Islamic Hadith Sahih Bukhari
YouTuber
Islamic Suhahi Bukhari page ki trf sy Sub Muslmano ko Eidul-udha Mubark ho
Regard. Suhahi Bukhari Page
سنن الترمذی
کتاب: حج کا بیان
باب: تلبیہ اور قربانی کی فضیلت
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَجَابِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي بَکْرٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي فُدَيْکٍ عَنْ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ وَقَدْ رَوَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ عَنْ أَبِيهِ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ وَرَوَی أَبُو نُعَيْمٍ الطَّحَّانُ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ابْنِ أَبِي فُدَيْکٍ عَنْ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بَکْرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْطَأَ فِيهِ ضِرَارٌ قَالَ أَبُو عِيسَی سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ مَنْ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ عَنْ أَبِيهِ فَقَدْ أَخْطَأَ قَالَ و سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ وَذَکَرْتُ لَهُ حَدِيثَ ضِرَارِ بْنِ صُرَدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي فُدَيْکٍ فَقَالَ هُوَ خَطَأٌ فَقُلْتُ قَدْ رَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ ابْنِ أَبِي فُدَيْکٍ أَيْضًا مِثْلَ رِوَايَتِهِ فَقَالَ لَا شَيْئَ إِنَّمَا رَوَوْهُ عَنْ ابْنِ أَبِي فُدَيْکٍ وَلَمْ يَذْکُرُوا فِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَرَأَيْتُهُ يُضَعِّفُ ضِرَارَ بْنَ صُرَدٍ وَالْعَجُّ هُوَ رَفْعُ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ وَالثَّجُّ هُوَ نَحْرُ الْبُدْنِ
ترجمہ:
سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو مسلمان بھی تلبیہ پکارتا ہے اس کے دائیں یا بائیں پائے جانے والے پتھر، درخت اور ڈھیلے سبھی تلبیہ پکارتے ہیں، یہاں تک کہ دونوں طرف کی زمین کے آخری سرے تک کی چیزیں سبھی تلبیہ پکارتی ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوبکر (رض) کی حدیث غریب ہے، ہم اسے ابن ابی فدیک ہی کے طریق سے جانتے ہیں، انہوں نے ضحاک بن عثمان سے روایت کی ہے، ٢- محمد بن منکدر نے عبدالرحمٰن بن یربوع سے اسے نہیں سنا ہے، البتہ محمد بن منکدر نے بسند «سعید بن عبدالرحمٰن بن یربوع عن أبیہ عبدالرحمٰن بن یربوع» اس حدیث کے علاوہ دوسری چیزیں روایت کی ہیں، ٣- ابونعیم طحان ضرار بن صرد نے یہ حدیث بطریق : «ابن أبي فديك عن الضحاک بن عثمان عن محمد بن المنکدر عن سعيد بن عبدالرحمٰن بن يربوع عن أبيه عن أبي بکر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے اور اس میں ضرار سے غلطی ہوئی ہے، ٤- احمد بن حنبل کہتے ہیں : جس نے اس حدیث میں یوں کہا : «عن محمد بن المنکدر عن ابن عبدالرحمٰن بن يربوع عن أبيه» اس نے غلطی کی ہے، ٥- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے ضرار بن صرد کی حدیث ذکر کی جسے انہوں نے ابن ابی فدیک سے روایت کی ہے تو انہوں نے کہا : یہ غلط ہے، میں نے کہا : اسے دوسرے لوگوں نے بھی انہیں کی طرح ابن ابی فدیک سے روایت کی ہے تو انہوں نے کہا : یہ کچھ نہیں ہے لوگوں نے اسے ابن ابی فدیک سے روایت کیا ہے اور اس میں سعید بن عبدالرحمٰن کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، میں نے بخاری کو دیکھا کہ وہ ضرار بن صرد کی تضعیف کر رہے تھے، ٦- اس باب میں ابن عمر اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٧- «عج» : تلبیہ میں آواز بلند کرنے کو اور «ثج»: اونٹنیاں نحر (ذبح) کرنے کو کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ١٥ (٢٩٢١) ، ( تحفة الأشراف : ٤٧٣٥) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (2550) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 828
سنن الترمذی
کتاب: حج کا بیان
باب: مکہ کا حرم ہونا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَی مَکَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْکَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَکَلَّمَ بِهِ أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ مَکَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِکَ فِيهَا دَمًا أَوْ يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقُولُوا لَهُ إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَأْذَنْ لَکَ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهِ سَاعَةً مِنْ النَّهَارِ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ کَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ وَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ مَا قَالَ لَکَ عَمْرٌو قَالَ أَنَا أَعْلَمُ مِنْکَ بِذَلِکَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ قَالَ أَبُو عِيسَی وَيُرْوَی وَلَا فَارًّا بِخِزْيَةٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي شُرَيْحٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيُّ اسْمُهُ خُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ الْعَدَوِيُّ وَهُوَ الْکَعْبِيُّ وَمَعْنَی قَوْلِهِ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ يَعْنِي الْجِنَايَةَ يَقُولُ مَنْ جَنَی جِنَايَةً أَوْ أَصَابَ دَمًا ثُمَّ لَجَأَ إِلَی الْحَرَمِ فَإِنَّهُ يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ
ترجمہ:
ابوشریح عدوی (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید ٢ ؎ سے - جب وہ مکہ کی طرف (عبداللہ بن زبیر سے قتال کے لیے) لشکر روانہ کر رہے تھے کہا : اے امیر ! مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ سے ایک ایسی بات بیان کروں جسے رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے دن فرمایا، میرے کانوں نے اسے سنا، میرے دل نے اسے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے آپ کو دیکھا، جب آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا : مکہ (میں جنگ و جدال کرنا) اللہ نے حرام کیا ہے۔ لوگوں نے حرام نہیں کیا ہے، لہٰذا کسی شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، یہ جائز نہیں کہ وہ اس میں خون بہائے، یا اس کا کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی اس میں رسول اللہ ﷺ کے قتال کو دلیل بنا کر (قتال کا) جواز نکالے تو اس سے کہو : اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو اس کی اجازت دی تھی، تمہیں نہیں دی ہے۔ تو مجھے بھی دن کے کچھ وقت کے لیے آج اجازت تھی، آج اس کی حرمت ویسے ہی لوٹ آئی ہے جیسے کل تھی۔ جو لوگ موجود ہیں وہ یہ بات ان لوگوں کو پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں ، ابوشریح سے پوچھا گیا : اس پر عمرو بن سعید نے آپ سے کیا کہا ؟ کہا : اس نے مجھ سے کہا : ابوشریح ! میں یہ بات آپ سے زیادہ اچھی طرح جانتا ہوں، حرم مکہ کسی نافرمان (یعنی باغی) کو پناہ نہیں دیتا اور نہ کسی کا خون کر کے بھاگنے والے کو اور نہ چوری کر کے بھاگنے والے کو۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوشریح (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابوشریح خزاعی کا نام خویلد بن عمرو ہے۔ اور یہی عدوی اور کعبی یہی ہیں، ٣- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- «ولا فارا بخربة» کی بجائے «ولا فارا بخزية» زائے منقوطہٰ اور یاء کے ساتھ بھی مروی ہے، ٥- اور «ولا فارا بخربة» میں «خربہ» کے معنی گناہ اور جرم کے ہیں یعنی جس نے کوئی جرم کیا یا خون کیا پھر حرم میں پناہ لی تو اس پر حد جاری کی جائے گی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٣٧ (١٠٤) ، وجزاء الصید ٨ (١٨٣٢) ، والمغازي ٥١ (٤٢٩٥) ، صحیح مسلم/الحج ٨٢ (١٣٥٤) ، سنن النسائی/الحج ١١١ (٢٨٧٩) ، ( تحفة الأشراف : ١٢٠٥٧) ، مسند احمد (٤/٣١) ، ویأتي عند المؤلف في الدیات (برقم : ١٤٠٦) ، و مسند احمد (٦/٣٨٥) من غیر ہذا الطریق (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے اس کی فرضیت ٥ ھ یا ٦ ھ میں ہوئی اور بعض نے ٩ ھ یا ١٠ ھ کہا ہے ، زادالمعاد میں ابن القیم کا رجحان اسی طرف ہے۔ ٢ ؎ : عمرو بن سعید : یزید کی طرف سے مدینہ کا گونر تھا اور یزید کی حکومت کا عبداللہ بن زبیر (رض) کی خلافت کے خلاف لشکر کشی کرنا اور وہ بھی مکہ مکرمہ پر قطعا غلط تھی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 809
سنن الترمذی
کتاب: جہاد کا بیان
باب: لڑائی سے پہلے اسلام کی دعوت دینا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ أَنَّ جَيْشًا مِنْ جُيُوشِ الْمُسْلِمِينَ کَانَ أَمِيرَهُمْ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ حَاصَرُوا قَصْرًا مِنْ قُصُورِ فَارِسَ فَقَالُوا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَلَا نَنْهَدُ إِلَيْهِمْ قَالَ دَعُونِي أَدْعُهُمْ کَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُمْ فَأَتَاهُمْ سَلْمَانُ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْکُمْ فَارِسِيٌّ تَرَوْنَ الْعَرَبَ يُطِيعُونَنِي فَإِنْ أَسْلَمْتُمْ فَلَکُمْ مِثْلُ الَّذِي لَنَا وَعَلَيْکُمْ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْنَا وَإِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا دِينَکُمْ تَرَکْنَاکُمْ عَلَيْهِ وَأَعْطُونَا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ قَالَ وَرَطَنَ إِلَيْهِمْ بِالْفَارِسِيَّةِ وَأَنْتُمْ غَيْرُ مَحْمُودِينَ وَإِنْ أَبَيْتُمْ نَابَذْنَاکُمْ عَلَی سَوَائٍ قَالُوا مَا نَحْنُ بِالَّذِي نُعْطِي الْجِزْيَةَ وَلَکِنَّا نُقَاتِلُکُمْ فَقَالُوا يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَلَا نَنْهَدُ إِلَيْهِمْ قَالَ لَا فَدَعَاهُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَی مِثْلِ هَذَا ثُمَّ قَالَ انْهَدُوا إِلَيْهِمْ قَالَ فَنَهَدْنَا إِلَيْهِمْ فَفَتَحْنَا ذَلِکَ الْقَصْرَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ بُرَيْدَةَ وَالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَحَدِيثُ سَلْمَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ و سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ لَمْ يُدْرِکْ سَلْمَانَ لِأَنَّهُ لَمْ يُدْرِکْ عَلِيًّا وَسَلْمَانُ مَاتَ قَبْلَ عَلِيٍّ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَی هَذَا وَرَأَوْا أَنْ يُدْعَوْا قَبْلَ الْقِتَالِ وَهُوَ قَوْلُ إِسْحَقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِنْ تُقُدِّمَ إِلَيْهِمْ فِي الدَّعْوَةِ فَحَسَنٌ يَکُونُ ذَلِکَ أَهْيَبَ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا دَعْوَةَ الْيَوْمَ و قَالَ أَحْمَدُ لَا أَعْرِفُ الْيَوْمَ أَحَدًا يُدْعَی و قَالَ الشَّافِعِيُّ لَا يُقَاتَلُ الْعَدُوُّ حَتَّی يُدْعَوْا إِلَّا أَنْ يَعْجَلُوا عَنْ ذَلِکَ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَقَدْ بَلَغَتْهُمْ الدَّعْوَةُ
ترجمہ:
ابوالبختری سعید بن فیروز سے روایت ہے کہ مسلمانوں کے ایک لشکر نے جس کے امیر سلمان فارسی تھے، فارس کے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا، لوگوں نے کہا : ابوعبداللہ ! کیا ہم ان پر حملہ نہ کردیں ؟ ، انہوں نے کہا : مجھے چھوڑ دو میں ان کافروں کو اسلام کی دعوت اسی طرح دوں جیسا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انہیں دعوت دیتے ہوئے سنا ہے ١ ؎، چناچہ سلمان فارسی (رض) ان کے پاس گئے، اور کافروں سے کہا : میں تمہاری ہی قوم فارس کا رہنے والا ایک آدمی ہوں، تم دیکھ رہے ہو عرب میری اطاعت کرتے ہیں، اگر تم اسلام قبول کرو گے تو تمہارے لیے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے لیے ہیں، اور تمہارے اوپر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو ہمارے اوپر ہیں، اور اگر تم اپنے دین ہی پر قائم رہنا چاہتے ہو تو ہم اسی پر تم کو چھوڑ دیں گے، اور تم ذلیل و خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کرو ٢ ؎، سلمان فارسی (رض) نے اس بات کو فارسی زبان میں بھی بیان کیا، اور یہ بھی کہا : تم قابل تعریف لوگ نہیں ہو، اور اگر تم نے انکار کیا تو ہم تم سے (حق پر) جنگ کریں گے، ان لوگوں نے جواب دیا : ہم وہ نہیں ہیں کہ جزیہ دیں، بلکہ تم سے جنگ کریں گے، مسلمانوں نے کہا : ابوعبداللہ ! کیا ہم ان پر حملہ نہ کردیں ؟ انہوں نے کہا : نہیں، پھر انہوں نے تین دن تک اسی طرح ان کو اسلام کی دعوت دی، پھر مسلمانوں سے کہا : ان پر حملہ کرو، ہم لوگوں نے ان پر حملہ کیا اور اس قلعہ کو فتح کرلیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - سلمان فارسی (رض) کی حدیث حسن ہے، ہم اس کو صرف عطاء بن سائب ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاری) کو کہتے ہوئے سنا : ابوالبختری نے سلمان کو نہیں پایا ہے، اس لیے کہ انہوں نے علی کو نہیں پایا ہے، اور سلمان کی وفات علی سے پہلے ہوئی ہے، ٢ - اس باب میں بریدہ، نعمان بن مقرن، ابن عمر اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کی یہی رائے ہے کہ قتال سے پہلے کافروں کو دعوت دی جائے گی، اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے کہ اگر ان کو پہلے اسلام کی دعوت دے دی جائے تو بہتر ہے، یہ ان کے لیے خوف کا باعث ہوگا، ٤ - بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس دور میں دعوت کی ضرورت نہیں ہے، امام احمد کہتے ہیں : میں اس زمانے میں کسی کو دعوت دئیے جانے کے لائق نہیں سمجھتا، ٥ - امام شافعی کہتے ہیں : دعوت سے پہلے دشمنوں سے جنگ نہ شروع کی جائے، ہاں اگر کفار خود جنگ میں پہل کر بیٹھیں تو اس صورت میں اگر دعوت نہ دی گئی تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اسلام کی دعوت ان تک پہنچ چکی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٤٤٩٠) (ضعیف) (سند میں ابوالبختری کا لقاء ” سلمان فارسی (رض) سے نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع ہے، نیز ” عطاء بن السائب “ اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے، لیکن قتال سے پہلے کفار کو مذکورہ تین باتوں کی پیشکش بریدہ (رض) کی حدیث سے ثابت ہے دیکھئے : الإرواء رقم ١٢٤٧ ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ان کافروں کو پہلے اسلام کی دعوت دی جائے اگر انہیں یہ منظور نہ ہو تو ان سے جزیہ دینے کو کہا جائے اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو پھر حملہ کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ ٢ ؎ : جزیہ ایک متعین رقم ہے جو سالانہ ایسے غیر مسلموں سے لی جاتی ہے جو کسی اسلامی مملکت میں رہائش پذیر ہوں ، اس کے بدلے میں ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری اسلامی مملکت کی ہوتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، الإرواء (5 / 87) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (1247) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1548
نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم، صحابۂ کرام علیہم الرضوان اور اولیائے عِظام رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم شعبانُ الْمُعَظَّم بالخصوص اس کی پندرھویں(15ویں) رات میں عبادات کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔
سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے معمولات اُمّ المؤمنین حضرت سیّدتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں:میں نے حُضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو شعبانُ الْمعظّم سے زیادہ کسی مہینے میں روزہ رکھتے نہ دیکھا۔(ترمذی،ج2،ص182، حدیث: 736) آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید فرماتی ہیں: ایک رات میں نے حضور نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو نہ پایا۔ میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تلاش میں نکلی تو آپ مجھے جنّتُ البقیع میں مل گئے۔نبیِّ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں(15ویں) رات آسمانِ دنیا پر تجلّی فرماتا ہے، پس قبیلۂ بنی کَلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے۔(ترمذی،ج2، ص183، حدیث: 739 ملتقطاً) معلوم ہوا کہ شبِ براءت میں عبادات کرنا، قبرستان جانا سنّت ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج2،ص290)
بزرگانِ دین کے معمولات بزرگانِ دین رحمہم اللہ المبین بھی یہ رات عبادتِ الٰہی میں بسر کیا کرتے تھے حضرت سیّدُنا خالد بن مَعدان، حضرت سیّدُنا لقمان بن عامر اور دیگر بزرگانِ دین رحمہم اللہ المبین شعبانُ المُعَظَّم کی پندرھویں(15ویں) رات اچّھا لباس پہنتے، خوشبو، سُرمہ لگاتے اور رات مسجد میں (جمع ہو کر) عبادت کیا کرتے تھے۔(ماذا فی شعبان، ص75) امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ العزیز بھی شبِ براءت میں عبادت میں مصروف رہا کرتے تھے۔(تفسیرروح البیان، پ25، الدخان،تحت الآیۃ:3،ج8،402)
اہلِ مکّہ کے معمولات تیسری صدی ہجری کے بزرگ ابو عبدالله محمد بن اسحاق فاکِہی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: جب شبِ براءت آتی تو اہلِ مکّہ کا آج تک یہ طریقۂ کار چلا آرہا ہےکہ مسجد ِحرام شریف میں آجاتےاور نَماز ادا کرتے ہیں، طواف کرتے اور ساری رات عبادت اور تلاوتِ قراٰن میں مشغول رہتےہیں، ان میں بعض لوگ 100 رکعت (نفل نماز) اس طرح ادا کرتے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد دس مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھتے۔ زم زم شریف پیتے، اس سے غسل کرتے اور اسے اپنے مریضوں کے لئے محفوظ کر لیتے اور اس رات میں ان اعمال کے ذریعے خوب برکتیں سمیٹتے ہیں۔(اخبار مکہ، جز: 3،ج2،84 ملخصاً)
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم
سنن الترمذی
کتاب: طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے
باب: کوئی نماز بغیر طہارت کے قبول نہیں ہوتی
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ ح و حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ قَالَ هَنَّادٌ فِي حَدِيثِهِ إِلَّا بِطُهُورٍ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا الْحَدِيثُ أَصَحُّ شَيْئٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ وَأَبُو الْمَلِيحِ بْنُ أُسَامَةَ اسْمُهُ عَامِرٌ وَيُقَالُ زَيْدُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الْهُذَلِيُّ
ترجمہ:
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نماز بغیر وضو کے قبول نہیں کی جاتی ٢ ؎ اور نہ صدقہ حرام مال سے قبول کیا جاتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں یہ حدیث سب سے صحیح اور حسن ہے ٣ ؎۔ ٢- اس باب میں ابوالملیح کے والد اسامہ، ابوہریرہ اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢ (٢٢٤) سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢ (٢٧٢) (تحفة الأشراف : ٧٤٥٧) مسند احمد (٢٠٢، ٣٩، ٥١، ٥٧، ٧٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : طہارت کا لفظ عام ہے وضو اور غسل دونوں کو شامل ہے ، یعنی نماز کے لیے حدث اکبر اور اصغر دونوں سے پاکی ضروری ہے ، نیز یہ بھی واضح ہے کہ دونوں حدثوں سے پاکی ( معنوی پاکی ) کے ساتھ ساتھ حسّی پاکی ( مکان ، بدن اور کپڑا کی پاکی ) بھی ضروری ہے ، نیز دیگر شرائط نماز بھی ، جیسے رو بقبلہ ہونا ، یہ نہیں کہ صرف حدث اصغر و اکبر سے پاکی کے بعد مذکورہ شرائط کے پورے کئے بغیر صلاۃ ہوجائے گی۔ ٢ ؎ : یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کی صحت کے لیے وضو شرط ہے خواہ نفل ہو یا فرض ، یا نماز جنازہ۔ ٣ ؎ : یہ حدیث اس باب میں سب سے صحیح اور حسن ہے اس عبارت سے حدیث کی صحت بتانا مقصود نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ اس باب میں یہ روایت سب سے بہتر ہے خواہ اس میں ضعف ہی کیوں نہ ہو ، یہ حدیث صحیح مسلم میں ہے اس باب میں سب سے صحیح حدیث ابوہریرہ (رض) کی ہے جو صحیحین میں ہے ( بخاری : الوضوء باب ٢ ، ( ١٣٥) و مسلم : الطہارۃ ٢ (٢٧٥) اور مولف کے یہاں بھی آرہی ہے ( رقم ٧٦) نیز یہ بھی واضح رہے کہ امام ترمذی کے اس قول اس باب میں فلاں فلاں سے بھی حدیث آئی ہے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس باب میں اس صحابی سے جن الفاظ کے ساتھ روایت ہے ٹھیک انہی الفاظ کے ساتھ ان صحابہ سے بھی روایت ہے ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس مضمون و معنی کی حدیث فی الجملہ ان صحابہ سے بھی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (272) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1
29/12/2023
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Moro