Islamic Videos
Islamic videos
09/09/2025
سات سو گناہ معاف
09/09/2025
فرمان آخری نبی ﷺ
16/08/2025
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس نے ایک دن میں فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔"
(سنن نسائی: 1809)
📿 ترتیب:
2 رکعتیں فجر سے پہلے
4 رکعتیں ظہر سے پہلے اور 2 بعد میں
2 رکعتیں مغرب کے بعد
2 رکعتیں عشاء کے بعد
✨ یہ چند لمحوں کی عبادت ہے، لیکن بدلہ جنت کا گھر ہے۔
کیا ہم روزانہ کے معمول میں یہ 12 رکعتیں شامل نہیں کرسکتے؟
🤲 اللہ ہمیں یہ سعادت نصیب فرمائے۔
16/08/2025
جب تم مر جاتے ہو،
ایسا کہا گیا ہے کہ تمہاری روح تمہارے جسم کے پاس ہی رہتی ہے تکیے کے قریب اور بستر کے نیچے۔
یہ کب ہوتا ہے؟
جب تمہارا غسل دیا جا رہا ہوتا ہے، کفن پہنایا جا رہا ہوتا ہے۔
اور جب تمہیں قبر میں رکھا جاتا ہے،
تمہاری روح دوبارہ تمہارے جسم میں واپس آتی ہے۔
جب لوگ تمہاری قبر سے واپس چلے جاتے ہیں،
تم یوں جاگتے ہو جیسے نیند سے اٹھے ہو،
تم تین بار کوشش کرتے ہو بیٹھنے کی، لیکن بار بار تمہارا سر قبر کی دیوار سے ٹکرا جاتا ہے۔
تمھیں ایک دم احساس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ معمول کے مطابق نہیں
پھر تم سمجھ جاتے ہو کہ اب تم زندوں میں نہیں بلکہ مردوں میں سے ہو
اور آج رات تم اس دوسرے جہان میں ہو
پھر تھوڑی دیر بعد دو فرشتے آتے ہیں منکر اور نکیر
ان کا کام صرف قبر میں تین سوالات پوچھنا ہوتا ہے
تمہارا رب کون ہے؟
تمہارا دین کیا ہے؟
تمہارے نبی کون ہیں؟ (صلى الله عليه وسلم)
یا تو تم صحیح جواب دو گے اور کامیاب ہو جاؤ گے،
یا تم گڑبڑا جاؤ گے اور ناکام ہو جاؤ گے
پھر تمہیں ایک جگہ لے جایا جاتا ہے جسے برزخ کہا جاتا ہے
یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جہاں دو دروازے ہوتے ہیں
ایک دروازہ جنت کی طرف
دوسرا دروازہ جہنم کی طرف
وہیں تم قیامت کے دن تک انتظار کرو گے،
پھر حساب و کتاب کے بعد فیصلہ ہوگا کہ تم جنتی ہو یا جہنمی
اور کبھی کبھار، تمہارے رشتے دار، دوست احباب تمہیں قبر پر
آ کر یاد کریں گے
کہا گیا ہے کہ ایک فرشتہ آئے گا اور تمہیں اطلاع دے گا
تمہارے بیٹے نے تمہیں سلام بھیجا ہے... تمہاری ماں... تمہاری بیوی یا بیٹی آئی ہے
تب تمہاری روح قبر کی مٹی کے اوپر آ کر
ان کی باتیں سنے گی، ان کے قدموں کی آہٹ محسوس کرے گی
📌 یاد رکھو
میں نے یہ سب پہلے اپنے لیے لکھا، پھر تمہارے لیے تاکہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں،
زندگی کی حقیقت کو پہچانیں۔
🤲 یا اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما
🤲 ہمارے خاتمے کو بہتر فرما
آمین
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
میری طرف سے ایک آیت بھی ہو، لوگوں تک پہنچاؤ
پس اگر تم تک یہ بات پہنچی ہے، تو کسی اور تک بھی پہنچا دینا
16/08/2025
سارے ملک کا بگاڑ تین گروہوں کے بگڑنے پر ہے
16/08/2025
نظرِ بد (العین) اور حسد کی علامات اور ان سے نجات پانے کا طریقہ
بہت سے لوگ نظرِ بد (العین) اور حسد کی علامات کو ایک ہی سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت میں دونوں میں فرق ہے۔ اگرچہ ان کا نتیجہ نقصان کی صورت میں نکلتا ہے، لیکن ان کی حقیقت اور اثر انداز ہونے کا طریقہ مختلف ہے۔
تو آخر فرق کیا ہے؟ اور ان سے بچاؤ اور علاج کا کیا طریقہ ہے؟
(((((یہی سب کچھ ہم اس مضمون میں وضاحت کے ساتھ بیان کریں گے ))))))
نظرِ بد (العین) اور حسد میں فرق
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ حسد اور نظرِ بد ایک ہی چیز ہیں، لیکن قرآن و حدیث میں دونوں کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے۔
حسد
حسد یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کی نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرے کہ وہ نعمت اس سے چھن کر مجھے مل جائے۔ یہ ضروری نہیں کہ حسد کرنے والا خود نعمت کو دیکھے، بلکہ وہ بغیر دیکھے بھی حسد کرسکتا ہے۔
حسد ایک خبیث اور بُری صفت ہے، جو مومن اور غیر مومن، ہر کسی میں پائی جا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حسد کا ذکر شر کے ساتھ کیا ہے
"وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ"
(اور میں حسد کرنے والے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جب وہ حسد کرے) (سورۃ الفلق: 5)
امام ابن منظور فرماتے ہیں کہ حسد کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے پاس جو نعمت ہے، اسے دیکھ کر اس کے زوال کی خواہش کی جائے۔
نظرِ بد (العین)
نظرِ بد درحقیقت حسد ہی کی ایک قسم ہے، لیکن اس میں زوالِ نعمت کی خواہش نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک نیک اور صالح شخص بھی نظرِ بد لگا سکتا ہے، اور ایسے شخص کو "عائن" کہا جاتا ہے، نہ کہ "حاسد"۔
نظرِ بد کا سبب عام طور پر کسی چیز پر بے حد تعجب یا پسندیدگی ہوتا ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ انسانوں کو ہی نظر لگے، بلکہ جانوروں، درختوں، مکانات اور حتیٰ کہ خود اپنے آپ کو بھی نظر لگ سکتی ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظرِ بد کے بارے میں فرمایا
"العین حق" (نظرِ بد برحق ہے)۔
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
ایک اور حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جعفرؓ کے بیٹوں کو بہت زیادہ نظرِ بد لگتی ہے، تو کیا میں ان کے لیے دم کراؤں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
"ہاں، اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جا سکتی، تو وہ نظرِ بد ہوتی"۔
(مسند احمد، ترمذی)
نظرِ بد (العین) کے جمع ہونے کا مفہوم
اگر کسی چیز کو بار بار نظرِ بد لگے، تو وہ نظر جمع ہو جاتی ہے، اور اس کے اثرات شدید ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات، بار بار نظر لگنے سے حسد میں بھی شدت آ سکتی ہے اور حسد کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں
"نظرِ بد تیر کی طرح ہوتی ہے جو عائن (نظر لگانے والے) کی روح سے نکل کر معین (جس کو نظر لگتی ہے) کے جسم میں داخل ہوتی ہے۔ اگر وہ شخص مضبوط حفاظتی حصار میں ہو تو وہ تیر اپنا اثر نہیں دکھاتا، لیکن اگر وہ غیر محفوظ ہو تو اسے نقصان پہنچاتا ہے"۔
لہٰذا نظرِ بد سے بچاؤ کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اللہ کی پناہ میں رہے، اور اس کے لیے ذکر و اذکار اور قرآن کی تلاوت سے خود کو محفوظ رکھے۔
10 علامات جو نظرِ بد (العین) کے جمع ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں
نظرِ بد کی علامات کبھی واضح ہوتی ہیں، اور کبھی یہ پوشیدہ ہوتی ہیں جن پر لوگ زیادہ توجہ نہیں دیتے۔
1. جسمانی علامات
بغیر کسی طبی وجہ کے جسم پر سرخ دھبے پڑ جانا۔
مسلسل پھوڑے، دانے یا خارش ہونا جو کسی دوا سے ٹھیک نہ ہو۔
2. نامعلوم بیماریوں کا شکار ہونا
جوڑوں میں درد، کمر کا درد، کندھوں میں سن ہونے کا احساس، جبکہ میڈیکل رپورٹس میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔
اچانک معدے میں خرابی، بدہضمی، اور بار بار ڈکار آنا۔
3. بھوک کی کمی
بھوک کا نہ لگنا، کھانے سے بے رغبتی، اور اچانک وزن کم ہونا بغیر کسی ظاہری وجہ کے۔
4. سینے میں گھٹن اور بےچینی
کسی خاص وجہ کے بغیر دل کا گھبرانا، سینے میں بوجھ محسوس ہونا اور تیز دھڑکن ہونا۔
5. مستقل سر درد
دوائیوں سے ٹھیک نہ ہونے والا مستقل سر درد، جو وقت کے ساتھ جسم کے مختلف حصوں میں منتقل ہوتا رہے۔
6. غیر معمولی جماہی اور آہیں بھرنا
غیر ضروری جماہی آنا، خاص طور پر نماز اور قرآن پڑھنے کے دوران۔
7. نیند کی خرابی
یا تو نیند بہت زیادہ آنا، یا بے خوابی کا شکار ہونا۔
8. نفسیاتی مسائل
اچانک غصہ آنا، بلاوجہ خوف محسوس ہونا، بے جا فکر کرنا، یا کسی سے بھی بلاوجہ جھگڑنے کا دل کرنا۔
9. تنہائی پسندی
دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے میں دلچسپی نہ لینا، یا کسی خاص جگہ (جیسے گھر یا کام) میں گھٹن محسوس کرنا۔
10. موڈ میں شدید تبدیلیاں
مزاج میں شدید اتار چڑھاؤ، یادداشت کی کمزوری، بلاوجہ اداسی، اور دنیاوی کاموں سے بےرغبتی۔
یہ تمام علامات اگر بغیر کسی طبی وجہ کے ظاہر ہو رہی ہوں، تو امکان ہے کہ یہ نظرِ بد یا حسد کی وجہ سے ہیں۔
نظرِ بد (العین) اور حسد سے نجات کا شرعی طریقہ
نظرِ بد اور حسد سے حفاظت اور شفاء کے لیے قرآن و حدیث میں درج ذیل طریقے تجویز کیے گئے ہیں
1. قرآن کی تلاوت
سورہ الفاتحہ
آیت الکرسی
سورہ البقرہ کی آخری آیات
سورہ الاخلاص، الفلق، اور الناس
2. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی دعائیں
"أعوذ بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة"
"بسم الله أرقيك، من كل شيء يؤذيك، من شر كل نفس أو عين حاسد، الله يشفيك، بسم الله أرقيك"
3. ذکر اور اذکار کا اہتمام
صبح اور شام کی مسنون دعاؤں کا اہتمام کرنا۔
نظرِ بد (العین) اور حسد برحق ہیں، لیکن ان کا علاج بھی قرآن و سنت میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اس کی پناہ مانگنا بہترین حفاظت ہے۔ اللہ ہم سب کو ہر قسم کی نظرِ بد اور حسد سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
🌷🌷🤲🍀
08/08/2025
جمعہ کریم مبارک ہو
08/08/2025
آپ سب کو جمعہ مبارک ہو
08/08/2025
آپ سب کو جمعہ مبارک
یااللہ ہمیں حسد کی نحوست سے بچا آمین
07/08/2025
آپ سب کو جمعہ مبارک ہو
07/08/2025
حضور ﷺ کی کوئی بہن نہیں تھی لیکن جب آپ سیدہ حلیمہ سعدؓیہ کے پاس گئے تو وہاں حضور ﷺ کی ایک رضاعی بہن کا ذکر بھی آتا ہے جو آپ کو لوریاں دیتی تھیں ان کا نام سیدہ شیؓما تھا ۔
شام کے وقت جب خواتین کھانا پکانے میں مصروف ہو جاتیں ،تو بہنیں اپنے بھائی اٹھا کر باہر لے جاتیں اور ہر بہن کا خیال یہ ہوتا کہ میرے بھائی زمانے میں سب سے زیادہ خوب صورت ہے ۔ ۔
بنوسعد کے محلے میں بچیاں اپنے بھائی اٹھاتیں ایک کہتی میرے بھائی جیسا کوئی نہیں اور دوسری کہتی میرے بھائی جیسا کوئی نہیں
اتنے میں سیدہ شیمؓا اپنا بھائی سیدنا محمد ﷺ اٹھا کے لے آتیں اور دور سے کہتی میرا بھائی بھی آ گیا ہے تو سب کے سر جھک جاتے اور سب کہتیں ، نہیں نہیں تیرے بھائی کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا ہم تو آپس کی بات کر رہے ہیں ۔۔۔
سیدہ شیمؓا حضور ﷺ کو اپنی گود میں لے کے سمیٹتیں اور پھر جھومتیں اور پھر وہ لوری دیتیں اور لوری کے الفاظ بھی لکھ دیئے ہیں جن کا ترجمہ ہے
اے ہمارے رب میرے بھائی محمد کو سلامت رکھنا آج یہ پالنے میں بچوں کا سردار ہے کل وہ جوانوں کا بھی سردار ہوگا اور پھر جھوم جاتیں ۔
پھر وہ زمانہ بھی آیا کہ حضور ﷺ مکے چلے گئے اور سیدہ شیمؓا بھی جوان ہوئیں ، اُن کی شادی بھی کسی قبیلے میں ہوگئی حضور ﷺ نے اعلان نبوت کیا تیرہ سال کا وقت بھی گزر گیا اور آپ ﷺ مدینہ تشریف لے گئے ۔
جب غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو جس قبیلے میں سیدہ شیمؓا کی شادی ہوئی تھی اس قبیلے کے ساتھ مسلمانوں کا ٹکراؤ ہو گیا ۔۔۔ اللہ رَبُّ العِزَّت نے مسلمانوں کو فتح عطا کر دی تو اس قبیلے کے چند لوگ صحابہ کرام ؓ کے ہاتھوں گرفتار ہوکر قید کر دیئے گئے ، تب وہ لوگ اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لئے فدیہ جمع کرنے لگے ، قبیلے کے سردار بھی گھر گھر جا کر رقم جمع کر رہے تھے ۔
چلتے چلتے وہ سیدہ شیمؓا کے گھر پہنچ گئے جو کہ اپنی عمر کا ایک خاصا حصہ گزار چکی تھیں، کہنے لگے کہ اتنا حصہ آپکا بھی آتا ہے ۔
سیدہ شیمؓا نے کہا حصہ کس لئے ؟
لوگوں نے کہا جو لڑائی ہوئی ہے اور اس میں ہمارے آدمی گرفتار ہوچکے ہیں ، باتیں کرتے کرتے کسی کے لبوں پر محمد ﷺ کا نام بھی آ گیا تو سیدہ شیؓما سن کر کہنے لگی اچھا تو کیا انہوں نے تمہارے لوگ پکڑے ہیں ؟
کہا ۔۔۔ ہاں
سیدہ شیمؓا نے کہا تم رقم اکٹھی کرنا چھوڑ دو مجھے ساتھ لے چلو ۔
سردار نے کہا آپ کو ساتھ لے چلیں ؟
سیدہ شیؓما کہنے لگیں ہاں تم نہیں جانتے وہ میرا بھائی لگتا ہے ۔
قبیلے کے سردار کے ساتھ جب سیدہ شیؓما حضور ﷺ کے نوری خیموں کی طرف جا رہی تھیں اور صحابہ کرامؓ ننگی تلواروں سے پہرہ دے رہے تھے ، وہ مدنی دور تھا ۔
سیدہ شیمؓا قوم کے سرداروں کے ساتھ جب آگے بڑھنے لگیں تو صحابہ ؓ نے تلواريں سونتیں اور پکارا
او دیہاتی عورت رک جا ، دیکھتی نہیں آگے کوچہء ِ رسول ﷺ ہے ۔۔۔آ گے بغیر اذن کے جبریلؑ بھی نہیں جا سکتے تم کون ہو؟
سیدہ شیمؓا نے جواب میں جو الفاظ کہے ان کا اردو ترجمہ یہ ہے ۔۔۔۔ میری راہیں چھوڑ دو تم جانتے نہیں میں تمہارے نبی ﷺ کی بہن لگتی ہوں ۔
تلواریں جھک گئیں ، آنکھوں پر پلکوں کی چلمنیں آ گئیں راستہ چھوڑ دیا گیا۔۔۔ سیدہ شیمؓا حضور ﷺ کے خیمہء ِ نوری میں داخل ہو گئیں تو حضور ﷺ نے دیکھا اور پہچان گئے ۔ فورا اٹھ کھڑے ہوئے فرمایا بہن کیسے آنا ہوا ؟
کہا آپ ﷺ کے لوگوں نے ہمارے کچھ بندے پکڑ لئے ہیں ان کو چھڑانے آئی ہوں ۔
حضور ﷺ نے فرمایا بہن تم نے زحمت گوارا کیوں کی ۔پیغام بھیج دیتیں میں چھوڑ دیتا لیکن تم آ گئیں اچھا ہوا ملاقات ہو گئی ۔
پھر حضور ﷺ نے قیدیوں کو چھوڑنے کا اعلان کیا کچھ گھوڑے اور چند جوڑے سیدہ شیؓما کو تحفے میں دیدیئے کیونکہ بھائیوں کے دروازے پر جب بہنیں آتی ہیں تو بھائی خالی ہاتھ تو بہنوں کو نہیں لوٹایا کرتے ۔
حضور ﷺ نے بہت کچھ عطا کیا اور رخصت کرنے خیمے سے باہر تشریف لے آئے تو صحابہ ؓ کی جماعت منتظر تھی
فرمایا اے صحابہ ! آپ جانتے ہیں کہ جب بھی میں قیدی چھوڑا کرتا ہوں تو میری یہ عادت ہے کہ آپ سے مشاورت کرتا ہوں لیکن آج ایسا موقع آیا کہ میں نے آپ سے مشاورت نہیں کی اور قیدی بھی چھوڑ دیئے
صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ مشاورت کیوں نہیں کی؟ ارشاد تو فرمائیں ۔۔۔
فرمایا آج میرے دروازے پر میری بہن آئی تھیں
(ابن ہشام
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Larkana
7869