Rashid Ali
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Rashid Ali, Health/Beauty, Multan.
ہمارا اچھا ہونا، کسی کی پرواہ کرنا، رونا دھونا، چیخنا چلانا، دعائیں مانگنا، کسی کے پیچھے اپنی مصروفیت ترک کرنا”یقین کریں کوئی معنی نہیں رکھتا لوگ اپنے حساب سے چلتے ہیں۔۔۔🍀
ایک زوال پذیر معاشرے میں سب کچھ افسوسناک حد تک ایک مذاق بن کے رہ جاتاھے
سیاست،مذھب، ادب، ھنر، تعلیم ،رشتے اور معاملات
👈جس خاندان میں بھائیوں میں اتفاق اور ہمدردی ہو اس خاندان کی نسلیں بھی عروج تک پہنچ جاتی ہیں..💕🌿
پیٹرول آرام آرام سے سستا ہو رہا ہے اور بجلی آرام آرام سے مہنگی ہو رہی ہے اسے کہتے ہیں ریلیف کے نام پہ عوام کی تشریف لال کرنا
منقول 😁
تلخ حقیقت 💯
✍️چور اور چوکیدار مل جائیں تو گھر کا حشر ایسا ہی ہوتا ہے
جیسا آج مُلک کا ہو رہا ہے💯
گدی نشینوں کی عیاشی کے لیے مزاروں کے بکس میں پیسے ڈالنے کے بجائے اپنے مستحق عزیز و اقارب یا پڑوس کے غریبوں کی خاموش خدمت کریں۔
جب اللہ نے کسی چیز کو حرام قرار دیا ہو تو ساری مخلوق اسے حلال نہیں کرسکتی اور جب اللہ نے کسی چیز کو حلال کردیا ہو تو ساری مخلوق اسے حرام نہیں کرسکتی
منزلیں بھی اس کی تھی۔۔
راستہ بھی اس کا تھا ۔۔
اک میں اکیلا تھا ۔۔
قافلہ بھی اس کا تھا ۔۔
ساتھ ساتھ چلنے کی سوچ بھی اس کی تھی ۔۔
پھر راستہ بدلنے کا فیصلہ بھی اس کا تھا ۔۔
آج کیوں اکیلا ہوں دل سوال کرتا ہے ۔
لوگ تو اس کے تھے
کیا خدا بھی اس کا تھا ؟
سر کاری املاک کو قطعا " نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا ، لیکن سرکاری خزانہ باپ کا مال سمجھ کر لوٹ سکتے ہیں
دیرہ غازی خان کے ایک حالیہ قبائلی جھگڑے کے حوالے سے عرض کہ ۔اس خون ریزی کو روکنے کے لیے صرف
عمومی شعور کو ہی آواز دی جا سکتی ہے ۔
کسی بھی سردار ۔ چیف ، گودا ، بُھتار ، تھانیدار اور وݙیرے کا مسئلہ امن قائم کرنا نہیں ہوتا ۔اگر امن قائم ہو جائے لوگ باشعور اور ترقی حاصل کرنے لگیں تو چیفس کے ڈیرے اُجڑ جائیں گے ۔ یہ سرکش لوگ آپس میں لڑ لڑ کر کمزور اور برباد ہو جاتے ہیں تو وڈیرے کا اصل کردار شروع ہوتا ہے ۔
وݙیرے کو یہ بھی خبر ہوتی ہے کہ اگر رعایا ہی نہیں باقی ہوگی تو وہ وݙیرہ کس کا بنے گا ۔ لیکن وہ یہ بھی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ آزاد ، خوشحال اور باشعور ہونے کی صورت میں لوگوں کو کسی بھی چیف ، بُھتار ، سردار کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔
لہذا بُھتار یہ سب کچھ ہونے دیتا ہے ۔ اور انتظار کرتا ہے کہ رعایا تباہ برباد ہو کر اس کی پناہ مانگنے کے لیے آئے ۔ اور غیر مشروط غلام ہو کر رہے
اس طرح آپس میں لڑنے والوں کی کئی نسلیں خرچ ہو جاتی ہیں ۔ ذہنی سکون ۔ ساری خوشحالی ختم ہو جاتی ہے اور بُھتار کی کئی نسلیں بُھتاری کرتی رہتی ہیں ۔
عمومی شعور بھی تو آسانی سے نہیں جاگتا ۔ جنازے اُٹھتے رہتے ہیں ۔ عورتین ہیوہ ۔ بچے یتیم ۔ بہنیں بے آسرا ہوتی رہتی ہیں ۔ ماوں کی گود اُجڑتی رہتی ہے مگر خون آشام جھوٹی انا مزید سے مزید اور شدید تباہی کی طرف دھکیلتی رہتی ہے ۔ یہ قبائلی طرزِ زندگی کی تباہ کر دینے والی نمایاں خرابی ہے
کسی بھی چیف ، سردار ، گودے ، بُھتار کو غیر مشروط تابعداری صرف خوف زدہ لوگوں سے ہی مل سکتی ہے ۔
صرف بُھتار ہی کیوں حکومتیں اور ریاستیں بھی اپنی زیر قبضہ عوام کو اسی طرح زیر قبضہ رکھ پاتی ہیں
کہ انہیں خوف زدہ رکھیں ۔ اندرونی خوف ، بیرونی خوف یہ سب غیر مشروط غلامی پیدا کرتے ہیں ۔اور وہ سردار ہو ، وہ بُھتار ہو حکومت ہو یا ریاست انہیں ایسے ہی وفادار یعنی غیر مشروط غلام ہی درکار ہوتے ہیں
موجودہ دیرہ غازی خان کے قبائلی تصادم کے حوالے سے عرض ہے کہ عمومی شعور اپنا کردار ادا کرنے کے لیے جاگے ۔
سردار ۔ بُھتار کے آسرے پر نہ رہے ۔کیونکہ اگر گھوڑا گھاس سے پیار کرے گا تو پھر کھائے گا کیا ؟
دیرہ غازی خان یا کہیں کے بھی زندہ رہنے کے خواہش مند لوگو اگر باقی رہنا چاہتے ہو تو خوف پیدا کرنے والے تمام کاموں سے بچ جاؤ ورنہ پھر تمہیں خبر ہے کہ وقت کس طرح تمھارا نام و نشان تک کُھرچ کر مِٹا دے گا ۔
لوگوں کو غلام رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ
ان کی سوچ اور ضروریات کو روزی روٹی تک محدود رکھا جائے۔70 سالوں میں پاکستان میں ایسا ہی ہو رہا ہے😒
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan