Capital Pansaar store
Health care and herbal medicine service
اسلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ کرونا کے ایسے مریض جن کو بخار نزلہ زکام گلے میں درد اور خراش ہو خوشبو کا آنا اور منہ کا ذائقہ ختم ہو جانا جسم میں درد ہو ایسے مریضوں کے لیے ہربل ٹی دستیاب ہے جس کے استعمال سے فوری طور پر ان تمام مسائل سے آرام مل جاتا ہے ایڈریس کیپیٹل پنسار اسٹور شاپ نمبر 8 سیکٹر 2 نیازی پلازہ خیابان سر سید راولپنڈی حکیم سید شافی شاہ فون نمبر 03335758242
19/02/2020
مہرے ٹلنا۔۔یا مہروں کا گیپ۔۔۔
کسی چوٹ یا حادثہ کے سبب دو مہروں کے درمیان والی ڈسک کا مادہ لیک کر جاتا ہے اور مہروں کا ستون ٹیڑھا ہوجاتا ہے
یہ کمر سے نیچے کے حصوں میں شروع ہوتا ہے اس میں L3, L4 اور L5 اس کے مقامات مرض ہیں اس کے علاوہ عظم العانہ یہ ایک بڑی ہڈی ہے اس میں کوئی سوراخ نہیں ہوتا اسے ڈھڈی کی ہڈی کہتے ہیں
یہ بچپن میں پانچ الگ الگ مہرے ہوتے ہیں لیکن سن نمو کے ساتھ ساتھ یہ پانچ مہرے جڑ کر ایک مہرے میں بدل جاتے ہیں اسی مہرے کے سوراخ سے حرام مغز اور اعصاب گزرتے ہیں سوراخ میں سوزش اجانے کی وجہ سے حرام مغز اور اعصاب سوراخ میں پھنس جاتے ہیں اور ان کے نظام ڈس آرڈ ہوجاتے ہیں اور اس وجہ سے اکثر عرق النساء کا درد ہوجاتا ہے
ستون ٹیڑھا ہوجانے کی وجہ سے اسکے ساتھ ساتھ چلنے والے اعصاب و عضلات کچلے جاتے ہیں اور جس طرف یہ اعصاب و عضلات کچلے جائیں اسی طرف کی ٹانگ میں کھنچاو اجاتا ہے جو پٹھہ اس کے ساتھ سے گزر رہا ہو وہ دب جاتا ہے جب دب جائے تو اسے سٹینوسز کہتے ہیں اور سٹینوسز صفراء کی کثرت سے ہوتا ہے مردوں میں تحریک قشری عضلاتی اور عورتوں میں تحریک قشری اعصابی ہوگی جبکہ بعض عورتوں میں قشری عضلاتی بھی ہوتی ہے اور وہ 20% سے زیادہ نہیں ہوتی
اگر یہ ڈسک گردن کے مقام سے دب جائے تو وہاں دب کر اس کا فلوڈ بہہ کر اس کا درد دونوں بازوں میں اجاتا ہے
اور بعض اوقات کندھوں سے پیچھے کی طرف جو مثلث ہے ان میں ناکافی رسد خون کی وجہ سے ہوتا ہے اس ہڈی کو عظم الکتف کہتے ہیں
اچانک چلتے چلتے زور کی اکڑن ہوتی ہے کہ ایک قدم چلنا بھی دشوار ہوجاتا ہے
متاثرہ مریض وہاں ہی بیٹھ جاتا ہے اور چلنے کا خوف دل میں بیٹھ جاتا ہے
یہ اعصاب کی سوزش و ورم کا مرض ہے
اس مرض کے ساتھ عورتوں میں بلڈ پریشر ہائی بھی ہوجاتا ہے اس وقت مہرے کے مرض کو بھول کر سب سے پہلے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے
بعض اوقات یہ درد سردی کی وجہ سے بڑھ جاتا ہے
علاج ۔۔۔۔
گردن کے مہروں کے درد کے لیے تریاق 45 دو گرام اور حب لوزہ ایک ایک گولی تین ٹائم دیں مقام متاثرہ پر روغن ذیتون کی مالش کریں فوری آرام ملے گا
جن افراد کو مہروں کے درد کے ساتھ بلڈ پریشر ہائی کا بھی عارضہ ہو انہیں MC میں مفرح ملا کر دیں ساتھ حب شفاء ایک ایک گولی دیں
جن کو بلڈ پریشر نہیں انہیں ملین 45 کے ساتھ کشتہ عقیق دو رتی ملائی یا مکھن میں رکھ کر دیں گے
کشتہ عقیق ہڈی کا کیلشیم پورا کر دیتا ہے جب ہڈی کو کیلشم ملے گا تو طاقت اور قوت سے ہڈی کا درد ٹھیک ہوجائے گا
اس کے عارضی اور وقتی درد کو بھگانے کے لیے نمک ملے نیم گرم پانی کی مقام درد پہ ٹکور کریں اور سرسوں کے تیل میں ہلدی جلا کر مالش کریں فوری آرام محسوس ہوگا
ادویہ کے ساتھ اغذیہ صرف 5 اور 6 نمبر دیں گے تاکہ رطوبات پیدا ہوں جو دوا رطوبت پیدا کرے وہ پٹھوں کو ہرا بھرا کر دیتی ہے
15/02/2020
آدھے سر کا درد۔۔۔Migraine..
آدھے سر کا درد سر کے دائیں یا بائیں ہوتا ہے جو ایک قسم کا دورے کی صورت ہوتا ہے یہ درد بہت شدید ہوتا ہے اس درد سے چند منٹ پہلے طبعیت سست اور نڈھال محسوس ہونے لگتی ہے اہستہ اہستہ سر چکرانے لگتا ہے کنپٹیوں اور بھووں میں درد ہوتا ہے جو بڑھ کر تیز ہوجاتا ہے اور ایک سائیڈ کی طرف سے سر پھٹتا محسوس ہوتا ہے
انکھوں کے اگے اندھیرا چھا جاتا ہے اور چنگاریاں اڑتی نظر اتی ہیں اونچی اواز اور روشنی برداشت نہیں ہوتی
جی متلانے لگتی ہے ابکائی کی کفیت طاری ہوجاتی ہے اور درد ایک سائیڈ کی طرف رک سا جاتا ہے اس درد کا دورانیہ چار گھنٹہ سے 24 گھنٹے تک برقرار رہتا ہے
اس کے بعد مریض کو نیند انے لگتی ہے اور جاگنے کے بعد درد کی شدت نہایت کم ہوچکی ہوتی ہے صرف بوجھ سا محسوس ہوتا ہے
یہ مرض مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ پایا جاتا ہے
اس درد میں کبھی تین دن اور کبھی ہفتے بھی وقفہ رہتا ہے
احتیاطی تدابیر۔۔
مریض کو درد کے وقت کسی ایسے کمرے میں لیٹائیں جہاں روشنی نہ ہو شوروغل بالکل نہ کریں کھانے کے لیے دورے کے وقت کچھ بھی دیں
اگر درد سے کچھ منٹ پہلے کچھ کھایا ہوتو نیم گرم پانی میں نمک ملا کر پلا دیں تاکہ قے ہوجائے اور معدہ خالی ہوجائے
علاج۔۔۔
سب سے پہلے مریض کے بلڈ پریشر کو دیکھیں اگر بلڈ پریشر ہائی ہے تو ایم سی چار حصہ میں ایک حصہ چار جدید اور دو حصہ تریاق 67 ملا کر صبح شام تین گرام دیں اگر بلڈ پریشر لو ہے تو ایچ 67 چار حصہ میں ایک حصہ مفرح ملا کر تین گرام دوا تین ٹائم دیں
اگر قبض ہوتو پوست ہلیلہ زرد کو پیس کر زرا سا نمک ملا کر دو گرام پانی سے دیں
سونٹھ کا سفوف صبح شام کھانے کے بعد ایک ایک گرام دیں
کالی مرچ منہ میں رکھ کر چوسنے کے لیے کہیں
رائی کو پانی میں پیس کر درد والی سائیڈ کی کنپٹی پہ لیپ کریں اس سے بھی درد میں افاقہ ہوجائے گا
دودھ میں دیسی گھی ملا کر ناشتہ میں دیں
برین اٹیک۔۔۔Brain Attack
انسانی جسم کے اعضاء میں سر نہایت نازک عضو ہے جس کے ساتھ انسان کے بولنے، دیکھنے،سوچنے،اور سمجھنے کی صلاحیت وابستہ ہے اسی لیے سر میں چوٹ لگنا خطرناک شمار کیا جاتا ہے
سر کی غیر معمولی چوٹ یا صدمہ سے دماغی موت واقع ہوکر زندگی سنگین خطرات سے دوچار ہوسکتی ہے
کسی حادثے ،سر کے بل گرنے یا حملے سے لگنے والی شدید ضرب کو ٹرامیٹک برین انجری ( Traumatic brain injury )کہا جاتا ہے
کسی حادثے میں سر کو زوردار جھٹکا لگنے سے دماغ سر کی کھوپڑی کی سخت ہڈی سے ٹکرا جاتا ہے جس سے سر میں ورم پیدا ہوکر دوران خون میں خلل پیدا ہوسکتا ہے یا خون کی شریانیں پھٹ سکتی ہیں جس سے یاداشت متاثر ہوکر چند ماہ یا کئ سال تک جاسکتی ہے اگر کسی ایسے حادثہ میں دماغ کے کسی حصہ میں خون جم جائے تو موت واقع ہوجاتی ہے
سر میں سیال کے جمنے پر خون دماغ کے اہم حصوں تک نہیں پہنچ پاتا اس لیے فوری آپریشن کرکے کھوپڑی میں سوراخ کرکے سیال نکال دیا جاتا ہے
علاج۔۔۔۔
ایسی صورت میں اگر خون کو ادویہ کے زریعے رقیق کیا جائے تو خون ناک اور منہ کے راستے اخراج پاسکتا ہے
علاج۔۔۔۔
ملین 45 ایک سے دو گرام دوا تین ٹائم نیم گرم دودھ یا لونگ اجوائن کے قہوہ سے دیں
05/02/2020
*مرض ذیابیطس اور یونیفیکیشن تھیوری آف کرونک ڈزیزز*
جاننا چاہیئے کہ مرض ذیابیطس کا تعلق شکر (گلوکوز) کے ہاضمے سے ہے۔ کسی بھی سبب سے گلوکوز کا میٹابولزم کم ہو یا نہ ہو رہا ہو تو اس مرض کو ذیابیطس کہتے ہیں۔ گلوکوز کے استحالہ میں کئی فیکٹرز (انسولین کی کم پیدائش ہونا یا نہ ہونا اور انسولین کے خلاف خلیات میں مزاحمت ہونا) کردار ادا کرتے ہیں جن کے سبب یہ مسلہ پیدا ہوتا ہے۔
اسباب کے مطابق اس مرض کو جدید میڈیکل سائنس میں ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو میں تقسیم کرکے بیان کیا جاتا ہے۔
1. *ٹائپ ون شوگر*
لبلبہ کی جینیاتی خرابی کے باعث انسولین کی پیدائش کم یا بالکل نہ ہونا۔ یہ مرض عموما لڑکپن سے 35 سال کی عمر تک ظاہر ہوتا ہے۔ طبی لحاظ سے یہ خلقی نقص ہے جس کے ردعمل میں طبیعت مدبرہ بدن دموی مزاج (گرم تر) پیدا کرتی ہے۔ اس کا علاج نہایت مشکل ہے اس لیئے مریض کو انسولین لینی پڑتی ہے۔ بحرحال اس کا علاج نیچے بیان کردہ ٹائپ ون کے دوسرے ورمی درجہ کی شوگر کے مطابق کیا جاتا ہے۔
2. *ٹائپ ٹو شوگر* اس قسم کی بالحاظ مزاج و درجات مزید کئی اقسام ہیں۔ حاملہ کی شوگر بھی اسی قسم کے تحت آتی ہے لیکن وہ شوگر کی حاد قسم ہے جو بعد از ولادت ٹھیک ہوجاتی ہے۔
ذیابیطس ٹائپ ٹو کو بلڈ شوگر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مرض غیر صحت مندانہ طرز حیات اور موجودہ دور کی کیمیکل اغذیہ کا شاخسانہ ہے۔ ان اسباب کے باعث سب سے پہلے جگر، لبلبہ اور معدہ و امعاء میں سوزش شروع ہوتی ہے جس سے نظام ہضم ڈسٹرب ہوجاتا ہے۔ سوزش کا مزاج گرم و خشک صفراوی تحریک ہے۔
یونیفیکیشن تھیوری آف کرونک ڈزیزز کے مطابق اس مزمن مرض کے درج ذیل چار درجات یا اقسام ہیں ہر درجہ میں مزاج اور علامات تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
1. گرم و خشک سوزشی یا صفراوی درجہ
2. گرم و تر ورمی یا دموی درجہ
3. سرد و تر بلغمی یا ترشح کا درجہ
4. سرد و خشک سوداوی یا تبریدی درجہ
1. *سوزشی درجہ (جگر کی کیمیائی تحریک خشک گرم صفراوی مزاج)*
بسیار خوری، رات دیر سے کھانا تناول کرنا، گرم خشک اور چٹ پٹی مصالحے دار اغذیہ کا کثرت استعمال، قبض، فضلات بدن کا مناسب تنقیہ نہ ہونا، تیزابی اور کیمیکل اغذیہ کے استعمال، سے نظام ہضم بالخصوص جگر میں سوزش واقع ہوتی ہے۔ یہی شوگر کی کثیر الوقوع قسم ہے۔ اس میں لبلبہ اور جگر کے اینزائمز و ہارمونز کی کمی بیشی کے سبب اول ہضم خراب ہوتا ہے غدد ناقلہ سوزش ناک ہوجاتے ہیں جن کی سوزش سے گلوکاگان اینزائم کی زائد پیدائش ہوکر غذاء کا ہضم و جذب متاثر ہونے لگتا ہے۔ پیشاب رک رک کر تھوڑا آتا ہے۔ غدد ناقلہ میں سوزش سے لبلبہ کے قشری خلیات انسولین کے اینٹی اینزائم کی پیدائش بڑھا دیتے ہیں جس سے انسولین کی پیدائش کم ہونے لگتی ہے۔ چونکہ انسولین کا کام گلوکوز کو خلیات کے اندر داخل کرنا ہے تو انسولین کی کمی کے باعث گلوکوز کے مالیکیولز خون میں تیرنے لگتے ہیں اور یوں شوگر کی علامت ظاہر ہوجاتی ہے۔ چونکہ عضلات کو روزمرہ افعال کیلیئے گلوکوز کی ضرورت ہوتی ہے اور مناسب گلوکوز نہ ملنے کے سبب بھوک کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ تو طبیعت مدبرہ بدن جگر میں سٹور شدہ گلائی کوجن کو گلوکوز میں تبدیل کرکے خون میں شامل کرنے لگتا ہے۔ لیکن گرم و خشک مزاج کے سبب خلیات میں انسولین کا انجذاب صحیح طور نہیں ہوپاتا کیونکہ خلیات میں انجذاب کا عمل سردی سے ہوتا ہے۔ اس لیئے جگر سے بھیجی گئی شکر کو خلیات میں بھیج کر توانائی کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش جاری رہتی ہے جب اس گلوکوز کا سٹور بھی خالی ہونے لگتا ہے تو جسم کو جہاں کہیں سے بھی گلوکوز ملتا ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش میں جسم کی فالتو چربی کو کام میں لایا جاتا ہے جب یہ سب طریقے ناکام ہوجائیں تو جسم سکڑنا سوکھنا شروع ہوجاتا ہے، عضلات ڈھیلے پڑھاتے ہیں، ہر وقت تھکاوٹ، اور وزن کم ہونے لگتا ہے۔ ہاضمہ خراب، معدہ متعفن، گیس، منہ سے بو کے بھبکے, پاخانہ خاکی، پیشاب زرد جلندار، رقت منی، غصہ، سرعت انزال، ذکاوت حس، کمی منی سے قوت باہ کی کمی، ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی کمی، کولیسٹرول کا بڑھنا، خصیوں کا سکیڑ، بالوں کا گرنا، موتیا بند، ضعف بصر، درد کمر، صبح اٹھنے کو دل نہ چاہنا، پیٹ اور رانوں کی جلد پر جلن، فشار الدم قوی، ہاتھ پاؤں کی جلن، پٹھے درد، جسم درد، گھبراہٹ، دم کشی، جیسی علامات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ یہ کثرت صفراء سے جگر، لبلبہ و اعضائے ہضم کی سوزش کا مرض ہے
*علاج*۔ ایچ-67 چار گرام دن میں تین بار مسلسل دیں۔ اگر ہاتھ پاؤں کے تلوے جلتے ہیں تو تریاق صفراء بھی تین گرام صبح شام خلوئے معدہ دیں۔
اگر گھبراہٹ و خفقان قلب کی علامت ہوتو ایچ-67 میں چھٹا حصہ اکسیر1 مفرح ملاکر تین گرام دینا ہے۔
بلڈ پریشر نارمل ہوتو ہلکے میٹھے پھل استعمال کرسکتے ہیں۔
اگر جگر میں سوزش زیادہ ہو یعنی ALT, AST بڑھے ہوئے ہوں تو اعصابی مخاطی ملین دو حصہ میں اعصابی قشری ملین ایک حصہ ملاکر چار گرام دوا تین ٹائم ہمراہ عرق کاسنی دیں۔
بلڈ پریشر زیادہ ہوتو ایچ-67 میں تریاق67 تیسرا حصہ ملاکر تین گرام دینا ہے۔
شوگرین BS
اندر جو شیریں، اندر جو تلخ اور گڑمار بوٹی سب برابر وزن پیس لیں۔
خوارک۔ دو گرام صبح شام بعد غذاء
مزاج۔ گرم تر، سے تر گرم
افعال۔ بلڈ شوگر کے سوزشی درجہ میں لبلبہ و غدد ناقلہ کی سوزش اتار ان کے فعل از سر نو درست کرتی ہے۔
اگر اس نسخہ کے ساتھ ایچ-67 دی جائے تو گردوں کی سوزش بھی اتار دیتی ہے
2. *ورمی درجہ، دموی مزاج کی کیمیائی تحریک گرم تر*
پہلے سوزشی درجہ میں بلڈ شوگر کے مریض کا مناسب علاج نہ ہوسکے تو مرض ترقی کرکے دموی درجہ میں داخل ہوجاتا ہے اس دموی مزاج کی شوگر کو اکثر نظریئے کے اطباء بلغمی یعنی اعصابی مرض سمجھتے ہیں لیکن بلغمی مزاج میں ہائپوگلائیسیمیا ہوتا ہے۔ دموی مزاج میں گرمی تری کے سبب خلیات کی قوت ماسکہ کمزور ہوجاتی ہے اور انسولین خلیات میں جذب نہیں ہوپاتی شوگر کے اس درجہ کو انسولین کا مزاحمتی درجہ بھی کہا جاتا ہے۔ دیگر علامات میں جریان، لیکیوریا، ضعف عضلات، پیشاب میں شوگر کا اخراج، نبض ضعیف، کمر درد، ٹانگیں درد، کڑل، نسیان، بار بار پیاس، بار بار پیشاب، قوت باہ مکمل غائب، عورتوں کو حیض بہت کم صرف ایک دو دن داغ لگنا، ورم رحم، خون سیاہ لوتھڑوں کی صورت آنا، موٹاپہ، لبلبہ، جگر، پتہ اور گردوں کی سسٹس ہوجانا، گٹھنوں کا درد، ہڈیاں درد، بھوک نہ لگنا، ضعف ہضم، چہرے پر جھریاں، پائی جاتی ہیں۔
*علاج*
سب سے پہلے ضعف عضلات دور کرنے کیلیئے اربعہ فارماکوپیا کی عضلاتی مخاطی اور عضلاتی قشری ملین دو ایک کی نسبت سے ملاکر تین گرام ہر کھانے کے بعد دیں۔ جب زرا طبیعت سنبھل جائے تو پھر غدد ناقلہ کے ورم اور ضعف قوت ماسکہ کا علاج کیا جائے گا۔
ایچ-67 میں چھٹا حصہ مفرح ملاکر چار گرام ہر کھانے کے بعد تین گرام دیں اور یاقوتی دو سے چار رتی صبح شام ہمراہ مربہ آملہ کھلائیں۔ جب علامات میں تخفیف ہوجائے تب مخاطی اعصابی سے عضلاتی مخاطی تک درج زیل نسخے حسب علامات دیں۔
نسخہ۔۔۔شنگرف 50 گرام ڈلی پر تانبے کی تار لپیٹ کر اجوائن خراسانی سفوف تین کلو کا فرش و لحاف دے کر برتن آگ پر چڑھائیں اور برتن میں ایک کلو پانی ملادیں۔ پہلے پانی پک کر گاڑھا ہوگا پھر ادویہ جلنا شروع ہونگی۔ جب تمام اجوائن جل جائے تو اس کے اوپر الٹا برتن رکھ کر ڈھک دیں اور آگ تیز کردیں۔ جب ادویہ ٹھنڈی ہو جائیں تو احتیاط سے شنگرف نکال کر باریک سرمہ ساں کرلیں اور اس میں درج زیل ادویہ کا سفوف ملالیں تیار ہے۔
پوست ہریڑ زرد، مالکنگنی، ناگ کیسر، اسپند، دارچینی ہر ایک دوسو گرام
خوراک ایک زیرو نمبر کیپسول صبح شام صرف سات روز ہمراہ دودھ دیں پھر عضلاتی مخاطی ملین دو گولیاں اور اکسیر1 المعروف مفرح پانچ سو ملی صبح شام ہمراہ قہوہ ریش برگد دیں۔ اسکے بعد مخاطی اعصابی سے عضلاتی مخاطی ادویہ سے علاج کریں۔
*سفوف حابس*
پنیر ڈوڈی، دارچینی، گڑمار سو سو گرام، کشتہ فولاد فروٹ والا پچاس گرام، کشتہ زمرد پچیس گرام، افیون بیس گرام
سب ادویہ باریک پاوڈر کرکے کشتہ جات ملالیں۔ 500 ملی صبح شام ہمراہ دودھ بعد غذا دیں۔
اس دوا کے اتنے اچھے رزلٹ ملے ہیں کہ بیان سے باہر ہیں۔ شوگر خالص، کمر درد، ممسک مقوی، ذکاوت حس، اور جریان جیسے مسائل کو بہترین علاج ہے۔
3. *بلڈ شوگر کا تیسرا درجہ، مزاج تر سرد کیمیائی تحریک، غلبہ بلغم*
اس درجہ میں ھائپو گلائی سیمیا شروع ہوجاتا ہے۔ خون میں شوگر کم رہنے لگتی ہے۔ خون میں رطوبات کی کثرت ہوتی ہے۔ اکثر اطباء کرام خالص شوگر کو اعصابی خیال کرتے ہیں۔ *درحقیقت شوگر صرف گرم خشک اور گرم تر یعنی صفراوی اور دموی مزاج میں پائی جاتی ہے*۔
اس تیسرے درجہ میں بلڈ پریشر کم رہنے لگتا ہے۔ پورے جسم میں دردیں رہتی ہیں۔ کوئی چیز ہضم نہیں ہوتی۔ کوئی دوا اثر نہیں کرتی۔ ٹرائی گلیسرائیڈ لیول بڑھنے لگتا ہے۔ اس درجہ میں تمام اعصابی و بلغمی علامات پائی جاسکتی ہیں۔
اس درجہ میں شوگر کے پرانے مریض کا ضعف عضلات کا علاج کریں، یاقوتی پانچ سو ملی گرام صبح شام دیں۔ نیز عضلاتی مخاطی ملین و اکسیر، کشتہ زمرد، ازراقی مدبر، معجون ازراقی، جوارش زرعونی عنبری، معجون فلاسفہ، جوارش کمونی، سفوف حابس میں سے کوئی دوا دے سکتے ہیں۔
4. *مرض ذیابیطس کا چوتھا تبریدی درجہ۔ مزاج سرد خشک غلبہ سوداویت*
جب مریض مخاطی یعنی سوداوی مزاج میں پہنچتا ہے تب بھی اس کے خون میں شوگر کم ہوتی ہے۔ ان کے خون میں ٹرائی گلیسرائیڈ لیول بڑھ چکا ہوتا ہے۔ ایسے مریضوں کو صرف ٹرائی گلیسرائیڈ کی دوا دیں گے۔ اس وقت لبلبہ میں گلٹیاں رسولیاں اور کینسر بنتا ہے۔ لبلبہ میں صلابت آکر رطوبات کا افراز کم ہوجاتا ہے۔ علاج کیلیئے گلٹیاں رسولیاں گرم تر ادویہ سے تحلیل کرنی ہونگی۔ اگر سی-4 نسخہ دیا جائے تو گلٹیوں رسولیوں کے ساتھ ٹرائی گلیسرائیڈ بھی ٹھیک ہوجاتا ہے۔
*نسخہ سی-4*
فلفل سیاہ چار سو گرام، کچور دوسو گرام، سوئے دوسو گرام، دیسی اجوائن دوسو گرام، نوشادر ٹھیکری سو گرام
تمام ادویہ پیس لیں
خوراک۔ تین گرام ہر کھانے کے بعد ہمراہ قہوہ ادرک دیں۔
03/02/2020
03/02/2020
شرائین کی سختی و سکیڑ کی طرف رجحان۔۔.
شوگر کا مریض ایلو پیتھی ادویہ کھا کر یہ سمجھتا ہے کہ اب اسے پرہیز کی ضرورت نہیں ہے اور بد پرہیز ہوجاتا ہے جیسا شوگر سے پہلے تھا
مگر ایلو پیتھی ادویہ صرف خون میں شوگر نارمل رکھتی ہیں جبکہ مرض تو اپنی جگہ موجود رہتا ہے
ہوتا کیا ہے ؟؟؟؟
ادویہ کی مقدار خوراک بڑھتی چلی جاتی ہے انکے مابعد اثرات جگر کے فعل کو تیز کر دیتے ہیں اور صفراوی نمکیات بے مہار خون میں گھومتے رہتے ہیں جن سے اعضاء کی سوزش کے علاوہ رگوں میں تنگی بھی اجاتی ہے
اگر اس تنگی کا اثر دل کی قشری بافت پر ہوجائے تو ہارٹ اٹیک اور اگر دماغ کی شرائین پر ہو تو فالج ، لقوہ، اور ہمیرج ہوکر زندگی تلف ہونے تک نوبت اجاتی ہے
علاج۔۔۔۔۔
فقط اعصابی قشری تریاق دو دو گولیاں ہر کھانے کے بعد نیم گرم دودھ سے بالائی اتار کر دیں
اگر شرائین میں سکیڑ اچکا ہو تو اعصابی قشری ملین دو حصہ اور قشری اعصابی ملین ایک حصہ ملا کر تین گرام دوا تین ٹائم دیں
ہر تیسرے روز مسہل اعصابی قشری دو گرام دودھ سے دیں
شرائین کی تنگی۔۔۔۔۔۔
شوگر کے مریض کی سب سے بڑی وجہ رگوں میں گلوکوز کی لیر اور مزید کولسیٹرول کی زیادتی کی وجہ سے شریانوں کی تنگی ہے
شوگر کے مریض کی پچیدگی کی دوسری وجہ سوزش کی وجہ سے شریانوں کی تنگی ہے شریانوں کی تنگی کسی بھی وجہ سے ہو خون اعضاء جسم تک مقررہ مقدار میں نہ پہنچنے کی وجہ ان کے افعال میں افراط و تفریط پیدا کر دیتی ہے اور شوگر کا مریض دل ، دماغ ، ہڈیوں، گردوں جیسی پچیدگیوں میں گھر جاتا ہے
علاج۔۔۔۔۔۔
صرف ایچ 67 تین گرام تین ٹائم دیں
زرشک ، انار دانہ،دھنیہ خشک تینوں ملا کر قہوہ صبح شام دیں
شریانوں کی تنگی۔۔۔
جن بچوں کی مائیں ناشتہ میں بچوں کو انڈے پراٹھے، مکھن، کھلاتی ہیں تاکہ پروٹین پوری رہے ان بچوں میں رگوں کی تنگی اور بلڈ پریشر کا رجحان عمر کے کسی بھی حصہ میں ضرور ہوتا ہے ان بچوں کی رگوں میں بچپن سے ہی مادوں کی لئیر چڑھ جاتی ہے اور اس وقت مزید خرابی پیدا ہوجاتی ہے جب مائیں انھیں مرغن غذاوں کا بکثرت استمعال کرنے پہ روکتی نہیں اور یوں بچپن سے ہی دل کے عوارض کی Base بن جاتی ہے
جبکہ بڑوں میں خاص ان لوگوں کی رگیں تنگ ہوجاتی ہیں جو گوشت کے رسیا ہوں پرہیز کے نام سے ہی بھاگتے ہوں یہی ہٹ دھرمی ہارٹ اٹیک کا باعث بن کر زندگی کا چراغ گل کر دیتی ہے
اسی طرح رگوں کی تنگی والے مریض میں ٹرائی گلسرائیڈ بڑھ جائے تو خطرناک صورتحال پیدا ہوجاتی ہے
علاج۔۔۔۔۔
قشری اعصابی دوائیں دیں اگر رگوں کی تنگی ہی زیادہ مسلہ کرے تو C/4 تین گرام دوا ہر کھانے کے بعد قہوہ ادرک سے دیں
اگر ساتھ کھانسی کی شکایت بھی ہو سینہ جھکڑا ہو تو تریاق 45 کی ایک ایک گولی صبح شام دیں
ہارٹ اٹیک۔۔۔۔۔
شوگر کے وہ مریض جو انتہائی حساس ہوتے ہیں اور معمولی علامت پہ بھی ایلو پیتھی کی بیس بیس گولیاں پھانکتے ہیں
جسم کے ساتھ ساتھ ان کا دل بھی کمزور ہو جاتا ہے بدپرہیزی سے ٹرائ گلسرائیڈ بڑھ کر ہارٹ اٹیک کا شکار ہوجاتے ہیں
علاج.۔۔۔
ایچ 67 چار حصہ میں ایک حصہ اکسیر نمبر 1 ملا کر چار گرام دوا عرق کاسنی پچاس گرام میں سو گرام پانی ملا کر دیں جب گھبراہٹ بے چینی رفع ہوجائے تب اعصابی قشری دو دو گولیاں تین ٹائم دودھ سے بالائی اتار کر دیں
*پروفیسر حکیم محمد اشرف شاکر*
*نوٹ*۔۔۔ استاد محترم نے شرائین کے سکیڑ کی تحریک یا کیفیاتی و مزاجی سبب بیان نہیں کیا۔ صرف غذائی اسباب لکھے ہیں۔
بہت غور و فکر کے بعد میں اس نتیجہ پہ پہنچا ہوں کہ شرائین صفراوی (گرم خشک) مزاج میں سکڑتی ہیں۔
قشری یا غدی تحریک میں اسی لیئے نبض باریک ہوتی ہے۔
30/01/2020
ٹائفائیڈ۔ تپ محرقہ
ٹائفائیڈ گرم تر دموی مزاج کا مرض ہے جس میں پروٹین کے کثرت استعمال سے آنتوں میں ورم بن کر ان سے پیپ پیدا ہونے لگتی ہے۔ اور مریض کو اس انفیکشن کے سبب بخار کا حملہ بار بار ہوتا ہے۔ نیز بلڈ ٹیسٹ کرنے سے ٹائفائیڈ کا ٹیسٹ حاد اور مزمن دو صورتوں میں مثبت آ جاتا ہے۔ اس کے علاؤہ مزمن ٹائفائیڈ سے مریض کے خون میں اس مرض کے خلاف اینٹی باڈیز بھی پیدا ہوجاتی ہیں۔ جو ٹیسٹ میں پازیٹو آتی ہیں۔
*مجرب علاج*
ایم سی اور سوسی برابر ملاکر تین گرام اور ملین اعصابی قشری ایک گرام
دن میں تین بار مسلسل ایک ڈیڑھ ماہ دینے سے بیشمار مریضوں کا ٹائفائیڈ درست ہوا ہے اور ان کا ٹائفائیڈ ٹیسٹ بھی کلیئر آیا ہے۔
یہ کمبینیشن استاد محترم پروفیسر حکیم محمد اشرف شاکر صاحب کا ترتیب دیا ہوا ہے۔
غذائی پرہیز نہایت لازم ہے ورنہ علاج بے سود ہوگا۔
مریض کو ہر قسم گوشت، مرچیں، اور چکنائیاں بند کرکے سبزیاں دالیں اور فروٹ دیں۔ نیز دودھ اور دودھ سے بنی ڈشز تجویز کریں
28/01/2020
ڈپریشن
Depression
تعارف:
وقتاً فوقتا ہم سب اداسی، مایوسی اور بیزاری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ عمو ماً یہ علامات ایک یا دو ہفتے میں ٹھیک ہو جاتی ہیں اور ہماری زندگیوں میں ان سے بہت زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ کبھی یہ اداسی کسی وجہ سے شروع ہوتی ہے اور کبھی بغیر کسی وجہ کے ہھی شروع ہو جاتی ہے۔ عام طور سے ہم خود ہی اس اداسی کا مقابلہ کر لیتے ہیں۔بعض دفعہ دوستوں سے بات شیئر کرنے سے ہی یہ اداسی ٹھیک ہوجاتی ہے اور کسی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن طبّی اعتبار سے اداسی اسوقت ڈپریشن کی بیماری کہلانے لگتی ہے جب:
• اداسی کا احساس بہت دنوں تک رہے اور ختم ہی نہ ہو
• اداسی کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ زندگی کے روز مرہ کے معمولات اس سے متاثر ہونے لگیں۔
ڈپریشن میں کیسا محسوس ہوتا ہے؟
ڈپریشن کی بیماری کی شدت عام اداسی کے مقابلے میں جو ہم سب وقتاً فوقتاً محسوس کرتے ہیں کہیں زیادہ گہری اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔ اس کا دورانیہ بھی عام اداسی سے کافی زیادہ ہوتا ہےاور مہینوں تک چلتا ہے۔ درج ذیل ًعلامات ڈپریشن کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر مریض میں تمام علامات مو جود ہوں لیکن اگر آپ میں ان میں سے کم از کم چار علامات موجود ہوں تو اس بات کا امکان ہے کہ آپ ڈپریشن کے مرض کا شکار ہیں۔
۱۔ ہر وقت یا زیادہ تر وقت اداس اور افسردہ رہنا
۲۔ جن چیزوں اور کاموں میں پہلے دلچسپی ہو ان میں دل نہ لگنا، کسی چیز میں مزا نہ آنا
۳۔ جسمانی یا ذہنی کمزوری محسوس کرنا، بہت زیادہ تھکا تھکا محسوس کرنا
۴۔ روز مرہ کے کاموں یا باتوں پہ توجہ نہ دے پانا
۵۔ اپنے آپ کو اوروں سے کمتر سمجھنے لگنا، خود اعتمادی کم ہو جانا۔
۶۔ ماضی کی چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے اپنے آپ کو الزام دیتے رہنا، اپنے آپ کو فضول اور ناکارہ سمجھنا
۷۔ مستقبل سے مایوس ہو جانا
۸۔ خودکشی کے خیالات آنا یا خود کشی کی کوشش کرنا
۹۔ نیند خراب ہو جانا
۱۰۔ بھوک خراب ہو جانا
ڈپریشن کیوں ہو جاتا ہے؟
بعض لوگوں میں ڈپریشن کی کوئی خاص وجہ ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ بہت سے لوگوں کو جو اداس رہتے ہیں اور ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں اپنی اداسی کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔اس کے باوجود ان کا ڈپریشن بعض دفعہ اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ انھیں مدد اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
•معاملاتَ زندگی
بعض تکلیف دہ واقعات مثلا کسی قریبی عزیز کے انتقال، طلاق، یا نوکری ختم ہوجانے کے بعد کچھ عرصہ اداس رہنا عام سی بات ہے۔ اگلے کچھ ہفتوں تک ہم لوگ اس کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور بات کرتے رہتے ہیں۔پھر کچھ عرصہ بعد ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیتے ہیں اور اپنی روز مرہ کی زندگی میں واپس آ جاتے ہیں۔لیکن بعض لوگ اس اداسی سے باہر نہیں نکل پاتے۔ بات کو دل پر لے لیتے ہیں اور ڈپریشن کی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔
• حالات وواقعات
اگر ہم تنہا ہوں، ہمارے آس پاس کوئی دوست نہ ہوں، ہم ذہنی دباؤ کا شکار ہوں، یا ہم بہت زیادہ جسمانی تھکن کا شکار ہوں، ان صورتوں میں ڈپریشن کی بیماری ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
• جسمانی بیماریاں
جسمانی طور پر بیمار لوگوں میں ڈپریشن ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ بیماریاں ایسی بھی ہو سکتی ہیں جو زندگی کے لیے خطرناک ہوں مثلا کینسر یا دل کی بیماریاں، یا ایسی بھی ہو سکتی ہیں جو بہت لمبے عرصے چلنے والی اور تکلیف دہ ہوں مثلاً جوڑوں کی تکلیف یا سانس کی بیماریاں۔ نوجوان لوگوں میں وائرل انفیکشن مثلاً فلو کے بعد ڈپریشن ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ لیکن طبی لحاظ سے دل کی کمزوری ڈپریشن کا باعث بنتی ہے۔
• شخصیت
ڈپریشن کسی کو کسی بھی وقت ہو سکتا ہےلیکن بعض لوگوں کو ڈپریشن ہونے کا خطرہ اور لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ ہماری شخصیت بھی ہو سکتی ہے اور بچپن کے حالات و تجربات بھی۔
• شراب نوشی اور منشیات کا استعمال۔
جو لوگ الکحل بہت زیادہ پیتے ہیں ان میں سے اکثر لوگوں کو ڈپریشن ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ یہ پتہ نہیں چلتا کہ انسان شراب پینے کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو گیا ہے یا ڈپریشن کی وجہ سے شراب زیادہ پینے لگا ہے۔جو لوگ شراب بہت زیادہ پیتے ہیں یا منشیات استعمال کرتے ہیں ان میں خود کشی کرنے کا خطرہ عام لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔
• جنس
خواتین میں ڈپریشن ہونے کا امکان مرد حضرات سے زیادہ ہوتا ہے۔
• موروثیت
ڈپریشن کی بیماری بعض خاندانوں میں زیادہ ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے والدین میں سے کسی ایک کو ڈپریشن کی بیماری ہے تو آپ کو ڈپریشن ہونے کا خطرہ اورلوگوں کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ ہے۔
مینک ڈپریشن یا بائی پولر ڈس آرڈر کیا ہے؟
جن لوگوں کو شدید ڈپریشن ہوتا ہے ان میں سے تقریباً دس فیصد لوگوں کو ایسے تیزی کے دورے بھی ہوتے ہیں جب وہ بغیر کسی وجہ کے بہت زیادہ خوش رہتے ہیں اور نارمل سے زیادہ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس تیزی کے دورے کو مینیا اور اس بیماری کو بائی پولر ڈس آرڈر کہتے ہیں۔ اس بیماری کی شرح مردوں اور عورتوں میں برابر ہے اور یہ بیماری بعض خاندانوں میں زیادہ ہوتی ہے۔
کیا ڈپریشن انسان کی ذاتی کمزوری کا دوسرا نام ہے؟
جس طرح سے ذیابطیس ایک بیماری ہے اور بلڈ پریشر کا بڑھ جانا ایک بیماری ہے اسی طرح سے ڈپریشن بھی ایک بیماری ہے۔ یہ بیماری کسی بھی انسان کو ہو سکتی ہے چاہے وہ اندر سے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو۔ جیسے اور بیماریوں کے مریض ہمدردی اور علاج کے مستحق ہوتے ہیں اسی طرح سے ڈپریشن کے مریض بھی ہمدردی اور علاج کے مستحق ہوتے ہیں، تنقید اور مذاق اڑائے جانے کے نہیں۔
ڈپریشن میں آپ کس طرح سے اپنی مدد کر سکتے ہیں؟
•اپنی جذباتی کیفیات کو راز نہ رکھیں۔
اگر آپ نے کوئی بری خبر سنی ہو تو اسے کسی قریبی شخص سے شیئر کر لیں اور انھیں یہ بھی بتائیں کہ آپ اندر سے کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ اکثر دفعہ غم کی باتوں کوکسی قریبی شخص کے سامنے بار بار دہرانے، رو لینے اور اس کے بارے میں بات کرنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔
•جسمانی کام کریں۔
کچھ نہ کچھ ورزش کرتے رہیں، چاہے یہ صرف آدھہ گھنٹہ روزانہ چہل قدمی ہی کیوں نہ ہو۔ ورزش سے انسان کی جسمانی صحت بھی بہتر ہوتی ہے اور نیند بھی۔ اپنے آپ کو کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھیں چاہے یہ گھر کے کام کاج ہی کیوں نہ ہوں۔ اس سے انسان کا ذہن تکلیف دہ خیالات سے ہٹا رہتا ہے۔
•اچھا کھانا کھائیے۔
متوازن غذا کھانا بہت ضروری ہے چاہے آپ کا دل کھانا کھانے کو نہ چاہ رہا ہو۔ تازہ پھلوں اور سبزیوں سے سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ڈپریشن میں لوگ کھانا کھانا چھوڑ دیتے ہیں جس سے بدن میں وٹامنز کی کمی ہو جاتی ہے اور طبیعت اور زیادہ خراب لگتی ہے۔
•شراب نوشی اور منشیات سے دور رہیں ۔
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ شراب پینے سے ان کے ڈپریشن کی شدت میں کمی ہو جاتی ہے لیکن یہ وقتی کیفیت ہوتی ہے حقیقت میں شراب پینے سے ڈپریشن اور زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ اس سے وقتی طور پر کچھ گھنٹوں کے لیے تو فائدہ ہو سکتا ہے لیکن بعد میں آپ اور زیادہ اداس محسوس کریں گے۔ زیادہ شراب پینے سے آپ کے مسائل اور بڑھتے ہیں، آپ صحیح مدد نہیں لے پاتے اور آپ کی جسمانی صحت بھی خراب ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
•نیند
نیند کے نہ آنے سے پریشان نہ ہوں۔ اگر آپ سو نہ سکیں تو پھر بھی آرام سے لیٹ کر ٹی وی دیکھنے یا ریڈیو سننے سے آپ کو ذہنی سکون ملے گا اور آپ کی گھبراہٹ بھی کم ہو گی۔
•ڈپریشن کی وجہ کو دور کرنے کی کوشش کریں۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو اپنے ڈپریشن کی وجہ معلوم ہے تو اس کو لکھنے اور اس پہ غور کرنے سے کہ اسے کیسے حل کیا جائے ڈپریشن کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
•مایوس نہ ہوں۔
اپنے آپ کو یاد دلاتے رہیں کہ:
آپ جس تجربے سے گزر رہے ہیں اس سے اور لوگ بھی گزر چکے ہیں۔
ایک نہ ایک روز آپ آپ کا ڈپریشن ختم ہو جائے گا چاہے ابھی آپ کو ایسا نہ لگتا ہو۔
ڈپریشن کا علاج کیسے کیا جا سکتا ہے؟
ڈپریشن کا علاج باتوں (سائیکو تھراپی) کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے، اینٹی ڈپریسنٹ اور طب میں مفرح و مقوی قلب ادویات کے ذریعے بھی اور بیک وقت دونوں کے استعمال سے بھی۔ آپ کے ڈپریشن کی علامات کی نوعیت، ان کی شدت اور آپ کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ کے لیے ادویات کا استعمال زیادہ بہتر ہے یا سائیکو تھراپی۔ ہلکے اور درمیانی درجے کے ڈپریشن میں سائیکوتھراپی کے استعمال سے طبیعت ٹھیک ہو سکتی ہے لیکن اگر ڈپریشن زیادہ شدید ہو تو دوا دینا ضروری ہو جاتا ہے۔
باتوں کے ذریعے علاج (سائیکوتھراپی)
ڈپریشن میں اکثر لوگوں کو اپنے احساسات کسی با اعتماد شخص کے ساتھ شیئر کرنے سے طبیعت بہتر محسوس ہوتی ہے۔بعض دفعہ اپنے احساسات رشتہ داروں یا دوستوں کے ساتھ بانٹنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ماہر نفسیات (سائیکولوجسٹ) سے بات کرنا زیادہ آسان لگتا ہے۔سائیکوتھراپی کے ذریعے علاج میں وقت لگتا ہے۔ عام طور سے آپ کو ماہر نفسیات سے ہر ہفتے ایک گھنٹے کے لیے ملنا ہوتا ہے اور اسکا دورانیہ ۵ ہفتے سے ۳۰ ہفتے تک ہو سکتا ہے۔
اینٹی ڈپریسنٹ ادویات۔
اگر آپ کا ڈپریشن شدید ہو یا کافی عرصے سے چل رہا ہو تو ہو سکتا ہے کہ آپ کا طبیب آپ کو اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے طور پر خمیرہ جات، مفرح و مقوی قلب ادویات تجویز کرے۔ ان ادویات سے اداسی کم ہوتی ہے، زندگی بہتر لگنے لگتی ہے اور حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں بہتری ہوتی ہے۔ یاد رکھیے کہ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کا فائدہ دوا شروع کرنے کے بعد فوراً نظر آنا شروع ہوتا ہے گاہے اس میں ۲ سے ۳ ہفتے لگ سکتے ہیں۔بعض لوگوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دوا شروع کرنے کے بعد چند ہی دنوں میں ان کی نیند بہتر ہو جاتی ہے اور گھبراہٹ کم ہو جاتی ہے لیکن ڈپریشن کم ہونے میں کئی ہفتے لگتے ہیں۔
اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کس طرح کام کرتی ہیں؟
انسانی دماغ میں متعدد کیمیائی مواد موجود ہیں جو ایک خلیے سے دوسرے خلیے تک سگنل پہنچاتے ہیں۔ایسا سمجھا جاتا ہے کہ ڈپریشن میں دو خاص کیمیکلز کی کمی ہوتی ہےجنھیں سیروٹونن اور نارایڈرینلین کہا جاتا ہے ۔ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات ان کیمیکلز کی مقدار دماغ میں بڑھانے میں مددگار ہو تی ہیں۔ اکسیر1 المعروف مفرح ایک حصہ اور ایچ_67 چار حصہ ملاکر تین گرام دوا دن میں تین بار دیں ساتھ خمیرہ گاؤ زباں عنبری جدوار عود صلیب والا دیں۔ اگر بلڈ پریشر بھی ہائی ہے تو ایچ67 کی جگہہ ایم سی ڈالیں اور تریاق67 پانچ سو ملی گرام کیپسول صبح شام دیں۔ نیند کی کمی کیلیئے بالچھڑ آدھا سے ایک ماشہ شام کو دینا مفید ہوتا ہے۔ روزانہ صبح مربہ آملہ نہار منہ دیں۔
خاص ہدایت ۔۔۔ نیند پوری کریں اور باقائدہ ورزش کریں۔ یہ بہترین علاج ہے۔
کیا ماہر نفسیاتی امراض (سائیکائٹرسٹ) کو دکھانا ہو گا؟
ڈپریشن کے بہت سارے مریض اپنے فیملی ڈاکٹر کے علاج سے ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ کی طبیعت اس سے صحیح نہ ہو تو ہو سکتا ہے آپ کو ماہر نفسیاتی امراض (سائیکائٹرسٹ) کو دکھانے کی ضرورت پڑے۔ سائیکائٹرسٹ ڈاکٹر ہو تے ہیں اور اس کے بعد انہوں نے نفسیاتی امراض کے علاج میں مزید تربیت حاصل کی ہو تی ہے
علاج نہ کرانے کی صورت میں کیا ہو تا ہے؟
اچھی خبر یہ ہے کہ ڈپریشن کے اسی فیصد مریض علاج نہ کروانے کے باوجود بھی ٹھیک ہو جاتے ہیں لیکن اس میں چار سے چھ مہینے یا اس سے بھی زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔آپ سوچیں گے کہ پھر علاج کروانے کی کیا ضرورت ہے؟ وجہ یہ ہے کہ باقی بیس فیصد مریض بغیر علاج کے اگلے دو سال تک ڈپریشن میں مبتلا رہیں گے اور پہلے سے یہ بتانا ممکن نہیں ہوتا کہ کون ٹھیک ہو جائے گا اور کون ٹھیک نہیں ہو گا۔اس کے علاوہ اگر علاج سے چند ہفتوں میں طبیعت بہتر ہو سکتی ہے تو انسان کئی مہینو ں تک اتنی شدید تکلیف کیوں برداشت کرتا رہے۔ کچھ لوگوں کا ڈپریشن اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ وہ خود کشی کر لیتے ہیں۔ اسی لیے اگر آپ کے ڈپریشن کی علامات کی شدت بڑھ گئی ہے اور ان میں کوئی کمی نہیں ہو رہی، آپ کے ڈپریشن نے آپکے کام، دلچسپیوں، اور رشتہ داروں اور دوستوں سے تعقات کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے، یا آپ کو اس طرح کے خیالات آنے لگے ہیں کہ آپکے زندہ رہنے کا کوئی فائدہ نہیں اور دوسرے لوگوں کے حق میں یہی بہتر ہے کہ آپ مر جائیں، تو آپ کو فوراً اپنا علاج کروانے کے لیے اپنے ڈاکٹر یا سائکائٹرسٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔
27/01/2020
تھائرائڈ گلینڈ
جی ہاں تتلی کی شکل کا یہ
تھائرائڈ گلینڈ ایک محافظ کی طرح
ڈھال بن کر جسم کے دروازے گردن کے آخری
حصے پر بیٹھا ہے
تھائرائڈ گلینڈ میں تیار ہونے والا
ھارمون تھائراکیسن، جسم کے بے شمار
افعال درجہ حرارت، دل کی دھڑکن ، بلڈ پریشر
کو بیلنس انداز میں چلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے
لیکن
اگر اس کا اپنا بیلنس خراب ہو جائے
تو.... ؟
پھر سارے جسم کا سسٹم بگڑ جاتا ہے
آئیے جان لیتے ہیں
اس کی خرابی کے اسباب کیا ہیں.؟
علامات کیا ہیں.؟
اور تھائرائڈ گلینڈ دوبارہ ٹھیک سے کام شروع کر دے اس کا قدرتی علاج کیا ہے.؟
جب جسم کا یہ اہم ترین کارکن
ہمارے لائف اسٹائل ، کھانے پینے، سونے جاگنے
کی تبدیلی اور آئوڈین کی کمی کی وجہ سے
بیمار ہوجائے
تو یہ چند علامات ظاہر کر کے
آپ کو متوجہ کرتا ہے
تھکن
ہاتھ پاؤں ڈھنڈے رہنا
دل کی تیز دھڑکن
قبض
وزن کا بڑھنا
آواز کا بیٹھنا
خشک جلد، خشک باریک کمزور بال
چہرے اور گردن پر ورم، سوجن، ابھار
ڈپریشن، اداسی مایوسی
یادداشت کی کمزوری
مسلز پٹھوں میں درد
اگر اس کی خرابی کی وجہ
لائف اسٹائل کی خراب عادات ہیں تو
ان ہی عادات و اطوار کو ٹھیک کرنا
اس کا قدرتی علاج ہے
مثلاً
پانی زیادہ اور نیم گرم پینا ہے،
بھرپور نیند، جلد سونا جلد جاگنا،
دوپہر کو بیس منٹ آرام
واک واک واک دن میں دو بار واک
چاہے گھر کے اندر ہی کی جائے
کھانے میں مفید اشیاء
دیسی گھی
سرسوں کا تیل
کوکونٹ آئل
جؤ کا دلیہ ،روٹی، ستو
کھیوڑہ کا نمک
بادام، اخروٹ، مغز کدو ،السی کے بیج میتھی دانہ
گڑ ،شہد، کھجور کا شیرا، دیسی انڈے، دیسی مرغی، مچھلی، ادرک کا قہوہ، گائے کے دودھ میں ہلدی،
لوکی ٹینڈے ترئی کدو،
گرین پتوں کا جوس،
روغن بادام سے گردن کی مساج
دن میں دو بار پانچ پانچ منٹ
ایک بہترین ہربل نسخہ
دار چینی، زیرہ، میتھی دانہ
ہم وزن پیس کر رکھیں
اور رات سونے سے پہلے ایک چھوٹی چمچی نیم گرم پانی سے کھا لیں
صرف دو ہفتے ان ھدایت پر مستقل مزاجی سے عمل کرنے کے بعد ٹیسٹ کرا لیں
اللہ کی مہربانی سے
خرابی، بہتری میں تبدیل ہوجائے گی
25/01/2020
برص۔۔پھلبہری ۔ Leucoderma
جسم اور خاص کر ہاتھوں اور چہرے پر جا بجا سفید رنگ کے داغ پڑ جاتے ہیں جو ابتداء میں چھوٹے اور بعد میں پھیلتے جاتے ہیں حتکہ سارے جسم کو لپیٹ میں لے لیتے ہیں
اس مرض کی تین اقسام ہیں
اول۔۔۔۔سرخ سفیدی مائل ابھرے ہوئے داغ بنتے ہیں اور مخصوص حد تک بڑھتے ہیں اور رک جاتے ہیں دھوپ میں یا چولہے ہیٹر کے سامنے جانے سے ان میں جلن ہوتی ہے اور چھپاکی کی طرح ابھر اتے ہیں اس کے بعد ان پر سے چھلکے اترتے ہیں اور نیچے کی جلد سفید نکل اتی ہے کچھ ہی دن بعد جلد پھر سرخ ہوجاتی ہے یہ داغ زیادہ تر پشت پر نکلتے ہیں کچھ سالوں بعد خود ہی ختم ہوجاتے ہیں ان پہ اگنے والے باریک بال سیاہ یا سنہری ہوتے ہیں
دوئم۔۔۔سفید چکنے چمکدار داغ بنتے ہیں ان پہ اگنے والے بال سفید ہو جاتے ہیں ان داغوں کی تکلیف جلن نہیں ہوتی مگر جسم کے جس حصہ پر ہوں بدصورت بنا دیتے ہیں یہ داغ ہاتھ چہرہ اور جسم پر پھیلے ہوتے ہیں
سوئم۔۔۔یکدم جسم پر گلابی رنگ کے داغ ظاہر ہوجاتے ہیں اور چند دن میں ہی جسم پر پھیل جاتے ہیں ان میں اگنے والے بال بھورے ہوتے ہیں برص کی یہ قسم کبھی ختم نہیں ہوتی یہ قسم بلغمی مادے سے پیدا ہوتی ہے کچھ افراد میں یہ بلغم رقیق بعض میں غلیظ جبکہ بعض میں سوداویت اختیار کر جاتی ہے خیال کیا جاتا ہے کہ مچھلی کھا کر اوپر سے دودھ پی لیا جائے تو یہ مرض پیدا ہوجاتا ہے
علاج۔۔۔۔یہ مرض ہٹیلا ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ہے داغوں کو چٹکی بھر کر یا سوئی کی نوک چھبا کر دیکھیں اگر خون یا گلابی رنگ کا مواد نکلے تو یہ قابل علاج ہے اگر اس کے برعکس داغوں سے سفید پانی نکلے تو علاج ممکن نہیں اس مرض کو غدود ناقلہ کی سوزش قرار دیا گیا ہے اس سوزش کی وجہ سے جسم کے کچھ مادے جنھیں ہر حالت میں جسم سے باہر خارج ہونا چاہئے تھا وہی زیر جلد جمع ہوکر جلد کا رنگ بگاڑ دیتے ہیں اسکی واضع دلیل یہ ہے کہ اس مرض میں مقام مرض پر پسینہ نہیں اتا اگر متاثرہ مقام پر پسینہ اجائے تو غدود ناقلہ کھل جاتے ہیں اور مرض دور کرنے کا زریعہ بن جاتا ہے اس کا علاج غدود ناقلہ کھول کر ہی کیا جاسکتا ہے
زیرہ سفید اور بابچی برابر وزن جوکوب کرلیں پانچ ماشہ سفوف کو ایک گلاس پانی میں رات کو بھگو دیں صبح مل چھان کر خالی معدہ پلائیں اسی طرح صبح بھگو کر شام کو پلائیں
روغن برص۔۔
زیرہ سفید بابچی اور امبربیل سو سو گرام میں300گرام تلوں کا تیل جلا لیں جب ادویہ براون ہوجائیں تو ٹھنڈا کر کے داغوں پہ صبح شام لگائیں
غذا۔۔ ۔قشری اعصابی سے اعصابی قشری تک دیں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Rawalpindi