Major Medical Center Kalinjer Payan Kheshgi

Major Medical Center Kalinjer Payan Kheshgi

Share

24 گھنٹے ایمرجنسی کی سہولت

07/10/2025

Superb bowling by young Basit

11/09/2025

“انسانی عادتوں کے ماہرین نے ڈیٹا کی بنیاد پر ریسرچ کی ہے اور معلوم ہوا دنیا میں 99 فیصد غلط فیصلے دن دو بجے سے چار بجے کے درمیان ہوتے ہیں‘ یہ ڈیٹا جب مزید کھنگالا گیا تو پتا چلا دنیا میں سب سے زیادہ غلط فیصلے دن دو بج کر 50 منٹ سے تین بجے کے درمیان کیے جاتے ہیں۔

یہ ایک حیران کن ریسرچ تھی‘ اس ریسرچ نے ”ڈسیزن میکنگ“ (قوت فیصلہ) کی تمام تھیوریز کو ہلا کر رکھ دیا‘ ماہرین جب وجوہات کی گہرائی میں اترے تو پتا چلا ہم انسان سات گھنٹوں سے زیادہ ایکٹو نہیں رہ سکتے‘ ہمارے دماغ کو سات گھنٹے بعد فون کی بیٹری کی طرح ”ری چارجنگ“ کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم اگر اسے ری چارج نہیں کرتے تو یہ غلط فیصلوں کے ذریعے ہمیں تباہ کر دیتا ہے‘ ماہرین نے ڈیٹا کا مزید تجزیہ کیا تو معلوم ہوا ہم لوگ اگر صبح سات بجے جاگیں تو دن کے دو بجے سات گھنٹے ہو جاتے ہیں۔

ہمارا دماغ اس کے بعد آہستہ آہستہ سن ہونا شروع ہو جاتا ہے اور ہم غلط فیصلوں کی لائین لگا دیتے ہیں چناں چہ ہم اگر بہتر فیصلے کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں دو بجے کے بعد فیصلے بند کر دینے چاہئیں اور آدھا گھنٹہ قیلولہ کرنا چاہیے‘ نیند کے یہ30 منٹ ہمارے دماغ کی بیٹریاں چارج کر دیں گے اور ہم اچھے فیصلوں کے قابل ہو جائیں گے‘ یہ ریسرچ شروع میں امریکی صدر‘ کابینہ کے ارکان‘ سلامتی کے بڑے اداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سی ای اوز کے ساتھ شیئر کی گئی۔

یہ اپنے فیصلوں کی روٹین تبدیل کرتے رہے‘ ماہرین نتائج نوٹ کرتے رہے اور یہ تھیوری سچ ثابت ہوتی چلی گئی‘ ماہرین نے اس کے بعد ”ورکنگ آوورز“ کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا‘آفس کے پہلے تین گھنٹے فیصلوں کے لیے بہترین قرار دے دیے گئے‘ دوسرے تین گھنٹے فیصلوں پر عمل کے لیے وقف کر دیے گئے اور آخری گھنٹے فائل ورک‘ کلوزنگ اوراکاؤنٹس وغیرہ کے لیے مختص کر دیئے گئے‘ سی آئی اے نے بھی اس تھیوری کو اپنے سسٹم کا حصہ بنا لیا۔

جنرل احمد شجاع پاشا نے ایک بار بتایا تھا‘ امریکی ہم سے جب بھی کوئی حساس میٹنگ کرتے تھے تو یہ رات کے دوسرے پہر کا تعین کرتے تھے‘ میں نے محسوس کیا یہ میٹنگ سے پہلے ہمارے تھکنے کا انتظار کرتے ہیں چناں چہ ہم ملاقات سے پہلے نیند پوری کر کے ان کے پاس جاتے تھے۔ ایک فقیر سے پوچھا ”تم لوگ مانگنے کے لیے صبح کیوں آتے ہو اور شام کے وقت کیوں غائب ہو جاتے ہو“ فقیر نے جواب دیا تھا ”لوگ بارہ بجے تک سخی ہوتے ہیں اور شام کو کنجوس ہو جاتے ہیں‘ ہمیں صبح زیادہ بھیک ملتی ہے“ ۔

آج سے پچاس سال پہلے لوگ زیادہ خوش ہوتے تھے‘ یہ شامیں خاندان کے ساتھ گزارتے تھے‘ سپورٹس بھی کرتے تھے اور فلمیں بھی دیکھتے تھے‘کیوں؟ کیوں کہ پوری دنیا میں اس وقت قیلولہ کیا جاتا تھا‘ لوگ دوپہر کو سستاتے تھے مگر انسان نے جب موسم کو کنٹرول کر لیا‘ یہ سردی کو گرمی اور گرمی کو سردی میں تبدیل کرنے میں کام یاب ہو گیا تو اس نے قیلولہ بند کر دیا چناں چہ لوگوں میں خوشی کا مادہ بھی کم ہو گیا اور ان کی قوت فیصلہ کی ہیت بھی بدل گئی۔

ریسرچ نے ثابت کیا ہم اگر صبح سات بجے اٹھتے ہیں تو پھر ہمیں دو بجے کے بعد ہلکی نیند کی ضرورت پڑتی ہے اور ہم اگر دو سے تین بجے کے دوران تھوڑا سا سستا لیں‘ ہم اگر نیند لے لیں تو ہم فریش ہو جاتے ہیں اور ہم پہلے سے زیادہ کام کر سکتے ہیں‘ پوری دنیا میں فجر کے وقت کو تخلیقی لحاظ سے شان دارسمجھا جاتا ہے‘ کیوں؟ ہم نے کبھی غور کیا‘ اس کی دو وجوہات ہیں‘ ہم بھرپور نیند لے چکے ہوتے ہیں لہٰذا ہمارے دماغ کی تمام بیٹریاں چارج ہو چکی ہوتی ہیں اور دوسرا فجر کے وقت فضا میں آکسیجن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور آکسیجن ہمارے دماغ کے لیے اکسیر کاد رجہ رکھتی ہے۔

یہ ذہن کی مرغن غذا ہے چناں چہ ماہرین کا دعویٰ ہے آپ اگر بڑے فیصلے کرنا چاہتے ہیں تو آپ یہ کام صبح بارہ بجے سے پہلے نمٹا لیں اور آپ کوشش کریں آپ دو سے تین بجے کے درمیان کوئی اہم فیصلہ نہ کریں کیوں کہ یہ فیصلہ غلط ہو گا اور آپ کو اس کا نقصان ہوگا۔

26/08/2025

آفس ٹائم

06/08/2025
Photos from Major Medical Center Kalinjer Payan Kheshgi's post 06/08/2025

یہ حال ہے پاکستان میں
غریب سے ٹیکس وصول کرتے ہیں اور عیاشیوں کے مزے بڑے شخصیات کرتے ہیں

04/08/2025

‏جب دل دھڑکنا بند کرتا ہے، تو زندگی بھی رک جاتی ہے۔ دل کی بیماری دنیا بھر میں موت کی سب سے بڑی وجہ ہے یہاں تک کہ یہ تمام اقسام کے کینسر اور حادثات کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ مگر اچھی خبر یہ ہے کہ دل کو 20 سال جوان رکھنے کے لیے کچھ سادہ مگر مؤثر اقدامات موجود ہیں۔ سب سے پہلا مسئلہ: آپ کی شریانیں سخت ہو رہی ہیں۔ جب شریانیں لچک کھو دیتی ہیں، تو خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور دل پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، جو بالآخر ہارٹ اٹیک یا فالج کا سبب بن سکتا ہے
‏عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ خون کی نالیاں آہستہ آہستہ سخت ہونے لگتی ہیں، جس سے بلڈ پریشر میں اضافہ ہوتا ہے اور دل پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ یہ ایک خطرناک چکر ہے جو وقت کے ساتھ جسم کو کمزور کرتا ہے۔ تمباکو نوشی، زیادہ چینی کا استعمال اور ذہنی دباؤ اس عمل کو مزید تیز کر دیتے ہیں۔ اگر ان وجوہات پر قابو نہ پایا جائے تو دل کی بیماریاں جلد حملہ آور ہو سکتی ہیں۔ اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ شریانوں کو جوان اور لچکدار رکھا جائے تاکہ خون کی روانی بہتر ہو اور دل پرسکون انداز میں کام کرتا رہے۔
بڑا گوشت کا استعمال کم سے کم کریں
گیس والے فوڈ کا استعمال کم سے کم کریں،جیسے ڈال چنا لوبیا وغیرہ
اور روز چہل قدمی کری۔

23/06/2025

‏تین میں سے دو مرد 35 سال کی عمر سے پہلے ہی بالوں سے محروم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف بڑھتی عمر کا نتیجہ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ روزمرہ کی چند عادات خاموشی سے بالوں کی جڑوں کو نقصان پہنچا رہی ہوتی ہیں — اور ہمیں اس کا شعور تک نہیں ہوتا۔ خوش قسمتی سے، قدرتی طریقوں سے دوبارہ بالوں کی نشوونما ممکن ہے۔ آج ہی سے ان 5 سادہ اور مؤثر اقدامات پر عمل شروع کریں، جو آپ کے بالوں کی صحت بحال کر سکتے ہیں اور قدرتی طور پر نئی نشوونما کو متحرک کر سکتے ہیں۔‏جب آپ کا جسم دباؤ، ہارمون کی خرابی یا سوزش جیسے مسائل کا شکار ہوتا ہے، تو وہ صرف بچاؤ اور بقا پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
اس دوران بالوں کی نشوونما اس کی ترجیح نہیں رہتی اور یہی وجہ ہے کہ بال گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔
یہ ہیں 3 واضح نشانیاں کہ آپ کے بال تیزی سے جھڑ رہے ہیں:

بالوں کی مانگ چوڑی ہونا یا کھوپڑی نظر آنا

نہاتے یا برش کرتے وقت غیر معمولی بال گرنا
بالوں کا پتلا اور کمزور ہو جانا، خاص طور پر ماتھے یا تاج کے حصے پر
یہ اشارے وقت پر پہچان کر اقدامات کرنا بہت ضروری ہے۔‏بالوں کا جھڑنا آپ کے جسم کا ایک ابتدائی وارننگ سگنل ہوتا ہے یعنی اندرونی نظام میں کچھ ٹھیک نہیں چل رہا۔

اس کے پیچھے یہ اہم وجوہات ہو سکتی ہیں:

• ڈی ایچ ٹی (DHT) کی زیادتی جو بالوں کی جڑوں کو سکڑاتی ہے
• غذائی اجزاء کی کمی جیسے آئرن، زنک، B12
• کھوپڑی میں خون کی ناقص روانی جس سے غذائیت نہیں پہنچتی
• ذہنی دباؤ اور خراب نیند جو ہارمونز بگاڑتی ہے
• آنتوں میں سوزش جو غذائی جذب متاثر کرتی ہے
لیکن خوشخبری یہ ہے:
یہ مسائل قابلِ حل ہیں اور صحیح اقدامات سے بال دوبارہ اگ سکتے ہیں۔‏بالوں کی جڑیں (follicles) فوراً نہیں مرتیں
بلکہ وہ غیرفعال (dormant) ہو جاتی ہیں۔
اگر آپ بروقت مسئلے کو پہچان لیں، تو ان جڑوں کو دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے اور قدرتی طور پر بال اُگ سکتے ہیں۔

پہلا قدم: اُن وجوہات کو ختم کریں جو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

یعنی:

• ذہنی دباؤ کو کم کریں
• نیند کو بہتر بنائیں
• ڈی ایچ ٹی بڑھانے والی خوراک (جیسے پراسیسڈ فوڈ، شکر) سے پرہیز کریں
• الکحل، سگریٹ، اور ویپنگ ترک کریں
• آنتوں کی صحت کا خیال رکھیں

یہ بنیاد ہے صحت مند بالوں کی بحالی کی۔‏سیڈ آئلز (بیجوں کے تیل)
• انتہائی گرم پانی سے نہانا
• بالوں کو سختی سے باندھنا (ٹائٹ ہیر اسٹائلز)
• کیمیکل سے بھرپور شیمپو
یہ سب عادات آپ کی بالوں کی جڑوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بالوں کو کمزور، پتلا اور آخرکار ختم کر دیتی ہیں۔
اگر آپ واقعی سنجیدہ ہیں کہ اپنے بال دوبارہ اُگائیں اور انہیں قدرتی طور پر صحت مند بنائیں،
تو ان نقصان دہ چیزوں کو اپنی زندگی سے فوراً نکال دیں۔
یاد رکھیں: بالوں کی بحالی باہر سے نہیں، اندر سے شروع ہوتی ہے اور ہر چھوٹی تبدیلی فرق ڈالتی ہے۔‏دوسرا قدم: DHT کو متوازن کریں

جب جسم میں DHT (ڈائی ہائیڈرو ٹیسٹوسٹیرون) کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے،
تو یہ بالوں کی جڑوں کو سکیڑ دیتا ہے، جس سے بال پتلے ہوتے ہیں اور گرنے لگتے ہیں۔
اسے متوازن رکھنے کے لیے:

• گہری نیند (خصوصاً REM sleep) کو یقینی بنائیں
• ذہنی دباؤ کم کریں سانس کی مشقیں، مراقبہ، اور سکون بخش عادات اپنائیں
• روزمیری آئل یا کدو کے بیجوں کا تیل (Pumpkin seed oil) کھوپڑی پر لگائیں یہ قدرتی DHT بلاکرز ہیں

اور سب سے اہم بات:
تسلسل (Consistency) ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
روزانہ معمول بنا لیں، اور نتائج صبر کے ساتھ دیکھیں۔‏تیسرا قدم: غذائی کمی کو دور کریں

اگر آپ کے جسم میں اہم غذائی اجزاء کی کمی ہے، تو بالوں کا جھڑنا لازمی ہے
خصوصاً جب آپ کی کھوپڑی سوجی ہوئی ہو یا بند مساموں کا شکار ہو۔
یہ بنیادی غذائی اجزاء بالوں کی صحت کے لیے ضروری ہیں:

• بایوٹن – بالوں کی نشوونما کے لیے
• زنک – ہارمون توازن اور خلیاتی مرمت میں مدد دیتا ہے
• آئرن – آکسیجن پہنچانے کے لیے
• وٹامن ڈی – بالوں کے خلیات کو فعال رکھنے کے لیے
• پروٹین – بالوں کی بنیادی ساخت

لیکن یاد رکھیں:
اگر آپ کی کھوپڑی بند، چکنی یا سوزش زدہ ہے تو صرف سپلیمنٹس کافی نہیں
پہلے کھوپڑی کی صفائی اور خون کی روانی بہتر بنانا ضروری ہے۔‏چوتھا قدم: آنتوں کی صحت کو بہتر بنائیں

اگر آپ کی آنتوں میں سوزش ہو تو جسم غذائی اجزاء جذب نہیں کر پاتا، چاہے آپ کتنا ہی اچھا کھا رہے ہوں۔
اس کے ساتھ ساتھ، آنتوں کی خرابی ذہنی دباؤ کے ہارمونز کو بھی بڑھاتی ہے جو بالوں کی جڑوں کو کمزور کرتے ہیں۔
آنتوں کی صحت بہتر بنا کر نہ صرف غذائی اجزاء مؤثر انداز میں جذب ہوں گے، بلکہ بالوں کی نشوونما بھی مضبوط ہوگی۔

یہ ہیں 8 غذائیں جو بالوں کے جھڑنے کے خلاف مددگار ہیں:

ہڈیوں کا شوربہ (Bone broth)

دہی یا کیفر (Probiotic-rich yogurt/kefir)
ہلدی
ادرک
سبز پتوں والی سبزیاں
کدو کے بیج
اخروٹ
السی کے بیج (Flax seeds)
یہ غذائیں سوزش کم کرتی ہیں، آنتوں کی دیوار مضبوط بناتی ہیں، اور بالوں کو جڑ سے تقویت دیتی ہیں۔‏**پانچواں قدم: کھوپڑی میں خون کی روانی بہتر بنائیں**

بالوں کی جڑوں تک **آکسیجن اور غذائی اجزاء** تبھی پہنچتے ہیں جب کھوپڑی میں خون کی روانی صحیح ہو۔
جب گردش کمزور ہو جائے، تو بالوں کی **نشوونما رک جاتی ہے**
اور اگر بال جھڑ جائیں، تو دوبارہ اگنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

یاد رکھیں:
**خون کی روانی = نشوونما**
اور
**بند گردش = بالوں کا زوال**

اب اگلا قدم یہ ہے:

• روزانہ **سر کی مالش** کریں (خصوصاً انگلیوں یا نرم برش سے)
• **روزمیری آئل** استعمال کریں یہ قدرتی خون بڑھانے والا ہے
• سر جھکا کر (inversion method) 2–3 منٹ روزانہ مالش کریں
• ہلکی **ورزش** یا یوگا (جیسے downward dog) سے دوران خون تیز کریں

تسلسل سے عمل کریں بال ضرور جواب دیں گے۔

Photos from Major Medical Center Kalinjer Payan Kheshgi's post 09/02/2025

ڈاکٹر ندیم اور ڈاکٹر عادل صاحب کا شکریہ
کچھ روز قبل مجھے سینہ میں درد ہوا ،ہاسپٹل گیا ،ڈاکٹر صاحب نے سی سی جی تجویز کی ،مگر نارمل آیا ،پھر ہارٹ اٹیک کے لئے جو ٹسٹ ہوتا وہ کیا ،وپ بھی نارمل ،ایکسرے ،وہ بھی نارمل ،پھر ایکو ،اس میں خطرناک رپورٹ دیا،کہ ہارٹ اٹیک ہوچکا ہے ،سنجیوگرسفی کریں ،میں نے پیمنٹ بھی کی مگر خوش قسمتی سے انکار کیا ،،داکٹر نے کہا پٹھان ہوکر ڈر رہے ہو ،میں نے کہا نہیں ،بڈ دل نہیں چاہتا ،ایمرجنسی میں پاکستان گیا 13 روز کے لئے ،پہلے اپنے بھتیجے ڈاکٹر ندیم کو دکھایا ،اس نے میرا نبض چیک کیا،بلڈ پریشر ،کہا نہیں ہوسکتا یہ ،اپ کو معدہ کا مسئلہ ہے ،ہارٹ اٹیک کوئی معمولی چیز نہیں ہے ،مریض کا پورا سسٹم چینج ہو جاتا ہے ،چل نہیں سکتا ،بوڑھا بوڑھا لگتا ہے ،بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا ہے ،نبض تبدیل ہوجاتا ہے، فکر ناٹ
مگر فیملی کی باتیں سن سن کر پھر کمپلیکس ہاسپٹل بھتیجے ڈاکٹر عرفان کے ساتھ گیا،وہاں پھر ڈاکٹر نے ای سی جی اور ایکو کیا،نارمل آیا ،پھر بھی شک تھا
پشاور کے ایک ڈاکٹر صاحب شاہ زیب کو دکھایا ،اس نے بھی کہا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ،پھر بھی اگر شک ہے تو انجیو گرافی کرالیں ،مگر یہ بھی کمپلیکیٹڈ ٹسٹ ہے،بعض اوقات مریض کو اٹیک بھی آسکتا ہے ،
شکر ہے انکار کیا،
پھر واپس آگیا ،سعودی میں پھر ایک ہاسپٹل گیا ،ای سی جی ڈاکٹر صاحب نے تجویز کیا ،نارمل پھر ،اسٹریس ٹسٹ کیا،وہ بھی نارمل آیا ،ڈاکٹر صاحب نے میڈیکل اسپیشلسٹ کے پاس رفر کیا ،کل الٹراساؤنڈ اور بلڈ ٹیسٹ کئے ، آج ان شاءاللہ چیک کریں گے،
مگر پاکستان میں جاکر میرا بھتیجا ڈاکٹر ندیم ہارٹ کے بارے میں اسپیشلسٹ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ،نے پہلے ہی بتا دیا ،کہ کاجی باہر ممالک کے ٹسٹ کو زیادہ سیریس مت لینا ،ان کے مشین بہت ہی اعلیٰ معیار کے ہوتے ہیں ،وہ بعض اوقات ڈسٹ گرد غبار کو بھی دکھا دیتے ہیں ،جس سے ڈاکٹر اور مریض دونوں پریشان ہوجاتے ہیں
آپ کو کوئی ہارٹ اٹیک نہیں ہوا ہے ،ہریشان مت ہو ،یہ معدہ کا پرابلم ہے ،اپ کا معدہ بہت کمزو ہے ،الٹرساونڈ وغیرہ کرلیں
اور یہ بات مجھے ڈاکٹر عادل صاحب نے بھی ایک بار گروپ میں بتایا تھا،جب میرا ایس جی پی ٹی نیچے نہیں آرہا تھا،اگر آپ لوگوں کو یاد ہو،
میرا ساتھ جو دوسرا بھتیجا گیا تھا ہارٹ اسپیشلسٹ کے پاس ڈاکٹر عرفان ،وہ بھی کافی پریشان ہوا جب ڈاکٹر صاحب نے کہا ،اسی ایکو رپورٹ کے مطابق تو اس کو ہارٹ اٹیک ہوچکا ہے ،مگر ای سی جی اور اس کے چال چلن میں فرق نہیں آیا ،یہ نہیں ہوسکتا ،دوبارہ کریں ،پھر ای سی جی نارمل ،ایکو خود اکر چیک کیا دو تین اور ڈاکٹرز کو بھی ایکو مشین میں دکھایا ،کہ کہاں ہے چینجنگ؟ ،اس نے الٹراساؤنڈ ،بلڈ ٹسٹ ،یورین،اسٹول کا ٹسٹ لکھا، کل ان شاءاللہ رپورٹ ملے گا
مطلب:-ڈاکٹر ندیم میرا بھتیجا اس کا کوئی ثانی نہیں ہارٹ کے بارے میں
پھر ہمارے گروپ کے سینئر دوست ڈاکٹر عادل صاحب
دونوں کافی سمجھدار اور قابل ترین لوگ ہیں
مگر قدردان نہیں ملتے دونوں کو
اللّٰہ تعالٰی دونوں کو اچھے صحت اور اس کا صلہ عطا فرمائے آمین ثم آمین
نتیجہ:-
کبھی بھی غیر ضروری ٹسٹ مت کریں ،اور ایک ڈاکٹر صاحب پر آنکھیں بند کرکے بھروسہ بھی مت کریں ،جب تک کہ آپ اس سے کئی بار علاج نہ کرائیں
پرہیز بڑے گوشت ،چربی،اور فضول ٹائپ کے چاول سے
ہمیشہ چاول بوائل کرکے پانی نکال کر کھائیں

31/10/2024

‏محکمہ پاسپورٹ نے رولز میں ترمیم کرتے ہوئے شناختی کارڈ ایڈریس کی شرط ختم کردی، جسکےبعد اب شہری پاکستان کےکسی بھی شہر سےپاسپورٹ بنواسکیں گے۔
پاسپورٹ رولزمیں ترمیم کامراسلہ علاقائی دفاترکو بھیج دیاگیا، جسکے مطابق نئی پالیسی کےتحت شہریوں کو حدود کےدائرہ اختیار میں نرمی دی جائےگی۔
‏نئے پاسپورٹ اجراء میں تاخیر پر قابو پانے کے لیے اہم فیصلے کرلیے گئے
مراسلے میں کہاکہ پاکستان کاکوئی بھی شہری کسی بھی شہرسے پاسپورٹ کیلئے اپلائی کرسکتا ہے،ایڈریس کی بنیاد پر پاسپورٹ بنانے کی سہولت سے انکار نہیں کیاجائے گا۔روزانہ صرف 20 سے 22 ہزار پاسپورٹ فراہم کیے جا سکتے ہیں

31/10/2024

افسوسناک خبر
پرسوں بھی حاجی نواب بس اسٹاپ پر موٹر سائیکل ایکسیڈنٹ ہوا ،ایک پیارا نوجوان ہیلمٹ نہ پہننے کی وجہ سے اس دنیا سے چلا گیا
کل دو نوجوان خویشگی میں ایک تیرا سالہ اور ایک سولہ سالہ وفات ہوا
تینوں کی ہیلمٹ نہ پہننے کی وجہ تھی
تینوں کو چوٹ سر پر لگی
تینوں اسی چوٹ کی وجہ سے وفات ہوگئے
یہ سارا پولیس اور انتظامیہ کی ناکامی ہے
کم از کم بچوں کو ڈرائیں کہ وہ ہیلمٹ کا استعمال کریں
والدین بچوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ ہیلمٹ پہنے ،مگر بچے کہتے ہیں ،بال خراب ہوتے ہیں
اگر پولیس اسکولوں آور کالجوں کے سامنے صرف دو دن رہے اور وارننگ دیدیں کہ اگر ہیلمٹ استعمال نہیں کیا تو موٹر سائیکل بند کردینگے ،پھر دیکھنا کیسے استعمال کرتے ہیں
اور اسکول اور کالج کے اساتذہ کرام تو بالکل ایسے نصیحت نہیں کرتے ،
اگر پولیس اور اساتذہ کرام کوشش شروع کریں تو ان کو دیکھنے کے بعد پولیس اور اساتذہ کرام کے بچے بھی ہیلمٹ پہننا شروع کر دینگے
جیسا کروگے ویسا بھروگے
پولیس اور اساتذہ کرام اور والدین کے لئے ایک پیغام

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Nowshera?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


محلہ/وتوزی
Nowshera