Pharmacists platform Balochistan
The purpose of this page is to provide a platform to the pharmacists of Balochistan۔
14/08/2024
Prof: Dr Ghulam Mustafa shahwani sab
Warmest congratulations on your PhD completion! May this accomplishment bring you joy, Pride, and new opportunities you deserve it!
10/07/2024
Only A category Pharmacist on every medical pharmacy....
01/06/2024
پی پی اے بلوچستان کے نابغہ روزگار جنرل سیکریٹری صاحب جواب در آں غزل
گزشتہ دن پی پی اے بلوچستان کے جنرل سیکریٹری کا جوش خطابت کے شوق اور ہیرو ازم سے لبریز ایک ویڈیو نظر سے گزراجو سراسر تنقید براے تنقید، غلط بیانی، اور اپنے زمہ داریوں سے حقاہق سے فرار ، پر مشتمل تھا جس کا مقصد فارماسسٹس کمیونٹی کے آنکھوں میں دھول جھونک کر گمراہ کرنا، اپنی نا اہلی کو قابلیت ثابت کرنا تھا اور اپنے کارکردگی سے توجہ ہٹانے کے خیالات سے لبریزتھا
ان کا اپنے کارکردگی کے بجاے سابقہ کابینہ کے کارکردگی پہ اٹھاے گہے سوالات کے کا جاہزہ لیا جاے تو یہ واضح جوابات سامنے آتے ہیں جو خود اس کے بیان میں ہی پوشیدہ ہیں
1۔ڈاکٹر مالک ہو یا نواب ثنا اللہ زہری یا نواب رہیسانی ان سب کا فارماسسٹس کے سروس اسٹرکچر کے لیے بناہی گہی پارلیمانی کمیٹیاں اویں نہیں بن گہی تھی بلکہ اسکے لیے سابق کابینہ نے مہینوں احتجاجی کیمپ لگاے اور درجنوں احتجاجی مظاہرے کیے تب جاکر وہ کمیٹیاں بنی تھیں لہذا انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ان سب پارلیمانی کمیٹیوں کی تشکیل کا مکمل سہرا سابقہ کابینہ کے سر بندہنا چاہیے
2 ۔ان پارلیمانی کمیٹیوں نے اپنے اجلاسوں میں فور ٹہیر سروس اسٹرکچر کا فیصلہ خود سے نہیں کیا تھا بلکہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود سابقہ کابینہ کے جانب سے زبردست وکالت کرنے کے نتیجے میں ہی ان کمیٹیوں نے فور ٹہیر کا فیصلہ کیا گیا تھا
3۔سپریم کورٹ آف پاکستان کو خود سے فارماسٹس کو سروس اسٹرکچر دینے کا خواب نہیں آیا تھا بلکہ سابقہ کابینہ نے بہت ہمت اور دلیری سے اپنے ذاتی نفع نقصان سے بالا ترہوکرخود ہی فارماسسٹس کا مقدمہ لڑا تھا اور پاکستان کے اعلیٰ ترین عدالت میں چیف سیکریٹری بلوچستان ،سیکریٹری صحت اور سیکریٹری خزانہ اور ان کے تمام قابل ترین وکیلوں کے مخالفت کے باوجود فارماسسٹس کا مقدمہ جیتا تھا
4۔مجید ارشد سیکریٹری ایس اینڈ جی اے ڈی کے سربراہی میں 4 سیکریٹریز پر مشتمل کمیٹی بھی خود سے نہیں بنی تھی بلکہ پی پی اے بلوچستان کے سابقہ کابینہ نے اپنے محنت اور کاوشوں سے بنواہی تھی
5۔اس کمیٹی کا جو تاریخی فیصلہ سامنے آیا تھا وہ بھی سابق کابینہ کے ہی مرہون منت ہے
لہذا
1۔ان تمام فیصلوں کی روشنی فورٹہیر سروس اسٹرکچر کی زیر گردش سمری شروع دن سے بیورو کریسی رکاوٹیں کھڑی کرتی رہی اور اسے نامنظور کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار سابق کابینہ نے کہی بار احتجاج کرکے اور کہی بار سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا کر ہر بار بیوروکریسی کی سازش کو نا کام بنایا۔
2۔ 2022 میں سپریم کورٹ کے آخری فیصلے نے فارماسسٹس کے فورٹہیر سروس اسٹرکچر کی منظوری کیلیے حکومت بلوچستان کو پابند کیا کہ وہ اس پہ فیصلہ کرکے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرے
3۔مزکورہ بالا فیصلے کی روشنی میں حکومت بلوچستان پابند ہے کہ وہ فارماسسٹس کو فورٹہیر کے تحت سروس اسٹرکچر دے
لیکن یہ سوال کہ پھر سابقہ کابینہ کے ہوتے ہوے انکے کاوشوں سے کیے گہے مزکورہ بالا فیصلوں پہ عمل کیوں نہیں ہوسکا؟
۔سابقہ کابینہ کے آخری دنوں تک فور ٹہیر سروس اسٹرکچر کی سمری جو سمری ڈاکٹر مالک سے لیکر ثناءاللہ زہری اور ارشد مجید کمیٹی اور سپریم کورٹ کے تمام فیصلوں پر مشتمل تھا کام جاری تھا
لیکن شومہی قسمت کہ
1۔سابقہ کابینہ کے جاتے ہی اور موجودہ پی پی اے کے طاقت میں آنے کے فورا بعد بیوروکریسی نے موجودہ کابینہ کے انتہاہی سرکردہ اراکین کے ساتھ مل کر پھر سے سیکریٹری ایس اینڈ جی اے ڈی کے سربراہی میں 4 سیکریٹریز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی اس کمیٹی نے باقاعدہ طور پہ اپنے اجلاس میں فورٹہیر سروس اسٹرکچر کو مسترد کیا
2۔اس کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں فارماسسٹس کے فورٹہیر سروس اسٹرکچر کا کچومر نکال کر گریڈ 19 اور گریڈ 18 کی چند آسامیاں تخلیق کرنے کا فیصلہ کیا گیا
3۔اس کمیٹی کے فیصلے کے عین مطابق سمری کو نہی شکل دے گہی اور وزیراعلیٰ سے اس کی منظوری لی گہی اور اس عمل کو خود ساختہ طور پہ تھری ٹہیر کا نام دیا گیا
4۔وزیر اعلی سے منظوری کے موجودہ پی پی اے کی موجودگی میں سابقہ پی پی اے کے دور میں کیے گہے تمام فیصلوں کا ستیا ناس کیا گیا۔
5۔ موجودہ کابینہ نے تھری ٹہیر کی منظوری کو سپریم کورٹ آف پاکستان لیجانے سے اجتناب کرکے حد درجہ بزدلی کا مظاہرہ کیا کیونکہ وہ بیوروکریسی کو اپنے زاتی معاملات کیوجہ سے ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے
6۔تھری ٹہیر کے منظوری پر فارماسسٹس کمیونٹی نے زبردست ری ایکشن دکھایا تو موجودہ کابینہ نے کمیونٹی کو خاموش کرنے کے لیے غیر مجاز فورم اسٹینڈنگ کمیٹی سے رجوع کیا جبکہ کمیٹی فورٹہیر سروس اسٹرکچرکی منظوری دینے یا نہ دینے کی مجاز ہی نہ تھی لہذا اسٹینڈنگ کمیٹی نے صرف سفارش کی کہ فارماسسٹس کو ارشد مجید فیصلے کے روشنی میں سروس اسٹرکچر دیا جاے یعنی اسٹینڈنگ کمیٹی نے بھی سابقہ پی پی اے کابینہ کے دور میں کیے گہے فیصلے کی توثیق کی
7۔اسٹینڈنگ کمیٹی کے سفارش کے بعد. مختلف جھوٹےشوشے چھوڑےگہے کبھی کہا گیا کہ بلوچستان اسمبلی نے مسودہ قانون پاس کیا ہے اور کبھی کہا جاتا ہے کہ اسمبلی نے ایکٹ پاس کیا ہے یہ دونوں باتیں سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔
( تنقید براے اصلاح اور تنقید براے تنقید )
1۔سابقہ کابینہ کے زمہ داران نے شروع دن سے لیکر آج تک موجودہ کابینہ پر کوہی تنقید کی ہی نہیں ہے اگر کی ہے تو صرف ان کی اصلاح اور رہنماہی کی ہے
2۔موجودہ کابینہ کو مکمل طور پہ ایسا گراونڈ اور ماحول فراہم کیا ہے کہ وہ فارماسسٹس کے لیے کوہی بہتر کام کرسکے لیکن اب تک موجودہ کابینہ کی جو کارکردگی نظر آہی ہے وہ صرف ذاتی مفادات حاصل کرنے یا پہلے سے حاصل مفادات کا تحفظ کرنے کی حد تک ہے
3۔ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ موجودہ کابینہ بالخصوص جنرل سیکرٹری صاحب نے سابق کابینہ پہ اس وقت بھی تنقید براے تنقید اور مسلسل کردار کشی کرتے رہے ہیں اور حال یہ ہے کہ اب بھی کارکردگی دکھانے کے بجاے سابقہ کابینہ پہ ہرزہ سرا ہیں ۔
( شیر بہادر جنرل سکریٹری کی عجب منطق )
صوباہی کابینہ سے فورٹہیر سروس اسٹرکچر کے منظور نہ ہونے کے پس منظر میں احساس زمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوے فرماتے ہیں کہ پروگریسویو کے ساتھی روڈوں پہ نکلے ہم اس کے ساتھ ہیں
شاید وہ یہ کہنا چاہ رہے ہوں کہ چونکہ کابینہ نے فورٹہیر سروس اسٹرکچر کی منظوری نہیں دی ہے لہذا ہم احتجاجاً روڈوں پہ نکل رہے ہیں اور پروگریسیو کے ساتھی ہمارا ساتھ دیں۔
لیکن ایسا وہ براے راست کہیں گے تو خدانخواستہ کوہی سیکشن آفیسر، کوہی ایڈیشنل سیکریٹری ، کوہی منیجنگ ڈائرکٹر یا پھر سیکریٹری صاحب ناراض ہوسکتے ہیں اور ان عالی قدر آفیسروں کی ناراضگی سے پریوکیومنٹ کمیٹی کی ممبر شپس، فارمیسی کونسل کی ممبر شپس ۔ٹراما سینٹر کا چارج، سول ہسپتال گاہینی فارمیسی کی پرچیزنگ چارج وغیرہ وغیرہ خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔۔
ناں بابا ناں
خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے ہمارے پیارے کابینہ کو
22/03/2024
کوئٹہ بلوچستان : ینگ پروگریسو پینل کے سینیئر رہنما فارماسسٹ ڈاکٹر الجبار مگسی، فارماسسٹ ڈاکٹر غلام سرور بنگلزئی، فارماسسٹ ڈاکٹر منیر آغا نے اپنے ایک مذمتی بیان میں کہا ہے کہ لاہور کے میو ہاسپٹل میں خواتین فارماسسٹ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور لاہور کے انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ذمہ داروں کو گرفتار کر کے سزا دی جائے
12/02/2024
فارماسسٹ ڈاکٹر طاہر خان کاسی ڈی ایچ او آ فس ڈیرہ مراد جمالی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرمائے اور خاندان کو صبر جمیل عطاء فرمائے آمین
27/11/2023
سینئر فارماسسٹ ڈاکٹر سید عصمت اللہ شاہ صاحب کے بڑے بھائی پر قاتلا حملے کی بھرپور بھرپور مذمت کی جاتی ہے ینگ پروگریسیو فارماسسٹ
پی پی اے بلوچستان فارماسسٹ کی نمائندگی کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔
پی پی اے بلوچستان کے لیے ایک شرم کا مقام ہے ۔ کہ اپنے فارماسسٹ کی حق میں ایک بیان جاری کر سکے۔ 🖐️
07/11/2023
*خاتون DMS بی ایم سی کی فارماسسٹ کے ساتھ ناروا سلوک کا ہم پر زور مزہمت کرتے ہیں* ،
*ینگ پروگریسو فارماسسٹس بلوچستان**
ینگ پروگریسو فارماسسٹس بلوچستان کے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ خاتون DMS بی ایم سی کا فارماسسٹ کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ قابل برداشت سے باہر ہے ۔پہلے بھی انکی کمپلین آچکی ہیں ہیں کہ وہ تمام اسٹاف کو زر خرید غلام سمجھتی ہیں انکا رویہ ایک غیر زمیدارانہ ہے ۔ فارماسٹس برادری ہر گھڑی اپنے ڈیوٹی بڑے زمیدارانہ طریقے سے سر انجام دیتے ہیں ،ان کی خدمات کو نظر انداز کرنا افسوس ناک ہے ، *آج مورخہ 06۔11۔2023 بولان میڈیکل اسپتال میں دوران ڈیوٹی خاتون ڈی ایم ایس کا اپنے زاتی گارڈ کے ساتھ فارماسسٹ ڈاکٹر منیر مینگل کے ساتھ غیر اخلاقی ، غیر تہذیبی رویے اور انکو زدوکوب کرنے کی ہم پرزور مزہمت کرتے ہیں* اسکے علاوہ ہم وزیر صحت صاحب ،سیکرٹری ہیلتھ صاحب اور بی ایم سی کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ سے خاتون DMS اور انکے زاتی گارڈ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ فارماسسٹس برادری نے ہمیشہ پر امن راستہ اختیار کیا ہے ہر دور میں فارماسسٹس برادری نے صبر اور تحمل سے کام لیا ہے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کے ہم کمزور ہیں ہمیں دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش نہیں کی جائے وگرنہ ہم احتجاج کا پورا حق رکھتے ہیں۔
*ینگ پروگریسو فارماسسٹس بلوچستان*
پی پی اے بلوچستان کو حلف اٹھائے چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ لہذا اب جلد از جلد جنرل باڈی کا اجلاس منعقد کیا جائے۔
25/10/2023
MBBS doctors cannot sell medicines. This is only Doctor of Pharmacy (Pharmacist's) Job
کیا پی پی اے، بلوچستان اس پوزیشن ہیں ہے کہ وہ
جنرل باڈی کا اجلاس طلب کرکے اپنا پپراگریس رپورٹ پیش کرسکےگی۔؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Bolan Medical Complex Hospital Quetta. Balochistan
Quetta