Hamad Amjad

Hamad Amjad

Share

This page is about to spread humanity,peace, happiness.

21/11/2023

تو یہ ہے ہمارے ہاں استعمال ہونے والی ایک عام انیٹی بائیوٹک "اگمینٹن" (augmentin) جو میری نظر میں میڈیکل سائنس کا ایک خوبصورت "جگاڑ" ہے۔

اگمینٹن کی گولی میں "amoxicillin" نام کی ایٹنی بائیوٹک ہوتی ہے، اور سب اینٹی بائیوٹکس کی طرح یہ بھی بیکٹیریال انفیکشن کو ختم کرتی ہے۔ amoxicillin کا تعلق اینٹی بائیوٹکس کے سب سے بڑے گروپ "beta lectum antibiotics" سے ہے۔ یہ ساری اینٹی بائیوٹکس بیکٹریا کی سیل وال پر حملہ کرکے بیکٹیریا کو ختم کرتی ہیں۔

لیکن بیکٹیریا بھی بڑا چالاک ہے، اس نے اتنی ساری اینٹی بائیوٹکس کا ایک ہی علاج نکالا۔ کچھ بیکٹیریا ایسا انزائم (beta lactamase) بنانے لگ گئے جو ان اینٹی بائیوٹکس کو ناکارہ کر دیتا ہے۔ یعنی جو اینٹی بائیوٹک بیکٹیریا کو "توڑنے" آئیں، بیکٹیریا نے انہیں ہی "توڑ" دیا۔

یہاں پر آتا ہے ہمارا "جگاڑ"۔ ہم نے بیکٹیریا کے اس انزائم کو پکڑا اور کچھ ایسے کیمکلز لے کر آئے جو اس انزائم کو ناکارہ کردے۔ ایسا ہی ایک کیمکل "clavulanic acid" ہے۔ جو بیکٹیریا کے اینٹی بائیوٹک ناکارہ کرنے والے انزئم کو ہی ناکارہ کر دیتا ہے۔

تو ہم نے اپنی amoxicillin کو اس clavulanic acid کے ساتھ ملا دیا اور یوں بن گئی ہماری اگمینٹن !!!

یعنی پہلے ہم نے بیکٹیریا کو ختم کرنے کے لیے اینٹی بائیوٹک بنائی، تو بیکٹیریا نے اس کے جواب میں انزائم بنا لیا تو ہم نے اس کا بندوبست بھی کرلیا۔ اسی طرح ہمارے پاس مختلف اینٹی بائیوٹکس اور کیمکلز کی جوڑیاں اور دو مختلف اینٹی بائیوٹکس کے کمبینیشن موجود ہین

لیکن کیا اس طرح ہم بیکٹیریا سے جیت گئے ؟ وقتی طور پر تو ہاں لیکن لگتا ہے بیکٹیریا پھر سے بازی بدل دے گا، بلکہ ایسے بیکٹیریا بھی موجود ہیں جو تقریباً سب اینٹی بائیوٹکس کو فیل کر چکے ہیں۔

یہ "antibiotic resistance" کی جنگ ہے، جس میں بیکٹیریا ایک عرصے کے بعد ایک اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت پیدا کرلیتا ہے۔ ویسے تو یہ کام "ارتقائی اصولوں" کے مطابق ہوتا ہے۔ لیکن ہم انسانوں کی طرف سے اینٹی بائیوٹکس کا بلا ضرورت اور غلط استعمال اس عمل کو شدید کر دیتا ہے، جس میں ہمارا اور ہماری آنے والی نسلوں کا نقصان ہے، کیونکہ آج جو بیکٹیریا آسانی سے ختم ہو رہا ہے کل کو وہی بیکٹیریا مشکل پیدا کر سکتا ہے۔

ہمارے پاکستان میں سرکاری رپورٹس بتاتی ہیں کہ کس طرح انسان اور جانوروں میں اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے، جو بہت خطرناک ہے۔ خود میں بھی اس غلط کام کا نشانہ بن چکا ہوں۔ گیارہ سال کی عمر میں میری ٹانگ کے پٹھوں میں اندرونی چوٹ لگی، اور اب میں جانتا ہوں کہ اس وقت مجھے اینٹی بائیوٹکس کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میرا علاج کرنے والے "ڈاکٹر صاحب" نے مجھے مہینے کے لیے یہی اگمینٹن لکھ دی۔ افسوس۔۔۔

ہر سال یہ ہفتہ (18 - 24 نومبر) عالمی ادارہ صحت کی طرف سے اینٹی بائیوٹکس اور antibiotic resistance کی آگاہی کے طور پر منایا جاتا ہے، تو آپ بھی دیکھیں کہ کہیں آپ غیر ضروری اور غلط طریقے سے اینٹی بائیوٹکس تو استعمال نہیں کر رہے۔۔۔!!!

15/11/2023

*سارکوپینیا*
عمر بڑھنے کے نتیجے میں ڈھانچے کے پٹھوں کا کم ہوتے جانا طاقت کا زوال ہے ۔

یہ ایک خوفناک صورتحال ہے۔
آئیے سرکوپینیا پر غور کریں!

1- زیادہ سے زیادہ کھڑے رہنے کے قابل ہونے کی عادت پیدا کرنی چاہئیے ۔
کم سے کم بیٹھیں ۔
بیٹھ سکتے ہیں تو کم سے کم لیٹیں ۔

2 - اگر کوئی ادھیڑ عمر ہسپتال میں داخل ہو تو اسے مزید آرام کرنے کو نہ کہیں ۔ لیٹ کر آرام کرنے اور بستر سے نہ اٹھنے کا مشورہ نہ دیں ۔

ایک ہفتے تک لیٹنے سے پٹھوں
کی تعداد کا کم از کم 5 فیصد کم ہو جاتا ہے ۔
بوڑھا آدمی اپنے پٹھے دوبارہ بنا نہیں سکتا بس ایک دفعہ گئے تو گئے ۔

عام طور پر بہت سے بزرگ جو مددگاروں کی خدمات حاصل کرتے ہیں اپنے عضلات تیزی سے کھو دیتے ہیں ۔

3 - سرکوپینیا آسٹیوپوروسس سے زیادہ خوفناک ہے ۔
آسٹیوپوروسس میں آپ کو صرف محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ گر نہ جائیں جب کہ سارکوپینیا نہ صرف زندگی کے معیار کو متاثر کرتا ہے بلکہ پٹھوں کی ناکافی مقدار کی وجہ سے ہائی بلڈ شوگر کا سبب بھی بنتا ہے ۔

4 - مسلز ایٹروفی میں سب سے تیزی سے نقصان ٹانگوں کے پٹھوں کو ہوتا ہے ۔ کیونکہ جب کوئی شخص بیٹھتا ہے یا لیٹتا ہے تو ٹانگیں حرکت نہیں کرتیں اور ٹانگوں کے پٹھوں کی طاقت متاثر ہوتی ہے یہ بہت اہم ہے ۔

آپ کو سارکوپینیا سے محتاط رہنا ہوگا ۔

سیڑھیاں چڑھنا اور اترنا ، ہلکی دوڑ ، سائیکل چلانا یہ سب بہترین ورزشیں ہیں اور یہ پٹھوں کو بڑے پیمانے کو بڑھا سکتی ہیں ۔

بڑھاپے میں بہتر معیار زندگی کے لیے اپنے بزرگوں اور پیاروں کو زیادہ سے زیادہ بھیجیں تاکہ انسانی پٹھوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے ۔

*بڑھاپا پاؤں سے شروع ہوتا ہے!*

اپنے پاؤں کو متحرک اور مضبوط رکھیں ۔
جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے جاتے ہیں ہمارے پیروں کو ہمیشہ متحرک اور مضبوط رہنا چاہیے ۔

اگر آپ صرف دو ہفتے تک اپنی ٹانگیں نہیں ہلاتے ہیں تو آپ کی ٹانگوں کی حقیقی طاقت 10 سال تک کم ہو جاتی ہے لہذا
*باقاعدہ ورزش کرنا اور پیدل چلنا بہت ضروری ہے*۔

*پاؤں کالم کی ایک قسم ہے*
جس پر انسانی جسم کا پورا وزن ہے ۔
ہر روز پیدل چلنا ضروری ہے ۔
اہم بات یہ ہے کہ انسان کی 50 % ہڈیاں اور 50 % پٹھے پاؤں میں ہوتے ہیں ۔

*کیا آپ روزانہ پیدل چلتے ہیں*

انسانی جسم میں سب سے بڑا اور مضبوط جوڑ اور ہڈیاں بھی ٹانگوں میں پائی جاتی ہیں ۔

انسانی سرگرمیوں اور توانائی کا 70 ٪ حصہ پاؤں سے ہوتا ہے ۔

*پاؤں جسم کی حرکت کا مرکز ہے*۔

دونوں ٹانگوں میں انسانی جسم کے 50 % اعصاب، اور 50 % خون کی نالیاں ہیں اور 50 % خون ان میں رواں ہے ۔

بڑھاپے کا آغاز پاؤں سے اوپر کی طرف ہوتا ہے ۔

*ٹانگوں کی ممکنہ ورزش ستر سال کی عمر کے بعد بھی کرتے رہیں*
ہر روز کم از کم 30-40 منٹ تک وقفے وقفے سے چہل قدمی کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آپ کی ٹانگوں کی مناسب ورزش ہو رہی ہے اور آپ کی ٹانگوں کے پٹھے صحت مند ہیں۔

اس اہم تحریر کو اپنے بزرگوں ، دوستوں اور 40 سال سے اوپر کے احباب کو ضرور بھیجیں کیونکہ ہم سب روز بروز بوڑھے ہو رہے ہیں ۔
سب کے لئے نیک تمنائیں

05/11/2023

ہر جگہ عقلمند بننا اچھا نہیں
ہوٹل پر بیٹھے ایک شخص نے دوسرے سے کہا، "یہ ہوٹل پر کام کرنے والا بچہ اتنا بیوقوف ہے کہ میں پانچ سو اور 50 کا نوٹ رکھوں گا تو یہ پچاس کا نوٹ ہی اٹھاۓ گا۔"
اور ساتھ ہی بچے کو آواز دی اور دو نوٹ سامنے رکھتے ہوئے بولا، "ان میں سے زیادہ پیسوں والا نوٹ اٹھا لو۔"
بچے نے پچاس کا نوٹ اٹھا لیا ۔
دونوں نے قہقہہ لگایا اور بچہ واپس اپنے کام میں لگ گیا۔
پاس بیٹھے شخص نے ان دونوں کے جانے کے بعد بچے کو بلایا اور پوچھا کہ تم اتنے بڑے ہو گئے ہو۔ تم کو پچاس اور پانچ سو کے نوٹ میں فرق کا نہیں پتا۔
یہ سن کر بچہ مسکرایا اور بولا، "یہ آدمی اکثر کسی نا کسی دوست کو میری بیوقوفی دکھا کر انجوائے کرنے کے لیے یہ کام کرتا ہے اور میں پچاس کا نوٹ اٹھا لیتا ہوں۔ وہ خوش ہو جاتے ہیں اور مجھے پچاس روپے مل جاتے ہیں۔ جس دن میں نے پانچ سو اٹھا لیا، اس دن یہ کھیل بھی ختم ھوجائے گا اور میری آمدنی بھی۔
زندگی بھی اس کھیل کی طرح ہی ہے۔ ہر جگہ سمجھدار بننے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جہاں سمجھدار بننے سے اپنی ہی خوشیاں متاثر ہوتی ہوں، وہاں بیوقوف بن جانا ھی سمجھداری ھے

05/11/2023

عاجز لوگ بدماشوں کے خادم

ہماری جوتی ہمارے پاؤں سے اتار کر اپنے ہاتھوں میں لیکر اسے اچھے سے پالش کر کے دوبارہ ہمارے پاؤں کے سامنے ترتیب سے رکھنے والے

ہمارے گلی محلے میں سے کچرہ اٹھا کر ٹھکانے لگانے والے

ہمارے بچوں کو چھلیاں ابال کر نمک مصالحہ ڈال کر کھلانے والے

ہمارے بازاروں میں پھلوں کے ٹھیلے لگا کر روزی کمانے والے

سادی کپڑے جوتی کی دکان بنا کر کم خرچ کر ہزار کی جوتی ہزار کا جوڑا پانچ سو سات سو میں آوازیں لگا کر بلا کر ہماری من مرضی کے ریٹ پر ہمیں دینے والے

ہماری مسجدوں کے پہلی صف کے نمازی

ہمارے ماحول معاشرے میں ٹوپی اور برقعے کا کلچر عام رکھنے والے

ہمارے بازاروں میں ہاتھوں میں شاپر مسواک دانداسہ لیے کھڑے

ہمارے مکانوں کی بنیادیں کھودنے والے

ہمارے کھیتوں سے گُررررررر گُررررررر کٹر چلا کر لکڑیاں کاٹ کر دینے والے

گینتی بیلچہ اٹھاۓ چوک چوراہوں پر مزدوری کے انتظار میں بیٹھے

پلاسٹک کے برتن موٹر سائیکل پر لاد کر پھیری کر کے ہمارے دیہاتوں میں بیچنے والے

سوکھی روٹی لوہا لین کے صدائیں لگا کر اپنے بچوں کی روزی کمانے والے

ہمیں لچھے دار پراٹھے اور نشیلی چاۓ بنا کر کھلانے پلانے والے

مچھلی سٹائل تکون سٹائل شہد مکھن چاکلیٹ پیزا آلو قیمہ والے پراٹھے متعارف کروانے والے ہمیں کھلانے والے

منڈیوں میں ہاتھ ریڑھی چلا کر سبزی فروٹ پک اینڈ ڈراپ کرنے والے

واللہ آپ نے ہماری جتنی خدمت کی اتنی کوئی قوم آج تک نہ کر سکی ہے نہ آئندہ تاریخ میں ہماری خدمت کرے گی

تم ہمارے دلوں کے شہزادے تھے ہو اور تاقیامت رہو گے تم سے ہمارے گلی محلوں کی ہماری بستیوں کی رونق تھی تم ہمارے بھائی تھے ہو اور رہو گے. 💯 💞

05/11/2023

عارضی فالج (Sleep Paralysis)

عارضی فالج ایک خوفناک اور حیرت انگیز تجربہ ہے۔ جس میں انسان خود کو ہوش میں تو محسوس کرتا ہے مگر اپنے جسم کو حرکت نہیں دے سکتا۔
عارضی فالج تب نمودار ہوتا ہے جب انسان ابھی سویا ہو یا نیند سے بیدار ہونے کے قریب ہو۔ عارضی فالج کے دوارن انسان کا دم گُھٹتا ہے اور سینے پر وزن محسوس ہوتا ہے۔ یہ حالت چند سیکنڈز سے چند منٹس تک ہو سکتی ہے۔ ریسرچ کے مطابق صدمے، اضطراب اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے عارضی فالج ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ عاضی فالج تب ہوتا ہے جب انسان REM سائیکل ختم ہونے سے پہلے بیدار ہو جاتا ہے۔ REM نیند کی ایسی حالت ہے جس میں دماغ بہت فعال ہوتا ہے اور خواب بھی اسی حالت کے دوران آتے ہیں۔ REM کے دوران جسم کے مسلز بنیادی طور پر ریلیکس ہو جاتے ہیں اور کام کرنے کی صلاحت نہیں رکھتے تا کہ آپ اپنے خواب کے مطابق حرکت کرتے ہوئے خود کو نقصان نہ پہنچا لیں۔ عارضی فالج (سلیپ پیرالسز) تب ہوتا ہے جب ہمارا دماغ تو REM فیز سے باہر آ چکا ہوتا ہے لیکن جسم ابھی بھی اسی حالت میں ہوتا ہے۔ یعنی ہمارے جسم کے پٹھے (مسلز) ابھی بھی غیر فعال ہوتے ہیں۔ اس دوران لوگ سحر انگیزی کی کیفیت سے گزرتے ہیں کیونکہ ہمارا دماغ ابھی بھی خواب کی سی حالت میں ہوتا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ عارضی فالج کے دوران غیرمعمولی اور عجیب مخلوق کو دیکھتے ہیں۔ عارضی فالج میں انسان مختلف اقسام کے دھوکے میں آ جاتا ہے۔ ان میں سے ایک انٹروڈر فینومینن (intruder phenomenon) کہلاتا ہے جس میں انسان محسوس کرتا ہے کہ ان کے پاس کمرے میں کوئی ہے۔ جبکہ ایک دوسرے مظہر کو انکیوبس فینومینن (incubus phenomenon) کہتے ہیں جس میں انسان نیند کے دوران خود پر دباؤ محسوس کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً 7.8 فیصد لوگ عارضی فالج کے تجربے سے گزرتے ہیں۔ عارضی فالج کا شکار میں سے 28 فیصد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا نیند کا سائیکل خراب کر رکھا ہے۔ جو نہ مخصوص وقت پر سوتے ہیں اور نہ ہی مخصوص وقت پر جاگتے ہیں۔ جبکہ 37 فیصد وہ لوگ ہیں جو ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ یہ بیماری عام طور پر دس سے پچیس سال کی عمر کے افراد میں پائی جاتی ہے۔ یہ بیماری جینیاتی بھی ہو سکتی ہے۔ اس بیماری کو عموماً نارکولپسی سے جوڑا جاتا ہے۔ یعنی ایسی حالت جس میں غنودگی چھائی رہتی ہے۔ بلکل سیدھا لیٹ کر سونے سے عارضی فالج کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس کی وجوہات میں بے خوابی یا نیند میں بے قاعدگی بھی ہو سکتی ہیں۔ عارضی فالج کا کوئی خاص علاج تو نہیں ہے۔ مگر اس کی شدت میں اینٹی ڈیپریسینٹ ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔ عارضی فالج پر قابو پانے میں مختلف قسم کی تھیراپیز بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر آپ کو بھی یہ مسئلہ ہے تو آج ہی لائف ویز رہیب سنٹر مرکز علاج منشیات و نفسیات مین پشاور روڈ میجر قلعہ شبقدر کا وزٹ کرے۔ اور ہمارے ماہرین کے خدمات خاصل کرے۔

05/11/2023

تمام شادی شدہ جوڑوں کے لیے ان کے نوزائیدہ بچوں سے متعلق بہت بنیادی اور اہم معلومات!!!
دوسروں کو بھی آگاہ کریں اور زیادہ سے زیادہ شیر کریں ۔جزاك الله!!!
براہ کرم اپنے بچوں کو ان پرانے طور طریقوں سے بچائیں جو فائدہ دینے کے بجائے الٹانقصان پہنچا سکتے ہیں۔

30/10/2023
30/10/2023

آللہ پاک مولانا طارق جمیل کے بیٹے کو جنت میں آعلی مقام دے۔ آمین
نفسیاتی بیمار کے ساتھ روزقیامت حساب نہیں ہوگا۔ خواہ أس نے حادثاتی طور پر کسی کو مار دیا ہو، یا خود کو مار دیا ہو۔
ہاں یہ بات نوٹ کرنی چاہیے۔ کہ ڈیپریشن دین سے دوری کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ڈیپریشن ایسی ہی بیماری ہے جیسے شوگر، ملیریا وغیرہ۔
جیسے دوسری بیماریوں کے علاج کے لیے لوگ سپیشلاٸزیشن کرتے ہیں، ایسے ہی نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی لوگ سپیشلاٸزیشن کرتے ہیں۔
آگر یہ دین سے دوری کا نتیجہ ہے کہ تو پھر آدھے قباٸلی گٗناہگار ہیں، اور دین سے دور ہیں کیونکہ نفسیاتی بیماروں کا تناسب سب سے زیادہ ان علاقوں میں ہے۔
ایسے ہی بوڑھے لوگ بھی گناہگار اور دین سے دور ہیں کیونکہ نفسیاتی بیماریوں کا تناسب اس عمر میں زیادہ ہوتا ہے بمقابلہ جوان لوگوں کے۔
لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ بیماری کو صرف بیماری رہنے دیا جاٸے۔ اور بیمار کو گٗناہگار قرار دے کے مزید ٹارچر نہ کیا جاٸے۔ ایک بیمار پہ یہ سٗن کے کیا گٗزر رہی ہوگی کہ جب أسے کہا جاٸے کہ آپ گٗناہگار ہو اور دین سے دور ہو۔ وہ بے چارا تو آکثر ہوش و ہواس میں بھی نہیں رہتا۔
بس مولوی صاحبان سے گٗزارش ہے کہ آٸندہ نفسیاتی بیماروں کو گٗناہگار کے کیٹگری میں نہ ڈالا کریں بلکہ نفسیاتی مریضوں کو بیمار قرار دیا کریں اور لوگوں کو نصیحت کیا کریں کہ یہ بیمار ہے، اِسکو ماہر نفسیات کے پاس لے جاٸیے اور اِسکا علاج کیجیے۔

30/10/2023

مولانا طارق جمیل صاحب کا مصیبت زدہ گھرانا 😭

انا للہ و انا الیہ راجعون ۔

بائی پولر ڈس آرڈر سنڈروم کوئی نارمل ٹینشن یا پریشانی نہیں ہوتی بلکہ انسان کے اندر ایک دوسری شخصیت انسٹال ہو جاتی ہے ، جس کو متعلقہ شخص باقاعدہ محسوس کرتا ہے ، اور وہ شخصیت اصلی انسان کی جگہ اس کے دماغی کمپیوٹر کی ایڈمنسٹریٹر بن جاتی ہے ۔ بار بار خودکشی کا حکم
دیتی ہے ۔ چھری اٹھاؤ اور بازو کی رگیں کاٹ دو، گولی مار لو اور فلاں جگہ رکھ کر مارو وغیرہ وغیرہ ۔ ڈاکٹر عاصم جمیل شھید اگر اپنی مرضی سے جگہ چن سکتا تو یقیناً سر کا انتخاب کرتا یا منہ میں رکھ کر مارتا ۔
میں ایک عزیز کے گھر گیا تو ان کے بیٹے کو بھی یہی مرض لاحق تھا ۔ اچانک وہ اٹھا اور اس کا چہرہ سپاٹ ہو گیا گویا وہ کمرے میں موجود لوگوں کو پہچانتا ہی نہیں ، اس نے دو تین چکر کچن کے لگائے ۔ گھر والوں نے چھریاں چھپا کر رکھی ہوئی تھیں وہ چھری ڈھونڈ رہا تھا ، چھری نہ ملی تو اس نے ناشتے کی ٹیبل سے فورک اٹھایا اور اپنی کلائی کی رگوں میں گھونپنے لگا تھا کہ اس کے بھائی نے ریسلر کی طرح ڈائیو لگا کر اس کے کانٹے والے ہاتھ کو پکڑے ہوئے اس کو گرا لیا اور خود بھی بری طرح گرا ۔
جو لوگ ڈاکٹر عاصم جمیل کی موت پر جنت اور جھنم کے فیصلے کر رہے ہیں بہتر تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا پڑھتے کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اور ہماری اولاد کو اس جان لیوا مرض سے بچا رکھا ہے ۔
اللہ کی غیرت کو مت للکارہں ، اور نہ خود کو نیک پاک سمجھیں کہ ہم اپنے تقوے کے زور پر ایسی کسی بیماری سے محفوظ و مامون ہیں ۔

30/10/2023

دوران سفر قے کی وجہ موشن سکنس ہے
موشن سکنس کی وجہ دوران سفر انر آئیر (کان) (inner ear) میں ایکلوبیرم (equilibrium) کا بیلنس نہ ہونا ہے کیونکہ کان ہمارے جسم کا بیلنس رکھنے میں مددگار ہوتےہے دوران سفر ہماری آنکھوں کے سامنے تیزی سے منظر تبدیل ہو رہا ہوتا ہے لیکن ہمارے کان اس متحرک ماحول کا سنگنل محسوس نہیں کر پاتے اس طرح ہمارے جسم کا ایکلوبیرم برقرار نہیں رہتا اور دماغ معدے کو الٹے سیدھے پیغام بھیجنا شروع کر دیتا ہے جس سے ہمیں چکر یا قے آتی ہے۔
حل:- کانوں میں ساؤنڈ پروف ائیر بڈز لگانے سے یا گاڑی میں مصنوعی آواز ( میوزک نعت قوالی وغیرہ ) پیدا کریں اگر ایسا ممکن نہیں ہوتا تو اس صورت میں گاڑی کی فرنٹ والی سیٹ لیں اور دوسری سمتوں کے شیشوں کی بجاۓ گاڑی کی فرنٹ سکرین کی سے آگے کی طرف دیکھیں کیونکہ وہاں سے منظر قدرے آہستہ آہستہ تبدیل ہوتا ہے
موشن سکنس کے لیے ____کچھ ادویات بھی ہیں وہ فارماسسٹ کے مشورے سے استعمال کر سکتے ہیں

29/10/2023

ایک استاد نے ہر طالب علم کو ایک غبارہ دیا، جسے اسے پھولانا تھا، اس پر اپنا نام لکھنا تھا، اور اسے صحن میں پھینکنا تھا۔ استاد نے پھر تمام غباروں کو ملا دیا۔ اس کے بعد طلباء کو اپنا غبارہ تلاش کرنے کے لیے 5 منٹ کا وقت دیا گیا۔ کافی تلاش کے باوجود ان کا غبارہ کسی کو نہیں ملا۔

اس موقع پر، استاد نے طلباء سے کہا کہ وہ پہلا غبارہ لیں جو انہیں ملے اور اسے اس شخص کے حوالے کریں جس کا نام اس پر لکھا ہوا ہے۔ 5 منٹ کے اندر، سب کے پاس اپنا اپنا غبارہ تھا۔

استاد نے طالب علموں سے کہا: "یہ غبارے خوشی کی طرح ہیں، اگر ہر کوئی اپنی خوشی کی تلاش میں ہے تو ہمیں یہ کبھی نہیں ملیں گے۔ لیکن اگر ہم دوسروں کی خوشیوں کا خیال رکھیں گے تو ہم اپنی بھی تلاش کر لیں گے۔"

آپ کا دن خوشیوں سے بھرا رہے۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Nowshera?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Nowshera
24100