Nazir writes
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Nazir writes, Health/Beauty, Rawalpindi.
06/03/2026
یہ 15 دسمبر 1971 کی رات تھی۔ پاکستانی فوج کی جانب سے انڈیا کے سامنے باضابطہ طور پر ہتھیار ڈالنے کی تیاریاں جاری تھیں اور ڈھاکہ میں تعینات پاکستان آرمی کی فورتھ ایوی ایشن سکواڈرن کو حکم ملا تھا کہ اپنے ہیلی کاپٹر اور اسلحہ تباہ کر دیں۔
مگر یہ پائلٹ قید نہیں، فرار چاہتے تھے۔
منصوبہ بظاہر سادہ تھا: ہیلی کاپٹر تباہ کرنے کے بجائے انھیں اُڑا کر برما لے جایا جائے۔ لیکن یہ فیصلہ موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔۔۔۔ انڈین فضائیہ فضا پر مکمل غلبہ حاصل کر چکی تھی، ڈھاکہ انڈین فوج اور مکتی باہنی کے سخت گھیرے میں تھا اور نکلنے کا ہر راستہ بند دکھائی دیتا تھا۔
یہ مشرقی پاکستان سے آخری پرواز تھی کیونکہ اگلے ہی دن بنگلہ دیش وجود میں آ گیا۔
انڈین جہاز ہر رات آ کر ڈھاکہ ائیر پورٹ کا رن وے اُڑا جاتے‘
اس وقت فورتھ ایوی ایشن سکواڈرن کی کمان لیفٹیننٹ کرنل سید لیاقت بخاری کر رہے تھے اور ڈھاکہ میں تعینات اس سکواڈرن کے پاس پانچ ایم آئی-8 اور چار الوئیٹ-تھری ہیلی کاپٹر شامل تھے۔
3 دسمبر 1971 کی شام، مغربی پاکستان سے انڈین ہوائی اڈوں پر پاکستان ایئر فورس کے فضائی حملوں کے فوراً بعد اسی رات انڈین طیاروں نے ڈھاکہ ائیر فیلڈ پر حملہ کر دیا۔
یہ مکمل جنگ کا آغاز تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) علی قلی خان اس وقت میجر کے عہدے پر فائز تھے اور ایم آئی-8 کے پائلٹ تھے۔ وہ 10 اپریل 1971 کو ڈھاکہ پہنچے تھے۔
بی بی سی سی بات کرتے ہوئے جنرل (ر) علی قلی خان اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ 26 مارچ کو بغاوت شروع ہونے کے بعد کئی جگہوں پر مکتی باہنی کا قبضہ ہو چکا تھا۔
اس وقت ڈھاکہ میں ایک ہی ائیرپورٹ تھا۔ علی قلی خان کے مطابق 3 دسمبر کی رات جب حملہ ہوا تو پہلے دن ہی تقریباً ڈھاکہ پر 130 ریڈز آئے اور ’انھوں (انڈین فضائیہ) نے ائیرپورٹ اُڑایا دیا۔ انڈین طیاروں نے بمباری سے مین رن وے تباہ کر دیا جس کے بعد پاکستان کی فضائیہ کے جہاز وہاں سے اڑان نہیں بھر سکتے تھے تاہم فورتھ ایوی ایشن سکواڈرن کے ہیلی بورن آپریشن جاری رہے۔‘
ابتدائی تین دنوں میں انڈین فضائی حملوں کا مرکزی ہدف ڈھاکہ ایئر فیلڈ تھا، جس پر بار بار بمباری ہوتی رہی۔ علی قلی خان کے مطابق وہ (انڈین فضائیہ کے جہاز) ہر رات آ کر رن وے اُڑا جاتے تھے۔
ڈھاکہ کی فضاؤں پر انڈیا کا راج
انڈین فضائی برتری کے باعث ایم آئی–8 اور الوئیٹ ہیلی کاپٹروں کی زیادہ تر پروازیں رات کے وقت انجام دی گئیں۔ جنرل (ر) علی قلی خان کے مطابق وہ اور دیگر پائلٹ ’کبھی راشن لے جاتے، کبھی گولہ بارود۔ یہ سب کام رات کے وقت کیے جاتے تھے۔‘
ڈھاکہ کی فضاؤں پر انڈیا کا راج تھا۔۔۔ پائلٹوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا تھا کہ لینڈنگ پر وہ اپنی فوج کو دیکھیں گے یا دشمن کو۔
پاکستان کی عسکری ایوی ایشن کی سرکاری تاریخ اور کتاب ’ہسٹری آف پاکستان آرمی ایویشن 1947 تا 2007‘ میں میجر جنرل (ر) محمد اعظم اور میجر (ر) عامر مشتاق چیمہ لکھتے ہیں کہ ’سیاہ راتوں میں بغیر مناسب نیویگیشنل آلات اور سازوسامان کے انتہائی نچلی پرواز کرنا نہایت خطرناک تھا۔‘
علی قلی خان کے مطابق جب 15 دسمبر کی شام ’ہمارے کمانڈنگ افسر ایسٹرن کمانڈ پہنچے تو انھیں بتایا گیا کہ جنرل نیازی نے 16 دسمبر کو ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہے لہذا چیف آف سٹاف ایسٹرن کمانڈ (بریگیڈیئر باقر صدیقی) نے ہتھیار ڈالنے کی ہدایات دیتے ہوئے تمام بھاری سازوسامان، بشمول گنز، ٹینکس اور ہیلی کاپٹرز تباہ کرنے کا حکم دیا۔‘
’جب ہمارے سی او نے یہ سنا تو انھوں نے کہا کہ ہم سرنڈر کرنے اور جہاز تباہ کرنے کے بجائے یہاں سے نکل سکتے ہیں۔‘
جو افسران فرار چاہتے تھے ان کا مؤقف تھا کہ جنیوا کنونشن کے تحت ہتھیار ڈالنے کے بعد فرار ہر فوجی کا حق ہے، اس لیے ہیلی کاپٹروں کو تباہ یا دشمن کے حوالے کرنے کے بجائے پاکستان لے جا کر دوبارہ استعمال کیا جانا چاہیے، خاص طور پر جب مغربی پاکستان میں جنگ ابھی جاری تھی۔
علی قلی خان کے مطابق اس وقت نکلنے کے دو راستے تھے۔
’ایک تھا برما میں اکیاپ (جسے اب میانمار کے نام سے جانا جاتا ہے)۔۔۔ یہ چٹاگانگ کے جنوب میں واقع تھا اور پاکستانی پائلٹ اڑ کر وہاں جا سکتے ہیں۔ اور دوسرا راستہ نیپال تھا۔‘
لیکن اکیاپ جانا زیادہ بہتر تھا۔ علی قلی خان کے مطابق یہی فیصلہ ہوا کہ ’ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور اپنے ہیلی اڑا کر برما لیجائیں گے۔‘
فرار کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی
اضافی فیول ٹینک کے ساتھ ایم آئی-8 تقریباً 24 مسافر لیجانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ جبکہ الوئیٹ تھری پر ہتھیاروں کے ساتھ تین سے چار مسافر جا سکتے تھے۔
تاہم مسئلہ یہ تھا کہ اس وقت اس سکوارڈن کے تمام ہیلی ڈھاکہ چھاؤنی میں بکھرے پڑے تھے۔۔۔ کوئی کسی درخت کے نیچے چھپایا گیا تھا۔۔۔ کوئی ہیلی کسی سڑک پر کھڑا تھا۔۔۔ اور کوئی گالف کورس میں۔
علی قلی خان کے مطابق انھیں اپنے ہیلی تیار کرنے کا حکم ملا اور کہا گیا کہ ’آپ جہاز تیار کریں، مسافروں کے بارے میں ہم آپ کو بتائیں گے۔۔۔۔‘ انھوں نے رات کے 2 بجے اندھیرے میں اکیاپ جانے کا منصوبہ بنایا۔
بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) سید لیاقت بخاری نے ہسٹری آف پاکستان آرمی ایویشن کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ بریفنگ کے دوران پائلٹس کو ہدایت دی گئی تھی کہ 16 دسمبر 1971 کو صبح 3 سے 3:35 کے درمیان پرواز کریں۔۔۔ ہر ہیلی کاپٹر پانچ منٹ کے وقفے پر اڑے گا۔ ایم آئی ایٹ، بیورز کے بعد اڑیں گے اور الوئیٹس اضافی فیول لے کر سست رفتار پرواز کریں گے۔
پہلی پرواز سی او لیاقت بخاری کی تھی۔۔۔ مگر پرواز سے قبل وہاں ایک ہنگامہ برپا تھا۔۔۔ فرار کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی اور دو سے تین سو لوگ جمع ہو گئے تھے۔ ہر کوئی ہیلی پر سوار ہونا چاہتا تھا۔ بلآخر اس ہیلی نے 40 مسافروں کے ساتھ ٹیک آف کیا۔
لیفٹیننٹ کرنل عاطف علوی کی عمر اس وقت سات سال تھی۔ انھوں نے میجر جنرل (ر) محمد اعظم اور میجر (ر) عامر مشتاق چیمہ کو بتایا کہ ’ہم چھ بہن بھائی تھے، آدھی رات کے وقت میرے والد جلدی میں آئے اور والدہ کو سامان باندھنے کو کہا۔ میں نے اپنا کرکٹ بیٹ پکڑا۔۔۔ پھر ہم جیپ میں ایک سکول پہنچے جہاں ایک بڑا ہیلی کاپٹر کھڑا تھا اور لوگ چیخ رہے تھے۔۔۔ کوئی جگہ نہیں تھی۔ والد ہمیں وہاں سے دوسرے مقام لے گئے اور وہاں ہمیں ہیلی کاپٹر پر جگہ ملی۔ مگر ہمارے والد پیچھے رہ گئے۔‘
ان ہیلی کاپٹروں میں سے سیٹیں ہٹا کر تمام سامان باہر پھینکا گیا اور خواتین کو سوار کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ جانیں بچائی جا سکیں۔
علی قلی بتاتے ہیں کہ انھیں جس ہیلی کو اڑانا تھا اس کے روٹر میں تھوڑی خرابی تھی۔ لہذا یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس پر مسافر نہیں جائیں گے۔
علی قلی خان اور ان کے ساتھی پائلٹ جب رات کو روانگی کے مقام پر پہنچے تو ان کا دوسرا نمبر تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’پانچ منٹ بعد ہم اڑنے والے ہی تھے تو وہاں کچھ خواتین آئیں۔ ان کے ساتھ بچے بھی تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں بھی لے جائیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے انھیں بتایا کہ ہمیں تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن ہمارے ہیلی کاپٹر کا روٹر تھوڑا خراب ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں اگر یہ اڑ گیا تو ہم آپ کو بھی لے جائیں گے۔ انھوں نے کہا ٹھیک ہے۔‘
اس ہیلی میں چند خواتین اور ایک نوجوان لڑکا سوار ہو سکا۔
بادلوں سے ڈھکا ہوا آسمان
فضا میں دشمن کا غلبہ تھا تاہم پاکستانی پائلٹوں نے یکے بعد دیگرے نے اڑان بھری اور شمال کی طرف چٹاگنگ کے ساحل کے ساتھ ساتھ نیچی پرواز کرتے ہوئے اکیاب کی طرف گئے۔
اس دوران سخت وائرلیس خاموشی اختیار کی گئی، اندرونی یا بیرونی روشنی بالکل استعمال نہیں کی گئی۔ ایم آئی ایٹ کی کم از کم پرواز کا وقت دو گھنٹے 30 منٹ تھا اس لیے تین گھنٹے کا ایندھن ضروری تھا۔
سب سے آخری ہیلی ایم آئی ایٹ میجر منظور کمال باجوہ اڑا رہے تھے جو کسی ہنگامی لینڈنگ کی صورت میں دیگر ہیلی کاپٹرز کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو کور فراہم کرنے کے ذمہ دار تھے۔
انھوں نے ہسٹری آف پاکستان آرمی ایوی ایشن کو بتایا کہ اس رات ’آسمان مکمل بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا جو پائلٹس کے لیے شدید مشکل پیدا کر رہا تھا۔‘
رات 3 بج کر 35 منٹ پر جب وہ آخری ہیلی کاپٹر کے طور پر اُڑے تو انھوں نے چند لمحوں کے لیے لینڈنگ لائٹس جلائیں تاکہ درختوں کے اوپر سے محفوظ طریقے سے اُڑان بھر سکیں۔ ہیلی کاپٹر بہت بھاری تھا، جگہ بھی کم تھی اور رات کافی سرد تھی۔
ہتھیار سمندر میں پھینک دیے
اکیاب پہنچنے تک صبح ہو چکی تھی جسے فوجی اصطلاح میں ’فرسٹ لائٹ‘ کہتے ہیں۔ سورج نکل چکا تھا۔
تاہم آکیاب کے قریب پہنچتے ہی انھوں نے ریڈیو خاموشی اختیار کی تاکہ لینڈنگ کی اجازت سے انکار نہ ہو جائے۔
علی قلی خان بتاتے ہیں کہ ’جب ہم نے اکیاب کی ائیر فیلڈ دیکھ لی تو ہم سمندر کی طرف مڑ گئے اور تمام فوجی سامان، بشمول ذاتی ہتھیار، کیمرے، شناختی دستاویزات، لاگ بکس اور پاسپورٹ سمندر میں پھینک دیے، پھر واپس آئے اور لینڈ کیا۔‘
اس سے قبل وہ اپنے ہیلی کاپٹروں سے پاکستانی فوج کا نشان مٹا چکے تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ اگرچہ انھوں نے دوسرے نمبر پر ٹیک آف کیا تھا لیکن ان کا جہاز اکیاپ پہنچنے والا پہلا تھا۔ ’جب ہم نے وہاں لینڈ کیا اور میں جہاز سے نکلا تو ایک برمی فوجی دوڑتا آیا اور مجھ سے اردو میں پوچھا کہ کیا آپ پاکستانی ہیں؟ میں نے کہا ہاں، میں پاکستانی ہوں۔ اس نے پوچھا، کیا تم فوجی ہو؟ میں نے کہا نہیں، نہیں، ہم فلڈ پروٹیکشن کے لوگ ہیں۔ پھر اس نے کہا مسلمان ہو؟ میں نے کہا، ہاں۔۔۔ اس نے فوراً اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور کہا، میں بھی مسلمان ہوں اور میرا نام مصطفیٰ کمال ہے۔‘
لیفٹیننٹ جنرل (ر) علی قلی خان کو آج بھی مصطفیٰ کمال یاد ہے۔
تھوڑی دیر میں دیگر ہیلی بھی اکیاب پہنچنے لگے۔۔۔ ان میں زیادہ تر خواتین، بچوں، سپاہیوں سمیت پائلٹس اور میکانک سوار تھے۔۔ سات جہازوں میں تقریباً 170 لوگ جمع ہوئے۔
ایک الوئیٹ تھری جسے وہ پیچھے چھوڑ آئے تھے، اگلے دن صبح 11 بجے پہنچا۔
اکیاب پہنچتے ہی انھیں برما آئل کمپنی کی عمارت میں رکھا گیا۔ وہاں کوئی پابندی نہیں تھی مگر پہرہ تھا۔
ہیلی کاپٹر برما ہی چھوڑ آئے
اکیاپ میں پاکستانی قونصلر بنگالی تھے اور وہ بھی بنگلہ دیشی بن چکے تھے۔ ان افراد نے ان کے گھر کچھ دیر قیام کیا۔
اگلے دن ایک جہاز آیا اور خواتین اور بچوں کو لے کر رنگون گیا، وہاں سے پی آئی اے کا جہاز انھیں پاکستان لے آیا۔
تاہم علی قلی اور ان کے ساتھ موجود پائلٹوں اور دیگر فوجیوں نے چند دن قیام کیا۔ بعد میں ہر ایک پائلٹ کے ساتھ ایک بندوق بردار فوجی ہمراہ ہوا اور انھیں میکٹیلا ایئر بیس لے جایا گیا۔ جہاں سے ایک جہاز انھیں رنگون لے کر گیا۔۔۔ وہ تقریباً تین ہفتے وہاں رہے۔
وہ برما کے لوگوں کے اچھے سلوک کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہاں بہت سے مسلمان تھے جن کے ساتھ وہ گھومتے پھرتے رہتے تھے اور اچھا وقت گزرا۔
پھر ایک دن انھیں بتایا گیا کہ پی آئی اے کا جہاز آئے گا جو رنگون لینڈ کرے گا اور انھیں مغربی پاکستان لے جائے گا۔ یوں تقریباً ایک ماہ بعد وہ مغربی پاکستان پہنچے۔
وہ اپنے سارے ہیلی کاپٹر میکٹیلا چھوڑ آئے تھے۔ پھر پاکستان پہنچنے کے دو یا تین ہفتے بعد انھیں حکم ملا کہ واپس جاؤ اور اپنے جہاز لے آؤ۔
واپس جانے والوں میں علی قلی خان شامل نہیں تھے تاہم وہ بتاتے ہیں کہ روانگی سے قبل پائلٹس کو بریفنگ دی گئی تھی کہ ہیلی کاپٹروں کو رنگون سے جہاز کے ذریعے روانہ کیا جائے گا۔ تاہم جب وہ رنگون پہنچے تو صورتحال بدل چکی تھی۔ فوجی اتاشی نے بتایا کہ برمی حکومت پہلے ہی خاصی مخالفت کا سامنا کر چکی ہے اور وہ ہیلی کاپٹروں کو برما سے بھیجنے کی اجازت دے کر معاملے کو مزید متنازع نہیں بنانا چاہتی۔
پائلٹس کو ہدایت دی گئی کہ وہ منڈالے جائیں اور ہیلی کاپٹروں کو چین کے شہر کنمنگ تک اڑانے کی تیاری کریں اور اس کے بعد شنگھائی سے آگے بھیجنے سے متعلق ہدایات کا انتظار کریں۔ شناخت مٹانے کی غرض سے ہیلی کاپٹروں کو پہلے ہی سفید رنگ کیا جا چکا تھا۔
16 جنوری 1972 کی صبح منڈالے میں فضائی جانچ کے بعد تین ایم آئی-8 ہیلی کاپٹر چین کے لیے روانگی کی تیاری کر رہے تھے کہ برمی فضائیہ کا ایک چھوٹا فوجی طیارہ وہاں اترا اور پاکستانی فوجی اتاشی نے اطلاع دی کہ اب ہیلی کاپٹروں کو بنکاک لے جایا جائے گا۔
اسی روز ہیلی کاپٹرز کو رنگون کے قریب برمی فضائیہ کے اڈے ہمبائی لے جایا گیا جہاں ایک رات قیام کے بعد وہ مولمین پہنچے اور پھر بنکاک روانہ ہوئے۔
23 جنوری 1972 کو ان ایم آئی-8 ہیلی کاپٹروں کے پرزے روٹر وغیرہ نکال کر کشتیوں پر رکھے گئے اور اسی روز بحری جہاز کے ذریعے کراچی روانہ کر دیا گیا۔
فورتھ آرمی ایوی ایشن سکوارڈن وہ واحد سکوارڈن تھا جس نے مشرقی پاکستان میں سرینڈر نہیں کیا۔۔۔ علی قلی خان کہتے ہیں کہ ’ہمیں اس بات کی خوشی تھی کہ ہم ہتھیار ڈالنے کی بے عزتی سے بچ گئے۔‘
05/03/2026
💢 روس کا کل رقبہ اتنا بڑا ہے کہ اس میں 2 امریکہ یا 2 چین یا 5 بھارت یا 21 پاکستان جتنے ملک سما سکتے ہیں .. یہ سیارہ پلوٹو کے سائز کا ہے ..
روس میں 11 الگ الگ ٹائم زون استعمال ہوتے ہیں ..
اسکی سرحدیں 14 ممالک سے ملتی ہیں، یہاں ایک لاکھ سے بھی زیادہ دریا موجود ہیں ..
⭕ دنیا کی سب سے لمبی ریلوے لائن بھی روس میں ہی ہے ..
یہ 9200 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اگر ایک طرف سے نان سٹاپ سفر شروع کیا جائے تو آخری سٹیشن تک پہنچتے پہنچتے 153 گھنٹے (6 دن سےبھی زیادہ) لگ جاتے ہیں .. صرف ماسکو سے 90 لاکھ لوگ میٹرو ریلوے سے روزانہ سفر کرتے ہیں ..
⭕ روس کی کل آبادی 15 کروڑ کے قریب ہے اور خواتین کی تعداد مردوں سے ایک کروڑ زیادہ ہے ، شرح خواندگی تقریبا 100 فیصد ہے، دنیا میں سب سے زیادہ قدرتی گیس کے ذخائر یہاں پائے جاتے ہیں، یورپ اپنی 40 فیصد گیس روس سے حاصل کرتا ہے ..
⭕ روس کے پاس 8400 ایٹمی ہتھیار ہیں جبکہ پاکستان کے پاس 165 ہتھیار بتائے جاتے ہیں، روس نے 2017 میں 66 ارب ڈالرز دفاع کا بجٹ رکھا تھا ..
⭕ روس پر کسی ملک کا قبضہ کرنا تقریبا ناممکن ہے .. اسکی وجہ وہاں کا سرد ترین موسم اور رقبہ ہے۔ بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق روس پر مکمل قبضہ کرنے کیلئے تقریبا سوا کروڑ فوج درکار ہے ..
⭕ روس کے بارے میں یہ بات بھی مشہور رہی ہے کہ اس نے 15 کے قریب خفیہ شہر آباد کئے ہوئے ہیں، ان شہروں کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہاں کون رہتا ہے ، کیا ہوتا ہے؟
ایکسڑا نوٹ: روس کو مکمل طور پر ابھی تک کوئی بھی فتح نہیں کر سکا جدید ماہرین بھی کہتے ہیں کہ روس کو مکمل طور پر فتح کرنا بہت مشکل ہے اس کیلئے بہت بڑی Land Army چاہیے البتہ منگولوں کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے گھوڑوں پر سوار روس کا بڑا علاقہ فتح کر لیا تھا
゚ ゚followerseveryone
04/03/2026
آئیں کچھ اس ببلو کے بارے میں جانیں۔۔!!
شمالی کوریا دنیــا کے نقشے پر ایک بہت ہی چھوٹا ملک ہے۔ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا دو الگ ملک ہیں۔ کوریا دو حصـــــــوں میں تقسیم ہے۔۔۔ یعنی جنوبی کوریا اور شمالی کوریا۔ پہلے یہ ایک ملک تھا۔۔ پھر گھر کا معاملہ گلی محلے تک پہنچ گیا۔ دونوں لڑ پڑے اور الگ ہو گئے۔ سال 1950 میں انہوں نے اتنی سخت لڑائی لڑی تاریخ لکھتی کہ جنوبی کوریا کے ایک لاکھ ستر ہزار "فوجی" مـارے گئے اور لاکھوں زخمی ہوئے۔
آج شمالی کوریا کا صدر کم جونگ ان ہے،،، انتہائی بدمعاش شخص ہے وہ جو نظر آتا ہے ویسا ہے نہیں۔ اپنے ملک کی انتظامی مشینری پر اس کی گرفت بہت مضبوط ہے، جب باقی ممالک ان کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے،، تو کم جونگ ان کو کہتے ہیں کہ میں کسی اور کی شرکت کے بغیر اپنے خاندان کے معاملات کی ذمہ دار ہوں۔۔۔ اگر میں اپنے خاندان کی عورتوں کو برقع پہن کر رکھوں اور بچوں کو گلی کے لڑکوں کی صحبت میں جانے سے روکوں، تو تم انکے بھائی اور ماموں کیوں بننا چاہتے ہو؟ شمالی کوریا کو روس اور چین کی حمایت حاصل ہے اس وجہ سے کسی سے نہیں ڈرتا۔
یہ ایک کمیونسٹ نظریہ کے حامل ملک ہے۔۔۔ اس کے پاس نہ صرف ایٹم بــم ہے بلکہ اس کے پاس ایسے میـــــــزائل بھی موجود ہے جو شمالی کـــوریا سے واشنگٹن ڈی سی امریکہ ہیٹ کرسکتے ہیں جی ہاں آپ نے بالکل ٹھیک سنا اور پڑھا،،،، اس وجہ سے امریکہ بھی ان سے نہیں جھگڑتے اور نہ ہی دھمکی وغیرہ دیتے ہیں ہر ماہ میزائل کے تجربات کرتے ہیں ان کے میزائلوں کے رینچ 25 ہزار کلومیٹر تک ہے،، اور ایسے میزائل پاکستان اور اسسرائیل کے پاس بھی نہیں ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر میـــزائل کے ساتھ ہر وقت جوہری وار ہیڈ منسلک ہوتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک اس کے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔۔۔ پھر امریکہ نے پاکستان کو اپنے پاس بٹھایا اور سمجھایا کہ اچھے بچے برے بچوں سے نہیں کھیلتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وجہ سے ہمارے درمیان وہ تعلقات ختم ہوگئے۔۔۔۔سمالی کوریا انتہائی مضبوط ملک ہے اور اسکی بنیادی وجہ ڈر ہے، عوام شمالی کوریا صدر کم جونگ ان سے بہت زیادہ ڈرتے ہیں کیونکہ ہمارے طرف صرف سافٹ ویئر ابڈیٹ کرتے ہیں،، جب کہ کم جونگ ان سیدھا گولی مارتا ہے ان کے قانون میں معافی نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے شمالی کورین اپنی مرضی سے بال نہیں کٹوا سکتے انہیں حکومت کی منظور شدہ ہئیر سٹائل ہی رکھنے کی اجازت ہے۔
شمالی کوریا میں نیلی جینز پہننا غیر قانونی ہے شمالی کوریا میں اگر کوئی بیرون ملک جانا چاہتا ہے،، تو اس کو حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے،، شمالی کوریا میں صرف دو تین چینلز ہی دیکھائے جاتے ہیں جو کہ سرکار کی نگرانی میں ہوتے ہیں۔شمالی کوریا میں کسی بھی دین کی پیروی کرنا جرم ہے وہاں مسجد، چرچ اور مندر وغیرہ نہیں ہے،، شمالی کوریا میں کسی بھی بندے کا ملک سے باہر کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ رکھنا "غیر قانونی" ہے اور جو پکڑا گیا اس کی سزا صرف موت ہے
اس کے علاؤہ شمالی کوریا میں عام لوگ "انٹر نیٹ" استعمال نہیں کر سکتے اسکی اجازت صرف فوج میں کرنل اور جرنل کو حاصل ہیں اور وہ بھی رینڈم استعمال نہیں کرسکتے شمالی کوریا میں ہر گھر میں صدر کم جونگ ان کے باپ دادا کی "تصویر" لگانا اور اس کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے،،، دوسرے لوگوں کی تصویر لگانا جرم ہے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ شـــمالی کوریا میں ہر پانچ سال بعد الیکش ہوتے ہیں مگر امیــــدوار صرف ایک ہی کھڑا ہوتا ہے اور وہ کوئی اور نہیں ہوتا، بلکہ اس "تصویر" میں نظر آنے والا شخص کم جونگ ہی ہوتا ہے ان کے مقابلے کے لیے "ایکشن" میں کوئی کھڑا نہیں ہوتا سب ان سے ڈرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
20/02/2026
#دھرم سے بڑا کوئی دھندا نہیں ھوتا.
ڈاکٹر طاہر القادری 19 فروری 1951ء کو جھنگ میں فرید الدین قادری کے ترکھان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1975 میں چوبیس سال کی عمر میں طاہر القادری نے پہلی شادی کی۔ اس کے بعد انہوں نے دو مزید شادیاں کیں، ان کی پہلی شادی جھنگ، دوسری ناروے اور تیسری کراچی سے ہے۔
طاہر القادری نے 1966ء میں میڑک، 1969ء میں ایف ایس سی اور 1970ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اور 1973ء میں علوم اسلامیہ میں ایم اے کیا۔ طاہر القادری صاحب کا کہنا ہے کہ انہوں نے 1963ء سے 1970 تک جامعہ قطبیہ رضویہ، جھنگ سے درس نظامی بھی کیا یعنی کہ وہ بیک وقت دینی دنیاوی دونوں علوم حاصل کر رہے تھے اور ریگولر سٹوڈنٹ تھے۔ 1975ء میں ایل ایل بی کیا اور 1986ء میں انہیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے اسلامی سزاؤں میں قانون کی ڈگری دی گئی۔ موضوع کا عنوان ''Punishment in Islam, Their Classification and Philosophy'' تھا۔ ان کے بڑے صاحبزادہ کا نام حسن محی الدین قادری ہے جو تحریک منہاج القرآن کی مجلس شوریٰ کے صدر ہیں اور انہوں نے منہاج یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ اور عربیہ میں ایم اے کیا ہے، پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور مصر سے میثاق مدینہ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ہے۔ چھوٹے صاحبزادہ حسین محی الدین قادری نے فرانس میں پیرس یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا ہے اور آسٹریلیا یونیورسٹی سے گلوبل اکنامکس میں ڈاکٹریٹ کیا ہے۔
اسی کی دہائی میں ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے میاں نواز شریف کے والد میاں شریف سے تعلقات بنائے اور ان کی اتفاق سٹیل ملز کی مسجد میں بطور پیش امام بھرتی ہوئے، طاہر القادری صاحب نے ڈیمانڈ کی کہ تنخواہ کے بدلے ان کی تقاریر کی کیسٹس ریکارڈ کی جائیں اور پورے ملک میں پھیلائی جائیں، یوں طاہر القادری نے میاں شریف کو شیشے میں اتارا اور تنخواہ سے دس گنا زیادہ مراعات وصول کرتے رہے، طاہر القادری میاں شریف کے خرچے پر عمرے پر بھی گئے اور راستے بھر میاں شریف کی جوتیاں اٹھاتے رہے، بلکہ غار حرا پر چڑھتے ہوئے میاں شریف کو بھی اٹھا لیا، ایک دفعہ میاں شہباز شریف کو بھی اٹھا چکے ہیں. پھر ایک خطبے میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے پاکستان آنے کی خوشخبری سنائی اور منہاج القرآن بنانے کا اعلان کیا. میاں شریف اور ضیاء الحق کی مدد سے دو سو کنال حکومتی اراضی منہاج القرآن کے لیے منظور کروائی اور رسول اللہ کے لیے فائیو سٹار ہوٹل میں کمرہ اور مدینے کا ریٹرن ٹکٹ خریدنے کے لیے پورے ملک سے کروڑوں روپے چندہ جمع کیا.
چندہ جمع کرنے کے لیے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے بہترین نظام متعارف کرایا، انہوں نے اپنے ہر مرید کو ہر مہینے کم از کم سو روپے چندہ دینے کا پابند کیا، دنیا بھر میں ان کے چار لاکھ سے زائد مریدین ہیں کوئی سو روپے دیتا ہے کوئی سو ڈالر دیتا ہے یوں منہاج القرآن کا ماہانہ چندہ تین چار کروڑ روپے آرام سکون سے بن جاتا ہے.
طاہر القادری نے اسی کی دہائی میں جب اتفاق مسجد میں امام بھرتی ہوئے تو سائیکل پر سفر کرتے تھے، آج ان کے گھر میں ڈھائی ڈھائی کروڑ روپے کی بلٹ پروف گاڑیاں کھڑی ہیں، بیوی بچوں کے نام پر اربوں روپے کی جائیداد موجود ہے. بچوں کو عیاشی کرائی اور لاکھوں روپے خرچ کر کے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں تعلیم دلوائی. خود بھی دنیا بھر کی سیر کی اور فیملی کو بھی کرائی. کینیڈا سے وفاداری کا حلف اٹھایا اور کینیڈین شہریت حاصل کی. انقلاب لانے کے لیے اسلام آباد میں دھرنا دیا تو اعلان کیا کہ میں ڈرتا نہیں ہوں جس نے مارنا ہے مار لے دوسری طرف جب لاہور میں قادری صاحب کا طیارہ روکا گیا تو آپ نے اترنے سے انکار کر دیا جب تک وزیر قانون رانا مشہود نے بلٹ پروف گاڑیوں کا انتظام نہ کر دیا. دھرنے میں بھی لاکھوں روپے مالیت کے بلٹ پروف کنٹینر میں رہتے تھے..
کروڑوں اربوں روپے کی جائیداد، غیر ملکی شہریت، عیاشی کی زندگی اور یہ سب کچھ بغیر کسی نوکری یا کاروبار کیے.. قادری صاحب کے اندھے مرید ان کی ہر بات کو وحی سمجھتے ہوئے یقین کرتے ہیں. لیڈروں کے جھوٹ، بڑھکوں اور کھوکھلے نعروں سے مُتاثر ہونے والے کیا دجال سے مُتاثر نہیں ہوں گے جو بارش برسائے گا اور مُردوں کو زندہ کرے گا؟ لیکن کوئی کیا کرے کہ جب لیڈر خود ہی دجل مکر و فریب سے بھرے ہوں. طاہر القادری صاحب نے دعویٰ کیا تھا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی طرح میں بھی تریسٹھ برس کی عمر میں انتقال کر جاؤں گا، آج قادری صاحب 73 برس کے ہونے جا رہے ہیں لیکن ہماری جان چھوڑنے کو تیار نہیں. البتہ سیاست چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے، طاہر القادری صاحب پر کوئی نیب کیس نہیں ہے، چندہ کہاں سے آیا کہاں گیا، زمین جائیداد کہاں سے آئی.. کوئی پوچھتا نہیں.
مولوی طاہر القادری نے سیاست تو چھوڑ دی لیکن کیا وہ قوم سے بٹورے گئے اربوں روپے کا حساب کتاب دیں گے؟
*Nazir Writes*
19/02/2026
'عدنان خاشقجی'
اپنے وقت کے امیر ترین شخص کی داستان عبرت
ستر اور اسی کی دہائی میں اس شخص کی شہرت اور دولت کا اتنا چرچا تھا کہ "شہزادیاں" اور "شہزادے" ان کے ساتھ ایک کپ کافی پینا اپنے لئے "اعزاز" سمجھتے تھے۔
وہ کینیا میں موجود اپنے وسیع و عریض فارم ہاوس میں چھٹیاں گزار رہے تھے
ان کی کم سن بیٹی نے آئیسکریم اور چاکلیٹ کی خواہش کی تو انہوں نے اپنا ایک جہاز ال 747 بمع عملہ پیرس بھیجا جہاں سے آئیسکریم خریدنے کے بعد جنیوا سے چاکلیٹ لیکر اسی دن جہاز واپس کینیا پہنچا ۔
اس کے ایک دن کا خرچہ 1 ملین ڈالرز تھا۔
لندن ، پیرس ، نیویارک ، سڈنی سمیت دنیا کے 12 مہنگے ترین شہروں میں اس کے "لگژری محلات" تھے۔ انہیں عربی نسل گھوڑوں کا شوق تھا دنیا کے کئی ممالک میں ان کے خاص اصطبل تھے۔
اس کی دی ہوئی حق مہر طلاق آج تک دنیا کی مہنگی ترین طلاق سمجھی جاتی ہے جب اس نے 875 ملین ڈالر اپنی امریکی بیوی کو دئیے اور اسے طلاق دی۔
اس کی ملکیت میں جو یاٹ تھی وہ اپنے دور کی سب سے بڑی یاٹ تھی، جو اس وقت بادشاہوں کو بھی نصیب نہ تھی، اس یاٹ میں 4 ہیلی کاپٹر ہر وقت تیار رہتے جب کہ 610 افراد پر مشتمل خدام اور عملہ تھا، وہ یاٹ بعد میں ان سے برونائی کے سلطان نے خریدی ان سے ہوتے ہوئے ڈونلڈ ٹرامپ تک پہنچی، ٹرامپ نے 29 ملین ڈالر میں خریدی ۔
ان کی اس یاٹ پر جیمز بانڈ سیریز کی فلموں سمیت کئی مشہور ہالی ووڈ فلمیں شوٹ کی گئیں۔
اپنی پچاسویں سالگرہ پر اس نے اسپین کے ساحل پر دنیا کی مہنگی ترین پارٹی دی جس میں دنیا کی 400 معروف شخصیات نے 5 دن تک خوب مستی کی.
امریکی صدر رچرڈ نکسن کی بیٹی کی ایک مسکراہٹ پر 60 ہزار پاونڈ مالیت کا طلائی ہار قربان کر دیا۔
اسحلے کا بہت بڑا سوداگر تھا ملکوں کے درمیان وہ اسلحے کی ڈیل اور معاہدے کراتا تھا،سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان اس نے 20 ارب ڈالر کے معاہدے کرائے.
شراب اور شباب اس کی کمزوری تھی ۔
یتیموں پر دست شفقت رکھنا، بیواؤں کا خیال، مسکینوں کی مدد، سیلاب اور زلزلوں میں انسانی ہمدردی کے تحت فلاحی کام ان سب سے اسے سخت الرجی تھی
اس کا یہ جملہ مشہور تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنی اولاد کی کفالت کی ذمہ داری مجھے نہیں سونپ دی ہے.
اسی کی دہائی میں وہ 40 ارب ڈالرز کے اثاثوں کا مالک تھا.
پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالی نے اس کی رسی کھینچ لی، اب تنزل و انحطاط کی طرف اس کا سفر شروع ہوا،
اربوں ڈالرز کی مالیت کے ان کے ہیرے سمندر میں ڈوب گئے، کاروبار میں خسارے پہ خسارہ شروع ہوا،
قرضے پہ قرضا چڑھا , سب اثاثے فروخت کر ڈالے،
ان کے دوست احباب، ان کے چاہنے والوں نے ان سے نظریں پھیر لی، اور یہ ایک لمبی مدت گمنامی کے پاتال میں چلا گیا ، کسی کو خبر نہ تھی کہ کہاں ہے۔ سب کیا درا خاک میں مل گیا۔
پھر ایک دن یہ شخص لندن میں کسی سعودی تاجر کو ملا ، ان کی حالت غیر ہوچکی تھی، اس تاجر سے کہا کہ وطن واپس جانا چاہتا ہوں لیکن کرایہ نہیں،
اس سعودی تاجر نے اکانومی کلاس کا ٹکٹ خرید کر اسے دیا اور یہ جملہ کہا۔
اے عدنان ، اللہ تعالی نے فقیروں اور غریبوں پر مال خرچ کرنے اور صدقہ کا حکم دیا ہے یہ ٹکٹ بھی صدقہ ہے۔
اپنے دور کا یہ کھرپ پتی شخص صدقے کی ٹکٹ پر عام مسافروں کے ساتھ جہاز میں بیٹھ کر جدہ پہنچ گیا۔
اس عرب پتی تاجر کا نام عدنان خاشقجی تھا یہ عرب نژاد ترکی تھا، اس کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی اور اس کے والد شاہی طبیب تھے، 2017 میں اس کا انتقال 82 سال کی عمر میں بری حالت میں ہوا۔
یاد رکھیں کہ آپ جتنے بھی طاقت ور ہیں آپ جتنے بھی ثروت مند ہیں لیکن اللہ تعالی کے آگے بہت کمزور ہیں،
اپنی دولت اور طاقت کو کبھی بغاوت اور عیاشی کے لئے استعمال نہ کرنا . اللہ تعالی کی پکڑ بڑی سخت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال نعمت سے ہمیشہ اللہ تعالی کی پناہ مانگتے تھے۔
اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك
اَسْتَغفِرُاللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہِ
19/02/2026
وزیراعلیٰ مریم نواز کی ناک کے نیچے لاہور کا ایک اور خاندان پولیس گردی کا شکار ۔۔ مبینہ ملزم کے گھر والوں کو سر اور میڈم کہہ کر پکارنے کی بجائے بے غیرت اور ٹیکسی قرار دے دیا گیا ۔۔۔۔ علی حسن نامی ایک 4 بچوں کے باپ کو پولیس نے موٹرسائیکل چوری کے الزام میں پکڑا ، علی حسن کے مطابق وہ رکشہ چلا کر اپنے بچوں اور والدہ و بہن کا پیٹ پالتا ہے ۔۔ پولیس نے اسی پکڑا تھانے لے گئی اور اس کا کوئی کریمنل ریکارڈ نہ ہونے کے باوجود اسے الٹا لٹا کر مارا گیا ، اسے مجبور کیا گیا کہ وہ مان لے کہ وہ موٹرسائیکل چور ہے ۔ علی حسن کا قصور صرف اتنا تھا کہ سی سی ٹی وی ویڈیو میں مطلوب ملزم کا حلیہ اس سے ملتا تھا ، پولیس نے ایک بار اسکی وضاحت پر اسے چھوڑ دیا مگر کچھ گھنٹوں بعد پولیس دوبارہ علی حسن کے گھر پہنچی اسکی والدہ کو دھکے مارے اسکی بہن کے سر سے دوپٹہ کھینچ لیا اور اسے ٹیکسی کہہ کر مخاطب کیا صرف اس جرم میں کہ انہوں نے اپنے بھائی اور بیٹے کو پولیس کے ہاتھوں دوبارہ گرفتاری سے بچانا چاہا ۔۔۔۔
علی رضا ، اسکی والدہ اور ہمشیرہ نے وزیراعلیٰ مریم نواز کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کے شہر میں پولیس ایک غریب نوجوان کو نہ صرف زبردستی چور بنانے پر تلی ہے بلکہ اسکی ماں کو ذلیل کیا گیا ہے اسکی بہن کو غلیظ خطاب دیا گیا ہے ، کیا آپ ہمارے ساتھ ہوئے اس ظلم کا ازالہ کریں گی ۔۔
نوٹ : یہ پوسٹ علی رضا کو معصوم ثابت کرنے کے لیے نہیں بلکہ خواتین کے دوپٹے کھینچنے اور انہیں غلیظ خطابات دینے کے حوالے سے لگائی گئی ہے ۔
03/02/2026
انہوں نے شمالی قطب پر کامیابی کا جشن منانے کے لیے شیمپین کی بوتلیں ساتھ رکھ لی تھیں۔ انہیں یقین تھا کہ ہوائیں انہیں عظمت کی طرف لے جائیں گی۔ مگر ہوا نے نہیں، برف نے انہیں خاموشی کی طرف دھکیل دیا۔ تینتیس برس تک وہ برف کے نیچے دفن رہے، یہاں تک کہ پگھلتی ہوئی برف نے بالآخر ان کی کہانی دنیا کے سامنے رکھ دی۔
1897 کے موسمِ گرما میں دنیا کی نظریں سوالبارڈ پر جمی ہوئی تھیں، جہاں سویڈن کا ایک انجینئر، سَیلو مَن آگوست آندرے، قدرت کو مات دینے کے لیے تیار کھڑا تھا۔ اس کا منصوبہ انیسویں صدی کے سائنسی اعتماد اور خوش فہمی کی علامت تھا۔ وہ شمالی قطب کو جہاز یا برفانی گاڑی کے بجائے ہوا کے ذریعے فتح کرنا چاہتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ ہائیڈروجن سے بھرا ہوا غبارہ، جسے اس نے “اورنن” یعنی “عقاب” کا نام دیا تھا، قطبی ہواؤں کے سہارے برفانی میدانوں کے اوپر اڑتا ہوا انہیں منزل تک پہنچا دے گا۔
آندرے کے ساتھ دو ساتھی تھے، نیلز اسٹرنڈبرگ اور کنُٹ فریںکل۔ منصوبہ یہ تھا کہ وہ قطب کے اوپر سے گزرتے ہوئے برفانی صحرا کو پار کریں گے اور دوسری جانب محفوظ لینڈنگ کر لیں گے۔ روانگی کا منظر شاندار تھا، ٹیکنالوجی اور جرات کا ایک دلکش مظاہرہ۔ مگر آرکٹک کا خطہ انسان کی خواہشات کے سامنے ش*ذ و نادر ہی جھکتا ہے۔
اڑان کے فوراً بعد حقیقت نے اپنی موجودگی جتا دی۔ کہر اور نمی غبارے کے ریشمی غلاف پر جم کر برف بننے لگی، جس کا وزن آہستہ آہستہ ٹنوں میں جا پہنچا۔ وہ رسیّاں جو غبارے کو قابو میں رکھنے کے لیے لگائی گئی تھیں ناکام ہو گئیں۔ محض پینسٹھ گھنٹوں کی بے قابو پرواز کے بعد “عقاب” کو برف پر اترنا پڑا۔ وہ تہذیب سے سینکڑوں میل دور، ایک ایسی سفید ویرانی میں پھنس چکے تھے جو خود بھی مسلسل حرکت میں تھی۔
یہ لمحہ فضائی خوابوں کے خاتمے اور بقا کی جدوجہد کے آغاز کا تھا۔ انہوں نے ٹوکری سے جو کچھ بچایا، سائنسی آلات، کیمرے اور راشن، سب کو اکٹھا کیا اور بھاری برفانی سلیج کھینچتے ہوئے سفر شروع کر دیا۔ یہ ایک اذیت ناک آزمائش تھی۔ جس برف پر وہ چل رہے تھے وہ خود بہہ رہی تھی، کئی بار ایسا ہوتا کہ وہ جتنا آگے بڑھتے، برف انہیں اس سے زیادہ پیچھے لے جاتی۔
مایوسی کے باوجود انہوں نے نظم و ضبط ترک نہ کیا۔ وہ قطبی ریچھوں اور سیل مچھلیوں کا شکار کر کے زندہ رہے۔ انہوں نے روزنامچے لکھے، درجہ حرارت، راستے کی حالت اور اپنی بگڑتی ہوئی جسمانی کیفیت تک سب کچھ درج کیا۔ اسٹرنڈبرگ نے کیمرہ بھی نہ چھوڑا اور اپنی جدوجہد کی تصویریں لیتا رہا، جیسے وہ جانتا ہو کہ یہ لمحے کسی دن گواہی بنیں گے۔
ہفتوں کی مشقت کے بعد وہ کویتویا، یعنی وائٹ آئی لینڈ، تک پہنچے، جو سوالبارڈ کے علاقے میں ایک ویران اور سنگلاخ جزیرہ ہے۔ یہی وہ مقام تھا جہاں قطبی سردی نے ان کی آخری قوت بھی چھین لی۔ آرکٹک کی طویل رات قریب آ رہی تھی اور ان کے جسم اب مزید مزاحمت کے قابل نہ رہے۔
تینوں افراد اسی جزیرے پر جاں بحق ہو گئے۔ برف نے ان کے خیمے اور لاشوں کو ڈھانپ لیا اور دنیا نے انہیں ہمیشہ کے لیے گمشدہ سمجھ لیا۔ تینتیس سال تک ان کا کوئی نشان نہ ملا۔
1930 میں ایک نارویجین جہاز اتفاقاً اس جزیرے کے قریب پہنچا اور برف پگھلنے کے بعد ان کا کیمپ سامنے آ گیا۔ یہ دریافت انتہائی دردناک اور حیران کن تھی۔ لاشیں، آلات، اور سب سے بڑھ کر ان کے روزنامچے اور غیر تیار شدہ فلم کے رولز محفوظ حالت میں موجود تھے۔
جب تین دہائیوں بعد وہ تصویریں تیار کی گئیں تو یہ مہم محض ایک ناکام شماریاتی واقعہ نہیں رہی بلکہ ایک زندہ انسانی داستان بن گئی۔ تصویروں میں وہ ٹوٹا ہوا غبارہ دکھائی دیتا ہے، وہ چہرے نظر آتے ہیں جن پر تھکن اور عزم ایک ساتھ جھلک رہے ہیں، اور وہ لمحے محفوظ ہیں جب وہ برف پر سلیج گھسیٹتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔
ان تحریروں سے یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ توقع سے کہیں زیادہ عرصہ زندہ رہے، ریچھوں کے گوشت اور اپنی مضبوط ارادے کی بدولت۔ آج آندرے کی یہ مہم قطبی تحقیق کے اس دور کی علامت سمجھی جاتی ہے جسے “ہیروئک ایج آف پولر ایکسپلوریشن” کہا جاتا ہے۔
عجیب و غریب تاریخ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Rawalpindi