Spsc information about this matter
I'm interested for Space 🔭🌌And Sicance 🦟information videos. 👍All friand follow 👁️🗨️
05/02/2025
میں آپ کو خلا کے بارے میں کچھ بتاتا ہوں:
* **یہ بہت بڑا ہے:** کائنات انتہائی وسیع ہے۔
* **یہ سرد ہے:** خلا انتہائی سرد ہے، درجہ حرارت اکثر -270 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے۔
* **آواز نہیں ہے:** آواز کو سفر کرنے کے لیے کسی میڈیم کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے ہوا یا پانی۔ چونکہ خلا میں ہوا نہیں ہوتی، اس لیے کوئی آواز نہیں ہوتی۔
* **سیاہ شگاف موجود ہیں:** یہ خلا کے ایسے علاقے ہیں جن کی کشش ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کوئی چیز بھی، یہاں تک کہ روشنی بھی، فرار نہیں ہو سکتی۔
* **دیگر سیارے موجود ہیں:** ہمارے نظام شمسی میں آٹھ سیارے ہیں، جن میں سے ہر ایک کی اپنی منفرد خصوصیات ہیں۔
کیا آپ کے پاس خلا کے بارے میں کوئی خاص سوال ہے جو آپ پوچھنا چاہتے ہیں؟ میں ان کا جواب دینے کی پوری کوشش کروں گا۔ فالو ضرور کری
07/01/2025
23/12/2024
مقناطیسی قطب شمالی پوزیشن باضابطہ طور پر تبدیل
مقناطیسی قطب شمالی نے باضابطہ طور پر اپنی پوزیشن تبدیل کر لی ہے ، کینیڈا سے مزید دور اور سائبیریا کے قریب منتقل ہوگئی ہے ، جیسا کہ تازہ ترین 2025 کے ورلڈ مقناطیسی ماڈل)ڈبلیو ایم ایم( میں ظاہر ہوتا ہے۔
امریکی نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیئر ایڈمنسٹریشن )NOAA( اور برٹش جیولوجیکل سروے)BGS( کی جانب سے ہر پانچ سال بعد تیار کیا جانے والا ڈبلیو ایم ایم جہازوں، طیاروں اور جی پی ایس ڈیوائسز پر نیویگیشن سسٹم کے لیے اہم اپ ڈیٹس فراہم کرتا ہے۔
یہ حرکت زمین کے متحرک مرکز کی وجہ سے ہوتی ہے، خاص طور پر کینیڈا اور سائبیریا کے نیچے دو بڑے مقناطیسی لوب۔
تازہ ترین ڈبلیو ایم ایم میں 10 گنا زیادہ تفصیلات کے ساتھ ایک اعلی ریزولوشن کا نقشہ شامل ہے ، جو اگلے پانچ سالوں کے لئے درست نیویگیشن کو یقینی بناتا ہے۔ مثال کے طور پر ، پرانے ماڈل کا استعمال کرتے ہوئے 8،500 کلومیٹر کا سفر کرنے کے نتیجے میں 150 کلومیٹر نیویگیشن غلطی ہوسکتی تھی۔
شکر ہے ، ذاتی آلات اور جی پی ایس سسٹم کی وجہ سے ہماری بچت ہوتی رہتی ہے۔ شمال، جس کی نشاندہی سب سے پہلے 1831 میں سر جیمز کلارک راس نے کی تھی، ہمیں زمین کی بدلتی ہوئی فطرت کی یاد دلاتا ہے۔
تصویر: NOAA
23/12/2024
پاکستان سمیت شمالی نصف کرے میں سال 2024 کا سب سے چھوٹا دن اور طویل ترین رات 21 دسمبر کو ہے۔
محکمہ موسمیات نے سال کے چھوٹے ترین دن اور طویل ترین رات سے متعلق بتا دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان میں آج سال کا سب سے چھوٹا دن جبکہ آج آنے والی رات سال کی سب سے طویل ترین ہوگی۔ کراچی میں آج سورج 7 بج کر 12 منٹ پر طلوع ہوا اور 5 بج کر 48 منٹ پر سورج غروب ہوجائے گا۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ کراچی میں دن کا دورانیہ 10 گھنٹے 36 منٹ کا ہوگا۔ کل شہرقائد میں سورج صبح 7 بج کر 13 منٹ پر طلوع ہوگا اور اسطرح آج کی رات کا دورانیہ کراچی میں 13 گھنٹے 25 منٹ کا ہوگا۔ دوسری جانب اسلام آباد میں صبح 7 بج کر 9 منٹ پر سورج طلوع ہوکر شام 5 بج کر4 منٹ پر غروب ہوجاتا ہے، یعنی 9 گھنٹے 55 منٹ میں، اس کے بعد 14 گھنٹے 5 منٹ طویل رات ہوگی، لاہور میں یہ دورانیہ 10 گھنٹے 6 منٹ ہوگا۔
دلچسپ و عجیب سال کی طویل ترین رات اور سب سے چھوٹے دن کے بارے میں یہ دلچسپ باتیں جانتے ہیں؟
سال کی طویل ترین رات اور سب سے چھوٹے دن کے بارے میں یہ دلچسپ باتیں جانتے ہیں؟
اس سال 21 دسمبر سال کا سب سے چھوٹا دن ہوگا
پاکستان سمیت شمالی نصف کرے میں سال 2024 کا سب سے چھوٹا دن اور طویل ترین رات 21 دسمبر کو ہے۔
مگر سب سے چھوٹے دن اور طویل ترین رات کے پیچھے کیا سائنس چھپی ہے؟
سال کے مختصر ترین دن کو راس الجدی یا winter solstice کہا جاتا ہے۔
اگر آپ کو علم نہ ہو تو جان لیں کہ زمین اپنے محور میں سورج کی جانب 23.5 ڈگری کے زاویے سے جھکی ہوئی ہے۔
دنیا بھر میں دن اور رات کا دورانیہ ایک جیسا کب ہو گا؟
ناسا کے محقق مائیکل ایس ایف کرک کے مطابق زمین اپنے محور پر بالکل سیدھا نہیں گھومتی۔
محور پر جھکے ہونے کے باعث شمالی اور جنوبی نصف کروں میں سال بھر سورج کی روشنی کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔
سورج کے گرد گھومتے ہوئے سورج کی روشنی کا دورانیہ اور شدت میں سال بھر مسلسل تبدیلیاں آتی ہیں اور اسی وجہ سے مختلف موسموں کا سامنا ہوتا ہے۔
شمالی نصف کرے میں موسم سرما کے مہینوں میں سورج کی روشنی کا دورانیہ گھٹ جاتا ہے جبکہ جنوبی نصف کرے میں بڑھ جاتا ہے۔
مائیکل کرک کے مطابق راس الجدی کے موقع پر قطب شمالی اتنا جھک جاتا ہے کہ وہ سورج کی رسائی سے باہر ہو جاتا ہے اور وہاں مکمل اندھیرا چھا جاتا ہے۔
سال کی طویل ترین رات اور سب سے چھوٹے دن کے بارے میں یہ دلچسپ باتیں جانتے ہیں؟
ہماری اس موقع پر اس طرح جھکی ہوئی ہوتی ہے ۔
اس سے برعکس جنوبی نصف کرے میں خط سرطان یا Summer Solstice ہوتا ہے یعنی سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات۔
دسمبر میں راس الجدی کے موقع پر آپ شمال کی جانب جتنا زیادہ آگے بڑھیں گے سورج کی روشنی کا دورانیہ اتنا کم ہوگا۔
درحقیقت شمالی نصف کرے میں اگر آپ آسمان پر غور کریں تو سورج دیگر مہینوں کے مقابلے میں زیادہ بلند نہیں ہوتا، یہاں تک کہ دوپہر میں بھی۔
اعتدال ربیعی یا Spring equinox اور اعتدال خریفی یا September Equinox کے موقع پر جب دن اور رات کا دورانیہ پوری دنیا میں یکساں ہوتا ہے تو سورج دوپر میں استوا پر ہمارے سر کے بالکل اوپر ہوتا ہے۔
مگر راس الجدی کے موقع پر شمالی نصف کرے میں دوپہر کو سورج سطح سے کافی نیچے نظر آتا ہے۔
ہر سال تاریخ مختلف کیوں ہوتی ہے؟
شمالی نصف کرے میں سال کا سب سے چھوٹا دن 20 سے 24 دسمبر کے درمیان ہوتا ہے، مگر 21 یا 22 دسمبر زیادہ عام تاریخیں ہیں۔
تاریخیں تبدیل ہونے کی وجہ ہمارا 365 دن کا کیلنڈر ہے۔
ہر 4 سال بعد کیلنڈر میں فروری کے مہینے میں ایک لیپ دن کا اضافہ ہوتا ہے۔
اسی طرح ہماری زمین سورج کے گرد اپنا چکر 365.25 دنوں میں مکمل کرتی ہے تو وقت کے اس فرق کی وجہ سے راس الجدی کی تاریخ بدلتی رہتی ہے۔
19/12/2024
میں اکثر اس کا ذکر کرتا ہوں کہ اگر آپ مسلمان ہیں اور آپ اسٹرونومی کے بارے میں نہیں جانتے،،،،،،،، تو آپ اللّٰہ اکبر کا صحیح مفہوم نہیں جان سکتے۔آپ اسٹرونومی کے بغیر دنیا کی تمام کتابيں بھی پڑھ لیں، کاٸنات کے مالک کے بارے میں بھی کما حقہ نہیں جان سکتے،،،،،،، کیونکہ ستارے سے نیچے کاٸنات کا 0٠000000000000001 فیصد بھی نہیں ہے تو آپ کیسے اس لفظ کا صحیح "مفہوم" سمجھ سکتے ہیں؟ ہم جب بار بار ہر نماز میں اللّٰہ اکبر کہتے ہیں۔ کیا اس کا صحیح مفہوم بھی سمجھتے ہیں؟ ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔۔کیونکہ اللّٰہ اکبر کا صحیح مفہوم آپ کو فلکیات ہی سیکھا سکتی ہے۔۔۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں، کہ پاکستان کے ہر مدرسے میں ایک کلاس فلکیات پر بھی ہونی چاہیٔے۔ کیونکہ ایک تو فلکیات بہت ہی دلچسپ فیلڈ ہے،،،،،،، اور دوسری بات یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی کبریائی کا صحیح مفہوم جاننے کے لیے علم فلکیات بہت ہی ضروری ہے۔
یہ اس قدر دلچسپ سبجیکٹ ہے کہ اس میں آپ کبھی جنت نظیر وادیاں دیکھتے ہیں تو کبھی جہنم صفت سیارے کبھی خلاء میں پانی کے بڑے بڑے "سمندر" دیکھتے ہیں،،، تو کبھی جلتی ہوئی آگ۔کائنات میں ایک طرف شدید ٹھنڈ دیکھنے کو ملتی ہے،، تو دوسری طرف آگ سے بھی ہزاروں گنا جلتی آگ۔
کائنات کی"وسعتیں" دیکھ کر انسان کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ یہاں سے کروڑوں نوری سال دور چلا جائے، تو دوسری اپنی عمر کو دیکھ کر "مایوس" ہو جاتا ہے کہ ساٹھ 60 سالہ زندگی میں پانچ نوری منٹ دور جانا بھی مشکل ہے۔کروڑوں نوری سال دور جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ناسا والے کائنات میں مسلسل "زندگی" ڈھونڈنے میں مصروف ہے لیکن ابھی تک زمین کے علاوہ کہیں اور زندگی نہیں ملی۔
ابھی تک کوئی ایسی وجہ بھی سامنے نہیں آئی جس کی بنا پر یہ پختہ طور پر کہا جا سکے،، کہ "زندگی" زمین کے علاوہ کہیں اور موجود نہیں۔۔۔۔۔ کائنات کے مالک نے انسان کو اپنی بھیجی ہوئی،، کسی بھی آسمانی کتاب میں یہ نہیں بتایا کہ تمہارے علاوہ اس کائنات میں اور بھی مخلوقات بستی ہیں
لیکن "خالق کائنات" نے اس بات کی نفی بھی نہیں کی۔شاید اسلئے کہ انسان کے اندر کا ''تجسس'' ختم نا ہو جائے،، اور وہ دنیا میں آنے کا مقصد، صرف کھانے پینے سونے اور جانوروں کی طرح زندگی گزارنے ہی کو نا سمجھ لے۔۔ یعنی خالق خود چاہتا ہے، کہ اسکی مخلوق کائنات کی وسعتوں میں جھانکے اور ان عجائبات کو دیکھ کر اپنے خالق تک پہنچے۔ اپنے بنانے والے کی کبریائی کو جانے۔۔۔
لفظ "اللّٰہُ اکبر" کی پہچان کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خالق کائنات کی شان و عظمت کس قدر بلندو بالا اور بڑی ہے، اسکو سمجھنا ممکن نہیں،،،،،،، لیکن اس کی نشانیاں کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں اگر دیکھا جائے،،،، تو حسین کائنات کی سب سے بڑی، عجیب اور حیران کن تخلیق ستاروں، سیاروں، اور بلیک ہولز وغیرہ کی تخلیق ہے۔۔انسان جیسے جیسے اس تخلیق اور کائنات کو سمجھنے کے لئے آگے بڑھ رہا ہے،،،،،،، ویسے ویسے انسان پر یہ واضح ہورہا ہے کہ جو کچھ اس نے دیکھا، سمجھا، اور پرکھا ہے، وہ تو کائنات کا ایک چھوٹا سا جزو بھی نہیں۔ ایک وقت تھا،،،،،،،،،،، کہ جب انسان سورج میں اپنے تصوّراتی معبود کو ڈھونڈتا تھا،،،،،، اور سورج ہی کو زمین پر زندگی کی ضمانت قرار دیتا تھا،،،، اسی نظریئے کو بنیاد بنا کر سورج کی عبادت کی جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن آج پوری انسانیت یہ جانتی ہے کہ سورج بھی کسی سسٹم کی پیروی کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔ سورج بھی ہماری کہکشاں کے مرکز کے تابع ہے۔۔۔ اس میں ایک بلیک ہول کو فالو کر رہا ہے،،،،،، اور معبود کسی بھی چیز کا، کسی بھی سسٹم کا فالور نہیں ہو سکتا۔ ایسے ہی ستاروں سیاروں کی عظیم الشان دنیاؤں میں انسان نے اپنا "تحقیقاتی" قدم رکھا اور انکی لامحدود وسعت اور عقل میں نا آنے والی ساختوں کے سبب انہیں بھی خدا کا درجہ دے ڈالا۔۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان پر یہ واضح ہوتا گیا، کہ خالق وہ نہیں جو بجھ جائے۔۔۔۔خالق وہ نہیں جو غروب ہو جائے۔۔۔خالق وہ نہیں جو کسی کی پیروی میں لگا ہو،، بل کہ خالق کائنات وہ ہے،، جس نے ان سب ستاروں سیاروں اور خلاء کی وسعتوں میں پھیلی تمام چیزوں کو پیدا کیا،، اور اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر لگا رکھا ہے۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں کہ
نہ تُو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے، تُو نہیں جہاں کے لیے
اس شعر میں اقبال نے انسان کا قرآنی تصور پیش کیا ہے جو یہ ہے کہ یہ ساری کائنات اللّٰہ نے انسان کےلیے پیدا کی ہے کہ وہ اس کی "قوتوں" کو مسخر کرے، اور اپنے "فائدے" کے لیے استعمال کرے، جبکہ انسان کو اللّٰہ نے اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ اسکی اطاعت کرے اور زمین میں اس کی نیابت کا فرض انجام دے۔ بہ الفاظ دیگر انسان اس لیے پیدا نہیں ہوا، کہ وہ دنیا کی لذتوں میں غرق ہو جائے،،، اور اپنا مقصد حیات بھلا دے۔۔۔۔ انسان کی زندگی کا مقصد صرف اللّٰہ کی عبادت یعنی اطاعت ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق قابلِ مشاہدہ کائنات کا رداس تقریباً 46 ارب نوری سال، اور قطر 93 ارب نوری سال ہے۔ یہ لمحہ بہ لمحہ روشنی کی رفتار سے بھی، زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔۔ رہنمائی کے لیے بتاتا چلوں کہ 93 ارب نوری سال اتنا بڑا عدد ہے کہ اس میں نمایاں تبدیلی کے لیے کروڑوں سال درکار ہوں گے۔۔۔۔ اس لئے کائنات کے اس قدر تیز پھیلاؤ کے باوجود سالوں سے ہم کائنات کا قطر 93 ارب نوری سال لکھتے آ رہے ہیں۔ہم اس قدر کمزور ہیں کہ اس وُسعت کا ادراک ہمارا ذہن کر ہی نہیں سکتا،،،،، کیوں کہ ایک نوری سال بھی تقریباً 94 کھرب، 60 ارب اور 80 کروڑ کلومیٹر پر مشتمل ہوتا ہے۔
ویسے بہت ہی عجیب بات نہیں ہے کہ 93 ارب نوری سال پر پھیلی ہوئی، کائنات کی ایک چھوٹی سی ملکی وے کہکشاں کے ایک چھوٹے"سولر سسٹم" کے ایک چھوٹے سے سیارے کے ایک کم رقبے پر پھیلے ہوئے"ملک" کے ایک چھوٹے سے صوبے کے ایک چھوٹے سے ضلع کے، ایک چھوٹے سے گاؤں اور شہر کے ایک چھوٹے سے گھر میں بیٹھا ہوا شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ اس حسین کائنات کا مالک نہیں ہے، بلکہ یہ خود بخود بن گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
29/06/2024
اس جمیز ویب ٹیلی سکوپ کے نئے (Harbig- Haro 211) امیج کے اندر ہم لوگ دیکھ سکتے ہیں ایک جوان ستارہ جو آپنے ارتقا کی ابھی آپنی ابتدائی شکل میں تشکیل پا رہا ہے۔
یہ HH211 ستارہ ابھی صرف 10 لاکھ ہزار سال پرانا ہے ہمارے سورج کے مقابلے میں اس کے آس پاس جو ڈسک ہے مختلف گیسوں اور مٹی کی اسے پوروٹو پلینٹیری ڈسک کہتے ہیں۔
ہمارے آپنے نظام شمسی میں ہمارے سورج کے گرد بھی کچھ اسی طرح ۔کی ڈسک تھی جس سے بعد میں دوسرے سیارے وجود میں آئے جن میں ہمارا آپنا سیارہ زمین بھی شامل ہے۔
یہ امیج ہمیں یہ بتاتا ہے کے جب کوئی ستارہ نیا وجود میں آتا ہے تو اس کی ابتدائی شکل کیسی ہوتی ہے جو وہ ارتقا کے کن مراحل سے گزر کر ایک مکمل ستارہ بنتا ہے ہمارے سورج کی طرح۔۔۔
نوٹ: یار رہے ہمار سورج کی بھی ابتدائی حالت کچھ ایسے ہی تھی آج سے 6۔4 بلین سال پہلے۔ آج ہم جس حالت میں اسے دیکھ رہے ہیں یہ کہیں بلین سالوں کے بعد کی شکل ہے۔ جس میں ہماری زمین کا وجود میں آنا آج سے 54۔4 بلین سال پہلے اور پھر اس پر زندگی کی شروعات 5۔3 سے 9۔3 بلین سال پہلے اور ہمارا آپنا ہومو سیپئینز کا ارتقا جو صرف 2 سے 3 لاکھ سال پرانی بات ہے
19/06/2024
خلا کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ وہاں جراثیم اور وائرس نہ ہونے کے باعث بیمار ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے، لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں اور خلائی مہمات پر جانے والے اکثر خلاباز، خلا میں قیام اورخلائی سفر کے دوران کئی قسم کے انفکشنز میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
سائنس دانوں کا خیال تھا کہ کشش ثقل کی کمی یا اس کی عدم موجودگی سے خلابازوں کے جسم کا مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہےجس کی وجہ سے ان میں سے کئی خلا میں مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔لیکن خلا میں جسم کا مدافعتی نظام کیوں کمزور پڑ جاتا ہے ؟اس کا میکنیزم کیا ہے ؟اس بارے میں وہ واضح نہیں تھے ۔
تاہم حال ہی میں کینیڈا کی اسپیس ایجنسی کے تحت، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ساڑھے چار سے ساڑھے چھ ماہ گزارنے والے چودہ خلا بازوں پر کی جانے والی ایک سائنسی تحقیق نےانہیں اس سوال کاممکنہ جواب حاصل کرنے میں مدددی کہ جیسے ہی انسان زمین کی کشش ثقل سے آزاد ہو کر خلا میں داخل ہوتا ہے تو اس کے خون کے سفید خلیوں میں موجود ایک اہم جین لوکو سائٹس(leukocytes) کی تعداد تیزی سے کم ہو جاتی ہے۔
آپ نے یہ تو سنا ہو گا کہ خون کے سفید خلیے بیماریوں کے خلاف ہمارا دفاع کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ لوکوسائٹس جین ہی ہے۔ یہ جین ضرورت کے وقت اینٹی باڈیز تیار کرتا ہے جو انفیکشن کے جراثیم اور وائرس کے حملوں کے مقابلے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں ۔ لیکن یہ جین خلا میں اپنا کام کیسے کرتا ہے ؟ اس بارے میں مزید بات کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ خلا میں یہ مخصوص جراثیم یا وائرس کہاں سے آتے ہیں ؟
کیا خلا میں جراثیم اور وائرس موجود ہیں؟
سائنس دان اس کا جواب عمومی طور پر نفی میں دیتے ہیں۔
خلائی مہم پر جانے سے قبل ہرممکن یہ کوشش کی جاتی ہے کہ خلاباز مکمل طور پر صحت مند ہوں۔ پرواز سے قبل انہیں کچھ عرصے کے لیے قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ بہترین صحت کے ساتھ خلائی سفر پر روانہ ہوں اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر محفوظ ماحول میں اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ لیکن اس کے باوجود بہت سے خلاباز گاہے بگاہے انفکشنز میں کیوں مبتلا ہوجاتے ہیں؟
سائنس دان کہتے ہیں کہ خلا میں جراثیم اور وائرس موجود نہیں ہوتے۔ انہیں خلاباز اپنے ساتھ خلا میں لے جاتے ہیں۔ اصل میں ہوتا یہ ہے کہ ہر انسان کے جسم میں لاتعداد جراثیم اور وائرس ہر وقت موجود رہتے ہیں لیکن وہ یا تو غیر فعال ہوتے ہیں یا جسم کے مدافعتی نظام کے مقابلےمیں اس قدر کمزور ہوتے ہیں کہ سر نہیں اٹھا سکتے۔ لیکن جیسے ہی خلا میں انسان کا مدافعتی نظام کمزور پڑتا ہے وہ غالب آ جاتے ہیں،،
18/06/2024
بہت سارے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کائنات کا آخری کنارہ کہاں پر ہوگا۔ اسکا جواب بہت سادہ اور آسان ہے بس ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ دیکھیں کائنات آج سے 13.8 بیلین سال پہلے ایک عظیم پھیلاؤ کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی۔ یہ پھیلاؤ اس قدر تیز رفتاری کے ساتھ ہوا تھا کہ ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں کائنات ہمارے نظام شمسی جتنی پھیل چکی تھی۔ وقت کے ساتھ یہ رفتار سست ہوتی چلی گئی اور آج کائنات تقریباً روشنی کے رفتار جتنی تیزی کے ساتھ ہر لمحہ چاروں اور پھیلتی چلی جارہی ہے۔ کائنات کا کوئی کنارا نہیں ہے اور نا ہی کوئی مرکز۔ چونکہ ہم زمین سے دوربینوں کے ذریعے چاروں اور قابل مشاہدہ کائنات کا مشاہدہ کرتے ہیں اسلئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قابل مشاہدہ کائنات جوکہ (5٪) بتائی جاتی ہے اسکا مرکز زمین ہے لیکن وہی اگر زمین سے 40 نوری سال کے فاصلے پر زمین جیسے کسی سیارے پر کوئی مخلوق موجود ہوئی اور انہوں نے کائنات کا مشاہدہ اپنے دوربینوں سے کیا تو انکے لئے کائنات کا مرکز انکا ہی سیارہ ہوگا۔
14/06/2024
مریخ سے زمین تک!!
زمین پر ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ایسے شہابیے گرتے رہتے ہیں جو اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ فضا میں رگڑ کھانے کے باوجود زمین کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں۔ جبکہ وہ شہابیے جنکا وزن 10 گرام سے بھی کم ہو، اُنکی تعداد کروڑوں میں ہے۔ یہ شہابیے زیادہ تر نظامِ شمسی میں مریخ اور مشتری کے بیچ موجود ایک علاقے "ایسٹرائیڈ بیلٹ" سے آتے ہیں۔ایسٹرائیڈ بیلٹ مریخ اور مشتری کے درمیان وہ علاقہ ہے جہاں کروڑوں کی تعداد میں بڑے چھوٹے شہابیے موجود ہیں۔ مگر کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نظامِ شمسی کے مختلف سیاروں پر یا اُنکے چاندوں پر جب کوئی بڑا شہابِ ثاقب گرتا ہے تو انکی سطح سے کچھ ٹکڑے خلا میں بکھر جاتے ہیں۔ اور پھر یہ کروڑوں میلوں کی مسافت طے کر کے زمین پر آ گرتے ہیں۔
ایسا ہی کچھ مریخ کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب مریخ پر بڑے شہابِ ثاقب گرتے ہیں تو اس سے مریخ کی سطح کا معمولی سا حصہ ، پتھر، یا چٹان کا ٹکڑا تیزی سے مریخ کی گریوٹی سے نکل کر خلا میں نکل جاتا ہے اور سفر کرتے کرتے زمین پر آ گرتا ہے۔ مریخ سے نکلے یہ چٹانوں کے ٹکڑے جو شہابیوں کی شکل میں ہوتے ہیں زمین پر کئی جگہوں پر گرتے ہیں جن میں خاص طور پر انٹارکٹیکا اہم ہے۔ کیونکہ وہاں پر انہیں ڈھونڈنا قدرے آسان ہے مگر بالعموم یہ زمین پر ہر جگہ گرتے ہیں۔
اب تک تقریباً 277 ایسے شہابیوں کی شناخت کی جا چکی ہے کہ یہ مریخ سے زمین پر آئے ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑا شہابیہ افریقہ کے ملک مالی میں 2021 میں گرا۔ اس شہابیے کا وزن تقریباً 14.5 کلو گرام یے۔
مگر ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہ شہابیے مریخ سے آئے ہیں؟ اسکا جواب ہے انکی اندر موجود عناصر اور انکے آئسوٹوپس کی مدد سے۔
مریخ تک اب تک کئی روبوٹک مشنز بھیجے جا چکے ہیں اور مریخ کے گرد مدار میں ناسا کے سپیس کرافٹ بھی موجود ہیں۔ یہ سب مریخ کی سطح اور اِسکی چٹانوں کی ساخت اور ان میں موجود عناصر اور اُنکے آئسوٹوپس کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ مریخ کی فضا کا بھی جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ سو اگر ہم زمین پر گرنے والے شہابیوں کا تجزیہ کریں اور ان میں وہی عناصر اور اُسی طرح کی کمپوزیشن ہو جو مریخ کی چٹانوں کی ہے تو ہم بہتر امکان کے ساتھ بتا سکتے ہیں کہ یہ مریخ سے آئے ہیں۔
مریخ سے آئے یہ مہمان سائنسدانوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ کیونکہ انکے تجزے سے وہ جان سکتے ہیں کہ کیا مریخ پر ماضی میں زندگی موجود تھی اور کیا اب بھی کسی شکل میں مریخ پر کوئی زندگی کسی شکل میں موجود ہے یا نہیں؟
گو کچھ شہابیوں میں مریخ پر ماضی میں زندگی کے حوالے سے آثار ملے ہیں مگر یہاں مسئلہ یہ ہے کہ یہ شہابیے کئی ہزار سال پرانے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ زمین پر گرنے کے بعد یا زمین کی فضا سے گزرتے ہوئے ان میں کوئی زمینی مائیکروب یا کوئی چھوٹے کیڑے وغیرہ داخل ہو چکے ہوں اور پھر یہ کئی ہزار سال گزرنے کے بعد فوسل کی شکل اختیار کر گئے ہوں۔ لہذا حتمی طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان شہابیوں میں موجود ماضی میں زندگی کے آثار مریخ کی زندگی کے ہیں یا زمین کی زندگی کے۔ یہی وجہ ہے کہ 2021 میں ناسا نے مریخ پر پروزیرورینس روور بھیجی ہے جو وہاں کی چٹانوں اور سطح کے تجزیے کے ساتھ ساتھ وہاں کی سطح کے کئی سیمپل بھی اکٹھے کر رہی ہے۔ جنہیں مستقبل کے کسی ممکنہ مشن میں زمین پر واپس لایا جائے گا اور اِنکا بہتر طور پر تجزیہ کیا جا سکے گا۔
Followe 👍
13/06/2024
یہ خبر اگر آپ کی نظر سے گزری ہے تو جان لیجیے کہ ایسی خبروں کا حقیقی چہرہ کچھ اور ہوتا ہے لیکن انگریزی کی محدود سمجھ رکھنے والے لوگ جب ترجمہ کریں گے تو ایسی سنسنی ہی دیکھنے کو ملے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ مریخ پر موجود ناسا کی Curiosity Rover پر لگے Radiation Assessment Detector کیمرہ نے یہ شمسی طوفان ریکارڈ کیا۔ اس شمسی طوفان میں انتہائی تابکار پارٹیکل موجود تھے کہ اگر ایک انسان وہاں کھڑا ہوتا تو 30 بار ایکسرے کروانے کے برابر اس کو ریڈی ایشن ملتی (8100 microgray).
ایسی تابکاری میں انسان زندہ نہیں رہ سکتا اس لیے یہ مشن انسان کے وہاں پر جانے سے پہلے انتہائی اہم ڈیٹا حاصل کررہے ہیں تاکہ وہاں پر انسانی ٹھکانہ کے لیے مناسب انتظام کیا جا سکے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
Peshawar