Mohmand zalmi
Health is wealth
مولانا اچکے ھے واہ مولانا واہ
*میں ہی زندگی ہوں*
زندگی میں ایک طرف رونقیں ارو خوشیاں ہیں تو دوسری طرف اداسیاں اور تنہائیاں بھی ہیں۔ زندگی جہاں پھولنے پھلنے کا نام ہے وہیں خود میں جلنے کا نام بھی ہے۔ یہ اپنے دامن میں بے شمار نعمتیں ، خواہشیں، حسرتیں سمیٹے ہے وہیں مایوسیاں اور دھوکے بھی ہیں۔
ایک زندگی کئی زندگیوں کو جنم دیتی ہے اور تخلیق کے ان مراحل میں خود کی ذات کہیں نہ کہیں تحلیل بھی ہو رہی ہوتی ہے۔ اس طرح زندگی ہونے اور نہ ہونے کے درمیان موجود رہتی ہے۔
خوشیاں اور قہقہے اسکا حصہ ہیں وہیں ہچکیاں اور سسکیاں بھی اسی زندگی کا دوسرا نام ہیں۔ زندگی کے اتار چڑھاؤ اسے خوبصورت اور دلفریب بناتے ہیں۔ ہر نیا دن کوئی نیا راز آشکار کرتا ہے۔ اور ہر شب کچھ تکلیفوں کو خود میں سمو لیتی ہے۔
امید اور نا امید کے درمیان سفر کرتی ہوئی زندگی کبھی کچے گھروندوں میں بھی سرشار رہ سکتی ہے اور کبھی پکے محلات میں بھی دم گھٹتا محسوس ہوتا ہے۔
زندگی کسی فارمولے کے تحت نہیں چلتی، اس کے اپنے اصول ہیں ۔ ہر تجربہ نیا سبق دے جاتا ہے۔ اسے جاننا اور سمجھنا مشکل ہے۔ زندگی اپنے ہی پردے میں چھپی ہوئی ہے۔
زندگی دراصل خود کے روبرو ہونے کا نام ہے۔ اپنے قریب ہونے کا اور اپنوں سے قریب ہونے کا نام ہے۔ خود کو جاننے کا نام ہے۔
اس جذبے کے ساتھ زندگی کو تسلیم کیجئے کہ _تو بھی زنگی ہے اور وہ بھی_ ۔
سب کا احترام دراصل خود کا احترام ہے۔ کسی کی عزت ہماری عزت ہے۔ ہم سے جڑے رشتوں کی زندگی ، انکی خوشی دراصل ہماری ہے۔ ہم اپنے رشتوں کی بدولت زندگی کو خوشگوار اور خو بصورت بنا سکتے ہیں۔
زندگی بار بار نہیں ملتی نہ ہی بار بار موقع دیتی ہے۔ جو وقت میسر ہے اسے کارآمد بنائیے۔ خوش رہئیے اور خوش رکھئیے۔
*بنت آدم 🤲*
ایک روز شوہر نے پرسکون ماحول میں اپنی بیوی سے کہا : بہت دن گزر گئے ہیں میں نے اپنے گھر والوں بہن بھائیوں اور ان کے بچوں سے ملاقات نہیں کی ہے۔ میں ان سب کو گھر پر جمع ہونے کی دعوت دے رہا ہوں اس لیے براہ مہربانی تم کل دوپہر اچھا سا کھانا تیار کر لینا۔
بیوی نے گول مول انداز سے کہا : ان شاء اللہ خیر کا معاملہ ہو گا۔
شوہر بولا : تو پھر میں اپنے گھر والوں کو دعوت دے دوں گا۔
اگلی صبح شوہر اپنے کام پر چلا گیا اور دوپہر ایک بجے گهر واپس آیا۔ اس نے بیوی سے پوچھا :
کیا تم نے کھانا تیار کر لیا ؟ میرے گھر والے ایک گھنٹے بعد آ جائیں گے !
بیوی نے کہا : نہیں میں نے ابھی نہیں پکایا کیوں کہ تمہارے گھر والے کوئی انجان لوگ تو ہیں نہیں لہذا جو کچھ گھر میں موجود ہے وہ ہی کھا لیں گے۔
شوہر بولا : اللہ تم کو ہدایت دے ... تم نے مجھے کل ہی کیوں نہ بتایا کہ کھانا نہیں تیار کرو گی ، وہ لوگ ایک گھنٹے بعد پہنچ جائیں گے پھر میں کیا کروں گا۔
بیوی نے کہا : ان کو فون کر کے معذرت کر لو ۔۔۔ اس میں ایسی کیا بات ہے وہ لوگ کوئی غیر تو نہیں آخر تمہارے گھر والے ہی تو ہیں۔
شوہر ناراض ہو کر غصے میں گھر سے نکل گیا۔
کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ بیوی نے دروازہ کھولا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اس کے اپنے گھر والے ، بہن بھائی اور ان کے بچے گھر میں داخل ہو رہے ہیں !
بیوی کے باپ نے پوچھا : تمہار شوہر کہاں ہے ؟
وہ بولی : کچھ دیر پہلے ہی باہر نکلے ہیں۔
باپ نے بیٹی سے کہا : تمہارے شوہر نے گزشتہ روز فون پر ہمیں آج دوپہر کے کھانے کی دعوت دی ۔۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دعوت دے کر خود گھر سے چلا جائے !
یہ بات سُن کر بیوی پر تو گویا بجلی گر گئی۔ اس نے پریشانی کے عالم میں ہاتھ ملنے شروع کر دیے کیوں کہ گھر میں موجود کھانا اس کے اپنے گھر والوں کے لیے کسی طور لائق نہ تھا البتہ یقینا اس کے شوہر کے گھر والوں کے لائق تھا۔
اس نے اپنے شوہر کو فون کیا اور پوچھا : تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ دوپہر کے کھانے پر میرے گھر والوں کو دعوت دی ہے۔
شوہر بولا : میرے گھر والے ہوں یا تمہارے گھر والے ۔۔۔ فرق کیا پڑتا ہے۔
بیوی نے کہا : میں منت کر رہی ہوں کہ باہر سے کھانے کے لیے کوئی تیار چیز لے کر آجاؤ ، گھر میں کچھ نہیں ہے۔
شوہر بولا : میں اس وقت گھر سے کافی دُور ہوں اور ویسے بھی یہ تمہارے گھر والے ہی تو ہیں کوئی غیر یا انجان تو نہیں۔ ان کو گھر میں موجود کھانا ہی کھلا دو جیسا کہ تم میرے گھر والوں کو کھلانا چاہتی تھیں.. "تا کہ یہ تمہارے لیے ایک سبق بن جائے جس کے ذریعے تم میرے گھر والوں کا احترام سیکھ لو" !.
لوگوں کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرو جیسا تم خود ان کی طرف سے اپنے ساتھ معاملہ پسند کرتے ہو.......
اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئے تو کمنٹس میں ضرور بتانا شکریہ
. *👈 گرد سے بھری ہوئی کھڑکی 👉*
ایک شادی شدہ جوڑے کے گھر کے سامنے نئے پڑوسی آئے۔ اِن کی کھڑکی سے نئے پڑوسیوں کا گھر صاف دکھائی پڑتا تھا۔ یہ شادی شدہ جوڑے کی عورت اپنے نئے ہمسائیوں کی ہر چھوٹی چھوٹی بات کو کھڑکی سے نوٹ کرتی اور اپنے شوہر سے شیئر کرتی۔
ایک دن جب وہ دونوں ناشتہ کر رہے تھے تو بیوی نے کھڑکی میں سے دیکھا کہ سامنے والوں نے کپڑے دھو کر پھیلائے ہوئے ہیں۔ "یہ لوگ کتنے خراب اور گندے کپڑے دھوتے ہیں"، بیوی چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے اپنے شوہر سے بولی،
"ذرا صاف کپڑے نہیں دُھلے، اِن کی خواتین کو کپڑے دھونے آتے ہی نہیں ہیں، ان کو چاہیے کہ اپنا صابن تبدیل کرلیں، یا کم از کم کسی سے سیکھ ہی لیں کہ کپڑے کس طرح دھوئے جاتے ہیں"۔ شوہر نے نظریں اُٹھا کر کھڑکی کی طرف دیکھا، زیرِ لب مسکرا کر پھر ناشتہ کرنے میں مشغول ہو گیا۔
اسی طرح ہر بار جب بھی اُن کے پڑوسی کپڑے دھو کر پھیلاتے، اِس عورت کے اُن کے کپڑوں اور دُھلائی کے بارے میں یہی تاثرات ہوتے۔ وہ ہمیشہ ہی اپنے شوہر کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرتی کہ "آج پھر ان لوگوں نے کپڑے اچھے نہیں دھوئے", "دل چاہتا ہے خود جا کر ان کو بتا دوں کہ کس طرح یہ اپنے کپڑوں کی دھلائی بہتر کر سکتے ہیں"۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔!
الغرض اُن کے پڑوسیوں کا گھر اور اُن کے کپڑوں کی دھلائی ہمیشہ ہی اِس عورت کی تنقید کا نشانہ بنے رہتے۔
ایک صبح جب یہ عورت ناشتے کی میز پر بیٹھی تو پڑوسیوں کے صاف سُتھرے دُھلے ہوئے کپڑے دیکھ کر حیران رہ گئی اور اپنے شوہر سے بولی، "دیکھا! بالآخر انہوں نے سیکھ ہی لیا کہ کپڑے کیسے دھوئے جاتے ہیں، شکر ہے کہ آج اُن کے کپڑے صاف ہیں، لیکن مجھے حیرت ہے کہ آخر یہ عقل اُن کو آئی کیسے۔۔۔؟"
پھر شوہر کو مخاطب کرتے ہوئے بولی "شاید انہوں نے کپڑے دھونے کا طریقہ تبدیل کر لیا ہے یا پھر اپنا صابن بدل دیا ہے" اور چپ ہوتے ہی اپنے شوہر کی طرف جواب طلب نظروں سے دیکھنے لگی۔
شوہر جو ناشتہ کرنے میں مصروف تھا بیوی کی باتیں سن کر مسکراتے ہوئے، کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، "بیگم! آج صبح میں جلدی اُٹھ گیا تھا اور میں نے اِس گرد سے بھری ہوئی کھڑکی کو اچھی طرح صاف کر دیا تھا، جہاں سے تم سامنے والوں کو دیکھتی تھی"
👈 _حاصل کلام :بالکل ایسا ہی ہماری روزمرہ زندگی میں بھی ہوتا ہے۔ ہماری اپنی کھڑکی صاف نہیں ہوتی اور ہم دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ خود ہمارے اندر ہوتا ہے لیکن ہمارا اُس طرف دھیان ہی نہیں جاتا۔
کسی کو پرکھنے کا یہ انتہائی بہترین طریقہ ہے کہ سب سے پہلے ہم اپنی کھڑکی کو دیکھیں، کیا وہ صاف ہے؟ کیونکہ جب ہم کسی کو دیکھتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں تو اس بات کا انحصار اُس کھڑکی یا ذریعے کی شفافیت پر ہوتا ہے جس سے ہم کسی کو چانچ رہے ہوتے ہیں۔
چونکہ انسان خطا کا پتلہ ہے اِس لیے غلطی کا انسان سے صادر ہونا ایک فطری عمل ہے۔ لیکن دوسروں پر انگلی اُٹھانے سے پہلے اِس چیز کا یقین کر لیں کہ کیا ہم بھی تو اُسی غلطی سے دوچار نہیں ....
ایک خوبصورت واقعہ پڑھیے گا ضرور!!!
اﯾﮏ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ . ﺟﺐ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮔِﻦ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﮐﺮ ﯾﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ :
'' ﺍﮮ ﻋﺜﻤﺎﻥ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ ''
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
'' ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮔِﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﻭﮞ۔ ''
ﺩﻋﻮﺕ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﯿﮯ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﺍِﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﺫِﮐﺮ ﮐِﯿﺎ۔ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
'' ﻋﻠﯽ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﻮ ﺑُﻼﺅ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﮑﺎ ﻟﻮﮞ۔ ''
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﻭﺿﻮ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠّﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺳﺮ ﺑﺴﺠﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ :
'' ﺍﮮ ﺍﻟﻠّﮧ ! ﺗﯿﺮﯼ ﺑﻨﺪّﯼ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺣﺒﯿﺐ ﻣﺤﻤّﺪ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ﺗﯿﺮﯼ ﺑﻨﺪّﯼ ﮐﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮨﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ﻭ ﺧﺎﻟﻖ ﺁﺝ ﺗُﻮ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﮐﯽ ﻻﺝ ﺭﮐﮫ ﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻋﺎﻟﻢِ ﻏﯿﺐ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎ۔ ''
ﺳﯿّﺪﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﮯ ﮨﺎﻧﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻮﻟﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ۔ﺍﻟﻠّﮧ ﮐﮯ ﻓﻀﻞ ﻭ ﮐﺮﻡ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮨﺎﻧﮉﯾﺎﮞ ﺭﻧﮓ ﺑﺮﻧﮓ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ ﭘﮍﯼ ﺗﮭﯿﮟ۔ﺟﺐ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﻧﮯ ﮨﺎﻧﮉﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﻦ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐِﯿﺎ ، ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ﺟﺐ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻟﺬّﺕ ﻧﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
'' ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ؟ ''
ﺗﻤﺎﻡ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :
'' ﺍﻟﻠّﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ''
ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
'' ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻨّﺖ ﺳﮯ ﻣﻨﮕﻮﺍ ﮐﺮ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ۔ ''
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﭘﮭﺮ ﺳﺮﺑﺴﺠﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ :
'' ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ! ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﮯ ﮨﺮ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ ، ﻓﺎﻃﻤﮧ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ) ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺍﺳﺘﻄﺎﻋﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﮮ۔ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏّ ﺗُﻮ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻻﺝ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻨّﺖ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ۔ﺍﺏ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﷺ ﺟﺘﻨﮯ ﻗﺪﻡ ﭼﻞ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺍُﻣّﺘﯽ ﺟﮩﻨّﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ۔ ''
ﺍِﺩﮬﺮ ﺳﯿّﺪﮦ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺍِﺱ ﺩﻋﺎ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍُﺩﮬﺮ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺍﻣﯿﻦ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴّﻼﻡ ﻭﺣﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦِ ﺧﯿﺮ ﺍﻻﻧﺎﻡ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺸﺎﺭﺕ ﺳُﻨﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ :
'' ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻟﻠّﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭ ﺍُﻣّﺘﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﻨّﻢ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮨﮯ۔ ''
اتنے خوبصورت واقعے کو پڑهنے کے بعد زیادہ سے زیادہ شیئر کریں کہ لوگوں کو علم ہوں. یہ صدقہ جاریہ ہے. جزاک اللہ خیر.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Peshawar