Faiza Anwar Official

Faiza Anwar Official

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Faiza Anwar Official, Health/Beauty, Okara.

26/07/2023

لڑکپن کی محبت
از قلم: فائزہ انور
قسط نمبر:2

اس کی خشمگیں نظریں مس شہلا کی طرف اٹھیں اور دل میں ایک ہوس بھرا عہد کیا کہ دیکھتا ہوں کیسے یہ مس میرے بچھائے جال سے بچ کے نکل سکتی ہے سالی جانتی نہیں کہ میں نے ہر نئی چڑیا کو اپنے جال سے بچ کے نکلنے نہیں دیا کبھی
اس خیال کے ساتھ ہی زریش کے چہرے پہ مکارانہ اور طنز بھری مسکراہٹ ابھری اور وہ سٹوڈنٹس کے درمیان سے ہوتا ہوا گیٹ سے اس تیزی سے باہر نکل گیا جیسے کوئی بہت ضروری کام یاد آ گیا ہو۔۔۔

وَقُلْ لِّـلۡمُؤۡمِنٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِيۡنَ زِيۡنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَا‌ وَلۡيَـضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوۡبِهِنَّ‌ۖ وَلَا يُبۡدِيۡنَ زِيۡنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اٰبَآئِهِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِهِنَّ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِهِنَّ اَوۡ بَنِىۡۤ اِخۡوَانِهِنَّ اَوۡ بَنِىۡۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوۡ نِسَآئِهِنَّ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِيۡنَ غَيۡرِ اُولِى الۡاِرۡبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يَظۡهَرُوۡا عَلٰى عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ‌ۖ وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِهِنَّ لِيُـعۡلَمَ مَا يُخۡفِيۡنَ مِنۡ زِيۡنَتِهِنَّ‌ ؕ وَتُوۡبُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِيۡعًا اَيُّهَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ

ترجمہ:
اور مومن عورتوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے ظاہر ہوجائے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں کے لیے، یا اپنے باپوں، یا اپنے خاوندوں کے باپوں، یا اپنے بیٹوں، یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں، یا اپنے بھائیوں، یا اپنے بھتیجوں، یا اپنے بھانجوں، یا اپنی عورتوں (کے لیے) ، یا (ان کے لیے) جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں، یا تابع رہنے والے مردوں کے لیے جو شہوت والے نہیں، یا ان لڑکوں کے لیے جو عورتوں کی پردے کی باتوں سے واقف نہیں ہوئے اور اپنے پاؤں (زمین پر) نہ ماریں، تاکہ ان کی وہ زینت معلوم ہو جو وہ چھپاتی ہیں اور تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو اے مومنو ! تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔

*(سورۃ النور آیت نمبر31)*

ایک بم تھا جو سکول کی تمام ٹیچرز اور نوجوان طالبات پہ آن گرا تھا جو بن سنور کے اپنی زیب وزینت سکول کے میل سٹاف کو خود سے متاثر کرنے کی کوشش میں رہتی تھیں ،
جو بے باکی سے سارے میں پھرتی تھیں ، قرآن کہ رہا تھا کہ وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں ،لیکن وہ اس کے برعکس میک اپ بھی ساتھ لے کے آتی تھیں کہ جب بھی تھوڑا سا کم پڑے تو وہ بے دھڑک ہوکے کلاس میں بچوں کے سامنے اپنی لپ اسٹک اور ہیئر اسٹائلز درست کر رہی ہوتی تھیں ، قرآن کہ رہا تھا مگر جو اس میں سے خود ظاہر ہو جائے اس پہ گرفت نہیں۔ لیکن ان کو ہوش ہی کب رہتی تھی دوپٹہ سنبھالنے کی ریشم کے بالوں پہ دوپٹہ ٹکتا ہی کم تھا اور جیسے ہی سر سے لڑھکا دونوں کندھوں پہ آن گرا پھر اٹھانے کی کوشش تک نہیں کرتیں تھیں۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیبا آج سکول سے آئی تو بہت خوش تھی کہ اسے زریش صاحب نے خاص طور پر لفٹ کروائی تھی اس کا حال احوال دریافت کیا تھا۔۔ اسے توجہ خاص دی تھی ۔۔اسے آنکھ بھر کر دیکھا تھا اسے لگ رہا تھا جیسے اس کا دنیا میں آنے کا مقصد مکمل ہو گیا ہو اس کے قاعدے کے مطابق جس انسان کا اچھا دوست ہو اسے پیار دینے والا ہو اسے خاص رکھنے والا ہو وی کامیاب انسان ہے اسی کی دنیا ہے یہ باتیں اسے ہواؤں میں اڑانے کےلئے کافی تھیں اور ویسے بھی رات کی ٹھندی پراسرار ہوا نے اس کے دل کے تار چھیڑ دیے تھے باہر بھی ہوائیں رقص کر رہی تھی اور دل کا موسم بھی خوشگوار تھا۔۔۔ صرف اتنی سی بات پہ کہ اسے کسی نے اہمیت دی تھی اس کے پار نام سے بلایا تھا اس کو توجہ دی تھی اس کی نظر میں وہ خاص تھی

زیبا۔۔۔۔
سکول سے گھر آنے کے فوراً بعد زریش نے اسے پکارا جیسے ایک دیوانہ اپنے محبوب کو پکارتا ہے ۔۔۔
اسے مکمل نام سے آپ اپنا نام سننے کی کتنی خواہش تھی ۔۔ لیکن اسے لگتا تھا کہ گھر والے اس کی عزت نہیں کرتے۔۔۔وہ تو انمول تھی باہر سے اسے کتنی عزت مل رہی تھی اسے اس گھر میں پیدا ہی نہیں ہونا تھا کسی اونچے گھر میں پیدا ہوتی جنھیں نام پکارنے کی تمیز تو ہوتی ۔۔۔ اپنوں سے بدگماں غیروں سے محبت کی پینگیں بڑھانے کےلئے وہ قدم اٹھانے لگی تھی لیکن وہ اس بات سے بےخبر تھی جب اسے غیر آسمان تک لے جا کر نیچے گرائیں گے تو اٹھائیں گے اسے گھر والے ہی۔۔۔
ایک غلطی، ایک غلط قدم ہمیں سالوں پیچھے جا پھینکتا ہے اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا۔۔۔۔
زیبا ابھی اپنی ابتدائی خوشی پی ہی نہال ہو رہی تھی لیکن اسے الرٹ کرنے کے لیے اللہ کا حکم نازل ہو چکا تھا ۔۔۔ اللہ کے اشارے ، Signe سب کو ملتے ہیں لیکن ان اشاروں کو سمجھتے عقل والے ہیں ۔۔۔
اس نے موبائل رکھ کے جلدی سے کام نپٹائے کیونکہ اسے یقین تھا کہ آج کی ساری رات ایک خوبصورت انسان اس کی دسترس میں رہے گا اس کی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پوری توجہ سے سنے گا اور اسے خاص اپنائیت سی محسوس ہونے لگی جیسے وہ صدیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں
دل میں سکون بھی تھا اور دل کے ایک کونے میں خوف بھی ۔۔۔ اللہ کا خوف؟؟؟ ۔۔ نہیں نہیں ۔۔۔ اللہ تو کہیں ہوتا ہی نہیں دنیا کو پوجنے والوں کے دماغ میں
ماں باپ کا خوف ؟؟؟ ہاں لیکن ماں باپ کے ساتھ خیانت کرتے ہوئے کچھ شرم آئی تھی ۔۔۔

وہ جیسے ہی بستر پہ لیٹی کہ اب فرصت سے بات کرے گی ۔۔۔ اگر ماں نے دیر تک جاگنے سے منع کیا تو بہانہ کر دے گی کہ سکول کا کچھ کام ملا ہے ۔۔۔
واٹس ایپ آن کرتے ہی ایک نمبر کی چیٹ پہ سٹیٹس شو ہو رہا تھا سٹیٹس دیکھنا اس کا جنون تھا لیکن اب ایک ایسا سلسلہ شروع ہو رہا تھا جو یا تو اسے مکمل مار دے گا یا مکمل زندہ کر دے گا اس کے مردہ ضمیر کو
اس نے جلدی سے سٹیٹس اوپن کیا تو سامنے لکھے لفظ ہتھوڑے کی طرح اس کے ذہن سے جا ٹکرائے ۔۔۔
"اے ایمان والو!شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو اور جو شیطان کے قدموں کی پیروی کرتا ہے تو بیشک شیطان تو بے حیائی اور بُری بات ہی کا حکم دے گا۔"
او ہو۔۔۔۔ یہ تیس سیکنڈ کی ویڈیو اور تلاوت میری سمجھ سے بالاتر ہے ۔۔۔
یہ سوچتے ہوئے وہ واپس چیٹ پہ آئی اور زریش کی چیٹ اوپن کر کے دوبارہ اپنا نام پڑھنے لگی ۔۔۔
ہم نے سنت پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے جو ہمیں نام سے پکارے اس کے نشے میں ہم سلام کی اہمیت بھول جاتے ہیں فراموش کر دیتے ہیں ہمارے لیے ہمارا وقت اہم اسلام پہ عمل کرنے والے اور بہت ہیں یا پھر ہم جوانی تو انجوائے کریں ۔۔ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی ابھی تو عمر پڑی ہے۔۔۔۔


ایسے میں کچے مکان کے اندر آتشی اور اناری روشنی کے ملے جلے ماحول میں ایک وجود دماغ میں شیطانی منصوبہ لیے دراز تھا جسے اپنے شکار کو پھنسانے کےلئے رات کے وقت محنت شروع کرنی ہوتی تھی اور ساری رات بھی وہ اس کےلئے جاگ سکتا ہے

یہ چھٹیوں سے ایک ماہ پہلے کا واقعہ تھا کہ جب زیبا کو ایک انجان نمبر سے میسج ریسیو ہوا
کہ آپ زیبا ہیں میں آپ کو بہت اچھے سے جانتا ہوں ، بلکہ میں بچپن سے اپکو جانتا ہوں آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں آپ کے عنابی ہونٹوں پہ میں مر مٹا ہوں ۔۔۔۔
زیبا کو یہ میسج لگاتار یکے بعد دیگرے ملے تو وہ پزل ہو گئی ۔۔۔
بے ترتیب دھڑکن کے ساتھ وہ سارے گھر میں چکر کاٹ رہی تھی کون ہے جو اسے اتنا قریب سے جانتا ہے اس پہ مرتا ہے اور اسے خبر ہی نہیں ۔۔۔
آخر کون ہو سکتا ہے ؟؟۔۔۔
آخر کون ہو سکتا ہے؟؟...
اس نے عقل کے سارے گھوڑے دوڑا لیے لیکن اسے کوئی ایسا بندہ یاد نہیں آ رہا تھا جو اس کے ایک ایک انداز سے واقف ہو ۔۔۔
تھک ہار کر اس نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اور منتشر خیالات کے ساتھ بیک میسج کیا کہ آپ کون ہیں ۔۔۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی یہ ایک میسج اسے کتنا مہنگا پڑنے والا ہے ۔۔۔ اس ایک میسج کی قیمت اس کی جان بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔
اس ایک میسج کے لیے اسے دنیا سے ہمیشہ کے لیے ایک بد ترین حادثے کے ساتھ جانا پڑے گا
اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کس آگ میں قدم رکھ چکی تھی ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

24/07/2023

ناولٹ :
لڑکپن کی محبت
از قلم: فائزہ انور

قسط نمبر:1

وہ تاریک رات میں چاند کی
چاندنی سے لطف اندوز ہونے کے لیے چھت پہ کھڑی تھی سامنے گھپ اندھیر تھا لیکن دائیں طرف سے ابھرتا چاند اپنے پورے جوبن پہ تھا مصنوعی لائٹس کی روشنی پوری چھت کو اپنے حصار میں لیے ہوئے تھی جس میں وہ واضح دکھ رہی تھی سیاہ اور سفید کا رنگ سکارف لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاہ سکارف پہ کہیں کہیں سفید دھاریاں بھی تھیں جیسے سیاہ آسمان اور تاریک رات میں چاند اور مصنوعی لائٹس کی روشنی کی کرنیں آس پاس کو روشن کیے ہوئے تھیں

سفید مخملیں ہاتھ سے دوپٹے کا کونہ سنبھالتی چاند کے حسن کو تکتے ہوئے وہ یہ بھول چکی تھی کہ اس کے ہاتھ میں موجود چائے کہیں گر نہ جائے۔۔۔

اتنی محویت سے چاند کو دیکھ رہی تھی جیسے اسے دیکھنا فرض عین ہو اور اس کی ابھی یہ ڈیوٹی ہو چاند کا عکس اپنی نظروں میں اتار لینے کی ۔۔۔۔
آس پاس لگے پودے بھی پوری طرح جھک کے اس کی محویت کا مشاہدہ کر رہے تھے اور خوف زدہ تھے کہ اگر اتنی محویت میں چائے کا کپ زمین بوس ہو گیا تو یہ پری پیکر وجود ان کے سامنے سے اوجھل بھی ہو سکتا ہے

درخت پودے زمین میں ایک جگہ ہی مقیم ہیں وہ چل پھر کے دنیا دیکھ تو نہیں سکتے انجوائے نہیں کر سکتے۔۔۔
لیکن جو دنیا چل کے ان کے پاس آتی ہے انھیں وہ پوری طرح اپنی یاد کے پنوں میں محفوظ کر لینا چاہتے ہیں۔۔۔
تا کہ تنہائی میں وہ اس کی یاد سہارے جیئے ۔۔۔

سو دائیں بائیں کے پودے اپنے وجود کو آنکھوں کے بھیس میں بدلے زمینی چاند کو دیکھ رہے تھے اور زمین کا چاند آسماں کے چاند کی ان کہی کہانی سن رہا تھا۔۔۔
نہ جانے وہ وجود آسمانی چاند کی وہ کہانی سن رہا تھا یا اسے اپنی سنا رہا تھا ۔۔
دوپٹے کے کونے کو احتیاط سے تھامے ہوئے وہ رات کی تاریکی میں بھی شرم و حیاء کی پیکر لگ رہی تھی
ذہن کے پردوں پہ ماضی کی یادیں سلائیڈز کی طرح چل رہی تھیں ایک سلائیڈ پہ آ کے ذہن رک گیا تھا ۔۔۔
ایک نقشہ سا نمودار ہوا سکرین پہ ایک مسکراتا ہوا وجود ابھرا ، ہلکے بھورے بال کندھے پہ بکھرے تھے سکائے بلیو ٹی شرٹ پہنے حفاظتی باڑ پہ دونوں ہاتھ جمائے سارا وزن
بائیں طرف ڈالے دایاں پاؤں پیچھے کئے اور بایاں پاؤں آگے کی طرف جھلانے والے انداز میں تھا بائیں ہاتھ کے پاس چائے کا خالی کپ پڑا تھا جس سے ابھی ابھی چائے پی گئی تھی ۔۔۔
پاؤں سیاہ تسمے والے بوٹوں میں مقید تو تھے لیکن جسم ننگا بے زینت اور بے وزن سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔
وجود بظاہر خوش نظر آ رہا تھا لیکن اندر سے کثیف اور بوجھل سا تھا ۔۔۔
گہری بھوری لکڑی کی بنی حفاظتی باڑ سورج کی ٹھنڈی اور لطیف سی کرنیں پڑنے پر سنہری رنگ کا تاثر دے رہی تھی پیچھے بلندو بالا سفید پہاڑ برف سے ڈھکے تھے اور وجود کی نظریں نیچے بہتی آبشار سے لطف اندوز ہو رہی تھیں اور پودے بھی نظروں کے تعاقب میں نیچے دیکھ رہے تھے۔۔

ماضی کا تصور اور حال کی حقیقت میں منظر ایک سا ہی تھا فرق تھا تو بس اتنا کہ تصور میں ابھرا عکس کسی بھی ڈر اور خوف پیار اور محبت سے بے نیاز تھا اور حال میں جیتا عکس پیار ومحبت کی رنگ میں رنگا تھا ،امید اور خوف کے درمیان خود کو پابند کیے ہوئے تھا۔۔
کیسا پیار اور کیسی محبت ۔۔
کیسی امید اور کیسا خوف ۔۔۔
اور کس سے ۔۔۔
یہ تو وقت کا ہی کام تھا کہ دو عکسوں کے درمیان فرق کی لکیر چمخوب واضح کھینچتا
کیسے ایک عکس سیاہی میں ڈوبا تھا اور وہ کیسے سرمئی میں بدلا ۔۔۔۔
وقت کے پاس ان سب سوالوں کے جواب تھے اور وقت سے ہی جانا جا سکتا تھا کہ یہ بدلاؤ کیسے آیا تھا۔

قدرتی منظر سے ہٹ کے کمرے میں دیکھا جائے تو بیڈ پہ لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا کام کرتے کرتے تھک کے وہ تھوڑی سی بریک لینے کے لیے باہر کھلی فضاء میں چائے اٹھا کر چلی گئی تھی ۔۔
سکرین سے نیلی روشنی پھوٹ رہی تھی اور موبائل کی سکرین بھی آن تھی وہ ہاٹ اسپاٹ آن کر کے لیپ ٹاپ پہ انٹرنیٹ سے سرچنگ کا ورک کر رہی تھی اور کوئی اسائنمنٹ تیار کر رہی تھی ۔
لیپ ٹاپ کے دائیں طرف تازہ سرخ گلاب گلدان میں سجے تھے
جو کہ چاہنے والوں کی طرف سے روزانہ تازہ بھیجے جاتے تھے اور بالکل گلدان کے سامنے ایک پھولوں کا گلدستہ سبز کریشیہ کے بنے گلدان میں سجا تھا مختلف رنگوں کے پھول بے شمار محبتوں کا اظہار تھے۔۔۔

پاس ہی موبائل پڑا تھا دائیں طرف سے بلب کی سفید روشنی بائیں طرف سے سنہری روشنی اور درمیان میں پڑے موبائل اور لیپ ٹاپ کی بلیو روشنی نے آپس میں ایک فسوں خیز سا ماحول بنا رکھا تھا ۔۔۔

لیکن اس مصنوعی سجاوٹ سے زیادہ اسے فطرت پسند تھی چاند سے باتیں کرنا۔۔۔۔۔۔
پودوں کو اپنی انگلیوں کے پوروں سے چھونا ۔۔۔۔۔

رات کی ٹھنڈک کو محسوس کرنا اور اندر تک جذب کر لینا۔۔۔

اور خود کو فطرت کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ۔۔۔
اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا
فطرت سے لگاؤ مٹی سے محبت محلات اور سنگ مرمر سے دوری اس کی ذات کا حصہ کب بنا کیسے بنا یہ وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی بس اب وہ ان سب محبتوں کو جگنو کی طرح مٹھی میں بند کر لینا چاہتی تھی کہ کہیں ہاتھ کھلنےسے نکل نہ جائیں ۔۔

اچانک کمرے سے آنے والی رنگ ٹون کی آواز نے ماحول میں ارتعاش پیدا کیا اور اسے اپنے مشغلے کو چھوڑ کر جانا پڑا ۔۔۔

اس کے کمرے تک پہنچنے تک کال کٹ چکی تھی اور ایک میسج جگمگا رہا تھا ۔۔۔
خوف زدہ نہیں تھی وہ لیکن میسج جس نمبر سے آیا تھا اسے دیکھ کر اس کی عجیب حالت ہو چکی تھی ۔۔۔
دل تھا کہ دھڑکنا بھول چکا تھا اور ہاتھ پاوں پسینے میں بھیگ چکے تھے۔۔
دور سے ہی اس کی نظر ان الفاظ پہ پڑ چکی تھی۔۔۔
ہیلو!!!
یار کیسی ہیں آپ ؟؟
اور ایک غیر مرد غیر لڑکی کو یار کہ کر بلائے اس سے بڑھ کر کیا تذلیل ہو سکتی ہے بنت حوا کی ۔۔۔
ہاں اس میں بھی بنت حوا کا قصور ہوتا ہے ہر ایرے غیرے کو جو بھی منہ میں آئے بول دینے کی آزادی خود بنت حوا دیتی ہے ورنہ تاریخ بھری پڑی ہے ایسی عورتوں کی بہادری کی قصوں کی جن کے سامنے بڑے بڑے جرنیل کرنل گھٹنے ٹیکتے ہیں

یار کیا ہماری ملاقات ہو سکتی ہے ؟؟؟
لفظ تھے یا نشتر جو اس کے وجود کو زخم زخم کیے جا رہے تھے۔۔

مجھے پتہ ہے آپ میری بات کا انکار نہیں کر سکتی اس لیے بڑے مان سے کہ رہا ہوں

"واٹ؟؟؟؟؟"
اس کے ابرو تنے ۔
"کیا کہا آپ نے "
اس کا پارہ ہائی ہو چکا تھا جو ہمیشہ باوقار انداز سے بات کرنے والی تھی اس وقت شدید برہم نظر آ رہی تھی ۔۔

" جی اور اس کے علاؤہ کوئی بات نہیں سننی میں نے آپ سے آخر ہم دوست ہیں یار !!..."
یار اور پھر دوست اس کا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا ان لفظوں کی بازگشت ہر طرف سے سنائیں دینے لگی۔۔۔
ماضی اپنی پوری سیاہی لیے اس پہ وار کرنے کو تیار تھا اور اس نے تو تیاری ہی نہیں کی تھی جوابی وار کرنے کی ۔۔۔

'یار جواب تو دے دو!"

………………………………………
سکول میں بچے جوق در جوق داخل ہو رہے تھے اسمبلی ہونے میں پانچ منٹ باقی تھے تمام ٹیچرز اپنی اپنی کلاس کی لائنیں سیٹ کروا رہی تھیں ۔۔۔۔
مس زیبا کا آج دوسرا دن تھا سکول میں ،کالج سے چھٹیاں تھیں اسی لیے وہ چاہتی تھیں کہ کسی سکول میں جوائن کر کے نیکسٹ سمیسٹر کی فیس ہی جمع کر لے گی فری گھر میں بیٹھنے سے یہ بہتر آپشن تھا

یہ وادی کونش کا گاؤں تھا جس میں تقریباً 300 بچے پڑھتے تھے پرائیویٹ سکول تھا جو کہ 9 کلاس روم اور ایک آفس پہ مشتمل تھا
معلوم ہوتا تھا کہ یہ سکول پہلے گھر رہا تھا پھر گھر کو سکول میں بدل دیا گیا

وادی کونش پاکستان کی خوبصورت ترین وادی اپنے دلفریب اور دل موہ لینے والے مناظر رُوح پرور آب و ہوا بلند و بالا فلک بوس سفید لباس اوڑھے کوہسار دیدہ زیب اور دل کشا مرغزاروں اور جنگلات جاذبِ نظر آبشاروں حد درجہ خوبصورت، پُر اسرار اور طسلماتی نیلگوں جھیلوں نے وادی کونش کو جنت اراضی کا درجہ عطا کر دیا ہے۔
ضلع مانسہرہ بلکہ ہزارہ ڈویژن کی خوبصورت ترین وادیوں میں سے ایک وادی ہے جو پاک چین دوستی کے تعاون سے تعمیر ہونے والی شاہراہ قراقرم کے دونوں ں جانب واقع ہے شاہراہ قراقرم جب میں داخل ہوتی ہے تو سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی شنکیاری ویلج سے نکل کر کوٹلی بالا اہل بٹل اور چھتر پلین کے وسیع و عریض میدان میں قدمِ رنج ہوتی ہے اور بالآ خر شاہراہ قراقرم ضلع بٹگرام میں چھتر پلین سے تقریبا ً 2 کلو میٹر شمال میں شارکول ریسٹ ہاؤس کے قریب داخل ہوجاتی ہے۔ چھترپلین ضلع مانسہرہ میں ایک ایسا صحت افزا مقام ہے جہاں گلگت چین اور ضلع کوہستان جانے والے غیر ملکی سیاح اپنی آنکھوں کو قدرت کے ان انمول مناظرکو سمو کر جاتے ہیں جنھیں پاکستان کے دیگر صحت افزا مقام پُر میسر ہونا مشکل ہوتا ہے شاہراہ قراقرم کی تعمیر وتوسیع نے وادی کونش کی خوبصورتی اور قدرتی حُسن کو نکھارنے میں ریڑھ کی ہڈی جیسا کردار ادا کیا ہے
وادی کونش اپنے حدود اربعہ کے لحاظ سے کچھ یوں وضاحت ِ طلب ہے کہ اس کے مشرق میں درہ بھوگڑ منگ واقع ہے جس میں دھڑیال۔ سُم ڈاڈر، جبوڑی ،نواز آباد، سچہ کلاں جیسے خاص خاص مضافات ہیں۔ جبکہ مغرب میں وادی اگرور جسے عرفِ عام میں میدانِ اگرور بھی کہا جاتا ہے کے مشہور و معروف گاؤں کھبل، شمدھڑہ، اوگی، دلبوڑی، شرگڑھ اور تربیلہ جھیل واقع ہیں۔ شمال مغرب میں کوزہ بانڈہ، کے چھوٹے مضافات اور بستیاں واقع ہیں جبکہ جنوب میں مانسہر شہر، ہزارہ یونیورسٹی، عطر شیشہ، کا وسیع و عریض علاقہ اپنے اپنے قدرتی مناظر کو سموئے ہوئے ہیں۔ وادی کونش مانسہرہ شہر کے شمال میں قدرتی حسن جمال سے مالا مال دیدہ ذیب او ر دلچسپ مناظر کی مالک ہے

پہلے دن مس زیبا کو ایک کلاس میں لا کے کے چھوڑا گیا اور سمپل سا تعارف کلاس سے کروایا گیا اور کلاس کا مس زیبا سے

گرمی کی چھٹیوں کے بعد سکول اوپن ہوئے تھے تو پچھلے سٹاف سے صرف دو تین ٹیچرز ہی تھیں باقی سارا سٹاف نیا تھا
وہ بھی اس نئے سٹاف میں شامل تھی اور پرانی ٹیچرز کی بہ نسبت نئے سٹاف سے زیادہ گھل مل گئی تھی پہلے ہی دن میں۔۔۔

مس شہلا بھی نئی استانی تھی نفیس شخصیت کی حامل بہت ہی اچھا لب و لہجہ اور کمال انداز گفتگو اس کا خاصہ تھا
اسے تو وہ پہلی ملاقات میں ہی بھا گئی تھی۔

مس شہلا اعلیٰ تعلیم یافتہ تھی اور مس زیبا کی تعلیم کا سلسلہ ابھی جاری تھا۔
زندگی نے کچھ ایسا موڑ کھایا کے اس نے جاب کا رسک لے لیا کہ اک تجربہ ہی سہی۔

شہلا اور زیبا کے روم ایک ساتھ تھے ۔۔ شہلا کو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کی بناء پر پانچویں اور ساتویں دو کلاسزز دی گئی تھں
جبکہ زیبا کو تعلیمی لحاظ سے سوئم کلاس دی گئی تھی ۔

"ہائے مس زیبا کسی ہیں آپ "

زیبا کے عقب سے جانی پہچانی سی مردانہ آواز ابھری ۔۔۔

زیبا نے مڑ کے دیکھا تو زریش مخمور سی نگاہوں سے اس کا سر تا پا جائزہ لے رہا تھا

وہ دیوار کے ساتھ کھڑی تھی جس پہ پھولوں والی بیل لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔
سفید جوڑے پہ بڑے بڑے گلابی پھولوں والا شیفون کا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا
بالوں سے ایک لٹ نکل کر چہرے پہ جھول رہی تھی ۔۔۔
دونوں ہاتھ ایک دوسرے میں باہم ملا رکھے تھے اور سر کے اوپر بیل کی ایک شاخ لہرا رہی تھی جس کے سرے پہ لگے گلابی پھولوں نے دوپٹہ کے پھولوں سے مل کر زیبا کے حسن کو چار چاند لگا رکھے تھے۔۔۔
پیچھے سے سفید دیوار سفید جوڑے کے ساتھ مل طلسماتی ماحول پیدا کر رہی تھی ۔۔۔

زریش کی نگاہیں اس سارے ماحول سے لطف اندوز ہو رہی تھیں
اور زیبا وہ تو خود اس کی شخصیت میں محصور ہو کر گنگ کھڑی تھی جیسے سمجھ نہ آ رہی ہو کہ اس کے سوال کا جواب دے یا اس سامنے کھڑے مجسمے کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملا ئے ۔۔۔۔

آف وائیٹ ٹراؤزر پہ سرمئی ٹی شرٹ پہنے دایاں ہاتھ ٹراؤزر کی جیب میں ڈالے اور بائیں ہاتھ سے ٹھوڑی کو چھوتے ہوئے وہ کسی داستان کا جیتا جاگتا کردار لگ رہا تھا
وہ ایک دوسرے پہ بجلیاں گرا رہے تھے
ٹیچریں اپنی اپنی کلاس کی لائنیں درست کروانے میں مشغول تھیں اور بچے ٹیچروں کی ڈانٹ سے بچنے کے لیے جلدی جلدی اپنی لائن میں جا کھڑے ہونے کی کوشش میں تھے
جیسے ہی گھڑیال نے آٹھ بجنے کا الارم بجایا اسمبلی شروع ہو چکی تھی ۔
مائیک کو سیٹ کرنے کی آواز نے زریش اور زیبا کا سحر توڑا
تو وہ دونوں سٹیج کی طرف متوجہ ہوئے
مس شہلا میرون گاؤن میں ملبوس سکن کلر سٹولر سے حجاب کیے جس سے سر پورے کا پورا کورر تھا اور آنکھوں پہ چشمہ لگائے نہایت ہی رعب دار اور پروقار انداز میں سٹیج پہ بر جمان تھیں جن کو ایک نظر دیکھ کے ان کی شخصیت کے رعب ودبدبہ سے آنکھیں خود ہی جھک جاتی تھیں.وہ مائیک ہاتھ میں لیے مؤدبانہ انداز سے
تلاوت شروع کر چکی تھیں

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

پناہ مانگتی ہوں اللہ کی دھتکارے ہوئے شیطان سے

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہے

قُلْ لِّـلۡمُؤۡمِنِيۡنَ يَغُـضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِهِمۡ وَيَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَهُمۡ‌ ؕ ذٰ لِكَ اَزۡكٰى لَهُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا يَصۡنَـعُوۡنَ

ترجمہ:
مومن مردوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ بیشک اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو وہ کرتے ہیں۔
*(سورۃ النور آیت نمبر 30)*

زریش کا دل اپنے گناہ کے فاش ہو جانے پہ دھڑکا تھا کہ کیسے اس کی نظر کی خیانت لمحہ بھر میں پکڑی جا چکی تھی وہاں دوسرا کوئی وجود زریش کی کنڈیشن سے واقف نہیں تھا اسے یوں لگ رہا تھا جیسے بھرے مجمعے میں اسے ننگا کر دیا گیا ہو اور اسے ننگا کس نے کیا یہ خیال دل میں آتے ہی اس کی نظریں مس شہلا کی طرف اٹھیں اور دل میں مصمم ارادہ کیا کہ دیکھتا ہوں کیسے یہ مس میری گرفت سے بچ سکتی ہے میں نے اس سکول کی ہر نئی چڑیا کا شکار کیا ہے یہ ابھی مجھے جانتی نہیں ۔۔۔
یہ جو اس نے دین داری کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے نہ جلد ہی اتار دوں گا اس کا یہ لبادہ ۔۔
اس خیال کے ساتھ ہی زریش کے چہرے پہ مکارانہ اور طنز بھری مسکراہٹ ابھری اور وہ سٹوڈنٹس کے درمیان سے ہوتا ہوا گیٹ سے تیزی سے باہر سے نکل گیا جیسے کوئی بہت ضروری کام یاد آ گیا ہو۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

23/07/2023

creation of earth and life
(فرقان قریشی کے چینل سے ).............__________part 1....یہ چیپٹر اس چیز کے متعلق ہے جسے ہم سب جانتے ہیں جسے ہم دیکھ سکتے ہیں چھو سکتے ہیں یہی سے ہی ہماری پیدائش ہوئی ہے یعنی کہ زمین ۔۔۔۔۔
لیکن زمین آخر کہتے کسے ہیں زمین چونکہ ایک فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے خشک اور سخت مٹی جس پر قدم رکھ کرکھڑے ہوا جا سکے لیکن زمین تو ایک سادہ سا لفظ ہے جو روز مرہ زبان میں استعمال ہوتا ہے درحقیقت ہم جس سخت زمین پر کھڑے ہوتے ہیں یا رہ رہے ہیں اور جو ہمیں ہمارے نیچے ہزاروں میل پھیلی ہوئی نظر ارہی ہے اس کی تعریف اس سے کہیں زیادہ ہے.ٹیکنیکل زبان میں یہ زمین ایک مجموعہ ہے کچھ معدنیات کا کچھ گیسز کا کچھ لیکویڈز کا۔۔۔۔
اور ایک ایسی چیز کا جس کے بغیر میں اور اپ کبھی بھی یہاں نہ ہوتے۔۔۔۔۔( زندگی )

یعنی کہ وہ مادے جن کے بغیر زندگی نہیں تھی ۔۔۔۔
اور یہ سائنس کی زبان میں آرگینک میٹر کہتے ہیں۔۔۔۔.

آرگینک میٹر پر بات کرنے سے پہلے ہم زمین کے بارے ایسی باتیں جانیں گے جن پر بہت کم بولا جاتا ہے ۔۔۔۔

دنیا کی زبان میں ویسے تو زمین کے بہت سے نام ہیں لیکن اس کا ایک ایسا نام ہے جس کی جھلک آپ کو تقریباً ہر زبان میں نظر آتی ہے اور وہ ہے۔۔۔۔
عربی لفظ/ ارضانگلش /earth
کہتے ہیں

19/07/2023

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
کیا آپ جانتے ہیں دنیا میں دو قرآن ہیں؟
ایک وہ قرآن ہے جو ہمارے سامنے ہے اور ایک وہ قرآن جو چھپا ہوا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟ یورپ اور جتنی ترقی یافتہ اقوام نے ترقی کی ہے وہ دراصل دوسرے قرآن پر عمل کر کے حاصل کی ہے۔
آئیے ہم اس راز سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ دوسرا قرآن کون سا ہے۔ کیونکہ یہ بات میں نے خود کبھی کسی مسجد میں کسی امام صاحب، کسی عالم صاحب سے نہیں سنی۔
تو شروع کرتے ہیں۔
یاد رکھیے کہ آج کے دور میں کوئی بھی رہبر یا رہنما اس وقت تک رہبر نہیں کہلا سکتا جب تک وہ آج کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔
اسی طرح قرآن اگر آج کے دور میں رہنمائی نہیں کرتا تو یہ نعوذباللہ یہ آفاقی کتاب کے درجے پر پورا نہیں اترتی لیکن بدقسمتی سے ہم صرف اسی قرآن سے واقف ہیں جو ہمارے سامنے ہے اور جو دوسرا قرآن ہے اس سے ناواقف ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن میں عبادات کا حکم ہے نماز پڑھو، روزہ رکھو وغیرہ وغیرہ مگر کیا آپ جانتے ہیں نماز، وضو، زکوٰۃ، روزہ، حج، طلاق، قرض وغیرہ پر کل 6666 میں سے صرف تقریباً 150 آیات ہیں۔
ان کی اہمیت اور فرضیت پر کوئی شک و شبہ نہیں اور صد فی صد ان پر عمل انتہائی ضروری ہے دنیا میں مگر دنیا سے زیادہ اخرت میں کامیابی کے لیے۔
یہ تو ہم جانتے ہیں یہ قرآن میں ہے مگر ایک اور پہلو بھی ہے جس کا تعلق دوسرے قرآن سے ہے اور اس پہلو پر 100 یا ڈیڑھ سو آیات نہیں بلکہ ساڑھے سات سو آیات ہیں۔ مطلب پورے قرآن کا گیارہواں حصہ صرف اس ایک چیز کے بارے میں ہے جس کو نہ کبھی ہم نے توجہ دی اور نہ سمجھا لیکن امریکہ، یورپ، جاپان، چین وغیرہ انجانے میں اسی چیز پر عمل کر رہے ہیں جس کا حکم قرآن نے تقریباً ساڑھے سات سو بار دیا ہے۔ اس پہلو پر کم سے کم میں نے کسی امام، خطیب، عالم، مفتی کو بات کرتے نہ دیکھا نہ سنا،
اور وہ حکم ہے، "مطالعہ کائنات۔"
پورے قرآن کا گیارہواں حصہ یہی بار بار کہتا ہے کہ کائنات کے بارے میں جانو، پڑھو، سمجھو، غور کرو۔
سورت بقرہ آیت 164، جاثیہ آیت 4، عنکبوت آیت 20، ال عمران 87، یوسف 105، اعراف 185، فاطر 27، 28
یہ صرف چند حوالے دیے کیونکہ سارے حوالے دینا ممکن نہیں یہاں۔ ان آیات کی تصاویر اور ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ مطالعہ کائنات یا دوسرا قرآن بہت ضروری ہے کیوں ضروری ہے یہ بھی بتاتے ہیں۔
کیا کبھی ایسا ہوا کہ آپ نے کسی ٹیچر سے پڑھے بغیر، اس سے سیکھے بنا اس کی دل سے بہت تعریف کی ہو کہ فلاں ٹیچر بہت اچھا ہے۔
کیا کبھی ایسا ہوا کہ آپ نے کسی رائٹر کی کتاب نہ پڑھی ہو اور پھر دل سے اس رائٹر کی بہت تعریف کی ہو کہ فلاں رائٹر بہت اچھا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی بنائی چیزوں پر غوروفکر کیے بغیر اللہ کی تعریف کرنا بھی ایسا ہی ہے جیسے کسی رائٹر کی لکھی کتاب پڑھے بنا اس رائٹر کی تعریف کرنا۔
بےشک اللہ تعالیٰ نے اس پر بھی اجر و ثواب رکھا ہے کہ جو بھی ایک حرف بھی اللہ کی بڑائی میں کہے گا اس کا اجر و ثواب ہو گا لیکن حقیقی تعریف وہی ہو گی اور اللہ کو زیادہ خوشی اسی تعریف سے ہو گی جو کائنات کو سمجھ کر کی جائے گی۔ جیسے الخالق ایک لفظ ہے کیا کائنات میں غوروفکر کر کے اس لفظ کو ادا کیا جاتا ہے؟
اس لفظ کی گہرائی پر میں نے پہلے بھی پوسٹ کی تھی مگر نئے لوگوں کے لیے مختصراً پھر سے بتاتا ہوں، اس کائنات میں ہر منٹ میں نہ جانے کتنے انسانی بچے پیدا ہو رہے ہیں، لیکن رکیے! کیا صرف انسانی بچے نہیں بلکہ جانور، پرندے، کیڑے مکوڑے، بیکٹیریا، خوردبینی جاندار، پودے، پانی کے قطرے، پتھر، مٹی کے ذرے، زمین سے باہر نکلیں تو چاند، ستارے، سورج، سیارے، کہکشائیں، نہ جانے کتنی مخلوقات ایک پل میں سیم ایک ہی وقت میں پیدا ہو رہی ہیں پھر ہر ایک کا پیدا ہونے کا طریقہ الگ ہے، نئے ستارے کے پیدا ہونے کا طریقہ الگ، جانور کا الگ، بیکٹیریا وغیرہ کا الگ، اب ہر چیز کے پیدا ہونے کے طریقے پر غور کریں، تحقیق کریں، حیرانی بڑھتی جائے گی کہ کیسے کیسے حیران کن طریقے ہیں چیزوں کے پیدا ہونے کے، اس حیرانی کے پورے احساس کے ساتھ یہ احساس کہ اتنی مخلوقات کو ایک ہی پل میں پیدا کرنے والا، کائنات کے شروع سے اب تک پیدا کر رہا ہے اس دوران نہ بیلنس بگڑنے دیا نہ کوئی سیارہ بھٹکا، نہ جانور کی شکل بدلی، اور یہ سب پیدا کرنے والا نہ بھولا، نہ تھکا، نہ چوکا، نہ غلطی کی، اس ذات کے ان تمام پہلوؤں کو سوچتے ہوئے جو منہ سے الخالق لفظ نکلے گا جو سبحان اللہ نکلے گا اس کا وزن اس سبحان اللہ سے کہیں زیادہ ہو گا جو بنا سوچے سمجھے منہ سے نکالا جائے۔
اب اسی طرف قرآن بار بار دعوت دیتا نظر آتا ہے اور اس دعوت کی طرف کتنے لوگ آتے ہیں؟ اس دعوت کی کتنے لوگ دعوت دیتے ہیں یہ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی۔
کیا پورے سورت کا نام الحدید یعنی لوہا، نمل، مکڑی وغیرہ کیا پوری پوری سورتوں کا نام ایسے ہی جانورں اور چیزوں کے نام پر رکھ دیے گئے ہیں؟
یہ ہی دوسرا قرآن ہے جس سے ہم واقف نہیں، یہی غوروفکر، تحقیق والا قرآن ہے جس پر جب تک مسلمان عمل کرتے رہے پوری دنیا پر غالب رہے جب غیروں نے اس قرآن کو اپنایا تو وہ غالب آ گئے۔
شاید اسی لیے کہا گیا ہے سورت سبا کی آیت 13 میں کہ "میرے حقیقی شکرگزار بندوں کی تعداد بہت کم ہے۔"
آج کے دور میں بھی مسلمان بہت ہیں مگر حقیقی مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے۔
کئی احادیث ایسی ہیں جن میں غوروفکر کی طرف پرزور دعوت دی گئی ہے۔ ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج رات مجھ پر ایک آیت نازل ہوئی ہے ، جو اس کو پڑھے اور اس پر غور و فکر نہ کرے تو اس کے لئے تباہی ہے، اور وہ یہ آیت ہے۔
بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں، اور رات اور دن کے بدلنے میں، اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کی نفع دینے والی چیزیں لے کر چلتے ہیں، اور اس پانی میں جسے اللہ نے آسمان سے نازل کیا ہے پھر اس سے مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے اور اس میں ہر قسم کے چلنے والے جانور پھیلاتا ہے، اور ہواؤں کے بدلنے میں، اور بادل میں جو آسمان اور زمین کے درمیان حکم کا تابع ہے، البتہ عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (سورت بقرہ آیت 164)

عریش

18/07/2023

فرقان قریشی کے پیج سے
(جنات کا سائنسی تجزیہ)
ایک سائنسدان کے قلم سے۔۔۔۔
بہت دلچسپ۔۔۔ضرور پڑھیں

‏جنات اللہ کی مخلوق ہیں یہ ہمارا یقین ہے ،
وہ آگ سے پیدا کیے گئے ،
ان میں شیاطین و نیک صفت دونوں موجود ہیں
اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے یہ تھریڈ اس بارے میں نہیں ہے ۔

یہ تھریڈ جنات کی سائینٹیفیک تشریح کے بارے میں ہے ۔
کیا وہ ہمارے درمیان ہی موجود ہیں ؟

اور زیادہ اہم سوال یہ کہ ہم انہیں دیکھ کیوں نہیں سکتے ؟

لفظ جن کا ماخذ ہے ‘‘نظر نہ آنے والی چیز’’ اور اسی سے جنت یا جنین جیسے الفاظ بھی وجود میں آئے ۔
جنات آخر نظر کیوں نہیں آتے ؟
اس کی دو وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں ۔
پہلی وجہ یہ کہ انسان کا ویژن بہت محدود ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس کائینات میں ‏جو (electromagnetic spectrum)
بنایا ہے اس کے تحت روشنی 19 اقسام کی ہے ۔
جس میں سے ہم صرف ایک قسم کی روشنی دیکھ سکتے ہیں جو سات رنگوں پر مشتمل ہے ۔
میں آپ کو چند مشہور اقسام کی روشنیوں کے بارے میں مختصراً بتاتا ہوں ۔

اگر آپ gamma-vision میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں تو آپ کو دنیا ‏میں موجود ریڈی ایشن نظر آنا شروع ہو جائے گا ۔

اگر آپ مشہور روشنی x-ray vision میں دیکھنے کے قابل ہوں تو آپ کے لیے موٹی سے موٹی دیواروں کے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی ۔

اگر آپ infrared-vision میں دیکھنا شروع کر دیں تو آپ کو مختلف اجسام سے نکلنے والی حرارت نظر آئے گی ۔

‏روشنی کی ایک اور قسم کو دیکھنے کی صلاحیت ultraviolet-vision کی ہو گی جو آپ کو اینرجی دیکھنے کے قابل بنا دے گا ۔
اس کے علاوہ microwave-vision اور radio wave-vision جیسی کل ملا کر 19 قسم کی روشنیوں میں دیکھنے کی صلاحیت سوپر پاور محسوس ہونے لگتی ہے ۔

کائینات میں پائی جانی والی تمام ‏چیزوں کو اگر ایک میٹر کے اندر سمو دیا جائے تو انسانی آنکھ صرف 300 نینو میٹر کے اندر موجود چیزوں کو دیکھ پائے گی ۔
جس کا آسان الفاظ میں مطلب ہے کہ ہم کل کائینات کا صرف % 0.0000003 فیصد حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں ۔
انسانی آنکھ کو دکھائی دینے والی روشنی visible light کہلاتی ہے اور یہ‏ الٹرا وائیلٹ اور انفراریڈ کے درمیان پایا جانے والا بہت چھوٹا سا حصہ ہے ۔

ہماری ہی دنیا میں ایسی مخلوقات موجود ہیں جن کا visual-spectrum ہم سے مختلف ہے ۔
سانپ وہ جانور ہے جو انفراریڈ میں دیکھ سکتا ہے
ایسے ہی شہد کی مکھی الٹراوائیلٹ میں دیکھ سکتی ہے ۔
دنیا میں سب سے زیادہ رنگ ‏مینٹس شرمپ کی آنکھ دیکھ سکتی ہے ،
الو کو رات کے گھپ اندھیرے میں بھی ویسے رنگ نظر آتے ہیں جیسے انسان کو دن میں ۔
امیرکن کُک نامی پرندہ ایک ہی وقت میں 180 ڈگری کا منظر دیکھ سکتا ہے ۔
جبکہ گھریلو بکری 320 ڈگری تک کا ویو دیکھ سکتی ہے ۔
درختوں میں پایا جانے والا گرگٹ ایک ہی وقت میں ‏دو مختلف سمتوں میں دیکھ سکتا ہے
جبکہ افریقہ میں پایا جانے والا prongs نامی ہرن ایک صاف رات میں سیارے saturn کے دائیرے تک دیکھ سکتا ہے ۔ اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انسان کی دیکھنے کی حِس کس قدر محدود ہے اور وہ اکثر ان چیزوں کو نہیں دیکھ پاتا جو جانور دیکھتے ہیں ۔

‏ترمذی شریف کی حدیث نمبر 3459 کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ
جب تم مرغ کی آواز سنو تو اس سے اللہ کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب فرشتے کو دیکھتا ہے.........
اور جب گدھے کی رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیوں کہ اس وقت وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔

‏جب میں نے مرغ کی آنکھ کی ساخت پر تحقیق کی تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مرغ کی آنکھ انسانی آنکھ سے دو باتوں میں بہت بہتر ہے ۔
پہلی بات کہ جہاں انسانی آنکھ میں دو قسم کے light-receptors ہوتے ہیں وہاں مرغ کی آنکھ میں پانچ قسم کے لائیٹ ریسیپٹرز ہیں ۔
اور دوسری چیز fovea جو‏انتہائی تیزی سے گزر جانے والی کسی چیز کو پہچاننے میں آنکھ کی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے مرغ ان چیزوں کو دیکھ سکتا ہے جو روشنی دیں اور انتہائی تیزی سے حرکت کریں

اور اگر آپ گدھے کی آنکھ پر تحقیق کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اگرچہ رنگوں کو پہچاننے میں گدھے کی آنکھ ہم سے بہتر نہیں ہے لیکن‏ گدھے کی آنکھ میں rods کی ریشو کہیں زیادہ ہے اور اسی وجہ سے گدھا اندھیرے میں درختوں اور سائے کو پہچان لیتا ہے یعنی آسان الفاظ میں گدھے کی آنکھ میں اندھیرے میں اندھیرے کو پہچاننے کی صلاحیت ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔

البتہ انسان کی سننے کی حِس اس کی دیکھنے کی حس سے بہتر ہے اگرچہ دوسرے‏ جانوروں کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے
مثال کے طور پہ نیولے نما جانور بجو کے سننے کی صلاحیت سب سے زیادہ یعنی 16 ہرٹز سے لے کر 45000 ہرٹز تک ہے
اور انسان کی اس سے تقریباً آدھی یعنی 20 ہرٹز سے لے کر 20000 ہرٹز تک ۔
اور شاید اسی لیے جو لوگ جنات کے ساتھ ہوئے واقعات رپورٹ کرتے ہیں وہ‏ دیکھنے کے بجائے سرگوشیوں کا زیادہ ذکر کرتے ہیں ۔
ایک سرگوشی کی فریکوئینسی تقریباً 150 ہرٹز ہوتی ہے
اور یہی وہ فریکوئینسی ہے
جس میں انسان کا اپنے ذہن پر کنٹرول ختم ہونا شروع ہوتا ہے ۔
اس کی واضح مثال ASMR تھیراپی ہے
جس میں 100 ہرٹز کی سرگوشیوں سے آپ کے ذہن کو ریلیکس کیا جاتا ہے ۔‏
اس تھریڈ کے شروع میں ، میں نے جنات کو نہ دیکھ پانے کی دو ممکنہ وجوہات کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک تو میں نے بیان کر دی لیکن
دوسری بیان کرنے سے پہلے میں ایک چھوٹی سی تھیوری سمجھانا چاہتا ہوں ۔

سنہ 1803 میں ڈالٹن نامی سائینسدان نے ایک تھیوری پیش کی تھی کہ کسی مادے کی سب سے چھوٹی‏ اور نہ نظر آنے والی کوئی اکائی ہو گی اور ڈالٹن نے اس اکائی کو ایٹم کا نام دیا ۔
اس بات کے بعد 100 سال گزرے جب تھامسن نامی سائینسدان نے ایٹم کے گرد مزید چھوٹے ذرات کی نشاندہی کی جنہیں الیکٹرانز کا نام دیا گیا ۔
پھر 7 سال بعد ردرفورڈ نے ایٹم کے نیوکلیئس کا اندازہ لگایا ،
صرف 2 سال‏بعد بوہر نامی سائینسدان نے بتایا کہ الیکٹرانز ایٹم کے گرد گھومتے ہیں
اور دس سال بعد 1926 میں شورڈنگر نامی سائینسدان نے ایٹم کے اندر بھی مختلف اقسام کی اینرجی کے بادلوں کو دریافت کیا ۔

جو چیز 200 سال پہلے ایک تھیوری تھی ، آج وہ ایک حقیقت ہے ، اور آج ہم سب ایٹم کی ساخت سے واقف ہیں‏ حالانکہ اسے دیکھ پانا آنکھ کے لیے آج بھی ممکن نہیں ۔
ایسی ہی ایک تھیوری 1960 میں پیش کی گئی جسے string theory کہتے ہیں ۔ اس کی ڈیٹیلز بتانے سے پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔
انسان کی حرکت آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ، اوپر اور نیچے ہونا ممکن ہے جسے‏جسے تین ڈائیمینشنز یا 3D کہتے ہیں ۔ ہماری دنیا یا ہمارا عالم انہی تین ڈائیمینشز کے اندر قید ہے ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے ۔

لیکن string theory کے مطابق مزید 11 ڈائیمینشنز موجود ہیں ۔ میں ان گیارہ کی گیارہ ڈائیمینشنز میں ممکن ہو سکنے والی باتیں بتاؤں گا ۔

اگر آپ پہلی ڈائیمینش‏....
میں ہیں تو آپ آگے اور پیچھے ہی حرکت کر سکیں گے ۔

اگر آپ دوسری ڈائیمینشن....
میں داخل ہو جائیں تو آپ آگے پیچھے اور دائیں بائیں حرکت کر سکیں گے ۔

تیسری ڈائیمینشن .....
میں آپ آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہر طرف حرکت کر سکیں گے اور یہی ہماری دنیا یا جسے ہم اپنا عالم کہتے ہیں ، ہے ۔‏اگر آپ کسی طرح سے
چوتھی ڈائیمینشن....
میں داخل ہو جائیں تو آپ وقت میں بھی حرکت کر سکیں گے ۔

پانچویں ڈائیمینشن.....
میں داخل ہونے پر آپ اس عالم سے نکل کر کسی دوسرے عالم میں داخل ہونے کے قابل ہو جائیں گے جیسا کہ عالم ارواح ۔

چھٹی ڈائیمینشن .....
میں آپ دو یا دو سے زیادہ عالموں میں حرکت کرنے کے‏قابل ہو جائیں گے اور میرے ذہن میں عالم اسباب کے ساتھ عالم ارواح اور عالم برزخ کا نام آتا ہے ۔

ساتویں ڈائیمینشن....
آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ اس عالم میں بھی جا سکیں گے جو کائینات کی تخلیق سے پہلے یعنی بِگ بینگ سے پہلے کا تھا۔

آٹھویں ڈائیمینشن....
آپ کو تخلیق سے پہلے کے بھی مختلف عالموں‏ میں لیجانے کے قابل ہو گی ۔

نویں ڈائیمینشن....
ایسے عالموں کا سیٹ ہو گا جن میں سے ہر عالم میں فزیکس کے قوانین ایک دوسرے سے مکمل مختلف ہوں گے ۔ ممکن ہے کہ وہاں کا ایک دن ہمارے پچاس ہزار سال کے برابر ہو ۔

اور آخری اور دسویں ڈائیمینشن ۔۔۔
اس میں آپ جو بھی تصور کر سکتے ہیں ، جو بھی سوچ‏ سکتے ہیں اور جو بھی آپ کے خیال میں گزر سکتا ہے ، اس ڈائیمینشن میں وہ سب کچھ ممکن ہو گا ۔

اور میری ذاتی رائے کے مطابق جنت ۔۔۔ شاید اس ڈائیمینشن سے بھی ایک درجہ آگے کی جگہ ہے کیوں کہ
حدیث قدسی میں آتا ہے کہ جنت میں میرے بندے کو وہ کچھ میسر ہو گا جس کے بارے میں نہ کبھی کسی آنکھ نے‏دیکھا ، نہ کبھی کان نے اس کے بارے میں سنا اور نہ کبھی کسی دل میں اس کا خیال گزرا ۔
اور دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ میرا بندہ وہاں جس چیز کی بھی خواہش کرے گا وہ اس کے سامنے آ موجود ہو گی ۔

بالیقین جنات ، ہم سے اوپر کی ڈائیمینشن کے beings ہیں....
اور یہ وہ دوسری سائینٹیفیک وجہ ہے
جس کی‏ بناء پر ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔
ان دس ڈائیمینشنز کے بارے میں جاننے کے بعد آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ
جنات کے بارے میں قرآن ہمیں ایسا کیوں کہتا ہے کہ وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ،

یا پھر عفریت اتنی تیزی سے سفر کیسے کر سکتے ہیں جیسے سورۃ سباء میں ذکر ہے‏کہ ایک عفریت نے حضرت سلیمانؑ کے سامنے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا دعویٰ کیا تھا ۔
یا پھر کشش ثقل کا ان پر اثر کیوں نہیں ہوتا اور وہ اڑتے پھرتے ہیں ۔

یا پھر کئی دوسرے سوالات جیسے عالم برزخ ، جہاں روحیں جاتی ہیں ،
یا عالم ارواح جہاں تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح سے عہد لیا‏تھا کہ تم کسی اور کی عبادت نہیں کرو گے اور سب نے ہوش میں اقرار کیا تھا ،
یا قیامت کے روز دن کیسے مختلف ہو گا ،
یا شہداء کی زندگی کس عالم میں ممکن ہے ۔

ان تمام عالموں یعنی عالم برزخ ، عالم ارواح یا عالم جنات کے بارے میں تحقیقی طور پر سوچنا ایک بات ہے ،
لیکن جس چیز نے ذاتی طور پر‏پر میرے دل کو چھوا ......
وہ سورۃ فاتحۃ کی ابتدائی آیت ہے ۔

الحمد للہ رب العالمین ۔

تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ، جو تمام عالموں کا رب ہے ۔
اور میں سمجھتا ہوں کہ ‘‘تمام عالم’’ کے الفاظ کا جو اثر اب میں اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں ، وہ پہلے کبھی محسوس نہ کیا تھا...
منقول

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Okara?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Okara