Hassan writes
Give respect take respect
05/05/2023
جمعہ المبارک
آئینے میں ہر اِک ادا کو دیکھ کر کہتے ہیں وہ
آج یہ دیکھیں گے ہم کس کس کی ہے آئی ہوئی
05/05/2023
05/05/2023
السلام علیکم صبح بخیر
04/05/2023
خود بہ خود ایسے وہ شعروں میں اتر آتا ہے
جیسے مالک بنا دستک دئے گھر آتا ہے
یہ ضروری نہیں ہو گھر کا پتہ تو آئے
اس کو بن آئے بھی آنے کا ہنر آتا ہے
دل سے اٹھ جاتی ہے ہر شے کی محبت اس دم
جب محبت کے کوئی زیرِ اثر آتا ہے
مجھ کو معلوم نہیں آپ کی صورت کیا ہے
مجھ کو ہر شخص میں وہ شخص نظر آتا ہے
میں چھپاتا ہوں بہت نام مگر کیا کیجے
ایک چہرہ میرے لفظوں میں ابھر آتا ہے
لازماً ماں نے مری یاد کیا ہو گا مجھے
ورنہ صحرا میں بھلا سبز شجر آتا ہے
کس کی بن سکتی ہے خود سوچو بھلا اس دل سے
جو بھی کہتا ہوں الٹ اُس کا یہ کر آتا ہے
دوست آساں نہیں برسوں کی ریاضت ہے کہ اب
بہ خوشی سوگ منانے کا ہنر آتا ہے
ہے یہ احساس غلط راہ نکل آیا ہوں
ایسے رستے میں مگر موڑ کدھر آتا ہے
یہ جو انسان ہے خود غرضی میں کم ظرفی میں
جانے کتنوں کو اکیلا ہی بسر آتا ہے
آج پھرتا ہے جو اس شہر میں ہنستا بستا
کل کے اخبار میں وہ بن کے خبر آتا ہے
کیا عجب ہم پہ بھی کچھ دن کو بہار آ جائے
اس کی قربت میں تو پت جھڑ بھی نکھر آتا ہے
یونہی صحرا کا رویہ نہیں روکھا مجھ سے
اس کی دانست میں مجنوں ہی ادھر آتا ہے
جب بھی محفل میں گیا خود کو دغا دینے کو
دو گھڑی میں ہی یہ دل مجھ سے مکر آتا ہے
وہ جو ہنستا ہؤا آتا ہے گلی سے اس کی
اس کو دیکھے بنا شاید وہ گزر آتا ہے
اپنی مرضی یہاں رکھتا نہیں کوئی ابرک
اٹھ کے چل دیتا ہے جب حکمِ سفر آتا ہے
خاک سمجھے گی تری بات یہ دنیا ابرک
تم کو کہنے کا سلیقہ ہی کدھر آتا ہے
اتباف ابرک
04/05/2023
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا
وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے
ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا
وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیے
موسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا
آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوگی
تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائے گا
مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث
جرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا
پروین شاکر
04/05/2023
کُچھ یہ بھی هے کہ موسمِ عِشق اب نہیں رها
کُچھ هم بھی تھک گئے تِیرے دَر پر کھڑے کھڑے
04/05/2023
اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں
مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں
اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں
اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں
چار دن رہ گئے میلے میں مگر اب کے بھی
اس نے آنے کے لیے خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
کل بچھڑنا ہے تو پھر عہد وفا سوچ کے باندھ
ابھی آغاز محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں
میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے
تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلا کچھ بھی نہیں
اے شمارؔ آنکھیں اسی طرح بچھائے رکھنا
جانے کس وقت وہ آ جائے پتا کچھ بھی نہیں
اختر شمار
04/05/2023
تم اگر مصروف زمانہ ہو
ہم بھی راہ میں پڑے تھوڑی ہیں
04/05/2023
Welcome to our page
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Taxila
Rawalpindi