Uzair UKT
This page is made for general knowledge you required.
*جنرل نالج ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ*
* ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺷﮑﻞ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﺳﮯ ﺑﯿﺪﺍﺭﯼ ﭘﺮ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
* ﮨﻮﺍﺋﯽ ﺟﮩﺎﺯ ﮐﮯ ﭘﺎﺋﻠﭧ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺴﭩﻨﭧ ﺳﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻓﻮﮈ ﭘﻮﺍﺋﺰﻥ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺍﯾﮏ ﺟﯿﺴﯽ نہ ﮨﻮ۔
* ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻣﻠﮏ ﻭﯾﭩﯿﮑﺎﻥ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺭﻗﺒﮧ 109 ﺍﯾﮑﮍ ﺍﻭﺭ ﺁﺑﺎﺩﯼ 1500 ﺍﺷﺨﺎﺹ ﮨﮯ۔
* ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺟﺘﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﺗﻨﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞﮐﮯ ﻣﺤﺴﻮﺳﺎﺕ ﮐﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺩﺭﺍﮎ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔
* ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻗﺪﯾﻢ ﻣﯿﮟﮔﺪﮔﺪﯼ ﮐﻮ ﺍﺫﯾﺖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔
* ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻗﺪﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻟﯽ ﻣﺮﭺ ﮐﺎ ﺳﻔﻮﻑ ﺯﺧﻤﻮﮞﭘﺮ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
* ﺍیڈﻭﻟﻒ ﮨﭩﻠﺮ ﭘﺮ 42 ﻗﺎﺗﻼﻧﮧ ﺣﻤﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺑﭻ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﺧﻮﺩﮐﺸﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺮﺍ۔
* ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺁﺩﮬﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ 25 ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﮐﻢ ﻋﻤﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮨﮯ۔
* %86 ﺯﻣﯿﻨﯽ ﺍﻭﺭ %91 ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﻧﮩﯿﮟﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺎ۔
* ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﻘﻠﻤﻨﺪ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﯾﮑﭩﯿﻮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﻧﯿﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ۔
* ﺟﺐ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻟﻮﮔﻮﮞﺳﮯ ﺷﯿﺌﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ %20 ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟﺩﯾﺘﮯ ﺟﺒﮑﮧ %80 ﺍﺱ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
* ﻋﻠﻢ ﻧﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ %80 ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﺎﺕ ﺑﮯ ﺑﺎﺕ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ جوﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﮐﮭﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺣﺮﮐﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﻮ ﺭﺍﺣت پہنچانے ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
* ﺭﯾﺴﭩﻮﺭﻧﭧ ﮐﺎ ﻣﯿﻨﯿﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﮐﯽ ﺣﺎﻣﻞ ﭼﯿﺰ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺁﺭﮈﺭ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﺎتھ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﭼﺎﮨﯿﺌﮟ۔
*دھوپ میں لو لگنے سے موت کیوں ہوتی ہے؟*
ہم سب دھوپ میں گھومتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کو دھوپ لگ جانے کی وجہ سے اچانک موت کیوں ہو جاتی ہے؟
👉 ہمارے جسم کا درجہ حرارت ہمیشہ 37 ° ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے، اس درجہ حرارت پر ہی ہمارے جسم کے تمام اعضاء صحیح طریقے سے کام کر پاتے ہیں.
👉 پسینے کے طور پر پانی باہر نکال کر جسم 37 ° سینٹی گریڈ درجہ حرارت برقرار رکھتا ہے، مسلسل پسینہ نکلتے وقت پانی پیتے رہنا انتہائی مفید اور ضروری ہے.
👉 اس کے علاوہ بھی پانی بہت کارآمد ہے، جسم میں پانی کی کمی ہونے پر ہمارا جسم پسینے کے ذریعے ہونے والے پانی کے اخراج کو روکتا ہے. (یعنی بند کر دیتا ہے)
👉 جب باہر درجہ حرارت 45 ° ڈگری سے زائد ہو جاتا ہے اور جسم کا کولنگ سسٹم ٹھپ ہو جاتا ہے، تب جسم کا درجہ حرارت 37 ° ڈگری سے زیادہ ہونے لگتا ہے.
👉 جسم کا درجہ حرارت جب 42 ° سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے تب خون گرم ہونے لگتا ہے اور خون میں موجود پروٹین پکنے لگتا ہے.
👉 پٹھے کڑک لگتے ہے اس دوران سانس لینے کے لئے ضروری پٹھے بھی کام کرنا بند کر دیتے ہیں.
👉 جسم کا پانی کم ہو جانے سے خون گاڑھا ہونے لگتا ہے، بلڈ پریشر low ہو جاتا ہے، اہم عضو (بالخصوص دماغ) تک خون کی رسائی رک جاتی ہے.
👉 انسان کوما میں چلا جاتا ہے اور اس کے جسم کے ایک کے بعد ایک عضو دھیرے دھیرے کام کرنا بند کر دیتے ہیں، اور اس کی موت واقع ہو جاتی ہے.
👉 گرمی کے دنوں میں ایسے مسائل ٹالنے کے لئے مسلسل پانی پیتے رہنا چاہئے، اس سے ہمارے جسم کا درجہ حرارت 37 ° ڈگری برقرار رہ پائے گا اس بات پر ہمیں توجہ دینا چاہئے.
آنے والے کچھ دنوں میں Equinox اكونكس کے گہرے اثرات خطے کے موسم پر پڑیں گے. کئی علاقے اس کی زد میں ہوں گے.
براہ مہربانی دوپہر 12 سے 3 کے درمیان زیادہ سے زیادہ گھر، کمرے یا آفس کے اندر رہنے کی کوشش کریں.
درجہ حرارت 40 ڈگری کے آس پاس ہوگا.
موسم کی یہ سختی جسم میں پانی کی کمی اور لو لگنے والی صورتحال پیدا کر دے گی.
(یہ اثرات خط استوا کے ٹھیک اوپر سورج چمکنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں.)
براہ مہربانی خود کو اور اپنے متعلقین کو پانی کی کمی میں مبتلا ہونے سے بچائیں.
بلا ناغہ کم از کم 3 لیٹر پانی ضرور استعمال کریں. گردے کی بیماری والے فی دن کم از کم 6 سے 8 لیٹر پانی پینے کی کوشش کریں..
جہاں تک ممکن ہو بلڈ پریشر پر نظر رکھیں. کسی کو بھی لو لگنا یعنی ہیٹ اسٹروک ہو سکتا ہے.
ٹھنڈے پانی کے ساتھ نہائیں. گوشت کا استعمال بند یا کم از کم کریں. پھل اور سبزیاں کھانے میں زیادہ استعمال کریں.
گرمی کی لہر کوئی مذاق نہیں ہے. ایک غیر استعمال شدہ موم بتی کو کمرے سے باہر یا کھلے میں رکھیں، اگر موم بتی پگھل جاتی ہے تو یہ سنگین صورت حال ہے.
سونے کے کمرے اور دیگر کمروں میں 2 نصف پانی سے بھرے اوپر سے کھلے برتنوں کو رکھ کر کمرے کی نمی برقرار رکھی
گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اس میں لو لگ جانا بہت نقصان دہ بلکہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے
انسان کے جسم کا اوسط درجہ حرارت 37 درجہ سینٹی گریڈ ہوتا ہے ، اگر انسان کبھی 40 یا 50 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے ماحول میں ہو تو جسم کا درجہ حرارت بھی بڑھنے لگتا ہے جسم اپنا درجہ حرارت اوسط رکھنے کے لیے پسینہ پیدا کرتا ہے جس سے جسم کا درجہ حرارت ٹھیک رہتا ہے ، یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک جسم میں پانی کی کمی نہ ہو ، جیسے پانی کی کمی ہوگی ، پسینہ انا کم ہوجائے گا جسم کا درجہ حرارت بڑھ جائے گا اور انسان '' لو لگنے '' ہا '' ہیٹ اسٹروک '' کا شکار ہوجائے گا
وجوہات
------------
# گرم موسم میں مشقت کا کام کرنا
# زیادہ دیر سورج کی روشنی میں رہنا
# کم پانی پینا
# سر ڈھانپے بغیر گرمی میں باہر نکلنا
# گرمی میں غیر ضروری لباس پہننا
# گرمی سے اکر فوراً نہانا اور اے سی کمرے میں بیٹھ جانا
علامات
------------
# اچانک سر میں شدید درد ہونا
# آنکھوں کے آگے اندھیرا آنا
# سر چکرانا
# الٹی (قے) آنا
# سانس لینے میں مشکل پیش آنا
# بہت زیادہ پسینہ آنا
# اچانک شدید کمزوری ہونا
# بے ہوشی، دل کی دھڑکن تیز ہوجانا اور بخار ہوجانا۔
# جلد گرم سرخ ہا خشک ہوجانا
# بہت تیز بخار ہونا
احتیاطی تدابیر
---------------
# پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔
# سحر اور افطار کے وقت نمک چینی کے پانی (نمکول) کے استعمال کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
# گرم مضر صحت اور نشہ ور اشیاء اور کولڈرنک کے استعمال سے اجتناب کریں۔
# براہ راست دھوپ میں جانے سے گریز کریں۔
# بحالت مجبوری دھوپ میں جانا ہو تو سرڈھانپ کر جائیں یا چھتری کا استعمال کریں
# دھوپ سے واپسی پر پنکھے یا ائیر کنڈ یشنرکے نیچے جلد نہ آئیں۔
# مشقت کا کام دن کے آغاز اور اختتام پر کریں۔
# اس موسم میں سلاد سبزی اور تربوز وغیرہ استعمال کریں
لو لگ جانے کی صورت میں اقدامات
-----------------------------------
# متاثرہ شخص کو گرم جگہ سے ٹھنڈی سایہ دار جگہ یا اے سی روم میں منتقل کردیں۔
# ٹانگیں جسم سے ذرا اوپر رکھیں
# فوری طور پر ٹھنڈا پانی پلائیں۔
# بٹن زپ وغیرہ کھول دیں
# اٖٖضافی اور موٹے کپڑے فوراً اتار دیں موزے، جوتے، ٹائی، شرٹ وغیرہ اتار کر پنکھے کے نیچے لٹا دیں۔
# بغل، کلائی، ٹخنوں اور رانوں پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں یا برف ملیں ۔
# طبیعت میں بہتری آئے تو متاثرہ شخص کو فوری طور پر نہلا دیں۔
# اگر طبیعت بہتر نہ ہو تو متاثرہ شخص کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیں۔
---------------------------------------------------------
یاد رکھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭٭ زیادہ سے زیادہ درخت لگانے سے گرمی کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے ، اور یہ صدقہ جاریہ بھی ہے
٭٭ اپنے علاقے کے طلبہ اور نوجوانوں کی مدد سے درخت لگانے کی مہم کی کا آغاز کریں
*٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭*
اپنے ہونٹوں اور آنکھوں کو نم رکھنے کی کوشش کریں.
اچھے لوگ
کل رات موبائل چارجنگ پہ لگایا تو معلوم ہوا کہ چراغوں میں روشنی نہیں رہی ۔ یعنی چارجنگ والا پوائنٹ جسے جیک کہتے ہیں وہ شائد خراب ہو گیا ہے ۔ صبح اٹھ کر بازار کا رخ کیا جہاں شہر کی سب سے بڑی موبائل مارکیٹ ہے ۔ ہر کسی نے کہا موبائل دے جائیں شام کو لے جائیے گا، جیک تبدیل ہو گا۔ ایک تو اپنے سامنے کام کروانا چاہتا تھا دوسرا موبائل کھلوانا نہیں چاہتا تھا کہ اس سے ظاہر ہے مارکیٹ ویلیو کم ہو جاتی ہے۔ اپنے ایک مخلص ورکر سے کہا کوئی جاننے والا ہو تو بتاؤ ۔ اس نے کہا آپ میری طرف آ جائیں ، گھر کے پاس ایک چھوٹی سی دکان ہے لیکن بندہ ایماندار اور کاریگر ہے۔
رسک لینا پڑا لیکن کینال روڈ اور کشمیر روڈ سے ملحقہ ایک آبادی میں واقع اس دکان پہ چلا گیا۔
ایک نو عمر لڑکا موبائیل سیٹ مرمت کر رہا تھا۔ کہا یار جیک چینج کر دو۔ کہنے لگا لائیے دکھائیں۔ چیک کرنے کے بعد بولا ، تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ، تھوڑا سا کاربن آ گیا ہے صاف کر دیتا ہوں۔
پانچ منٹ کے بعد بولا اب چارجر لگا کر چیک کریں ۔ بہت حیرت ہوئی کہ بالکل درست چارجنگ ہو رہی تھی۔ پیسے پوچھے تو کہنے لگا یہ کون سا کوئی کام تھا۔ اس کے پاس دکان بھلے چھوٹی تھی لیکن قناعت بہت زیادہ ۔
اسی طرح گزشتہ ماہ پلاسٹک کی ٹیبل کا ایک پایہ نیچے سے ٹوٹ گیا ۔ جناح کالونی اور نڑوالا روڈ پہ جن سے خریدی تھی ان کے پاس لے گیا ،کہنے لگے یہ اب نا قابل مرمت ہے۔ بقیہ دکان والوں نے بھی یہی کہا۔ البتہ ایک کاریگر نے مشورہ دیا کہ کسی لکڑی والے سے لکڑی کا گٹکا(ایک ٹکڑا) لگوا لیں۔میں نے سوچا یہ تو بہت برا لگے گا ، اور ٹیبل ایک سائیڈ پہ رکھ دی۔ گزشتہ ہفتے کسی اور کام سے کارپنٹر کی ضرورت پڑ گئی ۔ جب وہ کام مکمل کر کے جانے لگا تو یونہی خیال آیا کہ اسے ٹیبل دکھا دوں ۔ دیکھتے ہی بولا تھوڑی سے ایلفی دیجئے ۔ میں نے کہا ایلفی سے مضبوطی نہی۔ آئے گی ۔ بولا آپ یہ مجھ پہ چھوڑ دیں ۔ اتنے میں وہ لان سے تھوڑی سی مٹی اٹھا لایا۔ اس کا کیا کرو گے ؟؟ میں حیران تھا۔ ابھی دیکھیں ، یہ کہہ کر اس نے پہلے ٹوٹا ہوا ٹکڑا جوڑ کر ایلفی کا لیپ کیا اور پھر گیلی ایلفی پہ مٹی چھڑک دی۔ چند سیکنڈ بعد مٹی کے اوپر ایک اور کوٹ ایلفی کا کر دیا ۔ لو صاحب اب کوئی اور پایا ٹوٹ جائے تو ٹوٹے یہاں سے نہیں ٹوٹے گا۔ واقعی غور کیا تو مٹی اور اوپر سے ایلفی کا دوسرا کوٹ ،سیمنٹ کی طرح مضبوط ہو گیا تھا۔ جو کام بڑے بڑے پلاسٹک فرنیچر کے کاریگر کرنا نہیں جانتے تھے یا کرنا نہیں چاہتے تھے، وہی کام ایک ایماندار اور ذہین کارپنٹر نے کر دیا۔
تیسرا واقعہ پانی کی موٹر کا ہے جو ہر گھر میں کبھی نا کبھی خراب ہوتی ہے اور ہر مرتبہ ایک ہی نسخہ بتایا جاتا ہے ،نئی وائنڈنگ کرا لیں ۔ ایک تو گرمی ،اوپر سے رمضان المبارک، پرانے الیکٹریشن نے بہانے بنائے تو چھوٹا مانانوالہ کے الیکٹرک سٹورسے ایک نوجوان کو کہا کہ آ کر دیکھو۔ چیک کر کے بولا کہ وائنڈنگ کا مسئلہ ہی لگتا ہے دکان پہ چیک کروں گا۔100% کاپر کی گارنٹی پہ 1500 روپے طے ہوئے ۔ اگلے روز آ کر موٹر چالو کر دی۔ پیسے لینے کے وقت بولا وائنڈنگ کا مسئلہ نہیں تھا ایک پرزہ ٹوٹ گیا تھا۔ خرادیے سے مرمت کروایا ہے ،300 روپے دے دیں۔
یہ بھی اپنے لوگ ہیں ۔ اسی ملک ، اسی شہر میں موجود ہیں ۔ تو کیا ضروری ہے کہ ہمیشہ اپنے ملک اپنی قوم کی برائی ہی کی جائے ۔ اچھی بات اور اچھے لوگوں کو پروموٹ کرنا ، پازیٹیوٹی کو اجاگر کرتا ہے۔ جہاں ہم ہمیشہ تنقید اور منفی پہلو ڈسکس کرتے ہیں وہیں ایک ادنی سا خراج تحسین ان کے لیے جن کے دم سے دنیا قائم ہے۔“
*Copied*
29/05/2024
👈 مجھے نیک انساں بنا میرے مولا _
کسی زمانے میں ایک چور تھا، وہ ایک بادشاہ کے محل میں چوری کرنے کے ارادے سے گیا، رات کا وقت تھا اور محل کے ایک کمرے سے بادشاہ اور اس کی بیوی کی گفتگو کی آواز آرہی تھی، وہ کھڑے ہو کر سُننے لگا، اگرچہ ایسا سُننا غلط ہے، ناجائز ہے، چوری ہے، لیکن چور تو چوری ہی کرنے آیا تھا تواسے سُننے میں کیا چیز مانع ہوتی۔۔۔؟
آخر وہ چور ہی تو تھا، اس چور نے سُنا کہ بادشاہ اپنی بیوی سے کہہ رہا ہے کہ میں اپنی بیٹی کی شادی ایسے آدمی سے کروں گا جو نہایت متقی و پرہیزگار ہو، بہت اللہ والا ہو، جب چور یہ بات سُن رہا تھا تو اس کے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ میں کچھ ایسا بن کر دکھاؤں کہ بادشاہ میرے ہی ساتھ شہزادی کی شادی کردے، دل میں ایک حرص پیدا ہوگئی، اب وہ چوری کرنا تو بھول گیا لیکن دھوکہ دینے پر اتر آیا اور گھر جا کر بہت دیر تک سوچنے لگا کہ کس طرح میں اس بات میں کامیاب ہوسکتا ہوں۔۔۔۔۔؟
پھر ایک تدبیر اس کی سمجھ میں آئی کہ بادشاہ کے محل کے قریب ایک مسجد ہے، اس میں جا کر بزرگانہ لباس پہن کر اور ان کی وضع قطع اختیار کر کے وہاں دن رات عبادت میں مشغول ہوکر بیٹھ جاؤں تو شاید یہ بات بادشاہ تک ضرور پہنچے گی کہ کوئی آدمی یہاں ایسا متقی پرہیزگار ہے جو دن رات اللہ کی عبادت میں مصروف ہے، تو ہوسکتا ہے کہ بادشاہ کی نگاہ میرے اوپر پڑ جائے اور میں شہزادی سے شادی کے لئے چن لیا جاؤں، یہ اس چور کا ایک نہایت حقیر اور ذلیل دنیاوی مقصد تھا، جس کے لئے اس نے یہ ارادہ کیا، پھر اس نے اپنے پروگرام کے مطابق بزرگانہ لباس و پوشاک، وضع قطع اختیار کر کے اس مسجد میں جا کر نمازوں پر نمازیں، ذکر و تلاوت، مراقبہ سب شروع کرلیا، دن گزرتے رہے اور لوگوں میں شہرت ہوتی گئی کہ کوئی اللہ کے بہت بڑے ولی یہاں آگئے ہیں جو دن رات عبادت کرتے ہیں، یہاں تک کہ یہ بات بادشاہ تک پہنچ گئی کہ یہاں کوئی اللہ والے آکر بیٹھے ہیں، جوان، زہد و عبادت میں لاجواب، تقویٰ و طہارت میں بے نظیر، جب بادشاہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے اپنے ارادے کے مطابق غور وفکر شروع کردیا کہ شہزادی کے متعلق جو سوچا تھا اس کے لئے اسی کا انتخاب کیوں نہ کر لیا جائے، بادشاہ نے اس سلسلے میں گفتگو کے لئے اپنے وزیر کو بھیجا، وزیر اس شخص کے پاس مسجد پہنچا اور با ادب ہو کر اس سے کہا کہ میں آپ کی خدمت عالیہ میں بادشاہ کی طرف سے ایک پیغام لے کر آیا ہوں، اس نے پوچھا کہ کیا پیغام ہے۔۔۔۔؟
وزیر نے بتایا کہ بادشاہ نے کئی سال پہلے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح ایک ایسے شخص سے کریں گے جو بڑا متقی و پرہیز گار ہو، اللہ والا ہو اور وہ اس کی تلاش میں تھے، اب جو نظر گئی تو نظر انتخاب آپ پر آکر رک گئی ہے، لہذا بادشاہ نے مجھے بھیجا ہے کہ اس سلسلے میں آپ سے گفتگو کروں، یہ شخص جو در اصل اسی تمنا و آرزو میں یہاں آکر بیٹھا تھا بہت دیر تک وزیر کی گفتگو سنتا رہا، اس کے بعد اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، وزیر نے پوچھا کہ کیا بات ہے۔۔۔۔۔؟
تو کہنے لگا کہ آج جو پیغام لے کر آپ آئے ہیں یہ پیغام مجھے منظور نہیں ہے، وزیر نے کہا کہ کیوں منظور نہیں۔۔۔۔۔۔؟
اس شخص نے کہا کہ دیکھئے میں صاف صاف بات آپ کو بتاتا ہوں کہ میں اصل میں ایک چور تھا اور ایک مرتبہ بادشاہ کے محل میں چوری کے ارادے سے گیا تھا، پھر جو کچھ بھی ہوا وزیر کو سنایا، اور اس کے بعد اس چور نے کہا کہ میں نے تو یہ وضع قطع اسی حرص کی وجہ سے اختیار کی تھی لیکن میں یہاں آکر بیٹھا تو میرے خدا نے مجھے اپنا بنا لیا، اب بس اس کے بعد مجھے اور کسی کی ضرورت نہیں میرے لئے میرا خدا کافی ہے،
*بے شک! جب عبادت عبادت ہوجائے، نماز نماز ہوجائے، ذکر ذکر ہوجائے اور ہماری دیگر عبادتیں واقعی عبادتیں ہوجائیں تو بے شک یہ نمازیں اور عبادتیں انسان کو برائیوں سے روک دیتی ہیں۔
✭ نوٹ :- ایسے ہی دل کو موہ لینے والے اور دل کو چھو لینے والے واقعات و حکایات پڑھنے کے لئے درج ذیل ہمارے چینل میں شامل ہوجائیں۔ چینل میں شامل ہونے کے لئے درج ذیل لنک پہ لنک پر کلک کریں اور شمولیت اختیار کریں اور اپنے دوست و احباب اور متعلقین کو بھی شیئر کریں تاکہ آپ کے ذریعے ان کا بھی فائدہ ہو۔
کالم, تحریر اردو لیٹریچر WhatsApp Group Invite
سی ایس ایس میں بے ایمانی
ہمارے ہاں جیسے انتخابات میں کوئی اپنی شکست نہیں مانتا اور ہار کا الزام دھاندلی پر دھر دیتا ہے، اسی طرح سی ایس ایس میں ناکام ہونے والے بھی یہی کہتے ہیں کہ جی صرف بیورو کریٹس کے بچے سلیکٹ ہوتے ہیں. ان کے گھر والے، دوست، پڑوسی سب یہ مان لیتے ہیں اور چونکہ کامیاب ہونے والے 200 ہوتے ہیں تو ناکام ہونے والے 20000، ان کا بیانیہ اتنا پھیل جاتا ہے کہ سب کو یقین آجاتا ہے.
اس عذر لنگ میں اس بات پر غور ہی نہیں کیا جاتا کہ ان سے اصل ہاتھ کیا ہوتا ہے.
ہم میں سے بیشتر لوگوں کو انگریزی بھی پنجابی، اردو، سندھی وغیرہ میں پڑھائی گئی ہوتی ہے. انگریزی کی اچھی فہم، بول چال اور تحریر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. اس کمی کو پورا کرنے کیلئے بہت زیادہ زور لگانے کی ضرورت ہوتی ہے. اب مقابلہ ان نوجوانوں سے ہوتا ہے جن میں انگریزی کی قابلیت پہلے سے ہوتی ہے. ان میں کھاتے پیتے اور پڑھے لکھے گھروں کے بچے ہی زیادہ ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ بیورو کریٹ نہ صرف اچھے پڑھے لکھے ہوتے ہیں بلکہ انہیں ان سب چیزوں کا بھی اچھی طرح پتہ ہوتا ہے جو آگے بڑھنے کیلئے ضروری ہیں.
پیسے والے، زمینوں والے بھی انتظام کرلیتے ہیں. وہ اپنے بچوں کو ان سکولوں میں پڑھاتے ہیں جہاں بس انگریزی بولی جاتی ہے. دیسی زبانیں ممنوع ہوتی ہیں.
اب عملاً یہ ہوتا ہے کہ 100 میٹر کی ریس میں کچھ مقابلہ کرنے والے سٹارٹنگ پوائنٹ سے 10 میٹر، 20 یا 30 میٹر آگے کھڑے ہوتے ہیں. یہ وہی انگلش میڈیم تعلیم والے، پڑھے لکھے گھروں کے اور مناسب رہنمائی رکھنے والے ہوتے ہیں. اسی فرق سے مقابلہ فئیر کیسے رہ سکتا ہے.
بھارت میں کوئی لائق نوجوان صرف انگریزی کی وجہ سے مار نہیں کھاتا. وہاں انڈین ایڈمنسٹریشن سروس IAS کا امتحان اردو، پنجابی سمیت 22 تسلیم شدہ زبانوں میں دیا جاسکتا ہے . فائنل انٹرویو بھی انہی زبانوں میں دیا جاسکتا ہے.
اردو میں امتحان دینے والے بھی وہاں پوزیشنیں لیتے رہے ہیں.
ہمارے ہاں اس اصل مسئلے کی طرف کسی کی توجہ ہی نہیں.
ہمارے ہاں لائق ترین نوجوان بھی صرف رواں انگریزی لکھ یا بول نہ سکنے کی وجہ سے ناکام ہوجاتے ہیں. اسی وجہ سے صرف انگریزی اور انٹر ویو کی تیاری کرانے والی اکیڈمیز کم از کم ایک لاکھ روپے فیس وصول کررہی ہیں.بڑے شہر آکر رہائش اور دوسرے اخراجات الگ.
اصل ضرورت ان امتحانات کیلئے انگریزی کی لازمی حیثیت ختم کرنا ہے. بھارت کے اس فیصلے سے وہاں کی IAS کا معیار قطعی کم نہیں ہوا.
جہاں تک بیورو کریٹس کے بچوں کو کسی فائدے کا تعلق ہے تو ہوسکتا ہے کہ ہزار میں سے کسی ایک امیدوار کو اتفاق سے کچھ فیور مل جائے. مثلاً میری ایک عزیزہ ایک مشہور پروفیسر کی بیٹی ہیں. ایک انٹرویو میں ماہر مضمون نے نام پڑھ کر پوچھا آپ ان پروفیسر صاحب کی کیا لگتی ہیں؟ ان کے بتانے پر شاید انہوں نے ہمدردانہ نمبر ہی دئیے ہوں گے. ایسے کسی بیوروکریٹ کا بیٹا انٹرویو میں جائے اور اتفاق سے ان کا کوئی سابق کولیگ بھی پینل میں ہوتو اس کا بھی معمولی فائدہ ہوسکتا ہے لیکن بعض صورتوں میں بھاری نقصان بھی ہوتا ہے. بیورو کریٹس کے ضروری نہیں کہ آپس میں اچھے تعلقات ہی رہے ہوں.
کوئی پینتیس سال پہلے کی بات ہے. سی ایس ایس کا نتیجہ آیا تو کامیاب ہونے والوں میں بیس پچیس ایسے تھے جن کے نام سے پہلے ڈاکٹر بھی تھا. اس پر اخبارات میں شور مچ گیا کہ ڈاکٹروں کی اتنی ضرورت ہے، اتنا ان پر خرچ آتا ہے اور وہ ڈاکٹری چھوڑ رہے ہیں. اب کسی قانون کے ذریعے تو ڈاکٹروں کے سی ایس ایس کے امتحان میں شرکت پر پابندی لگائی نہیں جاسکتی تھی. بس یہ ہوا کہ نتائج میں نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھنا بند کردیا گیا.
ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ وہ سیکریٹریٹ یا کسی اور دفتر جاتے ہیں تو گیٹ کیپر، چپڑاسی سے لیکر کلرک اور سیکشن افسر ان سے جو برتاؤ کرتے ہیں، اسی سے وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں. ڈاکٹر، انجنئیر اچھے طالب علم رہے ہوتے ہیں. سخت محنت اور مقابلے کے بعد بنے ہوتے ہیں. موٹی موٹی کتابیں رٹنے کا تجربہ ہوتا ہے. سی ایس ایس کا امتحان ان کیلئے کچھ مشکل نہیں ہوتا.
حالیہ کامیاب امیدواروں میں ضلع شکار پور سندھ کی ڈاکٹر ثنا رام چند بھی کہتی ہیں کہ وہ سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال اور مریضوں کی حالت دیکھ کر دل شکستہ ہوگئیں اور اس نتیجے پر پہنچیں کہ بیوروکریسی ایسا پلیٹ فارم دیتی ہے جہاں آپ کچھ نہ کچھ تبدیلی لاسکتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں میں نے اپنے موبائل سے تمام سوشل میڈیا ایپس ڈیلیٹ کردیں، سماجی رابطے منقطع کردیے اور آٹھ مہینہ دل و جان سے سی ایس ایس کی تیاری کی، بالاخر کامیاب ہوگئی. کووڈ وارڈ کی ڈیوٹی کے ساتھ انٹرویو کی تیاری کی۔
لیلیٰ ملک شیر، شیریں ملک شیر، سسی ملک شیر، ماروی ملک شیر ،ضحیٰ ملک شیر پانچ بہنیں ہیں جو باری باری سی ایس ایس کیلئے منتخب ہوئیں. بڑی بہن کو زیادہ محنت کرنا پڑی ہوگی، اس کے بعد تو سب کو گھر سے ہی کوچنگ ملتی رہی. وہ ہری پور ہزارہ کے ملک محمد رفیق اعوان کی بیٹیاں ہیں جو واپڈا سے ایس ڈی او ریٹائر ہوئے ہیں.ظاہر ہے سب انجینئر سے ملازمت شروع کی ہوگی. انہیں بیورو کریٹ تو نہیں کہا جاسکتا. ان کی صرف بیٹیاں ہیں. ان کی معیاری تعلیم کیلئے انہوں نے راولپنڈی میں رہائش اختیار کی. کانونٹ میں پڑھایا. بیٹیوں کی غیر نصابی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرکے ان میں اعتماد بڑھایا. اب یہ بیٹیاں بیٹوں سے زیادہ قابل فخر ہیں.
چترال کے ایک دور افتادہ علاقے سے تعلق رکھنے والی شازیہ اسحاق پولیس سروس کیلئے منتخب ہوئیں. وہ ایک ریٹائرڈ صوبیدار کی بیٹی ہیں. ایک مڈل سکول کی ہیڈ مسٹریس کے طور پر کام کررہی تھیں.
ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والی سونیا شمروز خیبر پختونخوا کی پہلی خاتون ڈی پی او بنیں۔ انہیں کسی اکیڈمی بھی نہیں جانا پڑا. ان کے شوہر سی ایس ایس آفسیر ہیں. انھوں نے ہی شادی کے بعد سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری کرائی.
زوہیب قریشی لاڑکانہ کے موٹر مکینک عبداللطیف قریشی کے بیٹے ہیں. عبداللطیف قریشی کو شوق تھا کہ بیٹا افسر بنے. اپنی استطاعت سے بڑھ کر مہنگے ادارے میں تعلیم دلائی. ان کا انتقال ہوگیا تو سارا خاندان زوہیب کی پشت پر آگیا. مشکلات کے باوجود زوہیب مرحوم والد اور خاندان کی خواہش پوری کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے.
سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والی رابیل کینیڈی پاکستان فارن سروس کی پہلی مسیحی خاتون افسر بنی ہیں. وہ ایک سرکاری محکمے کے ڈرائیور جان کینیڈی کی بیٹی ہیں. انہوں نے سکول میں پڑھاتے ہوئے شام کے اوقات میں تعلیم مکمل کی اور پھر سی ایس ایس کی تیاری بھی. انہیں ایک مخلص استاد کی رہنمائی میسر آگئی تھی.
پروفیسر ڈاکٹر صائمہ ارم کہتی ہیں، میرا تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ سی ایس ایس میں حتمی کامیابی کے لیے دو چار مہینے کا رٹا یا کسی اکیڈمی میں ڈھیروں پیسہ دے کر ٹیوشن پڑھ لینا کافی نہیں ہوتا. اس کے لیے ایک خاص طرح کا مائنڈ سیٹ ضروری ہے. جن امیدواروں کی سکولنگ اچھی ہے، انگریزی زبان پر اچھی دسترس ہے، گھر میں علمی ماحول ہے. سیاسی شعور اور سوجھ بوجھ ہے، نصابی معلومات سے ہٹ کر بھی دنیا کے بارے جاننے کا شوق رکھتے ہیں، ایسے لوگ کچھ اضافی وقت اور توجہ دے کر، ذرا منظم طریقے سے محنت کر لیں تو بہت اچھے نتائج مل سکتے ہیں.
میں پھر یہ کہوں گا کہ ذہانت، علم اور وسیع معلومات رکھنے والا کوئی نوجوان مرد یا خاتون صرف انگریزی میں ایک خاص معیار نہ ہونے کی وجہ سے اس سروس میں آنے سے کیوں محروم رہے. مدرسوں کے فاضلین کیلئے کیوں دروازہ بند رکھا جائے. ایسے علم والے بھی سروس میں موجود ہوں تو یہ تو نہ ہو جیسا پچھلے دنوں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے اکنامسٹ کو سیکریٹری اوقاف و مذہبی امور بناکر کیا گیا.
اردو میں امتحان شروع کریں، آپ کو صرف انگریزی دان نہیں، بہت لائق افسر ملیں گے.
ویسے اب امیر طبقے میں سی ایس ایس میں آنے کا رجحان کم ہوگیا ہے.
اب وہ خود مشقت کرنے کی بجائے کسی سی ایس ایس خاتون سے شادی کرلینے، کسی جاگیردار کے داماد بن کر مشترکہ اثر رسوخ سے بیوی کا نام ایم این ایز، ایم پی ایز کی فہرست میں شامل کرالینے، ایل ایل بی کرکے کچھ عرصہ بار کی سیاست، کسی اہم چیمبر سے تعلق یا دامادی کے ذریعے تین چار سال جج بن کر چیف سیکریٹری سے زیادہ ریٹائرمنٹ کے فوائد لینے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں. جاگیردار اور بیوروکریٹ دونوں ایک دوسرے سے مرعوب ہوتے ہیں. باہمی رشتے داریاں سی ایس ایس سے بہت زیادہ منافع بخش ہوتی ہیں. بیوروکریٹس میں بیٹوں کو کوئی انڈسٹری لگواکر اپنے تعلقات سے پھلنے پھولنے کا بھی رجحان ہے. وہ بعض اوقات نقد رشوت لینے کی بجائے بچوں کو بڑے صنعتی، تجارتی اداروں، ملٹی نیشنلز، بنکوں کے ایگزیکٹوز بنوا لیتے ہیں. اور سب سے زیادہ تنخواہیں ایسے ہی اداروں میں ہیں.
اسلم ملک
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Shabqadar
Peshawar
24630