Sana Ullah
کوئ شے ایک سی نہیں رہتی۔
عمر ڈھلتی ہے غم بدلتے ہیں!
30/01/2023
نوچتے رہتے ہیں سب قوم کے ناداروں کو😢
بھوک پھر بھی نہیں مٹتی میرے آقاوں کی💔
مہنگائ سے توجو ہٹانے کا سنہری موقع پاکر ایک بار پھر پشتونوں کا خون ہڑپنے میں کامیاب اخر کب تک😢ڈالر۔۔۔
19/01/2023
ایک بادشاہ نے رات کو گیدڑوں کی آوازیں سنیں تو صبح وزیروں سے پو چھا کہ رات کو یہ گیدڑ بہت شور کررہے تھے ۔۔۔
کیا وجہ ہے ؟؟
۔اس وقت کے وزیر عقل مند ہوتے تھے ۔انھوں نے کہا جناب کھانے پینے کی چیزوں کی کمی ہوگی اس لیے فریاد کررہےہیں ۔۔۔
۔تو حاکم وقت نے آرڈر دیا کہ ان کا بندوبست کیا جائے 😍۔وزیر صاحب نے کچھ مال گھر بھجوادیا اور کچھ رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیا۔۔۔۔
اگلی رات کو پھر وہیں آوازیں آئیں ۔ تو صبح بادشاہ نے وزیر سے فرمایا کہ کل آپ نے سامان نہیں بھجوایا کیا۔تو وزیر نے فوری جواب دیا کہ جی بادشاہ سلامت بھجوایا تو تھا ۔۔۔۔۔
اس پر بادشاہ نے فرمایا کہ پھر شور کیوں ؟؟؟
۔تو وزیر نے کہا جناب سردی کی وجہ سے شور کررہےہیں ۔تو بادشاہ نے آرڈر جاری کیا کہ بستروں کا انتظام کیا جائے😜😜۔۔۔
وزیر نے حسب عادت کچھ بستر گھر بھیج دیئے اور کچھ رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیے۔۔۔
جب پھر رات آئی تو بدستورآوازیں آنا شروع ہوگئیں ۔تو بادشاہ کو غصہ آیا اور اسی وقت وزیر کو طلب کیا کہ کیا بستروں کا انتظام نہیں کیا گیا۔۔۔۔
تو وزیر نے کہا کہ جناب وہ سب کچھ ہوگیا ہے تو بادشاہ نے فرمایا کہ پھر یہ شور کیوں ؟؟؟۔۔۔۔
تو وزیر نے اب بادشاہ کو تو مطمئین کرنا ہی تھا ۔اور اوکے رپورٹ بھی دینی تھی۔تو وہ باہر گیا کہ پتہ کرکے آتا ہوں ۔۔۔
وزیر جب واپس آیا تو مسکراہٹ لبوں پر سجائے آداب عرض کیا کہ بادشاہ سلامت یہ شور نہیں کررہے.....
بلکہ آپ کا شکریہ ادا کررہے ہیں ...😜😝
اور روزانہ کرتے رہیں گے۔۔۔😝👍
بادشاہ سلامت یہ سن کے بہت خوش ہوا اور وزیر کو انعام سے بھی نوازا...!!!!
اب یہی حال ہمارے ملک کا بھی ہے ۔ ملازمین و عوام مہنگائی سے پریشان ہیں ۔مگر یہاں رپورٹ سب اوکے دی جارہی ہے۔اور بادشاہ سلامت خوش ہیں...!😜🤣🤣
* وطن پرست شاعر فیض احمد فیض کی نظم آج کے دور کی بہترین عکاسی ہے*
*جس دیس میں آٹے چینی کا*
*بحران فلک تک جا پُہنچے*
*جس دیس میں بجلی پانی کا*
*فقدان حَلق تک جا پُہنچے*
*جس دیس سے ماؤں بہنوں کو*
*اغیار اٹھا کر لے جائیں*
*جس دیس سے قاتل غنڈوں کو*
*اشراف چُـھڑا کر لے جائیں*
*جس دیس کی کورٹ کچہری میں*
*انصاف ٹکوں پر بکتا ہو*
*جس دیس کا منشی قاضی بھی*
*مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو*
*جس دیس کے چپے چپے پر*
*پولیس کے ناکے ہوتے ہوں*
*جس دیس میں جاں کے رکھوالے*
*خود جانیں لیں معصوموں کی*
*جس دیس میں حاکم ظالم ہوں*
*سسکی نہ سنیں مجبوروں کی*
*جس دیس کے عادل بہرے ہوں*
*آہیں نہ سنیں معصوموں کی*
*جس دیس کی گلیوں کوچوں میں*
*ہر سمت فحاشی پھیلی ہو*
*جس دیس میں بنت حوا کی*
*چادر بھی داغ سے میلی ہو*
*جس دیس کے ہر چوراہے پر*
*دو چار بھکاری پھرتے ہوں*
*جس دیس میں روز جہازوں سے*
*امدادی تھیلے گرتے ہوں*
*جس دیس میں غربت ماؤں سے*
*بچے نیلام کراتی ہو*
*جس دیس میں دولت شرفاء سے*
*نا جائز کام کراتی ہو*
*جس دیس کے عہدیداروں سے*
*عہدے نہ سنبھالے جاتے ہوں*
*جس دیس کے سادہ لوح انساں*
*وعدوں پہ ہی ٹالے جاتے ہوں*
*اس دیس کے ہر اک لیڈر پر*
*سوال اٹھانا واجب ہے*
*اس دیس کے ہر اک حاکم کو*
*سولی پہ چڑھانا واجب ہے*
*(فیض احمد فیض)*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Peshawar