Adnan Wazir Official
Be the light in someone's darkness
For Overseas employment licence. DTS licence. FBR NTN.Sell Tax Registration. Income tax Returns filers. SECP Registration. whatap.
Saeed Khan Bakhtullah Wazir Hakimeen Sperkai
وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز و ترقیِ انسانی وسائل، چوہدری سالک حسین نے بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) کے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا اور مائیگریشن اصلاحات اور مائیگرنٹس کی فلاح و بہبود کے اقدامات پر ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔
اسلام آباد، 06 مئی 2026 — وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی و ترقیِ انسانی وسائل، چوہدری سالک حسین نے سیکرٹری وزارتِ سمندر پار پاکستانی و ترقیِ انسانی وسائل کے ہمراہ بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے ہیڈکوارٹرز کا سرکاری دورہ کیا۔انھوں نے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی جس میں وزارت اور بیورو کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مائیگریشن پالیسی اصلاحات، بیرونِ ملک پاکستانی کارکنوں کی فلاح و بہبود، اور ادارہ جاتی ترقی سے متعلق اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔
I. اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے لائسنسنگ فریم ورک میں اصلاحات
ڈائریکٹر جنرل، BEOE نے وفاقی وزیر کو ایمیگریشن آرڈیننس 1979 اور ایمیگریشن رولز 1979 میں مجوزہ ترامیم پر بریفنگ دی۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد وفاقی وزیر نے درج ذیل ہدایات جاری کیں
1۔ عارضی لائسنس نظام: نئے درخواست دہندگان کے لیے عارضی ریکروٹمنٹ لائسنس متعارف کرایا جائے گا۔ صرف وہی درخواست دہندگان جو عارضی مدت کے دوران تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے، انہیں تین سالہ مستقل لائسنس کے لیے اہل قرار دیا جائے گا، جس سے میرٹ پر مبنی نظام کو فروغ ملے گا۔
2۔ اہلیت کے معیار میں بہتری: ریکروٹمنٹ لائسنس کے اجرا کے موجودہ معیار کا ازسرنو جائزہ لے کر اسے مزید سخت بنایا جائے گا تاکہ صرف مالی طور پر مستحکم اور سنجیدہ درخواست دہندگان کو لائسنس جاری کیے جائیں، جس سے بدعنوانی کا خاتمہ اور احتساب کو فروغ ملے گا۔
3۔ ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس (DSCs) کے اجرا کی مالیاتی طریقہ کار: سیکرٹری صاحب نے ہدایت کی کہ ایمیگریشن رولز 1979 میں مناسب ترامیم شامل کی جائیں تاکہ لائسنس لینے کیلئے وزارت کے جوائنٹ سیکرٹری کے حق میں جمع کروائے گئے DSCs کو قابلِ وصول بنانے کا مؤثر نظام وضع کیا جا سکے۔ لائسنس کی منسوخی کی صورت میں، جمع شدہ DSCs بمعہ منافع ضبط کر لیے جائیں گے، جس سے مالیاتی تحفظ اور احتساب کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
II. اسٹیٹ لائف ایمیگرنٹس انشورنس فنڈ — فلاحی اقدامات میں بہتری
وفاقی وزیر کو اسٹیٹ لائف ایمیگرنٹ انشورنس فنڈ اور انشورنس کلیمز کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے مائیگرنٹس اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے درج ذیل ہدایات جاری کیں۔
1۔ ایمیگرانٹس کی وفات کی اطلاع کا نظام: بیورو ایک مؤثر نظام وضع کرے گا تاکہ بیرونِ ملک پاکستانی کارکنوں کی وفات کی بروقت اطلاع کو یقینی بنایا جا سکے، خصوصاً پاکستانی مشنز میں تعینات کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کے ساتھ بہتر رابطہ کاری کے ذریعے، تاکہ متاثرہ خاندانوں تک فوری رسائی اور کلیمز کی بروقت تکمیل ممکن ہو سکے۔
2۔ انشورنس تجدید سے آگاہی: ایسے مائیگرنٹس جن کی انشورنس مدت ختم ہونے کے قریب ہو، ان کے لیے بروقت یاددہانی اور آگاہی کا نظام قائم کیا جائے تاکہ ان کے فلاحی حقوق متاثر نہ ہوں۔
3۔ ویڈیو کے ذریعے آگاہی مہم: انھوں نے ہدایت کی کہ مختصر اور مؤثر ویڈیوز تیار کی جائیں جن میں مائیگرنٹس کے لیے دستیاب فلاحی سہولیات اور حقوق کے بارے میں آگاہی دی جائے، اور انہیں ڈیجیٹل و سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے وسیع پیمانے پر نشر کیا جائے۔
III. انفراسٹرکچر اور ادارہ جاتی ترقی
وفاقی وزیر نے BEOE کے انفراسٹرکچر اور ادارہ جاتی استعداد کو بہتر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کی ہدایت کی:
1۔ ہیڈکوارٹرز اور پروٹیکٹوریٹ دفاتر کی بہتری: بیورو ہیڈکوارٹرز اور ملک بھر میں قائم پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرنٹس دفاتر کی فوری اپ گریڈیشن کی جائے تاکہ شہریوں کو معیاری اور سہل خدمات فراہم کی جا سکیں۔
2۔ گجرات میں پروٹیکٹوریٹ کے قیام میں تیزی: گجرات اور ملحقہ اضلاع سے مائیگریشن کے زیادہ رجحان کے پیش نظر، وہاں پروٹیکٹوریٹ دفتر کے قیام کو فوری طور پر مکمل کیا جائے۔
3۔ خودمختار ادارہ بنانے کی فزیبلٹی اسٹڈی: بیورو کو ہدایت دی گئی کہ اسے خودمختار ادارہ بنانے کے امکانات پر ایک جامع فزیبلٹی اسٹڈی تیار کی جائے اور اس کی طویل مدتی پائیداری کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جائے۔
4۔ کارکردگی پر مبنی مراعات: ملازمین کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر مراعاتی نظام متعارف کرایا جائے تاکہ احتساب، شفافیت اور بہتر سروس ڈیلیوری کو فروغ مل سکے۔
Federal Minister for Overseas Pakistanis & HRD Visits BEOE Headquarters; Chairs High-Level Review Meeting on Emigration Reforms and Welfare Measures for Emigrants
Islamabad, 06 May 2026 — The Federal Minister for Overseas Pakistanis and Human Resource Development, Chaudhry Salik Hussain, accompanied by the Secretary, Ministry of Overseas Pakistanis & Human Resource Development (OP&HRD), paid an official visit to the Headquarters of the Bureau of Emigration and Overseas Employment (BEOE), Islamabad today. The Minister chaired a high-level review meeting attended by senior officers of the Ministry and the Bureau, covering critical areas of emigration policy reform, overseas worker welfare, and institutional development.
I. Reforms to Emigration Licensing Framework
The Director General, BEOE, briefed the Federal Minister on the proposed amendments to the Emigration Ordinance, 1979 and the Emigration Rules, 1979. Following a detailed deliberation, the Federal Minister issued the following directions:
• Provisional Licence System: A provisional recruitment licence shall be introduced for new applicants. Only those who demonstrate satisfactory performance during the provisional period shall be considered eligible for the standard three-year licence, thereby instituting a merit-based progression mechanism.
• Enhanced Eligibility Criteria: The existing criteria for grant of recruitment licences shall be reviewed and strengthened to ensure that only financially sound and genuinely committed applicants are awarded licences, thereby curbing malpractice and ensuring greater accountability within the manpower recruitment sector.
• Security Encashment Mechanism for Defence Saving Certificates (DSCs): The Secretary, OP&HRD, directed that appropriate amendments be incorporated in the Emigration Rules, 1979 to institute a mechanism for encashment of Defence Saving Certificates (DSCs) pledged in favour of the Joint Secretary of the Ministry. Under this framework, upon cancellation of a licence, the pledged DSCs together with accrued profit shall be forfeited, reinforcing the financial security and deterrence framework.
II. State Life Emigrant Insurance Fund — Strengthening Welfare Outreach
The Federal Minister was comprehensively briefed on the State Life Emigrant Insurance Fund and the current status of insurance claims processing. He issued the following directions to strengthen welfare delivery for Pakistani overseas workers and their families:
• Death Reporting Mechanism: BEOE shall devise a robust mechanism to ensure timely reporting of deaths of Pakistani workers abroad, with particular emphasis on strengthening coordination and liaison with Community Welfare Attachés (CWAs) stationed at Pakistani Missions. This will enable prompt communication with bereaved families and facilitate timely processing of insurance claims.
• Insurance Renewal Awareness: BEOE shall establish a proactive system to educate and remind emigrants whose insurance coverage is approaching expiry to ensure timely renewal, thereby preventing lapse of welfare entitlements.
• Awareness Campaigns via Short Videos: The Minister directed BEOE to produce short, targeted awareness videos covering key topics related to emigrant welfare benefits, entitlements, and available support services. These materials shall be disseminated across digital and social media platforms to maximise outreach to Pakistani workers and their families.
III. Infrastructure and Institutional Development
The Federal Minister directed a series of measures aimed at modernising BEOE’s physical infrastructure and strengthening its institutional capacity:
• Improvement of BEOE Headquarters and Protectorate Offices: The Bureau shall take immediate steps to upgrade its Headquarters and the offices of the Protectorates of Emigrants across the country to ensure provision of quality, citizen-friendly services to intending migrants.
• Expedited Establishment of Protectorate of Emigrants, Gujrat: Given the significant volume of labour emigration from Gujrat and its surrounding districts, the Federal Minister directed that the establishment of the Protectorate of Emigrants office in Gujrat be expedited without further delay.
• Feasibility Study on Autonomous Authority Status: The Minister directed BEOE to undertake a comprehensive study on the feasibility of transforming the Bureau into an autonomous authority. The study shall critically assess the long-term sustainability of such an arrangement, with findings to be submitted for policy consideration.
• Performance Incentives for BEOE Employees: The Federal Minister stressed the importance of introducing meaningful performance-based incentives for Bureau employees to foster a culture of accountability, excellence, and service delivery.
03/05/2026
Saudi Vision 2030 - An Analysis of Future Jobs
سعودی عرب کا وژن 2030 ایک وسیع اور بنیادی معاشی تبدیلی کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد ملک کی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر ایک متنوع، علم پر مبنی اور نجی شعبے کی قیادت میں چلنے والی معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔ اس عمل کے ساتھ ساتھ “سعودائزیشن” کی پالیسی بھی نافذ کی جا رہی ہے، جس کے تحت مختلف شعبوں میں سعودی شہریوں کی ملازمت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ غیر ملکی افرادی قوت ختم ہو رہی ہے، بلکہ اس کا کردار اب زیادہ منظم، محدود اور مہارت پر مبنی ہو رہا ہے۔
اس نئی معاشی ساخت میں غیر ملکی ماہرین کے لیے ملازمت کے مواقع خاص طور پر ان شعبوں میں موجود ہیں جہاں اعلیٰ تکنیکی مہارت اور بین الاقوامی تجربے کی ضرورت ہے۔
مثال کے طور پر کان کنی اور معدنیات کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جہاں سونا، فاسفیٹ اور یورینیم جیسے وسائل کی تلاش اور نکالنے کے لیے ماہر انجینئرز، ارضیاتی ماہرین اور بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کے ماہرین کی ضرورت ہے۔
اسی طرح قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy) جیسے سولر اور ونڈ انرجی کے منصوبے بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جن کے لیے توانائی کے ماہرین، پروجیکٹ مینجمنٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے ماہر افراد درکار ہیں۔
ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ای-گورننس بھی ایک بڑا ترقی پذیر شعبہ ہے، جہاں سعودی عرب خود کو خطے کا ڈیجیٹل لیڈر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس شعبے میں آئی ٹی ماہرین، سائبر سیکیورٹی ماہرین، ڈیٹا ایکسپرٹس اور ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرز کی طلب بڑھ رہی ہے۔
اسی طرح لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی بڑی تبدیلی سے گزر رہا ہے، جس کا مقصد سعودی عرب کو ایک عالمی تجارتی مرکز بنانا ہے۔ اس میں بندرگاہوں، ریلوے، فضائی نظام اور کسٹمز کے جدید نظام کے ماہرین کی ضرورت شامل ہے۔
صحت (ہیلتھ) کے شعبے میں بھی غیر ملکی ماہرین کا کردار برقرار ہے، خاص طور پر پیچیدہ بیماریوں کے علاج، اسپیشلسٹ ڈاکٹرز، اور جدید ہیلتھ سسٹم مینجمنٹ میں۔ اگرچہ سعودی شہریوں کی تربیت بڑھائی جا رہی ہے، لیکن اب بھی اعلیٰ سطح کے طبی ماہرین کی ضرورت موجود ہے۔
اسی طرح دفاعی صنعت، سیاحت، ثقافتی ورثہ، ہوٹلنگ، کھیل، اور تفریحی صنعتیں بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہیں، جہاں بین الاقوامی ماہرین کو پروجیکٹ مینجمنٹ، ایونٹ آرگنائزیشن، میوزیم اور ورثہ کی بحالی، اور جدید انٹرٹینمنٹ سسٹمز میں مواقع مل رہے ہیں۔
پالیسی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو سعودی لیبر مارکیٹ اب اس طرف جا رہی ہے کہ کم ہنر مند (low-skilled) ملازمتوں کے مقابلے میں زیادہ مہارت رکھنے والے اور ٹیکنالوجی پر مبنی کام کرنے والے افراد کو ترجیح دی جائے۔ غیر ملکی کارکنوں سے اب صرف ملازمت نہیں بلکہ علم کی منتقلی، مقامی افرادی قوت کی تربیت، اور ادارہ جاتی ترقی میں کردار ادا کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔
ساتھ ہی کچھ شعبوں میں سعودائزیشن تیزی سے بڑھ رہی ہے، جیسے تیل و گیس اور ریٹیل، جس کی وجہ سے وہاں غیر ملکی ملازمت کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔ اس کے برعکس خصوصی اقتصادی زونز اور جدید ترقیاتی منصوبوں میں زیادہ لچکدار اور بین الاقوامی سطح کے مواقع موجود ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ سعودی عرب کی لیبر مارکیٹ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں میرٹ، مہارت، اور کارکردگی کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ اس ماحول میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ بیرونِ ملک جانے والے افراد اپنی مہارتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنائیں، بین الاقوامی معیار کی قابلیت حاصل کریں، اور خود کو صرف ملازم نہیں بلکہ ایک ماہر اور ترقی میں حصہ لینے والے فرد کے طور پر پیش کریں۔
02/05/2026
جن بچوں کی عمر 27 مئی 2026 یعنی یوم عرفہ والے دن سے 15 سال سے کم ہیں اس سال حج 2026 ان بچوں کے تمام ویزے کینسل کر دیے گئے ہیں اور سفر کرنے پر پابندی لگا دی ہے اور ان کی مکمل رقم واپسی کرنے کا نوٹیفکیشن ایشو کر دیا ہے...
Old Village vidio Marriage of Hji Noor zada Masti khel 1994 Saeed Khan Adnan Wazir Official
28/04/2026
اسلام آباد کے 20 منظور شدہ ورک ویزہ ایجنٹس کی مکمل تفصیل 🇵🇰💼
السلام علیکم دوستو!
اسلام آباد میں ویزہ پراسیسنگ کے لیے مستند ایجنٹس کی تلاش ایک مشکل کام ہے۔ آپ کے لیے 20 ایسے ایجنٹس کی فہرست تیار کی ہے جو بیورو آف امیگریشن سے منظور شدہ ہیں۔
⚠️ مشورہ: کسی بھی ویزہ کے لیے پیسے دینے سے پہلے ایجنٹ کا لائسنس نمبر بیورو کی ویب سائٹ پر لازمی چیک کریں اور ویزہ کی تصدیق کے لیے "ڈیمانڈ لیٹر" طلب کریں۔
اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ ہمارے بھائی ایجنٹوں کے دھوکے سے بچ سکیں اور صرف قانونی اداروں سے رابطہ کریں
خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
For Overseas employment licence. DTS licence. FBR NTN.Sell Tax Registration. Income tax Returns filers. SECP Registration. whatap.
تمام متعلقہ افراد کو مطلع کیا جاتا ہے کہ سیاحتی خدمات ونگ (TSW)، خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی (KP-CTA) نے بینک آف خیبر کے کیش مینجمنٹ سسٹم (CMS) کے ساتھ انضمام کے ذریعے ایک ڈیجیٹل چالان سسٹم نافذ کر دیا ہے۔
یہ نظام درج ذیل کاروباری شعبوں کے لیے۔
متعارف کرایا گیا ہے:
ٹریول ایجنسیاں / ٹور آپریٹرز / رینٹ اے کار سروسز، ہوٹلز، ریسٹورنٹس، گیسٹ ہاؤسز اور ٹورسٹ گائیڈز۔
تمام درخواست دہندگان اور رجسٹرڈ کاروباروں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ دستی چالان سسٹم فوری طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
اب درخواست دہندگان کے لیے ضروری ہے کہ:
بی ایم آئی ایس پورٹل پر لاگ ان کریں
ڈیش بورڈ سے اپنا ڈیجیٹل چالان تیار کریں
تیار شدہ چالان کے ذریعے بینک آف خیبر کی کسی نامزد برانچ یا مجاز چینل پر ادائیگی کریں
یہ ڈیجیٹل چالان سسٹم درج ذیل سہولیات فراہم کرتا ہے:
سسٹم کے ذریعے تیار کردہ اور قابلِ سراغ چالان
شفافیت اور ریکارڈ مینجمنٹ میں بہتری
دستی غلطیوں اور پراسیسنگ میں تاخیر میں کمی
تمام متعلقہ افراد کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ صرف سسٹم کے ذریعے تیار کردہ چالان استعمال کریں۔
ہاتھ سے لکھے گئے یا دستی چالان قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔
یہ اقدام ادائیگی کے عمل کو آسان بنانے اور ڈیجیٹل گورننس کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
یہ نوٹیفکیشن مجاز اتھارٹی کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے۔
21/04/2026
Safety Course available with affordable prices whatsapp 👍
19/04/2026
برطانوی اداروں کے مطابق پاکستان سے سٹوڈنٹ ویزہ پہ آئے 11 ہزار میں سے 8 ہزار سٹوڈنٹس نے خود کو ہم جنس پرست ظاہر کرکے اسائلم کیسز کروائے ہیں۔
یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی 😆
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Arbab Road
Peshawar
25000