Doctors & Patients

Doctors & Patients

Share

آپ کی صحت کے بارے میں فکر مند رہنا ہی ہماری ذمہ داری ہے

آپ کی صحت کے بارے میں فکر مند رہنا ہی ہماری ذمہ داری ہے
تمام نئے ممبرز کو خوش آمدید اپنے دوست احباب کو اِس پیج میں انوائٹ کریں. اور اِس پیج کو مزید بہتر بنانے کے لئے اپنی تجاویز سے آگاہ کیجیے تاکہ پیج کو آپ کی پسند کے مطابق بنایا جا سکے امید ہے کے آپ اِس پیج کے ساتھ ہمیشہ رہیں گے....
ڈاکٹر آصف شیر

01/08/2026

سمبلو

سُملو کا لاطینی نام بربیرس اریسٹاٹا ہے۔
یہ نباتات کے خاندان زرشکیہ سے تعلق رکھتی ہے۔
یورپ کی عام زرشک کا لاطینی نام بربیرس دیگرس ہے۔
پاکستان اور انڈیا میں اسی کو سُمبل، سُمبلو یا سُملو کہتے ہیں۔
ہندی میں اس کو دار ہلد بھی کہا جاتا ہے۔
یہ پودا عام کانٹے دار جھاڑی ہے، جس کی جڑ زرد رنگ کی ہوتی ہے۔
پاکستان کے شمالی علاقوں مانسہرہ، بالاکوٹ، کشمیر، چترال اور شمالی وزیرستان میں بھی پائی جاتی ہے۔
بلوچستان کے علاقوں زیارت، باباخرواری، دوزخ تنگی، لورالائی، درگئی، قلعہ سیف اللہ اور سنجاوی کے اطراف میں بھی پائی جاتی ہے۔
وہاں کے لوگ اسے زرل کہتے ہیں۔
بعض جگہ اسے کورئے بھی کہا جاتا ہے۔
یہ خودرو جھاڑی ہے۔
اس کے پرانے پودوں کا قد سات آٹھ فٹ ہوتا ہے۔
شاخیں اطراف میں پھیلی اور کانٹوں سے بھری ہوتی ہیں۔
ہر کانٹا تین شاخہ ہوتا ہے۔
پرانے پودوں کے تنے کا قطر تین چار انچ ہوتا ہے۔
جڑیں گہری بلکہ آٹھ دس فٹ زمین میں ہوتی ہیں۔
یہی جڑ کار آمد ہے۔
اسے کاٹ کر اس پر سے چھلکا اتارتے اور سائے میں خشک کر لیتے ہیں۔
یہ چھلکا زرد رنگ کا اور ذائقے میں کڑوا ہوتا ہے۔
سُملو کے زرد پھول گچھوں کی شکل میں لہلہاتے ہیں۔
پتے لمبوترے اور نوکیلے ہوتے ہیں۔
پھول چند دن بعد جھڑ جاتے ہیں۔
ان کی جگہ چھوٹے چھوٹے سبز دانے نکلتے ہیں جو پکنے پر سیاہ ہو جاتے ہیں۔
بچے اور بڑے انہیں شوق سے کھاتے ہیں۔
اس کے پھول اور پتے بھی کھائے جاتے ہیں جن کا ذائقہ ترش ہوتا ہے۔
یہ منہ اور گلے کے امراض کا علاج ہے۔
اس کی جڑ خزاں کے آخر میں نکالی جاتی ہے تاہم ضرورت پڑنے پر کسی وقت بھی تازہ جڑ کا چھلکا اتار کر استعمال کر سکتے ہیں۔
سمبل کی جڑ کے سفوف سے سرطان ( کینسر ) کے مریضوں کا شفا بخش علاج ہوسکتا ہے۔

سرطان ( کینسر ) ہر قسم:
سُملو اور ہموزن ہلدی کو باریک پیس کر ڈبل زیرو کے کیپسول بھر لیں اور ایک کیپسول صبح وشام بعد از غذا، ہمراہ تازہ پانی یا دودھ استعمال کریں۔
انشااللہ ایک ماہ میں کینسر کا نام نشان نہ رہے گا۔

چھاتی کا سرطان( کینسر ):
چھاتی کے سرطان ( کینسر ) میں کشتہ سنکھ، ہلدی اور سُملو ہم وزن باریک پیس کر ایک ایک ماشہ کے کیپسول بھر لیں اور صبح، دوپہر، شام بعد از غذا استعمال کریں۔
تین ماہ میں آرام آجائے گا۔
صبح کو تین ماشے سُملو ایک پیالی پانی میں بھگو دیں اور شام کو کھانے کے آدھ گھنٹے بعد پی لیں۔
اسی طرح شام کو بھگو کر صبح پی لیں۔
ایک ماہ کے استعمال سے چھاتی کا سرطان ختم ہو جائے گا۔

دماغی رسولی ( برین ٹیومر ) کا خاتمہ:
درخت سَرس کی چھال، کشتہ سنکھ، سُملو اور ہلدی میں ہم وزن چینی شامل کرکے زیرو کے کیپسول میں چار رتی کے برابر بھر لیجئے۔
صبح، دوپہر اور شام بعد غذا عرق دھماسہ کے ساتھ ایک ایک کیپسول استعمال کریں۔
ذیابیطس ( شوگر ) کے مریض چینی شامل نہ کریں۔
تین سے چار ماہ تک دوا کا استعمال جاری رکھیں۔
یہ دماغی رسولی ( برین ٹیومر ) کا شافی علاج ہے۔

ناسور کا پھوڑا:
ناسور کا پھوڑا نکل آئے تو روزانہ صبح دوپہر اور شام بعد غذا ایک ایک ماشہ سُملو باریک پیس کر تازہ پانی کے ساتھ صبح و شام نوش فرمائیں۔
بیس دن میں شفا ہوگی۔

منہ کا سرطان ( کینسر ):
منہ کے سرطان کے لئے کشتہ سنکھ، ہلدی اور سُملو ہم وزن باریک پیس کر ایک ایک ماشہ کے کیپسول بھر لیں اور صبح، دوپہر، شام بعد از غذا ، تین ماہ استعمال کریں۔

منہ کے امراض:
سُملو کو منہ کے مختلف امراض میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مثلاً گلے میں تکلیف ہو تو اس کا چھلکا منہ میں رکھ کر سو جائیے۔
اس کا کڑوا پانی حلق سے اترتا رہتا ہے اور صبح تک تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔
منہ میں چھالے ہوں تو ایک چٹکی سُنمبلو پاؤڈر منہ میں رکھنے سے گھنٹہ بھر میں تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔

دانت کا درد:
دانت کا درد دور کرنے اور ہلتے ہوئے دانت قائم رکھنے کے لئے سُملو جڑ، پان اور عناب ہم وزن ملا کر ۲-۲ ماشہ صبح و شام بعد غذا لیں۔

گردن کے مہرے یا پسلیوں کا درد:
اگر پسلیوں یا گردن کے مہروں میں درد ہو تو سُملو کا پاؤڈر، ایک ماشہ رات کونیم گرم دودھ سے لیں۔

بہترین منجن:
اگر دانتوں میں درد ہو یا مسوڑھوں سے خون آتا ہو،
تو کسی اچھے منجن میں اس کی نصف مقدار کے ہم وزن سُملو ملائیں اور دانتوں پر بطور منجن ملیں،
ان شاء اللہ چند دنوں میں خون رک جائے گا اور دانتوں کا درد بھی جاتا رہے گا۔

غدہ درقیہ ( تھائیرائڈ گلینڈز ) کی سوجن:
اگر غدہ درقیہ ( تھائرمائڈ گلینڈز ) بڑھ جائے تو کشتہ سنکھ، ہلدی ، سُملو پاؤڈر اور آرسینک پاؤڈر نمبر ۲ ہم وزن لیں اور صبح و شام بعد از غذا زیرو کا کیپسول بھر کر استعمال کریں۔
دو سے تین ماہ میں بڑھا ہوا غدہ معمول پر آجائے گا۔
بڑھے ہوئے ٹانسلز میں سُملو بوٹی ورم دور کرتی ہے،
اس کے چھلکے کا چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں رکھ کر رات کو سونے سے اس کا رس آہستہ آہستہ ٹانسلز کو ختم کر دیتا ہے۔
03156657708

01/08/2026

پیاز ہر کھانے میں مختلف ذائقے، بناوٹ اور رنگ لاتے ہیں- پیلا پیاز ذائقے میں مضبوط ہوتا ہے اور سُوپ، سالن، شوربہ اور گریوی بنانے کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے- سُرخ پیاز کرکرا پن اور خوبصورت رنگت دیتا ہے، اس لیے یہ سلاد، برگر، شوارما اور اچار میں زیادہ استعمال کیا جاتا ہے- سفید پیاز کا ذائقہ تیز اور صاف ہوتا ہے، جو چٹنی، رائتے اور کڑاھی کے لیے موزوں ہے- میٹھا پیاز ہلکا، رسیلا اور نسبتاً شیریں ہوتا ہے، اس لیے یہ پیاز رِنگز، کچے قَتلے، ہلکی بُھنائی اور روزمرہ کھانوں میں بہترین انتخاب ہے-

31/07/2026

گوکھرو{خار خسک} TRIBULUS TERRESTRIS

مختلف نام:اردو نام خارخسک۔ پنجابی بھکڑا۔ تامل ترنجی۔ اسے ہندی میں گوکھرو،گوکھولہ۔ بنگالی گوک شورا۔ مرہٹے لہنا گوکھرو۔ فارسی خار خسک۔ تیلگو تالیرومولو، چیرو پالیر۔ سنسکرت اگوک شوری،اکشوکندھا۔ لاطینی بولس ٹریسڑس(Tribulus Terrestris)اور انگریزی میں سمال کا ل ٹراپس{سیڈز آف}(Small Call Trops) (Seeds Of)کہتے ہیں۔

شناخت:اس کی دو قسمیں ہیں جو پاکستان و ہندوستان اور پڑوسی ممالک میں پیدا ہوتا ہے۔

بڑا گوکھرو:

اس کا پودا چھوٹا ایک ہاتھ کے قریب لمبا ہوتا ہے۔ اس کی ڈالیاں اور پتے پانی میں ڈال کر ملنے سے بہت لعاب نکلتا ہے۔ اس کی جڑ پیلی سندوری رنگ کی ہوتی ہے۔ پتے کچھ گول اور روئیں دار ہوتے ہیں۔ اس پر اکثر ایک انچ لمبے چو کو نے پھل لگتے ہیں۔ پھل کے چاروں کونوں پر ایک ایک کانٹا ہوتا ہے۔ کچے پھل کا رنگ سبز، پکنے پر زرد اور سوکھنے پر مٹیالا سا ہو جاتا ہے۔ اس کا چھلکا خشک ہو کر تنکوں کو کا جال سا دکھائی دینے لگتا ہے۔ اس کے کانٹے کم نوک دار ہوتے ہیں۔ اس کو خارخسک کلاں کہتے ہیں۔

چھوٹا گوکھرو:

اس کے پودے زمین پر پھیلے ہوتے ہیں۔ پتے چنوں کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں۔ اس پر چھوٹے چھوٹے ہلکے زرد رنگ کے پھول لگتے ہیں۔ ایک ایک پھل میں تین تین کانٹے لگے ہوتے ہیں۔ اس کے چھوٹے چھوٹے پھل دو دو جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے کانٹے بہت نوک دار ہوتے ہیں۔ اس کو خار خسک یا گوکھرو خورد کہتے ہیں۔

ماڈرن ریسرچ:ان پھلوں میں ایک جزو پایا جاتا ہے جس میں الکلائیڈ کی خصوصیات ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں پھلوں میں شحمی معدہ اور رال بھی ہوتی ہے اور معدنی اجزاءکی بھی بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔

مزاج: گرم و خشک اور بعض معتدل مانتے ہیں۔ ہمارے تجربات میں اس کا مزاج گرم و خشک ہے۔

مقدار خوراک:6سے9گرام تک۔

فوائد: یہ ایک ایسی بوٹی ہے جو ہر جگہ ہوتی ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ بہت سی جڑی بوٹیوں کی طرح اس کی بھی بے قدری ہو گئی ہے۔

گوکھرو کے آسان و آزمودہ مجربات

پتھری:

گوکھرو20 گرام، پانی 250 گرام۔ گوکھرو کو پانی میں رگڑ کر چھان کر صبح، دوپہر اور شام کے وقت پلانے سے گردہ یا مثانہ کی پتھری یا ریگ دور ہوتے ہیں۔ رکا ہوا پیشاب کھل کر آتا ہے اور پیشاب کی نالی کے زخم وپیپ رفع ہو جاتی ہے۔

درد گردہ:

گوکھرو20 گرام کو 250 گرام پانی میں جوش دیں، جب آدھا{125 گرام}پانی رہ جائے تو چھان کر پلائیں۔ دن میں دو تین بار اسی طرح پلائیں، درد گردہ کے لئے مفید ہے۔ مذکورہ بالاطریق پر گوکھرو کا استعمال مُوتر گرنتھی یا پروسٹیٹ میں مفید ہے۔

اپنڈے سائیٹس:

گوکھرو20گرام کو 200 گرام پانی میں جوش دیں۔ جب آدھا رہ جائے تو چھان کر دن میں دو تین بار پلائیں۔ اس سے بنا آپریشن اپنڈےسائیٹس آرام آجاتا ہے۔

امراض جگر:

گوکھرو20 گرام،مرچ سیاہ 5 گرام دونوں کو 250 گرام پانی میں رگڑ کر صبح و شام کی لالی ووڈ جگر کے بڑھنے پرسست پوجا نے میں بہت مفید ہے۔علاوہ ازیں ضعف جگر اور کام ہو جاتا ہے۔

پیشاب کی بندش:

گوکھرو پیشاب آور ہےاور عام طور پر جس قدر پیشاب آور ادویات ہیں وہ سب کی سب ویرج کو کمزور کرتی ہیں جس سے قوت میں کمی آ جاتی ہے لیکن گوکھرو میں یہ نقص نہیں بلکہ خلاف اس کے گوکھرو کے استعمال سے قوت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

دس گرام گوکھروکوکوٹ کر آدھا کلو پانی میں جوش دیں۔ جب 125 گرام پانی باقی رہے تب چھان کر15 گرام گرم دودھ اور حسب ضرورت میٹھا کرکےصبح وشام استعمال کریں۔

بواسیر خونی:

گوکھرو دس گرام کو20 گرام پانی میں رگڑ کر چھان کر صبح وشام پلانا بواسیر خونی کو دور کرتا ہے بادی بواسیر کے لئے بھی مفید ہے۔

جریان:

گو کھرو دس گرام کوٹ کر آدھا کلو پانی میں جوش دیں، جب 125 گرام باقی رہ جائے۔ تب چھان کر ٹھنڈا کر کے صبح و شام پلائیں مفید ہے۔

جریان:

گوکھرو دس گرام کوٹ کر آدھا کلو پانی میں جوش دیں، جب 125گرام باقی رہ جائے تب چھان کر ٹھندا کر کے صبح و شام پلائیں۔ اس سے جریان و اح**ام دور ہوتا ہے۔

بواسیر کے مسےّ:

ایک کلو گوکھرو کو کوٹ کر بارہ کلو پانی میں رات کے وقت بھگودیں۔ صبح آگ پر پکائِیں۔ دو کلو پانی رہنے پر اتار کر چھان لیں اور تلی کے تیل ایک کلو میں جلالیں اور اس تیل کے محلول کو دن میں تین چار بار بواسیر کے مسوّں پر لگانا مفید ہے۔ مسوّں کو بناآپریشن آرام آجائے گا۔

دائمی سر درد:

گوکھرو 20 گرام کو کوٹ کر آدھا کلو پانی میں جوش دیں۔جب 125 گرام پانی باقی رہے تب چھان کر کھانسی اور دمہ میں اگر بلغم نہ ہو تو دس گرام گھی ملا کر گرم گرم صبح، دوپہر اور شام کے وقت پلائیں۔ اگر بلغم نکلتا ہو بغیر گھی کے نزلہ، زکام اور درد سر دائمی کے لئے مفید ہے۔

خناق:

گوکھرو 20 گرام کوٹ کرآدھا کلو پانی میں جوش دیں، 125گرام پانی باقی رہے تو چھان کر چار چار گھنٹہ کے بعد پلائیں۔ اس سے خناق دور ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں آواز کی خرابی،منہ، زبان اور حلق کا پکنا، زخم اور چھالے اور ٹانسلز وغیرہ امراض بھی دور ہو جاتے ہیں۔

پیشاب میں خون آنا:

گوکھرو 20 گرام کو 250 گرام پانی میں رگڑ کر اور چھان کر صبح و شام پلانے سے پیشاب کازرد،سرخ نیلا یا سیاہ آنا،کم آنا،گدلا یا گاڑھاآنا، بدبو دار آنا اورپیشاب میں خون آنا بھی بند ہو جاتا ہے۔

دل کی اینٹھن:

گوکھرو 20 گرام کو آدھا کلو پانی میں جوش دیں، 200 گرام پانی باقی رہے تو چھان کر ٹھنڈا کریں اور دس گرام مصری ملا کر صبح، دوپہر اور شام کے وقت پلائیں۔ اس سے دل کے امراض مثلا دل کی حالت گھٹنا، تیز ہونا، بے قاعدہ ہونا، چلتے چلتے رُک رُک کر یا جھٹکا سا کھاکر چلنا، خون کا دباؤ زیادہ ہونا۔ دل کا بڑھ جانا، پھیل جانا، دل کی دھڑکن اپنا کام پوری طرح نہ کرے اور صدمہ سے گھبرا جانا، سوتے میں ڈر کر اٹھنا، دل کی اینٹھن یا جھلی میں پانی پڑ جانا چربی کا بڑھ جانا وغیرہ امراض دور ہوجاتے ہیں اور وہم کا عارضہ بھی دور ہو جاتا ہے۔

دل کی کمزوری:یا کمی خون میں جب کہ ہاتھ اور پاؤں ٹھنڈے رہتے ہو یا سردی یا سرد پانی کی وجہ سے نیلے یا سیاہی مائل رہتے ہوں تو 25 گرام گوکھرو کو کوٹ کر پوٹلی باندھ کردودھ میں پکائیں۔ پھر پوٹلی نکال کر پھینک دیں اور دودھ میں حسب ضرورت مصری یاچینی ملا کر صبح اور اسی طرح شام کے وقت پلانا مفید ہے

ذیابیطس:سفوف گوکھرو 5 گرام صبح و شام پانی سے کھلانے سے بار بار اور کثرت سے پیشاب آنے کی شکایت کے علاوہ ذیا بیطس بھی دور ہو جاتی ہے۔

زیادتی پیشاب:60 سالہ بوڑھے آدمی کو دن رات میں کئی دفعہ پیشاب آتا تھا اور پیشاب آنے پر روک نہیں سکتا تھا۔ اسے دس گرام گوکھرو گھوٹ کر 125 گرام پانی ملا کر چھان کر بغیر میٹھا کئےصرف 3 دن صبح نہار منہ پئیں لینے کی ہدایت کی گئی جس سے اسے مستقل آرام آگیا۔{ حکیم محمد عباس ۔

پیشاب کی نالی کے زخم:گوکھرو خورد 20گرام،بیج سروالی دس گرام، سنگجراحت 20 گرام، رال سفید 20گرام، تال مکھانہ 10گرام، مصری 40 گرام۔

سب ادویہ کو کوٹ پیس کر سفوف بنا لیں۔ خوراک دس گرام ہمراہ دودھ گائے سے لیں۔ جریان، اح**ام اور پیشاب کی نالی کے زخموں کے لئے بہت مفید ہے۔

سیلان:

گوکھرو خورد 15 گرام،تل کالے 8گرام۔ دونوں کا سفوف بنا لیں اور 9گرام قدرے شہد ملا کر کھائیں اوپر سے نیم گرم دودھ استعمال کریں۔ موسم سرما میں بہت مفید ہے۔

HOMEOPATHIC MEDICINE

Tribulus terrestris
(گھوکھرو بکھڑا خارخسک )
اس بوٹی کا استعمال ہر طب میں کیا جا رہا ہے
اس کے بے شمار فوائد حاصل کیے جا رہے ہیں
ہومیو پیتھک میں جہاں یہ سنگل استعمال ہو رہی
ہے وہاں اسے مختلف کمبینیشن میں استعمال کیا جا رہا ہے
میں خاص طور پر اپنے کمپاؤنڈ میں ضرور شامل کرتا ہوں
یہ پیشاب کے عوارض میں مفید ہے بالخصوص پیشاب تکلیف سے آنے یا بندش میں . آلات تناسل کی کمزوری ،
خاص کر گردہ کی تکالیف میں درد کے ساتھ پیشاب آنا کم آنا یا بند ہوجانا وجہ کوئی انفیکشن ہو یا پتھری گردہ کی یا پھر پروسٹیٹ گلینڈ کی سوجن کی وجہ سے پیشاب کی نالی میں دباؤ ہو یا پھر مثانہ کے پٹھوں کی کمزوری سے پیشاب کا غیر ارادی نکل جانا
گردہ فیل ہوجانا پیشاب کا مکمل بند ہوجانا
پیشاب آور دوا ہے جسم سے فاضل مادے بذریعہ پیشاب خارج کرتی ہے
مردانہ یا عورتوں کے ہارمونز کی خرابیاں جسکی وجہ سے نفسیاتی پیچیدگیاں مینو فاس کی تکالیف گرمی کی لہریں پسینہ بی پی ہائی ڈپریشن موڈ خراب
جنسی خواہش کو بڑهاتی ہے
سپرمز کی تعداد میں اضافہ کرتی ہے
سپرمز ہیلتھی نہ ہو
منی پتلی۔۔۔
یہ دوا نہ صرف سپرم کاؤنٹ میں اضافہ کرتی ہے بلکہ اسکی کوالٹی بھی بڑھاتی ہے
مردانہ ہارمون ٹسٹیسٹران کی مقدار بڑھاتی ہے
بوڑھے اشخاص کی جنسی فعل سے ہونے والی کمزوری یا پھر ہینڈ پریکٹس زیادہ سے ہونے والی جنسی کمزوری جريان اح**ام منی پتلی ،سرعت انزال کو ختم کرتی ہے
غدہ مذی کی سوزش ،پتھری اور جنسی کمزوری ،مشت زنی کے بد نتائج ،اخراج منی اور جریان کو کنٹرول کرتی ہے جزوی نامردی جو بڑھاپے میں کثرت مباشرت سے آتی ہے یا جب پیشاب کی علامات ساتھ ہو

30/07/2026

بالوں کے گرنے کا سائنسی اور ہومیوپیتھک حل
روزمیری (Rosmarinus) اور اس کے معاونین کا کمال! ✨

کیا آپ کنگھی کو دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتے ہیں؟
جدید سائنسی تحقیقات اور ہومیوپیتھک میٹیریا میڈیکا (بالخصوص ڈاکٹر ولیم بوئرک کی تصنیف) کے مطابق روزمیری (Rosmarinus Officinalis) گرتے بالوں کو روکنے میں اکیلی کافی ہے۔
لیکن جب اسے اس کے "معاون مدر ٹنکچرز" اور "معاون پوٹینسیز" کے ساتھ ملایا جائے تو یہ گنجے پن کا خاتمہ کر دیتی ہے۔

⚠️ اہم معلومات۔۔۔۔
یہاں صرف روزمیری کی بات نہیں ہو رہی بلکہ پورا ایک سسٹم (Regimen) بتایا جا رہا ہے جس میں ایک سے زائد دوائیں شامل ہیں۔ اس مجموعے کا اثر آرنیکا سے بہتر اور زیادہ گہرا ہے۔

📋 مکمل نسخہ۔۔۔۔۔

1. اندرونی استعمال (خوراک)

مرکزی پوٹینسی۔۔۔۔
روزمیری 30CH
اس کی 3 بوندیں صبح و شام پانی میں ڈال کر لیں۔

2. بیرونی استعمال (بالوں کا تیل تیار کرنے کا طریقہ)

ایک باؤٹل میں 50 ملی لیٹر ناریل یا سرسوں کا تیل لیں۔ اس میں درج ذیل معاون مدر ٹنکچرز (ہر ایک کے 30 قطرے) شامل کریں.

روزمیری مدر ٹنکچر (Q)
بالوں کے پٹکوں کو جگانے کے لیے۔

آرنیکا مونٹانا مدر ٹنکچر (Q)
جڑوں میں خون کی روانی بڑھانے کے لیے (معاون)

جبورینڈی (Jaborandi Q)
بالوں کو سفید ہونے اور گرنے سے روکنے والی مشہور دوا (معاون)

تھوجا آکسیڈینٹالس مدر ٹنکچر (Q)
خشکی اور روغنی پن دور کرنے کے لیے (معاون)

اس تیل کو ہفتے میں 4 بار رات کو لگائیں اور صبح دھو لیں۔

3. معاون پوٹینسیز (بہتر نتائج کے لیے اضافی دوائیں)

روزمیری 30 کے ساتھ اگر بالوں کی جڑیں انتہائی کمزور ہیں تو یہ معاون پوٹینسیز ہفتے میں 2 بار استعمال کریں۔

سلیشیا 6X یا 30 (Silicea)
کمزور، پتلے اور آسانی سے ٹوٹنے والے بالوں کے لیے۔

نیٹرم میوریٹیکم 30 (Natrum Mur)
سر کے اگلے حصے یا کنپٹیوں سے گرنے والے بالوں کے لیے۔

نتیجہ۔۔۔
اس پروٹوکول میں صرف ایک دوا نہیں بلکہ 5 قوی ادویات کا مکمل کورس ہے۔ ان شاء اللہ چند ہفتوں میں بالوں کا گرنا رک جائے گا اور نئی گروتھ شروع ہو جائے گی۔ یہ نسخہ پاکستان اور دنیا بھر میں ہزاروں لوگوں نے کامیابی سے آزمایا ہے۔

نوٹ۔۔۔۔
اگر خود نہیں بنا سکتے تو۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے بنا ہوا منگوانے کیلئے میرے وٹس ایپ پر رابطہ کریں.
03156657708

👍 یہ معلومات دوسروں کی مدد کے لیے شیئر کریں۔

30/07/2026
19/07/2026

میڈیکل سائنس کی چار بڑی ٹیکنالوجیز فوٹو، ایکس رے، ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین میں بنیادی فرق یہ ھے کہ

1- فوٹو (Photo)، یہ عام کیمرے سے لی گئی تصویر ہوتی ہے- یہ ہمارے اردگرد موجود عام روشنی (Visible light) کو استعمال کرتی ہے اور یہ جِسم کے صرف بیرونی حصے، جِلد کی رنگت اور ظاہری شکل و صورت کو دکھاتی ہے- یہ جِسم کے اندر دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی-

2- ایکس رے (X-Ray)، یہ اندرونی حصوں کو دیکھنے کا سب سے بنیادی اور پرانا طریقہ ہے- اس میں مخصوص شعاعیں (X-rays) جِسم سے گزاری جاتی ہیں- یہ جِسم کے حصوں کی کثافت (Density) کے حساب سے تصویر بناتا ہے چونکہ ہڈیاں سخت اور ٹھوس ہوتی ہیں، اس لیے شعاعیں ان میں سے نہیں گزر پاتیں اور وہ بالکل واضح اور سفید نظر آتی ہیں- یہ زیادہ تر ٹوٹی ہوئی ہڈیوں (Fractures) کا پتا لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے-

3- ایم آر آئی (MRI - Magnetic Resonance Imaging)، یہ ایک جدید اور تفصیلی ٹیکنالوجی ہے، جِس میں کوئی نقصان دہ شعاعیں (Radiation) استعمال نہیں ہوتیں- یہ شعاعوں کے بجائے طاقتور مقناطیس (Magnets) اور ریڈیو لہروں کا استعمال کرتی ہے- یہ جِسم کے نرم حصوں یا بافتوں (Soft tissues) جیسے پٹھے، نسیں اور اعضاء کی انتہائی واضح تصویر دکھاتا ہے- یہ خاص طور پر دماغ (Brain)، ریڑھ کی ہڈی اور جوڑوں کے پٹھوں کی بیماریوں یا رسولی وغیرہ کا پتا لگانے کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے-

4- سی ٹی اسکین (CT Scan - Computed Tomography)، یہ ایک طرح کا تھری ڈی (3D) ایکس رے ہوتا ہے- یہ بھی ایکس رے شعاعوں کا ہی استعمال کرتا ہے لیکن اس میں مشین جِسم کے گرد گھوم کر ہر زاویے سے کئی تصاویر لیتی ہے- کمپیوٹر ان تمام تصاویر کو ملا کر جِسم کے اندرونی اعضاء کی باریک تہیں یا قاشیں (Slices) بنا کر دکھاتا ہے، جِس سے گہرائی تک دیکھا جا سکتا ہے- یہ حادثات کی صورت میں اندرونی چوٹوں (Injuries)، خون کے بہاؤ (Internal bleeding) اور پھیپھڑوں یا پیٹ کے اعضاء کے معائنے کے لیے بہت تیزی سے کام کرتا ہے-

اگر تو ظاہر دیکھنا ہے تو فوٹو، اگر صرف ہڈی دیکھنی ہے تو ایکس رے، اگر جِسم کے نرم اعضاء یا دماغ کو تفصیل سے دیکھنا ہے تو ایکس رے کے بغیر ایم آر آئی اور اگر کسی حادثے یا بیماری میں اندرونی اعضاء کا گہرا معائنہ جلدی کرنا ہو تو سی ٹی اسکین کیا جاتا ہے-

17/07/2026

آتشک (Syphilis) کی پوشیدہ علامت جب جلد کے نیچے سخت، بےدرد گلٹیاں بنیں ..

تعارف.....
طبی سائنس کے مطابق، گماٹا آتشک کے تیسرے مرحلے (Tertiary Syphilis) میں ظاہر ہونے والی چھوٹی، سخت اور اکثر بےدرد گلٹیاں ہیں۔ یہ جلد کے نیچے کھوپڑی، گردن، ہاتھوں اور پاؤں، خصیوں، عضوِ تناسل اور کبھی کبھار زبان کے نچلے حصّے میں نمودار ہوتی ہیں۔

⚠️ کینسر سے فرق....
دونوں میں واضح فرق سائنسی مشاہدات میں درج ہے....

گماٹا کی گلٹی عموماً بے درد ہوتی ہے، جبکہ سرطان میں ایسا درد ہوتا ہے جیسے برچھی چبھوئی جا رہی ہو۔

کینسر کی گانٹھ زبان کی پوری موٹائی کو متاثر کرتی ہے. گماٹا ابتدا میں سطحی، گول اور علیحدہ سخت ابھار ہوتا ہے۔

اگر گماٹا نہ بھرے تو یہ پک کر پھٹ جاتا ہے اور گہرا، تکلیف دِہ ناسور بنا دیتا ہے۔

مؤثر ہومیوپیتھک ادویات....

دُنیا بھر کی تسلیم شُدہ ہومیوپیتھک کتب (بورک، کینٹ، ایلن وغیرہ) اور طبی آزمائشوں میں درج ذیل ادویات گماٹا کی گلٹیوں اور اُن کے زخموں کے لیے خاص طور پر مفید پائی گئی ہیں.

1️⃣ مرک سال (Merc Sol)
رات کو گرم بستر میں شدید درد، منہ سے بدبو، لعاب میں اضافہ، چھونے پر حساسیت۔

2️⃣ ایسڈ نائٹرک (Acid Nitric)
چبھنے والا درد جیسے کِرچی چبھ رہی ہو؛ زخم کے کنارے بے ڈھنگے، آسانی سے خون بہہ نکلے۔

3️⃣ کالی ہائیڈریوڈیکم (Kali Hydroiodicum)
دیرینہ سخت گلٹی جو آتشک کے گہرے زہر کو ظاہر کرے، خاص طور پر جب درد ہڈیوں میں محسوس ہو۔

4️⃣ سلیشیا (Silicea)
گلٹی کے پکنے اور مواد خارج کرنے میں مددگار، ناسور بھرنے اور جِلد کی مرمت کے لیے طاقتور۔

یہ ادویات صرف مستند معالج کی نگرانی میں علامات کے مکمل مجموعے کی بنیاد پر دی جائیں تو گماٹا سوکھ کر ختم ہو سکتا ہے یا زخم جلد بھر جاتا ہے۔

کیا آپ نے کبھی اس طرح کی بے درد سخت گلٹی محسوس کی؟
کمنٹ میں بتائیں اور اس پوسٹ کو شیئر کرکے دوسروں کو آگاہ کریں
ایک چھوٹی سی معلومات زندگی بچا سکتی ہے۔

🔔 ایسی مزید مفید ٹپس کے لیے پیج فالو کریں۔

Category

Telephone

Website

Address


Lahore
4510