life care tips
This page has been created for solving the basic problems of children and ladies also.
کہانی گھر گھر کی ۔
صبح سے انتظار کر رہے ہیں لیکن ابھی تک ناشتہ نہیں ملا۔ تمہاری بہن آئی ہوئی ہے اسے اور اس کے بچوں کو بھوک لگی ہے لیکن تمہاری بیوی کو پرواہ ہی نہیں ہے۔ ہم تو ویسے ہی اسے بُرے لگتے ہیں، کل رات پتہ نہیں کیسے کھانا بنا دیا تھا اس نے۔ بچوں کو سکول کیلئے تیار کرتی رابعہ ساس کو اپنے بیٹے سے باتیں کرتے سُن رہی تھی۔ تھوڑی دیر میں وہی ہونہار ماں باپ کا فرمانبردار بیٹا اس کے سر پر کھڑا تھا۔ حد ہوتی ہے سُستی کی۔ امی اور آپی انتظار کر رہی ہیں اور تُم نے ابھی تک انھیں کھانا نہیں دیا۔ آپ کے سامنے میں صبح سے مصروف ہوں۔ آپ اور بچوں کو بمشکل ناشتہ کروایا ہے بچے سکول چلے جائیں بھر دیکھتی ہوں۔ رابعہ نے اپنا دفاع کرنے کی ناکام کوشش کی۔ بہانے لگانے میں تو تُم ماہر ہو ۔میرے گھر والےتو ویسے ہی تمہیں بُرے لگتے ہیں۔ ماں کے فرمانبردار بیٹے نے ماں کی بات دہرانا ضروری سمجھا۔ شوہر کی یہ بات سُنتے ہی رابعہ کا ضبط جواب دینے لگا اور اپنے معصوم بچوں پر چیخنے لگی۔ جلدی کرو۔ خود کام کیا کرو اب اپنے۔ بڑے ہو گئے ہو تُم لوگ۔ چلو نکلو جلدی بیگ پکڑو اپنے۔ اور لنچ کر کے آنا آج نہیں تو تھپڑ لگاؤں گی منہ پر۔ بیچارے معصوم بچے حیران پریشان۔ یہ اچانک شفیق ماں کو کیا ہو گیا ہے۔ ابھی تو ہمارا منہ چوم رہی تھیں اور اب اتنا ڈانٹ کیوں رہی ہیں۔ سہمے ہوئے انھوں نے بیگ اٹھائے اور سکول کیلئے روانہ ہو گئے۔ شوہر کی ماں، بہن اور بھتیجوں کو ناشتہ مل گیا تھا لیکن ان معصوم بچوں کا سہما ہوا دِل اور ذہن نارمل ہونے میں بہت دیر لگی تھی۔ لیکن کیا ان کے باپ کو پرواہ تھی کہ ان معصوموں کی شخصیت میں ماں کی بے جا ڈانٹ سے کیا خلا پیدا ہوا۔ بالکل نہیں کیونکہ یہ تو آئے روز ہوتا ہی رہتا تھا۔ آج ناشتے پر بات ہوئی ۔ کل کسی اور بات پر۔ ماں کو ذہنی سکون کہاں نصیب تھا جو وہ بچوں میں منتقل کرتی۔ مشکل حالات، دوسروں کے تلخ رویے اور اپنے منفی خیالات ۔ مائیں اپنی ٹینشن بچوں پر نکال دیتی ہیں جس سے بچوں کی شخصیت بے حد متاثر ہوتی ہے۔ہمارے پورے معاشرے کو یہ سمجھنا ہو گا کہ ماں کو ایک پُرسکون ماحول دینا کس قدر ضروری ہے۔ اور یہ پُرسکون ماحول ان بچوں کے باپ کے علاوہ اور کوئی نہیں دے سکتا۔ اگر اپنی نسلوں کو ایک نارمل اور مکمل شخصیت والا انسان بنانا ہے تو ان کی ماؤں کو پُرسکون ماحول دینا ہو گا۔ نہیں تو منتشر ذہنیت رکھنے والی نسلیں تو ہمارے معاشرے میں ہر دوسرے گھر میں پروان چڑھ رہی ہیں اور اس کے نتیجے میں ہمارا معاشرہ اخلاقی اور ذہنی مریضوں سے بھرتا جا رہا ہے۔
#کاپیڈ
السلام علیکم یہ جو بھائی بہن پوچھتے ہیں نا کہ کونسا سکل سیکھ لوں تو یہ اس تحریر کو اپنے موبائل میں محفوظ کرلیں
مشکل سکلز
1.paython( artificial intelligence)
2. Cloud computing
3.block chain development
4. Machine learning and data science
5.cyber security
6. Web Development( with coding )
7. Mobile app development ( with coding )
یہ سکلز مشکل اور ٹیکنیکل ہوتی ہیں اور ان کو سیکھنے کے لئے کم سے کم ایک سے دو سال کا وقت چاہئے ہوتا ہے۔ ان سکلز کی جاب میں زیادہ ڈیمانڈ ہوتی ہے ان سکلز میں ایکسپرٹس کی تنخواہ لاکھوں میں ہوتی ہے اور سافٹ ویئر ہاؤسز اور ٹیک کمپنیز میں ان کی لوگوں کی کافی ڈیمانڈ ہوتی ہے لیکن ان کی جاب بھی کافی محنت طلب ہوتی ہے
آسان سکز
1.Web development ( WordPress, Shopify without coding)
2.Android app development ( basics )
3.Graphic designing
4.Video editing
5.Video animation
6.Social media marketing
7.Digital marketing
8.Paid ads
9.SEO
10.Amazon virtual assistant
11.Content Writing
12.Copywriting
یہ سکلز ٹیکنیکل سکلز کی نسبت آسان ہوتی ہیں ان سکلز کو سیکھنے کے لئے دو سے چھ ماہ کا وقت درکار ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ آپ کے کام میں نکھار آتا جاتا ہے اور آپ ایکسپرٹ بنتے جاتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ فری لانسنگ میں ان سکلز کی ڈیمانڈ زیادہ ہوتی اور کئی آسان سکلز والے فری لانسنگ میں مشکل سکلز والوں سے زیادہ ارننگز بھی کر رہے ہوتے ہیں بس اس کے لئے صبر محنت پورٹ فولیو اور کمیونیکیشن سکلز کی ضرورت ہوتی ہے
E-commerce
ای کامرس آن لائن بزنس ہوتا ہے اور اس کا مقابلہ کسی سکل سے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بزنس ہمیشہ بزنس ہوتا ہے آپ کا اپنا asset ہوتا ہے اور چل جائے تو وارے نیارے ہو جاتے ہیں لیکن اس میں انویسٹمنٹ چاہئے ہوتی ہے اور ہر بزنس میں کچھ رسک بھی موجود ہوتا ہے
Passive income
اس میں یوٹیوب چینل بلاگنگ فیسبک پیج مونیٹائزیشن وغیرہ شامل ہوتی ہے اس میں آپ کا کانٹینٹ آپ کیسی ویڈیوز بناتے ہیں اور قسمت کا کھیل بھی ہوتا ہے آپ کی ویڈیوز چینل وائرل ہو جائے تو آپ سو رہے ہوتے ہیں اور آپ کی ویڈیوز پہ ویوز آرہے ہوں تو آپ کے پیسے بن رہے ہوتے ہیں
Crypto currency
یہ بہت رسکی کام ہوتا ہے اس کی وجہ سے یہ دنوں میں اور منٹوں میں امیر سے غریب بھی کر سکتی ہے🤦
لیکن بہر حال کرپٹو کرنسی میں فائدہ بھی بہت زیادہ ہو سکتا ہے لیکن 95 پرسنٹ رسک اس لئے اس میں صرف ایکسٹرا پیسے انویسٹ کرنے چاہئیں کیونکہ اگر مارکیٹ کریش بھی ہو جائے تو اس نقصان سے آپ کو فرق نا پڑے
بس یہ ہی سب آن لائن ارننگز کے اصل طریقے اور سکلز ہیں باقی سب فراڈ ہے👍
04/01/2023
ہفتہ بھر کیلیے مختلف آپشنز
کالےچنےکےساتھ ایک چپاتی ساتھ مکھن۔دھی کااستعمال کرواٸیں
#اتوارکوناشتہ
ناشتہ سبزی گوشت۔۔گھی والی چپاتی۔خوب ادرک ہلدی لہسن پیاز کالی مرچ اور دیسی گھی یا زیتون کے تیل یا سرسوں کی تیل میں پکاٸیں
پروسیس اٸیل سے بچیں
چھٹی کے دن کی مناسبت سے کوٸی سویٹ ڈش کا بھی اہتمام کریں ۔
میٹھا انڈا ۔گھی والی روٹی میں رول بنا کر دیں
گوشت کے ساتھ گھی والی روٹی دیں ایک کپ دودھ پتی پلا کر لنچ بکس تیار کر کے سکول بھیجیں
دال چنے دہی گھی والی چپاتی کھلا کر اور دودھ پتی پلا کر حسب سابق لنچ بکس تیار کر کے بچے کو سکول بھیجیں
مچھلی چپاتی کھلا کرلنچ بکس تیار کر کے سکول بھیجیں
فرنچ ٹوسٹ کھلا کر دودھ پتی پلا کرحسب دستور لنچ بکس تیار کر کے بچے کو سکول بھیج دیں
جمعہ المبارک کی نسبت سے انہیں اج کچھ پاکٹ منی بھی دیں
تاکہ جمعتہ المبارک کا دن ان کے ذہن میں سپیشل کا تصور پیدا کریں
کچھ ایکسڑا پاکٹ منی دوستوں کو کچھ کھلانے کیلیے بھی الگ سے ذکر کر کے دیں
تاکہ بچے کے ذہن میں دینے کی عادت پیدا ہو ۔
اور بچوں کو پیسے کچھ اس طرح سے دیں کہ
روزانہ دودھ انڈا کے پانچ روپے ناشتہ کے پانچ روپے اور پھر دودھ پتی کے پانچ روپے اسطرح روزانہ کے پندرہ روپے بنے
اور ہفتہ بھر کے 15×7=105روپے ٹوٹل۔۔
اس میں سے ہفتہ بھر بچے نے جو چیز مس کی ہو اس کے پیسے ماٸنس کر دیے جاٸیں
اور اس کے ساتھ ساتھ اگر اس نے گالی دی تو بھی اس کے پسے ماٸنس کر کے اسے ہفتہ بھر کا خرچہ دیا جاٸے
تاکہ اس کے ذہن میں جزا و سزا کا ایک تصور بھی پیدا ھو
اور اچھے کام کرنے پر حوصلہ فزاٸی اور انعام کا مقابلہ بھی ابھرے ۔
بچےکےلنچ بکس میں بسکٹ نمکو کینڈی چپس چاکلیٹ وغیرہ کی بجاٸے
سیب سوگی بادام اخروٹ املوک مونگ پھلی بھنے ھوٸے چنے کھجور انجیر میں سےجو میسر ہو ڈالکر دیں
اور ساتھ دوستوں کے ساتھ شٸیر کرنے کی تلقین بھی کر دیں اور مل کر کھانے کی نصیحت کریں
تاکہ بچے کے اندر اعلی اخلاق پروان چڑھیں
روزانہ خالی پیٹ
دودھ انڈا لازمی استعمال کرواٸیں
اور دودھ کو میٹھا کرنے کے لیے
دودھ میں چینی ہرگز ہرگز استعال نہ کریں ۔
اس کی جگہ
7عدد منقہ بغیر بیج کےاستعمال کریں
نوٹ نمبر 1
یاد رکھیں بچوں کی خون کی کمی کو پورا کرنے اور انھیں صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ھے
کہ ایک وقت میں ایک ہی قسم کا سالن ایک ہی قسم کا پھل دیا جاٸے اور ایک ہی قسم کا ناشتہ دیا جاٸے
جب ایک ہی وقت میں مختلف المزاج اشیاء کھلا دی جاتی ہیں تو وہ فساد خون کا سبب بنتی ہیں
جس سے بچوں میں بہت زیادہ چیزیں کھانے کے باوجود صالح خون کی کمی ہو جاتی ہے
جس سےانکی نشونما بہتر نہیں ہو پاتی اور وہ کمزور اور کوتاہ قد رہ جاتے ہیں
نوٹ نمبر2
ان اغذیہ کے علاوہ مندرجہ ذیل اشیاء بھی اپنی سہولت اور وساٸل کے مطابق ناشتہ میں شامل کی جا سکتی ہیں
انجیربادام دودھ۔ مکھن کھجور دودھ ۔مکھن ڈبل روٹی دودھ۔
۔یا د رکھیں
مکھن صرف گھر کا تیار کردہ ہی استعمال کرنا ہے مارجرین وغیرہ قدرتی گھی کا متبادل نہیں ہے
یا جیم ڈبل روٹی دودھ ۔سوگی بادام دودھ
سویٹ۔ڈشز میں گاجر کا حلوہ
سوجی کا حلوہ
دودھ کی بنی ہوٸی کھیر بھی ہفتہ میں ایک دن لازمی بچوں کو کھلاٸیں
اس سارے غذاٸی شیڈول سے جہاں بچے سردی سے محفوظ ہوں گے
وہیں پر بچوں میں خون کی کمی بھی پوری ہوگی اور بچوں کو
قدرتی کیلشیم
فاسفورس
۔وٹامن ڈی
پروٹین
اچھی چکناٸی
کی وافر مقدار ملےگی جوبچوں کی نشونمااورقوت مدافعت کیلیے انتہاٸی ضروری ہے
اگر بچے جیم وغیرہ کھانے کے شوقین ھوں تو یاد رکھیں بازار کا جیم ہرگز استعمال نہ کریں
گھر میں ہی مندرجہ ذیل
طریقہ سے تیار کر لیں۔
خالص ایک کلو شھد چینی شکر یا کھجوروں کا تیارکردہ شیرا لےکر بغیر پانی ڈالے
اس کو ہلکی آنچ پے رکھ دیں اور جس پھل کا جیم بنانا ہو ایک کلو بالکل باریک کر کے اس میں ڈال دیں ۔
بچوں کا بہتریں میٹھا سستا ۔خالص اور غذاٸیت سے بھرپور جیم تیار ہے
خصوصی طور پر ذہن نشین رہے کہ سردیوں میں بچوں اور بڑھوں دونوں کیلئے مچھلی۔انڈوں ۔گوشت۔اچھی چکناٸی
دیسی گھی مکھن اور ڈراٸی فروٹ کا استعمال انتہاٸی ضروری ہے
نوٹ نمبر 3.
بچوں کو باھر دھوپ میں کھیلنے کی محدوداجازت دیں
اور چھوٹے بچوں کو دھوپ میں تیل کی مالش بھی ہفتہ میں کم از کم دو دن کر دیا کریں
اس سے بھی بچوں کو وٹامن ڈی کی وافر مقدار میسر آئے گی
جو ان کی نشونما۔قوت مدافعت اور صحت کے لیےانتہاٸی ضروری ہے
نوٹ نمبر 4
سردیوں میں بچوں کو نیم گرم پانی میں ہلکا سا نمک اور تھوڑی سی اجواٸن ڈاکر نہلاٸیں
اور بچوں کو گرم کپڑے۔جرابیں مفلر جرسی وغیرہ کے استعمال میں قطعا کوتاہی نہ کریں
کیا ہمیں سگے رشتے داروں سے اپنی نفرتیں اپنی اولاد میں ٹرانسفر کرنی چاہیں؟
کیا زیادتی کرنے والے سگے رشتے داروں کی بیٹیاں اپنے گھر لے آنی چاہیں یا ان کو بیٹیاں سونپ دینی چاہیں؟
اگر خاندان میں اختلافات ہوں تو اس کے متعلق اولاد کی تربیت کیسے کریں؟
اور اولاد کی شادیاں کہاں کریں؟
سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ اولاد ایک زمہ داری ھے ملکیت نہیں۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے ہمیں اولاد اس لیے دی ھے کہ ہم اس کی اچھی تربیت کریں اور اسے معاشرے کا فعال رکن بنائیں۔ اولاد ملکیت نہیں ھے کہ ھم اس کے مالک بن کے اس کی زندگی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھیں۔ کٹھ پتلیاں بنا کے ساری عمر اس کی ڈوریاں ہلاتے رہیں۔ اس کو اپنے اشاروں پہ نچاتے رہیں۔ ایموشنل بلیک میل یعنی ان کا جذباتی استحصال کرتے رہیں۔
یہ ذمہ داری ھے اس کے بارے میں سوال ہو گا اور اولاد سے سوال سے پہلے والدین سے سوال ہو گا کہ آیا ہم نے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے پوری کیں؟ اور کہاں تک پوری کیں؟
ہمارا مسئلہ یہ ھے کہ ہم اولاد کو اپنا فرمانبردار، تابعدار بنانا چاہتے ہیں ہر والدین کا مسئلہ ہے کہ اولاد فرمانبردار نہیں ہے ہر والدین کی دعا ھے کہ اولاد تابعدار ہو جائے ہم رات کو دن کہیں تو یہ دن کہے ہم رات کہیں تو یہ رات۔
یہ سب ہم اس لیے نہیں چاہتے کہ ہم اپنی اولاد کو حق کی تلقین کریں تو وہ ہماری طرف متوجہ ہو ہماری بات مانے بلکہ اس لیے کہ ہم اس کے ہر غلط صحیح کا فیصلہ کریں اور وہ سر تسلیم خم کرئے۔
ہم جو چاہیں یہ بن کے دیکھائیں ڈاکٹر یا انجینئر۔
ہم جہاں کہیں یہ وہاں شادی کریں خالہ ، پھوپی، ماموں ، چاچا کے گھر۔ یا ہمارے بزنس پارٹنر یا دوست کے بچے سے۔
اور یہیں پہ بس نہیں ہے بلکہ یہاں تک کہ ہماری اپنی ہی پسند کی ہوئی بہو سے جب ہم کہیں یہ جان چھڑا لے۔ اور اسے دفع کر کے ایک بار پھر ہماری ہی پسند کی ہوئی لڑکی سے ہماری ہی شرائط پہ دوبارہ شادی کر لے۔
افسوس کہ نسل در نسل یہی پریکٹس جاری ھے۔
افسوس کہ والدین تربیت پہ نہیں ملکیت پہ فوکس کیے ہوئے ھیں۔
اس چکر میں ہم نے اولاد کو انسان سمجھنا بھی چھوڑ دیا ھے۔ اسلام سے والدین کے حقوق کی ساری احادیث اکھٹی کر کے بچوں کو سنا سنا کے ایموشنل بلیک میل کر کر کے ان کے دماغ ماؤف کیے ہوئے ہیں ان کی زندگیاں برباد کی ہوئی ہیں ایسے میں اولاد کے پاس دو آپشن ہیں یا وہ اس بربادی پہ افف تک نا کہے اور آرام سے والدین کی دنیا سنوارے اور اپنی آخرت خراب کرتی رہے یا بغاوت کرئے اور والدین کی نافرمان کہلائے اور زندگی بھر ان کی بد دعائیں لیتی رہے۔
ضرورت ہے کہ والدین ہوش کے ناخن لیں اولاد کو انسان سمجھیں۔ اپنا مال نہیں۔
ان کی تربیت کریں
ان کو اچھا برا سمجھائیں
غلط صحیح کی تمیز سیکھائیں۔
لوگوں کی پہچان کرنا سیکھائیں۔
ان کو معاشرے کا فعال رکن بنائیں
انہیں لوگوں کے لیے نفع بخش بنائیں
اب آگئی بات رشتے داروں سے آپ کے معاملات کی تو اس کو سمجھنے کے لیے ہم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مثال لیتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طریقہ تھا کہ جب بھی کوئی معاملہ درپیش ہوتا وہ اپنی سب اولاد کو بیٹھاتے ان کے سامنے معاملہ رکھتے ان کو حقائق بتاتے اس معاملے سے متعلق اپنی رائے دیتے اور بیوی بچوں سے رائے طلب کرتے اور پھر اس معاملے کا مکمل جائزہ لے کے اس پہ اپنی حکمت عملی مرتب کرتے۔ فیصلہ کرتے اور اس فیصلے کے محرکات، وجوہات اور نتائج پہ کھل کے اظہار خیال کرتے۔
اسکا فائدہ یہ ہے کہ بچپن ہی سے بچوں کے سامنے ہر بات واضح ہوتی ہے اس بات کی گنجائش نہیں ہوتی کہ کل کو کوئی آٹھ کے ان کو ان کے والدین کے خلاف ورغلا سکے۔
دوسرا فائدہ بچوں میں ابتداء ہی سے معاملہ فہمی آتی ہے اور قوت فیصلہ مضبوط ہوتی ہے۔
تیسرا فائدہ والدین جب اپنی اولاد کے سامنے سب معاملات رکھتے ھیں تو ان کی کوشش ہوتی ھے کہ ان کا امیج اولاد کے سامنے خراب نا ہو ان کی اولاد ان کو غلط نا سمجھے اس لیے وہ زیادتی نہیں کرتے حد سے تجاوز نہیں کرتے اور خود کو مثبت رکھتے ہیں۔
غلط بیانی کرنے کا فائدہ کوئی نہیں اولاد شعور آتے ہی سمجھنے لگتی ہے کہ کون غلط ہے کون صحیح۔
یہی سب سے احسن طریقہ ھے کہ اپنے تمام معاملات اور اختلافات بچوں کے سامنے رکھیں اپنا نقظہ نظر سمجھائیں اپنے جذبات احساسات اور حکمت عملی سب ان سے ڈسکس کریں بچوں میں بچپن سے معاملہ فہمی پیدا کریں۔ اور یاد رکھیں ایسا کرتے ہوئے حد سے تجاوز نا کریں، خود کو روکیں کسی پہ جھوٹے الزماات، گندے القابات، بہتان تراشیاں اور گند اچھالنے سے گریز کریں۔
وہ زمانے لد گئے جب بڑے آپس میں بات کرتے ہوئے بچوں کو اٹھا دیا کرتے تھے۔ اور بعد میں ساری عمر یہی تکرار کرتے گزرتی تھی کہ تم غلط سمجھ رہے ہو جبکہ صحیح بات انہیں وقت پہ بتائی ہی نہیں گئی۔
تو دوستو یہ زندگی ھے یہ ہماری اپنی اولاد ھے ان کو raise کریں آگے بڑھائیں انہیں اپنا آلہ کار نا بنائیں۔ یہ انسان ھیں۔ مٹی کے مادھو نہیں ھیں گونگے، بہرے، اندھے، اپاہج نہیں ھیں۔ان کے پاس بھی دل ہے، دماغ ہے، جذبات ہیں، احساسات ہیں۔
سوال تھا اولاد کی شادی کہاں کریں تو شادی وہیں کریں جہاں ان کے دل خوش ہوں اور ان کے دلوں کو خوش کس بات پہ ہونا ہے اس کا انحصار آپ کی تربیت پہ ہے آپ نے ان کو کیا سیکھایا ہے کیا سمجھایا ہے۔ اور اپنے عمل سے کیا ثابت کیا ھے۔
ظاہریت ؟
خالی خوبصورتی پہ ریجھنا؟
مادیت پسندی ؟
دولت پہ جا کے سجدہ کرنا۔
سٹیٹس کے پجاری بننا۔
یا باطن کی آنکھ کھلی رکھ کے دوسرے کے باطن کو پہچاننا۔
یا اپنی صلاحیتوں پہ بھروسہ کرنا۔
یا دوسرے کی قدر کرنا۔
اور خود کو دوسرے ساتھی کے لیے نفع بخش بنانا۔
دوستو اصل میں سب رشتے اسی لیے ہیں کہ ہم انہیں raise کریں سپورٹ کریں آگے بڑھائیں ہم نے سمجھ لیا ھے کہ رشتے اس لیے ہیں کہ ہم انہیں استعمال کریں یا پھر ان کی زندگی میں روڑے اٹکائیں، ان کے راستے میں پتھر پھینکیں۔
دوستو! رشتے دار ایک سپورٹ سسٹم ہیں۔
تو اپنے بچوں کو معاملات بتائیں۔
اور جہاں اختلافات رہے ہوں وہاں بچوں کے رشتے نا کریں۔ جنہوں نے زیادتیاں کی ہوں وہاں بچوں کی شادیاں نا کریں۔
جن سے دل خراب رہے ھوں وہاں بچوں کی شادیاں نا کریں۔
اس لیے کہ ماضی کی تلخیاں بچوں کی زندگیوں پہ اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
بچوں کو خاندان جوڑنے کا ٹول نا سمجھیں کہ میرے بھائی یا بہن کے گھر شادی کرو خاندان جڑا رہے گا۔
بچوں کو بدلہ لینے کا ہتھیار نا بنائیں کہ فلاں رشتے دار کی لڑکی لا کے زلیل کریں گے یا اپنی لڑکی بھیج کے بھاوج کو ناکوں چنے چبوائیں گے۔
بچوں کی شادیوں کو بزنس ڈیل نا بنائیں کہ بزنس پارٹنر کے گھر شادی کریں گے تو نفع ہوگا۔
نا ہی دوستی کی مضبوطی کے لیے آلہ کار بنائیں کہ دوست کی لڑکی لے آوں دوستی مضبوط ہو گی۔
بچوں کی شادی لالچ میں نا کریں کہ فلاں کی جائیداد ہمارے گھر آجائے گی۔
جس بچے کی شادی کر رہے ہیں اس کی طبیعت، مزاج، میلان کو سامنے رکھ کے اس کی بہتری کے لیے شادی کریں نا کہ اپنی بہتری۔
اور جس کو بہو بنا کے لائیں یا داماد بنائیں اس کی عزت کریں۔ اور اولاد کو ان کی زندگی میں آزاد چھوڑ دیں۔ اپنی تربیت پہ بھروسہ کریں۔( اگر تربیت کی ہو تو)
اولاد کا دم نا گھوٹیں انہیں جینے دیں۔
اُردو کا اُستاذ ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پیپر چیک کرتے ہوئے بندے کو اُکتاہٹ نہیں ہوتی اور بندہ مسلسل مسکراتا ہی رہتا ہے ۔
مضمون نگاری کے حوالے موضوع تھا کہ "" جدید دور میں اولاد اور والدین کے درمیان فاصلے بڑھتے چلے جا رہے ہیں """ تبصرہ کیجیے
ایک بچے نے اپنے مضمون میں بہت ہی شاندار دلائل کے ہمراہ لکھا کہ "" جدید نسل اور والدین کے درمیان بڑھتے فاصلے ایک زندہ حقیقت ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اپنے والدین کی شادیاں سولہ ، سترہ یا بیس سال کی عمر میں ہو گئی تھیں جبکہ جدید نسل کو چوبیس سال کی عمر تک تعلیم کے بہانے اکیلا رکھا جاتا ہے اور اس کے بعد اچھی نوکری حاصل کرنے میں تین چار سال مزید لگ جاتے ہیں ۔ جدید نسل اپنے بزرگوں کی چالاکیاں خوب سمجھتی ہے ۔ خود تو اپنے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں بھی دیکھ رہے ہیں اور دوسری طرف جدید نسل دیر سے شادی ہونے کی وجہ سے شاید ہی اپنی اولاد کو بھی جوان ہو کر برسرِ روزگار ہوتا دیکھ سکے ۔
والدین اگر چاہتے ہیں کہ اُن کی اولاد خوش رہے تو والدین کو اپنے بزرگوں کے طرزِ عمل کو اپناتے ہوئے اپنے بچوں کی دوران تعلیم ہی شادی کر دینی چاہیے تا کہ جدید نسل اور والدین کے درمیان خوشگوار ماحول قائم ہو سکے ۔ جہاں تک بات رزق کی ہے ، اس کی گارنٹی تو ڈگری کے بعد بھی نہیں اور ڈگری کے بغیر بھی لوگ یہاں گورنر بن کر یونیورسٹیوں کے چانسلر لگ رہے ہیں اور ڈگریاں بانٹ رہے ہیں """ :)
۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی.
نیند کا فالج کیا ہے؟ یہ ایک خاص جن ہے جسے "الکابوس" کہا جاتا ہے جو نیند میں آپ پر حملہ کرتا ہے۔ حملے کی علامات اس وقت ہوتی ہیں جب کوئی شخص سو رہا ہوتا ہے اور اپنے سینے پر کسی بھاری چیز کو دبانے کا تصور کرتا ہے، اسے نچوڑتا ہے اور سانس روکتا ہے، اس وجہ سے وہ نہ بول سکتے ہیں اور نہ حرکت کرسکتے ہیں، اور ان کی حرکت میں رکاوٹ کی وجہ سے ان کا دم گھٹ جاتا ہے۔ ایئر ویز جب جن چلا جاتا ہے، تو آپ گھبراہٹ میں ہوا کے لیے ہانپتے ہوئے فوراً جاگ جاتے ہیں۔ مغربی سائنسدان اس رجحان کو "نیند کا فالج" کہتے ہیں لیکن اسلام نے ہمیں سکھایا ہے کہ یہ ایک جن ہے جو لوگوں کی نیند کے دوران حملہ آور ہوتا ہے۔ تو ہم اپنے آپ کو اس جن کے حملے سے کیسے بچائیں؟ ہم اس سنت کی پیروی کرتے ہیں کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح سوتے تھے۔
1. وضو کی حالت میں سونا۔
2. سونے سے پہلے اپنی تمام فرض نمازیں ضرور پڑھیں۔
3. اپنے بستر پر چڑھنے سے پہلے، بستر کو تین بار صاف کریں۔
4. 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمدللہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھیں۔ آیت الکرسی پڑھیں
5. 3 کل (سورۃ الاخلاص، الفلق اور الناس) پڑھیں۔
6. (اگر ممکن ہو تو ان شاء اللہ) سورۃ الملک پڑھیں۔
7. اپنے دائیں طرف سونا۔
8. روزانہ جتنا ممکن ہو صدقہ دیں۔
9. سونے کے وقت موبائل استعمال نہ کریں, گانے نہ سنیں اور اپنے آپ کو شیطان سے دور رکھیں، درود پاک پڑھیں.
10. مشکل وقت میں اللہ سے مدد مانگنے کی عادت ڈالیں، پھر جب حالات آپ کے قابو سے باہر ہوں گے تو آپ اللہ سے مدد مانگیں گے اور صرف اسی سے امید رکھیں گے انشاء اللہ.
اگر آپ کے اوپر اقدامات کرنے کے بعد بھی علامات برقرار رہتی ہیں تو وہ آپ سے سختی سے تاکید کرتے ہیں کہ طبی مشورہ لیں۔
اللہ ہم سب کو محفوظ رکھے اور ہمارے صغیرہ اور کبیرہ کے گناہوں کو معاف فرما۔ آمین!
فجر اور اشراق ، عصر اور مغرب اور مغرب اور عشاء کے دوران سونے سے باز رہا کرو
بدبودار اور گندے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھا کرو
ان لوگوں کے درمیان نہ سوئیں جو سونے سے قبل
باتیں کرتے ہیں تم بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ
منہ سے کھانا نکال کر نہ کھاؤ
اپنے کھانے ہر اداس نہ ہوا کرو یہ عادت اندر ناشکری پیدا کرتی ہے
گرم کھانے کو پھونک سے ٹھنڈا نہ کرو
اندحیرے میں مت کھاؤ
کھانے کو سونگھا نہ کرو ، کھانے کو سونگھنا بدتہذیبی ہے
منہ بھر کر نہ کھاؤ کیونکہ اس سے معدے کی ذمہ کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے ہاتھ کے کڑاکے نہ نکالا کرو
جوتے پہننے سے قبل اُسے جھاڑ لیا کرو
نماز کہ دوران آسمان کی طرف نہ دیکھو
رفع حاجت کی جگہ میں نہ تھوکو
لکڑی کے کوئلے سے دانت صاف نہ کرو
اپنے دانتوں سے سخت چیز مت توڑا کرو
ہمیشہ بیٹھ کر کپڑے تبدیل کرودوسروں کے عیب تلاش نہ کرو
بیت الخلاء میں باتیں نہ کیا کرو دوست کو دشمن نہ بناؤ
دوستوں کے بارے میں جھوٹے قصے بیان نہ کیا کرو
ٹھہر کر صاف بولا کرو تاکہ بات دوسرے پوری طرح سمجھ جائے
چلتے ہوئے باربار پیھچے مڑ کر نہ دیکھو
ایڑھیاں مار کر نہ چلا کرو ایڑھیاں مار کر چلنا تکبر کی نشانیوں میں سے ہیں
کسی کے بارے میں جھوت نہ بولو
شیخی نہ بگاڑواکیلے سفر نہ کیا کرو
اچھے کاموں میں دوسروں کی مدد کیا کرو
فیصلے سے قبل مشورہ ضرور کیا کرو، اور مشورہ ہمیشہ سمجھدار کی بجائے تجربه کار شخص سے کرنا چاہیے
کبھی غرور نہ کرو ، غرور ایک ایسی بری عادت ہے جس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا
گداگروں کا پیچھا نہ کیا کرو غربت میں صبر کیا کرو
مہمان کی کھلے دل سے خدمت کرو یہ عادت ہماری شخصیت میں کشش پیدا کردیتی ہے
بُرا کرنے والوں کے ساتھ ہمیشہ نیکی کرو
اللہ پاک نے جو دیا ہے اس پر خوش رہو
زیادہ سویا نہ کرو برداشت کو کمزور کر دیتی ہے
اقامت اور اذان کے درمیان گفتگو نہ کیا کرو
اپنی خامیوں پر غور کیا کرو اور توبہ کیا کرو
روزانہ کم ازکم سوبار استغفار کیا کرو
موت کا المیہ
موت ہر عورت اور مرد پر لازماً آتی ہے- موت کا سب سے زیادہ المناک پہلو یہ ہے کہ موت کے بعد دوبارہ موجودہ دنیا میں واپسی ممکن نہیں- موت کے بعد انسان کو ابدی طور پر ایک نئی دنیا میں رہنا ہے- موت کے بعد صرف بھگتنا ہے، عمل کرنا نہیں ہے-
انسان ایک بے حد حساس ( sensitive ) مخلوق ہے- انسان کسی سختی کو برداشت نہیں کر پاتا، خواہ وہ کتنی چھوٹی کیوں نہ ہو- ہر عورت اور ہر مرد کو سب سے زیادہ یہ سوچنا چاہیے کہ موت کے بعد اگر اس کو سخت حالات میں رہنا پڑا تو وہ کیسے ان کو برداشت کرے گا- اگر انسان یہ سوچے تو اس کی زندگی میں ایک انقلاب پیدا ہو جائے-
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو وہ کہیں گے : الحمد للہ الذی آذھب عنا الحزن ( 35:34)- یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کیا- تکلیف ( pain ) کی زندگی انسان کے لیے سب سے زیادہ ناقابل برداشت زندگی ہے- اور تکلیف سے پاک زندگی انسان کا سب سے بڑا مطلوب ہے- انسان اگر اس پہلو کو سوچے تو موت اس کا سب سے بڑا کنسرن بن جائے- وہ موت کے بارے میں اس سے زیادہ سوچے گا، جتنا وہ زندگی کے بارے میں سوچتا ہے-
موت کا تصور آدمی کے لیے ماسٹر اسٹروک ( masterstroke ) کی مانند ہے- ماسٹر اسٹروک کیرم بورڈ کی تمام گوٹوں کو اپنی جگہ سے ہلا دیتا ہے- اسی طرح اگر آدمی کے اندر موت کا تصور زندہ ہو تو اس کے دماغ کے تمام گوشے ہل جائیں- اس کا سوچنا اور اس کا چاہنا، یک سر بدل جائے- اس کی زندگی میں ایک ایسا انقلاب آئے گا جو اس کو ایک نیا انسان بنا دے گا- موت سے غفلت آدمی کو ایک بےخبر انسان بناتی ہے- اس کے برعکس، موت کی یاد آدمی کو آخری حد تک ایک باخبر اور باہوش انسان بنا دیتی ہے-
الرسالہ، نومبر 2016
مولانا وحیدالدین خان
22/11/2022
The wrinkles on the face are beautiful...
They talk about You...
they tell your story...
Your victory...
Your defeats...
Your laughter...
Your apprehensions...
Your past and present love...
Wrinkles tell a beautiful story, the life you had
the courage to live...
--Jeremy Iron
Image: Unknown
15/11/2022
دن بھر کی تھکاوٹ پل بھر میں دور کر دینے والا محبت بھرا لمحہ 🥰🥰🥰
12/11/2022
Health benefits of roasted Chana.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Sahiwal