Health is wealth
family health & kids
*>>>> * _*جسم کے حصے>>*_
پیٹ
بازو
کوہلے
پیٹ بیرونی
بالوں کاجوڑا
دماغ
ٹھوڑی
سینہ،چھاتی
کہنی
بھویں
بغل
ٹخنہ
چھاتیاں،پستان
کمر
پتا
داڑھی
پنڈلی
گال،رخسار
کان
آنکھ
پتلی
چہرہ
پاؤں
حلق
Heart دل
Intestine آنت
Joint جوڑ
Kidney گردہ
Lips ہونٹ
Liver جگر
Foremouth دہن
Moustache مونچھ
Nose ناک
Nail ناخن
Navel ناف
Palate تالو
Pore مسام
Stomach معدہ
Spleen تلی
Skin جلد
Thumb انگوٹھا
Throat گلا
Temple کنپٹی
Eyelash پلک
Finger tips انگلی کےپور
Finger انگلی
Forehead پیشانی
Hair بال
Heel ایڑی
Jaw جبڑا
Knee گھٹنا
Leg ٹانگ
Lung پھیپھڑا
Muscles پٹھے
Molar tooth داڑھ
Ni**le پستان کی چوچی
Neck گردن
Nostrills نتھنے
Nerves اعصاب
Plam ہتھیلی
Rump کولہا
Sole تلوہ
Skull کھوپڑی
Toe نوک
Thigh ران
اگر کرونا سے احتیاط نہ کی تو اگست تک کئی کروڑ پاکستانی مارے جائیں گے !! آخر کیسے ؟
پاکستان میں ابھی تک لوگ کرونا کو سیریس نہی لے رہے . اکثر لوگ احتیاطی تدابیر استعمال کرنے کی بجائے اسی بحث میں پڑے ہوے ہیں کہ مساجد کھلیں یا نہی اور کاروبار کب کھلیں گے . لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر لوگوں نے گھر سے نکلنا بند نہ کیا تو اگست تک کئی کروڑ پاکستانی مر سکتے ہیں . شاید ہی کوئی ایسا گھر بچے جس میں کوئی فوتگی نہ ہوئی ہو اور اکثر خاندانوں کا نام و نشان مٹ جائے گا . لیکن عوام کی ایک بڑی اکثریت اس کو سمجھ نہی رہی . زیادہ تر لوگوں کی رائے یہی ہے کہ فروری سے ہم پاکستان میں کرونا کی موجودگی کا سن رہے ہیں اور اب اپریل کا پہلا ہفتہ بھی گزر چکا ہے لیکں ابھی تک پورے ملک میں کرونا کے صرف تین ہزار مریض ہیں لہٰذا یہ کوئی خاص خطرناک چیز نہی ہے . حکومت ویسے ہی لوگوں کو ڈرا رہی ہے . عوام کی اس غلط فہمی کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ بشمول کئی ڈاکٹرز کے ابھی تک کرونا کے پھیلنے کے ماڈل کو نہی سمجھے . اسے سمجھنے کے لیے ہمیں ریاضی کے لاگ کے قانون کی مدد لینی پڑے گی . کیسے, آئیے دیکھتے ہیں .
آپ نے شطرنج بورڈ کی وہ کہانی تو سنی ہو گی جس میں شطرنج کے کھلاڑی نے بادشاہ سے کہا تھا کہ مجھے انعام دینا ہے تو میرے شطرنج بورڈ کے خانوں میں چاول کے دانے اس طرح رکھیں کہ ہر خانے میں چاول کے دانوں کی تعداد ڈبل ہوتی جائے . یعنی پہلے خانے میں ایک دانہ , دوسرے میں دو , تیسرے خانے میں چار دانے , چوتھے خانے میں آٹھ اور اسی طرح ہر خانے میں ڈبل کرتے جائیں . بادشاہ نے کہا یہ تو کوئی مسلہ ہی نہی ہے . لیکن جب حساب لگانے بیٹھے تو معلوم ہوا کہ اگر ساری دنیا کے چاول بھی اکٹھے کر لیے جائیں تو سارے خانے پر نہی ہوں گے . کرونا کے پھیلنے کا ماڈل بھی اسی طرح ہے . کیسے؟
اب تک کے ڈیٹے کے مطابق یہ وائرس ہر مریض سے آگے دو لوگوں کو لگتا ہے . دوسرے کرونا کا اوسط انکوبیشن پیریڈ سات دن یعنی ایک ہفتہ ہے . مطلب اگر کسی کو یہ وائرس لگ جائے تو یہ خاموشی سے جسم کے اندر اپنی افزائش کرتا رہتا ہے اور بیماری کی علامات ایک ہفتے بعد ظاہر ہوتی ہیں . ایک ہفتہ انکوبیشن پیریڈ کا مطلب یہ ہوا کہ اگر لوگوں نے گھر سے باہر جانا جاری رکھا تو ہر ہفتے کرونا کے مریضوں کی تعداد ڈبل ہوتی جائے گی .
پاکستان میں فروری کے دوسرے ہفتے میں کرونا کے پہلے مریضوں کا پتہ لگا تھا . فرض کریں اس وقت صرف ایک مریض تھا . اس حساب سے فروری کے تیسرے ہفتے میں دو مریض ہوں گے اور چوتھے ہفتے میں چار . آگے چلیں تو مارچ کے پہلے ہفتے میں آٹھ مریض , دوسرے میں سولہ , تیسرے میں بتیس , چوتھے میں چونسٹھ اور اپریل کے پہلے ہفتے میں صرف ایک سو اٹھائیس مریض بنتے ہیں . اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے بھول جائیں کہ حقیقت میں پاکستان میں اس وقت تین ہزار مریض ہیں اور فرض کریں کہ اس وقت صرف ایک سو اٹھائیس مریض ہیں اور اپنی گنتی جاری رکھیں تو اپریل کے دوسرے ہفتے میں 256 مریض , تیسرے میں 512 اور چوتھے میں 1024 مریض ہوں گے . بظاھر لگ رہا ہے کہ فروری سے لے کر اپریل کے آخر تک ڈھائی مہینے یا دس ہفتوں میں صرف ہزار مریض ہونا کوئی خاص خطرے والی بات نہی ہے . ریاضی کے لاگ ٹو کے قانون کے مطابق دو کی طاقت دس یعنی 10^2 سے بھی جواب 1024 ہی آتا ہے . مطلب اگر صرف ایک مریض سے شروع کریں اور ہر مریض سے آگے دو لوگوں کو وائرس لگے تو ڈھائی مہینے بعد بھی صرف 1024 مریض ہوں گے .
اب ریاضی کے اسی لاگ ٹو کے قانون سے حساب آگے بڑھائیں تو دس ہفتے میں ایک ہزار مریض , پندرہ ہفتوں میں میں بتیس ہزار مریض , بیس ہفتوں میں ایک ملین , پچیس ہفتوں میں چونتیس ملین اور اٹھائیس ہفتوں میں دو سو ساٹھ ملین یا چھبیس کروڑ مریض بنتے ہے . پاکستان کی ٹوٹل آبادی بائیس کروڑ ہے . اگر فروری میں صرف ایک مریض ہو تو اٹھائیس ہفتے یا سات ماہ بعد پاکستان کا ہر فرد کرونا کا مریض ہو گا . یاد رکھیں ان سات ماہ میں ویکسین کے آنے کا کوئی چانس نہی ہے اور اگر آ بھی گئی تو پہلے امریکہ اور یورپ کو پوری کی جائے گی , پاکستان کی باری اگلے سال تک بھی شاید ہی آئے .
لاگ ٹو کا حساب مشکل نہی ہے لیکن شطرنج والی مثال میں بادشاہ کو بھی فوراً سمجھ نہی آئی تھی لہٰذا اوپر والے پیراگراف کو دوبارہ پڑھیں اور کیلکولیٹر لے کر چیک کریں کہ نمبر ٹھیک ہیں یا نہی . جو لوگ حیران ہو رہے تھے کہ یہ یکدم اٹلی , جرمنی , فرانس , انگلینڈ اور امریکہ میں کیا ہو گیا کہ کرونا سے اتنی اموات شروع ہو گئیں , انہیں اب ریاضی کی مدد سے اس کا جواب سمجھ آ جانا چاہیے . ان ملکوں نے لاک ڈاؤن کرنے میں دیر کر دی تھی . اگر پاکستانیوں نے بھی گھر سے نکلنا بند نہ کیا تو کوئی وجہ نہی ہے کہ دو مہینے بعد پاکستان میں بھی ہر جگہ لاشیں نظر نا آ رہی ہوں .
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گرمی آنے سے وائرس مر جائے گا . لیکن اس کی کوئی سائنسی دلیل نہی ہے . کرونا وائرس 57 ڈگری پر جا کر مرتا ہے . پاکستان میں اتنا ٹمپریچر نہی ہوتا . اگر بالفرض کرونا کم درجہ حرارت پر بھی مرتا ہو تو چلو باہر گلی میں دھوپ پڑے گی تو وائرس مر جائے گا لیکن انسان تو عمارتوں کے اندر ہی رہیں گے , ان کے جسم کا درجہ حرارت تو 37 ڈگری ہی رہے گا . اس پر تو وائرس نہی مرتا . ہاں اگر انسان کے جسم کا درجہ حرارت 42 ڈگری ہو جائے تو انسان خود مر جاتا ہے . مطلب گرمیوں میں باہر جو مرضی درجہ حرارت ہو انسان تو عمارتوں کے اندر ہی رہیں گے اور وائرس ان کے جسم کے اندر پلتا ہے . عمارتوں میں موجود انسان گرمیوں میں بھی ایک دوسرے کو وائرس پھیلاتے رہیں گے .
اب اگلا سوال یہ ہو گا کہ اگر سارے پاکستان کو بھی وائرس لگ جائے تو بھی صرف پانچ فیصد لوگ مریں گے . اس کے جواب کے لیے آپ کو 1920 میں پھیلنے والے سپینش فلو کو دیکھنا پڑے گا جس میں پانچ کروڑ سے زیادہ لوگ مرے تھے . تحقیقات کے مطابق صرف فلو سے زیادہ لوگ نہی مرے تھے بلکہ بہت زیادہ لوگوں کے بیمار ہونے اور ادویات کی کمی کی وجہ سے بہت ساری دوسری بیماریاں پیدا ہو گئی تھیں جسے میڈیکل کی زبان میں سیکنڈری انفیکشن کہا جاتا ہے . سپینش فلو میں زیادہ تر اموات بہت زیادہ مریضوں کے ہونے , صفائی کی کمی اور سیکنڈری انفیکشن سے ہوئیں . اگر خدانخواستہ پاکستان میں بھی کئی کروڑ لوگ بیمار ہو جاتے ہیں تو نہ تو ملک کے ہسپتالوں میں اتنی جگہ ہے اور نہ ہی ملک میں اتنی دوائیاں ہیں . زیادہ تر ادوویات باہر سے آتی ہیں اور جو ملک میں بنتی ہیں ان کے کیمیکل بھی زیادہ تر باہر سے ہی آتے ہیں . ایسے حالات میں کوئی ملک کسی کو ادویات یا ان کے کیمیکل نہی دیتا . ابھی کل ہی جرمنی نے الزام لگایا ہے کہ امریکا نے ان کے دو لاکھ فیس ماسک چوری کر لیے ہیں . یہ ماسک جرمنی نے اپنی پولیس کے لیے خریدے تھے لیکن امریکی حکومت نے جہاز کو آدھے راستے سے واپس بلا لیا کہ ان ماسک کی امریکا کے اندر زیادہ ضرورت ہے . جب دو قریبی ملکوں کا یہ حال ہے تو سوچیں پاکستان کو کون پوچھے گا . ایسے حالات میں اگر چند کروڑ لوگ بھی کرونا میں مبتلا ہو گئے تو نہ تو انہیں کوئی ہسپتال ملے گا نہ دوائی . لوگ سڑکوں پر تڑپ کر جان دیں گے . اس سے مزید بیماریاں اور انارکی پھیلے گی اور امن و امان کی صورتحال بھی مخدوش ہو جائے گی جس سے مزید ہلاکتیں ہوں گی . کرونا کو ڈینگی کی طرح نہ سمجھیں جو مچھروں سے پھیلتا تھا . مچھروں کو مار دیا گیا اور ڈینگی کنٹرول ہو گیا . کرونا انسانوں سے پھیلتا ہے اور انسانوں کو مارا نہی جا سکتا . لہٰذا وقت اور حالات کی نزاکت کو سمجھیں . ہر طرف سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے پاس کرونا کو روکنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے کہ گھروں سے باہر نہ نکلیں . اسے نہ تو اپنی جہالت کی بھینٹ چڑھائیں اور نہ ہی انا اور سیاست کا مسلہ بنائیں . بلکہ خاموشی سے گھروں میں رہیں . الله ہم سب کو اور ہمارے پیاروں کو اپنے حفظ امان میں رکھے .
*موبائل فون کا زیادہ استعمال*
*•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
*•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
آجکل جسے دیکھو اس کے ہاتھ میں موبائل فون ہے اور وہ اس کی دنیا میں گُم ہے۔ ایسالگتاہے موبائل فون ہمارے جسم کا ایک حصہ ہے اور ہماری عادتوں میں شامل ہے، بہت سے لوگوں کیلئے یہ کسی علت سے کم نہیں۔ سوتے، جاگتے، کھاتے، پیتے، اٹھتے، بیٹھتے، یہاں تک کہ واش روم میں بھی موبائل فون کا استعمال اس قد رعام ہے کہ ایسا لگتاہے جیسے آپ موبائل فون استعمال نہیں کررہے بلکہ موبائل فون آپ کو استعمال کررہاہے۔ لیکن کیا کبھی سوچا کہ آپ کی نظریں جس اسکرین پر جمی رہتی ہیں ، اس نیلی روشنی کے کیا نقصانات ہیں ؟
*جِلد پر مضر اثرات*
اگرچہ سائنسدان موبائل فون کے استعمال سے ہونے والے نقصانات پر زیادہ اتفاق نہیں کرتے، تاہم تحقیق یہ کہتی ہےکہ طویل عرصے تک موبائل فون کا زیادہ استعمال صحت کیلئے مضر ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ کیلیفورنیا کے شعبہ صحت عامہ نے موبائل فون سے خارج ہونے والی ریڈیو فریکوئنسی انرجی سے بچنے کا ہدایت نامہ بھی جاری کر رکھا ہے۔
فون سے نکلنے والی روشنی نہ صرف آپ کی آنکھوں کیلئے بلکہ آپ کی جِلد کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔ اپنی سوشل میڈیا کی خبروں اور فیڈز کو اسکرول ڈائون کرتے ہوئے آپ کا وقت تو گزر جاتاہے لیکن اس سے ہونےوالے نقصانات کے بارے میں بھی آ پ کو فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔
اس کو یوںسمجھیں کہ جب آپ دھوپ میں باہر نکلتے ہیں تو چہرے پر سن اسکرین کی دو دو تہیں چڑھالیتے ہیں لیکن موبائل کی شعاعیں آپ خود گھر کے اندر لے آتے ہیں۔ موبائل فون سے نکلنے والی نیلی شعاعوں کی ویو لینتھ چھوٹی ہوتی ہے ، بالکل ایسے ہی جیسے سورج کی شعاعوں کی ہوتی ہے۔ ریسرچ یہ کہتی ہے کہ جب یہ آپ کی آنکھوں یا جِلد پر پڑتی ہے تو یہ آپ کی جِلد کو تیزی سے ڈھالنے کا باعث بن سکتی ہے۔
ریسرچ سے یہ بھی پتہ چلا کہ نیلی روشنی کے سامنے بہت دیر تک رہنے سے جِلد پر ایسی پگمنٹیشن اور ریڈنیس ہو سکتی ہے جو الٹراوائلٹ شعاعوںسے ہو تی ہے۔ ریسرچ مزید یہ کہتی ہے کہ دکھائی دینے والی یہ روشنی جِلد کی مخصوص خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کریہ کہ نیلی روشنی میں سرائیت کرنے کی خصوصیت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ڈی این اے کی خرابی بھی سامنے آسکتی ہے۔ اس سے جِلد میں کولاجن ، ایلاسٹن (جِلد یا اعضا کی لچک پذیری ) میں خرابی اور ہائپر پگمنٹیشن میں زیادہ ہو سکتی ہے۔
موبائل فون کے اثرات سے بالغ افراد اور بچے اسی وقت محفوظ رہ سکتے ہیں اگر وہ اسے خود سے دور رکھیں ، خاص طور پر رات کو سوتے وقت آپ کا موبائل بستر کے پاس نہ ہو اورنہ ہی اسے جیب میں رکھ کر سوئیں۔
*بھینگے پن کے خطرات*
نیلی روشنی سے قطع نظر، موبائل سے دیگر نقصانات ہو سکتے ہیں۔ کیلیفورنیا کے شعبہ صحت عامہ کے مطابق موبائل فون جب سیلولر ٹاور سے سگنل موصول کرتاہے یا موبائل سگنل بھیجتاہے تو اس سے ریڈیو فریکوئنسی انرجی خارج ہوتی ہے، جوکہ انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔
موبائل فون کا استعمال یوں تو ہرعمر کے فرد کیلئے نقصان دہ ہوسکتا ہے مگر بچوں پر اس کے انتہائی مضراثرات ہوسکتے ہیں۔ جنوبی کورین ماہرین اور ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جو بچے زیادہ دیر تک موبائل فون استعمال کرتے ہیں یا اسے اپنی آنکھوں کے بہت نزدیک رکھتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں بھینگا پن آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں کورین ’’کے کونم نیشنل یونیورسٹی اسپتال ‘‘کی ٹیم نے 7سے 16برس کے 12لڑکوں پر تحقیق کی، جنہیں روزانہ چار سے آٹھ گھنٹے موبائل فون کو اپنی آنکھوں سے آٹھ سے بارہ انچ کے فاصلے پر رکھ کر استعمال کرنا تھا۔ دو ماہ بعد ان میں سے نو لڑکوں میں بھینگے پن کی ابتدائی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئیں۔ ماہرین کے مطابق اسکرین پر نظر رکھنے سے بچوں کی آنکھیں اند رکی طرف مڑنے لگتی ہیں اور وہ بھینگے پن کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ بعد میں ان بچوں سے موبائل فون کی عادت ختم کروائی گئی تو ان کے بھینگے پن کی علامات بھی ختم ہوگئیں۔
*اعتدال اور احتیاط*
جیسے ہر چیز میں اعتدال ضروری ہے، اسی طرح موبائل فون کے استعمال میں بھی احتیاط ضروری ہے، بالکل ایسے ہی جیسے کھانے پینے یا ڈائٹنگ میں کی جاتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پروسیسڈ کھانے یا میٹھے مشروبات سے پرہیز ضروری ہے ، تاہم ویک اینڈ پر پیزاا ور برگر کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اسی طرح مختصر وقت کے لیے انسٹا گرام اسکرول کرنے یا ویڈیو گیمز کھیلنے میں کوئی قباحت نہیں ۔ اس ضمن میں چند احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو آئندہ زندگی میں پریشانی کے مواقع انتہائی کم ہو سکتے ہیں۔
٭ماہرین کے مطابق آپ کو مسلسل تیس منٹ سے زیادہ موبائل فون پر نہیں دیکھنا چاہئے۔
٭فون کو اپنے جسم سے دور رکھیں۔
٭ جب سگنل کمزور ہوں تو موبائل فون استعمال نہ کریں، مجبوری ہو تو کم سے کم استعمال کریں ۔
٭ رات سوتے وقت فون کو اپنےبستر کے قریب نہ رکھیں ۔
٭ موبائل فون پر ویڈیو یا آڈیو اسٹریمنگ کم سے کم کریں یا بڑی بڑی فائلیں ڈائون لوڈ یا اَپ لوڈ نہ کریں۔
٭ دائیں کان کے بجائے بائیں کان پر موبائل فون استعمال کریں۔
٭ بچے فون کو آنکھوں کے بالکل نزدیک یا لیٹ کر استعمال نہ کریں۔
٭ فون کی برائٹنیس (روشنی) کم رکھیں۔
*الٹی دور کرنے میں مفید7زبردست ٹوٹکے*
*•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
*•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
الٹی یا قے معدے کی خرابی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کھانے پینے میں کوئی ایسی چیز چلی گئی ہو جو کہ معدے نے قبول نہ کی ہو ۔ ہم جو بھی چیز کھاتے ہیں وہ منہ کے ذریعے ہی جسم میں داخل ہوتی ہے اس لیے منہ کو اگر جسم کا دروازہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ غذا حلق کے ذریعے غذا کی نالی سے ہوتی ہوئی معدے میں داخل وہتی ہے ۔ اگر کھانے میں کوئی ایسی چیز ہو جسم کے لیے نقصان دہ ہو یا کھانا معدے کی ضرورت یا ہضم کرنے کی صلاحیت سے زیادہ ہو معدہ دماغ کو پیغام دیتا ہے جس کی وجہ سے دماغ جسم میں متلی کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔
الٹی آنے پر انسان کا دل گھبرانے لگتا ہے اور بے چینی کی سی کیفیت محسوس ہوتی ہے لیکن اس کا ہو جانا معدے کے لیے بہتر ہے کیونکہ اس سے نقصان دہ غذا جسم سے نکل جاتی ہے ۔ اگر الٹیاں زیادہ آجائیں اور رکنے کا نام نہ لیں تو فوری کسی معالج کے پاس جانا چاہیے البتہ اگر ایک دو الٹی آکر ہلکا پھلکا محسوس ہونے لگے اس کا مطلب معدہ صاف ہوگیا ہے ۔الٹی کے بعد جسم میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے اور بعض اوقات جی بھی متلانے لگتا ہے۔ الٹی سے پہلے یا الٹی آنے کے وقت ہونے والی اضطرابی کیفیت پر قابو پانے کے لیے مندرجہ ذیل ٹوٹکے کارآمد ثابت ہوتے ہیں:
*1۔ زیادہ پانی پئیں*
اگر الٹی زیادہ ہو جائے تو جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے ۔ اس سے بچنے کے لیے فوری زیادہ سا پانی پینا ضروری ہوتا ہے ۔ ایسا کرنے سے جسم میں سیال کا لیول درست رہے گا اور طبیعت بھی جلدی معمول پر آجائے گی ۔اسکے علاوہ الٹی کے بعد اگر کچھ نقصان دہ مواد جسم میں رہ بھی گیا ہوگا وہ بھی صاف ہو جائے گا ۔
*2۔ادرک کا استعمال*
ادرک معدے کی تیزابیت اور اور جلن کو دور کرتا ہے ۔ یہ متلی کی کیفیت کو روکنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ ادرک کا ایک چھوٹا ٹکڑا لے کر پیس لیں اور ایک گلاس پانی میں ملا لیں ۔ کچھ دیر نرم ہونے کے لیے چھوڑ دیں اور پھر پی لیں ۔
*3۔ پودینہ چبالیں*
تھوڑے سے پودینے کے پتے دھو کر چبانے سے الٹی کی تکلیف میں کافی حد تک آرام آجاتا ہے ۔ پودینے سے آنتوں کی جلن دور ہو جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس سے پیٹ میں موجود نقصان دہ جراثیم بھی مر جاتے ہیں ۔ اگر الٹی ان جراثیموں اور بیکٹیریاز کی وجہ سے ہو ئی ہوگی تو فوراً رک جائے گی ورنہ اس کی وجہ سے ہونے والی بے چینی اور جلن سے ضرور راحت مل جائے گی ۔
*4۔ لونگ کا پانی*
لونگ کی خوشبو ذہن کو سکون پہنچاتی ہے ۔ ڈائریا، بدہضمی ، متلی اور الٹی وغیرہ کی تکالیف میں لونگ بے حد مفید ہے ۔ اس جڑی بوٹی میں اینٹی بیکٹیریل خصوصیات بھی موجود ہیں ۔ ایک چھوٹا چمچ لونگ کا پاوڈر یا تین چار لونگیں ایک کپ پانی میں ابال لیں ۔ اسے دس منٹ تک ہلکی آنچ پر پکائیں ۔ ا س پانی کو چھان کر رکھ لیں اور جب بھی الٹی محسوس ہو اسے پی لیں ۔ الٹی ہونے کے بعد بھی اس پانی کو پیا جاسکتا ہے ۔
*5۔ چینی اور نمک*
زیادہ الٹیاں ہونے سے کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے ۔ اس سے جسم سے ضروری غذائی اجز ابھی خارج ہو جاتے ہیں اور جسم میں سیال کا توازن بگڑ جاتا ہے ۔ اس کمی کو دور کرنے کا آسان ٹوٹکا ہے چینی اور نمک کا مکسچر۔ ایک گلاس پانی میں ایک چٹکی نمک اور بڑا چمچ چینی شامل کر لیں ۔ اس پانی کو پینے سے جسم میں سیال کا توازن ٹھیک ہو جائے گا اور الٹی بھی رک جائے گی۔
*6۔ سیب کا سرکہ*
الٹی کو روکنے کے لیے اس کی وجہ بننے والے آنتوں میں موجود بیکٹیریا کو ختم کرنا ضروری ہے ۔ اس کے لیے سیب کا سرکہ بے حد مفید ہے ۔ اس میں اینٹی مائیکر وبیئل خصوصیات ہوتی ہیں جو جسم سے نقصان پہنچانے والے جراثیم کو مار بھگا تی ہیں ۔ الٹی لگنے پر ایک چھوٹا چمچ سیب کا سرکہ ایک کپ پانی میں شامل کر کہ پی لیں ۔ اسے آپ دن میں دو تین بار بھی ا ستعمال کر سکتے ہیں ۔
*7۔ پیاز کا عرق*
پیاز کے عرق کو الٹی کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ ایک چھوٹا چمچ پیاز کا عرق لیں اور پی لیں ۔ اس کے علاوہ پیاز کے عرق کو ادرک کے رس کے ساتھ ملا کر بھی پیا جاسکتا ہے
الٹی کی حالت میں ان ٹوٹکوں کو آزمانے کے ساتھ ساتھ بھاری غذا کھانے سے بھی گریز کریں ۔ ٹھنڈا پانی اور تازہ پھل کا جوس پئیں ۔ دودھ یا دودھ سے بنی ہو ئی چیزیں نہ کھائیں ۔ اس کے علاہ تیل سے بنی ہوئی اشیا اور جنک فوڈ وغیرہ سے بھی پرہیز بہتر ہے ۔ الٹی محسوس ہونے پر چائے یا کافی غیرہ نہ پئیں چونکہ کیفین الٹی کی کیفیت کو مزیدبڑھا سکتی ہے ۔
09/03/2020
*بالوں کی خشکی اور خارش سے نجات دلانے میں مددگار ٹوٹکے*
*•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
*•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
سر میں خشکی بہت عام ہوتی ہے جس کا نتیجہ تکلیف دہ خارش کی شکل میں نکلتا ہے اور یہ مسئلہ صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ مرد حضرات کو بھی اس کا سامنا ہوتا ہے اور اس سے بچنے کے لیے نت نئے شیمپوز کا استعمال کرتے ہیں۔
عام طور پر اس کی وجہ بالوں کی صفائی کا زیادہ خیال نہ رکھنا یا جلدی مسائل ہوتے ہیں تاہم گھر سے باہر لوگوں کی موجودگی میں یہ خارش شرمندگی کا باعث بھی بن سکتی ہے خاص طور پر خشکی اور جوئیں باہر نکلنا تو شرم سے پانی پانی بھی کرسکتا ہے۔
اس تکلیف سے نجات کے چند سادہ مگر دلچسپ ٹوٹکے بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں جو پیش خدمت ہیں۔
*سیب کا سرکہ*
سیب کا سرکہ سر کی خشکی کا بہترین حل ہے کیونکہ اس میں پائی جانے والی تیزابیت سر میں ایسی تبدیلیاں لاتی ہیں کہ وہاں خشکی کے پیدا ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک چوتھائی کپ اس سرکے کو چوتھائی کپ پانی سے بھری اسپرے بوتل میں شامل کریں اور اپنے سر پر چھڑکاﺅ کریں۔ اپنے سر پر تولیہ لپیٹ لیں اور پندرہ منٹ سے ایک گھنٹے تک آرام سے بیٹھ جائیں جس کے بعد سر کو معمول کے مطابق دھولیں۔ یہ عمل ہفتہ بھر میں دو بار کرنا خشکی کو ہمیشہ کے لیے بھگا دے گا۔
*ایلو ویرا جیل*
خشک جلد سر میں خارش کی بڑی وجہ ہوتی ہے اور ایلو ویرا قدرتی موئسچرائزر سمجھا جاتا ہے جبکہ اس میں جراثیم کش اور سکون پہنچانے والی خصوصیات بھی موجود ہیں۔ اس جیل کو سر پر لگائیں اور 20 منٹ بعد سر کو گرم پانی سے دھولیں۔
*ٹی ٹری آئل*
ٹی ٹری آئل ورم کش اور جراثیم کش ہوتا ہے جو کہ بالوں میں خشکی اور خارش کی شکایت پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ تیل مختلف وائرسز اور فنگل سے بھی لڑتا ہے جو کہ خشکی اور سر میں خارش کا باعث بنتے ہیں، ٹی ٹری آئل کے چند قطرے اپنے پسندیدہ شیمپو میں ملائیں اور اس عمل کو اس وقت تک دہراتے رہے جب تک خشکی اور خارش ختم نہیں ہوجاتی۔
*ناریل کا تیل*
ناریل کا تیل خشکی کا آزمودہ اور موثر علاج ثابت ہوتا ہے جبکہ اس کی مہک بھی مزاج پر ناگوار بھی گزرتی۔ نہانے سے پہلے تین سے پانچ چائے کے چمچ ناریل کے تیل سے سر کی مالش کریں اور ایک گھنٹے تک لگا رہنے دیں۔ اس کے بعد سر کو شیمپو سے دھولیں، اس کے علاوہ آپ ایسا شیمپو استعمال کرکے بھی اس کی افادیت کو دوگنا بڑھا سکتے ہیں جس میں ناریل کے تیل کا استعمال بھی ہوتا ہو۔
*شہد*
خام شہد بھی ایک ایسا قدرتی ذریعہ ہے جو اس مسئلے سے نجات دلاتا ہے، اسے استعمال کرنے کے لیے 9 حصے شہد اور 1 حصہ گرم پانی کا مکس کریں، اس کے بعد بالوں کو دھوئیں اور پھر اس مکسچر سے اس پر دو سے تین منٹ مالش کریں۔ اس کے بعد سر پر تولیہ لپیٹ لیں اور 3 گھنٹے تک انتظار کریں، پھر پانی سے سر دھولیں۔
*زیتون کا تیل*
رات کو زیتون کے تیل کی مالش کرکے سو جانا خشکی کا صدیوں پرانا ٹوٹکا ہے، زیتون کے تیل کے دس قطروں کو سر پر ٹپکا کر اس کی مالش کریں اور سر کو کسی ٹوپی یا تولیے میں چھپا کر سوجائیں۔ صبح اٹھ کر سر کو دھولیں کچھ دنوں میں خشکی آپ سے دور بھاگ جائے گی، تاہم فوری اثر چاہتے ہیں تو ایسے شیمپو کو ترجیح دیں جس میں زیتون کے تیل بھی شامل ہو۔
*مالش*
اپنے بالوں میں گول دائرے میں نرمی سے مالش اور برش کرنا عادت بنائیں، اس سے دوران خون کی رفتار بڑھتی ہے جس سے جلد کے خشک خلیات نکل جاتے ہیں جبکہ بالوں کی جڑیں متحرک ہوتی ہیں۔
*لیموں*
خشکی سے نجات پانے کے لیے دو چائے کے چمچ لیموں کے عرق یا جوس کی مالش اپنے سر پر کریں اور پانی سے دھولیں۔ اس کے بعد ایک چائے کا چمچ لیموں کا جوس ایک کپ پانی میں ملائیں اور اپنے سر کو اس سے بھگولیں۔ اس طریقہ کار کو روزانہ اس وقت استعمال کریں جب تک خشکی کا خاتمہ نہ ہوجائے۔ لیموں میں موجود تیزابیت آپ کے سر پر ہائیڈروجن کی سطح کو متوازن رکھتی ہے جس کے نتیجے میں خشکی کو دور بھاگنا پڑتا ہے۔
*جسمانی سرگرمیاں*
جسمانی ورزش یا کھیل سے دوران خون بہتر ہوتا ہے جس کا مطلب ہے یہ ہے کہ جسم کو متعدد اہم عناصر جیسے آکسیجن وغیرہ ملتے ہیں، دوران خون بہتر ہونے سے ورم کم ہوتا ہے جو کہ سر میں خارش کا باعث بنتا ہے۔
*اسپرین*
اسپرین ایسے اجزائ (سیلی کائی لیک ایسڈ) سے بھرپور دوا ہے جو بیشتر خشکی سے نجات دلانے والے شیمپوز کا حصہ ہوتے ہیں۔ اسپرین کی 2 گولیوں کو پیس کر سفوف کی شکل دیں اور سر پر لگانے کے لیے جتنا شیمپو لیتے ہیں اس میں شامل کرلیں، اس مکسچر کو اپنے بالوں پر ایک سے دو منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر اچھی طرح دھولیں، اس کے بعد پھر سادہ شیمپو سے سر کو دھوئیں آپ اس کا اثر دیکھ حیران رہ جائیں گے۔
۔
05/03/2020
*نفسیاتی بیماریاں اور علاج*
*•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
*•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•*
ذہنی بیماریاں آج کل کے دور میں عام ہوتی جارہی ہیں۔ ذہنی بیماریوں میں ڈپریشن، شیزوفینا، سٹریس ، ذہنی و جسمانی تھکاوٹ، بہت زیادہ سوچنا، انسومنیا، پینک اٹیک، بے وجہ اداسی، انزائٹی، بیجا خوف، نیند بالکل نہ آنا، بہت زیادہ نیند آنا، باتیں بھولنا، طرح طرح کے فوبیاز، گھبراہٹ وغیرہ شامل ہیں۔ اس تیز دور میں تقریبا ہر 20 میں سے 3 لوگ ذہنی و نفسیاتی بیماری کا شکار ہیں اور ہر عمر کے لوگ اس بیماری کا شکار ہو رہے ہیں۔ بچے بھی ان سے محفوظ نہیں۔ زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔
روزانہ کی سرگرمیوں میں دلچسپی ،افسوس یا خوشی کے احساسات سے ہم سب واقف ہیں لیکن اگر وہ ہماری زندگی کو مسلسل طور پر برقرار اور اثر انداز کرتے ہیں تو یہ شاید ڈپریشن ہو یا کوئی اور ذہنی بیماری۔نفسیاتی بیماریاں بہت پیچیدہ ہوتی ہیں۔ کوئی بھی نہیں جانتا کہ ان کی کیا وجہ ہے لیکن یہ مختلف وجوہات کی بناء پر ہوسکتی ہیں۔ کچھ لوگ ایک سنگین طبی بیماری کے دوران ڈپریشن کا تجربہ کرتے ہیں۔ دوسروں کو زندگی کی تبدیلیوں کے ساتھ ڈپریشن یا کوئی نفسیاتی عارضہ لاحق ہوسکتا ہے۔
*وجوہات:*
ذہنی بیماریاں مختلف وجوہات کی بنا پر پھیل رہی ہیں۔ جیسے کہ بہت زیادہ سوچنا، زیادہ حساس ہونا، بلاوجہ کی روک ٹوک، موبائل کا حد سے زیادہ استعمال، کمپیوٹر یا ٹیلی ویژن کا زیادہ استعمال، ناقص غذا ، تنہا رہنا، شورزدہ ماحول میں رہنا، لوگوں کا رویہ، خود سے لاپرواہ رہنا وغیرہ شامل ہیں۔ غیر معمولی بلندی سے کوئی حادثہ، نیند کی کمی، ڈرا دینے والے خیالات ، خطرناک فیصلے جو خطرے سے متعلق رویے کا سبب بن سکتے ہیں، غیر مناسب سماجی رویے ،موڈ کی خرابی خاندانی رویوں پر، چھوٹی عمر میں والدین کو کھو دینا، سوشل سپورٹ سسٹم کی کمی یا اس طرح کے نقصان کا خطرہ، نفسیاتی اور سماجی کشیدگی جیسے کام کے نقصان، تعلقات میں کشیدگی، علیحدگی یا طلاق، بچوں یا خواتین کا جسمانی یا جنسی حراس کا شکار ہونا، احساس جرم کا شکار ہونا۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق ایسے عوامل جن میں خواتین میں ڈپریشن کا خطرہ بڑھتا ہے مثلا تولیدی، جینیاتی، یا دیگر حیاتیاتی عوامل ہیں۔
*علامات* :
ذہنی بیماریوں کی علامات کچھ کا ذکر اوپر ہو چکا ہے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔باتیں بھول جانا، نسیان، ہاتھ بار بار دھونا، اندھیرے سے ڈرنا، عجیب آوازیں سنائی دینا، ہر وقت اداسی چھائی رہنا، کوئی کام کرنے کا دل نہ کرنا، ہر وقت تھکے تھکے سے رہنا، بیزاری چھائی رہنا، بات بات پر غصہ آجانا، چڑچڑاپن حد سے بڑھ جانا، بھوک نہ لگنا، نیند نہ آنا، تنہا رہنا، ہجوم سے گھبرانا، مایوسی چھائے رہنا، وغیرہ ہیں۔
*علاج:*
کوئی بیماری ایسی نہیں ہے جس کا علاج نہ ہو۔ تو ان بیماریوں کا شکار لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان بیماریوں سے لڑنے کے لیے بہت ہمت کے ساتھ ساتھ خاندان کے مثبت رویے کی بھی ضرورت ہے۔ اگر آپ کو لگے کوئی ایسا مریض آپ کے اردگرد موجود ہے تو اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔لیکن ہمارا معاشرہ کچھ ایسا ہے کہ ایسا کوئی بھی مریض اگر ہے کوئی جتنا بھی قریبی ہے اس کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے اس کو طعنے دیے جاتے ہیں۔ اس کو باتیں سنائی جاتی ہیں۔ اس سے مقابلہ بازی کی جاتی ہے ان باتوں سے مریض زیادہ نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ مریض سمجھتا ہے کہ ایسے سنگدل معاشرے میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ پھر یا تو مریض جارحیت کا مظاہرہ کرتا ہے یا خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ یا پھر انتہائی شکل میں خودکشی کرلیتا ہے۔
خاندان کے ارکان کو تعلیم دینے کے لیے معاون حل کے بارے میں بات چیت کی جانی چاہیے۔ ماہر نفسیات کو اپنے مریض کے ماحول سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔ماہر نفسیات، بھی بات چیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جیسے ڈپریشن کے لیے نفسیاتی رویے سے متعلق بات چیت کے ذریعے تھراپی میں سنجیدگی(سی بی ٹی) اور دشواری حل کرنے کے علاج شامل ہیں۔ ڈپریشن کے ہلکے معاملات میں نفسیاتی علاج کے لئے پہلا اختیار ہے۔
شدید معاملات میں اعتدال پسندی اور وہ دوسرے علاج کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ ایروبک مشق ہلکی نفسیاتی بیماریوں کے خلاف مدد کرسکتی ہے کیونکہ یہ endorphin کی سطح کو بڑھاتا ہے اور نیوروٹرانٹرٹر نوریپینفائنین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو موڈ سے متعلق ہے۔ اس کے ساتھ میڈیسن بھی دی جاتی ہیں۔
*تجاویز*:
ایسے مرض سے چھٹکارا پانے کے لیے خاندان والوں کو ازحد توجہ دینے کی ضرورت ہے اگر گھر والے ساتھ ہوں تو آدھی بیماری تو ویسے ہی ختم ہو جاتی۔ اگر گھر کا ماحول ٹھیک ہونے میں رکاوٹ بنتا ہو تو کچھ عرصے کے لیے مریض کو ماحول بدل لینا چاہیے۔ مریض کو زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے۔ اپنی غذا کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ اپنے ماہر نفسیات سے رجوع کرتے رہنا ہے۔ ورزش کا معمول بنانا ہے۔ نماز ادا کرنے کی عادت ڈالنی ہے۔ تلاوت قرآن کرنا ہے۔ ایسا مریض خود کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھے۔ ان بیماریوں سے چھٹکارا پا کر صحت مند ہو کر ہی وہ معاشرے کا قابل فرد بن سکتا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan
460661