KPK Doctor
KPK Doctors
آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ھے اور سہولیات افریقہ کے یوگنڈا جیسے ھیں اسلئے
اگر آپ چیک بک کے لیے مہینے انتظار کر سکتے ہیں؛
اگر نئی گاڑی کی پوری قیمت دے کر بھی اس کی ڈلیوری کے لیے صبر سے دن گنواتے ہیں؛
اگر شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا ویزا کی درخواست دے کر ہفتوں بے چینی سے انتظار کرتے ہیں؛
اور اگر فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں ٹوکن لے کر خاموشی سے اپنی باری کا انتظار کر لیتے ہیں —
تو پھر اسپتال کے آؤٹ ڈور OPD میں، جہاں روزانہ ہزاروں مریض آتے ہیں،
اپنی باری صبر سے انتظار کرنا ذلت نہیں بلکہ شعور اور تہذیب کی علامت ہے۔
ہم ڈاکٹرز ہر مریض کو وقت دینا اور سننا چاہتے ہیں، مگر ہمارے ہاتھ اور وقت محدود ہیں۔ ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ ہر فرد کو اس کا حق ملے۔
جب کوئی سفارش، جان پہچان یا غصے سے قطار توڑتا ہے تو وہ دراصل اس خاموش مریض کا حق چھین رہا ہوتا ہے جو عزت اور تحمل سے انتظار کر رہا ہوتا ہے۔
اسپتال کا بیڈ، آپریشن کی تاریخ یا ڈاکٹر کا وقت کسی کے لیے سہولت نہیں — یہ امانت ہیں، بعض اوقات زندگی و موت کا معاملہ بن سکتی ہیں۔
خدارا، اسپتالوں میں بھی وہی صبر، تہذیب اور شعور دکھائیے جو آپ بینک، شو روم یا امیگریشن آفس میں دکھاتے ہیں۔
شاید یہ بات آپ کے دل میں اتر جائے۔۔
24/12/2025
پشاور کے تمام میڈیکل سپیشلیسٹ ڈاکٹرز اور ان کے کلینک
اڈریس
مزید معلومات کیلۓ ہماری پیج وزیٹ کریں اورپیج فالو کریں
اسلام علیکم دوستوں
12/12/2025
وہ حیرت انگیز دریافت جب ایک ماں کے دودھ نے سائنس کو بھی چونکا دیا
روبینہ یاسمین ✍️
دودھ صرف خوراک نہیں تھا۔ یہ ایک پیغام تھا۔
دو ہزار آٹھ کی بات ہے۔ کیٹی ہِنڈےایک نوجوان سائنس دان کیلیفورنیا کی ایک لیبارٹری میں کھڑی تھی۔
اس کے سامنے بندر کی ماؤں
(rhesus macaque)
کے سینکڑوں دودھ کے نمونوں کا ڈیٹا پھیلا تھا۔
اور وہ ڈیٹا کسی بھی طرح سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔
پہلی حیرت
جن ماؤں کے بیٹے تھے، ان کے دودھ میں چکنائی اور پروٹین زیادہ تھا۔
جن ماؤں کی بیٹیاں تھیں، ان کا دودھ زیادہ مقدار میں پیدا ہوتا تھا، لیکن اس کے اجزاء مختلف تھے۔
یعنی دودھ ایک ہی نہیں تھا
وہ بچے کی جنس کے مطابق تیار ہو رہا تھا۔
اس کے مرد کولیگز نے فوراً طنز کر دیا
“یہ غلط پیمائش ہوگی۔”
“شاید اتفاق ہے۔”
“کوئی خاص بات نہیں۔”
لیکن کیٹی نے ڈیٹا کو نظرانداز نہیں کیا۔
اور ڈیٹا چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا
دودھ صرف خوراک نہیں ایک پیغام ہے۔
دوسری حیرت
کیٹی نے مزید دو سو پچاس ماؤں اور سات سو سے زیادہ نمونوں کا تجزیہ کیا۔
پھر ایک اور چونکانے والی بات سامنے آئی
نئی، کم عمر مائیں کم کیلوریز کا دودھ بناتی تھیں
مگر اسی دودھ میں کارٹیسول (اسٹریس ہارمون) بہت زیادہ ہوتا تھا۔
اور ایسے دودھ پینے والے بچے
تیزی سے بڑھتے تھے
مگر زیادہ چوکنّے، بےچین اور کم پُراعتماد ہوتے تھے
یعنی دودھ صرف جسم نہیں بنا رہا تھا
بچے کی شخصیت تک پروگرام کر رہا تھا۔
تیسری حیرت
تقریباً ناقابلِ یقین
جب بچہ دودھ پیتا ہے تو اس کے منہ کا تھوڑا سا لعاب (saliva)
ماں کے جسم میں واپس جاتا ہے۔
اور وہ لعاب ماں کو بتاتا ہے کہ
بچہ بیمار ہے یا نہیں۔
اگر بچہ کسی انفیکشن سے لڑ رہا ہو
ماں کے دکھائی نہ دینے والے نظام فوراً متحرک ہو جاتے
دودھ میں مخصوص اینٹی باڈیز چند گھنٹوں میں پیدا ہونا شروع
دودھ میں سفید خون کے خلیے دو ہزار سے بڑھ کر پانچ ہزار سے زیادہ اور
میکروفیج (مدافعتی خلیے) چار گنا تک بڑھ جاتے
اور جیسے ہی بچہ ٹھیک ہوتا
سب کچھ واپس نارمل۔
یہ خوراک نہیں تھی۔
یہ دو جسموں کے درمیان ایک مسلسل مکالمہ تھا
ایک حیاتیاتی گفتگو، جو سائنس صدیوں تک دیکھ نہ سکی۔
سائنس کی
انسان کی پہلی غذا
جس پر ہماری پوری نسلیں پروان چڑھیں
اسے سائنسی دنیا نے تقریباً نظرانداز کر رکھا تھا۔
تو کیٹی نے ایک بلاگ شروع کیا
“Mammals Suck… Milk!”
اور سال کے اندر اندر ایک ملین سے زیادہ لوگ اسے پڑھنے لگے۔
مزید انکشافات
دن کے مختلف وقتوں میں دودھ کی ساخت بدلتی ہے
صبح کا دودھ چکنائی میں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
ابتدا کا دودھ اور آخر کا دودھ مختلف ہوتا ہے
انسانی دودھ میں دو سو سے زیادہ ایسے شوگر مالیکیولز ہوتے ہیں جنہیں بچہ ہضم نہیں کرتا وہ صرف آنتوں کے اچھے بیکٹیریا کو خوراک دیتے ہیں
ہر ماں کا دودھ فنگر پرنٹ کی طرح منفرد ہوتا ہے
دو ہزار سترہ میں کیٹی کا
TED Talk
آیا لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔
آج وہ ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی
کی لیبارٹری میں
نوزائیدہ بچوں کی صحت،
NICU کی دیکھ بھال،
اور دنیا بھر کی پبلک ہیلتھ پالیسی میں انقلاب لا رہی ہیں۔
اصل حقیقت
دودھ دو سو ملین سال سے ارتقاء کے سفر میں ہے
ڈائنوسار بھی جب زمین پر تھے، دودھ تب بھی اپنا کام کر رہا تھا۔
سائنس اسے صرف “غذا” سمجھتی رہی۔
مگر یہ دراصل زمین کا سب سے ذہین، زندہ، مواصلاتی نظام تھا
ماں اور بچے کے درمیان ایک مسلسل، حساس گفتگو۔
کیٹی ہِنڈے نے ریسرچ کی کہ
یہ صرف غذا نہیں ماں اور بچے کے درمیان ایک ذہنی کمیونیکیشن ہے۔
آپ کے خیال میں بچے کو فارمولا ملک دینا کیسا ہے؟ جبکہ قدرت نے اس کے لئے ایک بیش قیمت سسٹم تیار کر رکھا ہے ۔
کیا بچے کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوتی جب اسے ڈبے کے دودھ پر لگا دیا جاتا یے؟
11/12/2025
کل رات تقریباً 1 بجے کی بات ہے۔
میں آرتھوپیڈک ایمرجنسی روم میں نائٹ ڈیوٹی پر تھا۔
کمرے کے باہر کی کھڑکی دھند سے بھری ہوئی تھی—
سردی اتنی سخت کہ لگتا تھا پورا ہاسپٹل جم رہا ہو۔
میں مریض کے کاغذات دیکھ رہا تھا کہ اچانک باہر کوئی حرکت نظر آئی۔
میں نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا—
لمبی راہداری میں ایک دبلا سا لڑکا صفائی کر رہا تھا۔
وہ شاکر تھا۔
پتلی قمیض، کوئی جیکٹ نہیں،
اور ٹمپریچر قریب زیرو۔
وہ جھاڑو پکڑے پورے فلور پر گھوم رہا تھا،
جیسے سردی اسے چھو بھی نہیں رہی—
لیکن اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ سب کچھ بتا رہی تھی۔
میں نے کھڑکی کھول کر اسے آواز دی:
“شاکر… ذرا ER روم میں آؤ۔”
وہ اندر آیا تو جیسے تھکن اور سردی دونوں اس کے پیچھے سے اندر داخل ہوگئے۔
پھر بھی وہ پہلے مسکرا کر بولا:
“سر جی، صفائی کر رہا تھا… کچھ چاہیے تھا؟”
میں نے پوچھا:
“جیکٹ کہاں ہے؟ اتنی سردی میں ایسے کیسے کام کر رہے ہو؟”
اس نے بالکل سیدھے لفظوں میں جواب دیا:
“سر… نہیں ہے۔ جو تھی وہ کافی پرانی ہو چکی تھی۔”
پھر میں نے casually پوچھا:
“کھانا کھایا تھا؟”
اس نے نظریں جھکا کر آہستہ سا کہا:
“نہیں سر… roti بھی نہیں کھائی۔ وقت نہیں ملا آج۔”
یہ ایک جملہ میری پوری رات بدل دینے کے لیے کافی تھا۔
میں نے فوراً اس کے لیے کھانا آرڈر کیا۔
جب وہ کھانے بیٹھا تو اس کے ہاتھ اب بھی کانپ رہے تھے،
لیکن چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا—
جیسے کسی نے اس کی ساری رات آسان کر دی ہو۔
اس وقت مجھے احساس ہوا کہ
ہم ڈاکٹرز، نرسز، اٹینڈنٹس…
سب اپنی اپنی جگہ ضروری ہیں—
مگر ہاسپٹل کی اصل ریڑھ کی ہڈی
یہی خاموشی سے کام کرنے والے لڑکے ہیں۔
✨ پیغام:
ہمیں ایک دوسرے کو دیکھنا چاہیے۔
صرف مریض نہیں،
بلکہ وہ لوگ بھی جو راتوں کی ٹھنڈ میں،
بھوک میں، تھکاوٹ میں،
ہمارے ہسپتال کو چلائے رکھتے ہیں۔
ایک چھوٹا سا خیال
کسی کی پوری رات بدل سکتا ہے۔
❤️ انسانیت زندہ رکھیں۔ عزت دیں۔ اور اپنے اردگرد کے لوگوں کی قدر کریں۔
Justice for Dr Warda
04/12/2025
اینٹی بایوٹک ادویات کا غیر ضروری استعمال ان کی افادیت کو کم یا مکمل ختم کر سکتا ہے۔
اینٹی بایوٹک ادویات اپنے معالج کے مشورے اور مناسب لیبارٹری تشخیص کے بعد استعمال کریں۔
باچاخان میڈیکل کمپلیکس میں ادارہ جاتی پریکٹس جاری ہے
ہسپتال میں صبح او پی ڈی کے علاوہ دوپہر 2 بجے سے شام 8 بجے تک درج ذیل شعبوں میں ماہر ڈاکٹروں سے علاج کی سہولت موجود ہے
میڈیکل
جنرل سرجری
آرتھوپیڈک اینڈ اسپائن
ای این ٹی (کان، ناک، گلا)
آئی (آنکھ)
گیسٹرو
چلڈرن
چسٹ اسپیشلسٹ
یورولوجی
گائنی کنسلٹنٹ
نیورو سرجری
پلاسٹک سرجری
ڈینٹل اینڈ میگزلوفیشل
فزیوتھراپی
اینستھیزیا
اپوائنٹمنٹ کے لیے رابطہ کریں۔
لینڈ لائن نمبر: 0938280214
موبائل: محمد وقاص 03059392982
مقصود: 03190996563
معیاری علاج, ماہر ڈاکٹروں کے ساتھ۔
Please share the benefits of eating turnips in winter. Thank you.
KPK Doctor
19/09/2025
کس کس نے اس پر ہاتھ صاف کیا ھے بچپن میں چھپ کر میں نے بہت کیا ھے بہت مزیدار شھد والا سیرپ
04/09/2025
✅️ سی بی سی (CBC) ٹیسٹ کی مختصر تشریح ۔
ہیموگلوبین (HB)
کم ہو تو خون کی کمی
ڈبلیو بی سی (WBC)
زیادہ ہوں تو انفیکشن
آر بی سی (RBC)
کم ہوں تو انیمیا
پلیٹیلیٹس (PLATELETS)
کم ہوں تو خون بہنے کا خطرہ
ایچ سی ٹی (HCT)
خون کی مقدار کا تناسب
ایم سی وی (MCV)
خون کے خلیے بڑے یا چھوٹے ہو تو آئرن یا B12 کی کمی
صحت سے متعلق معلومات کے لیئے ہمیں فالو کریں ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Peshawar