Ques?ion

Ques?ion

Share

sign(?) for thoughts, thoughts for dreams. life without experience of love is no life at all.

philosophical poetry, Questions you have in mind or should have in mind.

17/01/2026

مجھ سے ملنا اب بہت مشکل ہوگیا ہے۔
ہا اگر اک طویل مدت کے بعد مجھ سے ملنے کو کہو تو گماں کر لینا کہ میں مل کر اگیا ہو پہلے کی طرح۔
جب ملنا چاہو تو انے کا اظہار کرتے جانا۔ شاید میں کسی جانے پہچانے گلی میں دیکھ جاو۔
پہر مجھے رکنے چلے انا۔
شاید تب سننے کی شکتی تھی تو سن کر رک جاونگا۔
ورنہ ان دل برے بہرے , گونگے اور نا بینا انکھوں سے وہی راہ بھی چھوڑ کر چلا جاونگا۔
انہی راہ میں انےظار کرتے رہنا شاید میری گزر ہوجاے
جہاں میری قدموں کی اواز سن لو تو فورن باگتے چلی انا۔

17/01/2026

I don't know why it has become so important in just few years to show digital existence and get famous in social media no matter what someone does?
Why relationsips and friendships are just bound to digital world, though it just causes lack of trust, responsibility and physical relationship?
Why someone believes to be friend in physical world when they are in digital world only?

Let's just disappear(means not just archives post and show I am not on social media like css aspirants do🤣) for six months especially from digital world, as it is just distraction and plays with emotions that means nothing at all. Get followers or known through social media at the age you shouldn't be justifies how youth are traped into the addiction of social media. One works for name throughout the life, but getting known through social media means you are known by those who are wasting time on social media and have no life and responsibility. In last I want to ask that do you know why youtube pays more for european viewers than asian? Because they are most likely very fewand they watch what makes them successful.

08/01/2026

اج مشاعرہ ہے

06/01/2026

وہ کب تک فقط تصویریں بناتا رہے گا؟
ان رنگوں میں آخر کب روح اُترے گی؟
ایسا تو نہیں کہ یہی ہنر، یہی تصویر
اُسے موت دے جائے، اور خود اوروں کی زینت بنے؟
(اظہر)

01/01/2026

میں اب اکیھلے ان خاموش دیواروں کو دیکھ کر جینا سیکھ گیا ہو۔
اب توملنے کی امید ختم ہوتے ہوے دیکھ چکا ہو
ایک نئ سال اس کے بہانےاور اپنے حصےکی خوشیاں اوروں میں بانٹتےنہیں دیکھ سکتا۔
میں اب خود میں ہی خوش دکھتا ہو۔
وہ جن رشتوں میں خود کو ڈال کر جی رہے ہے۔
میں بھی اب ان رشتوں کا حصہ بنتے ہوے دیکھ رہا ہو۔
مجھے ہر روف میں ڈال کر اسے اب مجھ سے کوی گھیلا نہ رہے
میں اب دور جانے اور نہ ملنے کی تمنا کر بیھٹا ہو۔
منزل اب میری نہ اشنا سی دیکھ رہی ہے
میں سائل نہیں رہاجو اب تیرے راہ میں بیٹھا ہو۔
جس پھول کو میں چنا تھا
وہ پھول کٹھتے ہی راستے بدلتے ہوے دیکھ رہاہو۔
اظہر کے اشعار اب تیرے لیے نہیں رہے۔
اب جو دیکھتا ہے ان پر لکھتا ہو۔
(اظہر)

31/12/2025

Happy new year to all except...🤣🤣🤭

31/12/2025

اس نے میرے حصے کی خوشیاں اوروں کے دامن میں ڈال دے۔
چھلوں اب ہم بھی ان کے حصے کی خوشیاں اوروں کے دامن میں ڈالتے ہے۔ اور پہر یو ہی بہانے بناتے چھلے جاے جب تک ملنے کی کوی امید نہ ناقی نہ رہے۔

30/12/2025

وہ ازمانا چاہتے ہے تنہا چوڑ کر کہ یہ مجھے توڑ دے گی۔
میں نے تو تنہائی کی خاموشی کے ساتھ ہمراز دوستی رکھی ہے خود کو پہچانے کیلے۔
۔۔۔۔۔

اب ملنے کی تمنا بھی نہ رہی کسی کو۔
کیو نہ پھراک نئی سال میں بھی نہ ملنے کی بہانے بنا تے رہے۔
اور پہر یو بچھڑ جاے کہ پہر ملنا بھی چاہیے
تو پہر ملنے کی امید بھی نہ رہے۔

(اظہر)

28/12/2025

محبت اور عشق میں فرق
۔۔۔
محبت اور عشق اک جسم کے دو روخ ہے
دیکتھی ہے اک اغاز میں اور اک انتہا میں۔
جہا مجازی اور حقیقی دنیا ملتی ہے
وہی پر اک کی اغاز اور دوسری کی انتہا دیکھنے کو ملتی ہے۔

27/12/2025

This can be the last post and poetry of mine, uninstalling facebook.😊😃🤭🤣 it feels me bored now and am not liking posting and writing poetry anymore.(لکھنے کیلے اب بھی بہت کچھ ہے مگر کوی پڑے کیو؟)

محبت ہے کسی کو مجھ سے
اسی لیے بیٹھا ہوں خوشی سے
وہ جب کرتی ہے اظہارِ محبت
میں دکھاتا ہوں ناراضگی ذراسی

وہ سمجھتی ہے مجھے مغرور، ضدی سا
میں کیسے کہوں یہی تو ہے میرا اظہارِ محبت تجھ سے
(اظہر)

27/12/2025

Nasir Bagh ناصر باغ اجڑتاہوا

جہاں میں تیری آمد کا انتظار کیا کرتا تھا
اب نہ وہ جگہ رہی، نہ وہ پھول

ناصر باغ کے درخت یوں کٹتے چلے گئے
جیسے تیرے انتظار میں میرے پَر کٹتے گئے

کسے دوں الفاظ کی روف ان نرم میٹھی، سریلی آوازوں کو
جو کبھی تیری یاد میں ناصر باغ کی فضا میں گونجتی تھی

میں جو تجھے ملا ہوں ذرا سی آسانی سے
ناصر باغ کی طرح، جو اب مٹنے کو ہے
اسی لیے نہ قدر ٹھہری
نہ حسن کو کوئی امان ملی

(اظہر)


Azhar Ud Din

26/12/2025

Nasir Bagh ناصر باغ اجڑتاہوا

جہاں میں تیری آمد کا انتظار کیا کرتا تھا
اب نہ وہ جگہ رہی، نہ وہ پھول

ناصر باغ کے درخت یوں کٹتے چلے گئے
جیسے تیرے انتظار میں میرے پَر کٹتے گئے

کسے دوں الفاظ کی روف ان نرم میٹھی، سریلی آوازوں کو
جو کبھی تیری یاد میں ناصر باغ کی فضا میں گونجتی تھی

میں جو تجھے ملا ہوں ذرا سی آسانی سے
ناصر باغ کی طرح، جو اب مٹنے کو ہے
اسی لیے نہ قدر ٹھہری
نہ حسن کو کوئی امان ملی

(اظہر)

Azhar Ud Din

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Lahore