Waqas Ahmad

Waqas Ahmad

Share

Laboratory Technologist

08/09/2024

*اسعد بن زرارہ – سب سے پہلے انصارى*

جب آپ حق کو اس کے ساتھ آنے والے خطرات کے سبب انکار کا سامنا کرتا ہوا دیکھیں، اور قلیل موافقین کے سبب لوگوں کو اس سے روگردانی کرتا ہوا پائیں، اسی دوران آپ اپنے نفس پر قابو پاتے ہوئے اپنے آپ کو آزمائیں اور وہاں پیش قدمی کریں جہاں سے دوسرے پسپائی اختیار کرگئے تو واللہ یہ غیر معمولی عمل ہوگا۔ دس سال سے رسول اللہ ﷺ اپنے آپ کو لوگوں پر پیش کررہے تھے۔ سیکڑوں لوگوں نے اس دعوت کو سنا، بیس سے زائد قبائل تک یہ دعوت پہنچی۔ بعض نے واضح انکار کیا، بعض نے شرائط عائد کیں اور کچھ نے ظلم و تشدد کی راہ اپنائی۔ جزیرہ عرب پر ان کے زعم میں جو "خطرہ" منڈلا رہا تھا، اس سے اہلِ عرب ہر کسی کو ڈرانے اور دور رہنے کا کہہ رہے تھے۔ اسی اثنا میں، اسعد بن زرارہ (رضی اللہ عنہ) خزرج کے چھ لوگوں کے ہمراہ مکہ پہنچے۔ ادھر یہ ہستی جن سے متعلق اہلِ عرب ڈرایا کرتے تھے، ان کے پاس پہنچی۔ ”تم لوگ کون ہو؟ خزرج کے لوگ ہو؟ یعنی یہود کے حلیف؟ پھر کیوں نہ آپ حضرات بیٹھیں کہ کچھ بات چیت کی جائے؟"، انہوں نے مثبت جواب دیا۔ آپ ﷺ نے انھیں اسلام کی دعوت دی اور ان کے لیے قرآن کی تلاوت کی۔ اسعد (رضی اللہ عنہ) کھڑے ہو گئے اور اپنے لوگوں سے کہا: ”یہ تو وہی نبی معلوم ہوتے ہیں جن کا حوالہ دے کر یہودی تمہیں دھکمیاں دیتے ہیں۔ لہٰذا یہود تم پر سبقت نہ لے جائیں"۔ اس طرح انھوں نے دعوت قبول کرلی اور اپنے آباء کے رسوم و رواج، یہود کے ساتھ اتحاد اور تمام تر پروپیگنڈا کے خوف کو پسِ پشت ڈال دیا اور آنے والے تمام خطرات مول لینے کے لیے تیار ہو گئے۔ اللہ نے اس نوجوان کو کیا ہی کمال شجاعت، شعور اور ضبطِ نفس کی صلاحیت سے نوازا تھا۔ وہ انصار کی جانب سے پہلے مسلمان تھے اور وہ پورا وفد رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر چکا تھا۔ اتنا عرصہ سختی اور انکار پر صبر کرنے کے بعد آپ ﷺ کے لیے یہ آنکھوں کی ٹھنڈک تھی۔ اسعد (رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: ”ہم اپنے لوگوں کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں، ان میں جتنی نفرت اور رقابت ہے اتنی شاید کسی میں نہیں ہو گی۔ اگر آپ کے ذریعے سے وہ متحد ہو جاتے ہیں تو یقیناً آپ عظیم ترین شخص ہوں گے"۔ ایک نو مسلم نوجوان کو، جس نے ابھی اسلام قبول کیا تھا اور صرف ”لا إله إلا الله" کے متعلق جانتا تھا، یہ علم کیسے ہوا کہ یہ عقیدہ دشمنوں کو جوڑنے اور خون ریزی کو روکنے کی ایسی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ شجاعت کے اس پیکر کا اسلامی دعوت سے متعلق سیاسی شعور بے مثال معلوم ہوتا ہے۔

اسعد (رضی اللہ عنہ) واپس گئے اور اپنی قوم، یعنی خزرج تک دعوت پہنچانے کی ذمہ داری سنبھالی۔ انہی کے ذریعے دشمن قبیلے، یعنی اوس کے چند افراد بھی ایمان لے آئے۔ اگلے سال وہ بارہ افراد کے ساتھ لوٹے اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر پہلی بیعتِ عقبہ ہوئی۔ اس مرتبہ وہ مدینہ میں اپنے ساتھ مصعب بن عمیر (رضی اللہ عنہ) کو بطور سفیر بھی لے کرگئے۔ اسعد (رضی اللہ عنہ) مصعب (رضی اللہ عنہ) کے مشیر بنے اور ان کے لیے ایک مرکز قائم کیا۔ جس طرح مکہ میں دار الارقم تھا، اسی طرح مدینہ میں دار اسعد بن زرارہ تھا۔ اسعد (رضی اللہ عنہ) ان کے پاس لوگوں کو جمع کرتے اور قبائلی سرداران کو ان سے خطرات کی پروا کیے بغیر متعارف کرواتے۔ وہ مصعب (رضی اللہ عنہ) کی تمام مہمات میں ان کے ساتھ ہوتے۔ انہوں نے ہی مصعب (رضی اللہ عنہ) کو اوس کے سرداران، سعد بن معاذ (رضی اللہ عنہ) اور اسید بن حضیر (رضی اللہ عنہ) سے متعارف کروایا اور کہا: ”یہ اپنی قوم کا سردار ہے، اس کے معاملے میں اللہ سے سچائی اختیار کرنا"۔ آپ (رضی اللہ عنہ) دوسری بیعت عقبہ کے نمایاں لوگوں میں شامل تھے، جو کہ جنگ کی بیعت تھی اور بہت اہمیت کی حامل تھی۔ وہ ان 70 لوگوں میں سے سب سے کم عمر تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں انکی قوم کا نقیب بنایا۔ عقبہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے انہوں نے انصار کے وفد کو پکار کر کہا: ”اے لوگو! کیا تم اس بات سے آگاہ ہو کہ تم محمد ﷺ کے ہاتھ پر کس چیز کے لیے بیعت کر رہے ہو؟ تم ان سے تمام عرب و عجم اور جن و انس سے لڑنے کا عہد کررہے ہو"۔

بھائیو اور بہنو! کیا یہ بات قابلِ فہم ہے کہ یہ سب شجاعت کے مثالی کارنامے ایک ایسے نوجوان نے سرانجام دیے جس کی عمر ابھی 25 سال سے کم تھی۔ وہ ابھی تین سال قبل ہی اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ ہجرت کے بعد جلد ہی ان کا انتقال ہو گیا، نہ وہ بدر میں شریک ہوسکے نہ احد میں۔ البتہ ان کا عظیم الشان موقف مجسم شجاعت ہے۔ نوجوانو! تم بھی وہی کچھ کرسکتے ہو جو اسعد (رضی اللہ عنہ) نے کیا۔ تم بھی ریاست خلافت کے قیام کی خاطر جدوجہد میں شریک ہو سکتے ہو۔ تم ان سب "خطرات" کے آگے ڈٹ سکتے ہو جو کہ تمھیں اسلام کی سیاسی دعوت سے متنفر کرنے کے لیے حکام کی جانب سے پیدا کیے گئے ہیں۔ تم بھی اپنے خاندان اور اپنے اقرباء کا تعارف دعیان اسلام سے کرواتے ہوئے دعوت اپنے علاقوں تک پہنچا سکتے ہو۔ تم اپنے شباب کو اسلامی دعوت کی اعانت اور توسیع کی سعی سے مزین کرسکتے ہو، ایسے میں تمہاری شجاعت کے قصے بھی ریاست خلافت کی جامعات میں پڑھائے جائیں گے، جیسا کہ آج ہم اسعد بن زرارہ (رضی اللہ عنہ) کا تذکرہ کررہے ہیں۔ لہذا اٹھ کھڑے ہو اور جدوجہد کا آغاز کرو، تاکہ ہم سب وہ دیکھ سکیں جو اسعد بن زرارہ (رضی اللہ عنہ) دیکھنا چاہتے تھے:

”اللہ کی جانب سے مدد اور جلد آنے والی فتح"۔

12/09/2023

_Peace 🫀🤲🏻_

12/09/2023

MUSLIM WOMEN ENTERPRENEURIAL 🔵

12/09/2023
08/09/2023

MATURITY 🔖

08/09/2023

KEEP GOING ♨️

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Peshawar
2500