abubakkar sadiq dentist
Digital creator
production of history and dental education
digital creator
30/04/2026
With Pakistan Connect – I just got recognised as one of their top fans! 🎉
29/04/2026
With Shakeel Ahmed – I just got recognised as one of their top fans! 🎉
29/04/2026
With Altab Ali – I just got recognised as one of their top fans! 🎉
29/04/2026
With Mobin Khan – I just got recognised as one of their top fans! 🎉
جب فرعون نہر میں نہا رہا تھا اور اچانک نہر کے پانی سرخ ہو گئے
موتہ ک میدان
موسی علیہ سلام کی پرورش
When hazrat mos ali slam leave the Egypt and reached to the neel.جب موسی علیہ سلام نے مصر چھوڑا اور دریائے نیل پہنچا
22/04/2026
1. موسی علیہ السلام کی پیدائش اور آغاز:
موسی علیہ السلام کا واقعہ ایک ایسی کہانی ہے جو اللہ کی تقدیر اور قدرت کی نشانیوں کو بیان کرتی ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام کی پیدائش اس وقت ہوئی جب بنی اسرائیل پر فرعون کی حکومت کا ظلم اور استبداد اپنی انتہاؤں کو پہنچ چکا تھا۔ حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ کا نام "یُخَفَا" تھا، اور وہ بنی اسرائیل کی ایک نیک اور صالح خاتون تھیں۔
فرعون نے یہ حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل کے ہر بچے کو قتل کر دیا جائے، خاص طور پر لڑکوں کو، تاکہ ان کی نسل کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اسی دوران، حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ کو اللہ نے الہام دیا کہ وہ اپنے بیٹے کو دریا میں ڈال دیں تاکہ وہ بچ سکے۔ حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ نے اپنے بیٹے کو ایک ٹوکری میں رکھ کر دریائے نیل میں ڈال دیا۔
2. حضرت موسی علیہ السلام کا بہن کا پیچھا کرنا:
حضرت موسی علیہ السلام کی بہن، جو کہ اللہ کی ہدایت سے اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی، دریا کے کنارے کنارے ان کی ٹوکری کا پیچھا کر رہی تھی۔ اللہ کی قدرت سے ٹوکری فرعون کے محل کے قریب جا پہنچی، اور فرعون کی بیوی "آسیہ" نے اس ٹوکری کو دیکھا۔ آسیہ نے موسی علیہ السلام کو گود میں اُٹھا لیا اور وہ بے حد محبت سے اس بچے کو پالنے کی خواہش مند ہو گئی۔
3. فرعون کا محل اور موسی علیہ السلام کا پرورش پانا:
حضرت موسی علیہ السلام کو فرعون کے محل میں رکھا گیا۔ یہاں، موسی علیہ السلام نے شاہی محل میں پرورش پائی، لیکن اللہ کی تقدیر میں کچھ اور ہی تھا۔ حضرت موسی علیہ السلام کا دل ہمیشہ بنی اسرائیل کے لیے درد رکھتا تھا، اور وہ کبھی اپنے قوم کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو فراموش نہیں کر سکے۔
4. موسی علیہ السلام کا فرعون سے تصادم:
جب حضرت موسی علیہ السلام جوان ہوئے، تو ایک دن وہ محل کے قریب گئے، اور دیکھا کہ ایک مصری سپاہی ایک بنی اسرائیلی شخص کو مار رہا ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام نے اس مصری کو روکنے کی کوشش کی اور اس دوران وہ مصری سپاہی مر گیا۔ حضرت موسی علیہ السلام کی یہ حرکت فرعون کے سامنے آ گئی، اور فرعون نے انہیں سزا دینے کا فیصلہ کیا۔
5. موسی علیہ السلام کا مصر سے نکلنا:
حضرت موسی علیہ السلام کے اس فعل کے بعد، فرعون نے انہیں اپنے محل میں بلایا اور ان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ایک شخص کا قتل کیا ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ کی مدد سے اپنے دفاع میں کہا کہ یہ حادثہ تھا، لیکن فرعون نے ان کو مزید پریشان کیا۔ اس کے بعد حضرت موسی علیہ السلام کو مصر چھوڑنا پڑا، اور وہ مدین کی طرف ہجرت کر گئے۔
6. مدین میں حضرت موسی علیہ السلام کا نکاح:
مدین میں حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت شعیب علیہ السلام کے ہاں پناہ لی۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیوں نے موسی علیہ السلام کو اپنے والد کے سامنے پیش کیا اور اس طرح حضرت موسی علیہ السلام کا نکاح حضرت شعیب علیہ السلام کی ایک بیٹی سے ہوا۔
7. اللہ کا پیغام اور فرعون کی دعوت:
مدین سے واپس آنے کے بعد، حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے نبوت عطا کی گئی۔ اللہ نے انہیں فرعون کے پاس بھیجا تاکہ وہ اسے اللہ کی وحدانیت کی دعوت دیں اور اس کے ظلم کا مقابلہ کریں۔ حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے فرعون کے دربار میں جا کر اسے اللہ کی نشانیوں کے ساتھ خبردار کیا، مگر فرعون نے تکبر سے انکار کیا۔
8. حضرت موسی علیہ السلام اور فرعون کے درمیان جنگ:
حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ کی مدد سے فرعون کو متعدد نشانیوں سے متنبہ کیا، جیسے عصا کا سانپ بننا، دریا کا پھٹنا، اور طوفان کا آنا، لیکن فرعون اپنے تکبر میں ڈوبا رہا اور اللہ کی ہدایت کو نہ مانا۔
9. دریا کا پھٹنا اور فرعون کا غرق ہونا:
آخرکار، اللہ نے حضرت موسی علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنے پیروکاروں کے ساتھ دریائے نیل کے قریب پہنچیں۔ حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے دریا کو پھاڑ دیا، اور بنی اسرائیل اس میں سے نکل کر دوسری طرف پہنچ گئے۔ جب فرعون اور اس کے لشکر نے ان کا پیچھا کیا، تو دریا واپس آ گیا اور فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کر دیا۔
10. نتیجہ اور پیغام:
حضرت موسی علیہ السلام کی یہ کہانی ایک اہم سبق دیتی ہے کہ اللہ کی ہدایت اور تقدیر کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ فرعون کی غرور اور تکبر کے باوجود اللہ نے موسی علیہ السلام کے ذریعے اپنی قدرت کا مظاہرہ کیا اور اس کی قوم کو نجات دی۔
پوسٹ کو شیئر کریں اور پیج کو فالو کریں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Website
Address
Rawalpindi
Rawalpindi
43000