیس سے نہیں بلکہ برسوں کی عملی مہارت اور لوگوں کے اعتماد سے بنتی تھی۔ ایک ماہر دائی کا تعلق صرف زچگی کے چند گھنٹوں تک محدود نہیں ہوتا تھا۔ وہ حمل کے دوران عورت کی خبرگیری کرتی، اس کے گھر کے حالات سمجھتی، اس کی خوراک اور آرام کا خیال رکھتی، ولادت کے وقت اس کے ساتھ کھڑی رہتی اور بچے کی پیدائش کے بعد بھی کئی دنوں تک ماں کی دیکھ بھال میں اپنا کردار ادا کرتی تھی۔ بعض علاقوں میں چالیس دن تک ماں کی خصوصی نگہداشت کی روایت تھی، جسے چالیسواں کہا جاتا تھا۔ اس دوران ماں کو آرام، مناسب خوراک، گرم غذائیں، پنجیری، خشک میوہ جات اور گھر کی خواتین کی مدد فراہم کی جاتی تھی۔ یہاں ایک بہت خوبصورت بات قابلِ غور ہے کہ اس نظام میں مریضہ صرف ایک طبی معاملہ نہیں تھی؛ وہ ایک انسان تھی، ایک بیٹی تھی، ایک بہن تھی، ایک بیوی تھی اور ایک ماں بننے والی عورت تھی۔ اس کے درد، خوف، کمزوری اور جذبات کو بھی اہمیت دی جاتی تھی۔ اور معاوضے کا تصور بھی آج سے بہت مختلف تھا۔ کئی علاقوں میں دائی کو بھاری نقد فیس دینے کے بجائے آٹا، گندم، راشن، کپڑے یا گھر کی ضرورت کی دوسری چیزیں دی جاتی تھیں۔ بعض دایاں خود غریب یا بیوہ ہوتی تھیں اور یہی راشن ان کے گھر کا سہارا بنتا تھا۔ یہ پورے برصغیر میں ایک جیسا نظام نہیں تھا، لیکن خدمت کے بدلے معاشرتی تعاون اور نذرانے کی روایت کئی جگہ موجود تھی۔ آج ذرا منظر بدل کر دیکھیں۔ جدید طب نے بلاشبہ انسانیت کو بے شمار نعمتیں دی ہیں۔ آج ہمارے پاس الٹراساؤنڈ، خون کی منتقلی، جراثیم سے پاک آپریشن تھیٹر، مؤثر ادویات، بے ہوشی کی سہولت، ہنگامی آپریشن اور پیچیدہ زچگی کو سنبھالنے کے جدید ذرائع موجود ہیں۔ یہ وہ سہولیات ہیں جن کی قدر نہ کرنا حقیقت سے آنکھیں بند کرنا ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جدید سہولیات کے ساتھ کیا مریض کے لیے وقت، توجہ، احترام اور انسانیت بھی اسی رفتار سے بڑھی؟ یہاں تنقید ضروری ہے۔ آج بعض جگہ مریض ڈاکٹر کے سامنے بیٹھتا ہے، اپنی پوری تکلیف بیان بھی نہیں کر پاتا اور چند منٹ بعد اسے نسخہ یا ٹیسٹوں کی ایک فہرست تھما دی جاتی ہے۔ بعض نجی اداروں میں علاج اتنا مہنگا ہو چکا ہے کہ عام آدمی بیماری سے پہلے خرچ کے خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مشورے کی فیس الگ، معائنے کی فیس الگ، ٹیسٹ الگ، ہسپتال کے اخراجات الگ اور زچگی کے اخراجات الگ۔ سوال یہ نہیں کہ ڈاکٹر کو معاوضہ کیوں ملتا ہے؛ سوال یہ ہے کہ کیا علاج کی قیمت انسان کی استطاعت اور اس کی مجبوری کو بھی مدنظر رکھتی ہے؟ ہمیں ہر ڈاکٹر کو برا کہنا بھی درست نہیں۔ آج بھی بے شمار ڈاکٹر انتہائی دیانت داری سے خدمت کر رہے ہیں، راتوں کو جاگتے ہیں، ہنگامی حالات میں مریضوں کی مدد کرتے ہیں اور محدود وسائل میں بھی انسانیت کا دامن نہیں چھوڑتے۔ لیکن جہاں طب خدمت سے زیادہ تجارت بن جائے، وہاں تنقید ہونی چاہیے۔ کیونکہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مریض کو انسان کے بجائے صرف ایک گاہک سمجھا جانے لگے، جب اس کی بات سننے سے زیادہ جلدی نسخہ لکھنا اہم ہو جائے، جب ضرورت سے زیادہ اخراجات مریض کے لیے بوجھ بن جائیں، اور جب ڈاکٹر اور مریض کے درمیان اعتماد کی جگہ صرف فیس اور رسید کا تعلق رہ جائے۔ ماضی کی ماہر دائی کے پاس جدید ڈگری نہیں تھی، لیکن اس کے پاس برسوں کا عملی تجربہ، مقامی لوگوں کا اعتماد اور مریضہ کے ساتھ وقت گزارنے کا حوصلہ تھا۔ دوسری طرف آج کا تربیت یافتہ ڈاکٹر سائنسی علم، تشخیص اور جدید علاج کی ایسی سہولیات رکھتا ہے جو ماضی میں موجود نہیں تھیں۔ اس لیے ماضی کی ہر دائی کو مکمل طور پر محفوظ اور ہر جدید ڈاکٹر کو ناقابلِ اعتماد قرار دینا بھی درست نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں ماضی کی خدمت اور جدید طب کی حفاظت، دونوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ ایک ماہر دائی کی سب سے بڑی خوبی شاید یہ تھی کہ وہ مریضہ کو اکیلا نہیں چھوڑتی تھی۔ وہ اس کے گھر تک جاتی تھی، اس کے خاندان کو جانتی تھی، اس کے ساتھ وقت گزارتی تھی اور اسے یہ احساس دلاتی تھی کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔ آج جدید طبی نظام کو اسی انسانی تعلق کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ پرانے زمانے کی ہر چیز اچھی تھی اور آج کی ہر چیز خراب ہے۔ ماضی میں بھی نااہل لوگ تھے اور بعض غیر محفوظ طریقے بھی موجود تھے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تجربہ کار، ماہر اور دیانت دار دایاں ایک اہم سماجی کردار ادا کرتی تھیں، اور ان کی خدمات کو صرف اس لیے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ان کے ہاتھ میں یونیورسٹی کی ڈگری نہیں تھی۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید طب نے پیچیدہ زچگی میں جان بچانے کے امکانات کو بہت بڑھایا ہے۔ شدید خون بہنے، بچے کی غیر معمولی پوزیشن، ایکلیمپسیا، انفیکشن، رحم کے پھٹنے یا دوسری ہنگامی پیچیدگیوں میں جدید ہسپتال اور تربیت یافتہ طبی ٹیم زندگی بچانے والی مداخلت فراہم کر سکتی ہے۔ لہٰذا اصل مقابلہ دائی اور ڈاکٹر کے درمیان نہیں ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہماری ماں کو کیا مل رہا ہے؟ کیا اسے وقت مل رہا ہے؟ کیا اسے عزت مل رہی ہے؟ کیا اسے محفوظ زچگی مل رہی ہے؟ کیا اس کی بات پوری سنی جا رہی ہے؟ کیا غریب عورت بھی معیاری علاج حاصل کر سکتی ہے؟ اور کیا پیچیدگی پیدا ہونے کی صورت میں اسے فوری طور پر مناسب مرکز تک پہنچایا جا سکتا ہے؟ شاید ہمیں ماضی کی دائی سے ایک چیز ضرور واپس لینی چاہیے: خدمت کا جذبہ۔ اور جدید طب سے ایک چیز ضرور برقرار رکھنی چاہیے: سائنسی حفاظت۔ اگر ایک طرف جدید ڈاکٹر کا علم ہو اور دوسری طرف پرانی دائی کی طرح مریضہ کے لیے وقت، توجہ، ہمدردی اور اپنائیت بھی ہو، تو شاید یہی وہ نظام ہوگا جس میں علاج بھی بہتر ہوگا اور انسانیت بھی محفوظ رہے گی۔ آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ دائی بہتر تھی یا ڈاکٹر۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے طب کو کتنا جدید بنایا اور انسانیت کو کتنا زندہ رکھا؟ کیونکہ ایک مریضہ کو صرف محفوظ علاج نہیں چاہیے؛ اسے یہ احساس بھی چاہیے کہ کوئی اس کے درد کو سمجھتا ہے، اس کی عزت کرتا ہے اور اس کی مجبوری کو صرف ایک فیس کی نظر سے نہیں دیکھتا۔ دائی سے ڈاکٹر تک سفر نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے، لیکن اگر اس سفر میں انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے تو ہمیں واپس مڑ کر دیکھنا ہوگا کہ ہم نے آخر کھویا کیا ہے۔
08/08/2026
🏥 معیاری سرجری — اب مناسب ترین اخراجات میں!
⭐ ماہر سرجنز • جدید سہولیات • بہترین طبی خدمات ⭐
اگر آپ کے پاس کوئی ایسا مریض ہے جسے آپریشن کی ضرورت ہے تو اسے مہنگے علاج کی وجہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
ہمارے ہسپتال میں مختلف اقسام کے آپریشنز کے لیے معیاری سہولیات اور تجربہ کار سینئر ڈاکٹرز و سرجنز کی خدمات دستیاب ہیں۔
🔹 سی سیکشن صرف 20,000 روپے میں
🔹 D&C صرف 6,000 روپے میں
🔹 ہر قسم کی آرتھوپیڈک سرجری
🔹 موٹاپے سے متعلق سرجری
🔹 کیمرے والے آپریشنز
🔹 مختلف اقسام کی جنرل سرجری
🔹 دیگر ضروری آپریشنز اور سرجیکل سہولیات
❤️ غریب اور مستحق مریضوں کے لیے خصوصی سہولت
غریب مریضوں کے لیے مفت آپریشن کی سہولت موجود ہے۔
ہماری کوشش ہے کہ مالی مشکلات کی وجہ سے کوئی مستحق مریض ضروری آپریشن اور علاج سے محروم نہ رہے۔
👨⚕️ سینئر ڈاکٹرز اور ماہر سرجنز کی خدمات
🏥 معیاری آپریشن تھیٹر اور سرجیکل سہولیات
💰 مناسب ترین اخراجات
❤️ غریب و مستحق مریضوں کے لیے مفت آپریشن
🤝 LHV، مڈوائف اور تمام میڈیکل پروفیشنلز کے لیے خصوصی ریفرل پروگرام
لاہور بھر سے LHV، مڈوائف، نرسز، کلینکس اور دیگر میڈیکل پروفیشنلز اپنے مریض ہمارے پاس ریفر کریں اور خصوصی سہولیات حاصل کریں۔
✅ ہر ریفر کی گئی سرجری پر خصوصی ریفرل ڈسکاؤنٹ
✅ تمام میڈیکل پروفیشنلز کے لیے ہر سرجری پر 30٪ اضافی ڈسکاؤنٹ
✅ تمام ضروری میڈیکل ٹیسٹوں پر 50٪ ڈسکاؤنٹ
✅ 3 مریض سرجری کے لیے ریفر کرنے پر 1 سرجری مفت
📞 ابھی رابطہ کریں اور نمبر محفوظ کرلیں
03075010714
آپ کے پاس کوئی مریض ہو جسے سرجری کی ضرورت ہو تو فوراً رابطہ کریں اور مریض کو مناسب ترین اخراجات میں معیاری سرجیکل سہولت فراہم کرنے میں مدد کریں۔
🔔 ہمارا پیج اور چینل فالو کریں
روزانہ حاصل کریں:
📌 طبی معلومات
📌 سرجری سے متعلق معلومات
📌 خصوصی ڈسکاؤنٹ
📌 میڈیکل کیمپس کی Updates
📌 مریضوں کے لیے نئی سہولیات اور اعلانات
❤️ آپ کا ایک ریفرل — کسی مستحق مریض کے لیے نئی امید بن سکتا ہے۔
📞 03075010714
06/08/2026
کیا گھٹنے کی بیماری درد شروع ہونے سے کئی سال پہلے خاموشی سے شروع ہو جاتی ہے؟ — آسٹیوآرتھرائٹس پر جدید تحقیق کی روشنی میں ایک جامع جائزہ
گھٹنے کا درد دنیا بھر میں معذوری کی بڑی وجوہات میں شمار ہوتا ہے، لیکن ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ آسٹیوآرتھرائٹس (Osteoarthritis) اکثر اس وقت شروع ہو چکی ہوتی ہے جب مریض کو ابھی درد محسوس بھی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جدید آرتھوپیڈک تحقیق کا زور صرف درد ختم کرنے پر نہیں بلکہ بروقت تشخیص (Early Diagnosis) اور جوڑ کی حفاظت پر ہے۔
پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ آسٹیوآرتھرائٹس صرف کارٹلیج گھسنے کی بیماری ہے، لیکن اب اسے "Whole Joint Disease" یعنی پورے جوڑ کی بیماری سمجھا جاتا ہے۔ اس میں صرف Articular Cartilage ہی نہیں بلکہ Meniscus، Synovial Membrane، Synovial Fluid، Subchondral Bone، Ligaments، Muscles اور اعصابی نظام بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ Articular Cartilage میں نہ اعصاب ہوتے ہیں اور نہ خون کی نالیاں، اس لیے ابتدائی کارٹلیج ڈیمیج خود درد پیدا نہیں کرتی۔ درد عموماً اس وقت شروع ہوتا ہے جب Synovium میں سوزش، Subchondral Bone میں دباؤ یا Bone Marrow Lesions، Meniscus کی خرابی، Ligaments یا Joint Capsule کی شمولیت ہو جاتی ہے۔ اسی لیے بعض افراد میں شدید Bone-on-Bone تبدیلیاں ہونے کے باوجود درد کم ہوتا ہے، جبکہ کچھ لوگوں میں معمولی تبدیلیوں کے ساتھ بھی درد زیادہ ہو سکتا ہے۔
جدید تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ Quadriceps، Hamstrings اور Hip Muscles کی مضبوطی گھٹنے کو متحرک سہارا (Dynamic Support) فراہم کرتی ہے۔ مضبوط عضلات جوڑ پر پڑنے والے دباؤ کو بہتر انداز میں تقسیم کرتے ہیں، جس سے درد کم ہونے اور روزمرہ کاموں میں آسانی پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی Orthopedic اور Rheumatology گائیڈ لائنز Exercise Therapy اور Muscle Strengthening کو علاج کا بنیادی ستون قرار دیتی ہیں۔
درد کے علاج میں بھی سوچ تبدیل ہو رہی ہے۔ صرف Painkillers پر انحصار کرنے کے بجائے اب Weight Management، Structured Exercise، Physiotherapy، Shock Wave Therapy، PRP، اور منتخب مریضوں میں Genicular Nerve Radiofrequency Ablation (RFA) جیسے طریقوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ طریقے ہر مریض کے لیے موزوں نہیں ہوتے، لیکن مناسب انتخاب کی صورت میں درد کم کرنے اور زندگی کا معیار بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ Painkillers آسٹیوآرتھرائٹس کا علاج نہیں کرتیں۔ ان کا بنیادی مقصد صرف علامات میں عارضی کمی لانا ہے۔ اس لیے ہر گھٹنے کے درد میں بغیر تشخیص کے Painkillers شروع کر دینا مناسب طرزِ عمل نہیں۔ پہلے درست تشخیص، پھر بیماری کی شدت، وجہ، عمر، وزن، طرزِ زندگی اور مریض کی مجموعی حالت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
آج دنیا بھر میں Stem Cell Therapy، Tissue Engineering، Gene Therapy، 3D Printed Cartilage اور نئے Biomaterials پر تحقیق جاری ہے، لیکن ابھی تک Total Knee Replacement کے علاوہ ایسا کوئی علاج دستیاب نہیں جو شدید Bone-on-Bone Osteoarthritis میں قدرتی جوڑ کو مکمل طور پر بحال کر سکے۔
نتیجہ یہ ہے کہ آسٹیوآرتھرائٹس ایک دن میں پیدا ہونے والی بیماری نہیں، بلکہ برسوں میں خاموشی سے بڑھنے والا عمل ہے۔ اس لیے اس بیماری کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار بروقت تشخیص، مناسب ورزش، وزن پر قابو، درست تشخیص پر مبنی علاج، اور جوڑ کے تمام حصوں کی حفاظت ہے۔ یہی طریقہ مستقبل میں گھٹنے کی صحت برقرار رکھنے اور Knee Replacement کی ضرورت کو مؤخر کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
04/08/2026
روزگار بند کرنا نہیں، روزگار پیدا کرنا ریاست کی اصل ذمہ داری ہے
جب بھی صحت کے شعبے میں غیر معیاری یا غیر قانونی خدمات کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو ایک بنیادی سوال ضرور سامنے آتا ہے: کیا صرف کارروائیاں ہی مسئلے کا حل ہیں، یا مسئلے کی جڑ تک پہنچنا بھی ضروری ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، اور غیر تربیت یافتہ افراد کی جانب سے خطرناک طبی مداخلتوں کی روک تھام ضروری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر مسئلے کو صرف طاقت، چھاپوں اور سزاؤں سے حل نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کے دور دراز علاقوں میں ایسے ہزاروں لوگ موجود ہیں جو غربت، بے روزگاری اور تعلیمی محرومی کی وجہ سے کم عمر میں ہی مختلف پیشوں سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ کوئی ورکشاپ میں کام سیکھتا ہے، کوئی ترکھان کے پاس، کوئی میڈیکل سٹور پر، اور کوئی کلینک میں۔ ان میں سے بہت سے بچوں کو نہ مناسب اجرت ملتی ہے، نہ تعلیم، نہ ہی مستقبل کی کوئی ضمانت۔ انہیں صرف یہ کہا جاتا ہے کہ "کام سیکھ لو، کل روزگار مل جائے گا۔"
جب یہی بچے پندرہ یا بیس سال بعد بڑے ہوتے ہیں تو ان کے پاس وہی مہارت ہوتی ہے جو انہوں نے بچپن میں سیکھی تھی۔ اگر کسی نے کلینک میں برسوں کام کیا ہے تو وہ اسی شعبے میں روزگار تلاش کرے گا۔ اگر کسی نے مکینک کا کام سیکھا ہے تو وہ مکینک بنے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست نے انہیں کبھی متبادل تعلیم، تربیت یا قانونی راستہ فراہم کیا؟
اگر نہیں، تو پھر صرف ان کا روزگار بند کر دینا کیا دیرپا حل ہے؟
حقیقی اصلاح یہ ہے کہ ایسے افراد کے لیے بریج ٹریننگ پروگرام، سرٹیفیکیشن، محدود دائرۂ کار کے لائسنس، نگرانی اور مسلسل تعلیم کا نظام بنایا جائے تاکہ جو لوگ محفوظ طریقے سے بنیادی خدمات انجام دے سکتے ہیں، انہیں قانونی اور محفوظ فریم ورک میں لایا جا سکے، جبکہ خطرناک اور پیچیدہ طبی کام صرف مستند اور رجسٹرڈ ڈاکٹر ہی انجام دیں۔
ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں لاکھوں بچے غربت کی وجہ سے تعلیم مکمل نہیں کر پاتے۔ اگرچہ سرکاری سکول موجود ہیں، لیکن بہت سے خاندانوں کے لیے یونیفارم، کتابیں، ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر اخراجات بھی برداشت کرنا ممکن نہیں ہوتے۔ ایسے حالات میں بچہ مزدوری پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اگر ریاست واقعی غیر قانونی پیشوں کا خاتمہ چاہتی ہے تو سب سے پہلے ایسے حالات پیدا کرے کہ کوئی بچہ غربت کی وجہ سے تعلیم چھوڑنے پر مجبور نہ ہو۔
چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے صرف قانون کافی نہیں، بلکہ ایسے معاشی اور سماجی اقدامات بھی ضروری ہیں جن سے ہر بچے کو تعلیم، خوراک اور بنیادی سہولیات میسر آئیں۔ جب تک غربت موجود رہے گی، لوگ مجبوری میں غیر رسمی شعبوں کی طرف جاتے رہیں گے۔
ریاست کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ اس نے کتنے کاروبار بند کیے، بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ اس نے کتنے لوگوں کو باعزت روزگار، مہارت اور قانونی مواقع فراہم کیے۔
ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ضرور دی جاتی ہیں، لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وہاں مضبوط تعلیمی نظام، فنی تربیت، سماجی تحفظ، بے روزگاری الاؤنس، مہارت کی سرکاری سرپرستی اور واضح کیریئر راستے موجود ہوتے ہیں۔ صرف قوانین کی نقل کر لینا کافی نہیں؛ ان قوانین کے پیچھے موجود معاشی اور سماجی ڈھانچے بھی بنانے پڑتے ہیں۔ نقل کے لیے عقل بھی ضروری ہوتی ہے۔
پاکستان میں لاکھوں غریب نوجوان انتہائی ذہین، محنتی اور باصلاحیت ہیں۔ ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ان کی صلاحیتوں کو ملک کی ترقی میں استعمال کرنا چاہیے۔ ہر فرد کو اس کی قابلیت کے مطابق تربیت، قانونی راستہ اور روزگار فراہم کیا جائے تو نہ صرف غربت کم ہوگی بلکہ جرائم، مایوسی اور معاشرتی بے چینی میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
اصلاح کا راستہ صرف سزا نہیں، بلکہ تعلیم، تربیت، نگرانی، قانون کی بالادستی، معاشی انصاف اور روزگار کے مواقع ہیں۔ ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جو غلطیوں کی اصلاح بھی کرے اور لوگوں کو آگے بڑھنے کا راستہ بھی دے۔
آئیے ایسا پاکستان بنائیں جہاں قانون بھی مضبوط ہو، عوام بھی محفوظ ہوں، اور کسی محنت کش کا مستقبل صرف اس لیے ختم نہ ہو کہ اسے کبھی سیکھنے اور آگے بڑھنے کا منصفانہ موقع ہی نہیں ملا۔
29/07/2026
کیا واقعی پاکستان میں علاج بہت مہنگا ہے؟ ایک حقیقت پسندانہ موازنہ
آج کل اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان میں علاج عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ یقیناً مہنگائی نے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے اور بہت سے مریض علاج کے اخراجات برداشت کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک، خصوصاً برطانیہ (UK) کے نجی ہسپتالوں سے موازنہ کریں تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔
پاکستان میں آج بھی ایسے نجی اور فلاحی ہسپتال موجود ہیں جہاں ضرورت مند مریضوں کا علاج انتہائی کم خرچ میں کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بعض مراکز میں سیزیرین سیکشن (C-Section) تقریباً 10 ہزار سے 20 ہزار روپے میں بھی کیا جاتا ہے، جبکہ کچھ اداروں میں یہ 25 سے 30 ہزار روپے تک مکمل ہو جاتا ہے۔ اس رقم میں عام طور پر سرجن، اینستھیزیا، آپریشن تھیٹر، نرسنگ اسٹاف، ادویات، ڈریسنگ اور مختصر داخلہ شامل ہوتا ہے۔ بعض ہسپتال مریض کو ایک دن داخل رکھنے کے بعد اگلے دن ڈسچارج بھی کر دیتے ہیں، اگر ماں اور بچہ دونوں کی حالت تسلی بخش ہو۔
لاہور کے بعض نجی ہسپتال، مثلاً گلوبل ہسپتال، بھی ضرورت مند مریضوں کے لیے نسبتاً کم اخراجات پر علاج فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اگرچہ اصل فیس مریض کی طبی حالت، سہولیات اور ہسپتال کی پالیسی کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
دوسری طرف اگر یہی سیزیرین سیکشن برطانیہ کے کسی نجی ہسپتال میں ایک غیر ملکی (Self-Pay) مریضہ کروائے تو اس کا تخمینی خرچ تقریباً £15,510 تک پہنچ سکتا ہے، جو تقریباً 6,048,900 پاکستانی روپے بنتا ہے (تخمینی شرح مبادلہ کے مطابق)۔
نمونہ (Estimated UK Private Hospital Bill):
- کل تخمینی رقم: £15,510
- پاکستانی روپے میں: تقریباً PKR 6,048,900
- داخلہ: 2 سے 3 دن
- اس میں عام طور پر شامل ہوتے ہیں:
- رجسٹریشن اور ایڈمنسٹریشن
- گائناکالوجسٹ کی فیس
- اینستھیزیا اسپیشلسٹ کی فیس
- پری آپریٹو معائنہ
- خون کے ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ
- آپریشن تھیٹر چارجز
- سیزیرین آپریشن
- اسسٹنٹ سرجن
- سرجیکل سامان اور سٹرز
- ریکوری روم
- پرائیویٹ کمرہ
- نرسنگ کیئر
- ادویات، اینٹی بایوٹکس اور درد کش ادویات
- نومولود بچے کا ابتدائی معائنہ
- ڈسچارج ادویات اور فالو اپ
یہ بھی حقیقت ہے کہ برطانیہ میں بہت سے شہری نجی علاج کے لیے ہیلتھ انشورنس رکھتے ہیں یا باقاعدگی سے انشورنس پریمیم ادا کرتے ہیں، جس سے علاج کے اخراجات میں مدد ملتی ہے۔ اس کے باوجود علاج کی اصل قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔
پاکستان کے ڈاکٹرز، سرجنز، اینستھیزیا اسپیشلسٹس، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف اپنی مہارت اور تجربے کی بدولت محدود وسائل میں بھی بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہمارے ہاں میڈیکل تعلیم، سرجیکل مہارت اور عملی تجربہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے، جبکہ علاج کی لاگت دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں اب بھی کہیں کم ہے۔
یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان میں ہر جگہ علاج سستا ہے یا ہر جگہ مہنگا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں سرکاری، فلاحی اور نجی شعبے میں ایسے بے شمار ادارے موجود ہیں جو غریب اور مستحق مریضوں کو مفت یا انتہائی کم خرچ پر علاج فراہم کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنے صحت کے نظام کی خامیوں کی نشاندہی ضرور کرنی چاہیے، لیکن ساتھ ہی ان ڈاکٹروں، نرسوں اور ہسپتالوں کی خدمات کو بھی سراہنا چاہیے جو محدود وسائل میں لاکھوں مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں۔
آگاہی کا مقصد صرف تنقید نہیں بلکہ حقیقت کو متوازن انداز میں عوام کے سامنے پیش کرنا بھی ہے۔
25/07/2026
🌸 جب حمل کو جاری رکھنا ممکن نہ رہے، تب بھی ہر خاتون محفوظ، باعزت اور معیاری علاج کی مستحق ہے۔
کچھ فیصلے خوشی کے نہیں، مجبوری کے ہوتے ہیں۔
کبھی Blighted Ovum، کبھی Missed Abortion، کبھی بچے کی Cardiac Activity موجود نہ ہونا، یا ایسی طبی کیفیت جس میں ماہر گائناکالوجسٹ کے مطابق حمل کا جاری رہنا ممکن یا محفوظ نہ ہو۔ ایسے وقت میں ایک خاتون پہلے ہی شدید ذہنی، جسمانی اور جذباتی تکلیف سے گزر رہی ہوتی ہے۔
ایسے حالات میں اس کی مجبوری نہیں، بلکہ اس کی عزت، حفاظت اور صحت کو ترجیح ملنی چاہیے۔
اسی جذبۂ خدمت کے تحت Dr. Shafia (MBBS, FCPS) خواتین کے لیے جدید Vacuum Aspiration D&C کی سہولت فراہم کر رہی ہیں، جو مناسب مریضات میں ایک جدید اور محفوظ طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
✅ جدید Vacuum Aspiration Technique
✅ عالمی معیار کے مطابق Sterilization اور Hygiene
✅ مختصر وقت میں پروسیجر
✅ مناسب Pain Management کے ساتھ زیادہ آرام دہ تجربہ
✅ مریضہ کی رازداری، عزت اور حفاظت اولین ترجیح
💙 ہمارا یقین ہے کہ معیاری علاج صرف صاحبِ حیثیت لوگوں کا حق نہیں، بلکہ ہر عورت کا حق ہے۔
💰 Vacuum Aspiration D&C صرف 6000 روپے میں
🤝 اور وہ مستحق خواتین جو علاج کا خرچ برداشت نہیں کر سکتیں، ان کے لیے خدمت کے جذبے کے تحت مفت سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے (شرائط کے مطابق)۔
Practice for Service — کیونکہ طب صرف پیشہ نہیں، انسانیت کی خدمت بھی ہے۔
👩⚕️ Dr. Shafia, MBBS, FCPS
Specialist Gynecologist & Obstetrician
📍 Iqbal Town, Lahore 'sHealth
24/07/2026
🌸 خدمت صرف ایک لفظ نہیں، ایک مشن ہے...!
آج کے دور میں جب علاج بہت سے لوگوں کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے، تب بھی کچھ ڈاکٹر ایسے ہیں جو اپنی تعلیم، مہارت اور وقت کو صرف کمائی نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر شافیہ (MBBS, FCPS – Gynecology & Obstetrics) نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جو معاشرے کے لیے امید کی کرن ہے۔
❤️ اب روزانہ شام 3:00 بجے سے 7:00 بجے تک خواتین کا فری الٹراساؤنڈ کیا جائے گا۔
📍 Bilal Surgical Hospital, Jatt Chowk
یہ وہ علاقہ ہے جہاں زیادہ تر محنت کش، مزدور اور کم آمدنی والے خاندان رہتے ہیں۔ بہت سی خواتین صرف مالی مشکلات کی وجہ سے ضروری الٹراساؤنڈ نہیں کروا پاتیں۔
اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ڈاکٹر شافیہ نے یہ قدم اٹھایا ہے، تاکہ کوئی بھی خاتون صرف وسائل کی کمی کی وجہ سے تشخیص اور علاج سے محروم نہ رہے۔
ڈاکٹر صرف علاج کرنے والا نہیں ہوتا، بلکہ امید، اعتماد اور انسانیت کا پیامبر بھی ہوتا ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ معاشرے میں ایسے ڈاکٹر ہی حقیقی رول ماڈل بنتے ہیں جو اپنے علم کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
🌹 اگر آپ کے آس پاس کوئی ضرورت مند خاتون ہے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں، ہو سکتا ہے آپ کا ایک شیئر کسی ماں، بہن یا بیٹی کے لیے آسانی کا سبب بن جائے۔
📍 مقام:
Bilal Surgical Hospital, Jatt Chowk
👩⚕️ ڈاکٹر:
Dr. Shafia (MBBS, FCPS)
Consultant Gynecologist & Obstetrician
🕒 اوقات:
روزانہ شام 3:00 بجے سے 7:00 بجے تک
🩺 سہولت:
خواتین کے لیے فری الٹراساؤنڈ
خدمت کا سفر جاری ہے... کیونکہ انسانیت سے بڑھ کر کوئی پیشہ نہیں، اور دکھی انسان کی دعا سے بڑھ کر کوئی انعام نہیں۔
Category
Website
Address
Lahore
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Health tips with Dr shaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.