Kala Jadu
apni Zindagi ka har masla Hal karwaen
Dunya ka koi Kam aisa ni hai Jo na ho sakta ho
APNA har Kam hum se karwaen
01/10/2025
اہم اعلان
پوری دنیا میں کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس کا علاج نہ ہو
باقی آج کل عملیات کی دنیا میں فراڈ بہت ہیں
جن کو عملیات کی الف کا بھی نہیں پتہ وہ لوگ صرف پیسوں کے لئے لوگوں کے احساسات سے کھیلتے ہیں
جو کام کرنے والے عامل ہیں ان کے کوئی کام ایسا نہیں ہے جو نہ ہوسکتا ہو
اب معاملات ایسے ہیں کہ لوگ دوسروں سے فراڈ کر کے ہمارے پاس باتیں سنانے کے لیے آجاتے ہیں
دیکھیں ہمارے کام کی بس یہی گارنٹی ہے کہ آپ لوگ ہم سے مل کے کام کرواسکتے ہیں اس کے علاؤہ اور کوئی گارنٹی نہیں
باقی کام کے بعد میں پیسے لینے والا معاملہ ہماری سمجھ سے باہر ہے ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ پہلے ایک کام کریں پھر پیسے نہ ملنے کی وجہ سے پھر اس کام کو ختم کریں
جس نے کام کروانا ہے انبوکس یا واٹس ایپ کریں آپ کو ہمارا ایڈریس مل جائے گا آپ ہم سے مل کر کام کروا لیں
شکریہ۔ 03116638998
29/09/2025
ہانڈی والا عمل
آج میں ہانڈی والا محبت کا نایاب اور سخت تریں تیز اثر کرنے والا محبوب کی نیندیں سکوں چین اڑانے والا ہانڈی کا عمل بتانے جا رہا ہوں
جس کو کرنے سے محبوب کا سکھ چین راتوں کی نیندیں اڑ جاتی ہے
محبت کی ایسی آگ جلتی ہے کہ محبوب مچھلی کی طرح تڑپتا ہے
اس عمل کی طاقت اتنی سخت ہوتی ہے کہ محبوب کو پیار کے لیے کھینچ لاتی ہے
محبوب کا سکھ چین سب ختم کر کے اپنے پیار میں پاگل غلام بنا دیتی ہے
اس عمل کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے
اس عمل نے آج تک مایوس نہیں کیا
اس عمل کی وجہ سے کئی گھر آباد ہوئے
اس عمل کی وجہ کئی لوگوں کی اجڑی دنیا آباد ہوئی
جن کو جلدی اور گارنٹی والا کام چاہیے ہو ان لوگوں کو یہ عمل مایوس نہیں کرے گا
ہانڈی والا عمل بہت مجرب اور ارجنٹ کام کرنے کے لیے اسے فورن اثر رکھنے والا عمل بھی کہتے ہیں جو ایک گھنٹے میں محبوب کے خیال دل دماغ کو پیار میں پاگل کر دیتا ہے
اس عمل کو کوئی نہیں جانتا یہ صرف کامل لوگ جانتے ہیں اور آج تک اپنے سینے چھپائے ہوئے ہیں لیکن ہم نے آکر اس عمل کو دنیا میں ظاہر کیا
پریشان حال اور مایوس لوگ ایک بار اس کو لازمی آزمائیں
اگر آپ عمل خود کریں گے تو طریقہ آپ کو تھوڑی فیس لے کر بتا دیا جائے گا
اور
اگر آپ ہم سے یہ عمل کروائیں گے تو کام کی فیس اور خرچہ سب آپ کا ہوگا
کسی بھی مسئلےکے حل کے لئے انبوکس کریں
یا پھر واٹس ایپ کریں 03116638998
29/09/2025
اسلام علیکم
آج میں ایسا عمل بتارہا ہوں جو ایک بار کیا جاتا ہے محبوب کے لیے جدائی طلاق
ہر مقصد کے لیے کیا جاتا ہے
یہ عمل بکرے کے دل پہ کیا جاتا ہے
بہت محنت کر کے تعویز کو بکرے کے دل میں ڈال کر اسے دفن کیا جاتا ہے یہ اتنا انمول اتنا گارنٹی والا عمل کے کہ اسکی کوئی مسائل نہیں نہ آپ لوگوں کو یہاں کوئی بتائے گا اس عمل کے کرنے سے محبوب 3 گھٹنے کے اندر اندر پاگلوں کی طرح ہوگا اسکا دل دماغ آپکے خیالوں میں گم ہوگا فورں کال میسج کرے گا روتا معافی مانگتا واپس آئے گا
آج تک جس کے لئے بھی یہ عمل کیا ہے ہمیشہ وقت سے پہلے اور امید سے زیادہ نتیجہ ملا ہے
اتنا سخت تریں عمل ہے کہ یہ عملیات کی دنیا میں اس سے بڑا محبت کا عمل کوئی نہیں ہے
جن کا کام آج تک نہیں ہوا اور لوگوں کو پیسے دے دے کر تھک گئے ہیں ہمارے کہنے پہ ایک بار یہ عمل ضرور کروائیں
اگر آپ خود یہ عمل کرنا چاہیں تو تھوڑی فیس کے کرطریقہ بتا دیا جائے
اور
اگر آپ ہم سے عمل کرواتے ہیں تو فیس اور سارا خرچہ آپ کو اٹھانا ہوگا
اپنے کسی بھی مسئلےکے حل کے لیے ان بوکس بات کریں
یا پھر ہمارے واٹس ایپ پہ رابطہ کریں شکریہ 03116638998
ہم سے رابطے کرنے سے پہلے ہمارے بارے میں پڑھیں پوچھیں پھر کام کروائیں
ہم کوئی بھی کام فری میں نہیں کرتے
ہر کام کی ایڈوانس فیس لیتے ہیں
ہمارا دعویٰ ہے فیس ہماری مرضی کی کام آپ کی مرضی کا
ہمارے پیج پہ لوگوں کے ریویو اورکمنٹ پڑھیں اور اگر مل کے کام کروانا چاہیں تو آجائیں ہماری یہی گارنٹی ہے اگر کسی کو یقین آئے تو ہم سے رابطہ کرے ورنہ نہ کرے
کام کا جو وقت دیں گے اس وقت میں ہی رزلٹ دیں گے
ہم آپ سے اپنی لوکیشن اور ساری معلومات شیئر کرسکتے ہیں اور مل کے بھی کام کرتے ہیں
ہماری کم سے کم فیس بیس ہزار ہے
رابطہ صرف واٹس ایپ اور پیج پہ کریں
کال کرنے کی اجازت نہیں ہے
واٹس ایپ نمبر 03116638998
شکریہ
21/05/2025
کالا جادو
یہ کہانی مجھے میرے ایک دوست نے سنائی،۔ یہ بات کراچی کے محمود آباد کی ہے، جہاں ایک لڑکی، عائشہ، کے ساتھ کچھ ایسا ہوا کہ اس کی یاد آج بھی دل دہلا دیتی ہے۔ یہ کہانی صرف ڈراؤنی نہیں، بلکہ ایک گہرا سبق بھی دیتی ہے جو زندگی بھر یاد رہتا ہے۔ تو کان کھول کر سنو، کیونکہ یہ رات کی تاریکی میں چھپے اسرار کی داستان ہے، جہاں کالے جادو کا سایہ ایک معصوم جان پر پڑا اور سب کچھ تباہ کر گیا...
عائشہ کا پس منظر
عائشہ ایک متوسط گھرانے کی لڑکی تھی، جس کی آنکھوں میں خوابوں کی چمک تھی۔ وہ محمود آباد میں رہتی تھی۔ اس کے والد، رشید صاحب، سرکاری ملازم تھے، جو صبح سے شام تک محنت کرتے۔ اس کی والدہ، شازیہ بیگم، گھریلو خاتون تھیں، جو اپنی بیٹی کی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیتیں۔ عائشہ بچپن سے پڑھائی میں غیر معمولی تھی۔ اسکول میں وہ ہمیشہ اول درجہ لیتی، اور اساتذہ اس کی تعریف کرتے نہ تھکتے۔ اس کا خواب تھا کہ وہ ڈاکٹر بنے اور غریبوں کا مفت علاج کرے۔ اس کی مسکراہٹ ایسی تھی کہ ہر کوئی اس کا گرویدہ ہو جاتا۔
عائشہ کی زندگی اس وقت ایک عجیب موڑ پر آئی جب اس کی منگنی بچپن میں ہی اس کے کزن، فیصل، سے کر دی گئی۔ یہ خاندانی روایت تھی کہ بچوں کی منگنی کم عمری میں کر دی جائے۔ عائشہ اس وقت صرف بارہ سال کی تھی، اور فیصل چودہ سال کا۔ بچپن میں دونوں اچھے دوست تھے، گلیوں میں کھیلتے، شرارتیں کرتے، اور ہنسی مذاق میں وقت گزارتے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرا، دونوں کی راہیں جدا ہو گئیں۔ عائشہ اپنی پڑھائی اور خوابوں کی طرف بڑھتی گئی، جبکہ فیصل ایک الگ راستے پر چل پڑا۔
فیصل کی کہانی
فیصل، جو کبھی عائشہ کا بچپن کا ساتھی تھا، جوانی میں بدل گیا۔ اس نے آٹھویں جماعت کے بعد پڑھائی چھوڑ دی اور محمود آباد کے گلی کوچوں میں آوارہ گردی شروع کر دی۔ محلے کے بگڑے ہوئے لڑکوں کے ساتھ گھومنا، سگریٹ پینا، چھوٹی موٹی چوریاں کرنا، اور لڑائی جھگڑے اس کا معمول بن گئے۔ لوگ اسے "فیصل چور" کہنے لگے۔ اس کے والدین، اسلم صاحب اور زینب بی بی، نے اسے سدھارنے کی بہت کوشش کی۔ اسلم صاحب اسے مارتے، اور زینب بی بی سمجھاتیں، لیکن فیصل پر کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ دن بہ دن برائی کی طرف بڑھتا گیا۔
دوسری طرف، عائشہ نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ اس نے میٹرک میں اسکول میں سب سے زیادہ نمبر لیے، پھر کالج میں داخلہ لیا اور اپنے خوابوں کی طرف بڑھنے لگی۔ وہ نہ صرف ذہین تھی بلکہ خوبصورت بھی۔ اس کی سادگی اور خلوص ہر کسی کو متاثر کرتا۔ لیکن فیصل کی خراب عادتوں کی وجہ سے عائشہ کے والدین نے فیصل کے گھر والوں سے کہا کہ وہ یہ رشتہ نہیں چاہتے۔ "ہم اپنی بیٹی کی زندگی اس آوارہ لڑکے کے ہاتھوں برباد نہیں کر سکتے،" رشید صاحب نے کہا۔
یہ فیصل اور اس کے خاندان کے لیے بڑا دھچکا تھا۔ زینب بی بی نے عائشہ کے گھر جا کر منت کی، لیکن عائشہ کے والدین اپنے فیصلے پر اٹل رہے۔ آخر کار منگنی ٹوٹ گئی۔ عائشہ نے اس بات پر زیادہ دھیان نہ دیا، کیونکہ اس کا سارا دھیان اپنی پڑھائی اور مستقبل پر تھا۔ لیکن شاید اس فیصلے نے فیصل کے دل میں ایک ایسی آگ بھڑکائی جو عائشہ کی زندگی کو تباہ کر دے گی۔
منگنی ٹوٹنے کے چند ماہ بعد، عائشہ کے ساتھ عجیب واقعات شروع ہوئے۔ پہلے اسے رات کو ڈراؤنے خواب آنے لگے۔ وہ ایک سیاہ سایہ دیکھتی جو اس کا پیچھا کرتا۔ اس سایے کی آنکھیں سرخ تھیں، اور وہ عجیب سرگوشیاں کرتا، جیسے کوئی اسے بلاتا ہو۔ صبح اٹھتی تو اسے لگتا جیسے اس نے رات بھر جاگ کر گزاری۔ اس کی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے پڑ گئے، اور اس کا چہرہ زرد پڑنے لگا۔ وہ تھکاوٹ اور کمزوری محسوس کرتی، لیکن سمجھ نہ پاتی کہ کیا ہو رہا ہے۔
عائشہ کے والدین نے سوچا کہ شاید یہ پڑھائی کا دباؤ ہے، لیکن محلے کی ایک خاتون نے کہا کہ یہ نظر بد کا اثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ایک عامل سے رابطہ کیا، جو خود کو بڑا عالم کہتا تھا۔ اس جعلی عامل نے عائشہ کو دیکھ کر کچھ تعویز دیے اور دعویٰ کیا کہ وہ اسے ٹھیک کر دے گا۔ اس نے جڑی بوٹیاں جلائیں، عائشہ کے سر پر پھونکیں، اور بھاری رقم لی۔ اس نے جھوٹ بولا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن اس کے بعد عائشہ کی حالت اور خراب ہو گئی۔ وہ رات کو عجیب آوازیں سنتی، جیسے کوئی اس کے کمرے میں سرگوشیاں کر رہا ہو۔
پریشان ہو کر عائشہ کے والدین نے ایک اور عامل سے رابطہ کیا، جو محلے میں مشہور تھا۔ اس نے بھی وہی ڈرامہ کیا—تعویز، جھاڑ پھونک، اور عجیب تیل سے مالش۔ اس نے بھی بڑی رقم لی اور کہا کہ وہ عائشہ پر سے بدروح نکال دے گا۔ لیکن اس کے بعد عائشہ کے خواب اور خوفناک ہو گئے۔ وہ ایک عورت کی شکل دیکھتی، جس کے بال لمبے اور چہرہ سیاہ تھا۔ وہ عورت اسے اپنی طرف بلاتی اور کہتی، "تم میری ہو۔" عائشہ صبح روتے ہوئے اٹھتی اور اپنی ماں سے لپٹ جاتی۔
ان جعلی عاملوں نے عائشہ کے گھر والوں کو لوٹا اور ان کا وقت ضائع کیا۔ آخر کار، شازیہ بیگم کی ایک سہیلی نے ایک سچے عامل کا نام بتایا جو محمود آباد سے کچھ دور رہتا تھا۔ لیکن اس وقت تک عائشہ کی حالت بہت خراب ہو چکی تھی۔ ایک رات، وہ اپنے کمرے میں اکیلی تھی جب اس نے چیخ سنی۔ وہ ڈر کر اٹھی اور کھڑکی کی طرف بھاگی۔ کھڑکی کے باہر ایک عجیب شکل نظر آئی جو اسے گھور رہی تھی۔ وہ شکل انسانی نہیں تھی، اس کے دانت لمبے اور نوکیلے تھے، اور اس کی آنکھیں سرخ چمک رہی تھیں۔ عائشہ چیخ پڑی، اور جب اس کے والدین کمرے میں آئے تو کھڑکی کے باہر کچھ نہ تھا۔ لیکن کھڑکی کے شیشے پر پنجوں کے نشانات تھے، جیسے کسی نے اسے کھرچا ہو۔
اس کے بعد عائشہ کے ساتھ عجیب چیزیں ہونے لگیں۔ وہ اپنے آپ سے باتیں کرتی، اور کبھی اسے لگتا کہ کوئی اس کے پیچھے چل رہا ہے۔ ایک دن، وہ اپنی دوست کی سالگرہ کی تقریب میں گئی۔ تقریب کے دوران، وہ اچانک بےہوش ہو کر گر پڑی۔ جب اسے ہوش آیا تو اس کے ہاتھوں میں خون لگا ہوا تھا، اور اس کے قریب ایک چھری پڑی تھی۔ سب دہشت زدہ تھے، کیونکہ کسی نے عائشہ کو چھری پکڑتے نہیں دیکھا۔ عائشہ خود بھی سمجھ نہ سکی کہ یہ کیسے ہوا۔ وہ گھر آئی اور رات بھر روتی رہی۔
کچھ دنوں بعد، عائشہ اپنی کزن کی شادی میں گئی۔ وہ خوش تھی، کیونکہ اسے شادیوں کا شوق تھا۔ لیکن شادی کے دوران، وہ اچانک دولہن کے پاس گئی اور اسے زور سے تھپڑ مار دیا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، اور اس کی آنکھیں خالی تھیں، جیسے وہ کوئی اور ہو۔ جب اسے ہوش آیا تو وہ رونے لگی اور کہتی رہی، "مجھے نہیں پتا، میں نے یہ کیوں کیا!" اس واقعے نے خاندان کو پریشان کر دیا۔ لوگ عائشہ کو عجیب نظروں سے دیکھنے لگے، اور کچھ نے کہا کہ اس پر بدروح سوار ہے۔
ایک اور خوفناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب عائشہ اپنی خالہ کے گھر ایک چھوٹی سی دعوت میں گئی۔ بات چیت کے دوران، وہ اچانک اٹھ کھڑی ہوئی اور عجیب سی آواز میں ہنسنے لگی، جیسے کوئی بوڑھا آدمی ہنس رہا ہو۔ اس کی آنکھیں سفید ہو گئیں، اور اس کے منہ سے گندی بو آ رہی تھی۔ اس نے اپنی خالہ کو دھکا دیا اور دروازے کی طرف بھاگی۔ جب اسے روکا گیا تو اس نے عجیب سی زبان میں بولنا شروع کیا جو کوئی نہ سمجھ سکا۔ اسے گھر لایا گیا، لیکن اس واقعے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔
ایک رات، عائشہ کا چھوٹا بھائی، علی، جاگا تو اس نے عائشہ کو اپنے بستر کے پاس کھڑا پایا۔ وہ اسے خالی نظروں سے گھور رہی تھی، اور اس کے ہاتھ میں باورچی خانے کی چھری تھی۔ علی چیخ پڑا، اور پورا گھر جاگ اٹھا۔ جب عائشہ سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ اسے کچھ یاد نہیں کہ وہ اپنے کمرے سے کیسے نکلی۔ گھر والوں نے اس کے کمرے کی کھڑکیوں کو لکڑی کے تختوں سے بند کر دیا، اور رات بھر قرآن کی تلاوت چلتی رہی۔
آخر کار، عائشہ کے والدین اسے اس سچے عامل کے پاس لے گئے۔ عامل نے عائشہ کو دیکھتے ہی کہا، "اس لڑکی پر خطرناک کالا جادو کیا گیا ہے۔ یہ کوئی عام جادو نہیں، بلکہ بدلے کے لیے کیا گیا ہے۔" اس نے جعلی عاملوں کی دھوکہ دہی پر افسوس کیا اور کہا کہ ان کے جھوٹے عمل نے جادو کو مضبوط کر دیا۔ اس نے تعویز دیے، عائشہ کے کمرے میں آیات پڑھ کر رکھنے کو کہا، اور ایک خاص دھاگہ اس کے گلے میں باندھا۔ لیکن اس نے خبردار کیا کہ جادو بہت گہرا ہے اور اسے توڑنا مشکل ہوگا۔
عامل کی بات سن کر عائشہ کے والدین کو شک ہوا کہ یہ فیصل یا اس کے خاندان کی کارستانی ہے۔ انہوں نے فیصل کے گھر جا کر بات کی، لیکن زینب بی بی نے انکار کیا۔ وہ کہنے لگی، "ہمارا بیٹا اتنا نیچ نہیں۔" لیکن رشید صاحب کو یقین تھا کہ فیصل اس کے پیچھے ہے۔ انہوں نے فیصل سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن فیصل نے ملنے سے انکار کر دیا۔
وقت گزرتا گیا، اور عائشہ کی حالت بدتر ہوتی گئی۔ ایک شام، وہ پڑوس میں ایک چھوٹی سی تقریب میں گئی۔ بات چیت کے دوران وہ اچانک ساکت ہو گئی۔ اس کی آنکھیں پیچھے کی طرف مڑ گئیں، اور وہ عجیب سی زبان میں بولنے لگی جو کوئی نہ سمجھ سکا۔ کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ پھر اس نے میز پر سے ایک گلاس اٹھایا اور اسے زور سے زمین پر پٹخ دیا۔ اس کی ہنسی گونج اٹھی، ایسی ہنسی جو انسان کی نہیں تھی۔ جب اس کے والدین اسے گھر لائے تو اس کے بازوؤں پر گہرے نوچنے کے نشانات تھے، جیسے کسی نے اسے پنجوں سے کھرچا ہو۔
ایک رات، گھر والوں نے عائشہ کے کمرے سے عجیب سی آوازیں سنیں۔ وہ جب کمرے میں گئے تو دیکھا کہ عائشہ دیوار سے اپنا سر ٹکرا رہی ہے۔ اس کا چہرہ خون آلود تھا، اور وہ عجیب سی آواز میں ہنس رہی تھی۔ شازیہ بیگم چیخ پڑیں، اور رشید صاحب نے اسے پکڑ کر بستر پر لٹایا۔ لیکن عائشہ کی طاقت اتنی زیادہ تھی کہ اسے سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ اس کے ہاتھوں پر عجیب سے نشانات تھے، جیسے کسی نے اسے نوچا ہو۔ اس رات کے بعد، عائشہ کو ہسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ اسے کوئی دماغی بیماری ہو سکتی ہے، لیکن گھر والوں کو یقین تھا کہ یہ کالا جادو ہے۔
ہسپتال میں ڈاکٹروں نے کئی ٹیسٹ کیے، لیکن کچھ واضح نہ ہوا۔ انہوں نے دوائیں دیں اور ماہر نفسیات سے رابطہ کرنے کو کہا۔ لیکن عائشہ کے والدین اسے دوبارہ اسی عامل کے پاس لے گئے۔ اس بار عامل نے سخت عمل کیا۔ اس نے آیات پڑھیں، عائشہ کے جسم پر مقدس پانی چھڑکا، اور اس کے گلے میں ایک خاص تعویز باندھا۔ عمل کے دوران عائشہ چیخنے لگی، جیسے کوئی اسے جل رہا ہو۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا، اور اس کی آواز بدل گئی، جیسے کوئی اور اس کے اندر سے بول رہا ہو۔ عامل نے کہا کہ جادو اس کے جسم میں بہت گہرائی تک سمایا ہے، اور اسے توڑنے کے لیے بہت صبر اور ایمان کی ضرورت ہے۔
کچھ دنوں تک عائشہ کی حالت بہتر ہوتی دکھائی دی۔ وہ کھانا کھانے لگی، اور ڈراؤنے خواب کم ہو گئے۔ اس کے والدین کو امید بندھنے لگی کہ شاید سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن یہ سکون عارضی تھا۔ ایک رات، عائشہ کے کمرے سے عجیب سی آواز آئی، جیسے کوئی شیشہ ٹوٹا ہو۔ گھر والوں نے دیکھا تو عائشہ اپنے بستر پر نہیں تھی۔ وہ اسے ڈھونڈتے ہوئے گھر کی چھت پر پہنچے، جہاں وہ کھڑی تھی، اس کی آنکھیں خالی تھیں، اور وہ عجیب سی آوازیں نکال رہی تھی۔ جب اسے نیچے لایا گیا تو اس کے جسم پر عجیب سے نشانات تھے، جیسے کوئی اسے کاٹ رہا ہو۔
عامل کو دوبارہ بلایا گیا، اور اس بار وہ ایک بزرگ عالم کو ساتھ لایا۔ عالم نے عائشہ کو دیکھا اور کہا کہ یہ جادو کسی گہری دشمنی کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ اس نے جادو کی اصل جاننے کے لیے ایک خاص عمل کیا، جس میں جڑی بوٹیاں جلائی گئیں اور آیات پڑھی گئیں۔ عمل کے دوران عائشہ بےہوش سی ہو گئی اور مردانہ آواز میں بولنے لگی۔ وہ آواز اس کے خاندان کو گالیاں دے رہی تھی اور ان کی کوششوں کا مذاق اڑا رہی تھی۔ اس آواز نے فیصل کا نام لیا اور اسے دھوکے باز کہا۔ عالم نے کہا کہ جادو فیصل کے خاندان سے جڑا ہے، اور شاید کوئی قریبی رشتہ دار اس کے پیچھے ہے۔
عائشہ کے والدین نے فیصل کے گھر جا کر بات کی۔ اس بار زینب بی بی ٹوٹ گئیں اور رونے لگیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ منگنی ٹوٹنے کے بعد انہوں نے غصے میں ایک جادوگر سے رابطہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف عائشہ کو تھوڑا نقصان پہنچانا چاہتی تھیں، اسے تباہ نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ انہوں نے معافی مانگی، لیکن عائشہ کے والدین غصے میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عائشہ کو کچھ ہوا تو وہ زینب بی بی کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔
جادو توڑنے کی تمام کوششوں کے باوجود عائشہ کی حالت بگڑتی گئی۔ وہ کھانا بالکل چھوڑ چکی تھی، اور اس کا جسم کمزور ہو گیا۔ اس کی آنکھیں، جو کبھی چمکتی تھیں، اب خالی اور بےجان تھیں۔ اس کی جلد موت کی طرح زرد پڑ گئی۔ ایک رات، جب شدید طوفان آیا، گھر والوں نے عائشہ کے کمرے سے زور کی آواز سنی۔ وہ جب کمرے میں پہنچے تو دیکھا کہ بند کھڑکی کا تختہ ٹوٹ چکا تھا، اور عائشہ بارش میں بھیگ کر کمرے کے بیچ میں کھڑی تھی۔ اس کے ہونٹ ہل رہے تھے، لیکن کوئی آواز نہیں نکل رہی تھی۔ اچانک وہ گر پڑی، اور اس کے منہ سے خون بہنے لگا۔ گھر والوں نے اسے ہسپتال لے جانے کی کوشش کی، لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئی۔
عائشہ کی موت نے پورے محمود آباد کو سوگ میں ڈبو دیا۔ اس کی موت ایک معمہ بن گئی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ جادو کی وجہ سے ہوا، کچھ نے کہا کہ اس نے خودکشی کی۔ لیکن حقیقت کیا تھی، کوئی نہیں جانتا۔ عائشہ کے جنازے میں پورا محلہ امڈ آیا۔ اس کی ماں رات دن روتی رہی، اور اس کے والد خاموشی سے اپنی بیٹی کی یادوں میں کھو گئے۔
عائشہ کی موت کے چند ماہ بعد، فیصل ایک چوری کے دوران پکڑا گیا۔ اسے پولیس نے گرفتار کر لیا، اور جیل میں اس کی حالت اتنی خراب ہوئی کہ وہ شدید بیمار پڑ گیا۔ محلے میں افواہیں پھیل گئیں کہ عائشہ کی روح فیصل کو سزا دے رہی ہے۔ زینب بی بی، جو اپنے کیے پر پچھتا رہی تھیں، گھر سے باہر نہ نکلتیں۔ انہوں نے بعد میں سب کے سامنے اعتراف کیا کہ انہوں نے جادوگر سے عائشہ پر جادو کرایا تھا، لیکن اب وہ اس گناہ کے بوجھ تلے دب گئی تھیں۔
یہ کہانی ایک گہرا سبق سکھاتی ہے۔ حسد اور بدلہ انسان کو تباہ کر دیتے ہیں۔ فیصل کا خاندان اپنی انا اور غصے میں اندھا ہو گیا، اور اس نے ایک معصوم لڑکی کی جان لے لی۔ عائشہ کے خواب، اس کی مہربانی، اس کی امیدیں—سب کچھ نفرت کی آگ میں جل کر راکھ ہو گیا۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ کبھی بھی اپنے دل میں حسد یا نفرت کو جگہ نہ دو۔ یہ زہر کی طرح ہیں، جو آہستہ آہستہ سب کچھ تباہ کر دیتے ہیں۔ محبت سے جیو، دوسروں کو معاف کرو، اور اپنے دل کو تاریکی سے بچاؤ۔ اس کہانی کو اپنے دوستوں کے ساتھ بانٹو، تاکہ وہ بھی عائشہ کی المناک کہانی سے سبق سیکھ سکیں۔
18/05/2025
میں نے ٹکٹ خریدی اور ٹرین کی طرف بڑھ گیا بھانت بھانت کے لوگوں کی بھانت بھانت بولیاں پلیٹ فارم پہ گونج رہی تھیں میں سب کو نظر انداز کرتا ٹرین میں گھس گیا ۔ کچھ دیر بعد میں اپنی سیٹ پر براجمان ہو چکا تھا۔ میرے سامنے والی سیٹ پر باپردہ تین خواتین بیٹھی تھیں اور میری سیٹ پر دو لڑکے بیٹھے تھے انکو آپس میں بولتا دیکھ کر میں سمجھ گیا تھا کہ یہ ایک ہی فیملی کے لوگ ہیں ۔مجھے شیشے والی سائڈ پہ سیٹ مل گئی تھی ۔ میں نے کھڑکی سے باہر دیکھنا شروع کر دیا ۔اور سوچنے لگا کہ اسٹیشن بھی عجیب جگہ ہے کتنوں کو ملاتا ہے اور کتنوں کے بچھڑنے کی یادیں یہ سمیٹ کر کھڑا ہے ۔ اتنے میں ایک ہلکے سے جھٹکے سے ٹرین چل پڑی . میں نے ایک گہری سانس لی اور جیب سے موبائل فون نکال کر اس میں مصروف ہو گیا ۔
مجھے سفر کرتے سات گھنٹے سے اوپر ہو گئے تھے راستے میں کچھ اسٹیشنز پر گاڑی رکی تھی اور اب فراٹے بھرتی چلی جا رہی تھی کچھ دیر پہلے ہی مجھے بتا دیا گیا تھا کہ منزل قریب ہے میں نے موبائل پہ ٹائم دیکھا رات کے دوبجے تھے اگلا اسٹیشن میری منزل تھی ۔ مجھے بتا دیا گیا تھا کہ بیس منٹ تک ٹرین نے مطلوبہ اسٹیشن پہنچ جانا ہے میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا کچھ دیر تک ٹرین میرے مطلوبہ اسٹیشن پہ جا کر رک گئی
میں اٹھا اور ٹرین سے باہر نکل آیا پلیٹ فارم پر اتر کر ادھر ادھر دیکھا مگر میرے میزبان جن کے بلانے پہ میں یہاں اس وقت آیا تھا وہ مجھے کہیں نہیں نظر آرہے تھے میں نے آگے دیکھا کچھ اور مسافر بھی اترے تھے یہ ایک چھوٹا سا اسٹیشن تھا سامنے ایک ٹی سٹال تھا میں ٹی سٹال کی طرف بڑھ گیا ایک ادھیڑ عمر کا لمبا تڑنگا آدمی ٹی سٹال کے اندر بیٹھا تھا مجھے اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا میں نے اس کے پاس پہنچ کر سلام کیا جس کا اس نے مروتاً ہی جواب دیامیں نے اس سے ایک کپ چاے بنانے کو کہا اور ساتھ میں بسکٹ بھی مانگے ۔ وہ اسی وقت کیتلی کے نیچے آگ جلانے لگ گیا میں پاس پڑے بنچ پر بیٹھ گیا
ٹرین سے کوئی دس بارہ مسافر ہی اترے تھے جو جلدی جلدی اسٹیشن سے باہر جارہے تھے ٹرین نے وسل دی اور چل پڑی جس کی وجہ سے کچھ دیر تو پلیٹ فارم پہ ٹرین کے چلنے سے شور رہا پھر آہستہ آہستہ جیسے ٹرین دور ہوتی گئی خاموشی چھاتی رہی میں بنچ پہ بیٹھا ٹرین کو جاتے دیکھتا رہا ۔ ٹرین کی آواز اور ٹرین نظر آنا بھی بند ہوگیا میں نے ادھر ادھر کا جائزہ لیاکچھ دور اسٹیش اور پلیٹ فارم۔کے راستے پر پر ایک بڑی سی زرد رنگ کی لائٹ فضا کو روشن کرنے کی ناکام کوشش میں جل رہی تھی ۔میرے کانوں میں سٹوو کے چلنے کی آواز آرہی تھی ساتھ میں فضا میں پھیلی چاے بننےکی مہک بتا رہی تھی کہ میں مزیدار چاے پینے والا ہوں کچھ دیر بعد چاے والے نے بسکٹ اور چاے کا کپ میرے آگے لاکر رکھ دیا چاے میرے اندازے سے کہیں ذیادہ مزیدار تھی ۔
خیر چاے سے فارغ ہو کر میں نے چاے والے کے پاس جا کھڑا ہوا اس سے کچھ دیر بات چیت کی اور دوبارہ بنچ پر آبیٹھا اسی اثنا میں اسٹیشن کی چھوٹی سی عمارت سے دو بندے نکلے جن کے پیچھے کا منظر دیکھ کر میں چونک اٹھا اور میری ذبان پہ تیسرے کلمہ کا ورد جاری ہو گیا پلیٹ فارم کی سیڑھیاں چڑھ کر پلیٹ فارم پر آکر ان دونوں نے ادھر ادھر دیکھا جب انکی نظر مجھ پر پڑی تو وہ دونوں جلدی جلدی چلتے میری طرف آنے لگے میں غور سے انکو اپنی طرف آتا دیکھ رہا تھا مگر اب میرے چونکنے کی وجہ ختم ہو گئی تھی
دونوں کی عمر تقریباً پچاس پچپن کے لگ بھگ ہوگی دونوں کی ماشاللہ ریش تھی میرے پاس آکر دونوں نے خوشدلی سے سلام کیا اور میں کھڑا ہو گیا اور سلام کا جواب دیا ۔ ان میں سے ایک نے کہا معذرت کچھ منٹ دیر ہوگئی دراصل گاڑی کا ٹائر پنکچرہو گیا تھا ۔ میں نے اسے کہا کہ کوئی بات نہیں میں سمجھ سکتا ہوں ویسے آپ کا دیر سے آنا میں نے محسوس نہیں کیا ۔ تھوڑا اور رسمی باتوں کے بعد ان میں سے ایک نے کہا چلیں میں نے کہا نہیں ابھی نہیں چلنا ۔
انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ہچکچاہٹ بھرے لہجے میں پوچھا کہ کیا وجہ خیریت تو ہے ۔ میں نے کہا بلکل خیریت ہے بس کچھ دیر آپ سے یہاں باتیں کرنا چاہتا ہوں پھر اس کے بعد چلے چلتے ہیں ۔
دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ان میں سے ایک نے کہا کہ جیسے آپ کا حکم ۔ اور اونچی آواز میں چاے والے کو تین کپ چاے کا کہا ۔ میں نے کہا چاے تو میں آتے ہی پی چکا ہوں مگر اس بھائی صاحب کی چاے ہی اتنی مزیدار ہے کہ دوبارہ سے پی لونگا میں نے یہ کہتےہوے چاے والے کو دیکھا مگر وہ منہ نیچے کیے اپنے کام میں مصروف تھا ۔میں بنچ پر بیٹھ گیا ان میں سے ایک میرے ساتھ اور دوسرا ساتھ والے بنچ پر بیٹھ گیا ۔
پلیٹ فارم لوگوں سے تقریباًًخالی تھا میں نے کہا کہ سب سے پہلے تو آپ اپنا تعارف کروا دیں اور اپنا سارا مسلہ یہیں بتا دیں کیونکہ جب آپ مجھے نظر آے تو آپ کے پیچھ کوئی اور بھی تھا اس لیے میں چاہتا ہوں آپ مجھے اپنا سارا مسلہ یہیں ڈسکس کریں میری بات سن کر وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔ان میں سے جو دوسرے سے عمر میں بڑا اور میرے ساتھ بنچ پر بیٹھا تھا اس نے ایک گہری سانس لی اور کہا کہ جناب سب سے پہلے تو بہت شکریہ یہاں آنے کا اللہ آپ کو اس کا جر دے گا میرا نام منظور ہے اوریہ میرا چھوٹا بھائی ظہور ۔ ہم ایک مصیبت میں پھنس گئے ہیں ۔ ۔ میں نے کہا آپ اللہ پہ بھروسہ رکھیں سب ٹھیک ہو جاے گا مجھے ساری بات تفصیل سے بتائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ,
اس نے کھنکار کر گلہ صاف کیا اور بولا میں ایک سرکاری محکمے میں اچھے عہدے پر فائز ہوں بڑا گھر بنانا میرا خواب تھا میں نے پرانا گھر بیچا اور اپنے حصے میں آئی ذمین بیچ کر ایک پلاٹ خرید لیا اور اس پر مکان کی تعمیر شروع کر دی میرے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں بڑے بیٹے کا رشتہ میرے اس بھئ ظہور کی بیٹی سے بچپن سے ہوا ہوا تھا ہمارا ارداہ تھا کہ مکان کی تعمیر مکمل ہوتے ہی بچوں کی شادی کر دیں گے مکان کی تعمیر کے بعد ہم نئے گھر شفٹ ہو گئےشادی کے دن رکھے گئے اور دھوم دھام سے شادی ہو گئی
شادی کے بعد خاندان میں دعوتیں شروع ہوگئیں ۔ ایک صبح میں دفتر جانے لگا تو مجھے بیگم نے کہا کہ آج ظہور بھائی نے رات کے کھانے کی دعوت دی ہے ہم سب کو تو آپ جلدی آجائیے گا ۔ میں نے معذرت کرتے ہوے کہا کہ آج شام کو ایک دوست کی بیٹی کی بارات پہ مدعو ہوں تم لوگ چلے جانا میں فارغ ہو کر وہیں آجاوں گا ۔ عصر کو چار بجے میں گھر آیا تو گھر لاک تھا میں سمجھ گیا کے سب گھر والے ظہور کے گھر چلے گئے ہیں میرے پاس ایکسٹرا چابی ہوتی ہے میں نے گھر کا لاک کھول کر اند جا کر کچھ دیر آرام کیا اور مغرب کے بعد وقت مقررہ پر دوست کے گھر چلا گیا وہاں سے فارغ ہوتے دس بج گئے میں جب گھر کے گیٹ پر پہنچا تو ساڑھے دس ہو چکے تھے میں نے لاک کھولا اور اندرداخل ہو گیا۔
سامنے کچن میں برتنوں کی کھٹ پٹ کی آواز آرہی تھی میری بیٹی سیڑھیاں چڑھنے لگی تھی مجھے دیکھتے ہی اس نے سلام کیا اور اوپری پورشن کی سیڑھیاں چڑھ گئی میں نے بیگم کو آواز دی تو کچن سے اس کی ابھی آئی کی آواز آئی میں نے کہا میری چاے میرے کمرے پہنچا دو یہ کہہ کر میں اپنے کمرےچلا گیا کچھ تھکاوٹ محسوس کررہا تھا اسلیے چاے کا کہہ دیا تھا میں موبائل نکال کر ایک دو ضروری کال تھیں وہ کرنے بیٹھ گیا دس پندرہ منٹ گزر گئے نا بیگم آئی اور نا چاے تو میں نے اونچی آواز میں کہا کہ بیگم چاے کا کہا تھا تو بیگم کی آواز آئی بس لے کے آرہی ہوں۔
میں نے پھر خود کو فون میں مصروف کر لیا دس منٹ اور گزر گئے میں جنجھلا کر اٹھا اور کمرے سے باہر آکر کچن کی طرف دیکھا کچن کی لائٹ آف تھی میں نے بیگم کو آواز دی ۔۔۔۔۔بیگم ۔۔۔۔۔۔۔بیگم ۔۔۔۔۔۔بیگم۔۔۔۔۔۔۔مگر ہرسو خاموشی تھی کچن کی لائٹ آف دیکھ کر میں سمجھ گیا کسی بچے کے کمرے میں ہو گی نیچے تینوں بیڈ روم کے دروازے بند تھے میں نے ایک ایک کر کے سارے دروازے کھولے کمروں کی لائٹ آف تھی میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر والے پورشن چلا گیا مگر یہاں بھی اندھیرے نے استقبال کیا میں حیران کہ سب کدھر چلے گئے جس بیٹی نے سلام کیا تھامیں نے اسے آواز دی مگر ہر سو خاموشی تھی میں سمجھ گیا کہ سب باہر لان میں ہونگے میں سیڑھیاں اتر کر باہر لان میں آگیا مگر لان خالی تھا میں نے موبائل فون سے بیگم کا نمبر ملایا کال اٹینڈ ہوتے اس کی سلام کی آواز آئی میں نے پھٹ پڑنے والے لہجے میں کہا کہ کہاں ہوتم تمھیں چاے کا کہا تھا
چاے بناتے بناتے کہاں چلی گئی ہو آگے سے بیگم کی حیرانی بھری آواز آئی کہ آپ کو صبح بتایا تھا کہ آج ظہور بھائی کے ہاں ڈنر ہے اور آپ نے بھی ادھر ہی تو آنا تھا ۔ اس کی بات سن کر میں نے غصے سے کہا کہ یہ کیا بے ہودہ مذاق ہے ابھی اقصیٰ نے مجھے سلام کیا ہے میری تم سے کچن میں بات ہوئی ہے ۔ آگے سے بیگم نے حیرانی سے کہا کہ آپکو خیر تو ہے ہم تو دوپہر کے فوراً بعد سے ظہور بھائی کے گھر آئے ہوے ہیں میں نے حیرانی سے اس کی بات سنی اوکہا کہ ابھی تو تم یہاں تھیں اور اقصیٰٰ بھی یہاں تھی ۔میری بیگم نے کہا آپ رکیں ہم ابھی آتے ہیں اور کال کاٹ دی ۔
یہ سب کیا تھا مجھے یقین نہیں آرہا تھا میں نے جاگتی آنکھوں سے اپنی بیٹی کو دیکھا تھا میں نے بیگم کو کچن سے بولتے سنا تھا ۔ میرا دل کیا کہ اندر ہال میں جا کر دوبارہ دیکھوں مگر ہمت ناہو رہی تھی مجھے عجیب سے خوف کا احساس ہوا میں لان میں پڑی کرسی پر بیٹھ گیا تھوڑی دیر تک میرے بیوی بچے سب آگئے انکے ہمراہ میرا یہ بھائی ظہور بھی تھا ہم ہال میں جا بیٹھے میں یقین و بے یقینی کی سی حالت میں سب کو بتا رہا تھا مگر کوئی میری بات تسلیم کرنے کو تیار نا تھا میری بیگم بولی اچھا شائد آپ تھک گئے ہیں آپ سو جائیں ان سب کی باتیں سن سن کر مجھے بھی یقین ہو چلا تھا کہ شائد یہ سب میرا وہم تھا مگر جاگتی آنکھوں سے اتنا واضح وہم کیسے ممکن ہے ۔
خیر اس واقعہ کے بعد سب نارمل ہو گیا کچھ دن بعد بیگم سٹور کسی کام گئی اور گھبرا کر باہر نکل آئی بقول اس کے سٹور میں گھٹنوں میں سر دیے ایک بوڑھی عورت بیٹھی ہے بڑا بیٹا گھر تھا وہ سٹور گیا مگر سٹور میں کوئی نا تھا میں آفس تھا اس وقت مجھے بیٹے کی کال آئی میں گھر پہنچا بیگم قسمیں اٹھا رہی تھی کہ اس نے وہ عورت دیکھی ہے ۔ہم سب حیران تھے خیر کچھ دن اور گزر گئے
میرا بیٹا جس کی شادی ہوئی ہے وہ ایک رات دیر سے گھر آیا اس کی بیوی اپنے میکے تھی وہ کہتا ہے جب میں اپنے کمرے میں جا کر بیڈ ہر بیٹھنےلگا تو اسے اس کی بیوی کی آواز آئی کہ آ گئے ہیں تو اس نے بے ساختہ کہا ہاں جی اور چونک کر ادھر ادھر دیکھا مگر کمرہ خالی تھا وہ بھاگتا ہوا نیچے ہمارے بیڈ روم آیا میں سو رہا تھا اس نے اپنی ماں کو بتایا تو اس کی ماں نے مجھے اٹھا کر ساری بات بتائی میں سرپکڑ کر بیٹھ گیا کہ یہ کیا میرے گھر میں شروع ہوا کھڑا ہے
اگلے دن ایک کولیگ سے مشورہ کر کے اس کے جاننے والے ایک عامل کے پاس گئے اس نے حساب کیا اور بتایا کہ آپ پر تعویذ ہیں اور تعویذوں کے طابع مخلوق آپ کے گھر آپ کو تنگ کر رہی ہے یہ سب اسی کی وجہ سے ہو رہا ہے اس عامل صاحب کی بات سن کر میری پریشانی مزید بڑھ گئی میں نے پوچھا کہ اب اس کا حل کیا ہے تو عامل صاحب نے کہا کہ مجھے کل آپ اپنے گھر لے جاو ۔اگلے دن میں اہنے کولیگ کے ساتھ جا کر عامل صاحب کو گھر لے آیا عامل صاحب نے پورے گھر میں گھوم کر دیکھا اور بولےپورا گھر آسیب سے بھرا پڑا ہے میں گھر ابھی صاف کیے دیتا ہوں اور سب کو جلا دیتا ہوں عامل صاحب ہال کمرے میں آلتی پالتی مار کربیٹھ گئے اور منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنے لگے ۔
میں میرا کولیگ اور میرا بڑا بیٹا ساتھ پڑے صوفے پر بیٹھ گئے عامل صاحب کو پڑھتے کوئی دس منٹ ہوے ہونگے کے ہال میں ایک ذناٹے دار تھپڑ کی آواز گونجی آواز تو ذوردار تھی ہی شاید عامل صاحب کے چہرےپر پڑنے والا تھپڑ بھی بہت ذوردار تھا آواز سنتے ہی میں نے عامل صاحب کو دیکھا جو ایک ہاتھ گال پر اور دوسرا ہاتھ ذمین پہ ٹکاے پریشانی سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا اسی اثنا میں ایک اور تھپڑ کی آواز آئی جوپہلے سے بھی تیز تھی عامل صاحب کے دوسرے گال پر بھی تھپڑ پڑا تھا تھپڑ کی آواز کے ساتھ ہی عامل صاحب کےمنہ سے درد بھری اونچی آہ نکلی اور اس کے ساتھ ہی وہ اٹھ کر ہال کے دروازے کی طرف بھاگے ابھی وہ چار پانچ قدم بھاگے ہونگے کہ ایک اور ذور دار تھپڑ کی آواز گونجی اس کے ساتھ ہی عامل صاحب منہ کے بل ذمین پہ جا گرے اور گرتے ہی اٹھ بیٹھے اور دونوں ہاتھوں سے اپنی کمر مسلنے کی ناکام کوشش کرنے لگے ہم تینوں جو حیرانی سے یہ سب دیکھ رہے تھے اٹھ کر عامل صاحب کی طرف لپکے میں نے عامل صاحب کو اٹھایا وہ بے چارے درد سے لوٹ پوٹ ہوتے ہوے خوفزدہ نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہے تھےتھپڑ مارنے والہ نظر نا آرہا تھا
میں خود حیران تھا کہ یہ سب کیا ہوا ہے عامل صاحب کے دونوں گال لال گلاب بنے کھڑے تھے عامل صاحب نے کمر سے کپڑا اٹھایا وہاں نیلاہٹ بھرا نشان چھپا کھڑا تھا عامل صاحب نے کھڑےہوتےہی باہر کی طرف دوڑ لگا دی ہم تینوں وہیں کھڑے رہ گئے عجیب سا خوف مجھ پہ طاری ہو رہا تھا میں نے ڈرتے ڈرتے ادھر ادھرنگاہ دوڑائی اور باہر نکل کر گیٹ کی طرف بھاگا مگر عامل صاحب گیٹ کراس کر چکے تھے میں جب گھر سے باہر نکلا عامل صاحب دوڑتے دوڑتے کافی دور جا چکے تھے میں نے ان کے پیچھے بھاگنے کا ارادہ ترک کر دیا اتنی دیر میں میرا کولیگ اور بیٹا بھی باہر آگئے تھے شاید ہم تینوں سچویشن سمجھ چکے تھے
میرے کولیگ نے باہر نکلتے ہی مجھے کہا منظور بھائی اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ آپ کے گھر آسیب ہے شاید اس عامل صاحب کے بس کا کام نا تھا ہمیں کوئی اور بندہ ڈھونڈنا پڑے گا ۔ میں نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلا دیا میرا بیٹا جو اب تک چپ کھڑا تھا بولا کے ابو انکل کی بات ٹھیک ہے اور اس واقعہ کا ذکر گھر والوں سے نا کیجیے گانہیں تو گھر والے مزید خوف میں مبتلا ہو جائیں گے ۔ میری آواز بند تھی انجانے سے خوف نے میرا گلا خشک کر دیا تھا ۔ میرے کولیگ نے اجاذت چاہی اور اپنے گھر روانہ ہو گیا ۔ میں اور میرا بیٹا واپس ہال آگئے باقی گھر والے جو اس وقت اوپری پورشن میں بیٹے کے بیڈ روم میں بیٹھے تھے انکو نیچے بلا لیا بیگم نے آتے ہی پوچھا کہ کیا بنا ہو گیا مسلا حل ؟ میرے بولنے سے پہلے میرا بیٹا بول پڑا کہ جی ہاں عامل صاحب نے پڑھائی کر دی ہے آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جاے گا ۔
میں نے کہا کہ اب جب تک سب ٹھیک نہیں ہوتا سب ساتھ ساتھ رہیں اور نیچےہی سویا کریں بات کرتے کرتے میں سوچ رہا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاوں اس مسلے کو کس طرح حل کروں ۔ وہ سارا دن میں اپ سیٹ رہا دفتر سے چھٹی لی ہوئی تھی ظہور کو کال کر کے بولا لیا تھا اکیلیے میں اسے ساری بات بتائی اس نے ایک عامل صاحب جو کہ دور ایک دیہات میں رہتے تھے ان کے پاس جانے کا مشورہ دیا شام کو ہم دونوں بھائی اس عامل صاحب کے پاس چلے گئے انکو سارا مسلہ بتایا انہوں نے آنکھیں بند کرلیں اور کچھ پڑھنا شروع کر دیا تھوڑی دیر بعد آنکھیں کھول کر بولے تمھارے گھر تعویذوں سے بد روحیں بھیجی گئی ہیں جنہوں نے ایک ایک کر کے تم سب کو مار ڈالنا ہے یہ سن کر میرے تو طوطے اُڑ گئے میں نے پریشانی سے پوچھا اب کیا حل ہے تو وہ صاحب بولے کہ مجھے آپ کے گھر جا کر پڑھنا ہوگا ۔ ظہور نے عامل صاحب کی بات کاٹتے ہوے کہا کہ آج جو عامل صاحب آے تھے ان کے ساتھ یہ یہ ماجرا ہوا ہے ظہور کی بات سنتے ہی عامل صاحب جلدی سے بولے نہیں پھر میں یہیں بیٹھ کر اس کا حل کرلونگا عامل صاحب شرمندہ سے ہوتے ہوے بولے میں تعویذ دے دیتا ہوں سب گھر والے پی لیں اور کل اور تعویذ لے جائیں اور گھر باندھ دیں ۔ ہم تعویذ لے کر گھر آگئے تعویذ ایک جگ میں بھگو دیا اور میری بیگم نے سب کو پانی پلایا اگلے دن دوبارہ عامل صاحب کے پاس پہنچے انہوں نے ایک تعویذ دیا کے اسے چمڑے میں بند کروا کے گھر میں کسی جگہ باندھ دیں سب بد روحیں بھاگ جائیں گی ہم نے وہ تعویذ عامل صاحب کی ہدائت کے مطابق چمڑے میں بندکروا کے گھر باندھ دیا۔
اس رات میں نے خواب دیکھا کہ کوئی عورت میرے سرہانے کھڑی ہے اور اس کے ہاتھ کیچڑ سے بھرےہیں اور وہ ان ہاتھوں سے میرے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی ہے میری آنکھ کھل گئی خوف کے مارے میرا حلق خشک ہو رہا تھا میں نے بیگم کو آواز دے کر اٹھایا اور اسےپانی لانے کو کہا وہ بھاگ کرپانی لائی اور لائٹ آن کر دی میری طرف پانی کا گلاس کرتے ہوے میرے بالوں۔کو دیکھ کر حیرانی سےبولی یہ آپ کے بالوں میں مٹی سی کہاں سے آئی میں نے چونک کر بالوں کو ہاتھ لگایا میرے ہاتھوں کو گیلی مٹی کا احساس ہوا میں جلدی سے بیڈ سے اتر کر شیشے کے سامنے جا کھڑا ہوا میری حیرت کی انتہا نا رہی میرے بالوں میں کیچڑ جیسی گار لگی تھی ۔
میں جلدی سے واش روم گھس گیا سر دھو کر واپس آیا اور بیگم کو اپنا خواب سنایا جسے سن کر وہ خوف اور پریشانی میں مبتلاہو گئیاگلی صبح دفتر سے اور چھٹی لی اور اسی عامل صاحب کے پاس ہم دونوں بھائی چلےگئے ساری بات سن کر عامل صاحب نے اس کام سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ میرے بس کا روگ نہیں آپ کسی اور کےپاس جائیں غرض اس دن کے بعد سے بلاناغہ کچھ نا کچھ دیکھنے کو ملتا ہے کبھی واش روم کے تولیے کیچڑ میں بھرے ملتے ہیں کبھی کوئی بچی ڈر جاتی ہے کو جس کسی عامل کا سنتےہیں وہاں بھاگ پڑتے ہیں کوئی تعویذ جادو کہہ دیتا ہے کوئی کہتا ہے پلاٹ پہ بھوتوں جنوں کی رہائش تھی آپ نے اس پر مکان بنا دیا اب مکان چھوڑو گے تو جان چھوٹے گی مگر مسلا جوں کا توں ہی ہے مجھے روز بروز کمزوری کا احساس ہوتا جارہا ہے کچھ دن سے بیگم بہت بیمار ہو گئی ہے سب ٹیسٹ کلیئر آئے ہیں مگر اسکی ٹانگوں اور کمر کا درد ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہم نے یہ سب واقعات ہر کسی سے چھپا کے رکھے تھے اس دن میری بڑی بہن بیگم کا سن کر اس کی عیادت کیلیے آئی ہیں وہ رات کو سوئی ہوئی تھیں رات کو انکی آنکھ کھلی کمرے میں نیم اندھیرا تھا انکو لگا کہ انکے سامنے پڑے صوفے پر کوئی عورت بیٹھی ہے انہوں نے پوچھا کہ کون ہو کون ہو مگر وہ عورت نا بولی انہوں نے اٹھ کر لائٹ جلائی مگر صوفہ خالی تھا صبح ان کے کمرے میں۔میری بیٹی گئی توانہوں نے ہنستے ہوے سرسری سا تذدکرہ کیا کہ رات تو میں ڈر ہی گئی اور ساری بات سنائی بات سنتے ہی میری بیٹی نے انکو اس گھر میں رونما ہوے سارے واقعات سنا دئیے جسے سن کر وہ سیدھا میرے پاس آئیں اور برہم ہونے لگیں کہ بہن بھائیوں سے اس طرح کی باتیں نہیں چھپایا کرتے اور بدر بھائی آپ کا ذکر کیا میں نے اسی وقت بہنوئی صاحب کو کال کر کے آپ کا نمبر لیا اور آپ سے بات کی اور اب یہاں ہیں یہ ایک مختصر حال ہے ۔ یہ کہ کر منظور صاحب خاموش ہوگئے ۔میں جو چاے پیتے ساری بات توجہ سے سن رہا تھا چاے کا آخری گھونٹ بھرا اور خالی کپ بنچ کے اوپر رکھ کر کھڑا ہو گیا اور بولا چلیں اب چلتے ہیں ظہور صاحب چاے کا بل دینے کیلیے اسٹال کی طرف بڑھے مگر اسٹال والا سٹال میں موجود نا تھا وہ بولے اب بل کےپیسے یہاں رکھ دوں میں نے کہا کل جب جانے لگوں گا تب آپ نے چھوڑنے آنا ہے تو کل دے دیجیے گا اب چلیں دیر نا کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلے دن شام کے وقت میں ظہور اور منظور صاحب کے ساتھ ٹرین کے انتظار میں کھڑا تھا منظور صاحب بہت خوش تھے ان کے گھر سے وہ نحوست ختم ہو گئی تھی جاتے جاتے اس جننی نے کرسی مجھ پر پھینکنے کی کوشش بھی کی تھی جو کہ ناکام رہی تھی
آپ کے ذہن میں پیدا شدہ سوال کا جواب دے دیتا ہوں منظور صاحب پہ نا کوئی جادو تھا نا تعویذ تھے اور نا ہی وہ پلاٹ آسیبی تھا جہاں انہوں نے گھر بنایا تھا ۔ اس شام جس شادی پر منظور صاحب گئے تھے وہاں بارات کا انتظام ایک اسکول میں کیا گیا تھا دوست کی بیٹی کی شادی سمجھتے ہوے منظور صاحب انتظامیہ میں شامل ہوگئے تھے وہ کھانا جو باراتیوں کی پلیٹوں میں بچ گیا تھا منظور صاحب نے اس سکول سے ملحقہ ایک ویران جگہ پر پھینکوا دیا تھا اور وہ جگہ آسیبی تھی جس وقت منظور صاحب وہ کھانا وہاں ہھینکوانے گئے کھڑے تھے وہاں پر ایک جننی کو وہ پسند آگئے اور وہ انکے جسم کی خوشبو پہ فداہو گئی اور جب وہ واپس لوٹے تو وہ بھی ساتھ ہی آئی اس کے بعد آہستہ آہستہ اس نے اپنی موجودگی کا احساس دلانا شروع کر دیا اللہ پاک کا خاص کرم ہوا تھا مجھ پر اور میں اس بار بھی کامیاب ہوا تھا مجھے ایک دن پہلے منظور صاحب نے کال کی تھی بتایا تھا کہ انکے گھر تعویذوں کی وجہ سے بہت پریشانی ہے اور اپنے پاس آنے کو کہا تھا کچھ دیر بعد انکے بہنوئی جو کہ میرے اچھے تعلق والے ہیں انکا بھی فون آگیا اور میں اب یہاں آیا تھا
مگر جو میں سمجھ رہا تھا یہ وہ مسلا نا تھا یہ معاملہ بہت خطرناک اور گھمبیر تھا مجھے دوران سفر بھی آگاہ کیا گیا تھا کہ یہ مسلا بڑی احتیاط سے سلجھانے والا ہے اور جب یہ دونوں بھائ اسٹیشن کے اندر داخل ہو رہے تھے تو انکے پیچھے کسی غیر مرئی مخلوق کی جھلک میں نے پالی تھی
ٹرین آچکی تھی ظہور اورمنظور صاحب دونوں بڑی گرم جوشی سے مجھ سے بغل گیر ہوے میں اپنی سیٹ پر جو کہ شیشے والی سائڈ پے ہی تھی پر آکر بیٹھ گیا تھا کھڑکی کے باہر میرے پاس ہی دونوں بھائی محبت بھری نگاہوں سے مجھے دیکھ رہے تھے
ٹرین نے وسل دی میں نے کہا رات والی چاے میری طرف سے تھی ظہور صاحب بولے نہیں جناب میں ابھی اسے جا کر بل ادا کرتا ہوں میں نے کہا کہ جناب اگر آپکو چاے کا سٹال یا چاے والا نظر آے تو لازمی بل ادا کر دیجیے گا دونوں بھائیوں نے سٹال کی سمت دیکھا سٹال وہاں ہوتا تو انکو نظر آتا وہ تو خدا کا شکر ہے کے میرے پیار کرنے والوں نے اپنا ایک ساتھی چاے کے سٹال سمیت وہاں پر کھڑا کر دیا تھا جس کی موجودگی کی وجہ سے وہ عفریت آگے نا آئی اور منظور صاحب کے گھر بھی اسی اسٹال والے نے اسے قابو رکھا اور مجھے مکمل پڑھنے اور حصار کرنے کا موقع مل گیا ہلکے سے جھٹکے کے بعد ٹرین چل پڑی تھی دونوں بھائی حیرانی سے ہاتھ ہلاتے پیچھے رہ گئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت جلد ایک نئی آپ بیتی کے ساتھ حاضرہووں گا
آپ سب کیلیے بہت ساری دعائیں ۔
خوش رہیں دعاکی درخواست ہے اور فالو کریں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Multan