Ayesha Khan khan
like+follow
22/08/2023
BBC News, اردو
مواد پر جائیں
سیکشن
صفحۂ اولپاکستانآس پاسورلڈکھیلفن فنکارسائنسویڈیو
اشتہار
گہرے سمندر میں ٹائٹینک کے ملبے میں پھنس کر زندہ لوٹنے والے سائنسدان: ’میں نے سوچ لیا تھا کہ میرا خاتمہ قریب ہے‘
ٹائٹینک
،تصویر کا ذریعہRALPH WHITE/GETTY IMAGES
،تصویر کا کیپشن
15 اپریل 1912 کو ٹائٹینک جہاز ڈوبنے سے قبل ہی دو حصوں میں بٹ چکا تھا اور آج اس کا ملبہ سمندر کی انتہائی گہرائیوں میں موجود ہے
مضمون کی تفصیل
مصنف, جاروسلاو لوکیو
عہدہ, بی بی سی نیوز
4 گھنٹے قبل
ایک ایسے وقت میں جب ٹائٹینک کے ملبے تک تفریحی سفر پر جانے والی لاپتہ آبدوز اور اس میں سوار پاکستانی نژاد سیاحوں سمیت پانچ افراد کی تلاش جاری ہے، امریکی صحافی مائیکل گویلین نے ایک ایسے ہی بھیانک ذاتی تجربے کی روداد سنائی ہے جب سنہ 2000 میں ایسی ہی آبدوز نما میں اسی مقام پر وہ سمندر کی گہرائیوں میں پھنس گئے تھے۔
بی بی سی ریڈیو فور سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر گویلین نے بتایا کہ ’میں ٹائٹینک کے ملبے کے مقام سے خبر دینے والا پہلا صحافی تھا اس لیے میں کافی پرجوش تھا۔‘
اس وقت وہ امریکہ کے اے بی سی نیٹ ورک میں بطور سائنس ایڈیٹر کام کر رہے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ڈائیونگ پارٹنر برائن اور روسی پائلٹ وکٹر کے ساتھ وہ ایک چھوٹی روسی آبدوز نما میں سوار ہوئے جسے سندر میں اتار دیا گیا۔
اشتہار
سمندر کی گہرائیوں میں پہچننے کے بعد سب سے پہلے انھوں نے جہاز کے ملبے کے اگلے حصے کا جائزہ لیا جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اب پچھلے حصے کا جائزہ لیا جائے، جو کچھ فاصلے پر موجود تھا۔
واضح رہے کہ 15 اپریل 1912 کو ٹائٹینک جہاز ڈوبنے سے قبل ہی دو حصوں میں ٹوٹ چکا تھا۔
ڈاکٹر گویلین نے بتایا کہ ’جب ہم اس جانب پہنچے تو پانی کی رفتار کافی تیز تھی۔‘
’اچانک جیسے ہم کسی چیز سے ٹکرائے اور یکدم ملبے کے بڑے بڑے ٹکڑے، جو ٹائٹینک کے زنگ آلود حصے تھے، ہمارے اوپر گرنا شروع ہو گئے۔‘
’میں نے دل میں الوداع کہنا شروع کر دیا‘
آبدوز
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
،تصویر کا کیپشن
مائیکل گویلین ایسی ہی ایک چھوٹی روسی آبدوز نما میں سوار ہوئے تھے
ڈاکٹر گویلین کو اب بھی یاد ہے کہ ان کو اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ لوگ پھنس چکے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ موجود پائلٹ، جو ماضی میں روسی لڑاکا طیارے اڑاتے تھے، آبدوز نما کو نکالنے کی کوشش کرنے لگے۔
’یہ ایسا ہی تھا جیسے آپ کی گاڑی کیچڑ میں پھنس جائے، آپ آگے جانے کی کوشش کرتے ہیں، پیچھے جانے کی، پھر آگے اور پھر پیچھے تاکہ کسی طرح سے باہر نکل سکیں۔‘
’ہم سب خاموش تھے۔ کسی نے بھی وکٹر کی توجہ ہٹانے کی کوشش نہیں کی۔ ہم جانتے تھے کہ ہم مشکل میں پھنس چکے ہیں، اسی لیے ہم چپ رہے۔‘
ڈاکٹر گویلن کے مطابق وکٹر کی مہارت کی وجہ سے بلاآخر وہ باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
’ہم خوش قسمت تھے لیکن ہم تقریبا ایک گھنٹہ پھنسے رہے اور میں نے میں نے دل میں الوداع کہنا شروع کر دیا تھا۔‘
’میں ان لمحوں میں اپنے دماغ میں آنے والی سوچ کبھی نہیں بھلا سکتا جب میں نے سوچا کہ اس طرح تمہارا خاتمہ ہو گا۔‘
’لیکن پھر ہمیں محسوس ہوا کہ کچھ بدل گیا ہے، ایسا لگ رہا تھا کہ ہم تیر رہے ہیں۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ یہ سب مکمل تاریکی میں ہو رہا تھا کیونکہ پائلٹ نے لائٹ بند کر رکھی تھی۔
’پھر میں نے وکٹر سے پوچھا سب ٹھیک ہے؟‘
’وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی بولتا تھا۔ اس نے روسی لہجے میں جو جواب دیا وہ مجھے اب بھی یاد ہے۔‘
اس نے کہا ’کوئی مسئلہ نہیں۔‘ میں نے سکھ کا سانس لیا۔
ڈاکٹر گویلین کا کہنا ہے کہ ان کو سمندر کی سطح پر واپس پہنچنے میں ڈھائی گھنٹے لگے اور ان کا انتظار کرنے والے جہاز میں لوگوں کو اندازہ ہو چکا تھا کہ کوئی مسئلہ ہوا ہے۔
ان کے مطابق سنہ 2000 میں صرف روس اور فرانس کے پاس ایسی آبدوزیں تھیں جو سمندر کی گہرائیوں میں پانی کا زیادہ دباؤ برداشت کر سکتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
وہ چار معمے جو ٹائٹینک ڈوبنے کے 111 سال بعد بھی موجود ہیں
21 جون 2023
ٹائٹینک: دیوہیکل سمندری جہاز کی باقیات بحرِ اوقیانوس کے گہرے پانیوں میں کیسے تلاش کی گئیں
20 جون 2023
لاپتہ ٹائٹن آبدوز کے کپتان سٹاکٹن رش جو فائٹر پائلٹ بننا چاہتے تھے
22 جون 2023
وہ جس 26 فٹ کی روسی آبدوز میں سوار تھے، اس کا لاپتہ تفریحی آبدوز سے موازنہ کرتے ہوئے ڈاکٹر گویلین نے کہا کہ ’ہماری آبدوز اتنی پرآسائش نہیں تھی۔ میں نے ٹائٹن کی تصاویر دیکھ رکھی ہیں۔ وہ تو ایک حویلی ہے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ جس آبدوز میں وہ سوار تھے اس میں دونوں طرف دو بینچ تھے اور بیچ میں پائلٹ بیٹھا تھا۔
انھوں نے اعتراف کیا کہ ان کو پانی سے ڈر لگتا ہے۔ ’میرے لیے یہ سب کرنا بہت مشکل تھا‘ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ٹائٹینک کے ملبے سے رپورٹنگ کے موقع کو وہ گنوانا نہیں چاہتے تھے۔
سمندر میں جانے سے پہلے ان کو بتایا گیا تھا کہ آبدوز میں سفر کیسا ہو گا۔
امریکی صحافی نے بتایا کہ ’ہمیں ایک سچی کہانی سنائی گئی کہ ایک آبدوز میں پھنس جانے والے ایک اور شخص پر کیا بیتی تھی۔‘
’اس کا پہلا ردعمل ہیچ کی جانب بڑھنا تھا کیونکہ جب آپ اس طرح پھنس جاتے ہیں تو آپ فوری طور پر پہلے ردعمل کے طور پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ہیچ کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہیں جو بالکل سر کے اوپر ہوتی ہے یہ سوچتے ہوئے کہ آپ فرار ہو سکتے ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
،تصویر کا کیپشن
’میرا دل ان پانچ لوگوں کے لیے ٹوٹا جا رہا ہے۔ میں جانتا ہوں ان پر کیا بیت رہی ہو گی‘
’اس شخص نے گھبراہٹ میں یہی کیا اور خود کو ڈبو لیا کیونکہ جیسے ہی اس نے ہیچ کھولی، پانی اندر آیا اور وہاں دباؤ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ یہ تیز دھار آلے کی طرح آپ کو کاٹ دیتا ہے۔‘
’مجھے اپنے سفر کے دوران کسی کی جانب سے ایسا ہی کرنے کی فکر تھی تو میں محتاط تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں گھبراہٹ میں کسی کے ایسا کرنے پر اس سے نمٹنے کے لیے تیار تھا۔‘
’اس کی وجہ سے مجھے اس صورت حال سے نمٹنے میں مدد ملی کیونکہ مجھے ایک مقصد مل گیا تھا، ایک وجہ مل گئی تھی کہ میں کسی اور چیز کے بارے میں نہ سوچوں۔‘
’اور پھر سائنس دان ہونے کے ناطے میں نے اپنے ذہن میں سوچنا شروع کر دیا کہ ہمارے پاس آکسیجن کتنی دیر تک دستیاب رہے گی اور ہم کیا کر سکتے ہیں۔‘
’میں نے سوچا کہ کہ ہم کیا کریں تو اس مشکل سے نکل سکتے ہیں لیکن ایک موقع آیا جب مجھے اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑا کہ باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔‘
’اور تب میرے ذہن میں یہ آواز گونجی کہ اس طرح تمہارا خاتمہ ہو گا اور یہ ایک ماورائی سکون حاصل کرنے جیسا تجربہ تھا۔‘
جب ان سے لاپتہ ہونے والی ٹائٹن آبدوز کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔
انھوں نے پرنم آنکھوں کے ساتھ جواب دیا کہ ’میرا دل ان پانچ لوگوں کے لیے ٹوٹا جا رہا ہے۔ میں جانتا ہوں ان پر کیا بیت رہی ہو گی۔ اسے بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں۔‘
’میں بس دعا کر رہا ہوں۔‘
متعلقہ عنوانات
سفری صنعت
سیاحت
سفر
امریکہ
صحافت
اسی بارے میں
ٹائٹن آبدوز کو ڈھونڈنے کے لیے جدید ترین سائنسی آلات استعمال کرنے والی ریسکیو ٹیموں کی تلاش کہاں تک پہنچی؟
22 جون 2023
ٹائٹن: پاکستانی نژاد سیاحوں سمیت لاپتہ آبدوز کی تلاش میں زیر آب ’آوازیں‘ سنائی دینے کے بعد روبوٹس کے استعمال کا فیصلہ
21 جون 2023
ٹائٹینک کو قریب سے دیکھنے کا نیا مشن: ’اس سفر نے مجھے مکمل کر دیا‘
9 اکتوبر 2022
اہم خبریں
یونان کشتی حادثے کے عینی شاہد: ’پاکستانی مسافروں کو تہہ خانے میں رکھا، وہ ہمیں اٹھنے، بولنے نہیں دیتے تھے‘
7 گھنٹے قبل
لاپتہ ٹائٹن کی تلاش کے دوران ٹائٹینک جہاز کے قریب سے ملبہ دریافت، ریسکیو آپریشن تاحال جاری
2 گھنٹے قبل
جامعہ حفصہ کی ڈنڈا بردار طالبات کا اسلام آباد میں احتجاج: دھمکیوں کے باوجود ریاست کارروائی کرنے سے کیوں ہچکچا رہی ہے؟
ایک گھنٹہ قبل
فیچر اور تجزیے
یونان کشتی
یونان کشتی حادثہ: ’جس دن میرے بیٹے کو کشتی پر بٹھایا گیا وہ آٹھ دنوں کا بھوکا تھا‘
22 جون 2023
منی پور
میانمار کی سرحد سے ملحقہ انڈین ریاست ’منی پور‘ خانہ جنگی کے دہانے تک کیسے پہنچی؟
22 جون 2023
ہراسانی
ہراسانی کے واقعات: ’آپ کے مرد دوست بھی فحش تصاویر بھیج کر آپ کو ہکا بکا کر دیتے ہیں‘
22 جون 2023
سٹاکٹن رش
لاپتہ ٹائٹن آبدوز کے کپتان سٹاکٹن رش جو فائٹر پائلٹ بننا چاہتے تھے
22 جون 2023
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
BBC News, اردو
جانیے کہ آپ بی بی سی پر کیوں اعتماد کر سکتے ہیں
استعمال کے ضوابط
بی بی سی کے بارے میں
پرائیویسی پالیسی
کوکیز
بی بی سی سے رابطہ کریں
Do not share or sell my info
© 2023 بی بی سی. بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں بیرونی لنکس کے بارے میں ہماری پالیسی.
Very funny Tom and Jerry 🤣🤣🤣🤣
22/06/2023
Is link ko join kro frnds or Ajao jeeto peisa myri garanti ky sath come on friends
Category
Telephone
Address
Mianwali
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Ayesha Khan khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.