Syed Sarfraz Shahgmail.com
I,m a Doctor
&
only for the services of suffering humanity
16/03/2024
منی کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟
بلوغت کے بعد خصیئوں میں مسلسل بننے والی رطوبت کو منی یا سیمن کہا جاتا ہے۔ یہ پیدا ہوکر سیمینل ویسلز seminal vessels میں جمع ہوتی رہتی ہے اور بوقت انزال خارج ہوجاتی ہے۔
یہ ایک سفیدی مائل گاڑھی رطوبت ہے اس کی مخصوص بو ہوتی ہے جسے seminal odour کہتے ہیں۔ یہ رطوبت ہلکی الکلائین ہوتی ہے۔ اس رطوبت کے دو حصے ہوتے ہیں۔
اول سیال مواد۔ liqour seminalis یہ انڈے کی سفیدی کی طرح شفاف ہوتی ہے۔
دوئم۔ دانے دار مواد۔ granules seminal یہ چھوٹے چھوٹے دانے نما ذرات ہوتے ہیں۔ ان کے اندر کرم منی پائے جاتے ہیں۔
انزال کے وقت ایک تندرست مرد کی منی دو سے پانچ ملی لیٹر ہوتی ہے۔ مادہ تولید میں۔ درجہ ذیل اجزاء پائے جاتے ہیں۔
1۔ سیرم
2۔ البیومن
3۔ گلیسیتھن
4۔ کولیسٹرین
5۔ البیومی نینیٹ
6۔ روغنی اجزاء۔
مادہ تولید میں سب سے اہم جزو حونیات منی s***ms ہے۔
منی کی اقسام۔۔۔۔۔
مباشرت کے دوران خارج ہونے والی رطوبت کو چار اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔
1۔ ناقص منی۔
اس میں گاڑھا پن اور حونیات منی کم ہوتے ہیں۔ ایسی منی کپڑے پر خشک ہونے کے بعد اکڑاو پیدا نہیں کرتی۔
2۔ خون آمیز منی۔
اس منی میں ہلکی سرخی پائی جاتی ہے۔ منی میں خون شامل ہونے کی وجہ احتلام۔ جلن۔ اغلام بازی۔ اور کثرت مباشرت کی وجہ سے متعلقہ اعضاء اور نالیوں کی سوزش و ورم ہونا ہے۔ کثرت مباشرت سے منی کی تھیلی منی سے خالی ہوجاتی ہے۔ اور خصیئوں کو منی تیار کرنے کا وقت نہیں ملتا تو منی کے ساتھ خون خارج ہونے لگتا ہے۔
3۔ بیکار منی۔
یہ منی پتلی۔ پانی جیسی اور کپڑے پر فورا خشک ہوجاتی پے۔ اس منی میں پس سیلز بھی پائے جاتے ہیں۔
بہترین منی۔
یہ منی کی وہ قسم ہے جو ایک تندرست انسان کے عضو سے خارج ہوتی ہے۔ ایسی منی کپڑے پر دیر سے خشک ہوتی ہے۔ اور گاڑھی ہوتی ہے۔ یہ کپڑے کو اکڑا دیتی ہے۔
چند غلط فہمیوں کا ازالہ
عموما نوجوان منی سے متعلق کچھ مغالطوں کا شکار رہتے ہیں۔ ذیل میں چند عام غلط فہمیاں اور ان کی حقیقت پیش کی جاتی ہے۔
1۔ ایک صحت مند مرد کا مادہ تولید کپڑے پر گرنے کے بعد دیر سے خشک ہوتا ہے اور کپڑے میں سختی پیدا کرتا ہے۔
2۔ اخراج منی کی مقدار اور گاڑھے پن کا عضو تناسل کی ایستادگی پر قطعا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
3۔ عموما لوگوں کو مغالطہ ہے کہ منی کا ایک قطرہ خون کے ستر یا سو قطروں کے برابر ہوتا ہے۔ یہ قیاس بےبنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ منی کی قدر و قیمت اتنی ہی ہے جتنی کہ لعاب دہن کی۔ دونوں کا بدل فوری طور پر پیدا ہوجاتا ہے۔
4۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ج**ع کے بعد عورت کے اندر منی ٹھہرتی نہیں اور خارج ہوجاتی ہے جبکہ ج**ع کے بعد عضو تناسل کو باہر نکالا جائے تو ف*ج vegina کی اگلی پچھلی دیواریں ملنے سے منی کی کچھ مقدار ف*ج سے باہر نکل آتی ہے لیکن ف*ج کے بالائی حصے میں پہنچی ہوئی منی اندر ہی چپک جاتی ہے۔
5۔ پروسٹیٹ گلینڈ کے آپریشن کے بعد کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ج**ع کے بعد منی مثانے میں چلی جاتی ہے۔ ایسے مریضوں میں یہ کیفیت retrograde ej*******on کہلاتی ہے۔ جو کہ عموما آپریشن کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ دراصل آپریشن کے دوران پیشاب کی نالی کے پچھلے حصے کا اندرونی عضلہ internal sphincter مجروح ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے منی کی تھیلیوں سے آنے والی اخراجی نالیوں کا رخ پیشاب کی نالی کے بیرونی سوراخ کی سمت ہونے کے بجائے مثانے کی طرف ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں جنسی تعلق برقرار رکھنے سے خارج شدہ منی مثانے سے پیشاب کرتے وقت باہر خارج ہوجاتی ہے۔
کرم منی۔۔۔ S***mmatozoa
کرم منی یا سپرم 0.05cm لمبا ہوتا ہے۔ یہ تولیدی خلیات منی کے اندر پائے جاتے ہیں۔ اور منی کا دانے دار حصہ ہوتے ہیں۔ یہ خصیئوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس نطفے یا کرم کی شکل مینڈک کے لاروا سے بہت ملتی ہے۔ یہ نطفے اس قدر چھوٹے ہوتے ہیں کہ اگر 500 ملین سپرمز کو ایک قطار میں سر اور دم ملا کر کھڑا کردیا جائے تو صرف ایک انچ لمبی لکیر بنتی ہے۔ یہ بلوغت کی عمر سے بننا شروع ہوتے ہیں۔ اور مرتے دم تک بنتے رہتے ہیں۔ سپرم فیرس ٹیوبلز میں پیدا ہوتے ہیں ان کے پیدا ہونے کا عمل follicle stimulating harmone اور testosterone کے زیر اثر تکمیل پاتا ہے۔ سپرم جب تیار ہوجاتے ہیں۔ تو انزال کی صورت خارج ہوجاتے ہیں۔ اگر سپرم خارج نہ ہوں تو دوبارہ ری جنریٹ ہوکر جسم میں تونائی کا باعث بنتے ہیں۔ مرد کے مباشرت کرنے سے یہ بڑی تعداد میں خارج ہوجاتے ہیں ایک وقت کے انزال میں ان کی تعداد دو سے پانچ سو ملین ہوتی ہے۔
ہر سپرم کے تین حصے ہوتے ہیں۔
1۔ سر Head اس کی مدد سے سپرم بیضہ میں داخل ہونے کیلیئے راستہ بناتا ہے۔ اس کا سر نیزے کی شکل کا ہوتا ہے
2۔ جسم۔ body
یہ سپرم کا درمیانی حصہ ہے جو جسم کہلاتا ہے۔ اس حصے سے حاصل کردہ توانائی کی وجہ سے سپرم کی دم حرکت کرتی ہے۔ اور سپرم تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔
3۔ دم۔ Tail
دم کی حرکت سے سپرم تیرتا ہے اور بیضہ میں چھید کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔
کرم منی s***m کے افعال۔۔۔۔
1۔ یہ اندام نہانی میں خارج ہونے کے ڈیڑھ منٹ بعد رحم تک پہنچ جاتے ہیں۔
2۔ سپرم کی نارمل رفتار دو سے تین ملی میٹر فی منٹ ہوتی ہے۔
3۔ یہ عورت کے بیضہ سے مل کر زائیگوٹ بناتے ہیں۔ اور حمل قرار پاتا ہے۔
4۔ سپرم کو پختہ ہونے میں تقریبا دس ہفتے لگ جاتے ہیں۔
5۔ ہر جرثومہ میں 23 کروموسومز پائے جاتے ہیں مگر صرف ایک جرثومہ بچہ بناتا ہے۔
6۔ ایک خصیئہ 1500 سپرمز فی سیکنڈ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ذہنی پریشانی اور ٹینشن کا شکار شخص میں یہ شرح نہایت کم ہوجاتی ہے۔
7۔ ایک صحت مند بالغ مرد ایک دن میں تقریبا 500 ملین سپرمز پیدا کرتا ہے۔
8۔ سپرمز کی زندگی تقرئبا 72 گھنٹے ہوتی ہے۔ اگر اندام نہانی کا ماحول تیزابی ہوتو اس کی زندگی فقط چھے گھنٹے رہ جاتی ہے۔
مرد کے کرم منی s***ms کا صحت مند ہونا صحت مند اولاد کی بنیادی شرط ہے۔ اگر مرد تمباکو نوشی شراب نوشی۔ تھکن کا شکار۔ وائرسی امراض میں مبتلاء ہوتو سپرمز نہایت کمزور ہوتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ قدرتی اور تازہ غذائیں کھانے والے جوڑوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تندرست اور توانا پائے گئے ہیں۔ بچے کی پلاننگ کیلیئے یہ بھی ضروری ہے کہ والدین کیفین ملے مشروبات اور ایسی چیزیں نہ کھائیں پیئیں جو جسمانی اور ذہنی طور پر ضرر رسان اثرات کی حامل ہوں۔ خیال رہے کہ کرم منی مرد کی صحت کا آئینہ ہوتا ہے۔ صحت اچھی ہوگی تو کرم منی بھی صحت مند و تندرست ہونگے۔ کیفین ملی اشیاء کا استعمال سپرمز کو کمزور کردیتا ہے۔
منی کا لیبارٹری تجزیہ۔۔۔۔
Semen Analysis
سیمن اینالائسز یعنی منی کا لیبارٹری تجزیہ مردانہ بانجھ پن کا پتہ لگانے والا بنیادی ٹیسٹ ہے۔ کسی تشخیص سے پہلے یہ ٹیسٹ کرلینا ضروری ہے۔ اس ٹیسٹ کیلیئے مرد کو ہاتھ کے زریعے اپنا مادہ منویہ نکالنا پڑتا ہے اس مادے کا آدھے گھنٹے کے اندر اندر لیبارٹری ٹیسٹ کرلیا جاتا ہے۔ ایک نوجوان مرد کی منی کے سپرمز کی طبعی مقدار و تعداد ذیل ہوگی۔ ۔۔
منی کی طبعی مقدار Normal values...
1۔ مقدار volume
اس کی نارمل مقدار 1.5 سے 5 ملی لیٹر تک ہوتی ہے۔ نارمل سے زیادہ یا کم مقدار اثرانداز ہوتی ہے۔
2۔ لیس دار viscosity
نارمل منی انڈیلی جائے تو قطرہ قطرہ گرتی ہے۔ زیادہ گاڑھی یا پتلی منی نامل تصور نہیں کی جاتی۔
3۔ مائع حالت۔ liquification
تازہ منی دس سے پندرہ منٹ میں مائع حالت میں تبدیل ہوجاتی ہے یا زیادہ سے زیادہ تیس منٹ تک منی کو مائع میں تبدیل ہوجانا چاہیئے۔
4۔ مائیکروسکوپک معائنہ Microscopic Exam
اس معائنہ میں سپرم کی تعداد اور حرکت نوٹ کی جاتی ہے۔ جو کہ درج زیل ہے۔
تعداد. S***m count
نارمل سپرم کی تعداد 60 تا 120 ملین فی ملی لیٹر ہوتی ہے اس سے کم سپرم کی تعداد ہو تو اولیگو سپرمیا oligos***mia کہتے ہیں جبکہ سپرم کی تعداد سرے سے موجود ہی نہ ہو تو ایزو سپرمیا azoos***mia کہا جاتا ہے
طبعی حرکت.. motality
نارمل حالت میں سپرم کا حرکت کرنا ضروری ہوتا ہے عمومی طور پر 60 تا80 فیصد سپرم حرکت کرنے چاہیے اگر سپرم کی حرکت 60 فیصد سے کم ہو تو یہ صحت مندی کی علامت نہیں ہے
طبعی شکل.. shape
نارمل منی میں 20 تا 30فیصد سے کم سپرم کی شکل نارمل سے مختلف ہوتی ہے اس سے زیادہ مقدار میں نارمل سے مختلف شکلیں بانجھ پن کا باعث ہو سکتی ہیں۔
خون کے سفید و سرخ زرات. WBC & RBC.......
نارمل منی میں خون کے سفید و سرخ زرات موجود نہین ہوتے اگر یہ موجود ہوں تو انفیکشن کی نشانی ہے۔ ایسی صورت میں حسب علامات سوزش و ورم کے لئے ادویہ کا استمعال ضروری ہوتا ہے۔
عموما شادی کے ایک دو سال بعد تک حمل نہ ٹھہرے تو میاں بیوی دونوں کے ٹیسٹ کرا لینے چاہیئے تاکہ کسی کمی کمزوری کے ظاہر ہونے پر فوری علاج کرایا جا سکے اکثر مرد اپنا ٹیسٹ کرانے سے کتراتے ہیں حالانکہ مردانہ ٹیسٹ نہایت آسان ہوتا ہے عمومی طور پر منی کا تجزیہ درج ذیل کفیات مین معاون ثابت ہوتا ہے..
اپنی صحت کے بارے میں معلومات یا مشورے کے لیے رابطہ نمبر
03002396430
15/03/2024
*🌍کیا آپ جانتے ہیں؟*
جب ہماری کہنی اچانک کسی چیز سے ٹکرا جائے تو ہمیں کرنٹ جیسا کیوں محسوس ہوتا ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد خود بخود کیوں ختم ہوجاتا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کرنٹ جیسا احساس ایک رگ کی وجہ سے ہوتا ہے جو کہ ہماری گردن سے شروع ہوکر ہمارے بازوؤں سے ہوتی ہوئی ہمارے ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی اور اس کے ساتھ جڑی انگلی (ring finger) تک جاتی ہے۔ اس رگ کو Ulnar nerve کہتے ہیں۔
اصل میں جس وقت ہماری کہنی اچانک کسی چیز سے ٹکراتی ہے تو درحقیقت زور ہماری اسے رگ پر پڑتا ہے جس سے یہ دب جاتی ہے۔
دباؤ کی وجہ سے اس رگ کے دبنے سے عارضی طور پر ہمارے دماغ سے اس رگ کے رابطے میں رکاوٹ آنے لگتی ہے جو کہ ہمیں کرنٹ کی صورت میں محسوس ہوتا ہے۔
جیسے ہی دباؤ ختم ہوجاتا ہے، اس رگ کا دماغ کے ساتھ رابطہ بھی بحال ہوجاتا ہے، اور پھر رفتا رفتا کرنٹ کا یہ احساس بھی ختم ہونے لگتا ہے۔
15/03/2024
*سگریٹ نوشی خطرناک ہے مگر یاد رکھو V**e ( الیکٹرانک سگریٹ) سگریٹ سے بھی کئی گنا زیادہ خطرناک ہے🚨💯*
*🚨ایک تحقیق کے مطابق پانچ سال V**e پینا 30 سال سگریٹ نوشی سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے*
*🚨آجکل چھوٹی عمر کے بچے صرف شو بازی اور TikTok , فیس بک پر ویوز لینے کے لیے ہی اس V**e ( الیکٹرانک سگریٹ) کا بے دریغ استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں*
*🚨جو بعد میں ان کی مستقل عادت بن جاتی ہے ۔جو ان کے لیے انتہائی خطر ناک ثابت ہوتا ہے ۔*
*🚨 جوانی میں ہی ان کے پھیپھڑے ختم ہو جاتے ہیں اور وہ موت کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ 🚨نئی نسل خصوصاً ان کے والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنی نسلوں کو اس کا شکار ہوکر برباد ہونے سے بچائیں ۔*
*🚨حکومت وقت کو بھی اس کے خلاف ایکشن لینا چاہئیے ،-*
👩🦰 کتاب خواتین کے امراض سے 🖌Ⓜ️
🧿🔹🧿🔹🧿🔹🧿🔹🧿🔹🧿
♻️♦️حاملہ کی قبض Constipation♦️♻️
👇حاملہ کی قبض کا علاج Treatment
⛑👇کالن سونیا۔Collinsonia 30
حاملہ عورت کی قبض اور بواسیر کی سب سے مفید اور سب سے اہم دوا زیادہ تر حاملہ عورتوں کی قبض اس دوا سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔
⛑👇نکس وامیکا۔Nux Vomica 30
مرغن فاسٹ فوڈ اور تیز مرچ مصالہ کھانے زیادہ جاگنے اور بیٹھ کر وقت گزارنے والی عورتوں کی قبض۔ بار بار نامکمل پخانہ کی حاجت مگر طبیعت مطمئن نہیں ہوتی لگتا ہے کہ ابھی حاجت باقی ہے
⛑👇ہائیڈراسٹس۔Hydristis 3x-30
ہر طرح کی قبض میں معاون دوا ہے ، کانچ نکلتی ہے ، قبض جس کے ساتھ معدہ کی کمزوری پائی جائے ، پخانہ کے دوران ڈنگ لگنے جیسا درد جو پخانہ کرنے کے کافی دیر بعد تک بھی رہے
⛑👇ایسکولیس ہپ۔Aesculus Hip 30
معدہ میں پتھر رکھا ہوا ہے یہ کا احساس ہوتا ہے ، کھانا کھانے کے تین گھنٹہ بعد درد جو معدہ کُترنے جیسا ہوتا ہے ، حاملہ عورت کی قبض اور خونی بواسیر میں مفید دوا کے ، مقعد میں جلن اور دردجیسے مقعد میں لکڑی کے ٹکڑے رکھے ہوں
⛑👇برائی اونیا۔ Bryonia 30
پانی کم پینے کی وجہ سے ہونے والی قبض ، خشکی مزاج کی عورتیں سر سے پاوࣿں تک خشکی کی علامات اہم ہیں۔ قبض ، پخانہ سخت بھورے رنگ کا جلا ہوا خون ملا آتا ہے
📚 ❣️ ** ❣️📚
01/03/2024
مردانہ نپلز کی حقیقت۔
ﺍﮐﺜﺮ ﻟﻮﮒ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﺟﺐ
ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ Ni***es ﺁﺧﺮ ﮐﯿﻮﮞ
ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ___ ؟آج میں آپ کوبتاتاہوں آخر یہ کیوں ہوتےہیں
ﮈﯼ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ: DNA ﮨﺮ ﺟﺎﻧﺪﺍﺭ ﺧﻠﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﯾﮏ
ﺯﭖ ﻧﻤﺎ ﻣﺎﻟﯿﮑﯿﻮﻝ ﮨﮯ، ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﻋﻤﻞ ﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ
ﭼﮭﭙﺎ ﮨﮯ، ﻭﯾﺴﮯ ﺗﻮ DNA ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ
ﭼﮭﭙﯽ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ میرا ﻣﻮﺿﻮﻉ DNA ﻧﮩﯿﮟ
ﺑﻠﮑﮧ Chromosome ﮨﮯ-
ﮐﺮﻭﻣﻮﺳﻮﻡ: Chromosomes ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﮐﺮﺩﺍﺭ
ﮨﯿﮟ - ﮈﯼ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ 46 ﮐﺮﻭﻣﻮﺳﻮﻣﺰ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﺁﺩﮬﺎ ﮈﯼ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﯾﻌﻨﯽ 23 ﮐﺮﻭﻣﻮﺳﻮﻣﺰ
ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺁﺩﮬﺎ ﮈﯼ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﯾﻌﻨﯽ 23
ﮐﺮﻭﻣﻮﺳﻮﻣﺰ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﺧﺼﻮﺻﯿﺎﺕ ﮐﺎ ﺗﻌﯿﻦ
ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ
ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﺳﭙﺮﻡ ﻣﯿﮟ 23 ﮐﺮﻭﻣﻮﺳﻮﻣﺰ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ
ﺍﯾﮏ ﺯﻧﺎﻧﮧ ﺑﯿﻀﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ 23 ﮐﺮﻭﻣﻮﺳﻮﻣﺰ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﻭﻣﻮﺳﻮﻣﺰ ﮐﮯ ﯾﮩﯽ 23
ﺟﻮﮌﮮ ﺣﺼﮧ ﮈﺍﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﮨﺮ ﺟﻮﮌﺍ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺧﺼﻮﺻﯿﺎﺕ
ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ،
ﺧﺼﻮﺻﯿﺎﺕ: ﻣﺜﻼً ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﻓﯿﺰﯾﮏ ،ﻧﯿﭽﺮ ﯾﻌﻨﯽ
ﻃﺒﯿﻌﺖ، ﺭﻧﮓ، ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﻭﭦ، ﻗﺪ، ﻧﯿﻦ
ﻧﻘﻮﺵ، ﺫﮨﺎﻧﺖ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﻧﮓ
ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﮨﺮ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﮐﺎ ﺗﻌﯿﻦ ﮐﺮﻭﻣﻮﺳﻮﻣﺰ ﮐﮯ ﯾﮩﯽ
23 ﺟﻮﮌﮮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯽ 23 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 1 ﺟﻮﮌﺍ
ﺟﻨﺲ ﮐﺎ ﺗﻌﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺟﻨﺲ ﮐﺎ ﺗﻌﯿﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﮐﺮﻭﻣﻮﺳﻮﻣﺰ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﮐﮯ ﺣﺮﻭﻑ ﺍﯾﮑﺲ X
ﺍﻭﺭ ﻭﺍﺋﮯ Y ﺳﮯ ﻣﺸﺎﺑﮩﺖ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﺒﮭﯽ ﺍﻧﮩﯿﮟ
ﺍﯾﮑﺲ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﺋﮯ ﮐﺮﻭﻣﻮﺳﻮﻣﺰ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ -
؛ X+X = Female Baby
؛ X+Y = Male Baby
ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﮈﯼ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺲ ﮐﺎ ﺗﻌﯿﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﺮﻭﻣﻮﺳﻮﻣﺰ ﮨﻤﯿﺸﮧ XX ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﺎﮞ
ﮈﯼ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺁﺩﮬﺎ ﺣﺼﮧ ﭨﺮﺍﻧﺴﻔﺮ ﮐﺮﮮ ﮨﺮ ﺩﻭ
ﺻﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮑﺲ ﮐﺮﻭﻣﻮﺳﻮﻣﺰ ﮨﯽ ﭨﺮﺍﻧﺴﻔﺮ ﮨﻮﮔﺎ،
ﺟﺒﮑﮧ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮈﯼ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺲ ﮐﺎ ﺗﻌﯿﻦ ﮐﺮﻧﮯ
ﻭﺍﻟﮯ ﺩﻭ ﮐﺮﻭﻣﻮﺳﻮﻣﺰ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﻤﯿﺸﮧ X ﺍﻭﺭ
ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﺎ ﺗﻮ X ﮨﻮﮔﺎ ﯾﺎ Y ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ
ﮈﯼ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﮐﺎ ﺁﺩﮬﺎ ﭨﺮﺍﻧﺴﻔﺮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺣﺼﮧ ﮐﺒﮭﯽ
ﺗﻮ ﻭﺍﺋﮯ ﮐﺮﻭﻣﻮﺳﻮﻡ ﭨﺮﺍﻧﺴﻔﺮ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﮑﺲ،
ﺁﺳﺎﻥ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺴﭩﻢ "ﭨﺎﺱ " ﮐﯽ ﮨﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺎﻡ
ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﺋﮯ ﭼﺎﻧﺲ، ﮨﯿﮉ ﯾﺎ ﭨﯿﻞ، *****
" ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮐﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﺷﺮﻭﻋﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ
ﺍﯾﮑﺲ ﮐﺮﻭﻣﻮﺳﻮﻡ ﮨﯽ ﻧﺸﻮﻭﻧﻤﺎ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﺎﻧﭻ
ﺳﮯ ﭼﮫ ﮨﻔﺘﮯ ﮨﺮ مرد، ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﮨﺮ مرد ﻋﻮﺭﺕ
ﮨﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﭘﯿﻨﺘﯿﺲ ﺳﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ
ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﺍﺋﮯ ﮐﺮﻭﻣﻮﺳﻮﻡ ﺍﯾﮑﭩﻮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﻮﮞ ﺯﻧﺎﻧﮧ
ﺁﺭﮔﻨﺰ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﺭﮎ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﺁﺭﮔﻨﺰ ﮐﯽ
ﺗﺨﻠﯿﻖ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ-
ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﯾﮧ ﻧﭙﻠﺰ ﺍﺳﯽ
ﭘﯿﭽﯿﺪﮦ ﺗﺨﻠﯿﻘﯽ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ وجہ ہے پہلے پینتیس سے چالیس دن ہر مرد عورت کی طرح بنتاہے پھر چالیس دن بعد مرد کی جنس بنناشروع ہوتاہے اس لئے یہ مرد کے نیبلزہوتے ہیں "-
ﺍﺱ ﺳﺐ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﺟﻨﺲ ﮐﺎ ﺍﻧﺤﺼﺎﺭ ﺳﻮ ﻓﯿﺼﺪ ﻣﺮﺩ ﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﻋﻠﻢ ﻭ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﺳﮯ ﻧﺎ ﺁﺷﻨﺎ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻃﻌﻨﮯ
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺩﯾﺌﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ - ﯾﮩﺎﮞ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ
ﻣﺴﻠﺴﻞ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺮﺩ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻋﻮﺭﺕ
ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ،
ﺍﻭﺭ ﮨﺎﮞ ....ﺍﺏ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ سمجھ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ "عورت کو خود سےکمتر نہیں سمجھنا چاہیے....
🖌Ⓜ️
⭕️🔑⭕️🔑⭕️🔑⭕️🔑⭕️🔑⭕️
👇👇🖍 _پورا ٹاپک_ 🖍👇👇
💔ج**ع (سیکس)سے نفرت Dyspareunia 💔
ہمبستری،ج**ع،سیکس سب عورت اور مرد کے ملاپ کے نام ہیں یہ ایک ایسا قدرتی عمل ہے جس سے عورت مرد ایک دوسرے سے جنسی تسکین حاصل کرتے ہیں اور اسی عمل کی صورت حمل ٹھہرتا ہے جو اپنی نسل بڑھانے کیلئے ایک قدرتی ذریعہ ہے مرد عورت دونوں صحت مند ہوں ہم عمر ہوں اور آپس میں پیار محبت کرتے ہوں تو سیکس سے انتہائی لطف اندوز ہوتے ہیں مگر کچھ طبی و ذہنی وجوہات کی بنا پر ج**ع سے نفرت دونوں میاں بیوی کی زندگی عذاب بن جاتی ہے
💔👇وجوہات 👇💔
ج**ع سے نفرت کی بہت سے وجوہات ہوتی ہیں
⭕️👇نمبر1-Vaginismus سب سے بڑی وجہ ج**ع کے وقت یا ج**ع کے دوران عورت کی ویجائنہ کے عضلات سُکڑ جاتے ہیں جس کی وجہ سے شدید درد ہوتا ہے اور بار بار ایسا ہونے سے عورت ج**ع سے بھاگتی ہے
⭕️👇نمبر2-Physical Disorders پردہ بکارت (Hymen)کا سخت بے لچک اور موٹا ہونا بھی ایک ایسی وجہ ہے پہلے دن سے لیکر پردہ بکارت پھٹتا نہیں ہے جس سے ج**ع کے دوران بہت تکلیف ہوتی ہے کچھ عورتوں میں ویجائنہ بہت زیادہ تنگ لمبائی میں چھوٹی ہوتی ہے جبکہ مرد کا پینس سائز میں بڑا ہونے کی وجہ بھی درد کا باعث بنتی ہے کچھ عورتیں وقت سے پہلے بڑھاپے کی طرف چلی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ج**ع میں درد ہوتا ہے اور عورت ج**ع سے نفرت کرنے لگتی ہے
⭕️👇نمبر3-کئی زیادہ مذہبی یا نفسیاتی طور پر حمل کے بعد ج**ع سے نفرت کرتی ہیں حلانکہ ج**ع سے کوئی نقصان یا حمل کے دوران ج**ع نہ کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے
⭕️👇نمبر 4 عورت کی پسند کے خلاف شادی ہونا خاوند کا عورت سے کافی زیادہ عمر کا ہونا عورت کو مرد سے پیار نہ ہونا اور گھریلو جھگڑوں اور نااتفاقیوں کی وجہ سے بھی سیکس بے مزہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے عورت سیکس میں دلچسبی نہیں لیتی ہے یہ تمام عوامل سیکس سے نفرت کا سبب بنتے ہیں لہذا ان تمام ذہنی جسمانی اور نفسیاتی علامات کو مدنظر رکھ کر علاج کرنا چاہئیے
⛑👇ج**ع سے نفرت (دوری) کا علاج👇⛑
⭕️👇سیپیا Sepia 200
ویجائنہ کے پُر حس ہونے کی وجہ سے ج**ع میں تکلیف ہونا مریضہ یہ احساس کرے کہ ویجائنہ کے راستے اندر سے سب باہر کی طرف آرہا ہے
⭕️👇کالی کارب Kali Carb 30-200
ہم بستری کے دوران مریضہ محسسوس کرے جیسے ویجائنہ کی جلد کھینچی جارہی ہے جس کی وجہ سے درد ہوتا ہے
⭕️👇نیٹرم میور Natrum Mur 30-200
ویجائنہ کی خشکی کے باعث ج**ع میں تکلیف کی موثر دوا ہے دوران ج**ع جلن کا احساس ہو مریضہ جسمانی کمزور اور خون کی کمی ہو
⭕️👇آرجنٹم نائٹ Argentum Nit 30-200
دوران ج**ع خون کا اخراج اور شدید درد ہو جس کی وجہ سے گھبراہٹ ہو آرجنٹم نائٹ کے مریض میٹھا کھانے کے شوقین ہوتے ہیں
⭕️👇فیرم میٹ Ferrum Met 30-200
اس دوا کی مریضہ ج**ع سے بلکل جنسی تسکین نہیں پاتی ہے دوران ج**ع مریضہ لطف و لذت سے محروم ہوتی ہے یوٹرس میں جلن دار دردیں ہوتی ہیں ایسے محسوس ہوتا جیسے اندر کو جھلی پھٹ گئی ہے
📚 ❣️ ** ❣️📚
# # #
#شب برات مبارک ہو # # #
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Mian Channun