Hakeem Rai Khalid

Hakeem Rai Khalid

Share

اس پیج پر ہم صحت کے لیے قدرتی علاج ۔وڈیو
youtube.com/@hakeemraikhalid4099?si=FfMGExOOEupNn6Ka

13/06/2026

🔴 بواسیر سے ہمیشہ کے لیے نجات — بغیر آپریشن، بغیر تکلیف!
کیا آپ یا آپ کا کوئی عزیز برسوں سے بواسیر کی تکلیف دہ بیماری میں مبتلا ہے؟

اب آپریشن کے ڈر اور روز روز کی تکلیف کو کہیے الوداع! کیونکہ شفا کا راز اب آپ کے اپنے شہر اوکاڑہ میں موجود ہے۔

حکمتِ الٰہی اور طبِ مشرق کا یہ خوبصورت اصول ہمیشہ یاد رکھیں:
> تندرستی سستے داموں بیچ دی ہم نے ضیا
> ورنہ اس سنسار میں ہر درد کا درمان تھا
>
اور ایک طبیب کا عزم کیا ہوتا ہے:
> مریضِ عشق پر رحمت خدا کی
> مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی... یہ ان کا کام ہے جو نبضِ جاں سے بے خبر ہیں
> ہم تو وہ ہیں جو نبض دیکھ کر مٹی کو بھی شفا بنا دیتے ہیں!
>
🌿 پانچ عشروں (50 سال) کا قابلِ اعتماد طبی تجربہ!
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد پچھلے 50 سے زائد سالہ تجربے اور علمِ حکمت کی روشنی میں بواسیر کا مکمل، کامیاب اور جڑ سے خاتمہ کر رہے ہیں۔

ہمارے ہاں نظریہ مفرد اعضاء ثلاثہ (جسم کے تین بنیادی اعضاء: دل، دماغ، جگر کے افعال کو اعتدال پر لانا) اور طبِ یونانی کے عین اصولوں کے مطابق، مرض کی اصل وجہ (اسباب) کو جان کر علاج کیا جاتا ہے، نہ کہ صرف علامات کا۔

🩺 کن امراض کا کامیاب علاج کیا جاتا ہے؟
خونی بواسیر (خون کا آنا اور کمزوری)
بادی بواسیر (شدید درد اور بے چینی)
موہکے والی بواسیر (بغیر کسی تکلیف دہ آپریشن کے موہکوں کا خاتمہ)
فشر، فسچولا، ناسور اور بھگندر (پرانے سے پرانے زخموں کا علاج)

مقعد میں جلن، خارش اور سوجن
بواسیر سے ہونے والا اکڑاؤ اور قبض

✨ خالد دواخانہ کی خصوصیات:

1. طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن): خواتین مریضوں کے لیے پردے کے مکمل اہتمام کے ساتھ لیڈیز فزیشن کی سہولت موجود ہے تاکہ مستورات بلا جھجھک اپنا علاج کروا سکیں۔

2. بغیر آپریشن علاج: کوئی چیرا پھاڑی نہیں، کوئی تکلیف دہ طریقہ کار نہیں۔

3. خالص جڑی بوٹیاں: کیمیکل سے پاک، طبِ یونانی کے مستند نسخہ جات۔

📍 پتہ اور رابطہ کی تفصیلات:
خالد دواخانہ
🏢 چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر
📞 ابھی مشورہ اور رابطہ کریں:
03007530789
03127530789
> 📢 نوٹ: اگر آپ اوکاڑہ یا اس کے گردونواح (رنالہ خورد، دیپالپور، حجرہ شاہ مقیم، بصیر پور، ساہیوال) یا پاکستان کے کسی بھی حصے میں ہیں، تو آج ہی رابطہ کریں اور ایک صحت مند زندگی کی طرف قدم بڑھائیں۔
>
👍 اگر آپ کو یہ معلومات مفید لگی تو پیج کو لائک کریں، فالو کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ کسی ضرورت مند تک شفا کا یہ پیغام پہنچ سکے۔

13/06/2026

🔬 جراثیم اور اعضاء کی تطبیق: فرنگی طب کی فکری غلطی اور طبی متبادل 🔬

مغرب نے علم الجراثیم (Bacteriology) کو صرف ایک مادی نظر سے دیکھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جراثیم خود سے مرض پیدا نہیں کرتے بلکہ جسم کے اعضاء اور اخلاط کا بگاڑ انہیں پنپنے کا موقع دیتا ہے۔

حکمت کا مسلمہ اصول ہے کہ جب تک زمین (جسم کا عضو یا مزاج) زرخیز نہ ہو، کوئی بیج (جرثومہ) وہاں پھل پھول نہیں سکتا۔ فرنگی طب نے جراثیم کے افعال اور علامات کو سمجھنے میں جو فاش غلطیاں کیں، ان کا جواب **نظریہ مفرد اعضاء اور طب یونانی کے پاس ہے۔

📜 حکمت اور علم کے چند موتی (اشعار)
> بمارِ عشق پر رحمت خدا کی
> مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
>
> تغیر زمانہ کا عجب یہ رنگ دیکھا ہے
> جو کل تک تھا دوا، وہ آج خود اک مرض ٹھہرا ہے
>
> بدن کی سلطنت میں جب اکھڑتا ہے مزاج اپنا
> طبیعت خود ہی کرتی ہے پھر اس کا علاج اپنا
>
🌐 علم الجراثیم کی وسعت اور اس کے سات کلیدی شعبے
علم الجراثیم آج اپنی جگہ ایک سمندر بن چکا ہے جس پر عبور پانے کے لیے پوری زندگی بھی کم ہے۔ اس علم کے بنیادی طور پر 7 بڑے شعبے ہیں:

1. جراثیم کی حقیقت (Nature of Microorganisms): ان کی مادی اور حیاتیاتی ساخت کا مطالعہ۔

2. اقسام اور اقسام در اقسام (Classification): جراثیم کی بے شمار انواع اور ان کے بدلتے روپ۔

3. افعال اور امراض کی پیدائش (Pathogenesis): جراثیم کس طرح جسم میں زہر (Toxins) پھیلاتے اور علامات پیدا کرتے ہیں۔

4. اغذیہ و ادویہ میں تبدیلی (Fermentation & Biochemistry): جراثیم کے ذریعے خمیر، تیزاب، الکحل اور پینسلین یا ویکسین جیسے کیمیاوی تریاق بنانا۔

5. جراثیم کی کاشت (Bacterial Culture): لیبارٹریوں میں ان کی پیدائش اور پرورش کے طریقے اور ماحول۔

6. غذائیت اور نسل کشی (Nutrition & Breeding): جراثیم کو زندہ رکھنے اور ان کی اگلی نسلیں تیار کرنے کا نظام۔

7. مناعت اور حفظِ صحت (Immunology & Vaccines): جراثیم ہی کے ذریعے جسم میں قوتِ مدافعت پیدا کرنا، جیسے چیچک کے ٹیکے وغیرہ۔

🏛️ فلسفہ، منطق اور مختلف طبی نظاموں کا موازنہ
طبِ یونانی و طبِ اسلامی: اسلامک اور یونانی طب کے مطابق، جراثیم "عفونت" (Putrefaction) کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جب اخلاط (خون، بلغم، صفرا، سودا) میں سڑاند پیدا ہوتی ہے، تو جراثیم وہاں جنم لیتے ہیں۔ علاج جراثیم کو مارنا نہیں، بلکہ عفونت کو ختم کرنا ہے۔

نظریہ مفرد اعضاء (Tissue Theory): جب جسم کے تین بنیادی اعضاء (دل، دماغ، جگر) میں سے کسی ایک میں تحریک یا سوزش ہوتی ہے، تو وہاں کا کیمیاوی ماحول بدل جاتا ہے۔ یہ بدلا ہوا ماحول ہی خاص قسم کے جراثیم کی آماجگاہ بنتا ہے۔ اعضاء کی تطبیق کے بغیر جراثیم کا علاج ادھورا ہے۔

آیو ویدک اور سنسکرت فلسفہ و منطق: سنسکرت طب (Ayurveda) میں اسے "دوشا" (Doshas - واتا، پتا، کپھا) کا عدم توازن کہا گیا ہے۔ منطق کا اصول ہے کہ "مسبب" (Cause) کو دور کیے بغیر "سبب" (Effect) ختم نہیں ہو سکتا۔ مادی جراثیم صرف ایک سبب ہیں، مسبب جسم کا اندرونی بگاڑ ہے۔

🏥 پچاس سالہ طبی تجربہ اور قابلِ اعتماد علاج
اگر آپ دائمی امراض، اعصابی، عضلاتی یا غدی بگاڑ اور جراثیمی و عفونتی امراض کا مستقل اور اصولی علاج چاہتے ہیں، تو تشریف لائیں۔

👨‍⚕️ پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے انسانیت کی خدمت میں مصروف اور نبض شناسی کے بے تاج بادشاہ۔
🔬 سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
جدید سائنسی تحقیقات اور روایتی طب کے امتزاج سے امراضِ نسواں و دیگر پیچیدہ امراض کی ماہر۔
📍 پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑا شہر، پنجاب، پاکستان۔
📞 رابطہ نمبر: 03127530789

✨ ہمارے پیج کو لائک، فالو اور شیئر ضرور کریں تاکہ حکمت کا یہ پیغام ہر گھر تک پہنچے۔

#حکمت #اوکاڑہ

13/06/2026

🌿 ھڈیوں اور جوڑوں کی مضبوطی: ایک لاجواب طبی تحفہ 🌿

لذتِ درد سے واقف نہیں بیمارِ جہاں
ورنہ ہر زخمِ جگر، مایۂ درمان ہوتا

تندرستی کی حقیقت کو وہی سمجھتا ہے، جو جوڑوں اور ہڈیوں کے درد کے باعث راتوں کی نیندیں گنوا بیٹھتا ہے۔
آج کل نوجوان ہوں یا بزرگ، ہڈیوں کی کمزوری، جوڑوں کا درد، اور لبریکیشن (غضروفی رطوبت) کی کمی ایک عام مسئلہ بن چکی ہے۔ اسی تناظر میں، خالد دواخانہ کی طرف سے صدیوں پر محیط طبی فلسفے اور کتبِ حکمت کے نچوڑ پر مشتمل ایک بہترین اور مجرب نسخہ قارئین کی نذر ہے۔

📚 مختلف طریقہ ہائے علاج اور فلسفۂ طب کی روشنی میں:
نظریۂ مفرد اعضاء (اعصابی و عضلاتی توازن): یہ نسخہ جسم میں خشکی اور سردی (عضلاتی و اعصابی تحریک) کے باعث پیدا ہونے والے جوڑوں کے درد اور سختی کو دور کرتا ہے۔ یہ غدی عضلاتی اثرات پیدا کر کے جوڑوں کو سوزش سے پاک کرتا ہے اور رطوباتِ صالحہ پیدا کرتا ہے۔
طبِ یونانی و طبِ اسلامی: طبِ یونانی کے اصولوں کے مطابق، یہ نسخہ "مسکنِ الم" (Pain Reliever) اور "محللِ ورم" (Anti-inflammatory) جڑی بوٹیوں کا مرکب ہے جو بدن سے فاسد خلطِ بلغم اور سودا کا اخراج کرتا ہے۔
آیو ویدک و سنسکرت فلسفہ آیو ویدک اصولوں کے تحت جب جسم میں "وات" (Vata/ہوا) کا غلبہ ہو جائے تو ہڈیاں کمزور اور جوڑ خشک ہونے لگتے ہیں۔ اس نسخے میں شامل گوند اور ہلدی "وات" کو شانت (متوازن) کرتے ہیں اور ہڈیوں کی دھاتو (Dhatu) کو مضبوط بناتے ہیں۔

📋 نسخۂ کیمیا (ھڈی و جوڑ کی مضبوطی کیلئے)
آنبہ ہلدی: 15 گرام (درد اور اندرونی چوٹوں کا بہترین علاج)
لاکھ دانہ: 15 گرام (ہڈیوں کو جوڑنے اور کیلشیم کی کمی پوری کرنے میں بے مثال)
بھکھڑا (خارِخسک):20 گرام (پٹھوں کی طاقت اور مادۂ منویہ و رطوبت کو گاڑھا کرنے کے لیے)
سنڈھ (زنجبیل): 20 گرام (بادی و بائی کا خاتمہ، ہاضمہ درست اور دردوں سے نجات)
سرنجاں شیریں: 20 گرام (عرق النساء اور جوڑوں کے درد کی خاص دوا)
ہلدی: 30 گرام (قدرتی اینٹی بائیوٹک اور ورم کش)
گوند کیکر: 20 گرام (مادۂ لیس دار کی افزائش اور کمر درد کا حل)
گوند کتیرا: 10 گرام (جسمانی کمزوری اور گرمی کا مصلح)
طریقہ تیاری: تمام ادویات کو صاف کر کے باریک پیس لیں اور سفوف (پاؤڈر) بنا لیں۔
طریقہ استعمال: ایک چائے کا چمچ (ٹی سپون) صبح اور شام، نیم گرم دودھ کے ہمراہ استعمال کریں۔
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
شفا تو منجانب اللہ ہے، مگر سچا معالج وہی ہے جو نسل در نسل حکمت کے اسرار سے واقف ہو۔

🏥 پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے انسانیت کی خدمت میں مصروف:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
اپنے وسیع کلینکل تجربے اور خاندانی حکمت کی روشنی میں اوکاڑہ اور گردونواح کے مریضوں کا مخلصانہ علاج فرما رہے ہیں۔
✍️ منجانب:
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
(مستند طریقہ علاج، نباض و ماہرِ جڑی بوٹی)
📍 پتا اور رابطے کی معلومات:
🌐 خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر، پنجاب، پاکستان۔

📞 رابطہ نمبر: 03127530789

> 📢 نوٹ: اگر آپ کو یہ طبی معلومات مفید لگی ہوں، تو پیج کو لائک، فالو کریں اور اس پوسٹ کو اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ صدقہ جاریہ میں آپ کا بھی حصہ ہو۔
>

12/06/2026

مشروم (کھمبی) کھانے کے 5 حیرت انگیز فائدے اور ان کا طبی فلسفہ
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ!
حکمت کے علمی خزانوں سے ایک خوبصورت اقتباس:
> تندرستی وہ نعمت ہے جو ہر دولت پر بھاری ہے
> غذا کو اپنی دوا بناؤ، یہی قانونِ فطرت کی بیداری ہے
> جڑی بوٹیوں میں چھپا ہے شفاء کا رازِ نہاں
> سمجھ لے جو اس رمز کو، وہی ہے دانائے جہاں
>
قدرت نے زمین سے اگنے والی ہر نباتات اور فنگس میں انسان کے لیے کوئی نہ کوئی رازِ شفاء چھپا رکھا ہے۔ انہی میں سے ایک مایہ ناز نعمت مشروم (کھمبی) ہے، جسے نہ صرف جدید سائنس بلکہ قدیم اطباء نے بھی ایک بہترین مقوی غذا اور دوا تسلیم کیا ہے۔

1️⃣ کولیسٹرول لیول اور امراضِ قلب (Cardiovascular Diseases)
جدید سائنس: مشروم میں Chitin اور فائبر وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، جبکہ فیٹ اور کاربوہائیڈریٹس نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ خون کو صاف کر کے ایل ڈی ایل (خراب کولیسٹرول) کو کم کرتا ہے اور ہارٹ اٹیک جیسے خطرات سے بچاتا ہے۔
طبی نقطہ نظر:طبِ یونانی کی رو سے کھمبی چونکہ مسام دار اور گوشت کی مانند ہوتی ہے، یہ جسم میں رطوباتِ ردیہ کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ صفراوی اور دموی جوش کو ٹھنڈا کر کے خون کی حدت اور شریانوں کی سختی کو دور کرتی ہے، جس سے دل کو تقویت ملتی ہے۔

2️⃣ ہڈیوں کی مضبوطی اور جوڑوں کا درد (Osteoporosis)
جدید سائنس: مشروم میں وٹامن ڈی اور کیلشیم کا بے پناہ ذخیرہ موجود ہوتا ہے، جو ہڈیوں کی کثافت (Density) کو برقرار رکھنے اور آسٹیوپوروسس جیسے امراض کو ختم کرنے میں مددگار ہے۔
طبی نقطہ نظر:نظریہ مفرد اعضاء کے تحت مشروم عضلاتی غدی تحریک میں پیدا ہونے والے خشکی کے اثرات کو اعصابی غدی رطوبات فراہم کر کے متوازن کرتی ہے۔ یہ ہڈیوں اور جوڑوں کے مابین موجود قدرتی رطوبت (Synovial Fluid) کو بحال کر کے جوڑوں کی رگڑ اور درد کو دور کرتی ہے۔

3️⃣ قوتِ مدافعت میں بے پناہ اضافہ (Immunity Booster)
جدید سائنس: اس میں موجود اینٹی بائیوٹک اور اینٹی فنگل اجزاء، وٹامن اے، بی کمپلیکس اور وٹامن سی کے ساتھ مل کر جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔
طبی و اسلامی نقطہ نظر: طبِ اسلامی میں نباتات اور زمین سے برآمد ہونے والی پاکیزہ غذاؤں پر بہت زور دیا گیا ہے۔ مشروم ایک قدرتی فنگس ہے جو زہریلے اثرات کے خلاف جسم میں مدافعتی ڈھال بناتی ہے۔ آیو ویدک سنسکرت فلسفہ** کے مطابق یہ جسم میں 'اوجس' (حیاتیاتی طاقت) کو بڑھاتی ہے اور تری دوشا (Vata, Pitta, Kapha) کے بگاڑ کو درست کرنے میں معاون ہے۔

4️⃣ شوگر (ذیابیطس) کے مریضوں کے لیے اکسیر
جدید سائنس: کاربوہائیڈریٹس اور فیٹ کی انتہائی کم مقدار کی وجہ سے یہ خون میں گلوکوز کے لیول کو برقرار رکھتی ہے اور انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتی ہے۔
طبی نقطہ نظر: فلسفہ و منطقِ طب کی رو سے ذیابیطس اکثر لبلبے کی سوزش یا کمزوری کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مشروم اپنی سرد تر طبیعت کی وجہ سے لبلبے کی حرارتِ غریبہ کو اعتدال پر لاتی ہے، جس سے شوگر کے مریضوں کا مدافعت کا گراف گرنے نہیں پاتا۔

5️⃣ وزن کی کمی میں معاون (Weight Loss)
جدید سائنس: ہائی فائبر اور لو کیلوریز ہونے کی وجہ سے یہ نظامِ انہضام کو تیز کرتی ہے، میٹابولزم کو درست رکھتی ہے اور وزن کم کرنے والوں کے لیے ایک بہترین ڈائیٹ ہے۔
طبی نقطہ نظر:طبِ یونانی اور نظریہ مفرد اعضاء کے اصولوں کے مطابق یہ جسم میں جمع شدہ زائد چربی (سمنِ مفرد) کا ازالہ کرتی ہے اور سدے کھول کر فضلاٹ کو جسم سے باآسانی خارج کرتی ہے۔

> تپ دق ہو، کمزوری ہو یا ہو ہڈیوں کا درد
> قدرت کی اس غذا سے بدل جاتا ہے رخِ زرد
>
🏥 پچھلے 50 سال (پنج عشروں) سے عوامی خدمت کا ضامن
اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز جوڑوں کے درد، شوگر، کولیسٹرول یا کمزور قوتِ مدافعت کا شکار ہے، تو آج ہی روایتی و سائنسی طریقہ علاج کے امتزاج سے مستفید ہونے کے لیے تشریف لائیں۔
زیرِ سرپرستی: پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (پچھلے پانچ عشرہ سے مطب فرما رہے ہیں)
زیرِ اہتمام: سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
مقام:
📍 خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر، پنجاب، پاکستان۔
📞 رابطہ نمبر برائے بکنگ و معلومات: 03127530789
اگر آپ کو یہ معلومات پسند آئی ہیں تو پیج کو لائک فالو اور اس پوسٹ کو اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر ضرور کریں!

12/06/2026

🌿 معجونِ زعفرانی: قوت، حیات اور مردانہ مٹھی کا شاہکار 🌿
سرخی:
> ✨ بیوی بولے گی ایک اور شادی کر لو! ✨
>
📜 حکمت اور فلسفہء زندگی کے آئینے میں (اشعار)
> وہ ضعفِ دل ہو کہ ہو ناتوانیِ اعضا
> شفا وہ دیتا ہے جس کے نفس میں حکمت ہے
>
> دوا سے تو نے تو چہرہ بدل دیا لیکن
> مزاجِ اعضا بدلا تو زندگی بدلی
>
📚 طبی فلسفہ، منطق اور علمی حوالہ جات
مردانہ کمزوری، اعصابی ناتوانی اور سرعتِ انزال محض علامات ہیں، اصل علاج ان کے پیچھے چھپے مزاج اور اعضاء کے بگاڑ کو درست کرنا ہے۔ معجونِ زعفرانی کو مختلف طبی نظاموں کی روشنی میں اس طرح ترتیب دیا گیا ہے:
نظریہ مفرد اعضا: یہ معجون عضلاتی غدی (Muscular-Glandular) اور غدی عضلاتی تحریک کو متوازن کرتی ہے۔ کشتہ فولاد اور کشتہ صدف قلب و عضلات کو تقویت دیتے ہیں، جبکہ زعفران اعصاب اور غدد میں خون کی روانی کو تیز کر کے سستی کا خاتمہ کرتا ہے۔
طبِ یونانی و اسلامی: طبِ یونانی کے اصولِ علاج "العلاج بالضد" کے تحت، یہ معجون رطوبتِ غریزیہ (Natural Fluids) کو پیدا اور مغلظ (گاڑھا) کرتی ہے۔ احادیثِ مبارکہ اور طبِ اسلامی میں شہد اور زعفران کو شفاء اور قوت کا ضامن قرار دیا گیا ہے، جو روحِ حیوانی کو جلا بخشتے ہیں۔
آیو ویدک و سنسکرت فلسفہ: آیو ویدک منطق کے مطابق، یہ نسخہ "واجیکرنا" (Vajikarana Therapy) یعنی مردانہ تولیدی صحت کو دوبارہ جوان کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اشواگندھا (اسگندھ ناگوری) اور ستاور مل کر جسم میں "اوجاس" (Ojas - حیاتین کا نچوڑ) بڑھاتے ہیں اور "دھاتوں" (Dhatus) کو مضبوط کرتے ہیں۔
🧪 اجزاء اور ان کی کامل مقدار
ثعلب پنجہ: 20 گرام (مغلظِ منی اور مقویِ باہ)
ثعلب مصری: 20 گرام (جسمانی طاقت کا خزانہ)
الائچی خورد: 20 گرام (ہاضم اور مصلح)
موصلی سفید: 20 گرام (کمر درد اور کمزوری کا خاتمہ)
مغز بنولہ: 20 گرام (مادہ کو گاڑھا کرنے کے لیے)
مغز خیاریں: 20 گرام (دماغ اور مثانے کی گرمی دور کرنے کے لیے)
مغز اخروٹ: 50 گرام (دماغی و اعصابی مقوی)
جیاپوتا: 20 گرام (مردانہ ہارمونز متوازن کرنے کے لیے)
ستاور: 20 گرام (طاقت اور توانائی کا مرکز)
اشواگندھا (اسگندھ): 20 گرام (تناؤ اور تھکن کا دشمن)
کشتہ صدف: 3 ماشہ (کیلشیم اور قوت کا ضامن)
کشتہ فولاد: 3 ماشہ (خون کی کمی اور چہرے کی سرخی کے لیے)
کشتہ مروارید: 4 ماشہ (دل اور اعصاب کو فولاد بنانے کے لیے)
زعفران: 10 گرام (نسخے کی جان، دورانِ خون کو تیز کرنے والا)
کوزہ مصری: 300 گرام (مٹھاس اور اعتدال کے لیے)
🥣 طریقہ تیاری، استعمال اور ہدایات
طریقہ تیاری: تمام جڑی بوٹیوں کو صاف کر کے باریک سفوف (پاؤڈر) بنا لیں۔ کشتے اور زعفران کو الگ سے کھرل کر کے سفوف میں شامل کریں۔ اب اس سفوف میں حسبِ ضرورت خالص شہد ملا کر بہترین قوام کی معجون تیار کریں۔
طریقہ استعمال: صبح اور شام، ایک ایک چمچ نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔
🛍️ نوٹ: یہ معجون آپ خود بھی تیار کر سکتے ہیں، اور خالد دواخانہ سے بالکل تیار شدہ، خالص اور معیاری حالت میں بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
🏥 پچاس سالہ معتبر طبی تجربہ اور امانت
خالص جڑی بوٹیوں اور کشتہ جات کی تیاری کوئی عام کام نہیں، یہ نسلوں کے تجربے کا نچوڑ ہوتا ہے۔
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے مطب فرما رہے ہیں۔ ان کی زیرِ نگرانی اور سائنسی و طبی اصولوں کے مطابق یہ نسخہ جات تیار کیے جاتے ہیں۔
✍️ زیرِ اہتمام: سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
🏛️ پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑا شہر، پنجاب۔
📞 رابطہ نمبر (واٹس ایپ/کال): 03127530789
👉 پوسٹ کو لائک کریں، شیئر کریں اور پیج کو فالو کرنا نہ بھولیں تاکہ طب و حکمت کے یہ انمول موتی آپ تک پہنچتے رہیں۔

12/06/2026

دیوانگی اور دانائی: عقل کی حدیں اور طب کا فلسفہ
"حد سے زیادہ معقول بننے سے احتراز برتو۔ دیوانوں کے ملک میں متوازن آدمی بادشاہ نہیں بنتا، وہ تو سنگسار کر دیا جاتا ہے۔"

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب معاشرہ مجموعی طور پر کسی ایک ڈگر پر چل پڑے، تو وہاں خالص مادی عقل اور لکیر کی فقیری اختیار کرنے والا اکثر تنہا رہ جاتا ہے۔
عقلِ سلیم اور عشق و جنون کا یہ توازن صرف سماجی زندگی تک محدود نہیں، بلکہ کائنات کے سب سے گہرے نظام یعنی انسانی جسم اور طب میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔

🏛️ فلسفہ، منطق اور مختلف طبی نظاموں کا نقطہ نظر
مختلف علوم اور طبی فلسفے ہمیں سکھاتے ہیں کہ "مطلق توازن" (Absolute Balance) جمود کا نام ہے، جبکہ زندگی اصل میں تحریک، تسکین اور تحلیل کے ایک متحرک سفر کا نام ہے۔

سنسکرت فلسفہ اور آیو ویدک: آیو وید کے مطابق کائنات اور جسمِ انسانی تین دوشاؤں (وات، پت، کف) کے زیرِ اثر ہیں۔ اگر کوئی شخص بالکل "معقول" یا ساکن توازن کی تلاش کرے تو وہ زندگی کی حرارت کھو بیٹھتا ہے۔ یہاں "پت" (اگنی/جوش) کو ایک حد تک جنون اور تحریک کی علامت مانا گیا ہے جو جسم کو متحرک رکھتی ہے۔

طبِ یونانی اور منطق: یونانی فلاسفہ اور اطباء (جیسے بقراط اور بو علی سینا) کے ہاں اخلاط چار ہیں (دم، بلغم، صفراء، سوداء). منطق کہتی ہے کہ حد سے زیادہ سرد مزاجی یا صرف ایک ہی خلط پر جم جانا موت ہے۔ سوداوی مزاج کو اکثر "جنون" یا "دیوانگی" سے تعبیر کیا جاتا ہے، لیکن یہی سوداء جب حدِ اعتدال میں تخلیقی رنگ اختیار کرتا ہے، تو انسان کو عام لوگوں سے ممتاز کر کے "موجد اور فلسفی" بنا دیتا ہے۔

نظریہ مفرد اعضاء: حکیم انقلاب صابر ملتانیؒ کے اس انقلابی نظریے کے مطابق، انسانی جسم تین بنیادی اعضاء (اعصاب، قلب و عضلات، جگر و غدد) کے گرد گھومتا ہے۔ بیماری نام ہی کسی ایک عضو میں غیر طبعی تحریک (زیادتی) کا ہے۔ ایک ماہر معالج جانتا ہے کہ اگر ایک عضو حد سے زیادہ سست یا "معقول" ہو جائے تو دوسرا مفلوج ہو جاتا ہے۔ شفا کے لیے کبھی کبھی عضلاتی تحریک (جوش/جنون) کی ضرورت ہوتی ہے تو کبھی غدی تسکین کی۔

طبِ اسلامی: اسلام میں دل کو مرکزِ نگاہ مانا گیا ہے۔ عقل جب تک دل کی رہنمائی (عشقِ الٰہی اور جذب و جنون) کے تابع نہ ہو، وہ انسان کو مصلحت پسند اور بزدل بنا دیتی ہے۔ عقل کہتی ہے کہ طوفان میں مت کودو، لیکن عشقِ صادق (جسے دنیا دیوانگی کہتی ہے) وہیں بادشاہت پاتا ہے۔

📜 حکمت اور معرفت کے علمی خزانوں سے چند اشعار
عقل اور جنون کے اسی معرکے کو حکماء اور شعراء نے اپنے الفاظ میں یوں سمویا ہے:
> اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
> لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے!
> — علامہ اقبال
>
> بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
> عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی
> — علامہ اقبال
>
> خرد کا نام جنون پڑ گیا، جنون کا خرد
> جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
> — حسرت موہانی
>
🏥 پانچ دہائیوں کی حکمت اور مستند علاج
اگر آپ مصلحت پسند عقل کے دائروں سے نکل کر، اپنے جسم اور روح کے حقیقی توازن کو پانا چاہتے ہیں، تو اس کے لیے روایتی اور خاندانی حکمت کے تجربے کی ضرورت ہے۔
خالد دواخانہ (اوکاڑہ) پچھلے 50 سال (پنج دہائیوں) سے انسانیت کی خدمت میں مصروفِ عمل ہے۔
زیرِ سرپرستی: پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (پچھلے پانچ عشروں سے مطب کا وسیع تجربہ)
زیرِ نگرانی: سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن - ماہر تشخیص و علاج)
> ہمارا پتہ:
> خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑا شہر، پنجاب، پاکستان۔
> 📞 رابطہ نمبر: 03127530789
>
📢 نوٹ: اگر آپ کو یہ طبی اور فلسفیانہ گفتگو پسند آئی ہے، تو ہمارے پیج کو لائک، شیئر اور فالو ضرور کریں تاکہ حکمت کے یہ علمی خزانے دوسروں تک بھی پہنچ سکیں۔

12/06/2026

عظمتِ قرآن اور ایک پنڈت کا انجام: جب آگ نے اپنا مزاج بدل دیا!
🔥 تاریخِ عالم کا وہ انوکھا اور واحد واقعہ... جس کی چتا پر کئی من گھی ڈالا گیا، مگر آگ نے جسم کو چھونے سے انکار کر دیا!
تقسیمِ ہند کے زمانے میں جہاں نفرتوں کی آگ بھڑک رہی تھی، وہیں کچھ ہستیاں ایسی بھی تھیں جن کے دل ادب اور احترام کی روشنی سے منور تھے۔ لاہور کے دو اشاعتی ادارے اس وقت بہت مشہور تھے۔ ایک درسی کتب چھاپتا تھا (میسرز عطر چند اینڈ کپور) اور دوسرا ادارہ اگرچہ غیر مسلموں کا تھا، مگر اس کے مالک پنڈت نول کشور قرآنِ پاک کی انتہائی خوبصورت اور باادب طباعت و اشاعت کے لیے جانے جاتے تھے۔
پنڈت نول کشور جی نے احترامِ قرآن کا جو معیار مقرر کیا، وہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔ انہوں نے پنجاب بھر سے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل حفاظِ کرام کو چن چن کر زیادہ تنخواہوں پر ملازم رکھا۔ ادب کا یہ عالم تھا کہ جہاں قرآنِ پاک کی جلد بندی ہوتی تھی، وہاں خود نول کشور جی سمیت کسی بھی شخص کو جوتوں کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔ دو ملازم صرف اس کام پر مامور تھے کہ وہ سارا دن پریس کے چکر لگائیں اور کہیں بھی کوئی قرآنی آیت یا مقدس کاغذ کا ٹکڑا نظر آئے تو اسے انتہائی تعظیم سے اٹھا کر بوریوں میں جمع کریں، جنہیں بعد میں زمین میں باادب دفن کر دیا جاتا۔
دلی منتقلی اور پنڈت جی کا آخری وقت:
تقسیم کے بعد وہ دلی چلے گئے اور وہاں بھی یہ مبارک سلسلہ جاری رکھا۔ جب ان کا آخری وقت آیا اور وہ انتقال کر گئے، تو روایتی کریا کرم کے لیے انہیں شمشان گھاٹ لے جایا گیا۔ چتا پر منوں گھی ڈالا گیا، بار بار آگ سلگائی گئی، مگر تاریخ کا سب سے بڑا معجزہ رونما ہوا...آگ نے پنڈت نول کشور کے جسم کو پکڑنے سے انکار کر دیا!
یہ ناممکن واقعہ دیکھ کر پورے دلی میں کہرام مچ گیا۔ جب یہ خبر جامع مسجد دلی کے امام (جو پنڈت جی کے قریبی دوست اور ان کے اس احترامِ قرآن سے واقف تھے) تک پہنچی، تو انہوں نے شمشان گھاٹ پہنچ کر پنڈت جی کے بیٹوں اور مجمع سے کہا:
> "اس شخص نے اللہ کی سچی کتاب کی عمر بھر جس طرح خدمت اور تعظیم کی ہے، اس کی برکت سے اس کے جسم پر آگ اثر کر ہی نہیں سکتی، چاہے تم پورے ہندوستان کا گھی اور تیل لا کر ڈال دو۔ بہتر ہے انہیں عزت و احترام سے دفن کر دو۔"
>
چنانچہ تاریخ میں پہلی بار، کسی ہندو کو چتا نہ جلنے کی وجہ سے شمشان گھاٹ ہی میں دفن کیا گیا۔

🩺 فلسفہ، منطق اور طبِ یونانی و آیو ویدک کا نکتہ نظر
حکمتِ الٰہیہ اور فلسفہ و منطق کے ترازو میں اگر اس واقعے کو دیکھا جائے تو یہ کائنات کے مادی قوانین پر روحانی قوانین کی بالادستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

طبِ یونانی اور طبِ اسلامی کا اصول اطباء جانتے ہیں کہ انسانی جسم عناصرِ اربعہ (مٹی، پانی، ہوا، اور آگ) کا مجموعہ ہے۔ جب روح کسی اعلیٰ اور مقدس ترین نور (جیسے کلامِ پاک کے ادب) سے متاثر ہو جائے، تو جسم کی مادی حرارتِ غریزیہ (Innate Heat) کو ایک ایسا تحفظ مل جاتا ہے کہ بیرونی مادی آگ اس پر اثر نہیں کر پاتی۔

نظریہ مفرد اعضاء (Tissue Theory): اس نظریے کے تحت جب انسان کا دل (عضوِ عضلاتی) کسی سچے ادب اور تعظیمِ الٰہی میں ڈوب جاتا ہے، تو جسم کے غدد اور اعصاب میں ایک ایسی غیر معمولی کیمیائی و مادی تبدیلی پیدا ہوتی ہے جو بیرونی محرکات (تحریک، تسکین، تحلیل) کے روایتی قوانین کو یکسر بدل کر رکھ دیتی ہے۔

سنسکرت فلسفہ و آیو ویدک (Sanskrit Philosophy & Ayurveda) آیو ویدک کے قدیم سنسکرت فلسفے کے مطابق کائنات میں "ستو گُن" (Purity/ادب و نیکی) جب عروج پر پہنچتا ہے، تو وہ "تَمس" (تباہی/آگ کی جلانے والی خاصیت) کو مغلوب کر دیتا ہے۔ پنڈت نول کشور کے "ستو" (پاکیزہ عمل) نے اگنی (آگ) کے مادی دھرم (جلانے کی خاصیت) کو تبدیل کر دیا۔

📜 حکمت اور معرفت کے علمی خزانوں سے انتخاب
شعرِ مشرق حکیم الامت علامہ اقبال فرماتے ہیں:
بہ مصطفٰے برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی، تمام بولہبی ست
*(اپنے آپ کو محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات اور ان کی لائی ہوئی کتاب تک پہنچا، کیونکہ دین سراسر یہی ہے، اگر وہاں تک نہ پہنچ سکا تو سب ابولہب کی مانند راکھ ہے)*
مير تقی مير کا یہ خوبصورت شعر حکمتِ دل کو واضح کرتا ہے:

مقدور ہمیں کب کہ ترے وصف لکھیں ہم
حق یہ ہے کہ ہر وصف سے بالا ہے کلام تیرا
قدیم فلسفہِ حکمت کہتا ہے:
ادب گاہِ کبریا، زیرِ آسماں کم نیست
ادب کا رتبہ تو ہر علم اور منطق سے بلند ہے، جہاں غیر مسلم کا ادب بھی ضائع نہیں جاتا!
🏥 تعارف و مطب کا پتہ (خالد دواخانہ)
پچھلے پانچ عشروں سے طبِ یونانی، آیو ویدک اور نظریہ مفرد اعضاء کے اصولوں کے تحت دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (تجربہ: پچھلے پانچ عشرے / 50 سالہ کامیاب مطب)
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن - ماہر نبض و تشخیص)
📍 پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر، پنجاب، پاکستان۔
📞 رابطہ نمبر* 03127530789
> اگر آپ کو یہ ایمان افروز تاریخی واقعہ پسند آیا ہو، تو پیج کو لائک، شیئر اور فالو ضرور کریں تاکہ حکمت اور ایمان کا یہ پیغام عام ہو سکے۔
>

12/06/2026

رحمتِ دو عالم ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے: "اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی شفا نہ اتاری ہو" (صحیح بخاری)
علمِ طب محض جڑی بوٹیوں کا نام نہیں، یہ کائنات کے اسرار، انسانی مزاج اور عناصر کے توازن کا وہ الہامی و عقلی نظام ہے جس کی جڑیں سنسکرت کے قدیم ویدک فلسفے سے لے کر بقراط و جالینوس کی یونانی منطق، اور پھر اطبائے اسلام کی تحقیقات سے ہوتی ہوئی نظریہ مفرد اعضاء کے جدید سائنسی حقائق تک پھیلی ہوئی ہیں۔
حکمت کے اسی علمی خزانے کو ورق در ورق کھولتی ہوئی اجداد کی ایک خوبصورت نصیحت یاد آتی ہے:
طبیعت خود ہی کرتی ہے علاجِ دردِ انسانی
طبیبِ حاذق و دانا تو بس اک رہنما ٹھہرا
اور میر تقی میر نے کیا خوب فرمایا تھا:
شفا اپنی مشیت پر ہے، پر اے میرؔ! جی اپنا
دکھایا ہم نے بھی جا کر اسی عیسیٰ نفس ہی کو
📜 مسیح الملک حکیم اجمل خان مرحوم کا وہ شاہکار نسخہ جو نسلوں کا امین ہے!
جب ہم طبِ یونانی کے ارکانِ اربعہ (مٹی، پانی، ہوا، آگ) اور آیو ویدک کے "تری دوشا" (Vata, Pitta, Kapha) کا مطالعہ کرتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ دماغی کمزوری اور دائمی نزلہ اصل میں اعصاب کی سردی یا خلطِ بلغم کے غلبے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ نظریہ مفرد اعضاء کی روشنی میں یہ اعصابی غددی یا عضلاتی اعصابی تحریک کے بگاڑ کا مظہر ہے۔
حکیم اجمل خان مرحوم نے ان تمام فلسفوں کو ایک سادہ سی گرہ میں باندھ کر یہ آبِ حیات نسخہ مرتب فرمایا:
🌱 ھوالشافی:
1بادام (مغز بادام): 4 عدد (دماغ کے جوہرِ سیال کو طاقت دینے والا)
2 منقیٰ 4 عدد (طبیعت میں حرارتِ غریزی پیدا کرنے والا)
3۔ کالی مرچ: 4 عدد (دماغ سے رطوبتِ فاسدہ کو خشک کرنے والی)
4۔ مصری: 4 ماشہ (محرکِ اعصاب اور ذائقے کی مصلح)
🥣 طریقہ استعمال.
باداموں کو کچھ دیر پانی میں بھگو کر چھلکا اتار لیں۔ پھر بادام، منقیٰ، کالی مرچ اور مصری کو ملا کر رات سونے سے پہلے خوب چبا چبا کر کھا لیں۔ یاد رکھیں! اس کے بعد فوراً پانی پینے سے سخت پرہیز کریں۔ یہ منطقِ طب کا اصول ہے تاکہ دوا براہِ راست دماغی جھلیوں پر اثر انداز ہو سکے۔
✨ اس الٰہی تحفے کے طبی فوائد:
یادداشت اور حافظہ کی بیداری: سنسکرت فلسفے کے مطابق یہ "میدھیا" (ذہانت بڑھانے والا) عمل ہے۔
دائمی نزلہ و زکام کا خاتمہ: وہ نزلہ جو دماغ سے حلقکی طرف گرتا ہو (Post-nasal drip)، اسے جڑ سے اکھاڑتا ہے۔
سر چکرانا اور اندھیرا آنا: اعصابی کمزوری اور بلڈ پریشر کے توازن کو درست کرتا ہے۔
دماغی تھکن اور سستی کا علاج: وہ افراد جو کمپیوٹر یا کتابوں کا مستقل استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے اکثیر ہے۔
🏥 خالد دواخانہ (اوکاڑہ) — پانچ دہائیوں کا معتبر نام
اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز دائمی امراض، اعصابی بگاڑ یا کسی بھی پیچیدہ مرض میں مبتلا ہے، تو روایتی اور مستند طریقہ علاج کے لیے آج ہی رجوع کریں۔
👨‍⚕️ پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے مطب کی مسند پر بیٹھ کر دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں اور نبض شناسی میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔
👩‍⚕️ سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
جدید طبی تحقیقات اور خواتین کے پوشیدہ و پیچیدہ امراض کی ماہرِ معالجہ۔
📍 پتہ:
خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، نزد غلہ گودام، ضلع اوکاڑا شہر، پنجاب، پاکستان۔
📞 رابطہ نمبر (واٹس ایپ / کال):03127530789نوٹ: اگر آپ کو یہ طبی معلومات پسند آئی ہیں تو پیج کو لائک، فالو کریں اور اس پوسٹ کو اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کر کے صدقہ جاریہ میں اپنا حصہ ڈالیں!

12/06/2026

بجٹ 2026ء اور صحتِ عامہ کا بحران: ایک طبی و فلسفیانہ تجزیہ
حکومتِ وقت نے نئے بجٹ میں صحت کے لیے ھوالشافی، تعلیم کے لیے رب زدنی علما اور خوراک کے لیے واللّٰہ خیر الرازقین کے وظیفے مختص کیے ہیں۔ یہ صورتحال اس تلخ حقیقت کی عکاس ہے کہ جب مادی وسائل ختم ہو جائیں تو قومیں صرف دعاؤں کے سہارے جیا کرتی ہیں۔ لیکن یہاں ایک گہرا فلسفیانہ اور طبی نکتہ بھی پوشیدہ ہے کہ شفا، علم اور رزق کا اصل منبع مادی بجٹ نہیں بلکہ رب کائنات کی ذات ہے۔
جیسا کہ علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا تھا:
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
اور میر تقی میر نے انسانی بے بسی اور مادی کوششوں کی حقیقت کو یوں بیان کیا:
میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو
قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا
صحت اور خوراک کا تعلق براہِ راست انسانی وجود اور اس کی بقا سے ہے۔ طبِ اسلامی، طبِ یونانی، آیو ویدک اور سنسکرت فلسفہ منطق و طب سب اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی جسم کائنات کا ایک چھوٹا ماڈل ہے جہاں توازن ہی زندگی ہے۔
آیو ویدک اور سنسکرت فلسفہ منطق کے مطابق کائنات اور انسانی جسم عناصرِ خمسہ (پنچ مہابھوت) سے مل کر بنے ہیں۔ جب ان عناصر میں بگاڑ آتا ہے تو بیماری جنم لیتی ہے۔ اسی طرح طبِ یونانی اور طبِ اسلامی میں اخلاط (خون، بلغم، صفرا، سودا) کا توازن ہی اصل صحت ہے۔
جدید دور میں نظریہ مفرد اعضاء (جس کی بنیاد صابر ملتانی رحمہ اللہ نے رکھی) نے اس فلسفے کو مزید واضح کیا۔ اس نظریے کے مطابق انسانی جسم کے تین بنیادی اعضاءِ رئیسہ (دل، دماغ اور جگر) کے اپنے اپنے مخصوص ٹشوز یا مفرد اعضاء ہیں۔ بیماری دراصل ان اعضاء میں سے کسی ایک میں تحریک، تسکین یا تحلیل کا نام ہے۔ جب تک بجٹ میں ان قدرتی قوانین کو سمجھ کر حقیقی غذا اور دوا کا انتظام نہیں کیا جاتا، تب تک صحت کا بحران برقرار رہے گا۔
جب مادی بجٹ جواب دے جائیں، تو پھر حقیقی اور مخلص طبیب ہی قوم کا سہارا بنتے ہیں جو کیمیکل زدہ ادویات کے بجائے قدرت کے شفا خانے سے آپ کا علاج کرتے ہیں۔
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے اوکاڑہ میں دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ان کا وسیع تجربہ اور نبض شناسی کا علم طبِ یونانی اور نظریہ مفرد اعضاء کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کے ساتھ سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن) بھی جدید و قدیم طبی تحقیق کے امتزاج سے خواتین اور دیگر مریضوں کے پیچیدہ امراض کا شافی علاج کر رہی ہیں۔
اگر آپ بھی کسی پرانے یا پیچیدہ مرض کا شکار ہیں اور مستقل بنیادوں پر شفایاب ہونا چاہتے ہیں تو روایتی اور فطری طریقہ علاج کی طرف رجوع کریں۔
ہمارا پتہ:
خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، نزد غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر
رابطہ نمبر:
03127530789
اس معلوماتی پوسٹ کو لائک، شیئر اور پیج کو فالو ضرور کریں تاکہ طبِ اصیل کا یہ پیغام ہر ضرورت مند تک پہنچ سکے۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Okara?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Chownk Harniya Wala Ghala Godam
Okara
56300

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 11:00
Saturday 09:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 19:00