Urdu Kahani

Urdu Kahani

Share

True Stories / Sachi Kahaniyan in Urdu & English – Book addicts are species of their own. They love

01/01/2025

On duty with a relaxed mindset, serving Riyadh Metro with dedication and pride.

16/12/2024

Proud to be contributing as part of FLOW Consortium to the maintenance and operational excellence of the Riyadh Metro Project. My journey here has been all about ensuring smooth functionality, addressing maintenance challenges, and working alongside a talented team to uphold world-class standards.
Grateful for the opportunity to play a role in shaping reliable infrastructure that connects communities every day.

11/10/2024

Late-night hustle!

💻

30/07/2024

زنانہ آی ڈی برائے فروخت
31 لڑکے سیٹ ہیں
لوڈ بھی کرواتے ہیں😒🙄🚶

11/06/2024
08/06/2024

اگر گھر میں اچانک زیادہ مہمان آجائیں تو روح افزا واشنگ مشین میں بنا سکتے ہیں 🙄

08/06/2024

انگلش کو گرمی میں کیا کہتے ہیں 🙂🥲😏

07/06/2024

سردی آنے میں کتنے دن رہ گئے ہیں🙄🥺

04/06/2024

شدت جنون
قسط نمبر 30
اریج شاہ
°°°°°°°°
آپ مصروف تو نہیں ہیں۔۔۔؟ سٹڈی روم میں بابا کچھ پڑھنے میں مصروف تھے۔
جب امی وہاں داخل ہوئیں بابا نے انہیں دیکھتے ہوئے مسکرا کر اپنا چشمہ اتارتے ہوئے وہیں ٹیبل پر رکھا اور کتاب بھی پیچھے ہٹا دی تھی ۔
نہیں بیگم ہرگز نہیں آپ کہیں کیا کہنا چاہتی ہیں آپ کے لیے میں کبھی مصروف نہیں ہو سکتا اور بتائیے کیا ولیمے کی ساری تیاریاں مکمل ہو گئی یا کچھ رہ گیا ہے۔۔؟
انہوں نے ان کی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔
کہنے کو تو ان کی پانچ اولادیں تھیں جو اپنی ماں کی ہر ضرورت پوری کر سکتی تھیں۔
لیکن اسامہ صاحب کی اپنی سوچ تھی ان کا کہنا تھا کہ اپنی بیوی کی ساری ذمہ داری ان کی اپنی ہے ۔
جو وہ اپنی اولاد پر ہرگز نہیں ڈالیں گے یہاں تک کہ اب بھی شادی کے 30 سال بعد بھی وہ اپنی بیگم کی ہر ضرورت کی چیز خود لے کر آتے تھے ۔
یہاں تک کہ ان کے ولیمے کا ڈریس بھی وہ خود پسند کر کے لائے تھے ۔جو کہ بے حد خوبصورت تھا کہنے کو تو ان کا بیٹا بھی اپنی پسند کے مطابق اپنی ماں کے لیے شاپنگ کر کے لایا تھا۔
لیکن ان کی بیگم کو وہی پسند آنا تھا جو انہیں پسند ہے یہ وہ بہت اچھے سے جانتے تھے ۔
جی جی ساری شاپنگ ہو گئی ہے ۔وہ مجھےآپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی ان سب باتوں سے ہٹ کر ہے میری بات ،اسی لیے غور سے سنیے گا اور سمجھیے گا ۔ان کا انداز بہت کچھ سمجھانے والا تھا بابا ان کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے صرف ہاں میں سر ہلا گئے تھے ۔
ازا کے بارے میں آج کل کیا سوچ رہے ہیں آپ ماشاءاللہ سے ہماری بیٹی جوان ہو رہی ہے۔ اس کو بھی رخصت کرنا ہے اس کے فیوچر کے بارے میں بھی کچھ سوچنا ہے۔
کچھ سوچ رکھا ہےآپ نے یا فی الحال وقت پر چھوڑ رکھا ہے؟ وہ ان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھیں ۔
بیگم فلحال تو سب کچھ وقت پر چھوڑ رکھا ہے۔ ابھی تو بچی ہے ازو ابھی تو یونیورسٹی میں بھی نہیں گئی ہے اسی لیے وقت آنے پر دیکھا جائے گا لیکن آپ یوں اچانک یہ سوال کیوں کر رہی ہیں؟ کیاآپ اس بارے میں سوچنے لگ گئی ہیں ؟ وہ جیسے ان کی سوچوں کو پڑھ لینا چاہتے تھے ۔
دامیار کے بارے میں کیا سوچتے ہیں آپ۔۔۔۔میرا مطلب ہے ہماری ازا اور دامیار کے بارے میں اگر سوچا جائے تو یہ کچھ غلط تو نہیں ہوگا مجھے تو یہ رشتہ بہت بہتر لگ رہا ہے۔
اگر ہماری ازا کی شادی دامیار سے ہو جائے تو میرے خیال سے یہ ایک بہت اچھی چیز ہو جائے گی ہماری بیٹی ہم سے دور بھی نہیں ہوگی اور دامیار کوئی غیر بھی تو نہیں ہے وہ جیسے اپنے دل کی بات انہیں بتانے لگ گئی تھیں ۔
دامیار۔۔۔۔"ان کو سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ کیا جواب دے دامیار پر تو کبھی ان کی سوچ گئی ہی نہیں تھی ۔
جی ہاں دامیار نے رشتہ مانگا ہے ہماری ازو کا امی جان تو کہتی ہیں کہ میں آپ کو اس حوالے سے مناؤں لیکن ظاہری سی بات ہےآپ بہتر جانتے ہیں کہ وہ کیسا ہے یا اس کی روٹین کیسی ہے اورآپ ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ وہ ہماری بیٹی کے لیے کیسا رہے گا ۔
بظاہر مجھے تو اس رشتے میں کوئی خرابی نظر نہیں آرہی ہے دامیار گھر کا دیکھا بالا بچہ ہے اور سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ ہمارا ایک اور مضبوط تعلق جڑ جائے گا ۔
اور سب سے اہم بات وہ سیٹلڈ ہے ہماری بیٹی کے لیے بہترین رشتہ ہے ۔یہ نہیں ہے کہ کوئی لڑکا پڑھ رہا ہے پانچ سال کے بعد پڑھائی مکمل ہوگی پھر اپنا کاروبار شروع کرے گا ۔
یا نوکری کرے گا تو پھر شادی ہوگی اتنے لمبے چکروں میں پڑنے کی ہمیں بھی ضرورت نہیں ہوگی ہماری بیٹی کے لیے خوشیاں دروازے پر کھڑی ہیں ۔
آپ کو کیا لگتا ہے وہ ان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھیں جب کہ وہ جیسے کسی سوچ سے نکلتے ہوئے ایک دفعہ پھر سے ان کی طرف متوجہ ہوئے ۔
بیگم جلد بازی میں ہم کسی طرح کا کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے میں سمجھ سکتا ہوں کہ ایک اچھے رشتے سےآپ ایک اچھی امید لگاتی ہیں ۔
لیکن میرے خیال میں فی الحال ہمہیں ان سب چیزوں میں نہیں پڑنا چاہیے ہمارے بیٹے کا ولیمہ ہو رہا ہے ہمہیں فی الحال اسی پر دھیان دینا چاہیے ۔
اس کے بارے میں ہم بعد میں آرام سکون سے بات کریں گے میرے خیال میں فی الحال ہمہیں اس ٹاپک کو بند کر دینا چاہیے اور اس چیز میں صرف آپ کی یا میری مرضی نہیں چلے گی ماشاءاللہ سےازو کے بڑے چار بھائی ہیں جو اس کا بھلا چاہتے ہیں ہمیں پہلے ان سے مشورہ کرنا پڑے گا ۔
اور دامیار کے بارے میں بھی میں نے پہلے بہت کچھ ایسا سن رکھا ہے جو کہ ہمارے ویلیوز کے حساب سے سوٹ نہیں کرتا ۔
لیکن ہمیں سمجھنا چاہیے کہ اس کے پاس کوئی صحیح غلط کی پہچان بتانے والا نہیں تھا ۔
کچھ حد تک وہ غلط راہ ہوں پر نکل گیا ہے لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہماری بیٹی کے فیوچر کا سوال ہے ۔
اسی لیے ہم سب سے پہلے ازا کے بھائیوں سے بات کریں گے میں بارق سے اس بارے میں بات کروں گا اس کی رائے جاننے کی کوشش کروں گا اس سے مشورہ لوں گا اس کے بعد ہم سوچیں گے کہ ہم نے آگے کیا کرنا ہے ۔
سچ کہوں تو مجھے نہیں لگتا کہ بارق اس رشتے کے لیے راضی ہوگا کیونکہ بارق کو جب یہ پتہ چلا تھا کہ دامیار کی روٹین ٹھیک نہیں ہے وہ اپنا بزنس تک اس کے ساتھ نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اب معاملہ کافی آگے جا چکا ہے لیکن پھر بھی ہم نے ازا کی شادی کے بارے میں سوچنا ہے کچھ معمولی نہیں سوچنا کہ چھوٹی موٹی چیزوں کو نظر انداز کردیں ۔
امید کرتا ہوں کہ آپ میری بات کو سمجھ رہی ہوں گی وہ ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولے تو امی نے صرف ہاں میں سر ہلایا تھا ۔بے شک وہ ٹھیک کہہ رہے تھے بیٹی کے معاملے میں وہ بھی کسی طرح کی جلد بازی کی قائل نہ تھیں۔
°°°°°°°°
بارش۔۔۔عروش نے حیرانگی سے بارش کو دیکھا تھا
ابھی صبح تک تو ٹھیک ٹھاک موسم تھا دھوپ نکلی ہوئی تھی تو اب اچانک سے بارش کہاں سے ہونے لگ گئی تھی وہ بھی اتنی تیز بارش ۔
ہاں بارش یہ آزاد کشمیر ہے میری جان یہاں بات بات پر بارش ہوتی ہے وہ اس کے گرد باہوں کا حصار بناتے ہوئے بولی ۔
ازو تمہارے ہاتھ میں درد ہو جائے گا وہ اس کا ہاتھ پیچھے ہٹاتے ہوئے احتیاط کر رہی تھی۔
اچھا بتاؤ تمہیں ہمارا ایریا کیسا لگا ویسے تو تم ابھی تک گھومنے کے لیے گئی ہی نہیں ہو میں پھر بھی پوچھ رہی ہوں ۔بتاؤ تمہیں یہ علاقہ کیسا لگا ۔۔۔۔۔؟
وہ کافی ایکسائٹڈ سی ہو کر اس سے پوچھ رہی تھی ۔
تمہارا علاقہ بہت خوبصورت ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے اور مجھے تم پورا علاقہ بھی گھماؤ گی اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔
کیوں نہیں میری جان میں تمہیں پورا علاقہ گھماؤں گی اور ویسے بھی علاقہ گھومنے سے پہلے تو تم ہنی مون پر جاؤ گی خود ہی دیکھ لینا ۔
باقی اگلے دنوں میں چھٹیاں ہو جائیں گی تو میں بھی گھومنے چلوں گی بلکہ ہم سب ٹرپ پر چلیں گے بہت مزہ آئے گا وہ پلاننگ کر رہی تھی ۔
جبکہ ہنیمون کا نام سنتے ہوئے عروش کو عجیب سا لگ رہا تھا ۔
ویسے مجھے مری بہت زیادہ پسند ہے اور اب تھوڑے ہی عرصے میں وہاں برف گرنا شروع ہو جائے گی تو اور زیادہ مزہ آئے گا وہاں جاتے ہوئے ۔ہم سب وہیں چلیں گے کیا خیال ہے وہ بیچ میں عبادت کو شامل کر رہی تھی ۔
فلحال کوئی خیال نہیں ہے اچھی خاصی پلاننگ ہو گئی تھی لاسٹ مومنٹ پہ آ کے انکار ہو گیا ۔اب جب تک پوری پلاننگ نہ ہو جائے میں کوئی سنہری خواب نہیں سجانے والی عبادت نے فورا کہا تھا ۔
اچھی خاصی رخصتی ہو رہی تھی تمہاری عبادت خود اپنے ہنی مون پر چلی جاتی مری تو مزہ ہی آ جاتا لیکن نہیں تم نے تو پہلے اپنا انٹرنشپ کمپلیٹ کرنا تھا اپنے شوہر کو دکھانا تھا کہ اگر تم وکیل ہو تو میں بھی وکیل ہوں اب دیکھ لیا غلطی کا انجام اب عین وقت پر آکر بارق کو کوئی ضروری کام نکل آئے گا اور زبر صاحب کو چھٹیاں نہیں ملیں گی ۔
دیکھ لینا پچھلے سال کی طرح ہوگا اس دفعہ بھی زہرش نے نقشہ کھینچا تھا ۔
بھابھی خدا کے لیے ڈرائیے مت ان شاءاللہ اس دفعہ ایسا کچھ نہیں ہوگا ازا فورا بولی تھی پچھلی دفعہ بھی ان کا پلان بن گیا تھا لیکن پھر ایک وقت پر جا کر انکار ہو گیا ۔
ویسے عبادت تمہارے پاس تو ابھی چانسز ہیں تمہاری ایک ہاں کی دیر ہے عروش اور شہیر کے ولیمے کے دن تمہاری رخصتی ہو جائے گی دونوں ایک ساتھ ہنیمون پر جانا اپنی پسند کی جگہوں پر
زہرش اس کے پاس بیٹھتے ہوئے شرارتی انداز میں بولی تھی جبکہ عروش جو جانتی ہی نہیں تھی اس کے نکاح کے بارے میں یہ ساری باتیں اس کے لیے کافی حیران کن تھیں ۔
یہ کیا چکر ہے تمہارا نکاح ہوا ہے تم نے یہ بات مجھے نہیں بتائی عروش نے حیرانگی سے پوچھا تھا ۔
ہاں یہ راز کی بات ہے میڈم کسی کو نہیں بتاتی ازا نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو عبادت نے اسے گھورا تھا ۔
کیا ہے نا یار میرا بھائی بہت ہینڈسم ہے وہ نہیں چاہتی کہ کسی کی بھی نظر اس پر جائے اسی لیے وہ یہ راز کی بات کسی کو نہیں بتاتی ہے ۔ازا نے اسے مزید تنگ کیا تھا ۔
ارے ارے ازا یہ تم کیا کر رہی ہو تم عروش کے سامنے کسی اور کی تعریف کیوں کر رہی ہو یار شہیر کی کرونا تاکہ عروش کو بھی سنتے ہوئے اچھا لگے ۔زہرش نے شرارتی انداز میں کہا تو اس نے فورا نفی میں سر ہلایا تھا ۔
نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہے آپ جس مرضی کی تعریف کریں مجھے اچھا ہی لگے گا وہ فورا بولی تھی ۔
اچھا مطلب ہم جس مرضی کی تعریف کر سکتے ہیں شہیر کی تعریف کرنا بالکل ضروری نہیں ہے وہ مزید شرارتی انداز میں گویا ہوئی ۔
ارے مجھے کیوں برا لگے گا وہ تو شرمندہ ہی ہو گئی تھی ان سب کے بیچ میں ایک تو بارش تھی اسے خوف محسوس ہو رہا تھا اوپر سے یہ ساری لڑکیاں مل کر اسے تنگ کر رہی تھیں ۔
چلو لڑکیو بہت وقت ہو چکا ہے باہر بارش تیز ہو رہی ہے اپنے اپنے بستر میں گھس جاؤ ۔یہاں باہر سردی میں بیٹھنے کا کوئی مقصد نہیں ہے ۔زہرش نے ان سب کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔
ہاں چلو اندر بستر میں جا کے بیٹھتے ہیں عبادت مجھے تو بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے ازا اٹھ کر کھڑی ہوئی تو عبادت بھی اس کے ساتھ ہی اٹھی تھی ۔
جبکہ عروش کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے بارش کے اس موسم میں بجلی کڑکنے سے اور تیز بارش ہونے سے اسے بڑا خوف آتا تھا لیکن اس نے اپنا یہ خوف کسی پر ظاہر نہیں کیا تھا اور اس وقت اسے ڈر لگ رہا تھا ۔
کیا ہوا بھابھی کمرے میں چھوڑ کر آ جاؤں کیا اسے یوں ہی کھڑےدیکھ کر ازا نے شرارت سے کہا تھا ۔
کوئی ضرورت نہیں ہے چھوڑ کر آنے کی یہ خود ہی چلی جائے کہ ویسے کمرے میں کوئی بھی نہیں ہے میرا مطلب ہے آپ کے شوہر گرامی ابھی تک گھر تشریف نہیں لائے ہیں اپنے دوستوں سے ملنے کے لیے گئے ہیں اس کی واپسی ذرا دیر سے ہی ہو گی تم تب تک آرام کرو ۔
زہرش نے اسے کمرے کی طرف بھیجتے ہوئے کہا تھا ۔
کتنی دیر لگے گی انہیں آنے میں اس نے بھابھی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تھا اس موسم سے اسے ڈر لگتا تھا کم از کم کسی کا سہارا ہونا تو ضروری تھا ہی ۔
کچھ کہا نہیں جا سکتا کبھی کبھی تو 12 سے اوپر کا ٹائم نکل جاتا ہے پھر بعد میں بابا اس کی بڑی کلاس لیتے ہیں لیکن پھر بھی وہ اپنے ٹائم کا بڑا کچا ہے کوئی وعدہ پورا نہیں کرتا ہے اب تم آ گئی ہو تو ہو سکتا ہے وہ اپنی روٹین بدل لے ۔
زہرش اسے کمرے تک چھوڑتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔
جب کہ وہ صرف مسکرا کر کمرے کے اندر داخل ہو گئی تھی ۔جب زوردار بجلی کڑکنے سے وہ دروازے کے ساتھ جڑ کر کھڑی ہو گئی تھی ۔
یا اللہ رحم پلیز جب تک میں سوتی ہوں تب تک یہ بجلی والا سلسلہ ختم کر دیں وہ بیڈ کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے بستر میں گھس گئی تھی ہاں لیکن ڈر سے اس کی جان جا رہی تھی ۔
°°°°°°°°
جی بابا آپ نے مجھے یہاں بلایا وہ سٹڈی روم میں داخل ہوا تھا کیونکہ بابا نے اسے میسج کیا تھا کہ گھر آتے ہی وہ ان سے ملنے کے لیے سٹڈی روم میں ْ جائے
اور وہ اس کا انتظار کر رہے تھے وہ سیدھا انہی کے پاس آیا تھا ۔
ہاں بارق بیٹا مجھے تم سے ضروری بات کرنی تھی آرام سے بیٹھ جاؤ انہوں نے سامنے کرسی کی طرف اشارہ کیا تو وہ صرف ہاں میں سر ہلا کر کرسی گھسیٹ کر اس کے اوپر بیٹھ چکا تھا اور اب بابا کی طرف سے ان کی بات کا منتظر تھا ۔
وہ بیٹا بات کچھ یہ ہے کہ ازا کے لیے رشتہ آیا ہے سچ کہوں تو مجھے اس رشتے میں کسی طرح کی کوئی برائی نظر نہیں آرہی ہے لیکن پھر بھی میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں۔
کہ تم اس رشتے کو لے کر کیا سوچتے ہو کیونکہ پہلے تمہاری سوچ کچھ اور تھی اور اب تم بھی بہت کچھ سمجھ چکے ہو ۔
جی بابا بات تو بتائیے نا مجھے اس طرح سے تو شاید میں آپ کی بات کا مطلب سمجھ نہیں پاؤں گا کس حوالے سے بات کرنا چاہتے ہیں آپ ازا کے لیے کس کا رشتہ آیا ہے بتائیں وہ ان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا تھا پچھلے تین چار ہفتوں سے ازا کے لیے دو رشتے ان کی نظر میں تھے ۔
جن کو لے کر وہ بہت کچھ سوچ رہے تھے ۔اسی لیے وہ جاننا چاہتا تھا کہ بابا ان دونوں رشتوں میں سے کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں ۔
دیکھو بیٹا پہلے دو رشتے آئے ہوئے تھے اب ایک اور رشتہ آیا ہے جو زیادہ قابل غور ہے کیونکہ ایک تو فیملی کے اندر ہی رشتہ ہے اور دوسرا لڑکا سیٹل ہے اسے کمانے اور سیٹل ہونے والے لمبے چکروں میں پڑنے کی ضرورت نہیں پڑے گی وہ پہلے سے ہی اپنا کاروبار سیٹ کیے ہوئے ہے ۔
اسی لیے میں اس رشتے پر زیادہ غور کر رہا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ تم بھی پرانی چیزوں کو دماغ سے نکال کر اس رشتے کے بارے میں سوچو ۔
وہ کافی سوچ سمجھ کر بول رہے تھے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ بارق کو غصہ آئے یا بارق اس چیز کو لے کر کچھ غلط سوچے جس سے رشتے خراب ہوں۔
جی بابا میں آپ کی بات کو بہت اچھے سے سمجھ رہا ہوں بتائیے رشتہ کس کا ہے ۔وہ ان کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے سمجھ چکا تھا کہ بات چھوٹی سی نہیں ہے بلکہ بابا اس رشتے کو لے کر دل سے رضامند ہیں ۔
رشتہ دامیار شاہ کا ہے ہماری بیٹی کے لیے دامیار شاہ نے ہاتھ مانگا ہے اس نے اپنا رشتہ ڈالا ہے وہ بھی امی کی طرف سے امی کی خواہش ہے کہ یہ رشتہ ہو جائے اس کا دعوی ہے کہ وہ ہماری بیٹی سے محبت کر بیٹھا ہے ۔
اور وہ شادی کرنا چاہتا ہے اس سے دیکھو بیٹا میں تمہاری سوچ کو سمجھ سکتا ہوں میں سمجھ سکتا ہوں کہ تم یہی سوچ رہے ہو کہ ازا اور دامیار کی جوڑی اچھی نہیں لگے گی کیونکہ دامیار کی روٹین بہت غلط تھی ۔
دیکھیں اب وہ کافی بدل چکا ہے تم خود اندازہ لگا سکتے ہو کہ اس کے کام کرنے کا طریقہ بدل چکا ہے اس کی سوچ بدل چکی ہے آہستہ آہستہ وہ صحیح غلط کو پہچان رہا ہے اور ماشاءاللہ ہماری بیٹی اتنی قابل تو ہے ہی کہ وہ ایک بھٹکے ہوئے انسان کو راہ راست پر لا سکے ۔
دیکھو بیٹا ہماری بیٹی کی زندگی کا سوال ہے اور مجھے اس رشتے میں کسی طرح کی کوئی برائی نظر نہیں آئی جس کی بنا پر میں اس رشتے سے انکار کر سکوں اور تم بھی پرانی سوچوں کو اپنے دماغ سے نکال کر اس رشتے کے بارے میں سوچ کر فیصلہ کرو اور مجھے بتاؤ کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔
بابا میرے حساب سے تو آپ کو انکار ہی کرنا چاہیے مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آپ یہ بات مجھ تک لے کر آئے ہی کیوں ہیں میرے خیال سے آپ کو اس رشتے سے انکار کر دینا چاہیے کیونکہ وہ شخص میری بہن کے لائق ہرگز نہیں ہے ۔
میں نہیں جانتا وہ کتنا بدلا ہے آگے جا کر اس کی روٹین کیا ہوگی لیکن اتنا میں جانتا ہوں کہ میری بہن کے ساتھ اس کا کوئی جوڑ نہیں بنتا ۔
اور نہ ہی میں اپنی بہن کو کسی طرح کے امتحان میں ڈالنا چاہتا ہوں اس امید پر کہ ہماری بہن اسے راہ راست پر لے ائے ہم اپنی بہن کو کسی امتحان میں نہیں ڈال سکتے ۔
میں مانتا ہوں وہ سیٹلڈ ہے اپنا کاروبار چلا رہا ہے امید ہے ہماری بہن کی ہر خواہش پوری کر سکتا ہے لیکن اب یہ بھی تو دیکھیں کہ وہ ایک عیاش انسان ہے ۔بلکہ عیاش ہی نہیں اس کے اندر دنیا کی ہر برائی موجود ہے میں اس رشتے کے لیے کبھی راضی نہیں ہو سکتا میری طرف سے انکار ہے باقی آپ بہتر جانتے ہیں کہ آپ نے کیا کرنا ہے وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا ۔
تم جلد بازی کر رہے ہو میری جان سوچ سمجھ کر فیصلہ کرو بیٹیوں کے معاملات اس طرح سے طے نہیں ہوتے وہ اسے سمجھا رہے تھے ۔
بابا میں آپ کی بات کو سمجھتا ہوں لیکن پلیز دامیار نہیں میں آنکھوں دیکھی مکھی نہیں نگل سکتا وہ میری نگاہوں کے سامنے ہے اس میں کوئی ایک برائی نہیں ہے اور میں کیسے مان لوں کہ فقط ایک مہینے میں اس کے اندر سے ساری برائیاں ختم ہو گئی ہیں ۔
صرف اس لیے کہ وہ امیر ہے دولت مند ہے سیٹلڈ ہے ہم اپنی بہن کو اس کے حوالے نہیں کر سکتے ۔
وہ اپنی بات مکمل کرتا کمرے سے نکل چکا تھا جبکہ بابا مزید کچھ بھی نہیں کہہ سکے تھے
°°°°°°°°
اسے اپنے جسم پر اس کا ہاتھ رینگتا ہوا محسوس ہو رہا تھا پسینے سے اس کا پورا جسم شرابور ہو رہا تھا وہ چیخ رہی تھی چلا رہی تھی چھوڑ دو مجھے خدا کے لیے چھوڑ دو ایسا مت کرو ۔
پلیز میرے ساتھ ایسا مت کرو وہ بری طرح سے خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی ۔
اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا ۔آنکھوں سے آنسو جاری تھے وہ ہر ممکن کوشش کر رہی تھی خود کو اس کی گرفت سے چھڑوانے کی لیکن وہ اپنی گرفت سخت سے سخت کرتا جا رہا تھا وہ اس کے مضبوط بازوں میں بے حال ہو رہی تھی ۔
چھوڑ دو پلیز مجھے چھوڑ دو خدا کے لیے رحم کرو مجھ پر پلیز ایسے مت کرو میرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔"
ازا۔۔۔۔ ازا۔۔۔پلیز اٹھو کچھ نہیں ہو رہا ۔سب کچھ ٹھیک ہے تم یہاں ہو اپنے گھر پہ عبادت اسے جگانے کی مسلسل کوشش کر رہی تھی لیکن اس کی نیند ٹوٹ ہی نہیں رہی تھی یقینا خواب میں وہ بہت زیادہ ڈر گئی تھی ۔
اور اسی ڈر میں وہ اپنے بازو کو مسلسل حرکت دے رہی تھی جس کی وجہ سے یقینا اس کی تکلیف بھی بڑھ رہی ہوگی عبادت نے زبردستی اس کی نیند کھولنے کے لیے پانی کا گلاس اٹھا کر ہاتھ میں تھوڑا سا پانی لے کر اس کے منہ پر پھینکا تھا ۔
ازا۔ازا تم ٹھیک ہو اٹھو اٹھو میری جان کچھ نہیں ہوا سب بالکل ٹھیک ہے وہ اسے زبردستی اٹھا کر بٹھا چکی تھی ۔جبکہ خود کو اپنے کمرے میں محفوظ پا کر ازا عبادت کے گلے لگتی بھوت پھوٹ کر رونے لگی تھی ۔
ازا سب کچھ ٹھیک ہے میری جان کچھ نہیں ہوا تم خواب میں ڈر گئی تھی صرف برا خواب تھا ڈونٹ وری میں ہوں نا تمہارے ساتھ وہ اسے اپنے ساتھ لگاتی بہلانے کی کوشش کر رہی تھی ۔
عبادت تم اندازہ نہیں لگا سکتی وہ میرے اتنے پاس تھا اتنا زیادہ پاس اور میں بے بس تھی کچھ نہیں کر پا رہی تھی ۔
وہ بری طرح سے روتے ہوئے اسے بتا رہی تھی جب کہ اسے اپنے ساتھ لگائے عبادت اس کا ڈر کم کرنا چاہتی تھی ۔
سب کچھ ٹھیک ہے ازا تم اپنے گھر پر ہو میں تمہارے ساتھ ہوں پلیز ریلیکس ہو جاؤ اپنے بازو کو حرکت مت دو اور درد ہوگا اور میری بات مانو تو گھر والوں کو بتا دو اس بارے میں اس طرح یوں روز خواب میں ڈرتے ہوئے یا چھپ چھپ کر رو کر تم اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتی ۔
تمہیں جتنا یہ سب ایزی لگ رہا ہے اتنا نہیں ہے ۔خود کو سب کے سامنے نارمل ظاہر کرنا بند کرو یہ کوئی چھوٹی سی بات نہیں ہے گھر کے بڑوں کو اس بارے میں پتہ ہونا چاہیے اس نے تم پر ریپ اٹیم کیا ہے ۔عبادت اسے سمجھا رہی تھی ۔
نہیں عبادت ہم کسی کو نہیں بتا سکتے اگر یہ بات باہر نکلی نا تو مسئلہ بہت بڑا بن جائے گا اور پھر دادی ان کی حالت تمہارے سامنے ہے ۔
میں اپنی دادی کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی ایک دفعہ پھر سے اپنا غم ہلکا کرنے لگی تھی ۔
تم نہیں جانتی عبادت اگر میں نے ایک دن اپنے چہرے کی یہ مسکراہٹ ختم کر لی اور اپنا ڈر کسی پر ظاہر کر دیا تو قیامت آ جائے گی میرے بھائی غصے میں یہ چیز سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کریں گے کہ دادی پر کیا گزرے گی انہیں فکر ہوگی تو صرف اور صرف اس چیز کی کہ وہ دامیار شاہ کو کس طرح سے ختم کریں ۔
تم نہیں جانتی عبادت اگر میرے بھائیوں کو اس بارے میں پتہ چل گیا نا تو دامیار شاہ تو مرے گا لیکن ساتھ میں دادی بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔دادی کو کوئی دکھ نہیں دے سکتی تم جانتی ہو نا میں دادی سے کبھی کچھ نہیں چھپایا ان سے اتنی بڑی بات چھپائی ہے صرف اور صرف ان کی جان کے لیے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ ایک جھٹکا ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے ۔
تو کیا ساری زندگی کے لیے یہ دکھ خود پر سوار کر لو گی کیا ساری زندگی کے لیے یہ چیز خود پر ڈال کر اس تکلیف کو سہتی رہو گی اکیلے ۔
وہ کتنے مزے سے ہمارے گھر آتا ہے سب سے ملتا ہے سب کے سامنے ایک اتنا اچھا انسان بن کر رہ رہا ہے جیسے اس نے کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہیں ۔تمہیں اس سے ڈر نہیں لگتا وہ اسے جھنجھوڑتے ہوئے پوچھ رہی تھی ۔
ڈر لگتا ہے عبادت مجھے اس سے بہت ڈر لگتا ہے اس کی انکھوں سے ڈر لگتا ہے وہ عجیب سے انداز میں مجھے دیکھتا ہے تب ڈر لگتا ہے لیکن میں اپنا ڈر اس پر ظاہر نہیں کر سکتی کیونکہ ایک دفعہ میں نے اس کو بتایا کہ میں اس سے ڈرتی ہوں تو وہ اور شیر ہو جائے گا ۔
میں اسے یہ نہیں بتا سکتی کہ اپنی دادی کی وجہ سے میں مجبور ہو کر خاموش ہوں اگر یہ بتا دیا تو پھر وہ میری مجبوری کو کیش کرے گا ۔
میں اسے جیتنے نہیں دوں گی آج نہیں تو کل میں یہ بات بتا دوں گی دادی کو نہ سہی لیکن امی یا چاچی تک میں یہ بات پہنچا دوں گی ۔بہت سوچ سمجھ کر کہہ رہی تھی جبکہ عبادت اسے اپنے ساتھ لگائے ریلیکس کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
°°°°°°°°
ڈر سے اس کی جان جا رہی تھی ہر تھوڑی دیر کے بعد بجلی چمکتی تو اس کی ہلکی سی چیخ نکلتی تھی۔
جسے وہ اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر بند کرنے کی کوشش کرتی کبھی وہ دروازے کی طرف بھاگ کر باہر جانے کا فیصلہ کرتی ۔
اور سوچتی کہ وہ سب کو بتا دے کہ اسے بجلی کڑکنے سے ڈر لگتا ہے لیکن پھر اسے عجیب بھی لگ رہا تھا اس طرح اپنا ڈر کسی پر ظاہر کرتے ہوئے بھی ۔
اور وہ جو اس کا شوہر تھا اس کے ہر دکھ سکھ کا ساتھی تھا اس کے ڈر میں اس کا سہارا تھا نہ جانے کہاں چلا گیا تھا وہ جو واپس آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔
اس طرح سے کون کرتا ہے ۔ ہماری شادی ویسی نہیں ہے جیسے نارمل شادیاں ہوتی ہیں لیکن پھر بھی اسے احساس تو ہونا چاہیے کہ وہ مجھے یہاں اکیلے چھوڑ کر گیا ہے ۔
بے شک گھر میں نہ سہی لیکن اس کمرے میں تو میں اکیلی ہوں نا وہ ڈر سے پریشان ہوتے ہوئے سوچ رہی تھی جب اچانک لائٹ اف ہو گئی ۔
پھر اسے خیال آیا لائٹ تو اسی وقت بند ہو گئی تھی جب وہ لوگ نیچے بیٹھی ہوئی تھیں یعنی کہ اب یو پی ایس بھی بند ہو چکا تھا ۔
اب اسے مزید ڈر لگنے لگا تھا اوپر سے ٹھنڈ بھی بڑھتی جا رہی تھی دسمبر کا مہینہ اینڈ لگ چکا تھا اور آزاد کشمیر میں دسمبر کی سردی لوگوں کا برا حال کر دیتی تھی یا پھر یہ کہنا زیادہ بہتر رہے گا کہ سردی کا اصل مطلب سمجھا دیتی تھی ۔
اگر کراچی کی بات کی جائے تو وہاں تو اب تک لوگ ہلکے کمبل میں گزارا کر رہے تھے جبکہ آزاد کشمیر کی تیز سردی کا مقابلہ شاید ہی کراچی کا موسم کر سکتا تھا ۔
اور موسمی حالات کے مطابق اسے پتہ چلا تھا کہ مزید چار پانچ دن میں اس علاقے میں برف بھی گرنے والی ہے یعنی کہ موسم مزید سرد ترین ہو جائے گا اور یہ سوچتے ہوئے بھی اس کی جان جا رہی تھی ۔
وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی جب آسمان پر کڑکتی بجلی ایک دفعہ پھر سے چمکتے ہوئے آسمان کو روشن کر گئی تھی اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھتے اپنی چیخ کو روکتی دروازے کی طرف بھاگی تھی ۔
جب سامنے سے آتے وجود سے ٹکرائی تھی ۔اور ٹکرانے کے ساتھ ہی وہ اس کے باہوں میں قید سی ہو چکی تھی ۔
اور شہیر کو اپنے بے حد قریب محسوس کرتے وہ اس کے سینے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی جبکہ شہیر پریشان ہو گیا تھا کہ وہ اچانک اس طرح سے کیوں رو رہی ہے اسے یوں ہی اپنے حصار میں لیے وہ کمرے کے اندر آگیا تھا ۔
عروش۔۔۔میری جان کیا ہو گیا ہے تم اس طرح سے کیوں رو رہی ہو سب کچھ ٹھیک تو ہے نا کسی نے تم سے کچھ کہا ہے کیا وہ پریشانی سے اس سے پوچھنے لگ گیا تھا ۔
جب کہ وہ اسے کوئی بھی جواب نہ دیتے ہوئے مزید رونے لگ گئی تھی اس کے رونے پر تو وہ اور پریشان ہو گیا تھا وہ جاتے ہوئے تو اسے ٹھیک ٹھاک چھوڑ کر گیا تھا ۔
اس سے پہلے کہ وہ اس کے رونے کی وجہ سمجھ پاتا پھر سے چمکنے والے بجلی نے اسے بہت کچھ سمجھا دیا تھا وہ اس سے الگ ہو ہی رہی تھی جب اچانک اسمان پر بجلی چمکی اور وہ ایک دفعہ پھر سے اس کی پناہوں میں آ چکی تھی ۔
وہ ایک لمحے میں سمجھ گیا تھا کہ اس موسم کی وجہ سے وہ اتنی زیادہ ڈر رہی ہے ۔
اچھا تو میری جان کو بارش اور بجلی کے کڑکنے سے ڈر لگتا ہے تو پھر تو مسئلہ بن جائے گا کیونکہ یہاں کا موسم تو ایسا ہی رہتا ہے تو کیا اس موسم میں اتنے ہی قریب رہنے کا ارادہ ہے وہ اس کے کان میں سرگوشی نما آواز میں گنگنایا تھا ۔
لیکن وہ تو جیسے اس کی کوئی بات سن ہی نہیں رہی تھی موسم کا ڈر اور پھر اس کا سہارا بن جانے پر وہ جیسے ہر سوچ سے آزاد ہو چکی تھی ۔
اگر تم اسی طرح میری باہوں میں رہو گی تو یقین کر

04/06/2024

شدت جنون
قسط نمبر 29
اریج شاہ
°°°°°°°°
گھر پر تو ان کا گرینڈ ویلکم ہوا تھا سب نے بہت اچھے سے انہیں گھر کے اندر ویلکم کیا تھا ۔
وہ تو اپنے ویلکم پر بہت خوش ہوئی تھی جب کہ دادی بھی اس طرح بچوں والی سیلیبریشن کو انجوائے کرتیں مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوئی تھیں ۔
شکر ہے اپنے گھر واپس آئی وہاں ہسپتال میں تو دوائیوں کی سمیل سے میرا سر گھومنے لگ گیا تھا ۔
اپنا گھر تو اپنا ہوتا ہے وہ خوشی سے اندر داخل ہوتے ہوئے صوفے پر آ کر بیٹھی تھی اس کے ہاتھ پر ابھی تک پلستر چڑھا ہوا تھا جبکہ ٹانگ میں درد تھا لیکن اتنا زیادہ نہیں کہ وہ چلنے پھرنے میں مشکل پیش آتی۔
بس اب آئندہ اس طرح اچھل کود مت کرنا کہ ہسپتال جانا پڑے امی نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا ۔
ہاں آپ اس میں بھی نا میرا قصور ڈھونڈ لیں قسم کھا کے کہتی ہوں۔میں نے کوئی اچھل کود نہیں کی تھی وہ منہ بنا کر بولی تو سب لوگ مسکرا دیے ۔
لیکن تم وہاں گئی ہی کیوں تھی زبر اس کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگا ۔
دادی نے بھیجا تھا مجھے ۔دادی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ۔اس نے دادی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔
اس دن میں نے دامیار کو فون کیا تھا تو وہ بہت بیمار تھا مجھے لگا اس کے لیے کچھ یخنی وغیرہ بنا کر لے جاتی ہوں لیکن طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو پھر یہ اکیلی ہی وہاں چلی گئی تھی ۔
اور پھر ہمیں دامیار کے اس نوکر مبشر کا فون آیا تھا اس نے بتایا کہ ازو وہاں بلکنی سے نیچے گر گئی ہے۔دادی نے تفصیل سے بتایا ۔
ہائے بے چارہ بچہ پہلے ہی بیمار تھا اور پھر ازو کی حالت پر اور بوکھلا گیا کیسے مارا مارا پھر رہا تھا ہر طرف ہم سے زیادہ تو اسے خیال تھا ہماری ازو کی جان کا ۔
کوئی اور ہوتا تو سر پڑی مصیبت کو نکال کر پھینک دیتا بڑا پیارا بچہ ہے امی تو اس کی تعریفیں کرتے نہ تھک رہی تھیں۔
اور نہیں تو کیا امی یقین کریں جب میں اسے خون دے کر باہر نکلا نا تو وہ مجھے کہہ رہا تھا میں تمہارا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا حد ہو گئی بھلا اپنی بہن کو خون دے کر میں کون سا احسان کر رہا تھا زبر کو تو ہنسی آرہی تھی اس کی حالت کا سوچ کر ۔
ارے بھائی ایویں ڈرامے کر رہا تھا اگر مر جاتی تو اس پہ الزام لگ جاتا نا اس لیے ۔آپ نہیں جانتے ایسے لوگوں کو خبروں میں چلا جاتا کہ اس کے ہاتھوں ایک لڑکی کا مرڈر ہو گیا ہے اپنی بدنامی کی وجہ سے دوڑ بھاگ کر رہا تھا وہ ۔۔۔۔۔ازو نے جیسے اندر کی وجہ بتائی تھی ۔
نہیں ازو ایسا نہیں ہے وہ سچ میں تمہاری فکر کر رہا تھا بارق نے جیسے اسے سمجھانا چاہا تھا ۔
نہیں مجھے ایسا کچھ نہیں لگتا مجھے بھی ڈرامے باز ہی لگ رہا ہے زہرش نے ازا کا ساتھ دیا تھا ۔
اور نہیں تو کیا اسے اچھے سے پتہ ہے ایک بھائی اس کا پولیس میں ہے دوسرا وکیل ہے اور باقی بزنس کی دنیا میں بھی اچھا خاصا نام رکھتے ہیں اسے اندازہ تھا کہ معاملہ دبنے والا نہیں ہے اسی لیے اتنی دوڑ بھاگ کر رہا تھا ۔عبادت نے بھی کہا تو بارق حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا کل تک تو وہ اس کی تعریف کرتے نہ تھکتی تھیں اور آج اس کے خلاف کہہ رہی تھیں۔
مجھے نہیں پتہ تم لوگوں کی سوچ کیا ہے لیکن جس طرح وہ پریشان تھا یقیناً اس کو ہماری ازا کی فکر تھی اور ویسے بھی اب تو ہمارا اس کے ساتھ رشتہ بھی ہے ۔
صرف خبروں میں آنے کے ڈر سے یا کیس بننے کا سوچ کر وہ یہ سب کچھ نہیں کر رہا تھا بلکہ وہ اس لیے یہ سب کچھ کر رہا تھا ۔
کیونکہ ہم سب اس کی فیملی ہیں دادی نے یقین سے کہا تو وہ سب خاموش ہو گئی تھیں اب وہ انہیں کیا بتاتیں کہ وہ یہ سب کچھ کیوں کر رہا تھا ۔
اچھا چھوڑیں اس فضول سے دامیار کے فضول سے ٹاپک کو میری بھابھی کو سامنے لائیں دیکھوں تو صحیح پسند آتی ہے یا نہیں ۔ازا نے اس ٹاپک کو بند کرتے ہوئے کہا تھا ۔
ہاں بچی کدھر چلی گئی صبح بھی بس تھوڑی سی دیر سامنے آئی تھی ۔میرے خیال میں ابھی اسے گھر کا ماحول ٹھیک سے سمجھ نہیں آرہا تھوڑی گھبرائی ہوئی سی لگ رہی ہے ۔چاچی نے ہر طرف نظر گھماتے ہوئے بتایا تھا ۔
ارے چاچی جان فکر نہ کریں اس کی ساری گھبراہٹ کو میں دور کر دیتا ہوں آپ لوگ بیٹھیں میں اسے لے کر اتا ہوں۔
شہیر خود ہی اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تو سب لوگ ہی اس کے اور عروش کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگے تھے بس تھوڑی دیر صبح وہ کمرے سے باہر نکلی تھی لیکن شہیر کے چلے جانے کے بعد وہ واپس کمرے میں چلی گئی تھی ۔اور اس کے بعد واپس نہیں آئی تھی ۔
صبح چاچی نے زبردستی اسے ناشتہ کروایا تھا وہ تو کچھ کھانا ہی نہیں چاہتی تھی ۔
انہیں بچی تو بہت پیاری لگی تھی لیکن اسے اس ماحول میں ایڈجسٹ ہونے میں ابھی تھوڑا سا وقت درکار تھا ۔
اور ویسے بھی اب تک ازا گھر واپس آگئی تھی اور کسی کو بھی اپنے ساتھ ارجسٹ کرنا ازو کے لیے مشکل تھوڑی تھا۔
اس کی تو باتیں ہی ختم نہیں ہوتی تھیں وہ ہر چیز ہینڈل کر لیتی تھی اور یقینا وہ اپنی اس نئی بھابھی کو بھی بہت اچھے سے ہینڈل کرنے والی تھی۔
اور ویسے بھی عبادت نے تو انہیں بتایا تھا کہ وہ دونوں ہی عروش کو جانتی ہیں ۔
اور ازا کے لیے تو یہ بات سرپرائز تھی اس نے خود ہی ابھی تک ازا کو نہیں بتایا تھا کہ شہیر کی بیوی وہی لڑکی ہے جو انہیں شادی پر ملی تھی ۔
°°°°°°°°°°
تم یہاں کمرے میں کیا کر رہی ہو چلو آؤ باہر چلو سب لوگ تم سے ملنا چاہتے ہیں۔
ازو اور دادی بھی گھر واپس آگئی ہیں وہ اس کے پاس آتے ہوئے کہنے لگا جو آرام سے بیڈ پر بیٹھی نہ جانے کیا سوچنے میں مصروف تھی ۔
کیا ہو گیا کن سوچوں میں لگی ہوئی ہو میں تم سے بات کر رہا ہوں اس نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا جو کہ اس کے کمرے میں آنے کے باوجود بھی کسی طرح کا کوئی بھی ایکشن نہیں دے رہی تھی ۔
سن لیا ہے میں نے وہ کافی سختی سے کہتی اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی جبکہ شہیر کو اس کا یہ بدتمیزانہ انداز کچھ عجیب سا لگا تھا ۔
کیا ہوا ہے تم ٹھیک تو ہو نا اس نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا تھا ۔ابھی صبح تک تو وہ بالکل ٹھیک لگ رہی تھی اب نہ جانے وہ کیا سوچ رہی ہوگی شاید اسے اپنے بابا کی یاد آ رہی ہوگی ہاں شاید وہ انہیں مس کر رہی ہوگی ان سے اتنی دور بھی تو آگئی تھی اور اپنے باپ کے علاوہ اس کا تھا ہی کون ۔
ٹھیک ہوں میں مجھے کیا ہوگا اور ہو ہی کیا سکتا ہے مجھے تمہارے اتنے گھٹیا الزام لگانے کے بعد موت تو ویسے بھی نہیں آئی ۔وہ پھر سے اسی طرح بدتمیزانہ انداز میں بولی تھی شہیر نے بس ایک نظر اسے دیکھا تھا پھر نفی میں سر ہلا گیا ۔
تمہارے بابا کو جلد ہی بلاؤں گا میں یہاں پر تو انشاءاللہ تمہاری ساری غلط فہمیاں خود ہی دور ہو جائیں گی۔
میں ان سب معاملوں میں الجھنا نہیں چاہتا وہ خود ہی تمہیں سب کچھ بتا دیں گے اور پلیز اتنا دماغ پر پریشر مت ڈالو سب کچھ بالکل ٹھیک ہے اور تمہارے بابا تم سے ناراض نہیں ہیں وہ سب کچھ صرف ایک ۔۔۔۔۔"
شہیر خدا کے لیے مجھے باتوں میں مت الجھاؤ اور نہ ہی میں تمہاری باتوں میں آنے والی ہوں میں اس ٹاپک پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتی کیونکہ میرا باپ مجھے خود سے الگ کر کے تمہارے ساتھ رخصت کر چکا ہے ۔
وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہتی اپنے آنسو صاف کرنے لگی تھی شہیر کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس لڑکی کے دماغ میں اس وقت کیا چل رہا ہے وہ اس ساری سچویشن کو کس نظر سے دیکھ رہی ہے ۔
اچھا ٹھیک ہے میری جان میں تمہیں کچھ نہیں کہہ رہا ہوں چلو آؤ نیچے چلو سب لوگ تم سے ملنا چاہتے ہیں وہ آرام سے اس کے قریب اتے ہوئے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیے اس کے گرد اپنا حصار بنا چکا تھا ۔
میں اس وقت کسی سے نہیں ملنا چاہتی اس نے انکار کرنا چاہا تھا لیکن وہ اسے یہاں کمرے میں اکیلے چھوڑ کر فضول سوچوں میں بھی الجھانا نہیں چاہتا تھا ۔
میں نے تم سے ہرگز نہیں پوچھا کہ تمہیں نیچے چلنا ہے یا نہیں تمہیں میرے ساتھ آنا ہے اور اسے تم کچھ بھی کہہ سکتی ہو وہ اس کے گرد حصار بناتا قدم اٹھانے لگا تو مجبور ہو کر اسے بھی اپنے قدموں کو حرکت دینی پڑ گئی تھی ۔
°°°°°°°°
آئیے آئیے بھابھی جی وہ سیڑیوں سے اترتی لڑکی کو اپنے بھائی کے ساتھ آتے دیکھ کر بول ہی رہی تھی کہ عروش کو دیکھ کر اس کے منہ کھل گیا ۔
ہاں یہ تو عروش ہے عبادت تو نے پہچانا نہیں یہ تو وہی لڑکی ہے جو ہمہیں شادی میں ملی تھی یہ وہی لڑکی ہے جس کے لیے میں نے کہا تھا اگر اس کا میرے کسی بھائی کے ساتھ ٹانکا فٹ ہو جائے تو مزا آ جائے تجھے یاد ہے نا ۔۔۔۔۔۔"
ہائے اللہ جی وہ قبولیت کی گھڑی تھی اگر اس وقت میں کچھ بھی مانگتی تو مجھے مل جاتا غلط ہو گیا نا کاش اپنے لیے کچھ مانگ لیتی ۔
کیونکہ بھائی کے نصیب میں تو یہی یہ تھی انہیں یہی ملنی تھی میں نے میرا اپنا بھی کام نہیں ہونے دیا ۔وہ ایک بازو پھیلائے اس کے پاس آتے ہوئے اس کے گلے سے لگ گئی تھی ۔
جبکہ عروش کو کافی احتیاط برتنی پڑی تھی کہ کہیں اس کے ہاتھ میں درد نہ ہو جائے ۔
چلیں اب مجھے بتائیں کہ یہ سب کچھ کب سے چل رہا تھا خیر آپ کی لو سٹوری میں بعد میں سنوں گی۔
بابا آپ کو یاد ہے نا میری ڈیل آپ نے کہا تھا ولیمے پہ ہم ساری رسمیں کریں گے اور لوٹیں گے شہیر بھیا کو اب وہ ان دونوں کو ان کے حال پر چھوڑتی اپنے باپ کے پیچھے لگ گئی تھی ۔
جبکہ بارق خوش ہو گیا تھا کیونکہ اسے اب تک یہی لگ رہا تھا کہ ازو نے بابا سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی ہوگی لیکن یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور لگ رہا تھا ۔
ہاں ہاں بالکل کان کھول کر سن لو لڑکے میری بیٹی کی ساری خواہشیں پوری کرنی ہیں اور جو جو رسم ہوتی ہے جس میں بہن کو پیسے ملتے ہیں وہ ساری تم نے کرنی ہیں ۔
بابا روعب دار لہجے میں بولے تو شہیر نے فورا ہاں میں سر ہلایا تھا ۔
جی جی بابا جیسا آپ کہیں گے ویسا ہی ہوگا ہم آج سے ہی ولیمے کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں اور جمعرات کو ولیمہ رکھ لیتے ہیں ۔
بہتر رہے گا میں آج ہی کارڈ چھپواتا ہوں بارق فورا بولا تھا ۔
ہاں آج سے ہی کارڈز وغیرہ کا سارا کام کروا دو اور جن جن کو بلانا ہے بلا لو باقی بہو کے گھر والوں کو بھی ولیمے پر انوائٹ ضرور کرنا ۔
بلکہ ایسا کرنا کہ انہیں لینے کراچی چلے جاؤ اور اگر بہو ساتھ جانا چاہتی ہے تو بے شک اسے بھی ساتھ لے جاؤ ۔
جب سے آئی ہے کمرے میں ہی بند ہے تھوڑا باہر نکلے گی تو اس کی طبیعت پر اچھا اثر پڑے گا ۔بابا اپنی بات مکمل کرتے اپنے کمرے کی طرف چلے گئے تھے ۔
جب کہ وہ سارے خوشی سے اب ازا کے اگے پیچھے ہو گئے تھے کہ اخر اس نے یہ کارنامہ کس طرح سے سرانجام دیا تھا ۔
°°°°°°°°°
جی امی آپ نے مجھے یہاں کمرے میں کیوں بلایا امی دادی کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے ان سے پوچھنے لگی تھیں
دادی نے انہیں بلاتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں بہت ضروری بات کرنی ہے نہ جانے انہوں نے کون سی بات کرنی تھی ۔
آو بہو بیٹھو مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے وہ دراصل سمجھ نہیں آرہا میں بات کی شروعات کیسے کروں ۔
میرا دامیار تمہیں کیسا لگتا ہے؟ وہ ان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگیں
تو امی کو ان کے سوال پر تھوڑی حیرت ہوئی تھی یہ کیسا سوال تھا دامیار تو ان کے بچے جیسا تھا انہیں اچھا تو لگتا ہی تھا ۔
بالکل میرے بیٹوں جیسا ہے امی بہت پیارا ہے لیکن آپ کیوں پوچھ رہی ہیں انہوں نے پوچھا تھا ۔
کیونکہ اس نے رشتہ ڈالا ہے ازو کے لیے وہ ازا سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔اور وہ چاہتا ہے کہ یہ رشتہ میں اس کے لیے مانگوں تم لوگوں سے لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں کس طرح سے بات کی شروعات کروں اس لیے تم سے کہہ رہی ہوں کوئی مشورہ دو ۔
اپنے پوتے کے لیے میں اپنے بیٹے سے اس کی بیٹی کس طرح سے مانگوں وہ کچھ الجھی ہوئی تھیں۔
امی ازا کے بارے میں تو فی الحال میں نے ایسا کچھ نہیں سوچا ہے لیکن دامیار میں تو کوئی برائی نظر نہیں اتی اور پھر وہ تو اپنا بچہ ہے اگر میری نظر سے دیکھا جائے تو مجھے اس رشتے میں کوئی خرابی نظر نہیں آرہی اگر یہ ہو جائے تو اور اچھا ہو جائے گا کہ اپنے گھر میں ہی رہے گی ۔
وہ ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھیں ۔
ہاں بیٹا سوچ تو میری بھی یہی ہے کہ اگر یہ ہو جاتا ہے تو بہت اچھا ہے اور دامیار ماشاءاللہ سے دیکھا بالا بچہ ہے اپنا ہے غیر نہیں ہے ۔
میں سوچ رہی تھی کہ تم اس بارے میں اسامہ سے بات کرو وہ کیا کہتا ہے پھر اسامہ سے پوچھ کر ہم باقی گھر والوں سے اس بارے میں بات کرتے ہیں اگر اسے بہتر لگتا ہو تو ہم رشتے کی بات آگے چلاتے ہیں
دامیار نے مجھ سے بہت آس امید سے اس حوالے سے بات کی ہے اور میں اس کی امیدوں کو توڑنا نہیں چاہتی تم بات کرو اسامہ سے ہو سکتا ہے وہ اس رشتے کے لیے مان جائے اور اگر نہیں مانتا تو بھی اسے منانے کی کوشش ضرور کرنا ۔
اس طرح دامیار ہمارے اور قریب ہو جائے گا ۔اور میرے مرنے کے بعد بھی دامیار کا اس گھر سے ایک بہت مضبوط تعلق جڑ جائے گا وہ بہت اگے تک کا سوچ رہی تھیں ۔
ایسی باتیں مت کریں امی اللہ آپ کو لمبی زندگی دے میں ضرور بات کروں گی اس حوالے سے آج ان سے پوچھوں گی کہ وہ کیا سوچتے ہیں دامیار کے بارے میں مجھے تو یہ رشتہ بہت پسند ہے ۔
اگر ہو جائے تو باقی ان سے پوچھ کے دیکھ لیتی ہوں کہ وہ اس حوالے سے کیا سوچتے ہیں ۔
امی نے اپنی رضامندی دیتے ہوئے کہا تھا تو دادی ایک آس کے ساتھ خوش ہو گئی تھیں کہ اگر ان کی بہو کو اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں تھا تو وہ اپنے شوہر کو منانے کی بھی پوری کوشش ضرور کرے گی ۔اور اگر اسامہ مان گیا تو یقینا باقی سب بھی مان جائیں گے ۔
°°°°°°°°°
50 ہزار دماغ خراب ہو گیا ہے کیا صرف دودھ پلانے کے 50 ہزار لوگی ہرگز نہیں ایسا کرو کہ 10 ہزار پر یہ بات ختم کرو ساتھ میں دو چاکلیٹ وہ جیسے اسے لالچ دے رہا تھا ازا نے منہ بنایا۔
بالکل نہیں ہرگز نہیں آپ مجھے 50 ہزار دیجیے گا اس سے میں خود 60 70 چاکلیٹ لے لوں گی آپ اپنی دو رکھیں اپنے پاس اور میں اس پر کوئی ڈیل نہیں کرنے والی ،
اور اب دوسری رسم کے بارے میں سنیے ایک رسم ہوتی ہے جس میں بہن اپنے بھائی کو دلہا بننے سے پہلے نہانے کے لیے پانی دیتی ہے وہ اس کے پیسے ایک لاکھ وہ کاپی پر لکھ رہی تھی ۔
او باجی تم اپنا پانی رکھو اپنے پاس میرے پاس بہت پانی ہے اور ماشاءاللہ سے میرے گھر کی چھت پر بہت بڑی نیلی ٹینکی ہے جس میں بہت پانی آتا ہے ۔
ٹھیک ہے تو وہاں موٹر والے کمرے کو میں تالا لگا دوں گی اور اس کی چابی کی قیمت ہوگی دو لاکھ اس نے فورا کاپی پر لکھا تھا ۔
دو لاکھ دماغ خراب ہو گیا ہے کیا میں نے صرف نہانا ہے میری ماں نہانے کا اتنا رینٹ کون دیتا ہے وہ پریشانی سے کہنے لگا تھا ۔
اچھا ٹھیک ہے یار 20 ہزار دے دوں گا تھوڑا رحم کھا مجھ پر میں تو کماتا بھی کم ہوں ۔قسم سے تنخواہ دار ملازم ہوں میں ان کا اس نے بارق کی طرف دیکھتے ہوئے اشارہ کیا ۔
عروش میں کہہ رہی ہوں اگر یہ میری بات نہیں مانتے نا تو تم ان کو اپنے پاس نہ بیٹھنے دینا بلکہ ایک منٹ رکو وہ رسم تو میں بھول ہی گئی جب دلہن کی بہنیں دولہے کو پاس نہیں بیٹھنے دیتیں۔
ہائے میری عروشو کی تو کوئی بہن نہیں ہے میں خود اس کی بہن بن جاتی ہوں وہ انکھ دباتے ہوئے بولی تو کب سے خاموش بیٹھی عروش کو ہنسی آگئی ۔
ہاں بس اس کی کمی تھی بہن کے خرچے پورے نہیں ہو گئے سالی بھی بن کر آگئی رحم کھا مجھ پر اتناخرچہ میں افورڈ نہیں کر سکتا وہ منتیں کر رہا تھا جبکہ وہ۔اسے اگنور کرتی ایک کاپی پر لکھنے میں مصروف تھی ۔
لکھو لکھو تم نے جو جو رسم کرنی ہے ساری لکھو میں اس کو ایک سال کی سیلری ایڈوانس دے دوں گا بعد میں چکاتا رہے گا بارق نے کھلی چھوٹ دی تھی ۔
بھائی اپ بھی شامل ہو گئے ہیں اس کے کبھی نہ ختم ہونے والے حساب میں ۔۔۔۔۔" وہ تو بس رو دینے کو تھا ۔
بیٹا میں بھی لٹ چکا ہوں ابھی زیادہ وقت نہیں ہوا سات مہینے پہلے تم دونوں نے ٹیم بنا کر مجھے لوٹا تھا نا یہ تو شروعات ہے ۔
ازو وہ کون سی رسم تھی جو زہرش کی آپی نے سرمہ ڈالا تھا میری آنکھوں میں اس نے کچھ یاد کرتے ہوئے کہا تھا ۔
ہاں وہ رسم تو میں بھول گئی سالی والی رسم ہے یہ بھی لکھ لیتی ہوں سالی بھی تو میں اور عبادت ہی ہیں نا اس نے دانت دکھاتے ہوئے کہا تھا ۔
واؤ یار ہم تو بہت امیر ہونے والے ہیں عبادت بھی کافی ایکسائٹڈ لگ رہی تھی ۔
ہاں نا اچھی دہہاڑی لگے گی ہماری اس نے انکھ دباتے ہوئے کہا تھا جبکہ ان دونوں کی شرارتوں پر عروش بھی مسکرا رہی تھی ۔
نکمیاں اپنے بارے میں ہی سوچ رہی ہیں مجال ہے جو کسی کو میری بیوی کا خیال آیا ہو یار اسے شاپنگ پر ہی لے جاؤ ۔شہیر نے دہائی دی تھی ۔
آپ کو کہنے کی ضرورت نہیں ہے شیری بھائی میں اور عبادت ویسے بھی اسے لے کر جانے ہی والے ہیں ۔اپنے لیے ضرورت کا سارا سامان بھی خرید لے گی اور ولیمے کے لیے ڈریس بھی پسند کر کے ائے گی ۔
اور ہاں دیکھو تصویریں بنا کر نا ساتھ ساتھ مجھے سینڈ کرتی جانا میری پسند بھی تو امپورٹنٹ ہے نا ازو نے بیچ میں اپنی اہمیت کا احساس دلایا تھا ۔
عروش وہ کیا ہے نا اس گھر میں سب سے زیادہ فیشن سینس مجھے ہے اس نے فرضی کالر کھڑے کرتے ہوئے کہا تھا ۔
جبکہ عروش نے مسکرا کر اسے داد دی تھی ۔
°°°°°°°°°
ان سب کے چلے جانے کے بعد ازا کو ایک اور رسم یاد آگئی تو وہ کاپی پینسل لے کر ایک بار پھر سے شہیر کے سر پر سوار ہو گئی تھی ۔
جب وہ گھر میں داخل ہوا تھا ۔
السلام علیکم اس نے گلا کھنکھار کر سلام دیا تھا جب کہ اس کی آنکھوں میں نفرت سے بھر ائی تھی جبکہ شہیر نے مسکرا کر اسے ویلکم کیا تھا ۔
وعلیکم السلام ائیے دامیار بھائی کیسے ہیں آپ اس نے مسکراتے ہوئے اس سے ہاتھ ملایا تھا ۔
اللہ پاک کا کرم ہے میں ٹھیک تم لوگ یہاں اکیلے ہو باقی سب کہاں گئے ہیں اس نے پورے گھر میں نظر دوڑاتے ہوئے پوچھا تھا ۔
لڑکیاں شاپنگ پر گئی ہوئی ہیں امی اور چاچی دونوں اپنی کسی سہیلی کے گھر میں میرے ولیمے کا کارڈ دینے گئیں ہیں۔
بابا اور چاچا بارق بھائی سمیت اپنے کام کے لیے افس میں ہے زبر گھر پر نہیں ہے وہ بھی اپنے کام کے لیے گیا ہوا ہے ۔اور دادی سو رہی ہیں اور یہ محترمہ مجھے بیٹھے بیٹھے لوٹ رہی ہیں اس نے تفصیل سے بتایا تھا ۔
گریٹ یعنی کہ میں بالکل صحیح ٹائم پر آیا ہوں اور ازا سناؤ کیسی طبیعت ہے اب بازو میں درد زیادہ تو نہیں ہوتا نا اس نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تھا انداز ایسا تھا جیسے وہ اسے دیکھتے ہوئے اپنی آنکھوں کی برسوں کی پیاس بجھا رہا ہو اس کے دیدار میں نہ جانے کتنے صحراؤں سے گزر کر آیا ہو ۔
آپ کی مہربانی سے بہت درد ہے اور بہت زیادہ درد ہوتا ہے کیونکہ بازو تین جگہوں سے ٹوٹا ہے اس نے شرم دلاتے ہوئے کہا تھا ۔
ازو ۔۔۔۔شہیر نے سختی سے اسے ٹوکا تھا ۔
اٹس اوکے شہیر وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے میری وجہ سے ہی وہ اتنی تکلیف سے گزر رہی ہے اس کا حق بنتا ہے کہنے کا ڈانٹو مت اسے۔۔۔
اور تم سناؤ اچانک شادی اور پھر رخصتی بھی کروا کے لے آئے ہو اور پھر اچانک آج وہ ولیمے کا کارڈ ملا مجھے یہ سب کیا ہے بھائی ۔ لوگ سرپرائز پارٹی دیتے ہیں تم نے تو سرپرائز شادی کر لی ہے وہ مسکراتے ہوئے اب اس سے باتیں کرنے لگ گیا تھا ۔
جی بس دامیار بھائی حالات ہی کچھ ایسے ہو گئے تھے کہ اچانک ہی سب کچھ کرنا پڑا ولیمہ پہ ضرور ائیے گا آپ ہم سب آپ کا انتظار کریں گے وہ مسکراتے ہوئے اس سے کہہ رہا تھا کہ اس کا فون بجنے لگا ۔
ایک منٹ روکیے میرے دوست کا فون ہے وہ بھی سرپرائز شادی کے بارے میں ہی پوچھ رہا ہوگا وہ مسکراتے ہوئے اپنا فون لے کر باہر نکل گیا تھا جبکہ اب وہ دونوں اکیلے تھے ۔
°°°°°°°°°
وہ کافی گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جب کہ وہ اس کی نظروں سے نہ تو کنفیوز ہوئی تھی اور نہ ہی گھبرائی تھی ۔
مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا تم نے اپنے گھر والوں کو اس بارے میں کچھ بھی کیوں نہیں بتایا ۔میرا مطلب ہے کہ تم چپ کیوں ہو ازا ؟
یو نو واٹ اگر تم بتا دیتی تو میرا اس گھر میں انا بند ہو جاتا میرا مطلب ہے شاید تمہیں میری یہ شکل دوبارہ نہ دیکھنی پڑتی وہ کتنے دنوں سے پوچھنے والا سوال اخر اج پوچھ بیٹھا تھا ۔
میں آپ کے کسی سوال کا جواب دینے کی پابند نہیں ہوں مسٹر اور مجھ سے مخاطب ہونے سے پہلے ہزار دفعہ سوچیے کہ آپ اس قابل ہیں یا نہیں یقینا نہیں ہیں تو اپنی یہ گندی شکل مجھے نہ دکھایا کریں ۔
کیونکہ شرم نام کی کوئی چیز تو آپ میں ویسے بھی نہیں ہے اور کسی خوش فہمی میں مت رہیے گا کہ میں نے کسی کو بتایا نہیں تو میں کسی کو بتاؤں گی بھی نہیں میں جلد ہی آپ کا یہ چہرہ سب کو دکھاؤں گی ۔
وہ سامنے شیشے کی وال سے نظر آتے شہیر کو دیکھ رہی تھی جو اپنے موبائل پر شاید اپنے کسی دوست سے باتوں میں مگن تھا لیکن اس نظر اسی طرف تھی ۔
اسی لیے تو اسے اپنے بھائیوں پر مان تھا ۔وہ اسے یہاں ایک غیر ادمی کے ساتھ چھوڑ کر تو گیا تھا لیکن اس سے لاپرواہ ہرگز نہیں ہوا تھا ۔
میں شادی کرنا چاہتا ہوں تم سے ازا ۔۔۔۔ائی وانٹ ٹو میری یو ۔۔۔۔۔۔اس کا دھیان باہر کی طرف تھا جب اسے دامیار کے یہ الفاظ اپنے کانوں میں سنائی دیے وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی تھی ۔
میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں میں تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں ازا ائی ایم ان لوو ود یو مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے ۔
ہاں محبت کرنے لگا ہوں تم سے اور اب میری اس محبت کو صرف تم کامیاب کر سکتی ہو میری زندگی میں آ جاؤ ازا میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا۔
میں تمہیں دنیا کی ہر خوشی دوں گا میں تمہاری زندگی کو خوشیوں سے بھر دوں گا ائی ریلی ریلی لو یو وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بول رہا تھا جبکہ ازا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سامنے رکھا گملہ اٹھا کر اس کے سر پر دے مارے۔
میں جانتا ہوں اس دن میں نے جو کیا اس حرکت کے بعد شاید تم مجھ پر اعتبار نہیں کر سکو گی لیکن سچ کہوں تو مجھے اپنی محبت کا احساس اسی دن ہوا ہے جب تم مر رہی تھی جانتی ہو اس سوچ کے ساتھ مجھے موت آرہی تھی ۔
مجھے لگ رہا تھا کہ اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو میں بھی مر جاؤں گا تمہاری اکھڑتی سانسوں کے ساتھ مجھے اپنی سانسیں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں اس دن مجھے پتہ چلا کہ جب زندگی میں کوئی انسان خاص ہو جاتا ہے۔
تو اس کی سانسیں دوسرے انسان کی سانسوں کے ساتھ جڑ جاتی ہیں جن کا ہونا یا نہ ہونا زندگی پر اثر کرنے لگتا ہے اگر اس دن تم میری بے چینی کو سمجھ جاتی تو شاید تمہیں بھی پتہ چل جاتا کہ میں محبت کی کون سی منزل طے کر چکا ہوں ۔
ائی ریلی ریلی لو یو میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں بہت زیادہ میں تمہارے لیے کچھ بھی کر گزروں گا کچھ بھی ۔
تمہیں حاصل کرنے کے لیے شاید اگر مجھے اپنی جان کی بازی لگانی پڑے تو وہ بھی کم ہوگی تم سے زیادہ اب کچھ میرے لیے اہم نہیں ہے۔
بس تم ہی میرے لیے میری زندگی بن چکی ہو تم میرے جینے کی وجہ بن چکی ہو بہت بہت چاہنے لگا ہوں تمہیں بہت زیادہ شاید لفظوں میں بیان بھی نہ کر سکوں وہ اپنا دل کھول کر اس کے سامنے رکھ رہا تھا ۔
جب کہ وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی وہ اس کے لفظوں پر کیا ہی یقین کرتی وہ تو اس کی باتوں پر حیران ہو رہی تھی مطلب یہ شخص اپنے مطلب کے لیے اس حد تک گر گیا تھا۔
میرے بھائی کو دیکھ رہے ہو باہر اس وقت کتنا پرسکون نظر آرہا ہے نا اگر تمہاری حرکت کے بارے میں اسے بتا دو نا تو چیر کر رکھ دے گا تمہیں ۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ تم اتنی گھٹیا حرکت کر چکے ہو پھر بھی تم یہاں آ کر میرے سامنے بیٹھ کر یہ بکواس کر رہے ہو اور تمہیں لگتا ہے میں تم پر اعتبار کروں گی ۔
تمہاری اس نام نہاد محبت پر تھوکنا بھی میرے لیے ناقابل قبول ہے اور تم مجھے اپنی باتوں کے جال میں پھنسانا چاہتے ہو ۔۔۔۔۔"
دامیار شاہ اگر اپنی زندگی چاہتے ہو نا تو دوبارہ اس گھر میں قدم مت رکھنا ورنہ ہر دفعہ میں خاموش نہیں رہوں گی چار بھائیوں کی بہن ہوں میں ۔یہ نہ ہو کہ زندگی کا کل تمہاری زندگی میں کبھی ہو ہی نہیں ۔
تم جاننا چاہتے ہو نا کہ میں نے اپنے بھائیوں کو تمہارے بارے میں کیوں نہیں بتایا تو سنو میں نہیں چاہتی کہ میرے بھائیوں کے ہاتھ پر تمہارا گندا خون لگے ۔
یا پھر تمہاری وجہ سے وہ قاتل کہلائیں ۔میں اپنے بھائی کے ہاتھوں کسی کو مروانا نہیں چاہتی ۔
تم سے کوئی ہمدردی نہیں ہے مجھے اور نہ ہی مجھے تمہارے مرنے پر کوئی افسوس ہوگا لیکن اپنے بھائیوں کے ہاتھ تمہارے گندے خون سے رنگوانا نہیں چاہتی میں ۔
لیکن مجھے نہیں لگتا کہ تمہیں اپنی زندگی پیاری ہے ۔میری چپ کو میری کمزوری سمجھنے کی غلطی مت کرنا ۔اٹھاؤ یہ اپنی گندی شکل اور دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔
وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولے جا رہی تھی جبکہ سر جھکائے دامیار کے لبوں پر ایک دل فریب سا تبسم تھا ۔
تم تو بڑی ڈینجرس ہو وہ سر اٹھا کر اس کی طر

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Nawan Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Begumpura
Nawan Lahore
0062