Chaudhary Anas Gujjar

Chaudhary Anas Gujjar

Share

Student at Law,Blogger,Content Creator, Positive,Writer

16/09/2025

*مخــلـوق کے ساتھ بھـــلائی*
*کــرنا بھی صــــــدقـــــــہ ہے*
الحدیث النبوی:
‏‏نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: روزانہ انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہے اور اگر کوئی شخص کسی کی سواری میں مدد کرے کہ اس کو سہارا دے کر اس کی سواری پر سوار کرا دے یا اس کا سامان اس پر اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی صدقہ ہے۔ اچھی اور پاک گفتگو بھی صدقہ ہے۔ ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور کسی مسافر کو راستہ بتا دینا بھی صدقہ ہے۔
صحیح البخاری: 2891

04/09/2025

لب پہ جب مدحت سلطانِ جہاں آتی ہے
تب کہیں جا کہ میری جاں میں جاں آتی ہے
❤️💖

02/09/2025

کیا گاجر کھانے سے واقعی رات میں بہتر دکھائی دیتا ہے؟
ہم روزانہ کھانے پینے کی مختلف چیزوں کے بارے میں طرح طرح کے دعوے دیکھتے، سنتے اور پڑھتے ہیں کہ کون سی چیز ہمارے لیے مفید ہے اور کون سی نقصان دہ۔

مگر درست اور غلط دعووں میں فرق کیسے کیا جائے؟ یہاں ہم نے تین عام غذاؤں سے متعلق تین دعووں کی جانچ کی ہے۔

کیا گاجر کھانے سے رات میں بہتر دکھائی دیتا ہے؟
یہ بات چاہے افسانہ لگے یا کسی سپر ہیرو کی کہانی مگر گاجر کھانے سے رات میں بینائی بہتر ہوتی ہے، یہ بات دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں ابھری تھی۔

یہ بات اس لیے پھیلائی گئی تاکہ جرمنوں کو پتا نہ چلے کہ برطانیہ رات کے فضائی حملوں میں بمبار جہازوں کو تلاش کرنے کے لیے ریڈار کا استعمال کر رہا ہے۔

اُس وقت رائل ایئر فورس نے اخبارات میں یہ خبر شائع کرائی تھی کہ برطانوی پائلٹ بہت گاجر کھاتے ہیں، اسی لیے اُن کی رات میں دیکھنے کی صلاحیت غیر معمولی ہے۔

31/08/2025

*ولادت مصطفی سے 1000 سال پہلے اک عشق کی دستان۔*

*(آمد مصطفی
صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں اہتمام و انتظام کی اک دلکش داستان عشق)*👇🏻👇🏻👇🏻👇🏻

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ہزار سال پیشتر یمن کا بادشاہ تُبّع حمیری تھا، ایک مرتبہ وہ اپنی سلطنت کے دورہ کو نکلا، بارہ ہزار عالم اور حکیم اور ایک لاکھ بتیس ہزار سوار، ایک لاکھ تیرہ ہزار پیادہ اپنے ہمراہ لئے ہوئے اس شان سے نکلا کہ جہاں بھی پہنچتا اس کی شان و شوکت شاہی دیکھ کر مخلوق خدا چاروں طرف نظارہ کو جمع ہو جاتی تھی ، یہ بادشاہ جب دورہ کرتا ہوا مکہ معظمہ پہنچا تو اہل مکہ سے کوئی اسے دیکھنے نہ آیا۔ بادشاہ حیران ہوا اور اپنے وزیر اعظم سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ اس شہر میں ایک گھر ہے جسے بیت اللہ کہتے ہیں، اس کی اور اس کے خادموں کی جو یہاں کے باشندے ہیں تمام لوگ بے حد تعظیم کرتے ہیں اور جتنا آپ کا لشکر ہے اس سے کہیں زیادہ دور اور نزدیک کے لوگ اس گھر کی زیارت کو آتے ہیں اور یہاں کے باشندوں کی خدمت کر کے چلے جاتے ہیں، پھر آپ کا لشکر ان کے خیال میں کیوں آئے۔ یہ سن کر بادشاہ کو غصہ آیا اور قسم کھا کر کہنے لگا کہ میں اس گھر کو کھدوا دوں گا اور یہاں کے باشندوں کو قتل کروا دوں گا، یہ کہنا تھا کہ بادشاہ کے ناک منہ اور آنکھوں سے خون بہنا شروع ہو گیا اور ایسا بدبودار مادہ بہنے لگا کہ اس کے پاس بیٹھنے کی بھی طاقت نہ رہی اس مرض کا علاج کیا گیا مگر افاقہ نہ ہوا، شام کے وقت بادشاہ ہی علماء میں سے ایک عالم ربانی تشریف لائے اور نبض دیکھ کر فرمایا ،

مرض آسمانی ہے اور علاج زمین کا ہو رہا ہے، اے بادشاہ! آپ نے اگر کوئی بری نیت کی ہے تو فوراً اس سے توبہ کریں، بادشاہ نے دل ہی دل میں بیت اللہ شریف اور خدام کعبہ کے متعلق اپنے ارادے سے توبہ کی ، توبہ کرتے ہی اس کا وہ خون اور مادہ بہنا بند ہو گیا، اور پھر صحت کی خوشی میں اس نے بیت اللہ شریف کو ریشمی غلاف چڑھایا اور شہر کے ہر باشندے کو سات سات اشرفی اور سات سات ریشمی جوڑے نذر کئے۔
پھر یہاں سے چل کر مدینہ منورہ پہنچا تو ہمراہ ہی علماء نے جو کتب سماویہ کے عالم تھے وہاں کی مٹی کو سونگھا اور کنکریوں کو دیکھا اور نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت گاہ کی جو علامتیں انھوں نے پڑھی تھیں ، ان کے مطابق اس سر زمین کو پایا تو باہم عہد کر لیا کہ ہم یہاں ہی مر جائیں گے مگر اس سر زمین کو نہ چھوڑیں گے، اگر ہماری قسمت نے یاوری کی تو کبھی نہ کبھی جب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں گے ہمیں بھی زیارت کا شرف حاصل ہو جائے گا ورنہ ہماری قبروں پر تو ضرور کبھی نہ کبھی ان کی جوتیوں کی مقدس خاک اڑ کر پڑ جائے گی جو ہماری نجات کے لئے کافی ہے۔
یہ سن کر بادشاہ نے ان عالموں کے واسطے چار سو مکان بنوائے اور اس بڑے عالم ربانی کے مکان کے پاس حضور کی خاطر ایک دو منزلہ عمدہ مکان تعمیر کروایا اور وصیت کر دی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو یہ مکان آپ کی آرام گاہ ہو اور ان چار سو علماء کی کافی مالی امداد بھی کی اور کہا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو اور پھر اس بڑے عالم ربانی کو ایک خط لکھ دیا اور کہا کہ میرا یہ خط اس نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کر دینا اور اگر زندگی بھر تمھیں حضور کی زیارت کا موقع نہ ملے تو اپنی اولاد کو وصیت کر دینا کہ نسلاً بعد نسلاً میرا یہ خط محفوظ رکھیں حتٰی کہ سرکار ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا جائے یہ کہہ کر بادشاہ وہاں سے چل دیا۔
۔
وہ خط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس مین ایک ہزار سال بعد پیش ہوا کیسے ہوا اور خط میں کیا لکھا تھا ؟سنئیے اور عظمت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان دیکھئے:
”کمترین مخلوق تبع اول خمیری کی طرف سے شفیع المزنبین سید المرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اما بعد: اے اللہ کے حبیب! میں آپ پر ایمان لاتا ہوں اور جو کتاب اپ پر نازل ہو گی اس پر بھی ایمان لاتا ہوں اور میں آپ کے دین پر ہوں، پس اگر مجھے آپ کی زیارت کا موقع مل گیا تو بہت اچھا و غنیمت اور اگر میں آپ کی زیارت نہ کر سکا تو میری شفاعت فرمانا اور قیامت کے روز مجھے فراموش نہ کرنا، میں آپ کی پہلی امت میں سے ہوں اور آپ کے ساتھ آپ کی آمد سے پہلے ہی بیعت کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور آپ اس کے سچے رسول ہیں۔“
شاہ یمن کا یہ خط نسلاً بعد نسلاً ان چار سو علماء کے اندر حرزِ جان کی حثیت سے محفوظ چلا آیا یہاں تک کہ ایک ہزار سال کا عرصہ گزر گیا، ان علماء کی اولاد اس کثرت سے بڑھی کہ مدینہ کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہو گیا اور یہ خط دست بدست مع وصیت کے اس بڑے عالم ربانی کی اولاد میں سے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور آپ نے وہ خط اپنے غلام خاص ابو لیلٰی کی تحویل میں رکھا اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت فرمائی اور مدینہ کی الوداعی گھاٹی مثنیات کی گھاٹیوں سے آپ کی اونٹنی نمودار ہوئی اور مدینہ کے خوش نصیب لوگ محبوب خدا کا محبوب خدا کا استقبال کرنے کو جوق در جوق آ رہے تھے اور کوئی اپنے مکانوں کو سجا رہا تھا تو کوئی گلیوں اور سڑکوں کو صاف کر رہا تھا اور کوئی دعوت کا انتظام کر رہا تھا اور سب یہی اصرار کر رہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اونٹنی کی نکیل چھوڑ دو جس گھر میں یہ ٹھہرے گی اور بیٹھ جائے گی وہی میری قیام گاہ ہو گی، چنانچہ جو دو منزلہ مکان شاہ یمن تبع خمیری نے حضور کی خاطر بنوایا تھا وہ اس وقت حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی تحویل میں تھا ، اسی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جا کر ٹھہر گئی۔ لوگوں نے ابو لیلٰی کو بھیجا کہ جاؤ حضور کو شاہ یمن تبع خمیری کا خط دے آو جب ابو لیلٰی حاضر ہوا تو حضور نے اسے دیکھتے ہی فرمایا تو ابو لیلٰی ہے؟ یہ سن کر ابو لیلٰی حیران ہو گیا۔ حضور نے فرمایا میں محمد رسول اللہ ہوں، شاہ یمن کا جو خط تمھارے پاس ہے لاؤ وہ مجھے دو چنانچہ ابو لیلٰی نے وہ خط دیا، حضور نے پڑھ کر فرمایا، صالح بھائی تُبّع کو آفرین و شاباش ہے۔
سبحان اللہ!) صلی اللہ علیہ وسلم
بحوالہ کُتب: (میزان الادیان)(کتاب المُستظرف)(حجتہ اللہ علے العالمین)(تاریخ ابن عساکر)

اس تحریر کو شیئر کریں آپکا ایک سینکڈ لگے گا اور لوگوں کے علم میں اضافہ ہوگا
جزاک اللہ خیرا

30/08/2025

ہٹلر کی موت کے بعد اُن کے اربوں مالیت کے اثاثے کس کو ملے؟
1945 کی صبح برطانوی انٹیلیجنس کے لیے کام کرنے والے ایک جرمن یہودی ہرمن روتھمین جب سو کر اُٹھے تو انھیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کا مشن کتنا خاص اور منفرد ہو گا۔

وہ اس بات سے آگاہ نہیں تھے کہ جعلی دستاویزات رکھنے کے الزام میں نازی افسر ہنیز لوریٹنز کو برطانوی حکام نے گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار کیے گئے یہ افسر ماضی میں نازی پروپیگنڈا کے وزیر جوزف گوئبلز کے پریس سیکرٹری رہ چکے تھے۔

1945 میں ہٹلر کی ہلاکت کے بارے میں اتحادی انٹیلیجنس کمیٹی کے تفتیش کار کی رپورٹ کے مطابق جب گارڈ نے لورینٹز کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا تو انھیں جسم پر موجود کپڑوں کے نیچے کاغذات محسوس ہوئے۔

اُن کی جیکٹ کے معائنے کے دوران ایسی دستاویز ملیں جو ہٹلر کے پرسنل سیکریٹری مارٹن بورمن نے لورینز کو برلن سے باہر لے کر جانے کے لیے دی تھیں۔

روتھمین نے سنہ 2014 میں ہٹلر کے بارے میں لکھی گئی کتاب کے اشاعت کے موقع پر دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ انھیں اپنے چار دیگر ساتھیوں کے ساتھ بہت ہی خفیہ انداز
میں ان دستاویزات کا ترجمہ کرنے کو کہا گیا۔
**er

29/08/2025

JUMMA❤️MUBARAK

29/08/2025

ہوم ورک کے لیے چیٹ جی پی ٹی کی مدد لینے والے نوجوان کی خودکشی پر ’اوپن اے آئی‘ کے خلاف مقدمہ کیوں دائر ہوا؟
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ایک جوڑے نے اپنے نو عمر بیٹے کو خودکشی کی ترغیب دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے آرٹیفیشل ٹیکنالوجی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

سولہ برس کے ایڈم رائن کے والدین میٹ اور ماریا رائن نے منگل کو کیلیفورنیا کی عدالت میں یہ مقدمہ دائر کیا ہے۔ یہ ’اوپن اے آئی‘ کے خلاف اس نوعیت کی پہلی قانونی کارروائی ہے جس میں اسے کسی شخص کو خودکشی کی ترغیب دینے کے الزام کا سامنا ہے۔

مقدمے کے اندراج کے لیے رائن خاندان نے ایڈم اور چیٹ جی پی ٹی کے درمیان چیٹ لاگز بھی بطور ثبوت پیش کیے ہیں جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’اوپن اے آئی‘ نے ایڈم کے خودکشی کے خیالات کی حوصلہ افزائی کی۔

ایک بیان میں ’اوپن اے آئی‘ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کمپنی کے مطابق ’ہم اس مشکل وقت میں رائن خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔‘

28/08/2025

اپنے لوگوں سے ایک مخلصانہ اپیل ہے کہ آپ سیاست ضرور کریں، اپنے قائدین کو سپورٹ کریں، جسے چاہیں ووٹ دیں، لیکن اس حمایت میں اتنے آگے نہ بڑھیں کہ کسی کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچے۔

سیاست ایک مہم ہے، مگر ہمارا معاشرہ ہماری اصل زندگی ہے۔ ہمیں اسی میں جینا ہے، ایک دوسرے سے ملنا ہے، کل کو ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ اور گلے ملنا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آج کی سیاست کل کے رشتوں کو ختم کر دے۔ لہٰذا سیاست ضرور کریں مگر اپنے معاشرے کو پرامن اور محفوظ رکھیں۔ یہی ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہے!!
Copy & Paste

28/08/2025

’آج سے انڈیا میں بنے الیکٹرک وہیکلز 100 ملکوں کو ایکسپورٹ کیے جائیں گے۔۔۔‘ یہ کہنا تھا انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کا جب انھوں نے گجرات میں ایک تقریب سے خطاب کیا۔

انھوں نے انڈیا، جاپان اور گاڑیوں کی کمپنی ماروتی سوزوکی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’2012 میں جب میں یہاں کا وزیر اعلیٰ تھا تو ہم نے ماروتی سوزوکی کو ہنسلپور میں زمین الاٹ کی تھی، اس وقت بھی میڈ اِن انڈیا کا ویژن تھا۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے بقول ’سوزوکی جاپان آج انڈیا میں مینوفیکچرنگ کر رہی ہے اور جو گاڑیاں بن رہی ہیں وہ واپس جاپان کو ایکسپورٹ کی جا رہی ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ لگاتار چار سال سے ماروتی سوزوکی انڈیا کی سب سے بڑی کار ایکسپورٹر ہے اور ’آج سے ای وی ایکسپورٹ کو بھی اسی بلندی پر لے جانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ اب دنیا کے درجنوں ملکوں میں جو ای وی چلے گی اس پر لکھا ہو گا میڈ اِن انڈیا۔‘

دراصل مودی سوزوکی کی پہلی عالمی سطح کی بیٹری الیکٹرک وہیکل ’ای ویٹارا‘ کی بات کر رہے تھے جسے منگل کو ان کی طرف سے باقاعدہ طور پر انڈیا میں متعارف
کروایا گیا۔
🥀🥀🥀
Request to Facebook Community
Please don't remove this content

،
،

Ten Unknown Facts About Ten Unknown Facts About Unknown Facts About

1. Founding and History: BMW, Bayerische Motoren Werke AG, was founded in 1916 in Munich, Germany, initially producing aircraft engines. The company transitioned to motorcycle production in the 1920s and eventually to automobiles in the 1930s.

2. Iconic Logo: The BMW logo, often referred to as the "roundel," consists of a black ring intersecting with four quadrants of blue and white. It represents the company's origins in aviation, with the blue and white symbolizing a spinning propeller against a clear blue sky.

3. Innovation in Technology: BMW is renowned for its innovations in automotive technology. It introduced the world's first electric car, the BMW i3, in 2013, and has been a leader in developing advanced driving assistance systems (ADAS) and hybrid powertrains.

4. Performance and Motorsport Heritage: BMW has a strong heritage in motorsport, particularly in touring car and Formula 1 racing. The brand's M division produces high-performance variants of their regular models, known for their precision engineering and exhilarating driving dynamics.

5. Global Presence: BMW is a global automotive Company

6. Luxury and Design: BMW is synonymous with luxury and distinctive design, crafting vehicles that blend elegance with cutting-edge technology and comfort.

7. Sustainable Practices: BMW has committed to sustainability, incorporating eco-friendly materials and manufacturing processes into its vehicles, as well as advancing electric vehicle technology with models like the BMW i4 and iX.

8. Global Manufacturing: BMW operates numerous production facilities worldwide, including in Germany, the United States, China, and other countries, ensuring a global reach and localized production.

9. Brand Portfolio: In addition to its renowned BMW brand, the company also owns MINI and Rolls-Royce, catering

27/08/2025

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے، اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔"
(صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث: 49)

اس حساب سے دیکھا جائے تو ہماری پوری قوم ایمان کے سب سے کمزور درجے پر فائز ہے یا شاید اس سے بھی نیچے۔ کوٹ رادھا کشن (رائے ونڈ) میں صرف 30 روپے کی بنیاد پر ہونے والے جھگڑے کے نتیجے میں دو نوجوان بھائی قتل ہو گئے۔ اس افسوس ناک واقعے کے کئی پہلو ہیں؛ کیا 30 روپے کی اتنی اہمیت ہے کہ کسی کی جان ہی لے لی جائے! کیا یہ معاملہ بات چیت سے رفع دفع نہیں کیا جا سکتا تھا! کیا معمولی سی بات پر اکڑنے یا اپنی انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے تحمل اور برداشت سے کام نہیں لیا جاسکتا تھا!اور سب سے بڑھ کر کہ وہاں موجود لوگوں میں کوئی ایک بھی ایسا شخص نہیں جو انہیں سمجھا سکتا، لڑائی میں مداخلت کرکے انہیں روک سکتا۔

آئے روز اس طرح کے واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں لیکن پاس کھڑے لوگ کچھ نہیں کرتے۔ صرف تماشہ دیکھتے ہیں۔ اور زیادہ تو فوراً موبائل نکال کر ویڈیوز بنانا شروع کر دیتے ہیں۔
آج سے کچھ سال قبل دو بھائیوں کی لڑائی کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی، جس میں ایک بھائی نے کلہاڑی کا وار کرکے دوسرے بھائی کو قتل کردیا۔ اس وقت بھی موقع پر بیس سے زیادہ لوگ موجود تھے لیکن کسی نے آگے بڑھ کر روکنے کی جرأت نہیں کی۔ آدھے لوگ موبائل سے ویڈیو بنا رہے تھے اور باقی آدھے ہاتھ باندھ کر تماشہ دیکھ رہے تھے۔

اور کوٹ رادھا کشن والے واقعے میں بھی یہی کچھ نظر آرہا ہے کہ بے حس لوگ صرف ڈرامہ دیکھ رہے ہیں۔ کسی ایک انسان میں ایمان کا وہ درجہ موجود نہیں کہ وہ ہاتھ یا زبان سے اس برائی کو روک سکے یا کم از کم روکنے کی کوشش ہی کرسکے۔ عجیب تماش بین قوم پیدا ہوئی ہے، دو لوگ لڑ رہے ہوتے ہیں اور پورا بازار تماشہ دیکھ رہا ہوتا ہے۔
اس طرح کے معاملات میں مداخلت کر کے جھگڑا ختم کروانے کے لیے بہت زیادہ اخلاقی غیرت اور اور مضبوط ایمان کی ضرورت ہوتی ہے جو اس ٹک ٹاکر قوم میں سے کب کی ختم ہو چکی۔

26/08/2025

ہمارے جسم سے آنے والی بُو ہماری صحت کے بارے میں کیا بتاتی ہے اور کیا اِس کی مدد سے ممکنہ بیماری کی تشخیص ممکن ہے؟
’یہ بالکل فضول بات ہے۔‘

سائنسدان پوڈیٹا بغان کا ردعمل کچھ ایسا تھا، جب انھیں اُن کی ایک ساتھی نے بتایا کہ سکاٹ لینڈ کی ایک خاتون، جو کہ ریٹائرڈ نرس ہیں، کا دعویٰ ہے کہ وہ انسانی جسم کی بُو سونگھ کر کسی میں بھی پارکنسنز نامی بیماری کی تشخیص کر سکتی ہیں۔

74 سالہ ریٹائرڈ نرس جوائے میلن نے سنہ 2012 میں بغان کے کولیگ ریسرچر ٹیلو کنتھ سے رابطہ کیا تھا جو اُس وقت یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں نیورو سائنسدان تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’وہ (خاتون) ضعیف افراد کو سونگھتی ہیں اور اُن میں پارکنسنز بیماری کی علامات کی شناخت کر سکتی ہیں۔‘

74 سالہ ریٹائرڈ نرس جوائے میلن نے بتایا کہ انھیں اپنی اس صلاحیت کا اندازہ اُس وقت ہوا جب اُن کے شوہر کے جسم سے مشُک کی طرح کی بُو آنے لگی اور پھر کئی برسوں کے بعد اُن میں پارکنسنز کی بیماری کی تشخیص ہوئی۔

بغان جو اُس وقت یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے وابستہ تھیں، انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اُس ریٹائرڈ نرس کی اس صلاحیت (بیماری کی تشخیص کرنا) کو جانچنے کا فیصلہ کیا۔‘

25/08/2025

’پاکستان کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ آپ کے دل ہمیشہ فخر سے بھرپور، آپ کی امیدیں بلند اور مستقبل روشن ہو۔‘

’پاکستان زندہ باد۔‘

یہ پیغام صرف سات دن قبل پاکستان کے یوم آزادی کے دن کسی پاکستانی رہنما کی جانب سے نہیں بلکہ ایک سابق امریکی جج کی جانب سے پاکستان کے عوام کے نام جاری کیا گیا تھا۔

یہ جج فرینک کیپریو تھے جنھوں نے 14 اگست کے دن سوشل میڈیا پر جاری اس بیان کے ساتھ ایک تصویر میں پاکستان کا پرچم بھی تھاما ہوا تھا۔ اس پیغام کے جاری ہونے کے چند ہی دن بعد ’دنیا کے سب سے اچھے جج‘ کہلائے جانے والے فرینک کیپرو وفات پا گئے۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Rawalpindi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Rawalpindi
08522580