Abdul Hadi
Online Earning
ملک پور کا قیامت خیز سانحہ: جب ’ان اسٹاپ ایبل‘ موت نے فیصل آباد کو ’مِنی بھوپال‘ بنا دیا! - بلال شوکت آزاد
2010 میں ہالی وڈ کی ایک فلم آئی تھی، "Unstoppable" (ان اسٹاپ ایبل)۔ یہ فلم ایک حقیقی واقعے پر مبنی تھی جس میں ایک گڈز ٹرین (مال بردار گاڑی)، انسانی غلطی کی وجہ سے بغیر ڈرائیور کے، فل تھروٹل (Full Speed) پر پنسلوانیا کے شہروں کی طرف دوڑ پڑتی ہے۔
اس ٹرین کے ڈبوں میں عام سامان نہیں تھا، بلکہ اس میں انتہائی خطرناک کیمیکلز، جن میں "مولٹن فینول" (Molten Phenol) اور دیگر آتش گیر مادہ بھرا ہوا تھا، موجود تھے۔
یہ ٹرین ایک چلتا پھرتا ایٹم بم بن چکی تھی جو اگر کسی آبادی والے علاقے میں ڈی-ریل (Derail) ہو جاتی تو لاکھوں جانیں جاتیں۔
لیکن وہاں کیا ہوا؟
وہاں کا "سسٹم" حرکت میں آیا۔ وہاں کی ریلوے انتظامیہ، وہاں کے سیفٹی ماہرین، وہاں کی پولیس اور وہاں کے عام شہریوں نے مل کر اپنی جان پر کھیل کر اس "ان اسٹاپ ایبل" موت کو روکا۔
انہوں نے یہ نہیں کہا کہ
"جو قسمت میں لکھا تھا وہ ہوگا"،
انہوں نے یہ نہیں کہا کہ
"یہ اللہ کی مرضی تھی"۔
انہوں نے سائنس، ٹیکنالوجی، اور "رسک مینجمنٹ" (Risk Management) کا استعمال کرتے ہوئے اس تباہی کا راستہ روکا۔
یہ ایک ترقی یافتہ قوم کا رویہ تھا جہاں انسانی جان کی قیمت "کارپوریٹ منافع" سے زیادہ تھی۔
مگر آج، جب میں قلم اٹھا رہا ہوں، تو میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے کیونکہ میرے سامنے اسکرین پر کوئی فلم نہیں چل رہی، بلکہ میرے اپنے ملک، پاکستان کے شہر فیصل آباد (ملک پور) کی وہ لرزہ خیز حقیقت ہے جہاں "موت کی ٹرین" کو روکا نہیں گیا، بلکہ اسے آبادی کے عین درمیان لا کر دھماکے سے اڑا دیا گیا۔
کل صبحِ کاذب کے وقت، جب ملک پور کے مکین ابھی اپنی نیند پوری کر رہے تھے، وہاں مبینہ طور پر ایک غیر قانونی، رہائشی علاقے میں قائم "گلیو" (Glue) بنانے والی فیکٹری کے بوائلرز پھٹنے سے جو قیامت برپا ہوئی، وہ کوئی "حادثہ" (Accident) نہیں تھا؛ وہ ایک منظم، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا "قتلِ عام" تھا۔
مبینہ طور پر سو (100) کے قریب لاشیں، درجنوں منہدم گھر، فضا میں پھیلا زہریلا دھواں اور کیمیکلز کی بو اور ملبے تلے دبی انسانیت, یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ہاں "ان اسٹاپ ایبل" صرف موت ہے، اور اسے روکنے والا "سسٹم" خود اس ٹرین کا ڈرائیور بنا بیٹھا ہے۔
فیصل آباد کے اس سانحے کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کے اوراق الٹ کر 1984 کے بھارت جانا ہوگا، جہاں "بھوپال گیس سانحہ" پیش آیا تھا۔
یونین کاربائیڈ کی فیکٹری سے "متھائل آئسوسائینیٹ" (Methyl Isocyanate) گیس لیک ہوئی اور راتوں رات ہزاروں لوگ اپنی نیند میں ہی ابدی نیند سو گئے۔
وہاں بھی یہی ہوا تھا, فیکٹری انتظامیہ نے چھوٹے چھوٹے "وارننگ سائنز" (Warning Signs) کو نظر انداز کیا تھا، سیفٹی سسٹمز کو غیر فعال کیا تھا، اور لاگت بچانے کے لیے انسانی جانوں کو داؤ پر لگایا تھا۔
فیصل آباد کا یہ سانحہ، بھوپال کا ایک "منی ورژن" (Mini Version) ہے۔
اہلِ علاقہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ دھماکے سے کئی دن پہلے، بلکہ مہینوں سے فضا میں "گلیو" اور کیمیکلز کی شدید بو پھیلی رہتی تھی۔
یہ بو کیا تھی؟
یہ وہ "وسل" (Whistle) تھی جو وہ بوائلرز پھٹنے سے پہلے بجا رہے تھے، یہ وہ "الارم" تھا جو قدرت دے رہی تھی کہ یہاں کچھ بہت برا ہونے والا ہے۔
لیکن ہمارے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (EPA)، ہماری لیبر ڈیپارٹمنٹ، اور ہماری ضلعی انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔
کیوں؟
کیونکہ یہاں انسانی جان کی قیمت اس "لفافے" سے کم ہے جو فیکٹری کا مالک ہر مہینے "کسی نا کسی عہدیدار" کی جیب میں ڈالتا ہوگا۔
بھوپال میں گیس لیک ہوئی تھی، یہاں بوائلر پھٹے ہیں اور کیمیکل پھیلا ہے, نتیجہ دونوں کا ایک ہی ہے: غریب، بے گناہ عوام کا قتل۔
میں یہ سب کوئی جذباتی صحافی بن کر نہیں لکھ رہا، بلکہ ایک "ہیلتھ سیفٹی انوائرنمنٹ" (HSE) سرٹیفائیڈ پروفیشنل کے طور پر لکھ رہا ہوں جس نے موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
مجھے 2010 کی وہ ہولناک رات آج بھی یاد ہے جب میں فاطمہ فرٹیلائزر میں ڈیوٹی پر تھا۔ رات کا وقت تھا، اور ہم کل ملا کر صرف پانچ "سیفٹی آفیسرز" (دو مختلف کمپنیز اور کلائنٹ مطلب فاطمہ والوں کی سیفٹی سمیت) ڈیوٹی پر موجود تھے۔
اچانک "کیلشیم امونیم نائٹریٹ" (CAN) پلانٹ کے ایک "ٹی ٹی" (Transfer Tower) پر الیکٹرک شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی۔
جو لوگ کیمیکل انڈسٹری کو جانتے ہیں، وہ واقف ہیں کہ کھاد کی فیکٹری (Fertilizer Plant) درحقیقت ایک "ٹائم بم" ہوتی ہے۔
وہاں جابجا گیس چیمبرز، امونیا کے ٹینکس، نائٹرک ایسڈ کے پائپ لائنز اور ہائی پریشر بوائلرز کا ایک جال بچھا ہوتا ہے۔
اگر وہ آگ نہ بجھائی جاتی، تو وہ آگ صرف اس پلانٹ تک محدود نہ رہتی؛ وہ پورے کمپلیکس کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی اور تباہی کا دائرہ کئی کلومیٹرز تک پھیل جاتا۔
ہم پانچ لوگوں نے، اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر، فائر فائٹنگ گیئر پہن کر، اس آگ کے منہ میں چھلانگ لگا دی۔ ہم نے وہ جنگ لڑی جو شاید ہماری نوکری کا حصہ تھی، مگر اس رات وہ ہماری بقا کی جنگ بن گئی۔ اللہ کا کرم ہوا، ہم نے آگ پر قابو پا لیا۔
لیکن اصل المیہ آگ بجھنے کے بعد شروع ہوا۔ وہ واقعہ، جو ایک بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتا تھا، اسے ایسے دبا دیا گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ انتظامیہ نے اس "نیئر مس" (Near Miss) کو ریکارڈ پر لانے سے گریز کیا، کیونکہ اگر یہ خبر باہر نکلتی یا بین الاقوامی آڈیٹرز کو پتا چلتی، تو کمپنی کی سیفٹی ریٹنگ گر جاتی، سرٹیفیکیشنز منسوخ ہو جاتیں اور آپریشنز میں رکاوٹ آتی۔
مجھے تب پہلی بار اندازہ ہوا کہ پاکستان میں "سیفٹی" کا مطلب جان بچانا نہیں، بلکہ "حادثے کو چھپانا" ہے۔
بیرونِ ملک، ایک "نیئر مس" (ایسا حادثہ جو ہوتے ہوتے رہ جائے) پر پوری انکوائری بیٹھتی ہے، نیندیں اڑ جاتی ہیں، اور سسٹم کو ری-ڈیزائن (Re-design) کیا جاتا ہے۔
لیکن یہاں؟
یہاں جب تک سو لاشیں نہ گر جائیں، اسے "حادثہ" ہی نہیں مانا جاتا۔
فیصل آباد کا سانحہ اسی "کور اپ کلچر" (Cover-up Culture) کی تازہ ترین قسط ہے۔
اب آئیے فیصل آباد کے واقعے کی تکنیکی تفصیلات کی طرف۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ فیکٹری "گلیو" (Glue) بناتی تھی۔
گلیو بنانے کے عمل میں جو کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں، ان میں "ٹولیون" (Toluene)، "ایسیٹون" (Acetone)، اور مختلف "ریزنز" (Resins) شامل ہوتے ہیں۔
یہ تمام کیمیکلز انتہائی "آتش گیر" (Highly Flammable) اور "واولیٹائل" (Volatile) ہوتے ہیں۔
ان کے بخارات (Fumes) اگر ہوا میں ایک خاص تناسب سے جمع ہو جائیں تو ایک چھوٹی سی چنگاری بھی "ویپر کلاؤڈ ایکسپلوزن" (V***r Cloud Explosion) کا باعث بن سکتی ہے۔
موصولہ رپورٹس کے مطابق، بوائلرز پے در پے پھٹے۔
ایک بوائلر (Boiler) کبھی بھی اچانک نہیں پھٹتا۔ بوائلر ایک پریشر ویسل (Pressure Vessel) ہے۔ اس کے پھٹنے کے پیچھے ہمیشہ ایک طویل غفلت کی داستان ہوتی ہے۔
* سیفٹی والوز کی ناکامی: ہر بوائلر پر "سیفٹی ریلیف والوز" (SRVs) لگے ہوتے ہیں جو دباؤ بڑھنے پر خود بخود کھل جاتے ہیں۔ اگر بوائلر پھٹا، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ والوز یا تو خراب تھے، یا انہیں جان بوجھ کر "بائی پاس" (Bypass) یا "بلاک" کیا گیا تھا تاکہ پیداوار نہ رکے۔
* واٹر لیول فیلیئر: اگر بوائلر میں پانی کی سطح کم ہو جائے اور آگ جلتی رہے، تو دھات کمزور ہو کر پھٹ جاتی ہے۔ یہ آٹومیٹک کٹ-آف سسٹم کی ناکامی ہے۔
* کیمیکل ری ایکشن: گلیو فیکٹری میں اگر کیمیکل سٹوریج ٹینکس بوائلر کے قریب تھے (جو کہ ایسی غیر قانونی فیکٹریوں میں عام ہے کیونکہ جگہ کم ہوتی ہے)، تو بوائلر کی گرمی نے ان کیمیکلز کو بھڑکا دیا ہوگا، جس نے واپس بوائلر کو ہٹ کیا ہوگا۔
اہل علاقہ کا یہ دعویٰ کہ فیکٹری "ریزیڈنشل ایریا" میں تھی، اس پورے سانحے کی ایف آئی آر اس "زوننگ اتھارٹی" اور "ڈسٹرکٹ گورنمنٹ" کے خلاف کاٹنے کے لیے کافی ہے۔
ایک گلیو فیکٹری، جو کہ ایک "ہائی ہیزرڈ" (High Hazard) یونٹ ہے، وہ گھروں کے بیچ میں کیسے چل رہی تھی؟
کیا لوکل گوذنمنٹ اور ایف ڈی اے (FDA) اندھے تھے؟
یا نوٹوں کی چمک اور فیکٹری مالک کے اثر و رسوخ نے انہیں اندھا کر دیا تھا؟
اس وقت فیصل آباد کی انتظامیہ اور پولیس وہی کر رہی ہے جو وہ ہمیشہ کرتی ہے:
"کور اپ" (Cover-up)۔
بیانات آ رہے ہیں کہ "شارٹ سرکٹ ہوا"، "سلنڈر پھٹ گیا"، یا "قضا و قدر کا لکھا"۔
یہ جھوٹ ہے!
یہ سفید جھوٹ ہے!
سو لاشیں کسی شارٹ سرکٹ سے نہیں گرتیں۔ یہ ایک "انڈسٹریل ڈیزاسٹر" ہے جسے "حادثے" کا نام دے کر فائلوں میں دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پولیس کی اولین ترجیح ملبے تلے دبے لوگوں کو اپنی نگرانی میں نکالنا نہیں، بلکہ فیکٹری کے مالک کو فرار کروانا یا اسے "محفوظ مقام" پر منتقل کرنا ہوتی ہے تاکہ عوام کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے۔
ریسکیو 1122 کے جوان اپنی جان پر کھیل رہے ہیں، مگر ان کے پاس "کیمیکل ڈیزاسٹر" سے نمٹنے کا سامان (Hazmat Suits) ہی نہیں ہے۔ وہ سادہ وردیوں میں زہریلی گیسوں کے درمیان کام کر رہے ہیں، جو کہ بذاتِ خود ایک اور سانحہ ہے۔
ہسپتالوں میں "برن یونٹس" (Burn Units) کی کمی ایک بار پھر عیاں ہو گئی ہے۔ کیمیکل برنز (Chemical Burns) عام آگ کے زخموں سے مختلف ہوتے ہیں؛ ان کے لیے مخصوص "اینٹی ڈوٹس" اور ٹریٹمنٹ پروٹوکولز چاہیے ہوتے ہیں، جو ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ ڈاکٹرز کے پاس گلوکوز کی ڈرپس کے سوا لگانے کو کچھ نہیں، اور لوگ تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں۔
بطور ایک صحافی, لکھاری و تجزیہ نگار اور HSE پروفیشنل، میں اس سانحے کی ذمہ داری "قسمت" پر نہیں، بلکہ ان زندہ انسانوں پر ڈالتا ہوں جو اصل مجرم ہیں:
* فیکٹری مالک: جس نے رہائشی علاقے میں بارود کا ڈھیر لگایا، بوائلرز کی انسپکشن نہیں کروائی، سیفٹی سینسرز کو بائی پاس کیا، اور مزدوروں (بشمول ممکنہ چائلڈ لیبر) کو بغیر کسی حفاظتی تدابیر کے موت کے منہ میں دھکیلا۔
* بوائلر انسپکٹر: وہ افسر جس کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس بوائلر کو سالانہ چیک کرتا اور سرٹیفکیٹ دیتا۔ اگر سرٹیفکیٹ تھا، تو وہ جعلی تھا؛ اور اگر نہیں تھا، تو فیکٹری چل کیوں رہی تھی؟
* ماحولیاتی تحفظ کا محکمہ (EPA): وہ ادارہ جسے "بو" سونگھنی چاہیے تھی مگر وہ "اثر و رسوخ کے تحت مفادات" سونگھنے میں مصروف رہا۔
* ضلعی انتظامیہ و پولیس: جنہوں نے "اثر و رسوخ" کی بنیاد پر اس غیر قانونی فیکٹری کو چلنے دیا۔ وہ بھتہ لیتے رہے، اور آج وہ بھتہ "خون بہا" کی صورت میں عوام ادا کر رہے ہیں۔
فیصل آباد کی فضا میں پھیلی ہوئی گلیو کی وہ بو، اب جلی دبی ہوئی لاشوں کی بو میں تبدیل ہو چکی ہے۔
یہ بو صرف ملک پور تک محدود نہیں رہے گی؛ یہ اسلام آباد کے ایوانوں، لاہور کے سیکرٹریٹ اور ہماری عدلیہ کے بند کمروں تک جانی چاہیے۔
ہم ماضی کے ایسے واقعات کی طرح اس سانحے کو "ریکارڈ" سے غائب نہیں ہونے دیں گے۔
ہم اسے "بھوپال" کی طرح یاد رکھیں گے، لیکن ایک فرق کے ساتھ, بھوپال میں انصاف نہیں ملا تھا، لیکن یہاں ہم انصاف چھین کر لیں گے۔
اگر آج ہم خاموش رہے، اگر ہم نے اسے "اللہ کی مرضی" کہہ کر صبر کر لیا، تو یاد رکھیں، اگلا دھماکہ آپ کے محلے میں، آپ کے گھر کے ساتھ والی اس "چھوٹی سی فیکٹری" میں ہوگا جسے آپ روز نظر انداز کر کے گزر جاتے ہیں۔
یہ سو لوگ مرے نہیں ہیں، انہیں قتل کیا گیا ہے۔ اور اس قتل کا مقدمہ اس پورے کرپٹ، فرسودہ اور قاتل نظام کے خلاف درج ہونا چاہیے۔
#آزادیات
#بلال #شوکت #آزاد
21/03/2025
🤍❤️🤍
The history of 🤍🥀✍️
began with the discovery of two critical principles: The first is camera obscura image projection, the second is the discovery that some substances are visibly altered by exposure to light[2]. There are no artifacts or descriptions that indicate any attempt to capture images with light sensitive materials prior to the 18th century.
View from the Window at Le Gras 1826 or 1827, believed to be the earliest surviving camera photograph.[1] Original (left) and colorized reoriented enhancement (right).
Around 1717, Johann Heinrich Schulze used a light-sensitive slurry to capture images of cut-out letters on a bottle. However, he did not pursue making these results permanent. Around 1800, Thomas Wedgwood made the first reliably documented, although unsuccessful attempt at capturing camera images in permanent form. His experiments did produce detailed photograms, but Wedgwood and his associate Humphry Davy found no way to fix these images.
In 1826, Nicéphore Niépce first managed to fix an image that was captured with a camera, but at least eight hours or even several days of exposure in the camera were required and the earliest results were very crude. Niépce's associate Louis Daguerre went on to develop the daguerreotype process, the first publicly announced and commercially viable photographic process. The daguerreotype required only minutes of exposure in the camera, and produced clear, finely detailed results. On August 2, 1839 Daguerre demonstrated the details of the process to the Chamber of Peers in Paris. On August 19 the technical details were made public in a meeting of the Academy of Sciences and the Academy of Fine Arts in the Palace of Institute. (For granting the rights of the inventions to the public, Daguerre and Niépce were awarded generous annuities for life.)[3][4][5] When the metal based daguerreotype process was demonstrated formally to the public, the competitor approach of paper-based calotype negative
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Peshawar