Anas Zia
I want To deliver my own thoughts to other who they want to change the mind and our society . I want to aware everybody to take step after thinking.
*جیون ساتھی کی تلاش میں کن باتوں کا خیال رکھا جائے؟*
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
*جیون ساتھی کی تلاش میں کن باتوں کا خیال رکھا جائے؟*
تمام والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی اپنے بچوں کو شادی کے بندھن میں بندھتا ہوا دیکھیں۔ اسی لیے جب ان کے بچے (خواہ وہ بیٹا ہو یا بیٹی) بالغ اور شادی لائق ہوجاتے ہیں تو بس پھر وہ اسی حوالے سے سوچتے رہتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں والدین اپنے بچوں کے جیون ساتھی کے انتخاب میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ والدین کے اپنے خواب، ان کی اپنی خواہشات اور تمنائیں ہوتی ہیں۔ اکثر اوقات تو وہ اپنے بیٹے یا اپنی بیٹی کے لیے آئیڈیل جیون ساتھی کا خاکہ بھی ذہن میں بنالیتے ہیں۔
اپنے بیٹے یا اپنی بیٹی کے لیے اچھے سے اچھے رشتوں کی تلاش کی خاطر وہ اپنی وساطت، روابط اور اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہیں، یہاں تک کہ میرج بیوروز کا رخ بھی کرتے ہیں۔ بچوں کی شادی سے متعلق درست انتخاب میں بہت زیادہ ہوم ورک، دُور اندیش سوچ، سماجی تعلقات اور تعلقاتِ عامہ کا عمل دخل شامل ہوتا ہے۔
چونکہ شادی کسی بھی شخص کی زندگی کا ایک سب سے اہم ترین موقع ہے اس لیے آخری فیصلہ لینے سے قبل سنجیدگی سے سوچ بچار کرنا بہت ضروری ہے۔ لیکن جب ان سارے مراحل سے گزر کر فیصلہ کیا جائے تو یہ ساری محنت وصول ہوجائے گی اور بدلے میں زندگی بھر کی خوشیاں مل جائیں گی۔
نصف صدی قبل زندگی کافی زیادہ سادہ تھی جس میں دکھاوا نہ ہونے کے برابر تھا۔ جب کسی کی اولاد بلوغت کی عمر کو پہنچتی اور ان میں ذمہ داری نبھانے اور اپنے معاملات خود سنبھالنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی تو خاندان والے اس کی شادی خود اپنے طور پر طے کردیتے تھے، جسے عام طور پر ارینج میرج کہا جاتا ہے۔
ارینج میرج میں دولہے اور دلہن کا انتخاب گھر کے بڑے کرتے ہیں، یہی اس دور میں ہوتا تھا۔ چند ایک جگہوں پر ہی لوگ اپنے جیون ساتھی کا انتخاب خود کیا کرتے تھے لیکن معاشرے میں عام رواج ارینج میرج کا ہی ہوا کرتا تھا۔
لیکن آج صورتحال بدل چکی ہے، اب لڑکے والے ہوں یا لڑکی والے، دونوں طرف کے مطالبات اور خواہشات کٹھن سے کٹھن ہوتی جارہی ہیں۔ بعض اوقات تو لڑکا اور لڑکی والوں کے درمیان ہونے والے ابتدائی روابط اور ابتدائی ملاقاتیں ان پر منفی چھاپ چھوڑ جاتی ہیں۔
حال ہی میں ایک خاندان اپنے بیٹے کے لیے جیون ساتھی کی تلاش میں تھا، انہوں نے کئی رشتے دیکھے لیکن انہیں ایک بھی لڑکی اپنے معیار پر اترتی ہوئی نہیں ملی۔ انہوں نے تمام رشتے جِلد کی رنگت، قد یا پھر عمر کے فرق و دیگر وجوہات کے باعث مسترد کردیے۔ اس کا بہت ہی بُرا تاثر پڑسکتا ہے، بالخصوص لڑکیوں پر۔ ماضی میں صرف بڑوں کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ فیصلہ کریں کہ ان کی اولاد کے مفاد میں کیا بہترین ہے لیکن آج کل صورتحال مختلف ہے۔
عام طور پر والدین چاہتے ہیں ان کا ہونے والا داماد اور بہو تعلیم یافتہ، اچھی آمدن والا/والی، خوبرو، پتلا/پتلی، سندیافتہ اور بہت سی ایسی کئی قابلیتوں اور خوبیوں کا/کی مالک ہو۔ چند والدین تو جہیز کی صورت میں زیورات، گاڑی، گھر یا ہوم اپلائنسز وغیرہ جیسے مادی سازو سامان کی شدید خواہش کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
لیکن یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مادی چیزیں زیادہ دن تک باقی نہیں رہتیں۔ اسی لیے مادی ساز و سامان کی مانگ کے بجائے آپ کو گہرائی میں اترنا چاہیے، یعنی دیگر شخصی خوبیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ یہ دیکھیے کہ وہ ایمان، اچھے اخلاق، افہام و تفہیم، عادات، تعلیم، صحت اور ہر قسم کے حالات میں صبر کے ساتھ خود کو ڈھالنے کی صلاحیت جیسے پیمانوں پر کتنا پورا اترتے ہیں، کیونکہ یہی وہ ساری خوبیاں ہیں جو ایک کامیاب شادی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
یہاں آکر آپ کو شادی سے متعلق اسلامی تعلیمات کا رخ ضرور کرنا چاہیے۔ اسلام کے نزدیک شادی ایک معاشرتی معاہدہ ہے جس میں 2 افراد اپنی مرضی سے زندگی بھر کی شراکت داری کے لیے رشتہ قائم کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی تجویز کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے شوہر اور بیوی کے طور پر زندگی ساتھ گزارنے کا خود سے عزم کرتے ہیں۔
ذمہ داریوں کو بانٹنے کے لیے باہمی عزم درکار ہوتا ہے۔ اسی لیے انہیں احترام، اعتماد اور اس پختہ یقین کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا چاہیے کہ وہ اپنے حصے کا معاہدہ ہر طرح سے پورا کریں گے۔
کسی ایک فریق کو بھی جلدبازی، زیادہ سوچ بچار کیے بغیر، غیر سنجیدگی کے ساتھ معاہدے کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ اس کے نتیجے میں آگے چل کر شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور پھر چند برسوں بعد وہ پچھتا رہے ہوتے ہیں کہ انہوں نے شادی ہی کیوں کی۔ اس طرح مایوسی کی فضا چھائے گی اور سماج میں دراڑیں پڑجائیں گی۔
شادی کو گاڑی کے 2 پہیوں سے تمثیل بھی دی جاسکتی ہے، یعنی اگر پہیوں کی سیدھ برابر ہوگی تو گاڑی بھی پُرسکون انداز میں آگے بڑھتی جائے گی۔ انہیں زندگی کے اس طویل سفر میں ایک دوسرے کا معاون اور سہارا بننا ضروری ہوتا ہے جو ہمیشہ پُرسکون و سہل نہیں ہوتا۔
اس سفر میں انہیں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے اور اتار چڑھاؤ بھی آسکتے ہیں لیکن دونوں پہیوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بنے رہیں، مضبوطی سے جڑے رہیں اور ایک دوسرے پر انحصار کریں، تاکہ یہ سفر خوشیوں اور سکون سے بھرپور رہے۔ اس طرح کی شادیاں قابلِ رشک ثابت ہوتی ہیں اور قرآن مجید ہمیں یہ دعا مانگنے کی تلقین کرتا ہے کہ
’۔۔۔اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘ (سورت الفرقان، آیت 74)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ‘تم میں سے ہر ایک نگران بنایا گیا ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (قوم کا) رہنما (اس کا) نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ آدمی اپنے گھر کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔‘
چنانچہ درست ساتھی کی تلاش کا مطلب ہے کہ ایک ایسا ساتھی تلاش کیا جائے جو زندگی کے ہر مرحلے میں آخر تک مضبوط اور ساتھ دینے والا شریکِ حیات ثابت ہو۔
یہ زندگی بھر کی ایک شراکت داری ہے جس میں ایک دوسرے سے اس عزم کا اظہار کیا جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی ضروریات کی جانب بدستور ثابت قدمی، بھروسہ، معاون اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ
*دوستوں سے بچ کر رہیں*
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
میں پچھلے کمرے میں بیٹھ گیا‘ درمیان میں شیشے کی دیوار تھی‘ میں دیوار کے پیچھے سے لوگوں کو دیکھ اور سن سکتا تھا‘ یہ میرے دوست کا دفتر تھا‘ وہ کسٹم انٹیلی جینس آفیسر تھا‘ میں ملنے کےلئے آیا تھا‘ اچانک اسے ایک ٹیلی فون آیا‘ اس نے مجھے پچھلے کمرے میں بٹھا دیا اور ملاقاتی کا انتظار کرنے لگا‘ میں بھی اشتیاق سے شیشے کے پار دیکھنے لگا‘ تھوڑی دیر بعد ایک سوٹڈ بوٹڈ نوجوان اندرداخل ہوا اور میرے دوست کے سامنے بیٹھ گیا‘ میں دونوں کو دیکھ بھی سکتا تھا اور سن بھی‘
نوجوان نے کوٹ کی جیب سے تین تصویریں نکالیں اور کسٹم انٹیلی جینس آفیسر کے سامنے رکھ دیں‘ یہ سفید رنگ کی جیپ کی تصویریں تھیں‘ نوجوان تصویر پر انگلی رکھ
کر بولا ”سر یہ سمگلڈ اورٹمپرڈ ہے اور ڈیفنس کے وائے بلاک میں کھڑی ہے‘ میں آپ کو ایڈریس دے دیتا ہوں آپ یہ پکڑ لیں“ میرے دوست نے غور سے تصویریں دیکھیں اور تھوڑا سا سوچ کر بولا ”ہم کسی کے گھر چھاپہ نہیں مار سکتے ہاں البتہ یہ گاڑی اگر سڑک پر ہو تو ہم اسے کسٹڈی میں لے سکتے ہیں“ نوجوان نے بھی تھوڑی دیر سوچا اور پھر بولا” میں گاڑی کے مالک کے ساتھ شام چار بجے جوس پینے کےلئے گھر سے نکلوں گا‘ میں آپ کو ایس ایم ایس بھی کر دوں گا اور جوس کارنر کا ایڈریس بھی بھجوا دوں گا‘ آپ وہاں چھاپہ مار کر گاڑی قبضے میں لے لیں لیکن بس ایک شرط ہے!“۔ وہ خاموش ہو گیا‘ میرا دوست خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ تھوڑی دیر رک کر بولا ”گاڑی کا مالک میرا دوست ہے‘ آپ کسی قیمت پر کسی کو میرا نام نہیں بتائیں گے اور دوسرا جب آپ کی ٹیم چھاپہ مارے گی تو میں شور کروں گا‘ میں ٹیم کے ساتھ لڑوں گا بھی لیکن آپ نے اسے زیادہ سیریس نہیں لینا‘ آپ گاڑی لے کر نکل جائیے گا“ میرے دوست نے قہقہہ لگایا اور ڈن کر دیا‘ نوجوان تھوڑی دیر مزید بیٹھا‘ چائے پی اور چلا گیا‘ میں باہر آ گیا اور میں نے اپنے دوست سے اس ڈیل کے بارے میں پوچھا‘
میرے دوست نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ”یہ لاہور کے ایک امیر زادے کا دوست ہے‘ امیر زادے نے نان کسٹم پیڈ سمگلڈ گاڑی خریدی ہے‘ گاڑی کی مالیت چار کروڑ روپے ہے اور یہ دوست اپنے عزیز ترین دوست کی مخبری کےلئے ہمارے پاس آیا ہے“ میں نے پوچھا ”اور اب کیا ہوگا؟“ میرے دوست نے جواب دیا ”یہ اپنے دوست کو جوس پلانے کےلئے باہر لائے گا اور ہم گاڑی اور گاڑی کے مالک کو پکڑ لیں گے“ میں نے حیرت سے پوچھا ”لیکن اس مخبر کو کیا فائدہ ہو گا“ میرے دوست نے ہنس کر جواب دیا ”اس کے حسد کا کلیجہ ٹھنڈا ہو جائے گا‘ یہ امیر زادے کا حاسد دوست ہے‘دوست کی گاڑی اس سے ہضم نہیں ہو رہی چنانچہ یہ اسے اس سے محروم بھی دیکھنا چاہتا ہے اور پریشان بھی اور اس کا یہ جذبہ اسے ہمارے پاس لے آیا ہے“۔
یہ تمام باتیں میرے لئے حیران کن تھیں‘میں نے اس سے پوچھا ”کیا تمہارے زیادہ مخبر ایسے لوگ ہوتے ہیں“ میرے دوست نے جواب دیا ”ہمارے 98 فیصد مخبر یہ لوگ ہوتے ہیں‘ دوست عزیز ترین دوست کی مخبری کرتے ہیں‘ بھائی بھائی کے خلاف انفارمیشن دیتا ہے‘ بہو ساس کے بارے میں بتاتی ہے IQ سالہ بہنوئی اور بہنوئی سالے کا مخبر بن جاتا ہے“ میں خاموشی سے سنتا رہا‘ وہ بولا ”ہمارے پاس دوست اور ملازمین زیادہ آتے ہیں‘دوست پہلے دوست کو سمگلڈ گاڑی خرید کر دیتے ہیں اور پھر مخبری کر دیتے ہیں‘
یہ دوستوں کو ٹیکس چوری کا طریقہ بھی بتاتے ہیں اور دوست جب ٹیکس چوری کر لیتے ہیں تو یہ اس کے خلاف مخبر بن جاتے ہیں‘ یہ مخبر لوگ یوں دوستوں کو دہرا نقصان پہنچاتے ہیں‘ پہلے گاڑی کی خریداری کے ذریعے دوست کو مالی نقصان پہنچاتے ہیں اور پھر وہ گاڑی پکڑوا کر اسے ذلیل کراتے ہیں‘ ہمارے پاس مختلف کمپنیوں کے ملازمین بھی آتے ہیں‘ یہ ہمیں اپنے مالکان کے خلاف ٹھوس ثبوت دیتے ہیں‘ یہ عموماً پرانے اور اعتباری ملازمین ہوتے ہیں‘
مالکان ان کو مخلص سمجھتے ہیں لیکن یہ اندر سے مالکان کے خلاف ہوتے ہیں‘ ان کے سینوں میں کینہ‘ حسد اور بغض بھرا ہوتا ہے چنانچہ یہ ہمیں مالکان کے خلاف وہ ثبوت بھی دے دیتے ہیں جو مالکان کے پاس بھی نہیں ہوتے“ وہ خاموش ہو گیا‘ میں نے پوچھا ”یہ ملازمین کس کیٹگری کے ہوتے ہیں“ وہ بولا” یہ لوگ دو کیٹگری کے ہوتے ہیں‘ پہلی کیٹگری سیلف میڈ لوگوں کے ملازمین پر مشتمل ہوتی ہے‘ یہ لوگ ملازمین کے سامنے ترقی کرتے ہیں‘
ملازمین بیس تیس ہزار روپے کے ملازم رہ جاتے ہیں جبکہ مالک کروڑوں روپے میں پہنچ جاتے ہیں چنانچہ یہ لوگ مالکان کے حاسد بن جاتے ہیں اور دوسری کیٹگری میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جن پر مالکان دوسرے ملازمین کو فوقیت دے دیتے ہیں‘ مثلاً مالکان نے نئے ملازمین کو پروموٹ کر دیا اور یہ نئے ملازمین کو پرانوں کے مقابلے میں زیادہ تنخواہ اور مراعات دینے لگے تو پرانے ملازمین اندر سے زخمی ہو جاتے ہیں اور یہ مالکان کے خلاف مخبر بن جاتے ہیں“
میں نے اس سے پوچھا ”آپ نے اپنی نوکری کے دوران مخبری کا سب سے افسوس ناک واقعہ کیا دیکھا“ وہ رکا‘ مسکرایا اور بولا ”بے شمار واقعات ہیں لیکن مجھے ایک واقعہ نہیں بھولتا‘ کراچی میں ایک بزرگ خاتون نے اپنے اکلوتے بیٹے کے خلاف مخبری کر دی‘ والدہ سے اپنی بہو کی آسائش ہضم نہیں ہوتی تھی چنانچہ اس نے بیٹے کی مخبری کی‘ ہم نے گودام پر چھاپہ مارا اور بیٹا تین دن میں سڑک پر آ گیا“ وہ رکا اور پھر ”میرے پاس جگری دوستوں کے حسد کی بے شمار مثالیں بھی ہیں‘
میں کراچی کی ایک فیملی کو جانتا ہوں‘ ان کا بیٹا اکلوتا تھا‘ بیٹے نے سمگلڈ سپورٹس کار خرید لی‘ جگری دوست نے مخبری کر دی‘ ہم نے کار قبضے میں لے لی‘ بیٹے کو کار بہت عزیز تھی چنانچہ والد نے وہ گاڑی آکشن میں خریدی‘ زیادہ ٹیکس اور زیادہ ڈیوٹی دی اور گاڑی بیٹے کو گفٹ کر دی‘ بیٹا دوبارہ گاڑی چلانے لگا‘ جگری دوست کو دوست کی یہ خوشی بھی نہ بھائی‘ اس نے گاڑی ادھار لی اور بریک آئل کے چیمبر میں چھوٹا سا سوراخ کرا دیا‘ گاڑی کا مالک گاڑی چلاتا رہا‘
گاڑی اسے بریک آئل کے بارے میں وارننگ دیتی رہی لیکن دوست اسے حوصلہ دیتا تھا‘ تم فکر نہ کرو‘ بریک آئل پورا ہے‘ گاڑی کا سافٹ ویئر خراب ہو گیا ہے‘ لڑکا اپنے دوست کی ہر بات پر یقین کرتا تھا چنانچہ وہ گاڑی چلاتا رہا‘ وہ ایک دن گاڑی لے کر نکلا‘ ہائی وے پر آیا‘ گاڑی کے بریک فیل ہوئے اور گاڑی آئل ٹینکر سے ٹکراگئی‘ لڑکا ایٹ دی سپاٹ مر گیا‘ باپ نے تحقیقات کرائیں تو کہانی کھل کر سامنے آ گئی لیکن اب کیا ہو سکتا تھا‘ جانے والا جا چکا تھا“۔میں افسوس سے سنتا رہا‘
میرے دوست نے بتایا ”آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے خلاف مخبری بھی ان کے قریبی دوستوں نے کی تھی‘ یہ دوست آج بھی ان کے ساتھ نظر آتے ہیں لیکن یہ لوگ اپنی آستینوں میں چھپے ان سانپوں کے وجود تک سے واقف نہیں ہیں‘ یہ انہیں اپنا مخلص دوست‘ اپنا وفادار ساتھی سمجھ رہے ہیں جبکہ یہ ان کی جڑیں کاٹ رہے ہیں“ میں خاموشی سے سنتا رہا‘ میرا دوست آخر میں بولا ”تم اگر دوستی کا تماشہ دیکھنا چاہتے ہو تو چار بجے میرے ساتھ چلو‘ ہم تمہارے سامنے وہ گاڑی پکڑیں گے اور پھرتم اپنی آنکھوں سے دیکھنا حاسد دوست دوستوں کو کس طرح ذلیل کرتے ہیں“ میں نے ہامی بھر لی۔
میں چار بجے تک اس کے پاس بیٹھا رہا‘ چھاپہ مارنے کےلئے سکواڈ تیار ہوا‘ پونے چار بجے مخبر نے اطلاع دی میں ٹارگٹ کے گھر پہنچ گیا ہوں‘ پانچ منٹ بعد پیغام آیا ہم سمگلڈ گاڑی میں جوس پینے کےلئے نکل رہے ہیں‘ ہم گلبرگ میں فوارہ چوک کے قریب فلاں جوس کارنر پر جا رہے ہیں‘ آپ چار بج کر پانچ منٹ تک پہنچ جائیں‘ میرے دوست نے مجھے گاڑی میں بٹھایا اور ہم گلبرگ پہنچ گئے‘ نان کسٹم پیڈ ٹمپرڈ گاڑی سامنے کھڑی تھی‘ دونوں دوست گاڑی میں بیٹھ کر جوس پی رہے تھے‘
کسٹم کے اہلکار گاڑی کے پاس پہنچے‘ گاڑی کا شیشہ بجایا اور مالک سے گاڑی کے کاغذات مانگ لئے‘ مالک نے پورے اعتماد کے ساتھ کاغذات نکال کر کسٹم کے حوالے کر دیئے‘ اہلکاروں نے کاغذات دیکھے‘ بونٹ کھلوایا اور گاڑی کا انجن اور چیسز نمبر چیک کرنے لگے‘ گاڑی ظاہر ہے ٹمپرڈ تھی ‘ کسٹم حکام نے گاڑی قبضے میں لے لی‘ مالک کا دوست گاڑی سے اترا اور پلان کے مطابق کسٹم حکام کے گلے پڑ گیا‘ سڑک پر ٹھیک ٹھاک تماشہ لگ گیا‘ گاڑی کا مالک دوست کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن وہ بار بار اہلکاروں کے گلے پڑتا تھا‘ میں اور میرا دوست گاڑی میں بیٹھ کر یہ منظر دیکھتے رہے‘
مخبر نے ایک آدھ بار لڑتے لڑتے میرے دوست کو آنکھ بھی ماری‘ یہ کھیل چند منٹ چلتا رہا یہاں تک کہ کسٹم حکام نے گاڑی کا چارج لے لیا‘ میں نے دیکھا مخبر نے چیخ بھی ماری اور جوس کارنر کے تھڑے پر لیٹ کر بے ہوشی کا ناٹک بھی کیا‘ گاڑی کا مالک اسے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا‘ ہم واپس چل پڑے‘ میں راستہ بھر اداس رہا‘ میرا خیال تھا دوست کو کم از کم دوستوں کے ساتھ یہ نہیں کرنا چاہیے جبکہ میرا دوست مزے سے گنگنا رہا تھا ‘ ہم دفتر واپس پہنچ گئے‘
میں نے اجازت مانگی‘ میرا دوست باہر آیا‘ مجھے گلے لگایا اور آہستہ سے میرے کان میں کہا ”ہمارے آدھے سے زائد دوست بروٹس ہوتے ہیں‘ یہ لوگ جب تک جولیس سیزر کو قبر تک نہ پہنچا لیں اس وقت تک ان کے سینے ٹھنڈے نہیں ہوتے‘ ہم لوگ دشمنوں کے تیروں سے نہیں مرتے‘ دوستوں کے ہاتھوں سے مرتے ہیں اور اگر ہمیں ہمارا دشمن بھی مارے تو اس کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے چنانچہ ہمیں دشمنوں سے نہیں دوستوں سے بچ کر رہنا چاہیے‘ انسان اگر دوستوں سے بچ جائے تو دشمن اس کا بال تک بیکا نہیں کر سکتے اور یہ انسان کی تاریخ بھی ہے اور جغرافیہ بھی.
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ
=================
*اسرائیل اتنا طاقتور کیسے ہوگیا؟ ؟؟؟*
ایک شخص "Gree Ac" کی ٹھنڈک سے سو کرصبح "Seiko-5" کے الارم سے اٹھتا ھے "Colgate" سے برش کرتا ہے "Gellet" سے شیو کرکے "Lux" صابن اور "Dove" شیمپو سے نہاتا ہے اور نہانے کے بعد "Levis" کی پینٹ "POLO" شرٹ اور "GUCCI" کے شوز "Jocky" کے socks پہن لیتا ہے چہرے پر "Nevia" کریم لگا کر "Nestlé food" سے ناشتہ کرنے کے بعد "Rayban" کا چشمہ لگا کر "HONDA" کی گاڑی میں بیٹھ کر کام پر چلا جاتا ہے۔
راستے میں ایک جگہ سگنل بند ھوتا ہے وہ جییب سے
"آئی فون 11" نکالتا ہے اور "زونگ" پر 4G internet چلانا شروع کر دیتا ہے اتنے میں سبز بتی جلتی ہے آفس پہنچ کر "HP" کے کمپیوٹر میں کام میں مشغول ھو جاتا ہے کافی دیر کام کرنے کے بعد اسے بھوک محسوس ھوتی ہے تو "McDonald's " سے کھانا اور ساتھ میں "Nestlé " کا پانی بھی منگواتا ہے۔
کھانے کے بعد "Nescaffe" کی کافی پیتا ہے اور پھر تھوڑا آرام کرنے چلا جاتا ہے کچھ آرام کے بعد "Red Bull" پیتا ھے اور دوبارہ کام میں مشغول ھو جاتا ہے تھوڑا بوریت محسوس ھونے پہ جیب سے Apple کے "i-pods"نکال کے انڈین گانے سنتا ھے ساتھ ھی "TCS" سے ایک پارسل بیرون ملک بھیجواتا ھے اور "PANASONIC" کے لینڈ لائن سے اطلاع کرتا ھے۔ اور "PARKER" کے Pen سے ایک نوٹ لکھتا ھے۔کچھ دیر بعد "ROLEX" کی گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ واپسی کا وقت ہو گیا ہے تو وہ دوبارہ "HONDA" کی گاڑی اسٹارٹ کرتا ہے اور گھر کے لئے روانہ ہو جاتا ہے۔
کچھ ہی لمحے بعد "Shell" کا پیٹرول پمپ آ جاتا ہے وہاں سے ٹنکی فل کرواتا ہے اور "HYPER STAR" کا رخ کر لیتا ہے سٹور سے بچوں کے لئے "میگی" اور "کنور" کے نوڈلز "CADBARY" KIT KAT" اور "SNIKERS" اور "Nestle" کے مہنگے جوس وغیرہ خرید لیتا ہے سپر سٹور کے ساتھ ہی "PIZZA HUTT" سے وہ بیوی بچوں کے لئے پیزا اور "KFC" سے برگرز کی ڈیل بھی خرید لیتا ہے۔
گھر جا کر کھانا کھانے کے بعد سب گھر والے "SONY" کے Led پر مشہور زمانہ " NewsChannel " پر مایوسی والی خبریں سن رہے ھوتے ہیں اور ہاتھ میں "Coke" کے گلاس پکڑے ھوتے ہیں کہ خبر آتی ہے کہ اسرائیل نے فلسطینوں بمباری کی یہ سن کر وہ آگ بگولہ ھو جاتا ہے اور اونچی آواز میں بولتا ہے !!!
اسرائیل اتنا طاقتور کیسے ہوگیا؟
وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ انسان کے مانگنے کا بھی طریقہ بدل جاتا ہے،۔گلیوں بازاروں میں بھیک مانگنے والے لوگ کروڑ پتی ہوتے ہیں اور لوگوں کا حق کھاتے ہیں، ایسی ہی ایک بوڑی عورت لوگوں سے اپنی گاڑی کے پیٹرول کے لئے بھیک کر ہزاروں روپے روز کے جمع کرتی ہے۔ کرتوت چیک کریں، لوگوں کے پاس سائیکل نہیں ہوتی یہ گاڑی لیکر بھیک مانگ رہی ہیں۔ زرا ایسی بہودہ عوام کو شعور دینے کے لئے انکو مشہور کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
اج کل شادی مرد کی جیب کو اور عورت کے خسن کو دیکھ کر کی جاتی ہے۔
پھر شادی کے بعد نہ جیب چاہیے ہوتی نہ حسن۔ اس وقت صرف شرمندگی ہی ہوتی ہے۔
تھوڑا سوچیں اچھا سوچیں،
کم ہی سہی لیکن وفادار ڈھونڈیں۔
تھوڑی بہت کمیوں کو نظر انداز کر دیں۔
18/05/2021
Must read it and try to improve yourself.
*❗Bismillahirrahmanirraheem❗*
*🔹Mafhum e hadith: Jo aurat iss haal mein faut ho ke uska shohar us se razi ho to wo jannat mein dakhil hogi*
-----
🔹Rasool-Allah Sallallahu Alahih Wasallam ne farmaya jo aurat iss haal mein faut ho ke uska shohar us se razi ho to wo jannat mein dakhil hogi
----
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت مر جائے اور اس کا شوہر اس سے خوش ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گی“
---
🔹Rasool-Allah Sallallahu Alahih wasallam said:“Whichever woman dies while her husband is pleased with her, then she enters Paradise.”
Jamia Tirmazi - 1161 Hasan
*🛑کیا بیوہ عورت کا دل نہیں ہوتا؟🛑*
*♦️میں آپ کو ایک عورت کا قصہ سناتا ہوں اور آپ پڑھ کر بتائیں کیا بیوہ کو شادی نہیں کرنی چاہیے؟*
*♦️ایک عورت نے مجھے بتایا کہ اسکی 4 بیٹیاں ہیں ، اور شوہر کی وفات ہو چکی ہے۔*
*♦️کہنے لگی میں نکاح کی ضرورت محسوس کرتی ہوں کیونکہ میں اکیلی بہت ڈرتی ہوں۔*
*♦️اور پھر گھر اور باہر کی ہر ذمے داری مجھ پر ہے۔*
*♦️جب گھر سے باھر نکلتی ہوں تو لوگ عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔*
*♦️میں چاہتی ہوں کہ نکاح کر لوں*
*♦️تاکہ میری ذمے داریاں بھی کم ہو جائیں، اور لوگوں کی نظروں سے بھی محفوظ ہو جاؤں۔*
*♦️تاکہ ہر کسی کے دل میں یہ ھو کہ یہ اب بیوہ نہیں بلکہ فلاں کی بیوی ہے ۔*
*♦️کہنے لگی میری شادی میں سب سے زیادہ میرے بھائی رکاوٹ بن رہے ہیں۔*
*♦️بھائی کہتے ہیں اب کیا کرو گی شادی کر کے ۔*
*♦️ہم موجود ہیں تمھارا خیال رکھنے کو۔*
*♦️میرا جواب تو یہ ہے*
*♦️سب سے پہلی بات یہ ہے بیوہ یا طلاق یافتہ لوگوں کی شادی کا اللہ نے حکم دیا ہے۔*
*♦️اللہ سے بڑھ حکیم ذات کس کی ہو سکتی ہے۔*
*♦️دوسری بات یہ ہے کہ کوئی بھائی کسی بہن کا ساری زندگی سہارا نہیں بنتا۔*
*♦️تیسری بات ۔ میاں بیوی کو اللہ نے ایک دوسرے کا لباس کہا ہے*
*♦️لباس کے بغیر انسان ننگا ہوتا ہے۔*
*♦️جس طرح لباس پوری زندگی کےلئے ضروری ہے اسی طرح یہ رشتہ بھی انسان کی پوری زندگی کی ضرورت ہے۔*
*♦️مجھے ایسے بھائیوں پہ تعجب ھے ۔ جو خود تو چار شادیوں کی خواہش رکھتے ہیں*
*♦️لیکن بہن سے کہتے ہیں تمھیں اب شادی کی کیا ضرورت ہے۔
* 💞💞*
مجھے آج بھی ایک یہودی عالم کے الفاظ یاد ہیں جو اس نے مسلمان عورتوں کے بارے میں کہے تھے کہ "مسلمان عورتوں کو پہلے ان کے دین سے دور کردو، جب یہ دین سے دور ہوجائے گی تو حجاب کو ترک کرکے بے پردہ ہوجائے گی، جب بےپردہ ہوجائے گی تو اپنے مسلمان مردوں کے لیے فتنہ(آزمائش) بن جائے گی، جب فتنہ بن جائے گی تو زنا عام ہونے لگے گا، جب زنا عام ہونے لگے گا تو ایک وقت آئے گا کہ ان میں اکثریت حرام زادوں اور حرام زادیوں کی ہوگی"
لہذا میری بہنوں خود کو قرآن و حديث کی تعلیمات سے جوڑو اور اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا شروع کرو اسی میں ہماری دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔“
16/09/2020
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞صحابیات میں سے کوئی ایک صحابیہ بھی آپکو نہیں ملے گی جس نے طلاق یا بیوہ ہونے کے بعد بغیر نکاح کے زندگی بسر کی ہو ۔ صحابہ کرام کے دور میں ایسا ممکن ہی نہیں تھا ۔ تکمیل عدت کے بعد پیغامات نکاح اس رفتار سے آتے جس رفتار سے کسی کنواری لڑکی کو بھی نہیں آتے۔
ہمارے معاشرے میں جہاں مطلقہ و بیوہ عورت کو اچھا نہیں سمجھا جاتا وہاں اکثر بیوہ یا مطلقہ خواتین بھی نکاح نا کر کے معاشرے میں بے راہ روی کا سبب بنتی ہیں ۔الا ماشاءاللہ
جس طرح سانس ، پانی اور کھانے کے بغیر جینا نا ممکن ہے اسی طرح جنسی تسکین کے بغیر بھی جینا نا ممکن ہے۔
تنہائی میں موبائل غیر محرم کی حیثیت رکھتا ہے
معاشرہ پاک کرنے کے لیے نکاح آسان کرنا لازم ہے ورنہ قیامت سے پہلے قیامت تو ہم دیکھ ہی رہے ہیں
نکاح آسان کرو تاکہ زنا کے اڈے بند ہو سکیں.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Rawalpindi & Islamabad
Rawalpindi