Abdur Rahman shah
وصال، ہجر، وفا، فکر، درد، مجبوری
ذرا سی عمر میں کتنے زمانے دیکھے ہیں
21/03/2023
ایک بار ضرور دیکھیں شکریہ
*وہ اینٹوں کی وکٹیں وہ ٹوٹا سا بَلّا.؟*
*وہ گلیوں کی رونق وہ اپنا "مُحلہ".؟*
*وہ جیبوں میں سِکّے مچاتے تھے شور.؟*
*امیری کے دن وہ ، وہ مٹی کا گلّا.؟*
*اے "بچپن" بتا تو کہاں کھو گیا.؟.💔*
*یا کہہ دے کہ اب تو "بڑا" ہو گیا.؟✨*
کچھ ایسا ہو یہ شام ڈھلے___!!!!
کوئی لے کے مجھکو ساتھ چلے____!!!
کوئی بیٹھے میرے پہلو میں___!!!!
میرے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ دھرے____!!!
اور پونچھ کے آنسو آنکھوں سے___!!؛
وہ دھیرے سے یہ بات کہے___!!!!
یوں تنہا چلنا ٹھیک نہیں___!!!!
چلو ہم بھی تمھارے ساتھ چلیں___!!!!🥀
یہ واقعہ حیران کن بھی ہے اور دماغ کو گرفت میں بھی لے لیتا ہے‘
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا
’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگے تو کیا مانگے؟‘‘
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
’’ صحت‘‘۔
میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں گنگ ہو کر رہ گیا‘
صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جتنی محبت
اور
منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے نہیں کی-
‘ ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے
‘ ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔
یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں‘
مثلا
ً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارے دل کو کمزور کر دیتے ہیں
مگر
ہم جب تیز چلتے ہیں‘
جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘
ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘
یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور
یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘
مثلاً
دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر
قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘
مثلاً گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے‘
ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔
یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑے ہوتے ہیں‘ یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں
‘ سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘
مثلاً ہمارا جگر جسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے
‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے
‘ سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘
اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘
آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں
‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں جب کہ ہمارے بدن میں ایسے ہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔
ہم روزانہ سوتے ہیں‘
ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘
ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا‘
صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی
مگر
جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘
ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘
ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاوں کی انگلیوں تک صحت کا تخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے
‘ ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔
یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا
‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں
‘ دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں‘
ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسو کے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں
‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘
ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘
دنیا کے سیکڑوں‘ ہزاروں امراء آنسو کے برابر اس قطرے کے لیے کروڑوں ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں‘
لوگ صحت مند گردے کے لیے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہیں‘
آنکھوں کا قرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘
دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘
آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لیے لاکھوں روپے دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘
دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔
گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘
انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے
‘ قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘
دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے‘
آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے‘
شوگر‘
کولیسٹرول
اور
بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں
اور
آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کر پھریں گے مگر آپ کو شفا نہیں ملے گی‘
منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں‘
ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔
ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر
ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں‘
ہم اس عظیم مہربانی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے‘
ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں
‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے‘
ہم سیدھا چل سکتے ہیں‘
دوڑ لگا سکتے ہیں‘
جھک سکتے ہیں
اور
ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں
‘ ہم آنکھوں سے دیکھ‘
کانوں سے سن‘
ہاتھوں سے چھو‘
ناک سے سونگھ
اور منہ سے چکھ سکتے ہیں
تو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل‘
اس کے کرم کے قرض دار ہیں
اور
ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے
کیونکہ
صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘
ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں کر سکتے۔
یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔
اگر آپ نے شکر ادا نہیں کیا تو جلدی شکر ادا کرلیں۔...
*دکھ دے کر_________ سوال کرتے ہو 😊🖤*
*تم بھی غالب _______! کمال کرتے ہو 🥲🖤*
*دیکھ کر_______ پوچھ لیا حال میرا 🤗💔*
*چلو کچھ تو ________خیال کرتے ہو ❤😊*
*شہر دل میں____ یہ اُداسیاں کیسی.!!!*____**🥲❤
*یہ بھی___ مجھ سے سوال کرتے ہو.!!!* ____**😥❤
*مرنا چاہیں تو______ مر نہیں سکتے.!!!*____**🥺💔
*تم بھی_______ جینا مُحال کرتے ہو.!!!*____**😥❤
*اب کس کس کی مثال دوں__ تم کو.!!!*____**🙂❤
*ہر ستـم بـے مثـال ________کرتے ہو.!!!*__🙂💔🖤
میں روز تجھ سے____تو روز مجھ سے
ملا کرے گا___________یہ طے ہوا تھا
نہ کوئی رستہ_______نہ موڑ ہم کو
جدا کرے گا________یہ طے ہوا تھا
زمیں کا کوئی______بشر نہ اپنی
رفاقتوں کو_______مٹا سکے گا
کہ جب بھی ہم کو____جدا کرے گا
خدا کرے گا________یہ طے ہوا تھا
کسی بات پر ہم______جھگڑ پڑے تو
صلح کی خاطر______اے میرے ہمدم
ذرا سا میں بھی______ذرا سا تو بھی
جھکا کرے گا_________یہ طے ہوا تھا
🥀کسی کو نفرت🥀_____🥀 ہے مجھ سے،🔥
❤اور کوئی پیار🦋_____🦋 کر کے بیٹھا ہے،😍
😍کسی کو یقین🔥_____🔥 نہیں مجھ پہ،😊
🥀اور کوئی اعتبار کر😍____😍 کے بیٹھا ہے،🥰
🦋کتنی عجیب🥀______🥀 ہے نہ دنیا،🤐
👈💔کوئی ملنا_❤____❤ نہیں چاہتا،😏
🙊اور کوئی انتظار کرنے بیٹھا ہے،💞
په ښــــارونو کې غم زیات دی کليوالې
نور درځمه، زړه مـــې مات دی کلـيوالې
اوس شـــــپېلۍ درپسې نه شم غږولی
د کور څنګ ته مو جـــومات دی کليوالې
دا بـه تېر شي دا به هېر
شي دا مې واوره!!!
تـه مغروره زه مجبوره تـر قیامته کیدای نشـي:
خيالونه ډير دي په کوم خیال باندې غزل اوليکم
په جنازو په ړنګ کورو يا ئي په اوربل اوليکم
*جس دیس میں آٹے چینی کا*
*بحران فلک تک جا پُہنچے*
*جس دیس میں بجلی پانی کا*
*فقدان حَلق تک جا پُہنچے*
*جس دیس کی کورٹ کچہری میں*
*انصاف ٹکوں پر بکتا ہو*
*جس دیس کا منشی قاضی بھی*
*مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو*
*جس دیس میں جاں کے رکھوالے*
*خود جانیں لیں معصوموں کی*
*جس دیس میں حاکم ظالم ہوں*
*سسکی نہ سنیں مجبوروں کی*
*جس دیس کے عادل بہرے ہوں*
*آہیں نہ سنیں معصوموں کی*
*جس دیس کی گلیوں کوچوں میں*
*ہر سمت فحاشی پھیلی ہو*
*جس دیس کے ہر چوراہے پر*
*دو چار بھکاری پھرتے ہوں*
*جس دیس میں غربت ماؤں سے*
*بچے نیلام کراتی ہو*
*جس دیس کے عہدیداروں سے*
*عہدے نہ سنبھالے جاتے ہوں*
*جس دیس کے سادہ لوح انساں*
*وعدوں پہ ہی ٹالے جاتے ہوں*
*اس دیس کے ہر اک لیڈر پر*
*سوال اٹھانا واجب ہے*
*اس دیس کے ہر اک حاکم کو*
*سولی پہ چڑھانا واجب ہے*
شوباز شریف نے کہا تھا
*میں تاریخ کو پلٹ دوں گا*
جب میں نے تاریخ
*(-ت-ا-ر-ی-خ-)* کو پلٹ کر دیکھا تو " خیرات " نکلا😂
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Peshawar