Dr-Asif DaWar
about various health problems and their solution
چھاتی کی کینسر میں دو خاص علامات پائے جاتے ہیں
1) چھاتی میں لمپ (lump) کا ہونا
2) چھاتی کی نیپل سے خون ملا پانی آنا
یہ عام طور پر دو علامات ہیں جن کے بارے میں پتہ ہونا چاہیئے ۔ تیسری بات یہ ہو سکتی ہے کہ چھاتی کی شکل تبدیل ہونے لگے یعنی چھاتی کے نیپل کا اندر چلے جانا یا پھر چھاتی چھوٹی یا بڑی ہونا شروع ہو جائے یا پھر بغل میں کوئی غدود نکل آئے اسطرح کے علامات عام طور پر ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھار کسی دوسری جگہ جیسے ہڈی میں بیماری دیکھ جائے آور وہاں سے پتہ چل جاتا ہے کہ کینسر کسی دوسری جگہ بیٹھا ہوا ہے ۔۔ آب ان سب کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہیں کہ خواتین خود اپنی چھاتی کا معائینہ کریں ۔۔ وہ آئینے میں دیکھے کہ چھاتی کی نیپل اندر تو نہیں چلی گئی ہے یا پھر چھاتی کے کسی حصے میں کوئی لمپ تو نظر نہیں آتی ہے چھاتی کی جلد کی شکل تبدیل تو نہیں ہو رہی ہے عام طور پر کینسر میں چھاتی کی جلد مالٹے کی چھلکے کی طرح ہو جاتی ہے یا پھر چھاتی کی نیپل کے دبانے سے خون تو نہیں ارہی ہے یا ہاتھوں سے محسوس کریں کہ کوئی لمپ تو محسوس نہیں ہو رہی ہے یا پھر نیپل میں ایسی زخم تو نہیں جو دوائی سے ٹھیک نہ ہو رہی ہو یہ بھی کینسر کی ایک غلامت ہے ۔ یہ بات خاص طور پر دیکھی جائے کہ اگر چھاتی میں کوئی لمپ ہے تو وہ ایک جگہ موجود ہے یا ایک جگہ سے زیادہ موجود ہیں دوسری بات جو لمپ اپ نے محسوس کی وہ جلدی جلدی بڑھ تو نہیں رہا ہے ۔۔ ہمارے معاشرے میں ایک غلط تاثر یہ ہے کہ جب دودھ پلانے والی یا خاملہ عورت کے چھاتی میں لمپ پیدا ہو جائے تو اکثر گھر کی بوڑھی عورتیں کہتی ہیں کہ یہ دودھ کی بنی لمپ ہے جو کہ بہت خطرناک بات ہے ۔ یہ بات یاد رکھیں کہ جب بھی کوئی ایسی علامات جو بیان کئے گئے ہیں کسی میں آئے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں
28/11/2022
بچوں کا سر بنانا اور اسکے نقصان
جیسے ہی آپ ماں بنیں گی آپکی امی، ساس، خالہ،
پھوپھو، تائی، چاچی اور ہر رشتہ دار خاتون آپکو ایک
مشورہ ضرور دیگی اور وہ ہے بچے کا سر کیسے بنایا جائے۔
ان مشوروں میں بچے کے سر کو آگے پیچھے سے دبانا، بچے
کے سر کے نیچے گتا، لکڑی، پلیٹ یا کوئی سخت چیز رکھنا۔
بچے(جو کہ اب بڑا ہو چکا ہوگا) کا سر ایک بار غور سے
دیکھیں۔ اسکا سر پیچھے سے سیدھا ہو گا جیسا اس
تصویر میں left میں دکھایا گیا ہے جو کہ بالکل بھی نارمل
نہیں ہے۔
سر کا اس طرح سیدھا ہوجانا Flat head syndrome
کہلاتا ہے۔ جو کہ پاکستانی ماوں کے مطابق ایک
achievement ہے۔ دراصل ایک abnormal کنڈیشن ہے۔
سر کی ایک سطح کو بالکل سیدھا کر دینا اور ہڈی کی
ساخت کو تبدیل کر دینا سراسر غلط ہے۔ flat head
syndrome کے بچوں میں
● باریکی کے کام (یعنی fine motor skills)
●زبان کا استعمال( یعنی Language development)
میں کمی آسکتی ہے۔
سب میں نہیں ہوتا لیکن ایسا ہونا ممکن ہے اور ایسے
بہت سے کیسز رپورٹ بھی ہوئے ہیں۔
تو پھر سر بنانے کیلئے کیا کرنا چاہیے؟؟
تو اسکا جواب ہے کہ بچے کو سکون سے جینے دیں۔ کچھ
بھی مت کریں۔ بچے کو کبھی کروٹ اور کبھی سیدھا
سلائیں سر کو ایک جگہ پہ fix نہ رکھیں تاکہ وہ کسی بھی
جگہ سے flat نہ ہو جائے اور سر کی ہڈی کو اپنی اصلی
شکل اختیار کرنے دیں جو کے گول ہے۔
اور سر بنانے کا مشورہ دینے والوں کا مشورہ ایک کان سے
سن کر دوسرے کان سے نکال دیں۔
17/11/2022
کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر سگریٹ واقعی میں اتنی نقصان دہ چیز ہے جتنا بتایا جاتا ہے تو زیادہ تر ڈاکٹرز خود کیوں پیتے ہیں ؟؟
اس پوسٹ سے کوئی سگریٹ پینے کو جسٹیفائی نہ کریں لیکن بات یہ ہے کہ جو سگریٹ ہوتی ہے اسے ایک قسم کا سکون ملتا ہے. اس میں نکوٹین ہوتی ہے جس سے soothing effect یعنی بندے کو آرام محسوس ہوتا ہے آور وقتی طور پر یہ اپکو ایکٹیو آور الرٹ کر بھی کر دیتی ہے آور جو میڈیکل طلباء ہوتے ہیں انکی زندگی میں بہت سٹریس آور تھکاوٹ ہوتا ہے تو اکثر لوگ انکو سنبھال نہیں کر پاتے ہیں تو وہ سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں جب ایم بی بی ایس ختم ہو جاتی ہے آور ہاؤس جاب شروع ہو جاتا ہےتو اکثر 24 24 گھنٹے کی انکی ڈیوٹیاں ہوتی ہیں جس کیلئے ضروری ہوتا کہ آپ ایکٹیو آور الرٹ ہو تو اکثر لوگ اس وجہ سے بھی سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں آور پھر ایک دفعہ اسکی عادت پڑھ جائے تو وہ بڑھتی ہی جاتی ہیں..
لیکن یاد رکھنا سگریٹ کی جو نقصانات ہے وہ پھر وقت کیساتھ اپکے زندگی کیلئے خطرناک ثابت ہو جاتی ہیں
اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ انزایٹی آور ڈیپریشن میں کیا فرق ہے ؟؟
انزایٹی یعنی بے چینی وہ کیفیت ہے جو انسان تب محسوس کرتا ہے جب کوئی خطرہ یا اندیشہ درپیش ہو جیسے اگر کسی سٹوڈنٹ کا امتحان سر پر ہے آور وہ کمرا امتحان میں داخل ہو رہا ہے تو اس وقت اسکی جو کیفیت ہوتا ہے اسکو انزایٹی کہا جاتا ہے یہ انزایٹی اسکے اندر گھبراہٹ, بے چینی, خوف محسوس کرنا, برے برے پریشانیوں والے خیالات کہ کچھ برا نہ ہو جائے آور جسمانی علامتیں جیسے دل کی دھڑکن تیز ہونا منہ خشک ہونا کبھی کبھی جسم پر کپکپی طاری ہونا سوئیاں چبنا اسطرح کے علامات اسکتے ہیں تو انزایٹی یہ ہے. آگر خدانخواستہ اس طالب علم کا امتحان فیل ہو جائے تو اب وہ جو کفیت محسوس کرے گا اسے ہم ڈیپریشن کہتے ہے تو ڈیپریشن میں بھی مختلف قسم کے علامت ہوتے ہیں جیسا کہ انسان سمجھتا ہے کہ اس کا بہت بڑا نقصان ہو گیا ہے آور کسی چیز میں اسکو مزہ نہیں آتا ہے کچھ اچھا نہیں لگتا اداسی مایوسی کی کیفیت ہوتی ہے پچھتاوا ہوتا ہے تو یہ ساری کیفیت ہوتی ہے . آب اہم بات یہ ہے کہ یہ ساری کیفیات جو میں نے بتائی انزایٹی آور ڈیپریشن والی یہ نارمل ہے اسکو ہم بیماری نہیں کہے گے . اب اسکو ہم بیماری کب کہے گے ؟؟ اسکو ہم بیماری صرف دو کیفیات میں کہتے ہیں
1) جس انسان کو انزایٹی یا ڈیپریشن ہو اگر اسکو شدید زہنی ازیت محسوس ہوتی ہو ان سے تو پھر ہم کہتے ہیں کہ اب یہ نارمل نہ رہا آب یہ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ یہ بیماری کی شکل اختیار کر گئی
2) ہم تب اسکو بیماری تصور کرتے ہیں جب یہ انزایٹی یا یہ ڈیپریشن اپکی زندگی کو کسی بھی انداز میں متاثر کرنا شروع کریں. ہماری زندگی کی مختلف پہلوؤں ہیں مثلاً ہمارا دوسرے انسانوں کیساتھ اٹھنا بیٹھنا اس پر اگر اثر پڑنا شروع ہو جائے , ہماری جو کام کرنے کی زندگی ہے یعنی ہماری روزمرہ کام کاج اس زندگی میں اگر مسائل آنا شروع ہو جائیں انسان اس قابل نہ رہے کہ اپنے کام خود صحیح طرح سے کریں اس انزایٹی ڈیپریشن کی وجہ سے تو اگر اس انداز میں زندگی کو متاثر کرتی ہے تو پھر ہم یہ کہتے ہیں کہ اب یہ نارمل نہ رہی آور بیماری کی شکل اختیار کر گئی ہے جس کو غلاج کی ضرورت ہے..
آج کل کی دور میں اکثر مائیں اپنے چھوٹے بچوں کو دودھ نہیں پلاتی ہیں آور Artificial formula milk یعنی ڈبوں والی دودھ اپنے بچوں کو پلاتی ہیں.. کیا اپکو پتہ ہے کہ آگر ماں اپنے بچے کو دودھ پلائیں تو اسے ماں آور بچے کو کیا فائدہ ہوتا ہے ؟؟
ماں کے پہلے دودھ کو colostrum کہا جاتا ہے آور یہ تھوڑا گھاڑا ہوتا ہے آور انکا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جب یہ بچہ پیتا ہے تو یہ اس بچے کی پوری digestive system یعنی نظام انہضام کو صاف آور صحیح کر لیتا ہے آور بچوں کے اندر جو فائدہ مند بیکٹریا جس کو natural flora کہا جاتا ہے انکی growth میں مدد کرتا ہے اسکے علاوہ ماں کے دودھ کے اندر قوت مدافعت ہوتی ہے ان میں خاص قسم کے antibodies پائی جاتی ہیں جو بچے کو بہت سی بیماریوں سے بچاتا ہے خاص طور پر پھیپھڑوں کی بیماری آور آنتوں کی بیماری سے آور جدید ریسرچ کے مطابق جو بچے ماں کا دودھ پیتے ہیں انکی IQ زیادہ بہتر ہوتی ہیں وہ دوسرے بچوں کے مطابق زیادہ قابل آور ہوشیار ہوتے ہیں آور دودھ پلانا صرف بچوں کیلئے نہیں بلکہ ماں کیلئے بھی فائدہ مند ہوتی ہے جس میں سب سے بڑا فائدہ یہ calories استعمال کرتی ہیں تقریباً 250 سے 500 تک جس کی وجہ سے موٹاپا نہیں ہو جاتی ہیں آور دل کی مختلف بیماریوں, بلڈ پریشر آور فالج جیسی بیماریوں سے انسان کافی حد تک بچ جاتا ہے آور اسکے ساتھ بچوں کو دودھ دینے سے ماں مختلف قسم کی کینسر سے بچ جاتی ہیں جیسے کہ چھاتی کی کینسر آور اوویرئین کینسر وغیرہ اس لئے ہر ماں کو چاہئیے کہ وہ اپنے بچے کو دودھ پلائیں
چار ہارمون ہیں جن کے خارج ہونے سے انسان خوشی محسوس کرتا ہے:
1. Endorphins اینڈورفنس
2. Dopamine ڈوپامائین
3. Serotonin سیروٹونائین
4. Oxytocin آکسی ٹوسین
ہمارے اندر خوشی کا احساس ان چار ہارمونس کی وجہ سے ہوتا ہےاس لئےضروری ہے کہ ہم ان چار ہارمونس کے بارے میں جانیں
▪پہلا ہارمون اینڈورفنس ہے:
جب ہم ورزش کرتے ہیں تو ہمارا جسم درد سے نپٹنے کیلئے اینڈورفنس خارج کرتا ہے تاکہ ہم ورزش سے لطف اٹھا سکیں
اس کے علاوہ جب ہم کامیڈی دیکھتے ہیں، لطیفے پڑھتے ہیں اس وقت بھی یہ ہارمون ہمارے جسم میں پیدا ہوتا
اس لیئے خوشی پیدا کرنے والے اس ہارمون کی خوراک کیلئے ہمیں روزانہ کم از کم 20 منٹ ایکسرسائز کرنا اور کچھ لطیفے اور کامیڈی کے ویڈیوز وغیرہ دیکھنا چاہیئے
▪دوسرا ہارمون ڈوپامائین ہے:
زندگی کے سفر میں ہم بہت سے چھوٹے اور بڑے کاموں کو پورا کرتے ہیں
جب ہم کسی کام کو پورا کرتے تو ہمارا جسم ڈوپامائین خارج کرتا ہے اور اس سے ہمیں خوشی محسوس ہوتی ہے
جب آفس یا گھر میں ہمارے کام کے لئے تعریف کی جاتی تو ہم اپنے آپ کو کامیاب اور اچھا محسوس کرتے ہیں
یہ احساس ڈوپامائین کی وجہ سے ہوتا ہے
اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ عورتیں عموماً کھر کا کام کر کے خوش کیوں نہیں ہوتی اس کی وجہ یہ ہے کہ گھریلو کاموں کی کوئی تعریف نہیں کرتا۔
جب بھی ہم نیا موبائیل، گاڑی، نیا گھر، نئے کپڑے یا کچھ بھی خریدتے ہیں تب بھی ہمارے جسم سے ڈوپامائین خارج ہوتا ہے اور ہم خوش ہو جاتے ہیں
اب، آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ شاپنگ کرنے کے بعد ہم خوشی کیوں محسوس کرتے ہیں
▪تیسرا ہارمون سیروٹونائین ہے:
جب ہم دوسروں کے فائدہ کیلئے کوئی کام کرتے ہیں تو ہمارے اندر سے سیروٹونائین خارج ہوتا ہے اور خوشی کا احساس جگاتا ہے
انٹرنیٹ پر مفید معلومات فراہم کرنا، اچھی معلومات لوگوں تک پہنچانا، بلاگز
اچھے خیالات کی طرف دعوت دینا ان سبھی سے سیروٹونائین پیدا ہوتا ہے اور ہم خوشی محسوس کرتے ہیں
▪چوتھا ہارمون آکسی ٹوسین ہے:
جب ہم دوسرے انسانوں کے قریب جاتے ہیں یہ ہمارے جسم سے خارج ہوتا ہے
جب ہم اپنے دوستوں کو ہاتھ ملاتے ہیں یا گلے ملتے ہیں تو جسم اکسیٹوسین کو خارج کرتا ہے
جب ہم کسی کو اپنی باہوں میں بھر لیتے ہیں تو آکسی ٹوسین خارج ہوتا ہے اور خوشگواری کا احساس پیدا ہوتا ہے
ہمیں اینڈروفنس حاصل کرنے کے لئے ہر روز ورزش کرنا ہے
ہمیں چھوٹے چھوٹے ٹاسک پورا کر کے ڈوپا مائین حاصل کرنا ہے
دوسروں کی مدد کر کے سیروٹونائین حاصل کرنا ہے
اور فیملی یا دوستوں سے مل کر آکسی ٹوسین حاصل کرنا ہے
بچوں کیلئے:
1. موبائیل یا ویڈیو گیم کے علاوہ گراونڈ پر جسمانی کھیل کھیلنے کی ہمت افزائی کریں (اینڈروفنس)
2. چھوٹی بڑی کامیابیوں پر بچے کی تعریف کریں، اپریشیئٹ کریں (ڈوپامائین)
3. بچے کو اپنی چیزیں شیئر کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کی عادت ڈالیں
اس کے لئے آپ خود دوسروں کی مدد کر کے بتائی (سیروٹونائین)
4. اپنے بچے کو باہوں میں بھر کر پیار کریں (آکسی ٹوسین)
⚘٭ *بســــــــــم اللــــہ الرحـــــمن الرحیــــم* ٭⚘
*نیند کی کمی سے ہونے والے 16 نقصانات*
رات کی اچھی نیند کس کے دل کو نہیں بھاتی یہ نہ صرف آپ کا مزاج خوشگوار بناتی ہے بلکہ آنکھوں کے گرد بدنما سیاہ حلقے بھی پیدا نہیں ہونے دیتی مگر مناسب دورانیے تک سونا آپ کے دل وزن اور ذہن سمیت ہر چیز کی صحت کیلئے بہترین ثابت ہوتا ہے
مگر آج کے دور کی مصروفیات نے نیند کا اوسط دورانیہ 6 گھنٹوں تک پہنچا دیا ہے (طبی ماہرین 7 سے 8 گھنٹے تک سونے کا مشورہ دیتے ہیں)
لگ بھگ ہر ایک کو اچھی نیند کی اہمیت کے بارے میں علم ہے مگر ہوسکتا ہے کہ آپ کو یہ اندازہ نہ ہو کہ ایسا نہ کرنے پر آپ کے ساتھ کیا کچھ ہوسکتا ہے
یہاں ایسے ہی نقصانات بتائے جا رہے ہیں جو کم نیند لینے والے افراد پر اثرانداز ہوتے ہیں
*چڑچڑا پن*
بے خواب راتوں کے نتیجے میں چڑچڑے پن اور جذباتی پن کی شکایت عام ہوجاتی ہے یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ منفی جذبات نیند متاثر ہونے کا نتیجہ ہوتے ہیں اور اس سے دفتری کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے
*سردرد*
سائنسدان اس حوالے سے پریقین نہیں کہ نیند کی کمی سردرد کا باعث کیوں بنتی ہے مگر ایسا ہوتا ضرور ہے
بے خواب راتوں کے نتیجے میں آدھے سر کا درد ہونے لگتا ہے جبکہ خراٹے لینے والے 36 سے 58 فیصد افراد صبح سردرد کا شکار ہوتے ہیں
*موٹاپا*
کم نیند کے نتیجے میں لوگوں کا جسمانی ہارمون توازن بگڑ جاتا ہے جس کے نتیجے میں کھانے کی اشتہا خاص طور پر بہت زیادہ کیلوریز والی غذاﺅں کی خواہش پیدا ہوتی ہے اپنی خواہشات پر کنٹرول کی صلاحیت گٹ جاتی ہے اور یہ دونوں بہت خطرناک امتزاج ہیں کیونکہ اس کا نتیجہ موٹاپے کی شکل میں نکلتا ہے جبکہ تھکاوٹ کا احساس الگ ہر وقت طاری رہتا ہے
*بینائی کی کمزوری*
نیند کی کمی بینائی کی کمزوری دھندلا پن اور ایک کی جگہ دو نظر آنے کی شکل میں بھی سامنے آسکتا ہے جتنا زیادہ وقت آپ جاگ کر گزارتے ہیں اتنی ہی بینائی میں خرابی کا امکان بڑھتا ہے جبکہ واہموں کے تجربے کا امکان بڑھ جاتا ہے
*امراض قلب*
ایک تحقیق کے دوران لوگوں کو 88 گھنٹے تک سونے نہیں دیا گیا جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر اوپر گیا جو کہ کوئی زیادہ حیران کن امر نہیں تھا مگر جب ان افراد کو ہر رات صرف 4 گھنٹے تک سونے کی اجازت دی گئی تو دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ گئی جبکہ ایسے پروٹین کا ذخیرہ جسم میں ہونے لگا جو امراض قلب کا خطرہ بڑھاتا ہے
*سست ردعمل*
جب نیند پوری نہ تو کسی بھی واقعے پر ردعمل کا اظہار سست ہو جاتا ہے ایک تحقیق کے دوران لوگوں کو فوری فیصلے کرنے کے ٹاسک دیئے گئے جن میں سے کچھ کو ٹیسٹ کے دوران سونے کی اجازت دی گئی جبکہ دیگر کو نہیں جن کو سونے کا موقع ملا انہوں نے ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی دکھائی جبکہ دیگر افراد کی کارکردگی بدتر اور ردعمل بہت سست رہا
*انفیکشن*
کیا آپ کو معلوم ہے کہ جسمانی دفاعی نظام طاقتور کیسے بنایا جاسکتا ہے خاص طور پر کسی کھلے زخم پر جلد انفیکشن نہیں ہوتا؟
وہ نیند ہے اگر آپ نیند کی کمی کے شکار ہو یہاں تک کہ ایک رات کی کمی بھی جراثیموں کے خلاف جسم کے قدرتی دفاع پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے
*توجہ کی صلاحیت متاثر ہونا*
کیا پڑھتے یا سنتے ہوئے توجہ مرکوز کرنے میں مشکل کا سامنا ہے؟
کسی ایسے کام کو کرنے میں جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے جس میں زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے؟
توجہ مرکوز کرکے ہونے والے ٹاسک نیند کی کمی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ایک تحقیق کے مطابق اگر آپ ذہنی طور پر چوکنا اور ہوشیار رہنا چاہتے ہیں تو نیند پوری کرنی چاہئے ورنہ ذہن غنودگی کی کیفیت کا شکار ہوجاتا ہے اور کچھ بھی کرنا کافی مشکل ہوجاتا ہے
*ویکسینیشن کا اثر کم ہوجانا*
ویکسین عام طور پر جسم میں ایسے اینٹی باڈیز پیدا کرتی ہے جو کسی مخصوص وائرس کے خلاف تحفظ فراہم کرسکے مگر جب آپ کی نیند پوری نہ ہو جسمانی دفاعی نظام کمزور ہو جاتا ہے اور یہ اینٹی باڈیز موثر طریقہ سے کام نہیں کرپاتیں
*بولنے میں مشکلات*
نیند کی شدید کمی آپ کو ہکلانے یا بولتے ہوئے مشکلات کا شکار کرسکتی ہے بالکل ایسے جیسے کسی نے نشہ کر رکھا ہو ایک تحقیق کے دوران رضاکاروں کو 36 گھنٹوں تک جگا کر رکھا گیا جس کے بعد وہ کسی سے بات کرتے ہوئے الفاظ بار بار دہرانے اور ہکلانے لگے وہ اکتا دینے والے انداز سے آہستگی اور مبہم باتیں کرنے لگے یہاں تک کہ ان سے اپنے خیالات کا اظہار کرنا بھی ممکن نہیں رہا
*نزلہ زکام کے دائمی شکار*
اگر آپ ہر وقت نزلہ زکام کا شکار رہنے پر پریشان رہتے ہیں اور کہیں بھی جانے پر فلو حملہ آور ہوجاتا ہے تو اس کی ایک ممکنہ وجہ ناکافی نیند بھی ہوسکتی ہے ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ 7 گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں ان میں بیماری ہونے کا خطرہ تین گنا زیادہ ہوتا ہے
*پیٹ کے امراض*
معدے میں سوجن کے امراض نیند کی کمی کے نتیجے میں بدتر ہوجاتے ہیں سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند پیٹ کے امراض سے کافی حد تک تحفظ دیتی ہے مگر اس میں کمی خطرہ بڑھا دیتی ہے
*ذیابیطس*
نیند کے دوران ہمارا جسم میٹابولزم میں آنے والی خرابیوں کو دور کرتا ہے تاہم زیادہ وقت جاگ کر گزارنے کے نتیجے میں انسولین کی حساسیت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کا نتیجہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کی شکل میں نکلتا ہے ایک تحقیق کے مطابق نیند کے دورانیے میں اضافہ ممکنہ طور پر ذیابیطس کا خطرہ کم کرتا ہے جبکہ ایک اور تحقیق میں کم سونے کو معمول بنانے اور ذیابیطس کے خطرے کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی
*کینسر*
طبی ماہرین نے نیند اور کینسر کے درمیان تعلق کے حوالے سے تحقیق کی ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ جسمانی گھڑی کے نظام میں مداخلت سے جسمانی دفاعی نظام کمزور ہوتا ہے اور ان میں مخصوص اقسام کے کینسر خاص طور پر بریسٹ اور بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
*یاداشت کے مسائل*
درمیانی عمر میں نیند کی کمی سے دماغی ساخت میں تبدیلیاں آتی ہیں جو کہ طویل المعیاد یاداشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں جبکہ نوجوانوں میں بھی نیند کی کمی سے یاداشت خراب ہونے کے مسائل دیکھے جاسکتے ہیں ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ سوتے ہیں ان کی یاداشت بھی اچھی ہوتی ہے جبکہ ناقص نیند کے نتیجے میں دماغ میں ایسے جز کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے جو الزائمر کا خطرہ بڑھاتا ہے
*بانجھ پن*
ایک تحقیق کے مطابق مناسب نیند سے محرومی کے نتیجے میں بانجھ پن کا خطرہ کم ہوجاتا ہے خاص طور پر اگر خواتین 7 گھنٹے سے کم ہونے کی عادی ہوں تو ان میں حمل ٹھہرنے کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نیند جسمانی ہارمون نظام پر اثرانداز ہوتی ہے اور بہت کم نیند سے خواتین کا ہارمون نظام متاثر ہوتا ہے جس سے بانجھ پن کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ ایک دوسری تحقیق میں یہی بات مردوں کے بھی سامنے آئی کہ کم نیند کے نتیجے میں اولاد سے محرومی کا خدشہ بڑھ سکتا ہے خاص طور پر چھ گھنٹے سے کم نیند سے یہ خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے
مری میں سیاحوں کی اموات کیوں ہوئیں ۔۔۔۔۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ سردی سے ہوئیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ یہ اموات کاربن مونوآکسائڈ گیس کی وجہ سے ہوئیں جو کاروں کے شیشے بند کرنے سے اندر بیٹھے لوگوں کے سانس سے پیدا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ اگر سردی کا مسلہ ہوتا تو لوگ بھاگنے کی کوشش کرتے ۔۔۔ بڑے لوگ بچوں کو اپنے ساتھ لگا کر گرم کرنے کی کوشش کرتے ، جبکہ مری میں سب لوگ اپنی سیٹوں پر خاموش بیٹھے وفات پا گئے ۔۔۔۔۔ وجہ یہ ہے کہ کاربن مونو آکسائیڈ ہیٹر والی گیس کی طرح سب سے دماغ کو ماؤف کر کے شدید نیند پیدا کرتی ہے ۔۔۔۔ اور متاثرہ شخص کو پتا ہی نہیں چلتا کہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر متاثرہ لوگ کاروں کے شیشے ذرا سے کھول لیتے تو یہ حادثہ نہ ہوتا ۔۔۔۔
19/11/2021
Anorexia Nervosa
یہ ایک سئکالوجیکل بیماری ہیں جس میں انسان اپنی وزن کے معاملے میں کافی حساس ہو جاتا ہے. اس بیماری میں انسان کو لگتا ہے کہ وہ کافی موٹا نظر آ رہا ہے. بہت بار اس بیماری کا مریض ایسا بھی کرتا ہے کہ کھانے کے بعد وہ طرح طرح کی حربوں سے الٹی کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ جو کھایا وہ دوبارہ باہر نکل جائے.. عورتیں اس بیماری کا مردوں کی نسبت زیادہ شکار ہو جاتے ہیں
گول گپے
چھ دن سے ایک لڑکی اسپتال میں داخل تھی۔ اسکی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ پتہ چلا کہ چیختی ہے چلاتی ہے اور کاٹتی ہے۔
بارہ سال کی بچی ہے۔ مجھے پتہ چلا تو دیکھنے اسپتال گیا۔ بچی کی ٹانگیں اور ہاتھ باندھے ہوئے تھے اور وہ تڑپ رہی تھی۔ ڈاکٹر صاحب سے ملا تو بولے ہیسٹیریا ہے۔ باپ سے پوچھا تو کہنے لگے اس کو سایہ ہو گیا ہے۔ والدہ نے کہا اسکی پھوپھو نے جادو کروا دیا ہے۔ ۔!!!
جتنے منہ اتنی باتیں۔ میں نے بچی کے پاس جا کر اسے پیار کیا اور پانی پلایا۔ وہ بیقرار تھی۔ کہتی ہے مجھے گول گپے کھانے ہیں۔ !!!
ڈاکٹر صاحب نے منع کیا ہے کہ اس کو کوئی چیز بازار سے نہیں دینی ۔ میرا ماتھا ٹھنکا۔ میں نے پوچھا کہ بچی کی یہ حالت کب سے ہے۔ !!والدہ نے بتایا کہ چھٹیوں کے آخری بیس ایام اپنی پھوپھو کے گھر گئی تھی۔ وہاں سے جب واپس آئی ہے طبیعت ناساز ہے۔ چڑچڑی ہوگئی ہے۔ باہر نکل نکل کر بھاگتی ہے۔ کہتی ہے کہ گول گپے کھانے ہیں وہ بھی لا کر دئیے پر پسند نہیں آتے پھینک دیتی ہے۔ چیختی ہے چلاتی ہے۔
میں نے لڑکی سے تنہائی میں بات کرنے کی اجازت چاہی جو مل گئی۔میں نے بچی کے ہاتھ پاؤں کھولے اور ٹیرس پر لے گیا، اسے پانی پلایا میں نے کہا مجھے اپنا دوست سمجھو جو کچھ ہم میں بات ہوگی وہ راز رہے گی۔ میں نے قسم کھائی۔ لڑکی کو کچھ حوصلہ ہوا تو کہنے لگی ۔!!
آپ اپنی ماں کی قسم کھائیں کہ کسی کو نہیں بتائیں گے، کہنے لگی پھوپھو کے محلے میں ایک گول گپے والا ہے جس کے گول گپے مجھے بہت پسند ہیں۔
میرا کزن اور میں ہم دونوں وہ کھانے کیلئے جاتے تھے میں جب سے واپس لوٹی ہوں دل بہت بیقرار رہتا ہے اور جسم میں جیسے کچھ جل سا رہا ہے۔ میں نے اس سے اس کی پھوپھو کا نمبر لیا اور اس کو یقین دلایا کہ میں جو کچھ بھی کر سکا ضرور کروں گا۔
اگلے روز میں اس کی پھوپھو کے گھر گیا۔ رشتے دار تھے میری بہت عزت کی۔ میں نے اس کے بیٹے کے ساتھ سے بازار تک ساتھ چلنے کو کہا ۔ہم پیدل ہی شام کو گھر سے نکلے، باتوں باتوں میں نے لڑکی کے حوالے سے گول گپوں کی تعریف کی اور یوں ہم اس دکان کے کیبن میں پہنچ گئے۔
گول گپے منگوائے گئے اور کھائے بھی۔ بہت مزے دار تھے۔ الگ سا ذائقہ تھا۔ خیر میں نے کچھ پیک کروا لئیے اور ساتھ لے آیا۔ رات کو واپس شہر آیا اور وہ گول گپے ایک دوست کی لیب والے کو دیئے کہ اس کو چیک کردے۔ منشیات والے ادارے کو بھی ایک سیمپل دیا۔
اگلے دن رپورٹ آئی تو میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا،رپورٹ میں پتہ چلا کہ مصالحہ جات میں ہیروئن ملائی گئی ہے۔ میرا ایک لمحے کیلئے دم بند سا ہو گیا۔
میں نے فوراًاینٹی نارکوٹکس سے رابطہ کیا اور اس گول گپے والے کی دکان پر ریڈ کیاتو وہاں سے شراب، ہیروئن اور چرس برآمد ہوئی۔ یہ باقاعدہ ایک منشیات کا اڈہ تھا اور گول گپے والا اپنے گول گپوں میں ہیروئن گھول کر کھلا رہا تھا۔ جو لگ گئے وہ یہاں سے ہٹ نہیں سکتے تھے۔
ان کو پکڑوا کر بچی کی طرف لوٹا اور ڈاکٹر صاحب کو اعتماد میں لے کر بچی کو ترک منشیات کے ادارے میں داخل کروا کر علاج کروایا۔
یہ ایک سچا واقعہ تھا۔۔ اب آئیں اصل مسئلے پر۔۔ اور وہ یہ ہے کہ ہمارے بچوں کے ساتھ یہ کیا ہورہا ہے۔
اسکولوں کے باہر ریہڑیوں پر اور اسکول کالجوں کی کینٹینوں پر محلے میں پھرتے رہڑی والے ہمارے بچوں کے ساتھ کیا کچھ کر رہے ہیں ۔ہمارے بچے اب نشوں پر لگ چکے ہیں اور ہمیں معلوم ہی نہیں۔ ہم بحیثیت مجموعی اپنی اولادوں سے غافل ہیں۔
حکومت بے خبر ہے تو والدین اور اساتذہ کو جاگنا ہوگا۔ ان تک اپنے بچوں کو نہ جانے دیں۔ یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں ،گول گپے والاتو گول گپے بیچ جائے گا مگر ہماری پوری نسل نشہ آور بن کر تباہ ہو جائے گی۔۔!!!
جاگتے رہیں ورنہ سب کچھ سو جائے گا۔۔
مسروق بن حسبِ معمول۔
26/09/2021
ڈینگی بخار کے بڑھتے ہوئے کیسز کے حوالے سے ایک ضروری پیغام :
ڈینگی بخار خود بخود وقت کے ساتھ ٹھیک ھونے والی بیماری ہے اور اس وقت ڈینگی وائرس انفیکشن کے علاج کے لیے کوئی اینٹی وائرل Antiviral علاج دستیاب نہیں ہے۔
ڈینگی بخار میں مبتلا مریض کو کیا کرنا چاہیے:
1۔ پیراسیٹامول Panadol (پیناڈول) گولیاں ہر 6 گھنٹے بعد جسمانی درد اور تیز بخار کے لیے لیں ۔۔
2.پانی یا نمکول کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں
3۔ اگر ہر کھانے سے آدھے گھنٹے پہلے متلی محسوس ہو یا قے ہو تو موٹیلیم Motillium گولیاں یا Gravinate گریونیٹ لیں۔
4. اچھی خوراک لیں۔
کم از کم 1 ہفتہ مکمل بستر آرام۔
6۔ اسپرینAspirin ، بروفینBrufen ، پونسٹن Ponstanیا کسی دوسرے NSAIDS درد کش دوائیوں سے پرہیز کریں۔
7۔ اگر مریض کو ناک سے خون ، پاخانہ ، پیشاب یا جلد سے خون آ رہا ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔۔۔
#سب سے اہم ڈینگی وائرس مچھر کے کاٹنے سے مکمل طور پر انسانی جسم میں منتقل ہوتا ہے لہذا ہر ایک کو مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Peshawar