Mr.WOW.
you can enjoy fun and interesting videos.online work
or much more.
04/09/2023
ایک دفعہ کسی کے گھر ان کا داماد آیا ہوا تھا ۔اس کی ساس روٹیاں پکا رہی تھی تو وہ ساتھ ساتھ گنتا جارہا تھا ۔ جب۔ ساس روٹیاں پکا چکی تو اس نے پوچھا ماں جی کتنی روٹیاں ہوئیں ؟ساس نے کہا پتر مجھے کیا پتہ ۔تو اسنے کہا اچھا اکیس روٹیاں ہیں ۔ جب مائی نے گنی تو اکیس ہی تھیں ۔ ساس نے پوچھا تمہیں کیسے پتہ چلا ؟اس نے اپنی عزت بنانے کی خاطر کہا مجھے غائب کا علم ہے۔ اس کی ساس نے لوگوں کو بتانا شروع کر دیا ۔ اسی دن سردار کی گھوڑی گم ہو گئی ۔سردار کو کسی نے بتایا کہ ماسی بشیراں کا داماد آیا ہے اس کو غائب کا علم ہے ۔ وہ بتا سکتا ہے گھوڑی کدھر ہے چناںچہ سردار پہنچا ماسی بشیراں کے گھر اور اس کے داماد کو مئسلا بیان کیا۔ اس نے کہ سردار جی کل کو آپ کی گھوڑی مل جائے گی ۔ وہ ساری رات گھوڑی ڈھونڈھتا رہا جنگل سے گھوڑی مل گئی اس نے ایک درخت سے گھوڑی باندھی اور صبح جب سردار آیا تو اسے درخت کا پتہ بتا دیا ۔ سردار کو شک ہوا ۔ اس نے اس کا امتحان لینے کیلئے مٹھی میں ایک ٹڈا پکڑا اور چل پڑا ماسی کے گھر۔ اس جوائی کا عرف نام ٹڈا تھا۔ جب جٹ سردار پہنچا تو اس نے کہا بتا تو میری مٹھی میں کیا ہے ۔ اس نےتو اپنے لیے کہا (روٹیاں گن گن الیائی پائی رات پن کے کھوڑی لبھائی جان ٹڈے دی مٹھ وچ آئی ہن کی کریں گی جندڑیے) سردار نے مٹھی کھول دی اور ٹڈا اڑھ گیا سردار جوائی صاحب کے قدموں میں گر پڑا ۔ اب جو بادشاہ تھا اس کی رانی کا ہار گم ہوگیا ۔ بادشاہ نے اعلان کیا جو ہار ڈھونڈ کر دے گا۔ اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا ۔ سردار کو اعلان کا پتہ چلا تو سردار جوائی صاحب عرف ٹڈے کو لے کر چل پڑا بادشاہ کی خدمت میں بادشاہ سب کچھ سن کر بہت خوش ہوا۔ بادشاہ نے کہا بھئی بتائیے ہار کہاں ہے۔ تو اسنے رات تک کا وقت مانگا ۔ جوائی صاحب کو شاہی مہمان خانے میں الگ کمرے میں ٹھرایا گیا ۔ کمرے میں جا کر جوائی صاحب اونچی آواز میں راگ الاپنے لگے۔ کہ روٹیاں گن گن الیائی پائی رات پن کے کھوڑی لبھائی جان ٹڈے دی مٹھ وچ آئی ہن کی کریں گی جندڑیے ۔ محل کی نوکرانی جو کھانا بناتی تھی اس کا نام جندڑی تھا ۔ اس نے سن لیا وہ آئی اور اسنے کہا بابا جی آپ کو پتہ تو چل گیا ہے ہار میرے پاس ہے لہذا مجھے معاف کردیں میں ہار واپس کر دیتی ہوں ۔ جوائی صاحب بولے اس طرح کر ہار محل کی چھت پر رکھ دینا ۔ صبح بادشاہ نے پوچھا تو اس نے بتا دیا ہار چھت پر موجود ہے۔ بادشاہ نے خوش ہو کر اسے اپنا وزیر مقرر کر دیا ۔ پرانے وزیر کو بہت برا لگا اس نے سوچا کیوں نہ بادشاہ کا ہی کام تمام کر دیا جائے لہذا اس نے رات کو بادشاہ کے اوپر چھت گرانے کا پروگرام بنایا ۔ جوائی صاحب اب اس کام سے اکتا گیا تو اس نے سوچا بادشاہ سے ایسے جان نہیں چھوٹے گی کیوں نہ کچھ غلط حرکت کی جائے ۔ بادشاہ سویا ہوا تھا اس نے ٹانگوں سے پکڑ کر بادشاہ کو پلنگ سے نیچے گھسیٹ کر باہر لے آیا ۔ اتنے میں کمرے کی چھت گر گئی بادشاہ ایک بار پھر بہت خوش ہوا کہ اس نے میری جان بچائی ۔ بادشاہ نے اسے اپنے ساتھ تخت پر بٹھا لیا ۔ اب کوئی دو دن بعد پرانے وزیر نے بادشاہ کے تاج میں سانپ رکھ دیا ۔ بادشاہ کا تاج لایا جارہا تھا ۔ جوائی صاحب کو پھر سوجھی اس نے تاج کو ہاتھ مارا اور تاج وہ جا گرا اس میں سے سانپ باہر نکل آیا ۔ اب تو بادشاہ کو پورا یقین ہوگیا ۔کہ یہ شخص واقعی ہی بہت پہنچی ہوئی ہستی ہے
بادشاہ نے اسے بادشاہ بنا دیا اور خود قدموں میں بیٹھ گیا
★★ درود پاک کی فضیلت ★★
: ٭درود ایسی چیز ہے جس سے اللہ تعالیٰ سے موافقت ہوتی ہے کہ وہ خود بھی نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں تو مومن کو بھیجنے کا حکم کیا ہے۔
٭فرشتوں سے بھی موافقت ہوتی ہے کہ وہ بھی حضور نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔
٭درودشریف کا پڑھنا فرشتوں کی رحمت اور دعا کا مستحق بننے کا سبب ہے۔
٭درود پڑھنے سے دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
٭درود کا پڑھنا نبی اکرم ﷺ کی رحمت اور دعا کا سبب ہے۔
٭درود شریف کا پڑھنا نبی اکرم ﷺ کی رحمت اور دعا کا سبب ہے۔
٭ایک مرتبہ درود شریف پڑھنا دس رحمتوں‘ دس گناہوں سے بخشش اور دس درجے بلند ہونے کا سبب ہے۔
٭سومرتبہ درود پڑھنا جہنمی نفاق سے نجات کا ذریعہ ہوتا ہے۔
٭سو مرتبہ درود شریف پڑھنا سو حاجتوں کے پورے ہونے کا سبب ہوتا ہے۔
٭سو مرتبہ درود شریف پڑھنا شہیدوں کے ساتھ رہنے کا سبب ہے۔
٭سو مرتبہ درود شریف پڑھنے سے فرشتوں کے ایک ہزار درود شریف پڑھنے کا سبب ہے۔
ایک مرتبہ درود شریف پڑھنے سے ایک قیراط کے برابر ثواب ملتا ہے۔
٭درود شریف پڑھنے والے کیلئے مخلوق استغفار کرتی ہے۔
٭درود شریف پڑھنے سے گناہوں کی معافی ملتی ہے۔
٭درود شریف علم کی زکوٰۃ اور پاکیزگی ہے۔
٭غلام کی آزادی سے بھی زیادہ درود شریف کا ثواب ہے۔
٭درود شریف کا ثواب بڑے ترازو میں تولا جائے گا۔
٭درود شریف پڑھنے والا نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جنت میں داخل ہوگا۔
٭ایک درود شریف ستر رحمتوں کا سبب ہے۔
٭درود شریف نبی کریم ﷺ کی شفاعت کا سبب ہے۔
٭درود شریف قیامت کی ہولناکیوں سے حفاظت کا سبب ہے۔
٭درود شریف ترازو میں نیک علموں کو بھاری کرے گا۔
٭درود شریف عرش کے سائے میں جگہ ملنے کا سبب ہے۔
٭قیامت کے روز نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنے والا آپ ﷺ کے زیادہ سے زیادہ قریب ہوگا۔
٭درود شریف اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور خوش کرنے کا ذریعہ ہے۔
٭درود شریف حوض کوثر سیر ہوکر پینے کا سبب ہے۔
٭درود شریف میدان حشر میں سخت پیاس سے بچنے کا سبب ہے۔
٭درود شریف فرشتوں کی محبت اور مدد کا سبب ہے۔
٭درود شریف پل صراط پر ثابت قدم رہنے کا سبب ہے۔
٭درود شریف غزوات کے برابر ثواب کا سبب ہے۔
٭درود شریف پیارے سے پیارے عمل بننے کا سبب ہے۔
٭درود شریف مجلسوں کی خوبصورتی ہے۔
٭درود شریف دل کی سختی اور زنگ دور کرنے کا سبب ہے۔
٭درود شریف قیامت کے دن نبی کریم ﷺ سے ہاتھ ملانے کا سبب ہے۔
٭بھولی ہوئی بات درود شریف پڑھنے سے یاد آجاتی ہے۔✨️
طالب دعا
19/08/2023
مشہور سلطنت عثمانیہ کے ایک سلطان نے جب پرانے محلات میں سے چند ایک کو گرا کر ان کی جگہ نئے محل تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ، تو سلطان نے اپنے وزیروں ، مشیروں سے سلطنت کے سب سے زیادہ قابل اور ھنر مند انجینئر کے بارے میں استفسار کیا ، تو وزیروں ، مشیروں نے جواب دیا ، ھماری سلطنت میں صرف ایک ھی ایسا انجینئر ھے جو آپ کے معیار پر پورا اتر سکتا ھے ۔
سلطان نے اُس انجینئر کو بلوا بھیجا ، اُسے اچھی طرح سمجھایا کہ وہ اِس سے کیا کام لینا چاھتا ھے ، انجینئر نے سلطان کی خواھش اور ضرورت کو سمجھتے ھوئے محلات کو ازسر نو تعمیر کرنے کا ٹھیکہ لے کر کام شروع کر دیا ۔
کہانی میں یہاں تک تو سب کچھ عام اور مانوس دیکھائی دیتا ھے ، لیکن غیر معمولی بات یہ ھے کہ تعمیرات میں سلطان ھر چھوٹی بڑی چیز کی مکمل چھان بین کرتے ھوئے انجینئر کے ساتھ کسی سائے کی طرح رھتا تھا ۔
انجینئر کے ایک ایسے کام نے سلطان کی توجہ کھینچ لی جو اُس سے پہلے سلطنت میں کسی نے بھی نہیں کیا تھا ۔
ھوا یُوں کہ جب انجینئر نے محلات کو گِرانا شروع کیا تو اُس نے توڑ پھوڑ کیلئے جن مزدوروں سے کام لیا تھا ، محلات کی تعمیر کرتے ھُوئے انہیں ساتھ شامل نہیں کیا ۔
بلکہ اُنہیں اُن کی مزدوری دے کر فارغ کر دیا گیا ۔
جب سلطان نے یہ سب دیکھا تو انجینئر کو دربار میں بلوایا ۔
اور کہا !!!
جب تم محلات گِرانے کا کام کر رھے تھے ، اُس وقت تم نے جن مزدوروں کو استعمال کیا ،
تعمیرات میں اُن کو استعمال کیوں نہیں کیا ، تمھارے اِس اچھوتے عمل کی کیا وجہ ھے ؟
انجینئر نے مختصر سا جواب دے کر سلطان کو ششدر کر دیا ،
" حضور ، جو تخریب کے لائق ھے وہ تعمیر کے لائق نہیں ھے "
جو شخص تباہ و بربادی کرنے میں مہارت رکھتا ھے ، اُس سے تعمیر و ترقی کا کام نہیں لیا جا سکتا ۔
انسانی فطرت کی بہترین تشریح ھے کہ جو شخص تخریب کے کام میں مہارت حاصل کر لے تو پھر یقیناً اس کی جمالیاتی حس مر جاتی ھے ، وہ تعمیری کاموں کی بجائے تخریبی کاموں میں مصروف رھتا ھے اور اِسی میں اُسے لذت بھی ملتی ھے ، ایسے میں اگر اس سے تعمیری کام کروائیں گے تو اُس کے فن میں تشدد کا رنگ نمایاں ھوگا ۔
یاد رہے۔۔۔ یہ مکمل غیر سیاسی پوسٹ ہے۔۔۔۔۔
How to ti a tia
ﺳﻮال ﺗﮭﺎ کہ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ کس مذہب کے لوگ داخل کیے جائیں گے ۔ ﯾﮩﻮﺩﯼ ؛ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ یا پھر ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ؟ اس سوال کے جواب کے لئے تینوں مذاہب کے علماء کو مدعو کیا گیا ۔
مسلمانوں کی طرف سے بڑے عالم امام ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺪﮦ ۔؛
ﻋﯿﺴﺎﺋﯿﻮﮞ کی طرف سے ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﭘﺎﺩﺭﯼﺍﻭﺭﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ کی طرف سے ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﺭﺑﯽ ﮐﻮ ﺑﻼ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﺭﮐﮭﺎ گیا :
ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟؟؟
ﯾﮩﻮﺩﯼ، ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﯾﺎ پھر ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ؟۔
ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺪﮦ ﻧﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﺪﻟﻞ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ تمام ﻧﺎﻗﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﭘﺎﺩﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺭﺑﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎ ﻣﻨﮧ ﻟﯿﮑﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺌﮯ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ.
ﺁﭖ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﺨﺘﺼﺮ ، ﺟﺎﻣﻊ، معقولیت سے بھرپور ﺍﺩﺏ ﻭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ کے ساتھ رواداری ﮐﯽ ﻋﻤﺪﮦ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻤﺖ ﻭ ﺩﺍﻧﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﻣﺮﻗﻊ تھا. ان کے جواب نے سارے ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺑﮑﮭﯿﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ یہ ﺑﺎﺏ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﮔﯿﺎ.
"ﺁﭖ ﻧﮯ فرمایا:
ﺍﮔﺮ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ.اور انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں پر نبی معبوث کیا ۔
ﺍﮔﺮ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ بھی ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ. اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی مخلوق کی رہبری اور ہدائیت کے لئے نبی معبوث کیا ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠّﻪﷻﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﮨﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ،
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻮﺋﯽ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮕﺎ
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺒﯽ اکرم
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ مصطفےٰﺻﻠﯽ اللّٰہﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ نہ ﮨﯽ ﺍُﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ.*
08/11/2022
ایک دن مُلّا نصیر الدین اپنے گدھے کو گھر کی چھت پر لے گئے جب نیچے اتارنے لگے تو گدھا نیچے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
بے حد کوشش کی، مگر گدھا جوں کا توں تھا اور مسلسل بَضد تھا کہ نیچے ہر گز نہیں اترنا۔
آخر کار مُلّا تھک ہار کر خود نیچے آ گئے اور انتظار کرنے لگے کہ شاید گدھا خود نیچے اتر آئے.
تھوڑی دیر گزری تو مُلّا نے محسوس کیا کہ گدھا چھت کو لاتوں سے توڑنے کی کوشش کر رہا ہے.
مُلا پریشان ہو گئے کہ چھت تو بہت نازک ہے نہ اتنی مضبوط ہے نہ اس کی مُتحمّل ہے کہ اس کی لاتوں کو سہہ سکے مُلّا دوبارہ اوپر بھاگ کر گئے اور گدھے کو نیچے لانے کی کوشش کی لیکن گدھا اپنی ضد پر اٹکا ہوا تھا اور چھت کو توڑنے میں محو تھا مُلا آخری کوشش کرتے ہوۓ اُسے دوبارہ دھکا دے کر سیڑھیوں کی طرف لانے لگے کہ گدھے نے زور دار مُلّا کو لات ماری اور مُلا نیچے گر گئے اور پھر چھت کو توڑنے لگا۔
بالآخر چھت ٹوٹ گئی اور گدھا چھت سمیت زمین پر آ گرا.
مُلّا کافی دیر تک اس واقعہ پر غور کرتے رہے اور اس سے تین سبق اخذ کئے۔
اول: کبھی بھی گدھے کو مقام بالا پر نہیں لے جانا چاہئیے ایک تو وہ خود کا نقصان کرتا ہے۔
دوسرا: خود اس مقام کو بھی تباہ و برباد کر دیتا ہے جس کا وہ اہل نہیں۔
اور تیسرا اوپر لے جانے والے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے.
مزید اچھی پوسٹوں کیلئے فالو کریں
شکریہ
05/11/2022
ایک دفعہ سید عطا اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ}
سفر پر تھے
گجرات کے نواحی قصبہ دولت نگر سے گزر ہوا جہاں سکھوں کا گردوارا تھا۔
جب گردوارے کے دروازے کے سامنے سے شاہ جی کا تانگہ گزرا تو ایک سکھ نے ازراہِ مذاق کہا کہ شاہ جی کبھی ہمارے پاس بھی بیٹھ جایا کرو .
جب تانگہ رکا اور شاہ جی نیچے اترے تو گوروادرے میں مشعول عبادت سکھ باہر آگۓ انہوں نے شاہ جی کو خوش آمدید کہا۔
شاہ جی نے سکھوں کو کہا کہ اگر آپ اجازت دو تو میں آپ کے گوروادرے میں قرآن پڑھوں ...انھوں نے فوراً اجازت دے دی.
شاہ جی نے گوروادرے میں دا خل ہو کر جب قرآن پاک کی سورت طٰہٰ کی تلاوت اپنے مخصوص اندز میں شروع کی تو سکھ تڑپنے لگے .
یہاں تک کہ وہ سکھ بلند آواز میں کلمہ پڑھتے ہویے مسلمان ہو گۓ..
ان کا رہنما شاہ جی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کے شاہ جی
اب بس کر دیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے یہ سا رے سکھ مسلمان ہو جائیں ..
اکابرین اور بزرگوں سے بھی یہی سنا ہے کہ شاہ جی جب قرآن پاک پڑھتے تو ایسا لگتا کہ آسمانوں کی بلندیوں سے قرآن اتر رہا ہے ،
منقول..
05/11/2022
*کبھی کبھار ایسا غصہ کر لینا چاہیے🤣🤣🤣*
پرانے زمانے میں اہلِ عرب جب کوئی بستی بساتے تو وہاں ایک طرز اور ایک ہی شکل کے کچے مکان بناتے،
مٹی سے بنے گھروں کے اوپر کھجور کے پتوں سے بنی چھت جس کے نیچے ستون کے لیے بھی کھجور کے درخت کا تنا استعمال کیا جاتا ،
اسی طرح دروازے اور روشن دان بھی ایک جیسے ہوتے تھے جن کے لیے صحرائی جھاڑیوں سے الگ کی گئی شاخوں کے اوپر کجھور کے پتوں سے چادر بنا کر لگائی جاتی تھی یوں وہ ایک پردہ نما دروازے کا کام دیتا تھا،
ہر گھر کے صحن میں ایک دو کجھور کے درخت ہوتے تھے تو یوں ایک جیسے دکھائی دیتے تھے ۔
ایک دفعہ ایسی ہی بستی میں رہنے والے ایک کسان نے ایک صبح کھیتوں میں جانے سے پہلے اپنی بیوی سے کہا کہ آج شام دوسرے قبیلے کے سردار میرے ہاں مہمان ہیں تو ان کی مہمان نوازی کے لیے !!!
کھجور کا حلوہ، گندم کا ہریس، اور زیتون کے تیل میں بکری کی ران بھون کر تیار رکھنا، وہ بازار سے تمام ضروری اشیاء لے کر بیوی کے حوالے کر کے اپنی بکریاں لے کر کھیتوں کی جانب چلا گیا۔
کھجور کے پکنے کا موسم تھا، حبس اور بلا کی گرمی میں جب پیڑوں کا سایہ بھی مسافر کو راحت نہیں دیتا تھا تو وہ کسان دوپہر کے وقت کھیتوں سے واپس گھر کی جانب چل دیا، باڑے میں بکریاں باندھ کر جیسے ہی گھر میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی تو منہ لپیٹ کر چٹائی پر بے خبر سو رہی ہے اور گھر میں کسی بھی قسم کے کھانے کی خوشبو بھی نہیں آرہی تو گرمی سے بے حال اس شخص کا غصہ اپنی انتہا کو جا پہنچا،
فوراً لاٹھی اٹھائی اور پوری قوت سے بیوی کی کمر میں دے ماری اور ساتھ غصے میں ڈانٹتے ہوئے کہنے لگا اگر شام تک کھانا تیار نہ ہوا تو تمھارے لیے میرے گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
یوں غصے میں برا بھلا کہتا وہ کمرے سے باہر نکل کر پانی پینے کی غرض سے باورچی خانے میں گیا تو اس کو احساس ہوا کہ وہ تو غلطی سے اپنے پڑوسی کے گھر میں آگیا ہے اور اوپر سے اس نے پڑوسی کی بیوی کو پیٹ بھی ڈالا تھا،
پریشانی اور گھبراہٹ کے عالم میں فوراً وہاں سے بھاگا اور اپنے گھر میں گیا تو دیکھا ہر چیز بہترین طریقے سے تیار اور رقابیوں میں سجی ہوئی ہے۔
شام کو جیسے تیسے کرکے اس نے سردار کی دعوت کی اور اس کو رخصت کرنے کے بعد وہ اپنے پڑوسی کا انتظار کرنے لگا کہ وہ اپنی بیوی کی شکایت پر ابھی آئے گا اور جھگڑا کرے گا ہوسکتا ہے جرگہ بھی ہو اور مجھے سزا بھی ملے۔
خیر پڑوسی تو نہ آیا لیکن وہ اگلے چند روز ڈر کر جب بھی اپنے پڑوسی کو دیکھتا کنی کترا کر راہ بدل لیتا۔
یوں ایک ہفتہ گزر گیا پڑوسی تو نہ آیا لیکن وہ ضمیر کے ہاتھوں پشیمان ہوکر ایک دن اسی پڑوسی کے گھر چلا گیا اور باہر کھڑے ہوکر اس کو آواز دی پڑوسی باہر آیا بڑے تپاک سے ملا تو اس نے حوصلہ پا کر آہستہ آواز میں اسے ساری بات بتائی معافی مانگی۔
کہا میں تمھاری بیوی سے بھی معافی مانگنا چاہتا ہوں اور ہر طرح کی سزا کے لیے تیار ہوں، تو اس کی بات سن کر اس کا پڑوسی ہنسنے لگا اور کہنے لگا
"خدا کے بیوقوف بندے کیوں ایک غلطی کے اوپر دوسری غلطی کرنے پر تلے ہوئے ہو، میں تو پچھلے چند دنوں سے پریشان تھا کہ ایسی کون سی نیکی میں نے کی ہے جس کی وجہ سے میری بیوی یکدم بدل گئی ہے، مجھے تو اس قصے کا پتا ہی نہیں تھا اور میری بیوی بھی شاید سمجھ رہی ہے کہ وہ میں ہی تھا کیونکہ جیسے ہی میں گھر پہنچتا ہوں وہ میرے جوتے اتروا کر میرے پاؤں دھوتی ہے، پھر میرے ہاتھ دھلوا کر دستر خواں پر بٹھاتی ہے اور ہر روز لذیذ پکوان کھانے میں دیتی ہے، میری ٹانگیں دباتی ہے میرے سونے کے بعد سوتی ہے اور جاگنے سے پہلے جاگ کر قہوہ پیش کرتی ہے اور تم ہو کہ یہ سارا بھرم توڑنے پر دوڑے چلے آئے ہو،
سنو یہ کچھ دینار میری طرف سے رکھ لو اور ایسا کرو مہینے میں ایک آدھ بار ایسی غلطی کرنے آجایا کرو"🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣
31/10/2022
🤓😁🚶🏃آج کے وكیل
ایک بوڑھی عورت گواہی دینے عدالت میں پیش ہوئی تو وکیل استغاثہ نے گواہ پر جرح شروع کی۔ بڑھیا قصبے کی سب سے قدیمی مائی تھی۔اور دنیا کا سرد گرم خوب جانتی تھی۔
وکیل استغاثہ بھرپور اعتماد سے مائی کی طرف بڑھا اور اس سے پوچھا:
مائی بشیراں، کیا تم مجھے جانتی ہو؟
مائی بشیراں: ہاں قدوس۔
میں تمہیں اس وقت سے اچھِی طرح جانتی ہوں جب تم ایک بچے تھے۔ اور سچ پوچھو تو تم نے مجھے شدید مایوس کیا ہے۔ تم جھوٹ بولتے ہو۔ لڑائیاں کرواتے ہو، اپنی بیوی کو دھوکہ دیتے ہو، طوائفوں کے پاس بھی جاتے ہو ، تم لوگوں کو استعمال کر کے پھینک دیتے ہو۔ اور پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرتے نہیں تھکتے۔ تم نے سپر مارکیٹ والے کے دس ہزار ابھی تک نہیں دئے - شراب پیتے ہو ، جوا بھی کھیلتے ہو اور تمہارا خیال ہے کہ تم بہت ذہین ہو حالانکہ تمہاری کھوپڑی میں مینڈک جتنا دماغ بھی نہیں ہے۔ ہاں ہاں میں تمہیں بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔
وکیل ہکا بکا رہ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اب کیا پوچھے۔ گھبراہٹ میں اس نے وکیل دفاع کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا: مائی بشیراں تم اس شخص کو جانتی ہو؟
مائی بشیراں: اور نہیں تو کیا، جیسے میں عبدالغفور کو نہیں جانتی ؟
ارے اسے اس وقت سے جانتی ہوں جب یہ ڈائپر میں گھومتا تھا اور سارا محلہ ناک پر ہاتھ رکھ کر اس سے دور بھاگتا تھا۔ یہ یہاں کا سست ترین بندہ ہے اور ہر ایک کی برائی ہی کرتا ہے۔ اوپر سے یہ ہیروئنچی بھی ہے۔ کسی بندے سے یہ تعلقات نہیں بنا کر رکھ سکتا۔ اور شہر کا سب سے نکما اور ناکام وکیل یہی ہے۔ چار بندیوں سے اس کا افئیر چل رہا ہے۔ جن میں سے ایک تمہاری بیوی بھی ہے۔ دو بندوں سے مار کھا چکا ہے انہی باتوں پر ، ہاں اس بندے کو میں اچھی طرح جانتی ہوں۔
جج نے دونوں وکیلوں کو اپنے پاس بلایا اور آہستہ سے بولا: اگر تم دونوں احمقوں میں سے کسی نے مائی بشیراں سے یہ پوچھا کہ وہ مجھے جانتی ہے تو دونوں کو پھانسی دے دوں گا۔😜🤪😜🤪
24/10/2022
What is CSS Exam?
Introduction
Css stands for central superior service exm.
Css exm is conducted by federal public service commission (Fpsc) Islamabad for the recruitment of candidates to posts (Bs 17) in the following service under federal govt.
Commerce n trade services
Customs n excise services
District management group
Foreign service of pak
Income tax group
Information group
Military lands n contentment groups
Office management group
Pak audit n accounts service
Police service of pak
postal service group
Railways (commercial n transportation)
Parts of CSS exam
1 Written examination
2 Medical test
3 Psychological test
4 Viva vice
Eligibility criteria
Applicant must fulfill the following eligibility criteria for appearing in css exm.
Nationality criteria
The applicant must be the a citizen of pak or permanent resident of state of Jammu nd KASHMIR.
Education criteria
The applicant must have a bachelor degree with atleast 2nd division from uni of pak or Equivalent qualification from foreign uni recognized by HEC.
A candidate having 3rd division in his or her bachelor degree can only apply for the exm if he or she has secured higher division in the master degree.
Age criteria
The age limit for candidate applying for css exm is 21 to 30 years. The age limit is relaxed by two years (making 32 years is maximum age) for candidates currently serving as govt employees or belonging to recognized tribe's nd areas.
How to apply for css exam in Brief
Css take MCQs based 200 marks for screening at initial level. Passing marks 66 only. For screening test fee is 250.
The advertisement of css exm,reflecting dates, is published in all newspapers in Sept each year.
Deposit the exam fee 2200 in the nearest govt.
Treasury/ state Bank of pak or National bank of pak under the account head "CO2101 organs of state exm fee(FPSC receipt).
Fill in the online application form on the official website of FPSC nd take a print out (hard copy) of the same online form.
Dispatch the hard copy of online form along with copies of ur documents nd bank receipt to the FPSC headquarter, Islamabad.
The age of applicant for css exam
Calculated on the 31st dec of the year of applying.
10/10/2022
ایک چوہا ایک کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے سے کچھ نکال رہے ہیں،چوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے-
خوب غور سے دیکھنے پر اس نے پایا کہ وہ ایک چوهےدانی تھی-
خطرہ بھانپنے پر اس نے گھر کے پچھلے حصے میں جا کر کبوتر کو یہ بات بتائی کہ گھر میں چوهےدانی آ گئی ہے-
کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مجھے کیا؟ مجھے کون سا اس میں پھنسنا ہے؟
مایوس چوہا یہ بات مرغ کو بتانے گیا-
مرغ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ... جا بھائی یہ میرا مسئلہ نہیں ہے-
مایوس چوہے نے دیوار میں جا کر بکرے کو یہ بات بتائی ... اور بکرا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا-
اسی رات چوهےدانی میں كھٹاك کی آواز ہوئی جس میں ایک زہریلا سانپ پھنس گیا تھا-
اندھیرے میں اس کی دم کو چوہا سمجھ کر کسان کی بیوی نے اس کو نکالا اور سانپ نے اسے ڈس لیا-
طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا،
حکیم نے اسے کبوتر کا سوپ پلانے کا مشورہ دیا،
کبوتر ابھی برتن میں ابل رہا تھا
خبر سن کر کسان کے کئی رشتہ دار ملنے آ پہنچے جن کے کھانے کے انتظام کیلئے اگلے دن مرغ کو ذبح کیا گیا
کچھ دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی ... جنازہ اور موت ضیافت میں بکرا پروسنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ......
چوہا دور جا چکا تھا ... بہت دور ............
اگلی بار کوئی آپ کو اپنے مسئلے بتائے اور آپ کو لگے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو انتظار کیجئیے اور دوبارہ سوچیں .... ہم سب خطرے میں ہیں ....
سماج کا ایک عضو، ایک طبقہ، ایک شہری خطرے میں ہے تو پورا ملک خطرے میں ہے ....
ذات، مذہب اور طبقے کے دائرے سے باہر نكليے-
خود تک محدود مت رہیے- دوسروں کا احساس کیجئے 🙏
17/09/2022
☆ is very Important for your Future Job!
☆ First Impression is the Last Impression.
Get customized your Splendid CV and Cover Letter in a few hours.
We are here to make:
• International CVs
• Canadian CV
• Europass CV
• UK CV
• Saudi Arabia
• Gulf, UAE
• CV For Pakistan and inside country
• All over the World.
☆ The pricing is very affordable.
☆ We have CVs in two categories:
1. Basic
2. Advanced
Contact us for the prices of each!
Please Tap on the 'Send Message' Option below to Contact Us!
Or WhatsApp At : 03022408853
Also Available all formats shown Below:
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Rahimyar Khan